تکبر کی تعریف:خود کو افضل دوسروں کو حقیر جاننے کا نام تکبر ہے۔ چنانچہ رسول اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا " اَلكِبرُ بَطَرُ الحَقِّ وَ غَمَطُ النَّاسِ" یعنی تکبر حق کی مخالفت اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے اور جس کے دل میں تکبر ہو اس کو متکبر کہتے ہیں۔

تکبر کی اقسام: تکبر کی تین اقسام ہیں۔(1) اللہ پاک کے مقابلے میں تکبر کرنا۔ (2) نبی کے مقابلے میں تکبر کرنا۔ (3) بندے کے مقابلے میں تکبر کرنا۔ پہلی دونوں صورتوں میں تو تکبر کرنے والا شخص کافر ہوجائے گا جب کہ تیسری صورت پہلی دونوں صورتوں کے برابر تو نہیں مگر اس کا بھی بہت بڑا گناہ ہے ۔

(1) جنّت میں داخِل نہ ہوسکے گا: حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ تاجدارِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا(یعنی تھوڑا سا)بھی تکبر ہو گا وہ جنّت میں داخل نہ ہوگا۔( صحیح مسلم ، کتاب الایمان ،باب تحریم الکبر و بیانہ ، حدیث : 147 ، ص 60 )

(2) سخت دل: حضرت حارثہ ابن وہب سے روایت ہے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کہ کیا میں تمہیں جنتی لوگ نہ بتاؤں ہر کمزور جسے کمزور سمجھا جاوے اگر وہ اللہ پر قسم کھا جاوے تو اللہ اس کی قسم پوری کردے کیا میں تمہیں آگ والے نہ بتاؤں ہر سخت دل بدکار متکبر(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ ہر سخت دل حرامی غرور والا۔(مراٰۃ المناجیح،حدیث: 927)

(3) جنّت سے محروم شخص: حضرت ابن مسعود سے روایت ہے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کہ جنت میں وہ نہ جاوے گا جس کے دل میں ذرہ برابر غرور ہو تو ایک شخص نے عرض کیا کہ کوئی شخص چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اس کا جوتا اچھا ہو فرمایا کہ اللہ پاک جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے غرور حق کو جھٹلانا لوگوں کو ذلیل سمجھنا ہے(مسلم)۔(مراٰۃ المناجیح،حدیث:929)

(4) نظرِ رحمت سے دور شخص: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تین شخص ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ پاک نہ کلام کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ایک روایت میں ہے کہ نہ ان کی طرف نظر کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے بڈھا زانی اور جھوٹا بادشاہ اور فقیر غرور والا۔(مراٰۃ المناجیح،حدیث:930)

(5) عظمت و بڑائی اللہ کے لئے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ بڑائی میری چادر ہے اور عظمت میرا تہبند ہے جو ان دونوں میں سے ایک مجھ سے چھیننا چاہے گا میں اسے آگ میں داخل کروں گا اور ایک روایت میں ہے میں اسے آگ میں پھینک دوں گا۔(مراٰۃ المناجیح،حدیث:931)

”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ کے قارئین ! اگر آپ تکبر جیسی مہلک مرض میں مبتلا ہے تو اپنے آپ کو اس سے بچائیے ، اپنے اندر عاجزی پیدا کیجئے کہ عاجز بندہ اللہ پاک کو بہت پسند ہے ، تکبر میں ذلت جبکہ عاجزی میں عزت وعظمت ہے ، ہمارے پیارے آقا حضور نبی کریم رؤف رحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کبھی بھی تکبر نہ فرمایا ، بلکہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہمیشہ عاجزی وانکساری کا درس دیا۔ یقینا ً سمجھدار ہے وہ شخص جو اپنے آپ کو تکبر سے بچاتا اور اللہ پاک کی رضا کے لیے عاجزی وانکساری کو اپنا تا ہے ، دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کرتا ہے ، اور بہت بدنصیب ہے وہ شخص جو زمین پر اکڑکر چلتا ، اپنے آپ کو افضل اور دوسروں کو حقیر جانتا ہے۔ اللہ کریم ہمیں تکبر سے بچنے اور عاجزی و انکساری اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

نوٹ: تکبر کی علامات اور علاج کی تفصیل کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 97صفحات پر مشتمل کتاب ’’تکبر‘‘ کا مطالعہ بہت مفید ہے۔


پیارے پیارے اسلامی بھائیو !  تکبر ایسا مذموم وصف ہے کہ ہزاروں برس کا عبادت گزار اور فرشتوں کا استاد کہلانے والا ابلیس بھی بارگاہ الٰہی میں مردود ٹھہرا اور قیامت تک کے لیے ذلت اور رسوائی کا شکار ہو گیا۔ اللہ پاک نے اس کی صورت بدل دی وہ پہلے حسین تھا، بد شکل و سیاہ کر دیا گیا اور اس کی نورانیت سلب (یعنی چھین) لی گئی۔

ہم تکبر کی مذمت پر پانچ احادیث بیان کرتے ہیں تاکہ مسلمان ابلیس کے انجام کو سامنے رکھتے ہوئے ان احادیث کو پڑھیں اور تکبر چھوڑ کر عاجزی اختیار کرنے کی کوشش کریں۔

(1) دوسروں کے مقابلے اپنی ذات کو بلند سمجھنا: حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے،حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: آدمی دوسرے لوگوں کے مقابلے میں اپنی ذات کو بلند سمجھتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے تکبر کرنے والوں میں لکھ دیاجاتا ہے،پھر اسے وہی عذاب پہنچے گا جو تکبر کرنے والوں کو پہنچا۔(ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء فی الکبر، 3/ 403، حدیث: 2007)

(2)اللہ پاک کے بدترین بندے: حضرت حذیفہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، سیدُ المرسلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں اللہ پاک کے بد ترین بندے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ وہ بد اخلاق اور متکبر ہے۔ (مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث حذیفۃ بن الیمان عن النبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، 9 / 120، حدیث: 23517)

(3)قیامت کے دن متکبروں کا انجام: حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہُ عنہمَا سے روایت ہے، سرورِکائنات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن تکبر کرنے والے چیونٹیوں کی طرح آدمیوں کی صورت میں اٹھائے جائیں گے، ہر طرف سے ذلت انہیں ڈھانپ لے گی، انہیں جہنم کے قید خانے کی طرف لے جایا جائے گا جس کا نام ’’بولس‘‘ ہے، آگ ان پر چھا جائے گی اور انہیں ’’ طِیْنَۃُ الْخَبَالْ ‘‘ یعنی جہنمیوں کی پیپ اور خون پلایا جائے گا۔ (ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ ، 4 / 221، حدیث: 2500)

(4)تکبر سے بچتے رہو: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہُ عنہ ُسے روایت ہے،حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’تکبر سے بچتے رہو کیونکہ اسی تکبر نے شیطان کو اس بات پر ابھارا تھا کہ وہ حضرت آد م علیہ السّلام کو سجدہ نہ کرے۔(ابن عساکر، حرف القاف، ذکر من اسمہ قابیل، 49 / 40)

(5) جہنم کا محل: رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ جہنم میں ایک محل ہے جس میں تمام متکبروں کو جمع کیا جائیگا اور پھر وہ محل ان پر گرادیا جائے گا۔( شعب الایمان، السابع والخمسون۔۔۔الخ ، فصل فی التواضع۔۔۔الخ، 6/289،حدیث :8287)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! ہمیں باطنی بیماری کا علاج کرنا ضروری ہے۔ جسمانی بیماریاں تو جان لے سکتی ہیں مگر باطنی بیماریاں بالخصوص تکبر یہ ایمان لے سکتی ہے۔ اسی باطنی مرض نے شیطان کو اس بات پر ابھارا کہ وہ حضرت آدم علیہ السّلام سجدہ نہ کریں۔ اللہ پاک ہم سب کو باطنی بیماریوں سے بچائے ۔اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


تکبر قراٰن کی نظر میں​:

سب سے پہلے شیطان نے تکبر کیا: وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ ﱪ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(۳۴) ترجَمۂ کنزُالایمان: اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا۔(پ1،البقرۃ:34)

