چودہویں صدیں کے مشہور بزرگ، عاشق رسول، فدائے سادات، مجدددین و ملّت، فقیہ اعظم، محدث، پاسبان ناموس رسالت، علم حکمت کے بادشاہ، امام اہلسنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ 10 شوال المکرم 1272ھ ہندوستان کے شہر بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ بچپن ہی سے بے پناہ خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے، حیرت انگیز قوتِ حافظہ کی بناء پر آپ نے پانچ سال کی عمر میں قرآن مجید ناظرہ ختم کرلیااور 13 سال 4 ماہ کی عمر میں علم تفسیر، حدیث ، فقہ و اصول فقہ، منطق و فلسفہ اور دیگر علوم درسیہ سے فراغت حاصل کی اور فتویٰ نویسی کا آغاز کردیا جبکہ 21 سال کی عمر میں باقاعدہ فتویٰ نویسی کی مطلق اجازت ملی۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ کو علمُ القرآن، علم الحدیث، علم العقائد، تجارت، جغرافیہ، ریاضی، علم طب، سیاسیات، صحافت، علم الفلکیات اور علم النجوم سمیت درجنوں علوم پر دسترس حاصل تھی جس پر آپ نے 1 ہزار سے زائد کتابیں و رسالے لکھے ہیں۔ جن علوم پر آپ کو مہارت حاصل تھی ان میں کئی ایسے ایسے علوم بھی ہیں جن کے ناموں سے دورجدید کے بڑے بڑے محققین اور ماہرین علوم و فنون بھی آگاہ نہیں ۔

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو جن علوم پر دسترس حاصل تھی ان میں سے چند کے بارے میں اس مضمون میں مختصراً بیان کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

٭علمِ تفسیر

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی علومِ قرآن پر گہری نظر تھی اورتفسیر قرآن میں امتیازی مقام حاصل تھا جس کا اندازہ ہم اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ سید اظہر علی صاحب (ساکن محلہ ذخیرہ) بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ اعلیٰ حضرت ”حضرت محب الرسول مولانا شاہ عبد القادر رحمۃ اللہ علیہ “کے عرس میں تشریف لے گئے وہاں 9 بجے صبح سے 3 بجے دن تک چھ گھنٹے ”سورۂ و الضحیٰ“ پر بیان کرکے فرمایا کہ اسی سورۂ مبارکہ کی کچھ آیاتِ کریمہ کی تفسیر میں 80 جز (تقریباً چھ سو صفحات)رقم فرماکر چھوڑ دیا کہ اتنا وقت کہاں سے لاؤں کہ پورے کلام پاک کی تفسیر لکھ سکوں۔

اعلیٰ حضرت کی تفسیری مہارت کا اندازہ ہم اُس بیان سے بھی کرسکتے ہیں جو آپ نے ربیع الاول شریف کی ایک محفل میں فرمایا جس میں آپ نے ”بسم اللہ“ کی صرف ”ب“ پر کئی گھنٹے بیان فرمایا۔ یہ بیان تحریری طور پر ”حیاتِ اعلیٰ حضرت“ میں لکھا ہوا ہے۔ (فیضانِ اعلیٰ حضرت، ص 456)

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیری مہارت کا ایک شاہکار آپ کا ترجمہ قرآن ”کنز الایمان“ بھی ہے جس کے بارے میں محدث اعظم ہند سید محمد محدث کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: علم قرآن کا اندازہ صرف اعلیٰ حضرت کے اس اردو ترجمہ سے کیجئے جو اکثر گھروں میں موجود ہے اور جس کی مثالِ سابق نہ عربی میں ہے، نہ فارسی میں اور نہ اردو زبان میں ہےاور جس کا ایک ایک لفظ اپنے مقام پر ایسا ہے کہ دوسرا لفظ اُس جگہ لایا نہیں جاسکتا جو بظاہر محض ترجمہ ہے مگر درحقیقت وہ قرآن کی تصحیح تفسیر اور اردو زبان میں قرآن (کی روح) ہے۔

(فیضان اعلیٰ حضرت، ص474)

باقی علم تفسیر پر آپ کی علمیت کا اندازہ آپ کی تصنیفات سے بھی لگایا جاسکتا ہے جو آپ نے علم تفسیر پر تحریر فرمائی ہے۔ ان کتابوں میں سے چند کے نام درج ذیل ہیں: ٭حاشیہ تفسیر بیضاوی ٭حاشیہ تفسیر خازن ٭حاشیہ معالم التنزیل ٭نائل الراح فی فرق الربح و الرباح

٭علم سائنس

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ علم مشرقیہ کے علاوہ علوم قدیمہ وجدیدہ پر گہری نظر رکھتے تھے، علوم جدیدہ ہی میں علم سائنس بھی ہےجس کا نام عصر حاضر میں بڑے ہی فخر کے ساتھ لیا جاتا ہے اور اس کو بڑی قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

علمِ سائنس پر آپ کی بڑی گہری نظر تھی، آپ علم سائنس کو اسلام کی روشنی میں دیکھتے اور پرکھتے تھے، اگر اس کے نظریات اسلام کے مطابق ہوتے تو اُن کو قبول کرلیتے اور اگر اسلامی نظریات کے خلاف ہوتے تو ان کو ٹھکرادیا کرتے تھےاور پھر ان کا رد و ابطال کرتے ہوئے اس موضوع پر اسلامی مؤقف اور نظریہ کو واضح کرتے۔

اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے علم سائنس میں کئی رسائل لکھے ہیں جن میں سے ایک رسالہ ”البیان شافیاً لفونو غرافیاً“ لکھا اس میں گراموفون میں قید کی گئی آوازوں کے سننے اور ان پر عمل کرنے کے احکام واضح کئے گئے ہیں۔ اسکے علاوہ اعلیٰ حضرت کی علم سائنس پر چند تصانیف کے نام یہ ہیں: الکلمۃ الملھمۃ فی الحکمۃلوھاء فلسفۃ المشئمۃ“، ” فوز مبین در حرکت زمین‘‘، ’’معین مبین بہر دورشمس و سکون زمین‘‘۔

اعلیٰ حضرت کے بارے میں پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبد القدیر خان کے تاثرات:

عظیم پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان بھی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی سائنسی تحقیقات کے معترف ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنے تاثرات کا اظہار بھی فرماتے رہتے ہیں، آپ نے ’’روزنامہ جنگ‘‘ میں باقاعدہ ایک پورا کالم ’’فقید المثال مولانا احمد رضا خان بریلوی‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا جس میں آپ اعلیٰ حضرت کی علمی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی نے لاتعداد سائنسی موضوعات پر مضامین و مقالے لکھے ہیں۔ آپ نے تخلیقِ انسانی، بائیوٹیکنالوجی و جنیٹکس، الٹراساؤنڈ مشین کے اصول کی تشریح، پی زوالیکٹرک کی وضاحت، ٹیلی کمیونیکشن کی وضاحت، فلوڈ ڈائنامکس کی تشریح، ٹوپولوجی (ریاضی کا مضمون)، چاند و سورج کی گردش، میٹرالوجی (چٹانوں کی ابتدائی ساخت)، دھاتوں کی تعریف، کورال (مرجان کی ساخت کی تفصیل)، زلزلوں کی وجوہات، مد و جزر کی وجوہات، وغیرہ تفصیل سے بیان کی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا احمد رضا خان بریلوی اپنے دور کے فقیہ، مفتی، محدّث، معلم، اعلیٰ مصنف تھے۔ (روزنامہ جنگ، 5دسمبر 2016)

اسکے علاوہ فقہ کے ضمنی مسائل کے اندر علوم عقلیہ کی تشریحات میں اعلیٰ حضرت کی مکمل دسترس کا ثبوت ملتا ہےمثلاً: پانی کا رنگ ہے یا نہیں؟، برف کے سفید ہونے کا سبب؟، معدنیات میں 4 قسمیں ناقص ترکیب ہیں، گندھک نر ہے یا مادہ، مٹی کے اقسام اور انکی درجہ بندی وغیرہ۔

٭علم توقیت

امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ کےمتعلق مفتی ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ہیئت و نجوم میں کمال کے ساتھ ”علم توقیت“ میں کمال توحدِ ایجاد کے درجہ پر تھا۔ یعنی اس فن کا موجد (ایجاد کرنے والا) کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ علماء نے جستہ جستہ اس کو مختلف مقامات پر لکھا ہے لیکن میرے علم میں کوئی مستقل کتاب اس فن میں نہ تھی۔ اس لئے جب میں نے اور میرے ساتھ چند جید علمائے کرام نے اس فن کو حاصل کرنا شروع کیا تو کوئی کتاب ان فن میں نہ تھی جس کو ہم لوگ پڑھتے۔

اسی وجہ سے اعلیٰ حضرت خود ہی اس کے قواعد زبانی ارشاد فرماتے ۔ اسی کو ہم لوگ لکھ لیتے اور اسی کے مطابق عمل کرکے اوقاتِ نصف النھار، طلوع، صبح صادق، عشاء، ضحوۂ کبریٰ، عصر نکالتے۔ پھر میں ان سب کو ایک کتاب میں جمع کرکے اس کا نام الجَواہِر والیواقیت فی علم التوقیت معروف بہ توضیح التوقیت رکھا۔ (حیات اعلیٰ حضرت از مولانا ظفر الدین بہاری مطبوعہ مکتبہ نبویہ لاہور ص244)

اس فن پر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ نے ”درأ القبح عن درک الصبح، تاج توقیت، کشف العلۃ عن سمت القبلۃ، سر الاوقات، الانجب الانیق فی طریق التعلق سمیت 15سے زائدکتابیں تحریر کی ہیں۔

٭فتاویٰ رضویہ

فتاویٰ رضویہ کا تعارف:اس بے مثال علمی شاہکار کا نام امام ِاہلِ سنت علیہ الرحمۃ نے اَلْعَطَایَا النَّبَوِیَّہ فِی الْفَتَاوی الرضَوِیَّہرکھا ہے، جو جدید تحقیق و تخریج کے ساتھ شائع ہونے کے بعد تقریباً 22ہزار صفحات، 6ہزار847 سوالات و جوابات اور 206 تحقیقی رسائل پر مشتمل ہے۔ جبکہ ہزاروں مسائل ضِمناً زیرِ بحث آئے ہیں۔( فتاویٰ رضویہ اشاریہ،ص3)

فتاویٰ رضویہ کا مقام:فتاویٰ رضویہ کے بلند علمی مقام کا اندازہ لگانے کے لئے صرف یہی بات کافی ہے کہ اس میں احکامِ شریعت دریافت کرنے والے صرف عوامُ الناس ہی نہیں بلکہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کے بَحرِ عِلْم سے پیاس بجھانے والوں میں ملک و بیرونِ ملک سے تعلق رکھنے والے وقت کے بڑے بڑے علما، فضلا، مفتیان کرام، محدثین، مشاہیر، مصنفین مؤرخین اصحابِ ِطریقت و معرفت، دانشور و وُکَلا حتی کہ مخالفین بھی شامل ہیں، ان تِشنگانِ عِلْم کی تعداد ایک تحقیق کے مطابق 541 بنتی ہے جنہوں نے پیچیدہ مسائل میں غور و خوض کرنے کے بعد ان مسائل کے کافی و شافی حل کے لئے امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے رابطہ کیا اور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ نے انہیں تحقیقی اور تسلِّی بخش جوابات عنایت فرمائے ۔اگر فتاویٰ رضویہ غیرمخرجہ کی 9 جلدوں میں دریافت کئے گئے اِستفتا کی تعداد کو دیکھا جائے تو وہ 4095 ہے، جس میں سے 3034 عوامُ الناس کے اِستفتا ہیں جبکہ 1061اِستفتا علمائے کرام نے بھیجے ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ سے سوال کرنے والوں میں ایک چوتھائی تعداد صرف علما و دانشوروں کی ہے۔ (فتاویٰ رضویہ،ج1،ص16)

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے صرف فقہ کے موضوع پر 200 سے زائد کتب و رسائل تحریر فرمائے ہیں جن میں حاشیہ فتاوٰی عالمگیری، جدالممتار علی رد المختار، حاشیہ مراقی الفلاح، حاشیہ فتح القدیر لابن الہمام، حاشیہ فتاویٰ بزازیہ اور نوٹ (کرنسی) کے متعلق مسائل شامل ہے۔

ان علوم کے ساتھ ساتھ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ منطق، شاعری، علم الانساب، اسماء الرجال، علم الحساب، نثر نگاری، میں بھی مہارت رکھتے تھے، آپ کے ہم عصر علما فرماتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ بعض علوم کو اس طرح بیان کرتے تھے گویا کہ آپ خود ہی اس علم کے بانی ہوں۔

اللہ پاک کی ان رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ آمین


عشقِ رسول لازوال اور بہت بڑی نعمت ہے،جن کےدل محبّتِ رسول سےسرشار ہوتے ہیں ان کی روح بھی اس کی مِٹھاس کومَحسُوس کرتی ہے،ان کی زِنْدَگیاں جہاں اس پاکیزہ مَحبَّت سےسنورتی ہیں وہیں یہ مَحبَّت تاریکی میں اُمِّید کا چراغ بن کر انہیں راہِ حَق سے بھٹکنے سےبھی بچاتی ہے،محبت طبیعت کا کسی لذیذ شے کی طرف مائل ہوجانے کو کہتےہیں اور جب یہ میلان مضبوط اورشدید ہوجائے تو اسے”عشق“ کہتے ہیں۔ (احیاء العلوم، 5/6)یادرکھئے!اس دنیا میں کئی خوش نصیب ہستیاں ایسی گزری ہیں جن کی زندگیاں عشقِ رسول کا نمونہ تھیں،ان خوش نصیب ہستیوں میں 13 ویں صدی کے آخر میں ہند کےشہر بریلی میں پیدا ہونے والے ایک عاشقِ رسول جوسر سے پاؤں تک عشقِ رسول کا نمونہ تھے،اس خوش نصیب عاشقِ رسول کانام احمدرضاتھا،اس بات میں شک نہیں کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان اپنے وقت کے بہت بڑے عاشقِ رسول تھے،اعلیٰ حضرت کی پوری زندگی عشقِ رسول میں گزری ہے۔آپ گفتگو فرماتے تو الفاظ کی صورت میں عشقِ رسول کےجام پلاتے،آپ قلم اُٹھاتےتوتحریرکی صورت میں عشقِ رسول کوفروغ دیتےنظرآتےگویا کہ آپ کی زندگی کاایک ایک لمحہ عشقِ رسول کےجام پینےاور پِلانے میں صرف ہوا ہے۔ آپ کی شاعری آپ کےعشقِ رسول کاصحیح پتہ دیتی ہے،آپ اپنے عشقِ رسول کا اظہار بھی شعر میں یو ں ظاہر کرتے ہیں :

اِنہیں جانا اِنہیں مانا نہ رکھا غیر سےکام

لِلّٰہِ الحمد میں دُنیا سے مسلمان گیا

آپ کاعشقِ رسول اس درجۂ کمال پرتھا کہ آج سو سال سےز یادہ عرصہ گزرنے کے باوجودبھی اعلیٰ حضرت کے لکھے ہوئے اشعار جہاں پڑھےجائیں سننے والےاپنے دلوں میں عشقِ رسول کی تڑپ کو مزید بڑھتا ہوامحسوس کرتے ہیں۔ ان کے دل جھوم اٹھتے ہیں اور بِلا اختیار زبان سے سبحان اللہ کی صدائیں نکلتی نظر آتی ہیں۔آپ نے اپنے نعتیہ دیوان حدائقِ بخشش میں کئی مناظرِ قدرت کوعشقِ رسول میں ڈوب کر عشقی رنگ میں سمجھایا ہے۔ ان مناظر میں سے ایک سورج بھی ہے۔ یہ سورج ہے جو تمام جہاں کو اپنے نور سے روشن کررہا ہے، یہی سورج ہےجو ہزاروں سال سےدنیا کوجگمگا رہا ہےمگراس کانورکم نہیں ہورہا۔ یہی سورج ہےجوہر روز آ کر نور کی خیرات بانٹتاہے۔ یہی سورج ہے کہ جس کے طلوع وغروب ہونے سےدنیا کانظام چل رہا ہے،اس سورج کو کائنات کےمناظرمیں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔امام احمدرضاخان کی عشق کی کتاب میں اس سورج کی حقیقت کیاہے،ملاحظہ کیجئے: چنانچہ

میرے امام اعلیٰ حضرت لکھتے ہیں:

جس کو قُرصِ مہر سمجھا ہے جہاں اے مُنْعِمُو!

اُن کے خوانِ جُود سے ہے ایک نانِ سوختہ

(حدائقِ بخشش،ص136)

امام عشق و محبت اعلیٰ حضرت اس شعرمیں فرماتے ہیں کہ اےتاجدارو! اے بادشاہو!سارا جہاں جسےسورج کی ٹکیا کہتا ہے،لوگ جسےآفتاب کہہ کر پکارتے ہیں، جسے سورج کا نام دیا جاتا ہے۔یہی سورج اوریہی آفتاب، جانِ عالم، نورِ مجسم کے دستر خوان کی جلی ہوئی روٹی ہے، ذرا سوچوکہ جس کریم آقا،مدینے والےمصطفےٰ ﷺ کے دسترخوان کی جلی ہوئی روٹی سے کائنات کا گزارہ ہو رہا ہے تو ان کے دستر خوان کی وہ روٹیاں جوجلن سےمحفوظ ہیں، ان کا کیا حال ہوگا اور جس محبوب کی جلی ہوئی روٹی کی طرف دیکھنے سے آنکھیں چُنْدِھیا جاتی ہیں، اس کے اپنے چہرۂ مبارک کے انوار کا عالم کیا ہوگا؟ ۔کسی شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے:

قدموں میں جبیں کو رہنے دو چہرے کا تصوّر مشکل ہے

جب چاندسے بڑھ کر ایڑی ہے تو رُخسار کا عالَم کیا ہوگا

چاند اور تخیلاتِ رضا

عاشق مزاج شاعراپنےمحبوب کےحُسن کو ،محبوب کی خوبصورتی کو،محبوب کی دلکشی کواور محبوب کی رنگت کو چاند سےتشبیہ دیتے ہیں مگر جس طرح اعلیٰ حضرت نے چاند کو نعتِ محبوب کے لئے استعمال کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:

برقِ اَنگُشْتِ نبی چمکی تھی اُس پر ایک بار آج تک ہے سِینۂ مہ میں نشان ِ سوختہ

(حدائقِ بخشش، ص136)

اعلیٰ حضرت اس شعر میں فرماتےکہ نبی کریم کےمبارک ہاتھ کی نورانی انگلی ایک مرتبہ چمک کر چاند پر پڑی مگر آج تک چاند کے سینے میں جلن کا نشان موجود ہے۔

پھر ایک اور شعر میں چاندکو یہ داغ مٹانےکاطریقہ بھی بتاتے ہیں،چنانچہ” قصیدۂ معراج“ میں فرماتے ہیں:

سِتَم کِیا کیسی مَت کٹی تھی قمر! وہ خاک اُن کے رہ گُزر کی

اُٹھا نہ لایا کہ مَلتے مَلتے یہ داغ سب دیکھتا مٹے تھے

(حدائقِ بخشش، ص232)

یعنی اے چاند تمہاری عقل کو کیا ہوا کہ اتنا بڑا ستم کر بیٹھے، جب معراج کی رات آقا کریم،رسولِ عظیم ﷺ آسمانوں کی سیر کے لئے تشریف لائے تھے تو ان کے رہ گزر کی خاک لے جاتے اور اپنے داغوں پر ملتے رہتے۔ تمہارا اس خا ک کو ملنا تھا کہ تمہارے سارے داغ ختم ہو جاتے۔

ایک اور جگہ اعلیٰ حضرت اس چاند کو رسولِ کریمﷺ کے بچپنے کا کھلونا قرار دیتےہیں جس میں اس حدیثِ پاک کی طرف اشارہ ہےکہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نےعرض کی:یارسول اللہﷺ!مجھے تو آپ کی علاماتِ نبوت نے دِینِ اِسلام میں داخل ہونے کی دعوت دی تھی۔میں نےدیکھا کہ آپ گہوارے(پنگھوڑے)میں چاند سےباتیں کرتےاور اپنی اُنگلی سےجس طرف اشارہ فرماتے چانداُسی طرف جھک جاتا۔(جمع الجوامع، 3/212، حدیث:8361)اس روا یت کو پڑھ کر بریلی کے امام اعلیٰ حضرت نے قلم اٹھا یا اور اپنےعشق کو اس شعر میں یوں بیان کیا:

چاند جھک جاتا جِدھر اُنگلی اٹھاتے مَہد میں

کیا ہی چلتا تھا اشاروں پر کھلونا نور کا

(حدائقِ بخشش، ص249)

ایک اور مقام پر اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں :

ماہِ مدینہ اپنی تجلّی عطا کرے!

یہ ڈھلتی چاندنی تو پہر دو پہر کی ہے

(حدائقِ بخشش، ص202)

یعنی ایک آسمانوں کا چاند ہےاور ایک مدینےکا چاند ہے۔آسمانوں کا چاند بھی روشنی بکھیرتا ہے مدینے کا چاند بھی نور کی خیرات بانٹتا ہے، آسمانوں کا چاند جو روشنی دیتا ہے وہ ایک دو پہر تک کے لئے ہوتی ہے جبکہ مدینے کا چاند اگر نور کی جھلک بھی عطا فرما دےتو دنیا و آخرت دونوں روشن ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے ایک اور مقام پر نور کی خیرات لینے کے لئے عرض کرتےہیں:

چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے

مِرا دِل بھی چمکا دے چمکانے والے

(حدائقِ بخشش، ص158)

چودھویں کا چاند اور طیبہ کا چاند

حدیثِ پاک میں ہےصحابی رسول،حضرت جابر بن سَمُرہ فرماتے ہیں:ایک مرتبہ میں نےرسول الله کو چاندنی رات میں سُرخ(دھاری دار) حُلّہ پہنے ہوئےدیکھا،میں کبھی چاندکی طرف دیکھتا اورکبھی آپ کےچہرۂ اَنورکو دیکھتا،تو مجھےآپ کا چہرہ چاند سے بھی زِیادہ خُوبصُورت نظر آتا تھا ۔ (ترمذی ، ۴/۳۷۰، حدیث:2820)

امام عشق و محبت ، اعلی حضرت نے اس حدیث کو اپنے ان اشعار میں یوں بند کیا کہ

خُورشید تھاکِس زور پر

کیا بڑھ کے چمکا تھا قمر

بے پردہ جب وہ رُخ ہوا

یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

(حدائقِ بخشش، ص110)

یعنی اعلی حضرت اس شعرمیں فرماتے ہیں کہ عین دوپہر کے وقت سورج اپنےعروج پر ہو، پھر رات ہو جائے اور چاند اپنے جوبن پرآجائے، ایسے میں جانِ عالَم کا رُخِ انور پردے سے باہرآئے تو سورج بھی شرما جائے گا، چاند بھی آنکھیں چُرائے گا اور منہ چھپائے گا کیونکہ جیسے میرے سرکار ہیں ایسا نہیں کوئی۔

حضورنبی کریم ﷺ کو اللہ عزوجل نے بے مثل و مثال بنایا ہے آپ جیسا نہ آپ سے پہلے کوئی ہوا اور نہ قیامت تک ہو گا، بلکے انسان تو انسان اللہ کریم کے فرشتوں کا بھی یہی کہنا ہے جسے امام عشق و محبت نے اپنے ان اشعار میں بیا ن فرمایا:

یہی بولے سدرہ والے

چمن جہاں کے تھالے

سبھی میں نے چھان ڈالے

تیرے پائے کا نہ پیایا

تجھے یک نے یک بنایا

یعنی سدرۃ المنتہی کے تمام فرشتے بمع تمام فرشتوں کے سردار سیدنا جبریل امین علیہ السلام بیک زبان ہو کر عرض کرتے ہیں کہ ہم نے پورے جہان کوچھان ڈالالیکن آپ جیسا کوئی نہیں پایا،اس شعر میں اس حدیث مبارکہ کی طرف اشارہ ہے کہ سیدنا جبریل امین حضور کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں :قلبت مشارق الا رض و مغاربھافلم اجد رجلا افضل من محمد۔گویا جبریل امین عرض کرتے ہیں میں نے سارا جہان پھرا ہے ،بڑے بڑے حسین دیکھے لیکن آپ جیسا حسین و افضل کوئی نہیں دیکھا۔(معجم اوسط،4/ 373 ،حدیث:6285)

اے عاشقانِ اعلیٰ حضرت!ان اشعار کو پڑھ کر یوں لگتاہے واقعی اعلیٰ حضرت سچے عاشقِ رسول تھے، بلکہ عاشقانِ رسول کے قافلے کے سپاہ سالار تھے، اعلیٰ حضرت ساری زندگی عشقِ رسول کےجام پلاتے رہے، اعلیٰ حضرت ساری زندگی عشقِ رسول کو فروغ دیتے رہے، اعلیٰ حضرت ساری زندگی اُمّت کو عشقِ رسول کا درس دیتے رہے اور یہ اسی عشقِ رسول کا صلہ تھا کہ نبی کریم،رؤف رحیم نے اپنے اس عاشقِ صادق کو حالتِ بیداری میں اپنا رخِ والضحی دیکھاکر اپنی زیارت سے مشرف فرمایا۔ یادرکھئے! عشقِ رسول صر ف نعرے لگانے سے یا محبت رسول کے دعوے کرنے سے نہیں بلکے اپنے کردار کو فرامینِ مصطفےٰ اور سنت ِمصطفےٰ کے سانچے میں ڈھالنے سے نصیب ہوگا۔ آئیے ! عر سِ ا علی حضرت کے موقع پر یہ نیت کرتے ہیں کہ کہ ہم بھی اپنے ظاہرو باطن کو سنّتِ رسول کے سانچے میں ڈھالیں گے ۔ان شاء اللہ۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں بھی اعلیٰ حضرت کے طفیل حقیقی عشقِ رسول عطا فرمائے۔آمین

از:مولانا عبدالجبار عطاری مدنی

المدینۃ العلمیہ (اسلامک ریسرچ سینٹر)

دعوت اسلامی


40ویں سے 41ویں یومِ دعوتِ اسلامی تک کے درمیان ہونے والے

دعوتِ اسلامی کے چند اہم دینی و فلاحی کام

عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کا آغاز شیخِ طریقت ، امیر ِاَہلِ سنّت حضرت علّامہ مولانا محمد الیاس عطّاؔر قادِری رَضَوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے کراچی میں ذُوالقعدۃِ الحرام 1401 ھ مطابق ستمبر1981ء میں اپنے چند رُفَقا کے ساتھ کیا۔ دعوتِ اسلامی نے کم و بیش 40سال کے سفر میں سیاست ، احتجاج اور ہڑتال وغیرہ سے دُور رہ کر مُثبت انداز میں اللہ پاک کے فضل و کرم سے دین کا وہ کام کیا ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ شہرِ کراچی سے شروع ہونے والی دعوتِ اسلامی دیکھتے ہی دیکھتے نہ صرف پورے پاکستان بلکہ دنیا بھر میں جاپہنچی اور آج (2021ء میں) دعوتِ اسلامی کا دینی کام 80سے زائد شعبہ جات کے تحت تقریباً 313 ذیلی شعبوں میں پھیل چُکا ہے۔ دعوتِ اسلامی اب تک ہزاروں مساجد بنا چکی ہے اور مزید سلسلہ جاری ہے۔ بچّوں اور بچیوں (Boys & Girls) کو الگ الگ تعلیمِ قراٰن دینے کے لئے مدارِسُ المدینہ اور فروغِ علمِ دین (عالم و عالمہ کورس کروانے) کے لئے الگ الگ جامعاتُ المدینہ قائم کئے جارہے ہیں۔ لاکھوں حافظ ، قاری ، امام ، مبلغ و معلّم ، عالم اور مفتی تیار کرنے کے ساتھ ساتھ اصلاحِ امّت اور کردار سازی کا پروگرام منفرد اور شاندار انداز میں جاری ہے۔

دعوتِ اسلامی نے تقریباً ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی اصلاح ان کی دینی تربیت کے لئے شعبہ جات قائم کئے ہوئے ہیں ۔ ڈاکٹرزہوں یا وکلا، پروفیسرز ہوں یا لیکچرارز، تاجر حضرات ہوں یا مزدور طبقہ، طلبہ ہوں یا اساتذہ، بچے ہوں یا بڑے، مرد ہوں یا خواتین، مدارس بنانے ہوں یا جامعات قائم کرنے ہوں ، مسجدیں تعمیر کرنی ہوں یا اسلامی اسکولز بنانے ہوں، گونگے بہرے اور اسپیشل افراد ہوں یا جیل میں قیدی ہوں۔ دعوتِ اسلامی نے ہر ممکن کوشش کرنے اصلاحِ امت کا کام کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

جہاں تک فلاحی خدمات کی بات کی جائے تو دعوتِ اسلامی اس میدان میں اپنا کردار بخوبی نبھارہی ہے۔ زلزلہ آئے، سیلاب آجائے۔ شدید بارش سے لوگ پریشان ہوں، بلڈنگ گر جائے، جہاز کریش ہوجائے، کہیں آگ لگ جائے ، تھیلیسیمیا کے مریضوں کو خون دینا ہو یا مستحقین میں راشن بانٹنا ہو، یتیم بچوں کی کفالت کا انتظام کرنا ہو، وطن عزیز کو سرسبز و شاداب کرنا ہو۔ دعوتِ اسلامی اپنی قوت کے ساتھ میدانِ عمل میں قوم کے شانہ بشانہ دکھائی دیتی ہے اور اہلیانِ وطن کو اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں دعوتِ اسلامی ان کے ساتھ ہے۔

ہم اس مضمون میں دعوتِ اسلامی کی ستمبر 2021 سے اگست 2022 تک کے کچھ بڑے بڑے فلاحی، تعلیمی اور تنظیمی کاموں کا تذکرہ کررہے ہیں تاکہ آپ کو یہ آگاہی حاصل ہو کہ دعوتِ اسلامی اپنے پچھلے یوم سے اس سال کے یوم تک ایک سال میں کیا کیا بڑے بڑے کام انجام دے ہیں اور کس کس طرح امت کی خیر خواہی میں اپنا حصہ ملایا ہے۔

دعوتِ اسلامی کی چند فلاحی خدمات

ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے متاثر افراد میں دعوتِ اسلامی کی امدادی سرگرمیاں

پاکستان کے بہت سارے شہر (صوبہ بلوچستان، صوبہ سندھ، جنوبی پنجاب اور KPK کے بعض علاقے ) اس وقت بارشوں اورسیلاب سے شدید متاثر ہیں۔ کئی مکانات منہدم ہوچکے ہیں جبکہ بہت سے مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ گاؤں کے گاؤں،گوٹھ کے گوٹھ تباہ ہوکر صفحۂ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔کھیت کھلیان تباہ ہوچکے ہیں۔ پانی گھروں میں داخل ہونے سے لوگوں کی قیمتی اشیاء ضائع ہوچکی ہیں۔

مصیبت کی اس گھڑی میں دعوتِ اسلامی کے فلاحی شعبے FGRF کے ہزاروں کارکنان دن رات سیلاب زدگان کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔ دعوتِ اسلامی نے سیلابی صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے جو پلان ترتیب دیا ہے اس کے تین حصے ہیں۔ پہلے حصے میں متاثرین کو زندہ رکھنے کے لئے پکا ہوا کھانا، پینے کا صاف پانی ،کیش رقم،راشن، ٹینٹ، زخمیوں کے لئے ابتدائی طبی امداد، لائف جیکٹس، جوتے اور کپڑے وغیرہ تقسیم کئے جارہے ہیں۔

دوسرے مرحلے میں متاثرین کے تباہ شدہ گھروں کی تعمیرات کا سلسلہ کرنا ہے اور تیسرے مرحلے میں ان بے یار و مددگار افراد کے لئے روزگار کی بحالی کرنا ہے۔ترجمان دعوتِ اسلامی و رکنِ شوریٰ حاجی عبدالحبیب عطاری کے مطابق دعوتِ اسلامی اس وقت روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے کی امدادی سرگرمیاں کررہی ہے جبکہ ہزاروں افراد تک پکا ہوا کھانا اور پینے کاصاف پانی پہنچارہی ہے۔

اس موقع پر بانیِ دعوتِ اسلامی علامہ مولانا محمدالیا س عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے تمام عاشقانِ رسول سے اپیل کی ہے کہ ان دکھیاروں کی خوب مدد کریں اور اللہ کی راہ میں خرچ کرکے ثواب کے حقدار بنیں۔

مالی مدد کرنے یا جنہیں امداد درکار ہیں وہ بھی اسی ہیلپ لائن پر کال کرسکتے ہیں۔

ہیلپ لائن نمبر:03152678657

کراچی میں دعوتِ اسلامی کی جا نب سے پہلے مدنی ہوم (یتیم خانے) کا سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا

دعوتِ اسلامی  دینِ متین کی خدمت انجام دینے کے ساتھ ساتھ فلاحی کاموں میں بھی اپنامثالی کردار اداکررہی ہے۔ شجر کاری مہم، بلڈ ڈونیشن مہم اور تھیلیسیمیا فری پاکستان مہم کے بعد اب دعوتِ اسلامی نے ایک اور احسن قدم اٹھایا کہ کراچی میں پہلا یتیم خانہ بنانے کا اعلان کردیا ہے۔ یتیم خانے کا نام امیرِاہلِ سنت علامہ الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ”مدنی ہوم“ رکھا ہے۔

”مدنی ہوم“ 15کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا جائے گا

رواں سال مارچ 2022 ء میں دعوت اسلامی کے شعبہ فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن FGRFکے تحت کراچی کے علاقے نارتھ کراچی کے سیکٹر 5B/3کریلا اسٹاپ پر واقع مدینہ مسجد سے متصل جگہ پر مدنی ہوم (یتیم خانہ ) کی بنیاد رکھ دیا گیا ۔

مدنی ہوم ”یتیم خانے “میں جن بچوں کورجسٹرڈ کیا جائے گا ان میں وہ بچے جن کے والدین یا دونوں میں سے کوئی ایک انتقال کرگئے ہوں ، لاوارث ہوں یا بعض اوقات والدین میں جدائی ہوجاتی ہےاور بچہ کسی سائے کے بغیر رہ جاتا ہے۔یہ مدنی ہوم اس بچے کے لئے گھر ہوگا جہاں اس کے کھانے پینے ، لباس وعلاج کے ساتھ ساتھ زندگی کے بنیادی ضروریات فراہم کی جائے گی ، صرف یہی نہی بلکہ قرآن پاک کی تعلیم ، باصلاحیت بچوں کو عالم و مفتی بنانے کے ساتھ ساتھ عصری علوم بھی تربیت یافتہ لوگوں کے زیر نگرانی دی جائے گی۔

اس کے علاوہ تعلیم دیتے وقت مستقبل میں بچے کے روزگار کو بھی مد نظر رکھا جائے گا۔ دعوت اسلامی کے پلان میں یہ بھی شامل ہے کہ جو بچہ یہاں سے پرورش حاصل کرے گا اسے دعوت اسلامی کے مختلف ڈیپارٹمنٹ میں ترجیحی بنیادوں پرEmployeeبھی رکھا جائے گا تاکہ یہ بچہ باعتماد اور صحت مند شہری کے طور پر ملک و ملت کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکیں۔

یتیم خانے کی پہلی برانچ کراچی میں قائم کی گئی ہے ۔ کراچی کے بعد ملک بھر میں اور پھر بیرونِ ممالک میں بھی یتیم خانے بنائے جائیں گے۔

اس مدنی ہوم کی مکمل تعمیرات کم وبیش 15 کروڑ روپے کی لاگت سے کیا جائے گا۔

امیرِ اہل سنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے یتیم خانے کے قیام میں معاونت کرنے والوں کے لئے دعائیں بھی فرمائی ہیں۔

مدنی کلینک(مدنی ہیلتھ کیئر سینٹر )

دعوتِ اسلامی فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے کہ کہیں وہ سیلاب زدگان کو راشن ودیگر ضروریات زندگی پیش کر رہی ہے تو کہیں وہ صحرائی علاقہ چولستان میں پانی کی قلت سے پریشان حال انسانوں و جانور وں کی مدد کررہی ہے ۔ترقی کی راہ پر گامزن دعوت اسلامی ایک اور مثالی و نہایت احسن قدم اٹھانے جارہی ہے ۔ وہ شاندار قدم یہ ہے کہ دعوت اسلامی اب کراچی میں پہلا مدنی ہیلتھ کیئر سینٹر (مدنی کلینک )کراچی کے علاقے عائشہ منزل میں قائم کررہی ہے ۔جس کا افتتاح 25 صفر المظفر 1444 ھ کو یومِ رضا کے موقع پر کیا جائے گا۔

شعبے کے ذمہ دار و رکنِ شوریٰ کے مطابق ہیلتھ کیئر سینٹر میں ماہر ڈاکٹرز دستیاب ہونگے۔ یہاں مردو خواتین کے لئے الگ الگ، مکمل شرعی پردے کا خیال رکھتے ہوئے ایمرجنسی، گائنی، جنرل امراض (عام بیماریاں)، بچوں کے امراض، آرتھوپیڈک (ہڈیوں، جوڑوں، پٹھوں) کے امراض کا علاج ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کیئر سینٹر میں بڑے ماہر ڈاکٹر کے زیرِ نگرانی علاج ہوگا اور انسانیت کی خدمت کی غرض سے ڈاکٹر کی فیس، ٹیسٹ اور میڈیسنز سمیت فیس صرف اور صرف تین سو سے پانچ سو روپے چارج کی جائے گی۔ یہاں روزانہ کی بنیاد پر 800سے 1200 مریض علاج کرواسکیں گے۔

ری ہیبلیٹیشن سینٹر (Rehabilitation centre)

ایسے بچے جو جسمانی و ذہنی طور پر معذور ہوتے ہیں۔ انہیں پوری توجہ اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ایسے بچوں کی بحالی کے لئے فیضان ری ہیبلیٹیشن سینٹر Faizan Rehabilitation Centre کا قیام عمل میں لایا گیا جس کی پہلی برانچ کراچی کے علاقے شارع فیصل میں قائم کی گئی۔ اس ادارے میں پری اسکول کے نصاب کے ساتھ ساتھ بنیادی تعلیم ،Physical therapy, Occupational therapy Speech therapy, Physiotherapy، Montessori Educationاور ماہر ٹرینرز کی خصوصی توجہ کے ساتھ ان کی تربیت کی جارہی ہے۔

اس ڈیپارٹمنٹ نے اپنی کوشش کو آگے بڑھاتے ہوئے کراچی کے علاقے ملیر میں اپنی دوسری برانچ بھی قائم کردی ہے۔اس برانچ کے آغاز میں افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف شخصیات اور دیگر عہدیداران نے شرکت کی۔

تقریب میں مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن حاجی مولانا عبد الحبیب عطاری نے سنتوں بھرا بیان کیا اور شرکا کو دعوت اسلامی کی خدمات سے آگاہ کرتے ہوئے فیضان ری ہبلی ٹیشن سینٹر کے متعلق بریفنگ دی۔تقریب کے اختتام پر بہترین Performance پیش کرنے والے اسلامی بھائیوں کو Appreciationشیلڈز بھی دی گئیں۔

شجرکاری مہم

Global Warming نے نہ صرف انسان و دیگر مخلوقات کو متاثر کیا ہے بلکہ جس ماحول میں ہم رہ رہے ہیں اسکو بھی بری طرح سے متاثر کیا ہے ۔ گلوبل وارمنگ سے محفوظ رکھنے کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے درخت جیسی نعمت عطا کی لیکن بدقسمتی سے گزشتہ دہائیوں سے ٹیکنالوجی کی اس ترقی یافتہ دنیا میں اسکی تعداد میں کمی آرہی ہے ۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے دنیا کے مختلف ممالک سرکاری سطح پر شجرکاری مہم کرتی ہے ۔ ملک پاکستان کے ایک good citizens ہونے کی حیثیت سے امیر اہل سنت علامہ الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ نے قوم کو ”پودہ لگانا ہے درخت بناناہے “ کا نعرہ دیا اور اس نعرے پر عمل کرتے ہوئے آپ نے ایک ارب پودہ لگانے کا اعلان فرمایا۔

دعوتِ اسلامی کا فلاحی شعبہ FGRF اس ہدف کو پور اکرنے کے لئے یکم اگست 2022 ء کو ملک بھر میں مختلف مقامات پر Plantation Day منایا اور اب تک WWF، فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ ، حکومتی اداروں اور دیگر سیا سی و سماجی شخصیات کے تعاون سے 20 لاکھ سے زائد پودے لگائے جا چکے ہیں اور مزید کوشیشیں جاری ہیں ۔

چولستان میں دعوت اسلامی کے شعبے FGRF کے تحت راشن تقسیم

پنجاب کے شہر بہاولپور پاکستان سے 30 کلو میٹر کے فاصلے پر ایک صحرا واقع ہے جسے چولستان کہا جاتا ہے ، یہاں کے مقامی لوگ بارش کے پانی کو جمع کر کے اپنی ضروریات پوری کرتے اور زندگی گذارتے ہیں لیکن جون 2022 ء میں چولستان میں خشک سالی کیوجہ سے انسان کیا ، جانور تک مررہے تھے ایسے حالات میں 26 جون 2022ء بروز اتوار FGRF دعوتِ اسلامی کے تحت مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی محمد اسد عطاری مدنی نے مولانا ظفرعطاری مدنی (نگرانِ شعبہ جامعۃ المدینہ بوائز) سمیت دیگر ذمہ داران کے ہمراہ چولستان بہاولپورکا دورہ کیا۔

اس دوران رکنِ شوریٰ نے امت کی خیر خواہی کا جذبہ رکھتے ہوئے چولستان میں دعوت اسلامی کے شعبےFGRF کے تحت راشن تقسیم کیا اور انکی امداد کی ، اس شعبے کے تحت کام کرنے والے ذمہ داران کی حوصلہ افزائی کی نیز انہیں اسی طرح اخلاص کے ساتھ دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں کو کرنے کی ترغیب دلائی ۔بعدازاں رکنِ شوریٰ نے مقامی عاشقانِ رسول کے لئے دعا کروائی اور اُن سے ملاقات بھی کی۔

SEP (skills enhancement programes)

دعوتِ اسلامی کا نیٹ ورک تقریباً پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے، دنیا بھر میں دین کا کام کرنے کے لئے ایسے افراد کی ضرورت بھی ہوتی ہے جو مختلف لینگوجز اور سکلز پر مہارت رکھتے ہوں،تاکہ دنیا میں وہ جس جگہ اور جس ملک میں جائیں وہاں دین اسلام کی خدمت کر سکیں ،اس مقصد کے تحت دعوت اسلامی کے شعبہ FGRFکے تحت Skill Enhancement Program ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا ہے اس ڈیپارٹ کے تحت مختلف کورسز (English Language, Graphics Design, Cisco get Connected, Digital Marketing, ) کروائے جارہے ہیں جس کا اہم مقصد یہ ہے کہ ملک و بیرون ممالک کیلئے ایسے مبلغ تیار کئے جائیں جو مختلف زبانوں اور آئی ٹی سکلز پر مہارت رکھتے ہوں اور ان کی Skills کو بڑھاکر پروفیشنل لیول تک لے جایا جائے ۔ تاکہ یہ افراد دنیا بھر میں اپنی خدمات پیش کرکے اپنی معاشی مضبوطی کے ساتھ دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں کو بھی فروغ دے سکیں۔

دعوتِ اسلامی کی چند تعلیمی سرگرمیاں

2021ء میں درسِ نظامی (عالم کورس) مکمل کرنے والے 1040 طلبہ کرام کی دستار فضیلت

دعوت اسلامی کے جامعات المدینہ سے سال 2021ء میں 1040 طلبہ کرام نے درسِ نظامی (عالم کورس) مکمل کرنے کی سعادت حاصل کی۔

اس سلسلے میں کراچی، حیدر آباد، اوکاڑہ، ملتان، فیصل آباد، لاہور، گوجرانوالہ، گجرات اور اسلام آباد میں دستار فضیلت اجتماعات کا انعقاد کیاگیا جن میں نگران شوریٰ حاجی مولانا محمد عمران عطاری، اراکین شوریٰ، مفتیان کرام، علمائے کرام، اساتذۂ کرام، طلبہ اور ان سرپرستوں کے ساتھ ساتھ دیگر عاشقان رسول نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔

عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی میں بھی جامعات المدینہ سے عالم کورس مکمل کرنے والے طلبۂ کرام کی دستار بندی کے سلسلے میں تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب کا آغاز تلاوت قرآن مجید اور نعت رسول مقبول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ہوا۔

شیخ طریقت امیر اہلسنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے طلبہ کرام اور عاشقان رسول سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ روایات کے مطابق علماء انبیائے کرام کے وارث ہیں ، امت کی کشتی علما کے ہاتھ میں ہے لہٰذا طلبہ اپنے اخلاق اور کردار کو ستھرا کریں۔

امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مزید کہنا تھا کہ اللہ پاک علمائے اہلسنت کا سایہ ہمارے سروں پر دراز کرے، علمائے کرام دین کی اہم اساسہ ہیں، عالم بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ اللہ کی صفت عابد نہیں ہے بلکہ اللہ پاک کی صفت عالم ہے، ہر نبی اپنی اپنی قوم میں سب سے بڑے عالم ہوتے ہیں، پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ساری مخلوق میں سب سے بڑے عالم ہیں، عابد اور عالم کا مقام جدا جدا ہے، ہر نبی بے شک عابدبھی تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ زبر دست عالم بھی تھےتو اللہ پاک عابد نہیں ہےبلکہ وہ عالم ہے، اس سے بھی عالم کی فضیلت واضح ہے ، عالم بہت بڑی ہستی کو کہا جاتا ہے۔

اس تقریب میں مرکزی مجلس شوریٰ کے نگران حاجی مولانا محمد عمران عطاری مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی نے بھی سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ درس نظامی ”معرفت الہٰی“ یعنی اللہ پاک کی پہچان کے لئے کرنا چاہیئے ۔ بندے کو جتنی رب کی معرفت ہوتی ہے وہ اسی قدر رب سے ڈرتا ہے۔ کائنات میں سب سے زیادہ معرفت الہٰی آقاکریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو حاصل تھی۔

بیان کے بعد عالمی مدنی مرکزفیضان مدینہ کراچی میں نگران شوریٰ حاجی مولانا محمد عمران عطاری، حاجی مفتی محمد حسان عطاری مدنی، مفتی جمیل عطاری، اراکین شوریٰ حاجی محمد امین عطاری، حاجی محمد علی عطاری، حاجی محمد عقیل عطاری مدنی، مدنی مرکز فیضان مدینہ ملتان میں اراکین شوریٰ حاجی محمد اسلم عطاری، حاجی محمد اسد عطاری مدنی ، مدنی مرکز فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور میں مفتی محمد ہاشم خان عطاری، نگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری، حاجی یعفور رضا عطاری، حاجی محمد جنید عطاری مدنی، مدنی مرکز فیضان مدینہ گوجرانوالہ میں رکن شوریٰ حاجی محمد منصور عطاری ، مدنی مرکز فیضان مدینہ اسلام آباد میں رکن شوریٰ حاجی وقار المدینہ عطاری، اوکاڑہ کے نجی ہال میں رکن شوریٰ حاجی فضیل رضا عطاری، حیدر آباد رانی باغ عید گاہ میں اراکین شوریٰ حاجی اطہر عطاری، حاجی ایاز عطاری، حاجی فارق جیلانی عطاری اور فیصل آباد کے نجی ہال میں اراکین شوریٰ حاجی مولانا عبد الحبیب عطاری، حاجی امین قافلہ عطاری، گجرات میں رکن حاجی محمد اظہر عطاری اور ابوالبنتین حاجی محمد حسان عطاری مدنی، سمیت جامعۃ المدینہ کے اساتذۂ کرام نے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کے سروں پر دستار سجائی۔

اسی طرح 30 اکتوبر 2021ء کو یو کے جامعۃ المدینہ سے درس نظامی مکمل کرنے والے32 طلبہ ٔکرام میں تقسیم اسناد کے لئے جامعۃ المدینہ بریڈ فورڈ یو کے میں دستار فضیلت اجتماع کا اہتمام کیاگیا جس میں جامعۃ المدینہ کے اسٹوڈنٹس، اساتذۂ کرام اور سرپرستوں سمیت دیگر عاشقان رسول نے شرکت کی۔

18 مارچ 2022 ء کو شب براءت کے موقع پر رنگونیا اردشہ باہو مکھی پائلٹ اسکول گراؤنڈ، رنگونیا، چٹا گرام بنگلہ دیش میں عظیم الشان ”دستار فضیلت اجتماع“ کا انعقاد کیا گیا جس میں نگران بنگلہ دیش حاجی رضا عطاری اور ذمہ داران دعوت اسلامی سمیت ہزاروں عاشقان رسول نے شرکت کی۔