تکبر کی تعریف:خود کو افضل دوسروں کو حقیر جاننے کا نام تکبر ہے۔

میں اِس سے بہتر ہوں: اللہ پاک نے حضرتِ سیِّدُنا آدم علیہ السّلام کی تخلیق(یعنی پیدائش) کے بعد تمام فرشتوں اور اِبلیس (شیطان)کوحکم دیا کہ اِن کو سجدہ کریں تو تمام فرشتوں نے حکمِ خداوندی کی تعمیل میں سجدہ کیا۔فرشتوں میں سے سب سے پہلے سجدہ کرنے والے حضرتِ سیِّدُنا جبرائیل پھر حضرتِ سیِّدُنا میکائیل ، حضرتِ سیِّدُنا اِسرافیل پھر حضرتِ سیِّدُنا عِزرَائیل پھر دیگر مقرَّب فرشتے(علیہم السلام) تھے۔ یہ سجدہ جمعہ کے روز وقتِ زَوال سے عَصر تک کیا گیا۔مگر اِبلیس نے انکار کردیا اور تکبر کر کے کافِروں میں سے ہوگیا۔ جب ربّ ِاعلیٰ نے اِبلیس سے اس کے اِنکار کا سبب دریافت فرمایا تو اَکڑ کر کہنے لگا : اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُۚ-خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ(۱۲)ترجمہ کنزالایمان: میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اس ے مٹی سے بنایا (پ8،الاعراف:12)

اِس سے اِبلیس کی فاسِد مُراد یہ تھی کہ اگر حضرتِ سیِّدُنا آدم علیہ السّلام آگ سے پیدا کئے جاتے اور میرے برابر بھی ہوتے جب بھی میں انہیں سجدہ نہ کرتا چہ جائیکہ ان سے بہتر ہوکر اِن کو سجدہ کروں (معاذ اللہ )۔ اِبلیس کی اِس سرکشی، نافرمانی اور تکبر پر اس کی حسین صورت ختم ہوگئی اور وہ بدشکل رُوسیاہ ہوگیا ، اس کی نُورانیت سَلْب کر لی گئی ۔[6]؎ اللہ ربُّ العزت جل جلالہ نے اِبلیس کو اپنی بارگاہ سے دُھتکارتے ہوئے اِرشاد فرمایا : قَالَ فَاخْرُ جْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۚۖ(۷۷) وَّ اِنَّ عَلَیْكَ لَعْنَتِیْۤ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ(۷۸) ترجمۂ کنزالایمان : فرمایا تو جنّت سے نکل جا کہ تو راندھا(لعنت کیا) گیا اور بےشک تجھ پر میری لعنت ہے قیامت تک ۔(پ23 ، صٓ : 77، 78)

حدیث مبارکہ کی روشنی میں تکبر :

متکبرین کے لئے بروز قیامت رسوائی: حضور نبی کریم رؤف رحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن متکبرین کو انسانی شکلوں میں چیونٹیوں کی مانند اٹھایا جائے گا، ہر جانب سے ان پر ذلت طاری ہوگی، انہیں جہنم کے بُوْلَس نامی قید خانے کی طرف ہانکا جائے گا اور بہت بڑی آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لے کر ان پر غالب آجائے گی، انہیں طِیْنَۃُ الْخَبَّال یعنی جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،ص276)

تکبر بھی ہے جس کا عِلم سیکھنا فرض ہے چنانچہ اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مجدّدِ دین وملّت ، پروانۂ شمع رِسالت مولیٰنا شاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاویٰ رضویہ جلد 23 صفحہ 624 پر لکھتے ہیں : مُحَرَّمَاتِ باطِنِیَّہ(یعنی باطنی ممنوعات مَثَلاً) تکبر و رِیا وعُجب وحَسَد وغیرہا اور اُن کے مُعَالَجَات(یعنی عِلاج) کہ ان کا عِلم (یعنی جاننا)بھی ہر مسلمان پر اہم فرائض سے ہے ۔(فتاوٰی رضویہ مخرجہ، 23/624)

تکبر کسے کہتے ہیں ؟:خُود کو افضل، دوسروں کو حقیر جاننے کا نام تکبر ہے ۔چنانچہ رسولِ اکرم نُورِ مجسّم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا : اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ یعنی تکبر حق کی مخالفت اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نا م ہے۔(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم الکبروبیانہ، حدیث : 91، ص61)

تکبر کے 5 نقصانات: اِس باطِنی گناہ کے کثیر دنیوی واُخرَوی نقصانات ہیں ، جن میں سے 5 یہ ہیں : (1)اللہ کا ناپسندیدہ بندہ:رب ِ کائنات تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا جیسا کہ سورۂ نحل میں اِرشاد ہوتا ہے : اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) ترجمہ کنزالایمان: بے شک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔(پ14،النحل:23) شَہَنْشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ عبر ت نشان ہے : اللہ پاک مُتکبرین (یعنی مغروروں )اوراِتراکرچلنے والوں کو ناپسند فرماتا ہے ۔(کنزالعمال، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال،3/210، حدیث : 7727)

(2) مَدَنی آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مُتکبر کے لئے اِظہارِ نفرت:سرکارِ مدینہ راحتِ قلب وسینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : بے شک قیامت کے دن تم میں سے میرے سب سے نزدیک اور پسندیدہ شخص وہ ہو گا جو تم میں سے اَخلاق میں سب سے زیادہ اچھا ہو گا اور قیامت کے دن میرے نزدیک سب سے قابلِ نفرت اور میری مجلس سے دُوروہ لوگ ہوں گے جو واہیات بکنے والے ، لوگوں کا مذاق اُڑانے والے اور مُتَفَیْہِق ہیں ۔ صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی : یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! بے ہودہ بکواس بکنے والوں اورلوگوں کا مذاق اُڑانے والوں کو تو ہم نے جان لیا مگر یہ مُتَفَیْہِق کون ہیں ؟ تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا : اِس سے مراد ہر تکبر کرنے والا شخص ہے۔(جامع الترمذی، ابواب البر والصلۃ ،3/410، حدیث : 2025)

نہ اُٹھ سکے گا قیامت تلک خدا کی قسم

کہ جس کو تُو نے نظر سے گرا کے چھوڑ دیا

(3)بد ترین شخص:تکبر کرنے والے کو بدترین شخص قرار دیا گیا ہے چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا حُذَیفہ رضی اللہُ عنہ اِرشاد فرماتے ہیں کہ ہم دافِعِ رنج و مَلال، صاحِب ِجُودو نَوال صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا : کیا میں تمہیں اللہ پاک کے بدترین بندے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ وہ بداَخلاق اورمتکبر ہے، کیا میں تمہیں اللہ پاک کے سب سے بہترین بندے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ وہ کمزور اورضَعیف سمجھا جانے والا بَوسیدہ لباس پہننے والا شخص ہے لیکن اگر وہ کسی بات پر اللہ پاک کی قسم اٹھالے تو اللہ پاک اس کی قسم ضَرور پوری فرمائے۔(المسندللامام احمد بن حنبل، 9 / 120، حدیث: 23517)

(4)قیامت میں رُسوائی:تکبر کرنے والوں کو قیامت کے دن ذلت ورُسوائی کا سامنا ہوگا ، چنانچِہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : قیامت کے دن متکبرین کو انسانی شکلوں میں چیونٹیوں کی مانند ا ٹھایا جائے گا، ہرجانب سے ان پر ذلّت طاری ہو گی، انہیں جہنم کے بُوْلَس نامی قید خانے کی طرف ہانکا جائے گا اور بہت بڑی آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لے کر ان پر غالب آجائے گی، انہیں طِیْنَۃُ الْخَبال یعنی جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی ( ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، 4/221، حدیث: 2500)

(5)ٹخنے سے نیچے پاجامہ لٹکانا: رحمتِ الہٰی سے محروم ہونے والوں میں متکبر بھی شامل ہوگا ، جیسا کہ اللہ کے مَحبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا : جو تکبر کی وجہ سے اپنا تہبندلٹکائے گا اللہ پاک قِیامت کے دن اس پر نظرِ رحمت نہ فرمائے گا۔(صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب من جرثوبہٗ من الخیلائ، 4 /46، حدیث: 5788) اللہ پاک ہم تمام مسلمانوں کو بڑائی ،گھمنڈ ،خود نمائی ،غرور ،تکبر جیسی موذی گناہِ عظیم سے بچنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

نوٹ: مکمل مضمون تکبر نامی کتاب سے ہے۔


پیارے اسلامی بھائیو ! ہم میں سے ہر ایک کو اس دنیا میں اپنے حصے کی زندگی گزار کر جہاں آخرت کے سفر پر روانہ ہو جانا ہے اس سفر کے دوران ہمیں قبر و حشر کے نازک مرحلوں سے گزارنا پڑے گا اس کے بعد جنّت یا دوزخ ٹھکانہ ہوگا۔ دنیا میں کی جانے والی نیکیاں      دارِ آخرت اور گناہ بربادی کا سبب ہوگا۔ جس طرح کچھ نیکیاں ظاہری ہوتی جیسے نماز اور کچھ باطنی جیسے اخلاص۔ اس طرح کچھ گناہ ظاہری ہوتے ہیں مثلاً قتل اور بعض باطنی جیسے تکبر ۔ آج ہم باطنی گناہ میں جس گناہ کا ذکر کریں گے وہ تکبر ہو گا ان شاء الله الکریم اس کی تعریف اور احادیث مبارک کے ذریعہ اس کی مذمت بھی بیان فرمائے گے۔ تکبر کی تعریف: خود کو افضل دوسروں کو حقیر جاننے کا نام تکبر ہے چنانچہ رسول اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا " اَلكِبرُ بَطَرُ الحَقِّ وَ غَمَطُ النَّاسِ" یعنی تکبر حق کی مخالفت اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے اور جس کے دل میں تکبر ہو اس کو متکبر کہتے ہیں۔

آئیں تکبر کی چند مذمت احادیث مصطفے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی روشنی میں ملاحظہ کرتے ہیں ۔ ٭ رحمت عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عبرت نشان ہے جس شخص کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنّت میں داخل نہیں ہو گا۔ (صحیح مسلم شریف) ٭ بارگاہ رسالت میں عرض کی گئی : یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم : فلاں شخص کتنا بڑا متکبر ہے۔ ارشاد فرمایا کیا اس کے پیچھے موت نہیں ہے۔ ( احیاء العلوم) ٭ بے شک جہنم میں ایک مکان ہے جس میں متکبرین کو ڈال کر اوپر سے بند کر دیا جائے گا۔(احیاء العلوم)

٭ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی تکبر ہوگا ،اللہ پاک اس اوندھے منہ جہنم میں ڈالے گا۔(احیاء العلوم) ٭ ہر شخص مزاج ، اتراکر چلنے والا ، متکبر خوب مال جمع کرنے والا اور دوسروں کو نہ دینے والا جہنمی ہے جبکہ اہل جنّت کمزور اور کم مال والے ہیں ۔ (احیاء العلوم)


پیارے اسلامی بھائیو ! جس طرح کچھ نیکیاں ظاہری ہوتی ہیں جیسے نماز و حج  اور کچھ باطنی ہوتی ہیں جیسے اخلاص اسی طرح کچھ گناہ ظاہری ہوتے ہیں جیسے قتل آور کچھ باطنی ہوتے ہیں جیسے بغض و کینہ۔ ہر مسلمان پر یہ لازم و ضروری ہے کہ وہ ظاہری و باطنی ہر طرح کے گناہوں سے اجتناب کرے انہیں باطنی گناہوں میں سے ایک گناہ تکبر(Arrogance)بھی ہے خود کو افضل اور دوسروں کو حقیر جاننے کا نام تکبر ہے ، تکبر ہی کی وجہ سے شیطان کو جنّت سے نکالا گیا کہ جب اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور تمام فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو تمام فرشتوں نے اللہ پاک کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے سجدہ کیا لیکن شیطان نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور تکبر کرتے ہوئے اس نے جو کہا اس کا ذکر قراٰن میں اس طرح ہے ترجمہ کنزالایمان : میں اس سے بہتر ہوں کہ تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے پیدا کیا ( پ 23 ، صٓ : 76 ) اور تکبر ایک ایسا گناہ جس کی مذمت احادیث مبارکہ میں بھی کثرت سے آئی ہے ، ان ہی احادیث کریمہ میں سے تکبر کی مذمت پر پانچ فرامین مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سنتے ہیں اور تکبر سے بچنے کی نیت کرتے ہیں۔

(1) جنّت میں داخل نہ ہو سکے گا: حضرت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا ( یعنی تھوڑ اسا ) بھی تکبر ہوگا وہ جنّت میں داخل نہ ہوگا۔ ( صحیح مسلم ، کتاب الایمان ،باب تحریم الکبر و بیانہ ، حدیث : 147 ، ص 60 )

حضرت علامہ ملا علی قاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری لکھتے ہیں : جنّت میں داخل نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ تکبر کے ساتھ کوئی جنّت میں داخل نہ ہوگا بلکہ تکبر اور ہر بری خصلت سے عذاب بھگتنے کے ذریعے یا اللہ کے عفو و کرم سے پاک وصاف ہوکر بخت میں داخل ہوگا ( مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الآداب ، باب الغضب و الکبر ، 8 / 828 )

(2) تکبر کرنے والوں میں لکھ دیا جاتا ہے: حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :آدمی دوسرے لوگوں کے مقابلے میں اپنی ذات کو بلند سمجھتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے تکبر کرنے ‌ میں لکھ دیا جا تا ہے پھر اسے وہی عذاب پہنچے گا جو تکبر کرنے والوں کو پہنچا۔ ( ترمذی ، کتاب البر و الصلاۃ ، باب ما جاء فی الکبر ، 3/ 403, حدیث : 2007)

(3) قیامت کے دن رسوائی: حضور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن متکبرین کو انسانی شکلوں میں چیونٹیوں کی مانند اٹھایا جائے گا، ہر جانب سے ان پر ذلت طاری ہوگی، انہیں جہنم کے بُوْلَس نامی قید خانے کی طرف ہانکا جائے گا اور بہت بڑی آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لے کر ان پر غالب آجائے گی، انہیں طِیْنَۃُ الْخَبال یعنی جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی (ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، 4/221، حدیث: 2500)

(4) کیا اس کے پیچھے موت نہیں: بارگاہ رسالت میں عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فلاں شخص کتنا بڑا متکبر ہے۔ ارشاد فرمایا: کیا اس کے پیچھے موت نہیں ہے ۔ ( شعب الایمان، باب فی حسن الخلق، 6 / 293 ، حدیث : 8209 )

(5) تکبر کرنے والا بدتر ہے: نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: بد تر ہے وہ شخص جو تکبر کرے اور حد سے بڑھے اور سب سے بڑے جبار کو بھول جائے ، بد تر وہ شخص جو سرکشی کرے اور سب سے بلند اور بڑائی والی ذات کو بھول جائے ، بد تر ہے وہ شخص جو غافل ہو اور کھیل کود میں پڑا رہے اور قبر اور اس میں بوسیدہ ہونے کو بھول جائے ۔ ( سنن الترمذي، كتاب صفۃ القيامۃ، 3 /203، حدیث: 2456 )

اللہ پاک ہمیں تکبر اور تمام ظاہری و باطنی گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین یا رب العالمین