دستار فضیلت اجتماع میں جامعۃ المدینہ بوائز بنگلہ دیش سے فارغ التحصیل ہونے والے 58 علمائے کرام کے سروں پر رکن شوریٰ اور سینئر اساتذۂ کرام کے ہاتھوں دستار سجائی گئی۔

عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی میں تقریب تقسیم اسناد اجتماع کا انعقاد

مصر اور نائیجیریا کے شیوخ اور مفتیان کرام کے ہاتھوں 1ہزار 45 حفاظ کو سرٹیفکیٹ پیش کئے گئے

”تقسیم اسناد اجتماع“25 مارچ 2022ء کو عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی میں منعقد ہوا جس میں ہزاروں طلبہ، سرپرست اور دیگر عاشقان رسول نے شرکت کی۔

تقریب میں مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن حاجی مولانا عبد الحبیب عطاری نے”قرآن کی شان“ کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا اور طلبہ کو دینی تعلیم جاری رکھتے ہوئے درسِ نظامی کے لئے جامعۃ المدینہ میں داخلہ لینے کی ترغیب دلائی۔

بیان کے بعد مصر سے تشریف لائے ہوئے مہمان ماہر حدیث و پریکٹیکل سرجنٹ ڈاکٹر شیخ سید یسریٰ جبری حسنی مُدَّ ظِلُّہُ العالی اور نائیجیریا کے سید شیخ قریب اللہ مُدَّ ظِلُّہُ العالی سمیت مفتی محمد شفیق عطاری مدنی مُدَّ ظِلُّہُ العالی ، استاذ الحدیث مفتی محمد حسان عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی ، اراکین شوریٰ حاجی مولانا عبد الحبیب عطاری ، حاجی محمد امین عطاری اور حاجی امین قافلہ عطاری کے ہاتھوں 1ہزار 45 حفاظ کرام کو دستار اور سرٹیفکیٹ پیش کیا گیا۔

واضح رہے کراچی سٹی میں قائم 500 سے زائد مدارس المدینہ سےسال 2021ء میں 1ہزار 45 طلبہ قرآن پاک حفظ کرنے اور 9 ہزار 674 طلبہ نے ناظرہ قرآن پاک مکمل کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔

ملک بھر میں سینکڑوں مقامات پر مدارس المدینہ کے تحت تقسیم اسناد اجتماعات کا انعقاد

حفظ مکمل کرنے والے 8 ہزار 895 اور 44ہزار 691بچوں اور بچیوں کو ناظرہ قرآن پاک مکمل کرنے پر اسناد پیش کی گئیں

27 مارچ 2022ء کو عاشقان رسول کی عالمگیر تحریک دعوت اسلامی کے زیر اہتمام پاکستان کے مختلف شہر وں میں کراچی، فیصل آباد، اسلام آباد، دار السلام ٹوبہ پنجاب، لاڑکانہ سندھ، گلشن راوی لاہور، ملتان، کھرڑیانوالہ، سانگھڑ، ڈیرہ غازی خان،نواب شاہ، بحریہ روڈ سندھ، سکھر، شیخوپورہ، گوجرانوالہ، ملکوال، ظفروال، سیالکوٹ ، پشاور، لیہ اور جہلم سمیت سینکڑوں مقامات پر تقسیم اسناد اجتماعات کا انعقاد کیا گیا جس میں ہزاروں طلبہ، سرپرست اور دیگر عاشقان رسول نے شرکت کی۔

نگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری نے ”قرآن پاک یاد کرنا ہے آسان“ کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا اور قرآن پاک میں بیان ہونے والے واقعات سمیت دیگر امور پر گفتگو کی۔

بیان کے دوران امیر اہلسنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کا آڈیو پیغام بھی سنایا گیا جس میں امیر اہلسنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے بچوں اور ان کےسرپرستوں کو مبارکباد دیتے ہوئے انہیں قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنے اور بچوں کو جامعۃ المدینہ میں داخلے لینے کی ترغیب دلائی۔ اس کے علاوہ امیر اہلسنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے طلبہ کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا۔

اجتماع کے آخر میں سینکڑوں مقامات پر سال 2021ء میں حافظِ قرآن بننے والے 8 ہزار 895 اور تجوید و قراءت کے ساتھ ناظرہ مکمل کرنے والے 44ہزار 691 بچوں اور بچیوں میں اسناد تقسیم کئے گئے۔

واضح رہے پاکستان بھر میں قائم مدارس المدینہ سے اب تک 1لاکھ 9ہزار82 بچے اور بچیاں حفظ کرنے کی سعادت حاصل کرچکے ہیں اس کے علاوہ تجوید و قراءت کے ساتھ ناظرہ قرآن پاک مکمل کرنے والے بچوں اور بچیوں کی تعداد 3 لاکھ 38 ہزار 998 ہے۔ اس کے علاوہ پورے پاکستان میں قائم 4 ہزار 707 مدارس المدینہ بچے اور بچیوں کو قرآن پاک کی مفت تعلیم فراہم کررہے ہیں۔

لاہور میں 2 مقامات پر جامعات المدینہ گرلز کا افتتاح

دنیا بھر کی اسلامی بہنوں کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرنے اور انہیں فرض علوم سکھانے کے لئے دعوتِ اسلامی کے تحت ایسے اداروں کا قیام کیا جاتا ہے جس کے ذریعے اسلامی بہنوں کو دینِ اسلام کے بارے میں عقائد و نظریات بتائے جائیں تاکہ وہ اس حوالے سے معاشرے کے لوگوں کی اصلاح کر سکیں۔اسی سلسلے میں جولائی 2022ء لاہور کے مختلف مقامات پر جامعۃ المدینہ گرلز کا افتتاح کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق 24 جولائی 2022 ء کو رکن شوریٰ حاجی یعفور رضا عطاری جامع مسجد بیت القدس (شفیق آباد، امین پارک، بند روڈ لاہور)، جامعۃ المدینہ گرلز (ابدالی چوک، حیدر روڈ لاہور)اور جامعۃ المدینہ گرلز (آخری بس اسٹاپ، ساندہ روڈ، مزدوروں والا اڈہ لاہور)کا افتتاح کیا ۔ ان مقامات پر افتتاحی تقریب کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں مرکزی مجلس شوری کے رکن حاجی یعفور رضا عطاری و دیگر مقامی لوگوں نے شرکت کی ، افتتاحی تقریب میں رکن شوری نے اپنی بچیوں کے عقائد کی حفاظت کرنے کے لئے جامعۃ المدینہ گرلز میں داخلہ دلوانے کا ذہن دیا جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔

حیدرآباد میں نابینا افراد کے لئے درسِ نظامی (عالم کورس) اور اورنگی ٹاؤن میں سبحانی مسجد میں جامعۃ المدینہ کا افتتاح

اسکے ساتھ ساتھ اسلامی بھائیوں میں نابیناافرادمیں دینی شعور پیدا کرنے اور انہیں اسلامی تعلیمات و عقائد اسلام سے آگاہ کرنے کے لئے 30 جون 2022ء کو سندھ کے شہر حیدر آباد میں نابینا اسلامی بھائیوں کے لئے درسِ نظامی (عالم کورس) کاافتتاح کردیا گیا ۔اس کورس کی مدت کم و بیش 8 سال پر مشتمل ہو گی جس میں طلبۂ کرام کے لئے رہائش کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔

17 جون 2022ء بروز جمعہ اورنگی ٹاؤن کراچی کی جامع مسجد سبحانی میں جامعۃ المدینہ بوائز فیضانِ نورانی کا افتتاح کیا گیا جس میں طلبۂ کرام اور اساتذۂ کرام سمیت کثیر عاشقانِ رسول کی شرکت رہی۔

اس دوران مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی محمد امین عطاری نے کنزالمدارس بورڈ کے رکن مولانا سیّد ساجد عطاری مدنی اور مولانا عارف رضا عطاری مدنی (معاون رکنِ مجلس جامعۃ المدینہ بوائز) کے ہمراہ جامعۃ المدینہ بوائز کا وزٹ کیا نیز رکنِ شوریٰ نے طلبۂ کرام اور اساتذۂ کرام کو مدنی پھولوں سے نوازا۔

سال 2022ء میں دارالمدینہ انٹرنیشنل اسلامک اسکول سسٹم ہند میں 15 مقامات پر نئے کیمپسز کا آغاز

دعوت اسلامی نے بچوں اور بچیوں کو دینی و دنیاوی تعلیم سے آراستہ کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے جس کے لئے دنیا بھر میں ”دار المدینہ انٹرنیشنل اسلامک اسکول سسٹم“ کے کیمپسز قائم کرچکی ہے۔دعوت اسلامی اپنے عہد کو لئے مزید ترقی کی طرف گامزن ہے۔ سال 2022ء میں دارالمدینہ انٹرنیشنل اسلامک اسکول سسٹم ہند میں 15 مقامات پر نئے کیمپسز کا آغاز کرنے جارہا ہے جس کی اپڈیٹ شعبے نے سال کے شروع میں ہی جاری کردی ہے۔

مقامات کے نام درج ذیل ہیں:

٭بریلی شریف (یوپی) ٭نیوریا (یوپی) ٭پیلی بھیت (یوپی) ٭وارانسی(یوپی) ٭کولکتہ ٭جمشید پور ٭اندور ٭ بھروچ ٭پالگر ٭میرا روڈ ٭اورنگ آباد ٭ بلاسپور ٭بنگلور ٭ سنگمنیر ٭حبلی 

ملک بھر میں ”فیضان اسلامک اسکول سسٹم “ کی 50 برانچز قائم کی جاچکی ہیں

بچوں کو منظم انداز میں دینی و دنیا وی تعلیم سے آراستہ کرنے والا دعوت اسلامی کے منفرد شعبے دار المدینہ انٹرنیشنل اسلامک اسکول سسٹم کے تحت ایک ڈیپارٹمنٹ بنام ”فیضان اسلامک اسکول سسٹم“ بھی قائم ہے جس کی برانچز پاکستان کے مختلف شہروں میں کھولی جارہی ہیں۔ان اداروں میں اسٹوڈنٹس کی خوبصورت عمارت، عمدہ کلاسز اور تربیت یافتہ ٹیچرز کی زیرِ نگرانی تعلیمی ، مذہبی اور معاشرتی تربیت کی جارہی ہے۔

اب تک اس شعبے کے تحت پاکستان بھر میں 50 مقامات پر برانچز قائم کی جاچکی ہیں جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

کراچی: (1)شاہ فیصل (2)بلدیہ ٹاؤن (3)ملیر میمن گوٹھ (4)اورنگی ٹاؤن (5) نارتھ کراچی (6)بڑا بورڈ (7)لانڈھی (8) گلشن معمار

اندرون سندھ: (9)لطیف آباد، حیدر آباد (10)گمبٹ (11)ٹھٹھہ (12)سانگھڑ (13)جیکب آباد

بلوچستان: (14)حب (15)خضدار (16)سبی (17)کوئٹہ (18)ڈیرہ اللہ یار (19)اوتھل

پنجاب: (20)صادق آباد (21)میلسی (22)دنیا پور (23)اڈا ذخیرہ (24) میانوالی (25)بورے والا (26)بھاولپور (27)قائد آباد (28)حبیب آباد (29)سیال موڑ (30)پتوکی، قصور (31) شاہ پور، لاہور (32)تاج پور، لاہور (33)جوہر آباد (34)تلہ گنگ (35)سرگودھا،49تیل (36)مٹھہ ٹوانہ (37)چنیوٹ (38)قصور، اطراف  (39)دینہ (40)سنگھوئی (41)جہلم (42) بہر وال (43)کمالیہ (44)راجا جنگ (45)KRK (46)چکوال

کشمیر: (47)افضل پورخیبر پختونخواہ: (48)پشاور (49)ہری پور (50)ڈیر اسماعیل خان

AAOIFIکی بحرین میں عالمی کانفرنس میں دعوت اسلامی کے وفد کی شرکت

اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس کے حوالے سے 15 مئی 2022 ء  کو بحرین میں فندق خلیج Gulf Hotel میں AAOIFI (Accounting and Auditing Organization for Islamic Financial)ادارے کے تحت عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں دنیا کے متعدد ممالک کے ماہرین اسلامی بینکاری نے شرکت کی ۔

دعوت اسلامی کی جانب سے ماہر امور تجارت مفتی علی اصغر عطاری نے اس کانفرنس میں شرکت کی اور بحرین، شام، فلسطین، سوڈان،عرب شریف،افغانستان،عرب امارات اوردیگر ممالک کے ماہرین سےتبادلہ ٔ خیال کیا اور مختلف مسائل پر بات چیت کی نیز آئندہ رابطے میں رہنے اور مختلف دینی مسائل پر تبادلہ خیال کرتے رہنے پر اتفاق کیا۔

اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس کو رس کا انعقاد

معاشی سرگرمیوں اور استحکام کے لئے صنعت و تجارت اور بینکاری نہ صرف ناگزیر ہے ، بلکہ انسان کی اپنی ذاتی معیشت ومالیت میں بھی بینک کا اہم کردار ہے ۔اس وقت لوگوں کا سودی بینکوں کے ظالمانہ نظام سے تنگ آکر اسلامی بینکاری کی جانب روز بروز رجحان بڑھتا جارہا ہے ۔اسلامی بینکاری کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اسلامی بینکاری صرف مسلمانوں تک محدود نہی بلکہ مالیات ومعاشیات کے اسلامی قوانین نے غیر مسلموں کو بھی متاثر کیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج سودی بینکوں نے بھی اسلامی بینکاری کے نام سے ایک ذیلی شعبہ بنا۔یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ اسلامی نظام معیشت قابل عمل ہے اور قابل تقلید بھی۔

انہی ضروریات کے پیش نظر دعوت اسلامی کی شوری مجلس اور مفتیان کرام کے مشوروں سے جامعۃ المدینہ کے زیر اہتمام ”اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس کورس “ شروع کیا گیا ہے ۔2020 ء کی ابتدا میں شروع ہونے والا یہ کورس اب تک 2 بیچ مکمل کرچکاہے ۔

کورس مکمل کرنے پر شرکاء میں تقسیم اسناد کے لئے 27 مارچ 2022 ء کو انسٹیٹیوٹ آف بینکنگ پاکستان کے آڈیٹوریم میں اختتامی تقریب کا اہتمام کیا گیا ۔

تقریب میں نگران شوری مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے شرکاء کو اپنی زندگی اور بالخصوص لین دین میں شریعت کی اطاعت اور حرام سے بچنے کی اہمیت پر گفتگو فرمائی جبکہ اس کورس کے لیکچرار اور رکن مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان ،ماہر امور تجارت مفتی علی اصغر عطاری مدنی نے اس کورس کے اغراض و مقاصد اور آئندہ کے اہداف پر تفصیل سے گفتگو کی ۔

دعوت اسلامی کے شب و روز کو ملنے والی معلومات کے مطابق اس کورس کو مکمل کرنے والے 109 افراد فنانس سے وابستہ پروفیشنلز تھے جو چارٹرڈ اکاونٹینٹ یا MBA کئے ہوئے تھے جبکہ 103 مختلف مدارس کے فارغ التحصیل افراد تھے۔اس کورس میں پاکستان کے مختلف شہر، عرب شریف ،ہند،جرمنی ،ساؤتھ افریقہ اور کینیڈا سے تعلق رکھنے والے پروفیشنلز نے بھی آن لائن شرکت کی۔

انسٹیٹیوٹ آف بینکنگ پاکستان کے آڈیٹوریم میں ہونے والی اختتامی تقریب میں رکن شوری حاجی امین عطاری، جامعات المدینہ کراچی کے نگران مولانا سید ساجد عطاری مدنی، سابق چیئرمین پاکستان اسٹاک ایکسچینج سلیم چامڑیا، GM Finance of P.I.A جاوید منشا، C.D.C Pakistan کے C.E.O بدیع الدین اکبر، K-Electric کے C.F.O عامر غازیانی ، سکرنڈ شوگر مل کے C.F.O شمس غنی، میر پور خاص شوگر مل کے F.C محمد جنید، اکنامسٹ نعمان عبد المجید، "ہیڈ آف لاء ڈویژن اسٹیٹ بینک پاکستان" رضوان نقشندی ، کھاڈی برانڈ کے C.I.O ریحان احمد، "گروپ ہیڈ فنائنس "ویسٹ برائے گروپ محمد حنیف کسباتی، چیئرمین کراچی برانچ ICMA پاکستان عظیم صدیقی اور معروف بلڈر مصطفی شیخانی سمیت کارپوریٹ سیکٹر سے وابستہ افراد اور مختلف بڑی کمپنیوں کے C.F.O اور C.E.O شریک ہوئے۔

اسٹاک ایکسینج میں مطالعاتی دورہ

جامعۃ المدینہ  عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی میں فارغ التحصیل علماء کے لئے ایک تخصص شروع کیا گیا ہے جس میں فقہ اسلامی کے ساتھ ساتھ طلباء کو جدید تجارت و معیشت کے اہم شعبہ جات کا تعارف، بنیادی معلومات اور دور جدید کے فنانس کے اداروں کے طریقہ کار بھی پڑھایا جاتا ہے ۔

اس تخصص کا نام ہے” تخصص فی الفقہ و الاقتصاد الاسلامی(Specialization in Islamic Economics & Jurisprudence)“

اس تخصص میں یومیہ بنیادوں پر کلاسوں کے ساتھ ساتھ کاروباری دنیا کے مختلف ماہرین افراد ہفتے میں دو دن الگ سے کلاسیں لیتے ہیں ۔ کسی بھی تھیوری کو سمجھنے کے لئے مطالعاتی دورہ بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے، اس سلسلے میں اس تخصص فی الفقہ و الاقتصاد الاسلامی کے نگران مفتی علی اصغر عطاری صاحب اور تخصص کے استاد مفتی سجاد عطاری صاحب اور تخصص فی الفقہ و الاقتصاد الاسلامی کے طلباء اور دار الافتاء اہل سنت کے چند علماء نے کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکس چینج (پی ایس ای)اور نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان (این سی سی پی) کا ایک مطالعاتی دورہ کیا۔

اس موقع پر سب سے پہلے نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان (این سی سی پی)کی طرف سے میٹنگ روم میں تفصیلی بریفنگ دی گئی کہ اسٹاک ایکسچینج کس طرح کام کرتا ہے اور کون کون سے اہم شعبہ جات پورے نظام کو کنٹرول کرتے ہیں اور خود نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان (این سی سی پی)کا کیا کام ہوتا ہے؟ اس تعلق سے تفصیلی بریفنگ کے دوران شرکاء کے سوالات اور ان کے جواب کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔

علاوہ ازین نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان (این سی سی پی) کے سی ای او لقمان صاحب نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور مفتی علی اصغر صاحب کو یادگاری شیلڈ پیش کی ۔

اس دورے کے دوسرے مرحلے میں پاکستان اسٹاک ایکس چینج کے آڈیٹوریم میں اسٹاک ایکسچینج کے نظا م، اس کی تاریخ اور موجودہ پوزیشن اور مالکان کے تعلق سے بریف کیا گیا اور آخر میں ٹریڈنگ ہال کا دورہ کراتے ہوئے بروکر ہاوس کس طرح کام کرتے ہیں ؟اس بات پر بھی بریفنگ دی گئی ۔

آخر میں اسٹاک ایکسچینج کے ایک ڈائریکٹر سابق سی پی ایل سی چیف احمد چنائے صاحب سے بھی ملاقات ہوئی ۔

مفتی علی اصغر صاحب کے دورے کے اختتام پر یہ تاثرات تھے کہ ”یہاں تو ہماری توقع سے بڑھ کر سود کا کام ہو رہا ہے اور شریعہ کمپلائنس کمپنیوں میں بھی بہت بہتری کی ضرورت ہے۔ جب تک سودی طریقہ سے دوری نہیں ہوگی مستحکم معیشت کی تشکیل نہیں ہو پائے گی ۔البتہ کچھ چیزیں ایسے بھی دیکھنے کو ملیں جو بہت مثبت تھیں اور علم میں اضافہ ہوا۔“

پنجاب حکومت نے اپنے نصاب میں ”معرفۃ القرآن “ شامل کرلیا

پنجاب گورنمنٹ نے  پنجاب کی تمام یونیورسٹیز کے اندر قرآن مجید کے ترجمے کو نصاب کا لازمی حصہ قراردے دیا گیا ہے۔اسٹوڈنٹس کو کوئی بھی ڈگری قرآن پاک کا ترجمہ پڑھے اور پیپر پاس کئے بغیر نہیں دیئے جائینگے۔

شعبہ پروفیشنلز دعوت اسلامی کی کاوش سے تراجم کی فہرست میں مفتی اہلسنت مفتی محمد قاسم عطاری صاحب مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی کا ترجمہ قرآن ”معرفۃُ القرآن“ کو اس نصاب میں شامل کرلیا گیاہے۔”معرفۃُ القرآن“بہت ہی زبردست اور آسان طریقے سے لکھا گیا ہے اس کا ترجمہ نہایت عمدہ اور پڑھنا بھی آسان ہے ۔

رکنِ شوریٰ حاجی اطہر عطاری نے اپنے ایک آڈیو پیغام میں عاشقانِ رسول کو بتایا ہے کہ مجلس آئی ٹی (دعوتِ اسلامی) بہت جلد اس کتاب کی ایپلی کیشن بھی لاؤنچ کرے گی جس کے باعث سرچنگ اور ریڈنگ میں طلبہ کو بہت آسانی ہوگی۔واضح رہے کہ یہ ”معرفۃُ القرآن“ کو PDF کی صورت سے دعوتِ اسلامی کی آفیشل ویب سائٹ سے بالکل مفت ڈاؤن لوڈ بھی کیا جاسکتا ہے۔

مدنی مرکز فیضان صحابیات

دعوت اسلامی نے جس طرح اسلامی بھائیوں کے لئے مدنی مراکز قائم کئے گئے اسی طرح 2021 ء میں اسلامی بہنوں کے لئے بھی مدنی مراکز قائم کردیئے گئے ، مدنی مرکز کانام امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے ”فیضان صحابیات “ رکھا ہے ۔

اس وقت فیضان صحابیات کی تقریباً 40 برانچیں موجود ہیں اور اس کے تحت مختلف 10 دینی کام ہو رہے ہیں جن کی تفصیل یہ ہے :

1) فیضان صحابیات کے تحت مدرسۃ المدینہ (بالغات)

2) بچیوں کا جز وقتی مدرسۃ المدینہ

3) اسلامی بہنوں کا ہفتہ وار سنتوں بھرا اجتماع ، سیکھنے سکھانے کاحلقہ ، شارٹ کورسز، مکتبۃ المدینہ اور شعبہ روحانی علاج کا بستہ اور دیگر دینی کاموں کا اہتمام کیاجاتاہے ۔

ماہ رمضان المبارک 1443ھ میں دعوت اسلامی کے تحت  پاکستان بھرمیں پورے ماہ کا اجتماعی اعتکاف

دعوت اسلامی کے زیر اہتمام سال 1399ھ بمطابق 1979ء میں نور مسجد کاغذی بازار میٹھا در کراچی سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ الحمدللہ اب دنیا بھر میں پھیل چکا ہےجن میں ہزاروں اسلامی بھائی پورے ماہ کا اجتماعی اعتکاف کرتے ہیں۔

ہر سال کی طرح اس رمضان المبارک 2022ء میں بھی پاکستان بھر میں پورے ماہ کا اجتماعی اعتکاف ہوا ۔ اجتماعی اعتکاف میں نماز پنجگانہ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ تحیۃ الوضو، تحیۃ المسجد، تہجد، اشراق و چاشت، اوابین، صلوۃ التوبہ اور صلوۃ التسبیح کے نوافل بھی ادا کئے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ اجتماعی اعتکاف کرنے والے اسلامی بھائیوں کو وضو، غسل، نماز اور دیگر ضروری احکام سکھائے جاتے ہیں، مختلف سنتیں اور دعائیں یاد کروائی جاتی ہیں۔ افطار کے وقت رِقت انگیز مناجات اور دعاؤں کے پُرکیف مناظر ہوتے ہیں نیز نماز عصر اور تراویح کے بعد شیخ طریقت امیر اہلسنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ مدنی مذاکرے کے مدنی پھول ارشاد فرماتے ہیں جس میں اسلامی بھائی عقائد و اعمال، فضائل و مناقب، شریعت و طریقت، تاریخ و سیرت اور دیگر موضوعات سےمتعلق سوالات کے ذریعے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔

اس سال رمضان المبارک 2022ء میں جن جن مقامات پر پورے ماہ کا اعتکاف ہوا ان کی تفصیلات ملاحظہ کریں:

سندھ: ٭عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی ٭فیضان مدینہ آفنڈی ٹاؤن حیدر آباد ٭فیضان مدینہ عطار ٹاؤن میر پور خاص ٭فیضان مدینہ عمر کوٹ ٭فیضان مدینہ گلشن مدینہ نواب شاہ ٭فیضان مدینہ بیراج روڈ سکھر ٭فیضان مدینہ لاڑکانہ ٭فیضان مدینہ بھمبھور بدین

بلوچستان: ٭فیضان مدینہ نصیر آباد ڈیرہ اللہ یار ٭فیضان مدینہ کوئٹہ ٭فیضان مدینہ رخشان خاران ٭فیضان مدینہ لورالائی رکنی ٭فیضان مدینہ مکران گوادر

بہاولپور: ٭فیضان مدینہ خان پور ٭فیضان مدینہ خانقاہ ٭فیضان مدینہ بہاولپور ٭فیضان مدینہ بہاول نگر

ملتان: ٭فیضا ن مدینہ انصاری چوک ٭فیضان مدینہ پھاٹک لودھراں ٭فیضان مدینہ بورے روڈ نزد سپیریئر کالج وہاڑی ٭فیضان مدینہ خانیوال

ڈی جی خان:٭فیضان مدینہ لیہ ٭فیضان مدینہ ڈی جی خان ٭فیضان مدینہ جام پور ٭فیضان مدینہ روہیلانوالی

سرگودھا: ٭فیضان مدینہ سرگودھا ٭فیضان مدینہ میانوالی ٭فیضان مدینہ خوشاب ٭فیضان مدینہ بھکر

فیصل آباد: ٭فیضان مدینہ فیصل آباد مدینہ ٹاؤن ٭فیضان مدینہ جڑانوالہ ٭فیضان مدینہ گوجرہ ٭فیضان مدینہ چنیوٹ ٭فیضان مدینہ مدن شاہ جھنگ

ساہیوال: ٭فیضان مدینہ ساہیوال ٭فیضان مدینہ اوکاڑہ ٭فیضان مدینہ پاکپتن ٭فیضان مدینہ عارف والا

لاہور: ٭فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ٭فیضان مدینہ کاہنہ نو ٭فیضان مدینہ قصور ٭فیضان مدینہ چونیاں ٭فیضان مدینہ ننکانہ ٭فیضان مدینہ شیخوپورہ ٭کوٹ رادھا کشن ٭پھول نگر

گوجرانوالہ:٭فیضان مدینہ گوجرانوالہ ٭فیضان مدینہ سیالکوٹ ٭فیضان مدینہ گجرات ٭فیضان مدینہ نارووال ٭فیضان مدینہ منڈی بہاؤ الدین ٭فیضان مدینہ حافظ آباد

راولپنڈی: ٭فیضان مدینہ ڈھوک فتح اٹک ٭فیضان مدینہ جہلم ٭فیضان مدینہ چکوال

کشمیر: ٭فیضان مدینہ میر پور ٭فیضان مدینہ مظفر آباد ٭فیضان مدینہ پونچھ باغ

خیبر پختونخواہ: ٭فیضان مدینہ ڈیرہ اسماعیل خان ٭فیضان مدینہ مانسہرہ ٭فیضان مدینہ لکی مروت بنوں ٭فیضان مدینہ اسبنڈ مالاکنڈ ٭مسجد دربار پیر بابا بونیر مالاکنڈ ٭فیضان مدینہ پشاور

گلگت: ٭فیضان عبد الرحمن بن عوف مسجد گوری کوٹ

اسلام آباد: ٭فیضان مدینہ اسلام آباد جی 11

دعوتِ اسلامی کی چند دینی خدمات

مڈ لینڈ سٹی ڈڈلی ، یو کے میں غیر مسلموں کی عبادت گاہ کوخرید کر مسجد میں تبدیل کردیا گیا

یوکے ویسٹ مڈلینڈ کے سٹی ڈڈلی Dudleyمیں عاشقان رسول کی دینی تحریک دعوت اسلامی کا شعبہ خدام المساجد والمدارس کے تحت غیر مسلموں کی عبادت گاہ کی جگہ خرید کر اس جگہ پر مسجد کے تعمیراتی کاموں کا آغاز کیا گیا تھا جو کچھ عرصے میں عالی شان مسجد بن کر تیار ہوگئی اس کا نام شیخ طریقت امیر اہلسنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے ”فیضان فاروق اعظم“ رکھا۔

اس مسجد کا افتتاح نماز جمعہ پڑھاکر کیا گیا۔ جمعہ کی نماز سےقبل سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف شعبے سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور دیگر عاشقان رسول سمیت ذمہ داران دعوت اسلامی نے شرکت کی۔

نگران ویلز حاجی سید فضیل رضا عطاری نے سنتوں بھرا بیان کیااور دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب دلائی۔اجتماع کے بعد مسجد میں پہلی اذان دی گئی اور پہلی نماز بھی ادا کی گئی۔ آخر میں نگران ویلز نے اسلامی بھائیوں سے ملاقات بھی کی۔

افتتاحی تقریب میں شریک حضرت مولانا میر مصباحی صاحب مُدَّ ظِلُّہُ العالی ، حضرت مولانا نیاز احمد مصطفوی مُدَّ ظِلُّہُ العالی اور کونسلر شوکت علی نے دعوت اسلامی کو مبارکباد دی اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دعائیں کیں۔

ترکی کے شہر استنبول میں مدنی مرکز فیضان مدینہ افتتاح کردیا گیا

دنیا بھر میں قرآن و سنت کو عام کرنے والی عاشقان رسول کی عالمگیر دینی تحریک دعوت اسلامی دن دُگنی ، رات چگنی ترقی کی منازل طے کررہی ہے اور دنیا بھر میں مساجد کے ساتھ ساتھ مدنی مرکز فیضان مدینہ بھی بنا رہی ہے اسی سلسلے میں ترکی کےشہر استنبول میں 4 مارچ 2022 ء جمعے کے مدنی مرکز فیضان مدینہ کا افتتاح کیا گیا ۔

عظیم الشان مدنی مرکز کے افتتاح کی تقریب جمعہ کے دن رکھی گئی جس میں خصوصی شرکت کے لئے پاکستان سے جانشینِ امیر اہلسنت حاجی مولانا عبید رضا عطاری مدنی مُدَّ ظِلُّہُ العالی ، مرکزی مجلس شوریٰ کے نگران مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی اور ترجمان دعوتِ اسلامی و رکن شوریٰ حاجی مولانا عبد الحبیب عطاری ترکی استنبول پہنچے۔

نمازجمعہ سے قبل افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس میں حاجی عبد الحبیب عطاری نے تلاوت قرآن مجید کی اور بارگاہ رسالت مآب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں ہدیۂ نعت پیش کیا جس کے بعد مرکزی مجلس شوریٰ کے نگران حاجی مولانا محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے سنتوں بھرا بیان فرمایا ، جانشینِ امیر اہلسنت حاجی مولانا عبید رضا عطاری مدنی مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے خطبۂ جمعہ دیا اور جمعہ کی نماز پڑھائی۔

ترکی کے شہر استنبول، انطاکیہ اور غازی انتاب کے بعد ایک اور شہر اڈنی میں بھی مدنی مرکز فیضان مدینہ قائم کیا گیا ۔

اس مدنی مرکز کے افتتاح کے سلسلے میں حضرت مولانا الشیخ عبد العزیز سبک شافعی حفظہ اللہ، حضرت مولانا الشیخ عبد الرزاق جنیدی شافعی حفظہ اللہ، حضرت مولانا الشیخ مرھف الھواس شافعی حفظہ اللہ سمیت دیگر علمائے کرام، مختلف شخصیات، مقامی تاجران، بزنس مین اور دیگر اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔ان مدنی مراکز میں درسِ نظامی ( عالم کورس)کے لئے جامعۃ المدینہ، حفظ و ناظرہ کے لئے مدرسۃ المدینہ اور دعوت اسلامی کے دیگر شعبہ جات کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

تین سال کے قلیل عرصے میں ملاوی کے مختلف گاؤں میں 14 مدنی مراکز قائم کئے جاچکے

دعوت اسلامی کے تحت  BCA, Blantyre Malawi میں ایک ادارہ بنام مدرسۃ المدینہ قائم ہے جو طلبہ اور کمیونٹی کو اسلامی تعلیم فراہم کررہا ہے۔ اس ادارے کے ساتھ ہی فیضان مدینہ، جامعۃ المدینہ اور دار المدینہ بھی قائم کی جارہی ہےجس کے سلسلے میں تعمیراتی کاموں کا آغاز ہوچکا ہے۔ دعوت اسلامی کی جانب سے تین سال کے قلیل عرصے میں ملاوی کے مختلف گاؤں میں 14 مدنی مراکز قائم کئے جاچکے ہیں۔