تکبر بہت ہی بری چیز ہے۔ اور ایسے شخص کو اللہ رب العزت پسند نہیں فرماتا ہے۔تکبر اپنے آپ کو بڑا اور دوسرے کو اپنے سے حقیر جاننا ہے۔ اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِتکبر حق کی مخالفت اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔ اور یہ ایک ایسی بیماری ہے۔ جو لوگوں کو مال و دولت ،خوبصورتی، زیادہ طاقتور ہونے، زیادہ علم ہونے، زیادہ نماز و روزہ کرنے ، کی وجہ سے زیادہ آتا ہے۔ تکبر انسان کو کہی کا نہیں چھوڑتا ۔ یہی تکبر انسان کو ایمان بھی چھین لیتا ہے۔ تکبر کی وجہ سے انسان اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا۔ تبکر و غرور کی وجہ سے انسان نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت سے محروم رہتا ہے۔ جبکہ انبیاء کرام علیہم السلام کی بارگاہ میں عاجزی اور انکساری ایمان کا ذریعہ ہے۔ جیسا کہ کفار لوگوں نے کیا ہے جب بھی کسی نبی و رسول کو اللہ تبارک و ٰ دنیا میں بھیجا ہے تو کفار لوگ اسے انکار ہی کیا ہے اور کہا ہے کہ ہم لوگ تو اس سے زیادہ مالدار ہے یہ نہایت ہی مفلس ہے یہ نبی کیسے ہو سکتا ہے وہ انبیائے کرام کو بھی اپنے سے کمتر سمجھا اور ہمیشہ اپنی طرح بشر ہی کہتا رہا ہے۔ تکبر و غرور کی وجہ سے مسلمانوں کی تمام تر عبادت و ریاضت سب برباد ہو جاتا ہے ۔ آپ نے سونا ہوگا ابلیس کتنے بڑے عابد و زاہد تھا لیکن حضرت آدم علیہ السّلام کو اپنے سے حقیر جانا۔ اور اللہ کا فرمان ماننے سے انکار کر دیا ۔ جس کی وجہ سے اللہ نے اسے مردود کر کے جنّت سے باہر کر دیا۔ اور اس کے تمام عمال برباد ہو گیا۔

یہ بھی یاد رہے کہ جس طرح بہت سے اسباب ایسے ہیں جن سے بندے کو اللہ پاک کی رحمت و مغفرت حاصل ہو تی ہے اسی طرح بہت سے اسباب ایسے بھی ہیں جن سے بندہ اللہ پاک کے شدید اور دردناک عذاب میں مبتلا ہو جاتا ہے ،ان میں سے ایک سبب تکبر بھی ہے جس کی وجہ سے انسان اللہ کی رحمت سے محروم اور عذاب میں مبتلا ہو جائے گا۔چنانچہ اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے : اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) ترجمہ کنزالایمان: بے شک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔(پ14،النحل:23) تفسیر صراط الجنان میں ہے : یعنی حقیقت یہ ہے کہ اللہ پاک ان کے دلوں کے انکار اور ان کے غرور و تکبر کو جانتا ہے، بے شک اللہ پاک مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔ (روح البیان، النحل، تحت الآیۃ: 23، 5 / 24)

تکبر کی تعریف: یاد رہے کہ تکبر کرنے والا مومن ہو یا کافر، اللہ پاک اسے پسند نہیں فرماتا اور تکبر سے متعلق حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :تکبر حق بات کو جھٹلانے اور دوسروں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔ (مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ، ص60، حدیث: 147(

تکبر کرنے والوں کا انجام:قرآن و حدیث میں تکبر کرنے والوں کا بہت برا انجام بیان کیا گیا ہے ،چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّؕ ترجمعہ ٔ کنزالایمان :اور میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیر دوں گا جو زمین میں ناحق اپنی بڑائی چاہتے ہیں ۔(پ9 ، الاعراف: 146) اور ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠(۶۰)ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک وہ جو میری عبادت سے اونچے کھنچتے(تکبر کرتے) ہیں عنقریب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہوکر ۔(پ24، المؤمن:60)

اور حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہُ عنہمَا سے روایت ہے ، رسول اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : تکبر کرنے والے لوگ قیامت کے دن مردوں کی صورت میں چیونٹیوں کی طرح جمع کیے جائیں گے اور ہر جگہ سے ان پر ذلت چھا جائے گی ،پھر انہیں جہنم کے بُوْلَس نامی قید خانے کی طرف ہانکا جائے گا اور بہت بڑی آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لے کر ان پر غالب آجائے گی، انہیں طِیْنَۃُ الْخَبال یعنی جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی ( ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، 4/221، حدیث: 2500)

حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :قیامت کے دن تکبر کرنے والوں کو چیونٹیوں کی شکل میں اٹھایا جائے گا اور لوگ ان کوروندیں گے کیوں کہ اللہ پاک کے ہاں ان کی کوئی قدر نہیں ہوگی۔ (رسائل ابن ابی دنیا، التواضع والخمول، 2/ 578، حدیث: 224)

حضرت محمد بن واسع رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں :میں حضرت بلال بن ابو بردہ رضی اللہُ عنہ کے پاس گیا اور ان سے کہا :اے بلال ! آپ کے والد نے مجھ سے ایک حدیث بیان کی ہے وہ اپنے والد (حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہُ عنہ) سے اور وہ نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : بے شک جہنم میں ایک وادی ہے جسے ہبہب کہتے ہیں ، اللہ پاک کا فیصلہ ہے کہ وہ اس میں تمام تکبر کرنے والوں کو ٹھہرائے گا۔ اے بلال! تم اس میں ٹھہرنے والوں میں سے نہ ہونا۔ (مسند ابو یعلی، حدیث ابی موسی الاشعری، 6 / 207، حدیث: 7213)

تکبر کی بہت بڑی قباحت یہ ہے کہ آدمی جب تکبر کا شکار ہوتا ہے تو نصیحت قبول کرنا اس کیلئے مشکل ہوجاتا ہے ،چنانچہ قرآنِ پاک میں ایک جگہ منافق کے بارے میں فرمایا گیا: وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُؕ-وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ(۲۰۶) ترجمۂ کنزالعرفان: اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو اسے ضد مزید گناہ پر ابھارتی ہے توایسے کو جہنم کافی ہے اور وہ ضرور بہت برا ٹھکاناہے۔(پ2،البقرۃ:206)

امام محمد غزالی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : تکبر کی تین قسمیں ہیں: (1)وہ تکبر جو اللہ پاک کے مقابلے میں ہو جیسے ابلیس، نمرود اور فرعون کا تکبر یا ایسے لوگوں کا تکبر جو خدائی کا دعویٰ کرتے ہیں اور اللہ پاک کے بندوں سے نفرت کے طور پر منہ پھیرتے ہیں۔(2)وہ تکبر جو اللہ پاک کے رسول کے مقابلے میں ہو ،جس طرح کفارِ مکہ نے کیا اور کہا کہ ہم آپ جیسے بشر کی اطاعت نہیں کریں گے ،ہماری ہدایت کے لئے اللہ پاک نے کوئی فرشتہ یا سردار کیوں نہیں بھیجا، آپ تو ایک یتیم شخص ہیں۔(3)وہ تکبر جو آدمی عام انسانوں پر کرے، جیسے انہیں حقارت سے دیکھے ،حق کو نہ مانے اور خود کو بہتر اور بڑا جانے۔ (کیمیائے سعادت، رکن سوم: مہلکات، اصل نہم، پیدا کردن درجات کبر، 2 / 707)

تکبر کی تینوں اقسام کا حکم: اللہ پاک اور اس کے رسول کی جناب میں تکبر کرنا کفر ہے جبکہ عام بندوں پر تکبر کرنا کفر نہیں لیکن اس کا گناہ بھی بہت بڑا ہے۔

تکبر کا ثمرہ اور انجام:اس آیت میں نا حق تکبر کا ثمرہ اور تکبر کرنے والوں کا جو انجام بیان ہوا کہ ناحق تکبر کرنے والے اگر ساری نشانیاں دیکھ لیں تو بھی وہ ایمان نہیں لاتے اور اگر وہ ہدایت کی راہ دیکھ لیں تو وہ اسے اپنا راستہ نہیں بناتے اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھ لیں تو اسے اپنا راستہ بنا لیتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ غرور وہ آگ ہے جو دل کی تمام قابلیتوں کو جلا کر برباد کر دیتی ہے خصوصاً جبکہ اللہ پاک کے مقبولوں کے مقابلے میں تکبر ہو۔ اللہ پاک کی پناہ۔ قرآن و حدیث سے ہر کوئی ہدایت نہیں لے سکتا، اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًاۙ-وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًاؕ ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللہ بہت سے لوگوں کو اس کے ذریعے گمراہ کرتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت عطا فرماتا ہے۔(پ1،البقرۃ:26)

اللہ پاک سے تکبر کرنا۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠(۶۰)ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک وہ جو میری عبادت سے اونچے کھنچتے(تکبر کرتے) ہیں عنقریب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہوکر ۔(پ24، المؤمن:60)

اترا کر چلنے والے کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸) ترجمۂ کنز الایمان: اور کسی سے بات کرنے میں اپنا رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل بےشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا فخر کرتا(پ21،لقمٰن:18)