نگران ویلز یوکے حاجی سید فضیل رضا عطاری نے نگران ملاوی مولانا عثمان عطاری مدنی اور پاکستان سے تشریف لائے ہوئے FGRF کے ذمہ دار محمد اسد عطاری سمیت دیگر اسلامی بھائیوں کے ہمراہ ان مقامات کا وزٹ بھی کیا ۔

صوبۂ سندھ کے شہر ٹنڈالٰہ یار میں 26 غیر مسلموں کا قبول اسلام

مبلغ دعوت اسلامی نے انہیں کلمۂ طیبہ پڑھا کر اسلام میں داخل کیا اور اسلام کی چند ضروری باتیں بتائیں

دعوت اسلامی دین اسلام کی ایک واحد منظم عالمگیر و غیر سیاسی تحریک ہے جو دنیا بھر میں تبلیغ دین کے لئے کوشاں ہے۔ اس تحریک کے مبلغین علم دین کی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے دنیا کے کونے کونے میں سفر کرتے ہیں ۔ ان مقامات پر نہ صرف دینی تعلیمات کو عام کیاجارہا ہے بلکہ غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت بھی پیش کی جارہی ہے جس کی بدولت غیر مسلم اپنے سابقہ مذہب سے تائب ہوکر دین حق  ”اسلام“ کو قبول کر کے دامن مصطفٰے ﷺ کے سائے میں آرہے ہیں۔

اسی سلسلے میں جولائی 2022ء کو شعبہ فیضان اسلام کے پاکستان سطح کے ذمہ دار اور حیدرآباد کے صوبائی ذمہ دار نے دینی کاموں کے سلسلے میں صوبۂ سندھ کے شہر ٹنڈو الٰہ یار کا دورہ کیا جہاں انہوں نے غیر مسلموں پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے انہیں نیکی کی دعوت پیش کی جس پر وہاں موجود کم و بیش 26 غیر مسلموں نے اسلام قبول کر لیا۔

اس دوران ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے انہیں کلمۂ طیبہ پڑھا کر اسلام میں داخل کیا اور اُن کے نام رکھے نیز اسلام قبول کرنے والے اسلامی بھائیوں کو دینِ اسلام کی چند ضروری باتیں بیان کیں۔

افریقہ میں 35 افراد کلمہ طیبہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے

دعوت اسلامی کے ذمہ داران نہ صرف سندھ پاکستان میں ہی دین اسلام کی خدمت میں مصروف عمل ہیں بلکہ بیرون ملک دور دراز علاقوں میں بھی دین کے کام کو ایک منظم انداز کے ساتھ پیش کررہے ہیں اسی سلسلے میں دعوت اسلامی کے ایک مبلغ مولانا عثمان عطاری مدنی نے دیگر ذمہ داران کے ہمراہ یوٹالی گاؤں، بالاکا ضلع، ملاوی افریقہ میں مقیم ہیں اور وہاں کے لوگوں میں دین اسلامی کی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ، اور اب تک تقریبا 35 افراد کلمہ طیبہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔الحمد اللہ

عاشقان رسول کی دینی تحریک دعوت اسلامی اس مقام پر نیو مسلم اسلامی بھائیوں کی دینی تربیت کے لئے مسجد و مدارس بھی قائم کررہی ہے جس کی تعمیرات کا آغاز انشاء اللہ عَزَّوَجَلَّ  کردیا گیا ہے۔


دِل جیتنے کے 10 سنہرے اصول

Thu, 25 Aug , 2022
41 days ago

اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّـلٰوةُ وَالسَّـلَامُ عَلٰی سَیِّدِالْمُرْسَـلِیْن ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط

دس رحمتیں نازل ہوں گی

رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشا دفرمایا:مَنْ صَلّٰی عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا یعنی جو مجھ پر ایک بار دُرُود پڑھے،اللہ پاک اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا ۔ (مسلم،ص172،حدیث:912)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

دِل جیتنے کے 10 سنہرے اصول

نیک ،اچھے اور کامیاب لوگوں کی ایک خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ خود سے تعلق رکھنے والوں کو اپنا گرویدہ بناتے ہیں ……… اُن کے دل جیتنے والے ہوتے ہیں ……… اُن کے دل و دماغ پر راج کرتے ہیں ……… آخر وہ کونسی سی خوبیان ہیں جن کو اپنا کر انسان ہر دل عزیز بن سکتا ہے حتی کہ دنیا سے جانے کے بعد بھی لوگ اُس کے دیوانے نظرآتے ہیں ……… اگر آپ نے ہردلعزیزی کا فن سیکھ لیا تو آپ کے گھر،آفس،شاپ ،فیکٹری ،اسکول ،کالج و یونیورسٹی الغرض ہرجگہ کا ماحول خوشگوار رہے گا ……… بلکہ شاہراہِ زندگی پر کامیابی کا سفر محفوظ وآسان ہوجائے گا ……… یہاں تک کہ پھر لوگوں میں آپ کا چرچا ہوگا ……… لوگ آپ کی مثالیں دیں گے ……… آپ جیسا بننے کی کوشش کریں گے ……… آپ عوام کے لیے آئیڈیل پرسنالٹی بن جائیں گے……… اور دنیا وآخرت میں آپ کا نام روشن ہوگا ……… یہاں اختصار کے ساتھ قرآن وسنت اور بزرگوں کی سیرت سے حاصل شدہ کچھ سنہرے اصول بیان کیے جاتے ہیں جن کو اپنا کر آپ بھی اپنے وابستگان کے دلوں کی دھڑکن بن سکتے ہیں :

پہلا اصول:نیت کی درستی:

لوگوں کو اپنا بنانے میں نیت اچھی رکھیں……… جہاں تعلق مضبوط وگہرا ہوگا اور محبت دائمی ہوگی وہاں ثواب بھی حاصل ہوگا……… بُری نیت کے ساتھ اگرکسی کواپنا بنا بھی لیا جائے تو وہ تعلق عارضی ثابت ہوتا ہے ……… ذہن یہ ہونا چاہیے کہ فلاں رشتے دار/دوست/مسلمان بھائی کو اللہ کریم کی رضاکے لیے اپنے قریب کروں گا ……… اپنی یا اس کی اصلاح کروں گا ……… باہمی تعلقات مضبوط کروں گا ……… اُسے مدد کی حاجت ہوگی تو مدد کروں گا ……… عائد ہونے والے حقوق ادا کروں گا ……… پس جب یہ تعلق خلوص پر مبنی ہوگا تو ہردلعزیزی کو بھی دوام حاصل ہوگا۔

دوسرا اصول: سلام کرنے کی عادت:

بوقت ملاقات اور آتے جاتے ملنے والے مسلمان بھائیوں کو سلام کرنے کی عادت ڈالیں کہ یہ بھی دلوں میں محبت پیدا کرنے کا زبردست ذریعہ ہے ……… حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک مؤمن نہ ہو جاؤاور اس وقت تک( کامل) مؤمن نہيں ہو سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرو، کیامیں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اس پر عمل کرو تو آپس میں محبت کرنے لگو؟ (وہ چیز یہ ہے کہ) تم آپس میں سلام کو عام کرو۔(مسند احمد،حدیث:1412) ……… پھر یہ کہ ہر مسلمان کو سلام کریں خواہ آپ اُسے جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں ……… ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی کہ اسلام میں کیا کام بہتر ہے ؟حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:لوگوں کو کھانا کھلانا اور سلام کرنا خواہ تم اُسے جانتے ہو یا نہ جانتے ہو۔(صحیح بخاری،حدیث:6236) ……… اس حوالے سے یہ بھی یاد رکھیں کہ لوگوں کو اپنا بنانے کے لیے سلام میں پہل کیا کریں ……… ہمارے پیارے نبی ﷺ کی عادت مبارکہ بھی یہی تھی کہ جس سے ملاقات ہوتی تو سلام میں پہل فرماتے ۔(شعب الایمان،حدیث:1430)

تیسرا اصول: حسن اخلاق کا ہتھیار:

دلوں کو جیتنے کے لیے حسن اخلاق بہت بڑا ہتھیار ہے……… جتنے بھی ہردلعزیز لوگوں کو ہم جانتے ہیں ان میں یہ بات مشترکہ طور پر پائی جاتی ہے کہ سب کے سب حسن اخلاق کے پیکر ہیں ……… اور جو جتنا زیادہ حسن اخلاق والا ہے لوگ اتنا ہی زیادہ اُس کے گرویدہ نظر آئیں گے……… سب سے بڑے حسن اخلاق کے پیکر ہمارے پیارے نبی حضور خاتم النبیین ﷺ ہیں ……… آپ کے حسن اخلاق کو دیکھ،سُن اور پڑھ کر لاکھوں کروڑوں لوگ دامن اسلام سے وابستہ ہوگئے اور رحمت عالم ﷺ کے ایسے گرویدہ ہوئے کہ آپ کے نام پر تن من دھن قربان کرنے کے لیے تیار ہوگئے……… لہذا والدین،رشتے داروں ، دوست احباب اور ہر ملنے والے کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آئیں تو ہردلعزیزی آپ کا مقدر بن جائے گی۔

چوتھااصول: لوگوں سے میل جول:

اکیلا رہنے اورزیادہ تر وقت گوشہ تنہائی میں گزارنے کے بجائے لوگوں کے ساتھ میل جول رکھیں……… ظاہر سی بات ہے کہ جب آپ لوگوں سے ملیں جلیں گے نہیں تو وہ آپ سے کیسے متاثر ہوں؟……… لوگوں سے میل جول رکھنا سنت انبیاء کرام علیہم السلام ہے……… بالخصوص ہمارے نبی اکرم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے ……… اور یہی ہمارے بزرگوں کا طریقہ رہا ہے……… آپ حضور نبی پاک ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کریں گے تو آپ کا یہ وصف روز روشن کی طرح عیاں ہوگا کہ آپ ﷺ لوگوں کے ساتھ بکثرت میل جول رکھنے والے ہیں ……… لہذا عزیز واقارب کے ساتھ احسن انداز میں ملنا جلنا اُن کو آپ کا گرویدہ بنا دے گا۔

پانچواں اصول: خوشی غمی میں شرکت:

لوگوں کی خوشی اور غمی میں شریک ہوں……… اگر سامنے والا خوشی کی کوئی خبر سنائے جیسے کوئی کہے کہ میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے ……… یا میری جاب لگ گئی ہے ……… یا میرا ویزہ لگ گیا ہے ……… یا میں نے نیا گھر لیا ہے ……… یا نئی گاڑی خرید ی ہے ……… یا میری منگنی ہوگئی ہے ……… یا میری شادی ہونے لگی ہے وغیرہ ……… تو آپ اُسے خوب خوشی کے ساتھ مبارک باددیں ……… کچھ نہ کچھ دعائیہ کلمات ضرور کہیں ……… ایسا کرنے سے اُس کے دل میں نہ صرف خوشی داخل ہوگی بلکہ آپ کی محبت بھی اس کے دل میں جگہ بنائے گی یا مزید پختہ ہوجائے گی ……… اسی طرح اگر کوئی افسوس ناک اور غم کی خبر سنائے مثلا وہ کہے کہ میرے فلاں عزیز کا انتقال ہوگیا ہے ……… یا میرا بچہ ہسپتال میں ایڈمیٹ ہے ……… یا میرے کاروبار میں نقصان ہوگیا ……… یا میری گاڑی چوری ہوگئی ……… یا میری طبیعت ناساز ہے ……… یا میرا ایکسڈنٹ ہوگیا وغیرہ ……… تو ایسے موقع پر اُس کے ساتھ دل سے اظہار ہمدردی کریں ……… اُسے صبر وہمت کی تلقین کریں ……… اُس کے لیے دعا کریں ……… اور ممکن ہوتو اُس کی مالی مدد کریں یاکسی اور قسم کی مدد چاہے تو ضرور کریں ……… خبردار ایسی بات سن کرکسی قسم کا مذاق بالکل نہ کریں اور نہ ہی ہنسی مذاق کریں……… ان شاء اللہ آپ کے ایسے سلوک سے لوگ آپ کے گرویدہ ہوجائیں گے ۔

چھٹااصول:عاجزی ونرمی:

عاجزی،تواضع اورنرمی اپنائیں……… یہ تین خوبیاں بھی ہردلعزیز بننے میں کافی مدد گار ہیں ……… نرمی رب کریم کو پسند ہے……… اِسی کا اُس نے حکم فرمایا ہے :وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ (پ19،الشعراء:215) ترجمہ :اور اپنی رحمت کا بازو بچھاؤ اپنے پیرو مسلمانوں کے لئے۔……… جبکہ رسول اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِى الأَمْرِ كُلِّهِ ترجمہ:بے شک اللہ پاک ہر معاملے میں نرمی کو پسند فرماتا ہے۔ (صحیح بخاری، حدیث:6024) ……… عاجزی وتواضع کرنے والے کو بلندمرتبے حاصل ہوتے ہیں……… حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰہِ رَفَعَهُ اللهُ یعنی جو اللہ پاک کے لیے تواضع وعاجزی کرے گا اللہ تعالیٰ اُسے بلندی عطا فرمائے گا ۔(مشکوۃ المصابیح،حدیث:5119) ……… نرمی انسان کے کردار کو سنوارتی، مزین کرتی اور خوبصورت بناتی ہے جبکہ سختی شخصیت کو بدنما ،عیب داراور بدصورت بنادیتی ہے ……… حدیث پاک میں ہے : نرمی جس شے میں آجائے اُسے سنوار دیتی ہے اور جس سے نکل جائے اُسے عیب دار کردیتی ہے۔(صحیح مسلم،حدیث:4698) ……… انسانوں کی طبیعت مزین وخوبصورت شے کی طرف مائل ہوتی ہے اوروہ بدنماوعیب دار چیز سے دور بھاگتے ہیں ……… لہذا خود کو نرمی سے مزین وآراستہ کریں لوگ آپ کی طرف خود ہی کھنچے چلے آئیں گے۔

ساتواں اصول:معاف کرنے کی عادت

عفوودرگزر کو زندگی کا حصہ بنائیں ……… کوئی ہمیں تکلیف پہنچائے،کسی شے سے محروم کردے،ہم پرظلم کرے یا کوئی حق تلفی کرے تو ہم اُسے معاف کردیں ……… یہ ایسا اصول ہے کہ لوگ اس خوبی کی وجہ سے آپ کے گرویدہ ہوجائیں گے ……… رحمت عالم ﷺ کی مبارک سیرت میں یہ پہلو بھی بڑا عظیم الشان تھا ……… اور ایک کمال خوبی تھی ……… آپ اپنی ذات کے لیے انتقام وبدلہ نہیں لیتے تھے بلکہ ہمیشہ بُرائی کا بدلہ اچھائی سے دیتےاور عفو و درگزر فرماتے (صحیح بخاری،حدیث:4461)……… خاص طور پر جب سامنے والا،غریب، کمزور اوربے بس ہو اُس وقت معاف کردینا اور بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے ……… بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی:ہم اپنے خادم کو کتنی بار معاف کریں۔حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:ہردن میں 70بار معاف کردیا کرو۔(سنن ابوداود،حدیث:4496)……… جولوگ انتقامی کاروائیاں کرتے ہیں ……… بدلے لیتے ہیں ……… اوراینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہیں وہ کبھی لوگوں کے دلوں میں گھر نہیں کرسکتے ……… اگرچہ بدلہ لینے کا حق اسلام میں موجود ہے مگر ساتھ ہی ساتھ معاف کرنے کی ترغیب بھی بہت زیادہ دی گئی ہے ……… بدلہ لینے میں یہ نقصان بھی ہوسکتا ہے کہ ہم خود پر ہونے والی زیادتی سے زیادہ بدلہ لے لیں اور دنیاوآخرت میں ہماری پکڑ ہو ……… الغرض معاف کرنے کی بڑی اہمیت ہے ،یہ متقی وپرہیزگار اور نیک لوگوں کا شعار ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَالْکٰظِمِیۡنَ الْغَیۡظَ وَالْعَافِیۡنَ عَنِ النَّاسِؕ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیۡنَ(پ4،ال عمران:134) ترجمہ :اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔……… معلوم یہ ہوا کہ معاف کرنے والا ،درگزر سے کام لینے والا جہاں رب کریم کا پسندیدہ ومحبوب بنتا ہے وہاں لوگوں کے لیے بھی پسندیدہ اور ہردلعزیز شخصیت کا مالک ہوجاتا ہے……… ہوسکے تو اس حدیث پاک کے مظہر بن جائیں،ارشادِ رسول ﷺ ہے:جو تم سے تعلق توڑے تم اس سے جوڑو،جو تمہیں محروم کرے تم اُسکو عطا کرو اورجو تم پر ظلم کرے تم اُسے معاف کرو۔(مسند احمد، حدیث:17457)