آیت میں اکڑ کر چلنے سے منع فرمایا گیا ،اس مناسبت سے یہاں اکڑ کر چلنے کی مذمت پر مشتمل دو اَحادیث ملاحظہ ہوں :

(1) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے،حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو آدمی اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے اور اکڑکر چلتا ہے،وہ اللہ پاک سے اس طرح ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔( مسند امام احمد، مسند عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما، 2 / 461، حدیث: 6002) (2)حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے،حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:جب میری امت اکڑ کر چلنے لگے گی اور ایران و روم کے بادشاہوں کے بیٹے ان کی خدمت کرنے لگیں گے تو اس وقت شریر لوگ اچھے لوگوں پر مُسَلَّط کر دئیے جائیں گے۔( ترمذی، کتاب الفتن، 4 / 115، حدیث: 2268)

اسی آیت سے معلوم ہو اکہ مال و دولت کی کثرت فخر ،غرور اور تکبر میں مبتلا ہونے کاایک سبب ہے۔امام محمد غزالی رحمۃُ اللہِ علیہ تکبر کے اسباب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : تکبر کا پانچواں سبب مال ہے اور یہ بادشاہوں کے درمیان ان کے خزانوں اور تاجروں کے درمیان ان کے سامان کے سلسلے میں ہوتا ہے، اسی طرح دیہاتیوں میں زمین اور آرائش والوں میں لباس اور سواری میں ہوتا ہے۔ مالدار آدمی، فقیر کو حقیر سمجھتا اور اس پر تکبر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تو مسکین اور فقیر ہے، اگر میں چاہوں تو تیرے جیسے لوگو ں کو خریدلوں ، میں تو تم سے اچھے لوگوں سے خدمت لیتا ہوں ، تو کون ہے؟ اور تیرے ساتھ کیا ہے؟ میرے گھر کا سامان تیرے تمام مال سے بڑھ کر ہے اور میں تو ایک دن میں اتنا خرچ کردیتا ہوں جتنا تو سال بھر میں نہیں کھاتا۔

وہ یہ تمام باتیں اس لیے کرتا ہے کہ مالدارہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے جب کہ اس شخص کو فقر کی وجہ سے حقیر جانتا ہے اور یہ سب کچھ اس لیے ہوتا ہے کہ وہ فقر کی فضیلت اور مالداری کے فتنے سے بے خبر ہوتا ہے۔ الله تعالیٰ نے اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اس نے اپنے ساتھی سے کہا اور وہ اس سے فخر و غرور کی باتیں کرتا رہتا تھا۔ (اس سے کہا) میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور افراد کے اعتبار سے زیادہ طاقتور ہوں ۔(پ15،الکھف:34)

حتّٰی کہ دوسرے نے جواب دیا:اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ(۳۹)فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جنّتكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ(۴۰)اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًاترجمۂ کنزُالعِرفان: اگر تو مجھے اپنے مقابلے میں مال اور اولاد میں کم دیکھ رہا ہے۔ تو قریب ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا فرما دے اور تیرے باغ پر آسمان سے بجلیاں گرادے تو وہ چٹیل میدان ہوکر رہ جائے۔ یا اس باغ کا پانی زمین میں دھنس جائے پھر تو اسے ہرگز تلاش نہ کرسکے۔(پ15،الکھف:39 تا 41)

تو اس پہلے شخص کا قول مال اور اولاد کے ذریعے تکبر کے طور پر تھا، پھر الله پاک نے اس کے انجام کا یوں ذکر فرمایا:یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے کاش!میں نے اپنے رب کےساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہوتا۔( پ15،الکھف:42) قارون کا تکبر بھی اسی انداز کا تھا۔( احیاء علوم الدین، کتاب ذم الکبر والعجب، بیان ما بہ التکبر، 3 / 432)

تکبر کے دو علاج: تکبر کے برے انجام سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کتنا خطرناک باطنی مرض ہے ،اس لئے جو اپنے اندر تکبر کا مرض پائے اسے چاہئے کہ وہ اس کا علاج کرنے کی خوب کوشش کرے ،اَحادیث میں تکبر کے جو علاج بیان کئے گئے ان میں سے دو علاج درج ذیل ہیں ۔

(1)اپنے کام خود کرنا: چنانچہ حضرت ابو امامہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، حضور پُر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :جس نے اپنا سامان خود اٹھایا وہ تکبر سے بری ہو گیا۔(شعب الایمان، السابع والخمسون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی التواضع، 6 / 292، حدیث: 8201)

(2) عاجزی اختیار کرنا اور مسکین کے ساتھ بیٹھنا: چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہُ عنہمَاسے روایت ہے، رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: عاجزی اختیار کرو اور مسکینوں کے ساتھ بیٹھا کرو، اللہ پاک کی بارگاہ میں تمہارا مرتبہ بلند ہو جائے گا اور تکبر سے بھی بری ہو جاؤ گے۔(کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، 2 / 49، حدیث: 5722، الجزء الثالث)

مال و دولت کی وجہ سے پیدا ہونے والے تکبر کا علاج:امام محمد غزالی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : (مال و دولت،پیرو کاروں اور مددگاروں کی کثرت کی وجہ سے تکبر کرنا) تکبر کی سب سے بری قسم ہے ،کیونکہ مال پر تکبر کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جو اپنے گھوڑے اور مکان پر تکبر کرتا ہے اب اگر اس کا گھوڑا مرجائے یا مکان گرجائے تو وہ ذلیل و رُسوا ہوتاہے اور جو شخص بادشاہوں کی طرف سے اختیارات پانے پر تکبر کرتاہے اپنی کسی ذاتی صفت پر نہیں ، تو وہ اپنا معاملہ ایسے دل پر رکھتا ہے جو ہنڈیا سے بھی زیادہ جوش مارتا ہے، اب اگر اس سلسلے میں کچھ تبدیلی آجائے تو وہ مخلوق میں سے سب سے زیادہ ذلیل ہوتا ہے اور ہر وہ شخص جو خارجی اُمور کی وجہ سے تکبر کرتاہے اس کی جہالت ظاہر ہے کیونکہ مالداری پر تکبر کرنے والا آدمی اگر غور کرے تو دیکھے گا کہ کئی یہودی مال و دولت اور حسن وجمال میں اس سے بڑھے ہوئے ہیں ، تو ایسے شرف پر افسوس ہے جس میں یہودی تم سے سبقت لے جائیں اور ایسے شرف پر بھی افسوس ہے جسے چور ایک لمحے میں لے جائیں اور اس کے بعد وہ شخص ذلیل اور مُفلِس ہوجائے۔( احیاء علوم الدین، کتاب ذم الکبر والعجب، بیان الطریق فی معالجۃ الکبر واکتساب التواضع لہ، 3 / 444)

اللہ پاک سب مسلمانوں کو مال و دولت کی وجہ سے پیدا ہونے والے تکبر سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

تکبر اور عاجزی سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے لئے کتاب ’’احیاء العلوم (مترجم)‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ ) جلد تین سے تکبر کا بیان ،اور کتاب ’’تکبر‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کا مطالعہ بہت مفید ہے۔


پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان نصیحت نشان ہے: اگر انسان کا دل درست ہو جائے‌تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے ‌اور اگر اس کا دل خراب ہو جائے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے۔(بخاری، حدیث:52) اس حدیث پاک سے‌ ہمیں اپنی اصلاح کرنے کی ترغیب ملتی ہے کہ اگر خود کو سدھارنا ہے تو اپنے دل کی اصلاح کرلی جائے لیکن دل کی اصلاح اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک ہم اسے‌خراب کرنےوالی عادتوں کے بارے میں نہ جان لیں۔ یاد رکھیں دل کی بیماریوں کے بارے میں علم حاصل کرنا فرضِ عین ہے۔ لہذا آئیے انہیں دل کی بیماریوں میں سےہم تکبر کےبارے میں جانتے ہیں۔

تکبر کی تعریف: خود کو افضل، اور دوسروں کو حقیر جاننےکا نام تکبر ہے۔

(1)فرمان مصطفٰے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: جس شخص کے دل میں رائی کے دانہ کےبرابر تکبر ہوگا وہ جنّت میں داخل نہ ہوگا۔ (مسلم، حدیث:148)