آٹھواں اصول: عدل وانصاف پر قائم رہنا:

عدل وانصاف کا دامن کبھی نہ چھوڑیں……… بہن بھائیوں،اولاد،عزیز واقارب، دوستوں حتی کہ گھراورآفس کے ملازمین کے درمیان بھی انصاف کے تقاضوں کو ہمیشہ مدنظر رکھیں……… کیونکہ بے انصافی اور ناانصاف شخص سے لوگ نفرت کرتے ہیں یہاں تک کہ اولاد کے درمیان بھی عدل وبرابری نہ کی جائے تو اکثر بچے والدین سے نفرت کرنے لگتے ہیں ……… اگر جلد اُس کی تلافی نہ کی جائے تو بسا اوقات بچے بڑے ہوکر باغی و نافرمان ہوجاتے ہیں ……… قرآن وسنت میں عدل وانصاف کا بڑا درس دیا گیا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:اِنَّ اللہَ یَاۡمُرُ بِالْعَدْلِ وَالۡاِحْسَانِ وَ اِیۡتَآیِٔ ذِی الْقُرْبٰی(پ14،النحل:90) ترجمہ: بیشک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کا۔……… کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دشمنی وعداوت کی وجہ سے انسان ناانصافی کرجاتا ہے ……… قرآن پاک میں اس بات سے خاص طور پر منع فرمایا گیا ۔ارشاد ہوتا ہے: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ لِلہِ شُہَدَآءَ بِالْقِسْطِ ۫ وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤی اَلَّا تَعْدِلُوۡا ؕ اِعْدِلُوۡا ۟ ہُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی ۫ وَاتَّقُوا اللہَ ؕ اِنَّ اللہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ (پ6،المائدۃ:8) ترجمہ :اے ایمان والو اللہ کے حکم پر خوب قائم ہوجاؤ انصاف کے ساتھ گواہی دیتےاور تم کو کسی قوم کی عداوت اس پر نہ ابھارے کہ انصاف نہ کرو انصاف کرو وہ پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے ۔

پھر اگر آپ سربراہ ہیں تو عدل وانصاف کی اپنانے کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے ……… اگر عدل وانصاف پر قائم رہیں گے دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی عزت وعظمت حاصل ہوگی……… حدیث شریف میں سایہ عرش پانے والوں میں اُسے بھی شمار کیا گیا ہے ،فرمایا:وہ شخص جو لوگوں پر حاکم ہواور مرتے دم تک عدل وانصاف سے کام لے۔(الکامل فی ضعفاء الرجال،حدیث:2024) ……… خلاصہ یہ ہے کہ اگر آپ لوگوں کی نظروں میں اچھا بننا چاہتے ہیں اور وہ آپ کی شخصیت کے سحرمیں گرفتار ہوجائیں ، آپ کے قریب آنے میں خوشی محسوس کریں اور آپ سے نفرت نہ کریں توسب کے ساتھ عدل وانصاف سے پیش آئیں ۔

نواں اصول: قول وعمل میں یکسانیت:

شخصیت تضادات کا مجموعہ نہ ہو،غیرمنظم نہ ہواورآپ کے معمولاتِ زندگی میں جھول نہ ہو……… عمل قول کے مطابق ہو……… گفتگو میں سچائی ہولہذا جھوٹ سے دور رہیں ……… لباس ،چہرہ،بال وغیرہ کے لحاظ سے اچھے ومناسب دکھائی دیں ……… حضورنبی پاک ﷺ نے فرمایا:اپنے کپڑے دھوؤ،بالوں کو سنوارو،مسواک کرو،زینت اپناؤاور صفائی ستھرائی رکھو کیونکہ بنی اسرائیل ایسا نہیں کرتے تھے تو ان کی عورتیں بدکاری میں مبتلا ہوگئیں۔ (کنزالعمال،حدیث:1717) ……… یوں ہی حضور نبی کریم ﷺ نے ایک بکھرے بالوں والے کو اپنے بال اور داڑھی کے بال درست کرنے کا اشارہ فرمایا،وہ درست کرکے حاضر ہوا تو آپﷺ نے ارشادفرمایا: ألیس ہذا خیرا من أن یأتی أحدکم وہو ثائر الرأس کأنہ شیطان یعنی کیا یہ اس سے بہتر نہیں کہ تم میں سے کوئی شیطان کی طرح سر بکھیرے ہوئے آئے۔(مشکوۃ المصابیح، حدیث:4486)

حرام تو حرام شبہ والی چیزوں سے بھی خود کو دور رکھیں ……… بالخصوص تہمت والی جگہوں،افراد اور چیزوں سے ہمیشہ اجتناب کریں……… آپ کی شخصیت میں بے مروتی جیسی مذموم صفت نہ ہو……… جو قدم اٹھائیں اپنی طاقت ،روابط اور آمدن دیکھ کر ہی اٹھائیں کیونکہ اپنی گنجائش کے مطابق پاؤں پھیلانا عقلمندی ہے ……… البتہ اپنی ضروریات کے مطابق اپنی آمدن میں اضافے کی کوشش کرتے رہیں ……… آپ کے دل میں یہ جذبہ کارفرما نہ رہے کہ ہمیشہ لوگ ہی آپ کی خدمت کریں بلکہ اپنی بساط بھر لوگوں کی خدمت اپنا شیوہ بنائیں۔حدیث پاک میں ہے: خَیْرُالنَّاسِ مَنْ یَّنْفَعُ النَّاسَ یعنی لوگوں میں بہتر وہ ہے جو لوگوں کو فائدہ پہنچائے۔ (کنزالعمال، حدیث:44147)……… ڈکٹیٹرشپ والا مزاج لوگوں کو آپ سے دور کردے گا……… اپنی دولت وطاقت کے بل بوتے پرعارضی طور پر لوگوں کے جسم قریب کیے جاسکتے ہیں مگر دلوں کو زیر نہیں کیا جاسکتا ……… دلوں کو مائل کرنے کے لیے اپنے اخلاق اچھے کرنے پڑتے ہیں ……… خوش اخلاق انسان سے لوگ ملنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔

آپ کی گفتگو ہمیشہ اچھی ،پاکیزہ اورصاف ستھری ہو……… شائستگی سے بات کریں۔ حدیث پاک میں ہے:الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ ترجمہ:اچھی بات صدقہ ہے۔(صحیح بخاری،قبل الحدیث:6023)……… کوئی سوال پوچھے تو حکمت بھرے انداز میں جواب دیں ……… ایسا جواب ہرگز نہ ہوجس سے کوئی فتنہ وفساد جنم لے یا کوئی بدمزگی پیدا ہو……… بیہودہ باتوں اور جاہل دوستوں سے کوسوں دُور رہیں……… البتہ جاہل وناواقف لوگوں کی ایک حد میں رہتے ہوئے اصلاح ضرور کرتےر ہیں ……… ادب وتہذیب کا دامن کبھی مت چھوڑیں ……… آپ کی بات چیت میں جھول نہ ہو……… تصنع اور بناوٹ سے مکمل پرہیز کریں……… سیدھی اور کھری بات کریں……… ہاں اگر کہیں مصلحت ہو کھری بات کے بجائے خاموشی اختیار کریں تاکہ کسی کی دل آزاری یا نفرت وبیزاری کا سبب نہ بن جائے……… اپنے خریدوفرخت ،لین دین اور کاروباری معاملات بالکل پاک وصاف اور سیدھے رکھیں ……… لین دین میں وعدہ ومعاہدہ کی بڑی اہمیت ہوتی ہے لہذا اس کا خاص خیال رکھیں ……… اس سے نہ صرف کاروباری ترقی ملے گی بلکہ آپ سے جڑے افراد دل وجان سے آپ کی عزت کریں گے اور آپ کے گرویدہ رہیں گے۔

دسواں اصول: گھروالوں کا دل جیتیں:

یہ اصول اپنے گھر کے ساتھ خاص ہے……… سب پہلے والدین پھر بیوی اور اُس کے بعد بچے ……… یہاں اس اصول کے تحت کچھ طریقے بتائے جاتے ہیں جن پر عمل کرنے کی صورت میں آپ کی گھریلوزندگی پُرسکون،عافیت وراحت اور سلامتی والی بن سکتی ہے ……… آپ کے گھر والے آپ کے گرویدہ ہوجائیں گے ……… اور آپ پر جان چھڑکنے والے بن جائیں گے۔

(1)والدین کا دل کیسے جیتیں؟

ماں باپ اللہ پاک کی بہترین نعمت ،عالیشان رحمت اور بے مثال عنایت ہیں……… لہذا ان کی قدر کریں ،کبھی ان کا دل نہ دکھائیں ……… بلکہ آپ اُن کا دل جیتنے کی بھرپور کوشش کریں اور آپ کی اس محبت واطاعت کے سبب خود والدین آپ کے گروید ہوجائیں گے……… اگر آپ اُن کا دل جیتنا چاہتے ہیں تو ہرجائز کام میں ہمیشہ اُن کی اطاعت کریں……… کیونکہ ناجائز کام میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ۔حدیث پاک میں ہے:لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق یعنی اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں۔(مشکوۃ المصابیح، حدیث:3696) ……… والدین کے سامنے اپنی آواز دھیمی رکھیں اور اُن کے ساتھ کبھی اونچی آواز میں بات نہ کریں……… اُن سے بات کرتے وقت نگاہیں نیچی رکھنے کی کوشش کریں……… اُن سے گفتگو میں بُرے الفاظ یا القاب ہرگز استعمال نہ کریں……… اُن کی بات نہ کاٹیں……… نہ کبھی اُنہیں ٹوکیں ……… اور نہ ہی اُن کی باتوں اور اعمال پر بلاوجہ اعتراض کریں……… کبھی بھی اپنے قول یاعمل کے ذریعے والدین سے بیزاری یا اکتاہٹ کا اظہار نہ کریں ……… اُن کے ادب واحترام کے سبب اُن کی طرف کبھی پاؤں نہ پھیلائیں……… راہ چلتے ہوئے کبھی اُن سے آگے نہ نکلیں ……… یاد رکھیں کہ اُن کے پیچھے رہنے ہی میں آپ کی عزت ہے۔

اپنے والدین کو وقت دیں ……… کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ دوستوں اور سوشل میڈیا کی دنیا میں کھو کر اپنے والدین کو بھول جائیں ……… روزانہ اُنہیں کچھ نہ کچھ وقت ضرور دیں ……… اُن کے پاس بیٹھیں تو موبائل وانٹرنیٹ وسوشل میڈیا کو خود سے دُور کردیں ……… اُن کے سامنے موبائل ہرگز ہرگز استعمال نہ کریں……… اُن کے ساتھ رسمی طور پر نہ بیٹھیں بلکہ دوستوں کی طرح اُن سے حال دل کہیں،اُن کی سنیں……… گپ شپ لگائیں،اُن کی باتوں سے لطف اندوز ہوں……… وہ کوئی بات یا واقعہ سنائیں تو ایسے سنیں جیسے پہلی بار سن رہے ہیں اگرچہ پہلے بھی کئی بار سن رکھا ہو……… اُن کے چہروں کو محبت بھری نظروں سے دیکھیں۔حضور نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا:جب اولاد اپنے ماں باپ کی طرف رَحمت کی نظر کرے تواللہ پاک اُس کے لئے ہر نظر کے بدلے حج مبرور(یعنی مقبول حج )کا ثواب لکھتاہے ۔ صحابہ کرام نے عرض کی: اگرچِہ دن میں 100مرتبہ نظر کرے ؟ارشادفرمایا : نَعَمْ، اللہُ اَکْبَرُ وَاَطْیَبُ یعنی ہاں ،اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے اور سب سے زیادہ پاک ہے۔ ‘‘(شعب الایمان،حدیث:7856)یقینا اللہ کریم ہرشے پرقادر ہے، وہ جس قدر چاہے دے سکتا ہے،ہرگز عاجز نہیں لہٰذااگر کوئی اپنے ماں باپ کی طرف روزانہ 100مرتبہ تو کیا ایک ہزار بار بھی رَحمت کی نظر کرے تو وہ اُسے ایک ہزارمقبول حج کا ثواب عنایت فرمائے گا۔

گھرکے معاملات میں والدین کو مرکزی حیثیت دیں کہ آپ کے پاس موجود اللہ پاک کی ہرنعمت کا سبب آپ کے ماں باپ ہیں ……… کیونکہ تمام نعمتیں آپ کے وجود سے ہیں اور آپ کا وجود والدین سے ہے……… اُن کے مشوروں کو اہمیت دیں اور انہیں احساس دلائیں کہ آپ اُن کے مشوروں اور تعاون سے اپنے کام سرانجام دیتے ہیں……… گھر میں جب بھی پھل یا کھانے کی کوئی چیز لائیں سب سے پہلے انہیں پیش کریں……… بچوں کی چیزیں اورتحائف بھی والدین بالخصوص امی جان کے ہاتھ سے تقسیم کروائیں ……… اُن کے سامنے ایسی شے ہرگز مت کھائیں جس سے ان کا پرہیز ہو……… دوسرے شہر یا ملک سے گھر لوٹیں توشرعی واخلاقی روکاٹ نہ ہونے کی صورت میں سارا سامان اُن کے سامنے کھولیں ……… اپنے بیوی بچوں کی طرح اُن کے لیے بھی قیمتی وخوبصورت تحائف لے کرآئیں ……… اگر تحفے اُن کے پسندیدہ ہوں تو سونے پر سہاگہ ہے……… یہ اُن کا دل خوش کرنے کا بہترین موقع ہوتا ہے……… بیرون ملک یا بیرون شہر رہنے والے گھر پر کال کریں تو پہلے والدین سے بات کریں ……… کاروبار یا جاب کی وجہ سے گھر سے باہر رہنے والے کوشش کریں کہ والدین سے فون پر روزانہ چند منٹ ضرور بات کر لیا کریں……… اس سے نہ صرف والدین کادل جیت سکیں گے بلکہ ماں باپ کی پیاری پیاری آواز اور اُن کی زبان سے جاری ہونے والی اخلاص بھری دعاؤں سے آپ کو ذہنی سکون اور راحت بھی ملے گی……… فیملی کے ساتھ گھومنے پھرنے کا ارادہ ہوتو والدین کو بھی ساتھ لے کرجائیں ……… ایسا نہ ہو کہ انہیں گھر کی چوکیداری کے لیے چھوڑ کر خود آؤٹنگ پرنکل جائیں ……… یا انہیں گھرکے کسی کونے میں پڑا رہنے دیں اور خود اپنی زندگی میں مگن رہیں……… گھر میں اگر کوئی جھگڑا وغیرہ ہوجائے تو آپ نہ فیصلہ کرنے والے بنیں اور نہ ہی فریق بنیں……… بلکہ ایسی صورت میں نرمی ،صبر،خاموشی اورحکمت عملی سے کام لیں……… والدین کے سامنے دیگر بہن بھائیوں کی شکایات سے حتی الامکان پرہیز کریں……… اولاد کے درمیان پھوٹ ڈالنے والی باتوں سے اجتناب کریں۔