(2)آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں: جہنم میں ایک محل ہے جس میں تمام متکبروں کوجمع کیا جائیگا اور پھر وہ‌محل ان پر گرادیا جائےگا۔ (شعب الایمان حدیث:8187)

(3)پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں: قیامت کے دن متکبر چیونٹیوں کی طرح اٹھائے جائیں گے لوگ انہیں روندیں گے اور ریزہ ریزہ کر دیں گے اور وہ انتہائی ذلت میں ہوں گےپھر انہیں جہنم کے قید خانہ کی طرف لے جایا جائیگا جس کا نام بولس ہے،ان پر جہنم کی آگ بھڑ کے گی، انہیں دوزخمیوں کے جسموں سے نکلنے والی پیپ پلائی جائے گی۔(ترمذی، حدیث:2500)

(4)حضورصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اے اللہ! میں تکبر کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور فرمایا کہ جو شخص دنیا سے اس حال میں جائے کہ وہ تین چیزوں سے بری ہو، وہ جنّت میں جاۓگا : تکبر، قرض اور خیانت (ترمذی، حدیث:1579)

(5)جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے اور اتراکر چلتا ہے، وہ اللہ پاک سے اس حالت میں ملاقات کرےگا کہ اللہ پاک اس پر ناراض ہوگا۔ (مسند احمد، حدیث:6002)

تکبر کے نقصانات:تکبر ایسا مہلک مرض ہے کہ اپنے ساتھ دیگر کئی برائیوں کو لاتا ہے اور کئی اچھائیوں سےآدمی کومحروم کر دیتا ہے ۔

(1)متکبر شخص جو کچھ اپنے لئے پسند کرتا ہےاپنے مسلمان بھائی کے لئے پسند نہیں‌کر سکتا۔(2)ایسا شخص عاجزی پر بھی قادر نہیں ہوتا جو تقوای و پرہیز گاری کی جڑ ہے۔ (3)کینہ بھی نہیں چھوڑ سکتا۔(4)اپنی عزت بچانے کےلئے جھوٹ بولتا ہے۔(5)اس جھوٹی عزت کی وجہ سےغصہ نہیں چھوڑ سکتا۔(6)حسد سےنہیں بچ سکتا۔(7)کسی کی خیر خواہی نہیں کرسکتا۔ (8)دوسروں کی نصیحت قبول کرنے سےمحروم رہتا ہے۔ (9)لوگوں کی غیبت میں مبتلا ہو جاتا ہے الغرض متکبر آدمی اپنا بھرم رکھنے کےلئے ہر برائی کرنے پر مجبور اور ہر اچھے کام کو کرنے سے عاجز ہو جاتا ہے۔(احیاء العلوم، 3/423، ملخصا)

تکبر کےبعض اسباب و علاج

(1)علم: بعض اوقات انسان کثرت علم کی وجہ سے بھی تکبر کی آفت میں مبتلا ہو جاتاہے۔اس کا علاج یہ ہےکہ بندہ معلم الملكوت کے منصب تک پہنچنے والے شیطان کے انجام کو یادر کھے۔(2)عبادت وریاضت: بندہ کثیر عبادت وریاضت کےسبب اس مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے، اس کا علاج یہ ہےکہ بندہ سوچے میں اگر بہت زیادہ عبادت کرتا ہوں تو اس میں ‌میرا کیا کمال ہے؟

یا اللہ پاک ہمیں تکبر سے بچا اور عاجز اختیار کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


پیارے اور میٹھے اسلامی بھائیو ! تکبر ایک بہت ہی بری صفت ہے۔ تکبر کرنے والا گویا اصغر الصاغرین ہو کر بھی اکبر الکابرین بننا چاہتا ہے۔ تکبر کے برا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ یہ اللہ و رسول کی نا فرمانی ہے چنانچہ (1)اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے: اللہ متکبرین اور اترا کر چلنے والوں کو نا پسند فرماتا ہے۔ (کنزالعمال،3/210،حدیث: 7727 )

(2)اللہ پاک کے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :جو تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند لٹکائے گا اللہ پاک قِیامت کے دن اس پر نظرِ رحمت نہ فرمائے گا۔(صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب من جرثوبہٗ من الخیلائ، 4 /46، حدیث: 5788)

(3) پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا بھی تکبر ہوگا وہ جنّت میں داخل نہ ہوگا۔(صحیح مسلم، ح 147 ص60)

(4) تکبر حق کی مخالفت اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔(صحیح مسلم، حدیث،91 ص61 )

(5) آقائے دو جہاں صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن متکبرین کو انسانی شکلوں میں جیونٹیوں کے مانند اٹھایا جائے گا ہر جانب سے ان پر ذلت طاری ہوگی انہیں جہنم کے بُوْلَس نامی قید خانے کی طرف ہانکا جائے گا اور بہت بڑی آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لے کر ان پر غالب آجائے گی، انہیں طِیْنَۃُ الْخَبال یعنی جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی ( ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، 4/221، حدیث: 2500)


میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! تکبر ایک ایسی بیماری ہے    تکبر ہی کے باعث اِبلیس(یعنی شیطان) کو اپنے اِیمان سے ہاتھ دھونے پڑے! شیطان جس کا نام پہلے عِزازِیل تھا ، اِبتدا ہی سے سرکش ونافرمان نہ تھا بلکہ اس نے ہزاروں سال عبادت کی، جنّت کا خزانچی رہا ، یہ جِن تھا مگر اپنی عبادت و رِیاضت اور عِلمیّت کے سبب مُعَلِّمُ المَلَکُوت یعنی فرشتو ں کا اس تاذ بن گیا اور اس قدر مقرَّب تھا کہ بارگاہِ خداوندی میں ملائکہ کے پہلو بہ پہلو حاضر ہوتاتھا۔ مگر چند گھڑیوں کے تکبر نے اس ے کہیں کا نہ چھوڑا ! حکمِ الہٰی کی نافرمانی کی وجہ سے اس کی برسوں کی عبادتیں اَکارت(یعنی بے کار) اورہزاروں سال کی رِیاضتیں پامال ہوگئیں ، ذلّت ورُسوائی اس کا مقدّر بنی ، ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لعنت کا طوق اس کے گلے پڑ گیا اور وہ جہنَّم کے دائمی(یعنی ہمیشہ ہمیشہ کے) عذاب کا مستحق ٹھہرا ۔(اَ لْاَمَان وَالْحَفِیْظ )

تکبر کسے کہتے ہیں ؟ خُود کو افضل، دوسروں کو حقیر جاننے کا نام تکبر ہے ۔چنانچہ رسولِ اکرم نُورِ مجسّم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا : اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ یعنی تکبر حق کی مخالفت اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم الکبروبیانہ، حدیث : 91، ص61) اِمام راغب اِصفہانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ذٰلِکَ اَن یَّرَی الْاِنْسَانُ نَفْسَہٗ اَکْبَرَ مِنْ غَیْرِہِ۔یعنی تکبر یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو دوسروں سے افضل سمجھے۔(المُفرَدات للرّاغب ص697)

اللہ پاک کا ناپسندیدہ بندہ: رب ِ کائنات تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا جیسا کہ سورۂ نحل میں اِرشاد ہوتا ہ : اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) ترجمہ کنزالایمان: بے شک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔(پ14،النحل:23)

تکبر کی مذمت پر 5 فرامینِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(1) شَہَنْشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ عبر ت نشان ہے : اللہ پاک مُتکبرین (یعنی مغروروں )اور اِتراکر چلنے والوں کو ناپسند فرماتا ہے ۔(کنزالعمال، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال،3/210، حدیث : 7727)

2)) حضرتِ سیِّدُنا حُذَیفہ رضی اللہُ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم دافِعِ رنج و مَلال، صاحِب ِجُودو نَوال صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا : کیا میں تمہیں اللہ پاک کے بدترین بندے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ وہ بداَخلاق اورمتکبر ہے۔(المسندللامام احمد بن حنبل، 9 / 120، حدیث: 23517)

3))دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : قیامت کے دن متکبرین کو انسانی شکلوں میں چیونٹیوں کی مانند ا ٹھایا جائے گا، ہرجانب سے ان پر ذلّت طاری ہو گی، انہیں جہنم کے ’’ بُولَس‘‘ نامی قید خانے کی طرف ہانکا جائے گا اور بہت بڑی آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لیکر ان پر غالب آ جائے گی، انہیں ’’طِیْنَۃُ الْخَبَال یعنی جہنمیوں کی پیپ ‘‘پلائی جائے گی۔(جامع الترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، باب ماجاء فی شدۃ الخ، 4/221، حدیث: 2500)

4)) اللہ کے مَحبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا: جو تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند لٹکائے گا اللہ پاک قِیامت کے دن اس پر نظرِ رحمت نہ فرمائے گا۔(صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب من جرثوبہٗ من الخیلائ، 4 /46، حدیث: 5788)

5))حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہُ عنہ روایت کرتے ہیں کہ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہِدایت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا(یعنی تھوڑا سا) بھی تکبر ہو گا وہ جنّت میں داخل نہ ہوگا۔(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم الکبروبیانہ، حدیث : 147، ص60)


پیارے اور میٹھے اسلامی بھائیو! اس فر فتن دور میں گناہوں سے بچنا بہت مشکل سے مشکل ہوتا جارہا ہے اور ایسے میں اندرونی (باطنی) بیماریوں سے بچنا تو بہت زیادہ ہی مشکل ہے ہم تو صرف ظاہری گناہ پر غور وفکر کرتے ہیں باطنی بیماریوں کی طرف ہماری توجہ ہی نہیں ہوتی، یہ دور تو ایسا ہے کہ ہر ایک اپنے آپ کو دوسروں سے افضل جانتا ہے یہ کوئی اچھی عادت نہیں بلکہ یہ بھی ایک طرح کا گناہ ہے اور وہ بھی باطنی ہوتا ہے پتا بھی نہیں چلتا، ایسی بیماری کو باطنی مرض کہتے ہیں اور وہ تكبر ہے۔

پیارے اسلامی بھائیو تکبر کیا چیز ہے اور اس کی تعریف کیا ہے؟ تکبر یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو دوسروں سے افضل سمجھے ۔حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں تکبر حق کی مخالفت اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔

تکبر کرنے والوں کا انجام:قرآن و حدیث میں تکبر کرنے والوں کا بہت برا انجام بیان کیا گیا ہے ،چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّؕ ترجمعہ ٔ کنزالایمان :اور میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیر دوں گا جو زمین میں ناحق اپنی بڑائی چاہتے ہیں ۔(پ9 ، الاعراف: 146)

(1)حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہُ عنہمَا سے روایت ہے ، رسول اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: تکبر کرنے والے لوگ قیامت کے دن مردوں کی صورت میں چیونٹیوں کی طرح جمع کیے جائیں گے اور ہر جگہ سے ان پر ذلت چھا جائے گی ،پھر انہیں جہنم کے ایک’’بُوْلَسْ‘‘ نامی قید خانہ کی طرف ہانکا جائے گا، ان پر آگوں کی آگ چھا جائے گی اور وہ دوزخیوں کی پیپ طِیْنَۃُ الْخَبَّالْ سے پلائے جائیں گے ۔ (ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، 4/221، حدیث: 2500)

(2)شَہَنْشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ عبر ت نشان ہے : اللہ پاک مُتکبرین (یعنی مغروروں )اوراِتراکرچلنے والوں کو ناپسند فرماتا ہے ۔(کنزالعمال، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال،3/210، حدیث : 7727)

(3)حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہُ عنہ روایت کرتے ہیں کہ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہِدایت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا(یعنی تھوڑا سا) بھی تکبر ہو گا وہ جنّت میں داخل نہ ہوگا۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم الکبروبیانہ، حدیث : 147، ص60)

(4)رحمتِ الہٰی سے محروم ہونے والوں میں متکبر بھی شامل ہوگا ، جیسا کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب وصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا : جو تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند لٹکائے گا اللہ پاک قِیامت کے دن اس پر نظرِ رحمت نہ فرمائے گا۔(صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب من جرثوبہٗ من الخیلائ، 4 /46، حدیث: 5788)

(5)حُسنِ اَخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : چھ قسم کے لوگ بغیر حساب کے جہنَّم میں داخل ہوں گے۔ (1)اُمراء ظلم کی وجہ سے(2)عَرَب عَصَبِیَّت(یعنی طرف داری) کی وجہ سے(3) رئیس اور سردار تکبر کی وجہ سے (4)تجارت کرنے والے جھوٹ کی وجہ سے (5)اہلِ علم حَسَد کی وجہ سے(6)مالدار بُخْل کی وجہ سے۔ (کنزالعمال، کتاب المواعظ والرقاقالخ، قسم الاقوال ، 16/37،حدیث:44023)

میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! اللہ پاک بے نیاز ہے اس کی’’ خفیہ تدبیر‘‘ کو کوئی نہیں جانتا، کسی کو بھی اپنے عِلم یا عبادت پر ناز نہیں کرنا چاہئے۔ کہیں ایسانہ ہو کہ تکبر کی نُحُوست کی وجہ سے مرنے سے پہلے ہمارا اِیمان سَلب ہوجائے اور معاذ اللہ ہمارا خاتمہ کُفر پر ہو ، اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو عِلم کے دفینے اورعبادتوں کے خزینے ہمارے کچھ کام نہ آئیں گے۔ ؎

مسلماں ہے عطّارؔ تیری عطا سے

ہو اِیمان پر خاتِمہ یا الہٰی

یا اللہ ہمیں تکبر جیسی باطنی بیماریوں کے ساتھ ساتھ ظاہری بیماریوں سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


اللہ پاک نے جس طرح انسان کو ظاہری گناہوں سے بچنے کا حکم عطا فرمایا بالکل اسی طرح باطنی گناہوں سے بچنے کا بھی حکم عطا فرمایا ہے اور باطنی گناہوں کی معلومات حاصل کرنا ہمارے لئے انتہائی  ضروری ہے باطنی گناہوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ انہیں باطنی گناہوں میں سے ایک باطنی گناہ تکبر بھی ہے۔ آئیے تکبر کی تعریف اس کے نقصانات اور احادیث مبارکہ میں اس کے حوالے سے کیا کچھ آیا ہے اس کو پڑھتے ہیں اور اس گناہ سے بچنے کی بھر پور کوشش کریں گے۔

تکبر کی تعریف: چنانچہ دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المدينہ کی مطبوعہ 96 صفحات پر مشتمل کتاب تکبر کے صفحہ 16 پر ہے: خود کو افضل اور دوسروں کو حقیر جاننے کا نام تکبر ہے۔ رسول اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: الکبر بطر الحق وغیظ الناس یعنی تکبر حق کی مخالفت اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔(مسلم کتاب الایمان باب تحریم الکبر وبیانہ، حدیث 91،ص61)

تکبر کی تباہ کاریاں: تکبر شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، تکبر میں مبتلا انسان اپنے سے کمتر کو سلام کا جواب دینا بھی اپنی توہین سمجھتا ہے۔ تکبر میں مبتلا انسان اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتا جب کہ دوسروں کو حقیر و ذلیل سمجھتا ہے، تکبر میں مبتلا انسان کو موت کے وقت سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تکبر میں مبتلا انسان کو موت کے وقت توبہ کی توفیق بھی نصیب نہیں ہوتی۔

تکبر کی مذمّت پر احادیث

چنانچہ اللہ پاک کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں اللہ پاک کے بدترین بندے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟وہ بد اخلاق اور متکبر ہے۔(مسند امام احمد مسند الانصار حدیث حزیفہ بن الیمان، 9/12، حدیث: 23517)

ارشاد فرمایا: قیامت کے دن متکبرین کو چیونٹیوں کی شکل میں اٹھایا جائے گا اور لوگ ان کو روندیں گے کیونکہ اللہ کریم کے یہاں ان کی کوئی قدر نہیں ہوگی۔(موسوعۃ ابن ابی دنیا التواضع والخمول، 3/578، حدیث :224)

ارشاد فرمایا: جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا بھی (یعنی تھوڑا سا بھی) تکبر ہوگا وہ جنّت میں داخل نہیں ہو گا۔( مسلم کتاب الایمان باب تحریم الکبر وبیانہ،ص60، حدیث: 147 ) حضرت علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں جنّت میں داخل نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ تکبر کے ساتھ جنّت میں کوئی داخل نہ ہوگا بلکہ تکبر اور ہر بری خصلت سے عذاب بھگتنے کے ذریعے یا اللہ پاک کے عفو و کرم سے پاک و صاف ہو کر جنّت میں داخل ہو گا ۔(مرقاةالمفاتيح کتاب الاداب باب الغصب والکبر، 8/ 828تا829)


پیارے اسلامی بھائیو ! الحمد للہ ہم مسلمان ہے ہم مسلمان پر جس طرح عقائد و معاملات کے مسائل سے آگاہى ضروری ہے ایسے ہی باطنی بیماریوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا اور اس سے بچنے کے طریقے اور اس کا علاج کا علم حاصل کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 624 پر لکھتے ہیں :محرمات باطنيہ ( یعنی باطنی ممنوعات) مثلا تكبر و ریا وعجب وحسد وغیرہا اور ان کے معالجات ( یعنی علاج ) کہ ان کا علم ( یعنی جاننا ) بھی ہر مسلمان پر اہم فرائض سے ہے ۔ ( فتاوی رضوی مخرجہ ، 23/624 )

ہم اس مقالہ میں ان ہی باطنی بیماریوں میں سے ایک وہ بیماری جو انسان کو تباہ و برباد کر دیتی ہے،جو انسان کو اپنوں سے کوسوں میل دور پچھاڑ دیتی ہے،وہ بیماری جس کی وجہ سے شیطان آج تک رسوا ہے،جس کو ہم سب تکبر سے موسوم کرتے ہیں اور جس میں تکبر ہو اسے مُتکبر کہتے ہیں۔آئیے اس کے وعیدات کی طرف نظر مبذول کرنے سے پہلے اس کی تعریف پڑھ لیتے ہیں۔ خود کو افضل اور دوسروں کو حقیر جاننے کا نام تکبر ہے ۔ چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ سلم نے ارشادفرمایا : اَلْكِبْرُ بَطَرُ لْحَقِّ وَ غَمْطُ الْنَّاسِ یعنی تکبرحق کی مخالفت اور لوگوں کو حقیر جانے کا نام ہے ۔ ( صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، باب تحريم الكبروبيانہ ، حدیث : 91 ، ص 61) امام راغب اصفہانی علیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ذلك أن يرى الإنسان نفسه أكبر من غيره ۔ یعنی تکبر یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو دوسروں سے افضل سمجھے ۔ ( المفردات للراغب ص 697 )

پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! تکبر کے بہت نقصانات ہے ان میں سے 6 یہاں رقم کرتا ہوں:۔

(1) رب کریم متکبر کو کا ناپسند فرماتا ہے۔ جیسا کہ اللہ پاک قراٰن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) ترجمہ کنزالایمان: بے شک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔ (پ14 ،النحل:23) (2) حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم متکبر سے نفرت فرماتے۔(3)متکبر بد ترین بندہ ہے۔(4)متکبر قیامت کے دن رسوا ہوگا۔(5)متکبر جنّت میں داخل نہ ہو سکے گا۔(6)متکبر بروز قیامت رحمت الہی سے محروم ہوگا۔ (تکبر، ص 22)

(1) عن ابن مسعود قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يدخل النار احد في قلبه مثقال حبة من خردل من إيمان و لايدخل الجنة احد في قلبه مثقال حبة من خردل من كبر ترجمہ: روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : وہ شخص آگ میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہو اور وہ شخص جنّت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر غرور ہو۔(مشکوۃ المصابیح، ص447)

(2)وعن ابن مسعود قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال ذرة من كبر فقال رجل ان الرجل يحب ان يكون ثوبه حسناونعله حسنا قال ان الله تعالى جميل يحب الجمال الكبر بطر الحق وغيط الناس ترجمہ : روایت ہے ابن مسعود سے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : جنّت میں وہ نہ جائے گا جس کے دل میں ذرہ برابر غرور ہو تو ایک شخص نے عرض کیا کہ کوئی شخص چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اس کا جوتا اچھا ہو (جواب کے طور پر)حضور نے فرمایا کہ اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے غرور حق کو جھٹلانا لوگوں کو ذلیل سمجھنا ہے۔

مرآۃ المناجیح میں تحت حدیث ارشاد فرمایا کہ سائل سمجھا کہ شاید اچھا لباس پہننا بھی غرور میں داخل ہے کہ اس میں اپنی مالداری یا بڑائی کا اظہار ہے اس لیے اس نے یہ سوال کیا، نیز اکثر متکبرین اعلیٰ درجہ کا لباس پہنتے ہیں تو یہ عمدگی لباس متکبرین کی علامت ہے بہرحال سوال بالکل درست ہے۔ رب تعالٰی ذات و صفات میں اچھا ہے، جمیل ہے مخلوق اس کی صفات کی مظہر ہے تو مسلمان کو چاہیے کہ اپنی عادات، صورت، لباس، اعمال اچھے رکھے تاکہ رب تعالٰی کی صفت جمیل کا مظہر بنے، نیز اس لباس میں رب تعالٰی کی نعمت کا اظہار ہے جو محبوب ہے، رب تعالٰی فرماتاہے: وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠(۱۱) اسے تکبر سے کوئی تعلق نہیں۔(مرآۃ المناجیح ،6 /929)

(3) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: متکبرین کا حشر قیامت کے دن چیونٹیوں کے برابر جسموں میں ہو گا اور ان کی صورتیں آدمیوں کی ہوں گی ، ہر طرف سے ان پر ذلت چھائے ہوئے ہوگی ، ان کو کھینچ کر جہنم کے قید خانے کی طرف لے جائیں گے جس کا نام بولس ہے ۔ ان کے اوپر آگوں کی آگ ہوگی ، جہنمیوں کا نچوڑ انہیں پلایا جائےگا جس کو طینة الخبال کہتے ہیں۔(مشکوۃ المصابیح ،2 /448)

(4)وعن ابي هريرة قال قال رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ثلثة لايكلمهم الله يوم القيمة ولا يزكيه وفي رواية ولا ينظر اليهم ولهم عذاب الیم شیخ زان وملك كذاب وعائل مستكبر ترجمہ:روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :تین شخص ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ پاک نہ کلام کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ایک روایت میں ہے کہ نہ ان کی طرف نظر کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (1) بڈھا زانی (2) جھوٹا بادشاہ (3) متکبر فقیر (مشکوۃ المصابیح ،2 / 448)

(5)حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے : چھ قسم کے لوگ بغیر حساب کے جہنم میں داخل ہوں گے ۔ (1) امراء ظلم کی وجہ سے (2) عرب عصبیت (یعنی طرف داری ) کی وجہ سے (3) رئیس اور سردار تکبر کی وجہ سے (4) تجارت کر نے والے جھوٹ کی وجہ سے (5) اہل علم حسد کی وجہ سے (6) مالدار بخل کی وجہ سے ۔

پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! ہم نے تکبر کے عذابات و نقصانات پڑھے کہ تکبر کرنے والا اولا جنّت میں داخل نہیں ہوگا ۔تکبر کرنے والے جہنم میں داخل ہوگا۔ پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! باغ جس میں رنگ برنگی پھول ہوتے ہیں وہ خاک میں ہوتا ہے نہ کہ آگ میں اور تکبر آگ میں سے ہے اور عاجزی و انکساری خاک سے تو جو خواہشمند ہیں کہ اپنے دل کے گلدستے میں علم و عرفان کے پھول سجانا چاہتا ہے وہ اپنے آپ کو خاکسار بنائے اسی میں بلندی ہے جیسا کہ حضور علیہ السّلام نے ارشاد فرمایا کہ من تواضع للہ رفعہ اللہ ترجمہ: جو اللہ کے لیے تواضع کرے اللہ اس کو بلند کرے گا۔

تو پیارے اسلامی بھائیو ! تکبر سے ہم سب کو بچنا چاہیے تاکہ ہم ان کے نقصانات سے بچ کر اس کی فضیلتوں سے مالامال ہو سکے اور اس سے بچنے کے لئے ہمیں دعوت اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرے۔ ان شاء اللہ تکبر اور مزید باطنی بیماریوں سے بچنے کا ذہن بنے گا۔