(2)بیوی کا دل کیسے جیتیں؟

کچھ باتیں ایسی ہیں اگر اُن پر عمل کیا جائے تو گھرمیں خوشگوار فضا قائم کی جاسکتی ہے ……… آپ جس طرح سے لوگوں کا دل جیتنا چاہتے ہیں یوں ہی اپنی بیوی کا دل بھی جیتیں تاکہ آپ کی گھریلو زندگی پرسکون ہوجائے اور گھر امن کا گہوارہ بنا رہے ……… حضورنبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:تم میں سے بہتروہ ہے جو اپنے گھروالوں کے لیے بہتر ہے اور میں اپنے گھروالوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔(سنن ابن ماجہ،حدیث:1967) ……… لہذا اپنی بیوی کے لیے بہتر بنیں……… اُس کے ساتھ خیرخواہی والا معاملہ رکھیں ……… اورحسن سلوک کے ساتھ پیش آئیں ……… پکارنے کے لیے بیوی کا اچھا سا نام رکھیں……… موقع کی مناسبت سے اُسی پیارے نام سے پیار بھرےانداز میں اُسے پکاریں……… حضور سید دوعالم ﷺ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کوپیارومحبت سے کبھی ”حمیرا“ اور کبھی ”عائش“ کہہ کر پکارتے تھے……… کبھی کبھی بیوی کے حسن کی جائز تعریف بھی کرتے رہا کریں……… وہ نیا سوٹ پہنے تو تعریف کریں……… موقع بموقع اُس کے ہاتھ کے پکے کھانوں کی تعریف میں کنجوسی نہ کریں……… اُس کی برتھ ڈے یا میریج اینی ورسری کے موقع پر کچھ نہ کچھ گفٹ ضرور دیں……… اُس کی پسند ،نا پسند کا خیال رکھیں……… کبھی گھر میں کام زیادہ ہو تو اُس کا ہاتھ بٹادیا کریں……… اُسے دیکھ کر کبھی منہ نہ بنائیں بلکہ اکثر مسکرا ئیں ……… مسکراہٹوں کا تبادلہ کرتے رہیں ……… وقتا فوقتا اُس کی دل جوئی کرتے رہیں ……… اوراُسے نصیحت وتنبیہ کرنی ہو تو حکمت کے ساتھ کیجئے۔

(3)اولاد کا دل کیسے جیتیں؟

یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری وٹاسک ہے کہ آپ کے بچے ہمیشہ آپ کے گرویدہ رہیں ……… اور آپ اُن کے لیے آئیڈیل ورول ماڈل بن جائیں ……… اس کے لیے چند بنیادی باتوں پر عمل ضروری ہے :

اپنے بچوں کو وقت دیں ……… انہیں خوش کریں،پیار کریں ……… چھوٹے بچوں کے ساتھ کھیلیں،اپنے ساتھ چمٹائیں اورکندھے پرسوار کریں ……… حضور نبی پاک ﷺ اپنے عظیم نواسوں حسنین کریمین کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے تھے ……… بچوں کو خوش کرنا سنت نبوی ہے ……… اور ارشادِ رسول اعظم ﷺہے: إن في الجنة دارا يقال لها دار الفرح، لا يدخلها إلا من فرح الصبيان ترجمہ :بے شک جنت میں ایک گھر ہے جسے دار الفرح(خوشی کا گھر) کہا جاتا ہے ،اُس میں وہی داخل ہوگا جو بچوں کو خوش رکھتا ہے۔(کنزالعمال ،حدیث:6009) ……… بچوں کے ساتھ اُن کے کھیلنے ،ہنسنے ،بہلنے کی باتیں کریں ……… اُن کی دلجوئی اور دلداری کا پورا پورا اہتمام کریں ……… کھیل ہی کھیل میں بچوں کی تعلیم وتربیت کا اہتمام کریں……… بچوں کے مابین عدل وانصاف قائم رکھیں ……… بیٹیوں اور بیٹوں کے درمیان برابر ی کا معاملہ رکھیں ……… کوئی چیز یا نیا پھل بازار سے لائیں تو بیٹیوں کوپہلے دیں کیونکہ اُن کا دل بہت چھوٹا ہوتا ہے……… حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: جو بازار سے اپنے بچوں کے لئے کوئی نئی چیز لائے تو وہ ان پر صدقہ کرنے والے کی طرح ہے اور اسے چاہيے کہ بیٹیوں سے ابتدا کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ بیٹیوں پر رحم فرماتا ہے اور جو شخص اپنی بیٹیوں پر رحمت وشفقت کرے وہ خوفِ خدا میں رونے والے کی مثل ہے اور جو اپنی بیٹیوں کو خوش کرے اللہ تعالیٰ بروزِ قیامت اسے خوش کرے گا۔(فردوس الاخبار،حدیث:5830) ……… بچوں کا جس جائزشے کا دل کرے انہیں دیں……… اُن کو بہلانے کے لیے کبھی جھوٹا وعدہ نہ کریں کیونکہ بچوں سے بھی وہی وعدہ جائز ہے جس کو پورا کرنے کا ارادہ ہو……… مختلف مواقع پر اُن کی عمرکے لحاظ سے جائز کھلونے اور گفٹس دیتے رہیں ……… جب کبھی سفر سے واپس آئیں تو بچوں کے لیے کوئی نہ کوئی تحفہ ضرور لائیں۔


کسی چیز کے کثیر اسماء اس کی عظمت کو ظاہر کرتے ہیں۔ جیسے الله پاک کے اسماء اور مکی مدنی مصطفیٰ صلّی اللہُ علیہ و سلّم کے اسماء،اسی طرح قرآن پاک کے بھی بہت سے اسماء ہیں۔ تفسیر کبیر اور تفسیر عزیزی میں اس کلامِ پاک کے 32 اسماء بیان کیے گئے ہیں،جن کا ذِکر قرآنِ پاک میں بھی موجود ہے۔ ان میں سے 20 اسماء ذیل میں بیان کیے جاتے ہیں۔

1- قرآن :

لفظ قرآن یا تو قرء سے بنا ہے یا قراءۃ سے یا قرن سے (تفسیر کبیر پارہ 2)

قرء کے معنی ہیں جمع ہونا۔ یہ سارے اولین و آخرین کے علموں کا مجموعہ ہے اس لیے اسے قرآن کہتے ہیں۔ (تفسیر کبیر روح البیان ،پارہ 2)

قراءۃ کے معنی ہیں پڑھی ہوئی چیز۔ قرآنِ پاک کو قرآن اس لیے کہتے ہیں کہ یہ پڑھا ہوا نازل ہوا۔ الله پاک کی طرف سے جتنی بھی کتابیں یا صحیفے نازل ہوئے سب لکھے ہوئے تھے جبکہ پیارے آقا صلّی اللہُ علیہ و سلّمکی بارگاہ میں حضرت جبرائیل علیہ السّلام حاضر ہوتے اور قرآن پاک پڑھ کر سنا جاتے۔

قرن کے معنی ،ملنا اور ساتھ رہنا ہیں۔ قرآنِ پاک کو قرآن اس لیے کہتے ہیں کہ حق اور ہدایت اس کے ساتھ ہیں۔ اس میں عقائد و اعمال ایک ساتھ جمع ہیں اور یہ ہر وقت مسلمان کے ساتھ رہتا ہے۔

2- فرقَان :

فرقان فرق سے بنا ہے۔جس کے معنی فرق کرنے والی چیز کے ہیں۔ قرآنِ پاک کو فرقان اس لیے کہتے ہیں کہ یہ حق و باطل ، مومن و کافر، سچ اور جھوٹ میں فرق کو ظاہر فرمانے والا ہے۔ (تفسیرِ نعیمی،ج 1،ص 19,20)

3- کتاب :

کتاب کتب سے بنا ہے اس کے معنی ہیں جمع ہونا، لکھنا، لکھی ہوئی چیز۔ قرآنِ پاک میں سب علوم جمع کیے گئے ہیں۔ تمام آسمانی کتابوں کے مضامین بھی قرآنِ پاک میں جمع ہیں، گویا یہ کتاب کامل ہے۔

یہ کتاب سب سے پہلے لوح محفوظ میں لکھی گئی پھر پہلے آسمان پر، پھر مسلمانوں کے سینوں میں اور ہڈیوں،پتھروں وغیرہ پر اور پھر کاغذ پر لکھی گئی ۔ (تفسیرِ نعیمی ج1, ص ،115)

4- ذِکر و تَذكره:

معنی یاد دِلانا ۔

قرآنِ کریم الله پاک کی عطا کردہ نعمتوں کو اور عہدِ میثاق کو یاد دلاتا ہے۔

5- تنزِیل:

معنی اتاری ہوئی کتاب ۔

قرآنِ کریم الله پاک کی طرف سے اتاری ہوئی کتاب ہے اس لیے اسے تنزیل بھی کہتے ہیں۔

6- حدیث:

معنی نئی چیز یا کلام اور بات۔

قرآنِ پاک توریت و انجیل کے بعد نازل ہوا،اس لیے یہ نیا ہے۔ قرآنِ پاک پڑھا ہوا نازل ہوا اس لیے یہ بات ہے۔

7- مو عظتہ:

معنی ہیں نصیحت۔

قرآنِ پاک سب کو نصیحت کرنے والی کتاب ہے، اس لیے اس کا نام موعظتہ ہے۔

8- بیان، تبیان، مبین:

معنی ظاہر کرنے والا۔ یہ کتاب احکام شرعی اور علمِ غیب کو مدنی آقا کریم صلّی اللہُ علیہ و سلّمپر ظاہر فرمانے والی ہے۔

9- بصائر:

معنی بصائر جمع ہے بصیرت کی یعنی دل کی روشنی۔

قرآنِ پاک سے دلوں میں نور پیدا ہوتا ہے، اس لیے اس کا نام بصائر ہے۔

10- فصل:

ایک معنی ہیں فیصلہ کرنے والی۔

یہ کتاب لوگوں کے جھگڑوں کا فیصلہ کرنے والی ہے۔

11- نجوم:

نجم سے بنا ہے اس کے معنی تارے ،حصہ۔

تاروں کی طرح قرآنِ پاک کی آیات لوگوں کی رہنمائی کرتی ہیں، اور الگ الگ نازل ہوئیں۔

12- مثانی:

معنی مثنٰی کی جمع ،بار بار ۔

اس میں احکام اور قصے بار بار آئے نیز یہ کتاب بار بار نازل ہوئی۔

13- برہان :

معنی دلیل ۔

یہ الله پاک کی، نبی آخر الزماں صلّی اللہُ علیہ و سلّماور سابقہ انبیائے کرام کے صدق کی، دلیل ہے۔

14- بشیر و نذیر:

معنی خوش خبری دینے والی، ڈرانے والی۔

یہ کتاب خوش خبریاں دینے والی اور ڈرانے والی بھی ہے۔

15- قیم:

معنی قائم رہنے والی یا رکھنے والی۔

یہ کتاب قیامت تک قائم رہنے والی ہے اور اس کے ذریعے قیامت تک دین بھی قائم رہے گا۔

16- حق:

معنی سچی بات۔

یہ کتاب سچی بات بتاتی ہے۔ سچے رب کی طرف سے نازل ہوئی ،سچا ہی اس کو لایا اور سچے نبی آخر الزماں صلّی اللہُ علیہ و سلّمپر نازل ہوئی۔

17- عزیز :

معنی غالب ، بے مثل۔

یہ بے مثل کتاب ہے، سب پر غالب رہی، اب بھی غالب ہے اور ان شاء الله قیامت تک غالب رہے گی۔

18- کریم :

معنی سخی ۔

قرآنِ کریم سے علم، الله پاک کی رحمت، ایمان اور بے شمار ثواب حاصل ہوتا ہے،اس لیے اسے کریم بھی کہتے ہیں۔

19- عظیم :

معنی بڑا ۔

سب سے بڑی کتاب ہونے کی وجہ سے اسے عظیم بھی کہتے ہیں ۔

20- مبارک :

معنی برکت والا۔

اس کے پڑھنے اور عمل کرنے سے ایمان اور چہرے کے نور میں برکت ہوتی ہے، اس لیے یہ مبارک ہے۔

(تفسیرِ نعیمی ج 1, ص 116,117,118)

دعا ہے کہ الله پاک ہمیں فیضانِ قرآن سے مالا مال فرمائے آمین بجاہِ خاتم النبیین۔


قرآن عظیم کے  کثیر اسماء ہیں جو کہ کتاب کی عظمت و شرف کی دلیل ہیں اور یہ نام قرآن کی مختلف آیتوں میں مذکور ہیں ۔ جن میں سے 10 نام ذیل میں ذکر کیئے جاتے ہیں ۔

1۔ رحمت اس لیے کہتے کہ: یہ علم ہے اور جہالتوں اور گمراہیوں سے نکالنے والا ہے اور علم حق تعالیٰ کی رحمت ہے ۔

’’وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ‘‘ (نحل: 89)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور مسلمانوں کیلئے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے۔ (تفسیر صراط الجنان جلد اول صفحہ 13)

2۔بیان ۔ 3۔تبیان ۔ مبین ان سب کے معنی ہیں ظاہر کرنے والا چونکہ یہ قرآن سارے شرعی احکام کو سارے علوم غیبیہ کو نبی صلّی اللہُ علیہ و سلّمپر ظاہر فرمانے والا ہے اس لیے اس کے یہ نام ہیں ۔

’’وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ‘‘ (نحل: 89)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا جو ہر چیز کا روشن بیان ہے۔ (تفسیر صراط الجنان جلد اول صفحہ 13

4۔تنزیل کے معنی ہیں :اتاری ہوئی کتاب چونکہ یہ بھی رب کی طرف سے اتاری گئی ہے ۔ اس لیے تنزیل کہتے ہیں ۔

(تفسیر صراط الجنان جلد اول صفحہ 14)’’لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ‘‘(انبیاء: 10)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب نازل فرمائی جس میں تمہارا چرچا ہے۔ تو کیا تمہیں عقل نہیں ؟

5۔ مبارک: برکت والا چونکہ اس کے پڑھنے اور عمل کرنے سے ایمان میں برکت نیک عملوں میں عزت چہرے کے نور میں برکت ہے اس لیے اس کو مبارک کہتے ہیں ۔

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ‘‘(انعام: 155) (تفسیر صراط الجنان جلد اول صفحہ 15)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور یہ (قرآن) وہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے ، بڑی برکت والا ہے تو تم اس کی پیروی کرو اور پرہیزگاربنو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

6 ۔ حق :اس کے معنی ہیں سچی بات بمقابل باطل یعنی چھوٹی بات قرآن پاک سچی بات بتاتا ہے ۔ سچے کی طرف سے آیا ہے ۔ سچا اس کو لایا ہے محمد صلّی اللہُ علیہ و سلّمپر اترا اس لیے اس کو حق کہتے ہیں ۔

7۔ فصل : فیصلہ کرنے والی یا جدا کرنے والی چونکہ یہ آپس کے جھگڑوں کی فیصلہ کرنے والی بھی اور مسلمانوں اور کفار میں فاصلہ فرمانے والی اس لیے اس کا نام فصل ہے۔

8۔حدیث اس کے معنی ہیں: نئی چیز یا کلام اور بات چونکہ بمقابلہ توریت و انجیل کے یہ دنیا میں زمین پر بعد میں آیا اس لیے یہ نیا ہے نیز یہ پڑھا ہوا اترا نہ کہ لکھا ہوا ۔

9۔حبل اس لیے کہتے ہیں کہ حب:حبل ا کے معنی ہیں رسی اور رسی سے تین کام لئے جاتے ہیں ۔ اس سے چند بکھری ہوئی چیزوں کو باند ھ لیتے ہیں رسی کو پکڑ کر نیچے سے اوپر پہنچ جاتے ہیں رسی ہی کے ذریعے کشتی پار لگ جاتی ہے چونکہ قرآن کے ذریعے مختلف لوگ ایک ہو گئے اسی طرح اس کی برکت سے کفر کے دریا میں ڈوبنے سے بچ جاتے ہیں ۔اس کے ذریعے سے حق تعالیٰ تک پہنچتے ہیں اس لیے اس کو حبل کہتے ہیں ۔

10۔روح اس لیے کہتے ہیں کہ: حضرت جبریل کی معرفت آئی اور یہ جانوں کی زندگی ہے اس لیے روح کہتے ہیں

11۔ شفاء : یہ ظاہری اور باطنی بیماریوں سے سب کو شفا دینے والی کتاب ہے ۔ (تفسیر نعیمی  جلد اول صفحہ 116تا118)

قرآن کریم، فرقانِ حمید ربّ ذوالجلال کا بے مثل کلام ہے، قرآن عظیم کے کئی اسماء ہیں، جو کہ اس کتاب کی شرف و عظمت کی دلیل ہیں، تفسیر کبیر اور تفسیر عزیزی وغیرہ میں ہے:"کہ قرآن پاک کے 32 نام ہیں، جو کہ قرآن پاک میں مذکور ہیں، ان میں سے چند ان کی مختصر وضاحت کے ساتھ درج ذیل ہیں:

1۔قرآن:

یہ نام قرآن پاک کی سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 82 میں ذکر ہوا ہے،

ترجمہ کنز العرفان:"اور ہم قرآن میں وہ چیز اتارتے ہیں، جو ایمان والوں کیلئے شفا اور رحمت ہے۔"

قرآن پاک کو قرآن اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ یاتو قَرْءٌ سے بنا ہے، جس کے معنی جمع ہونے کے ہیں اور یہ قرآن سارے اوّلین و آخرین کے علوم کا مجموعہ ہے، اس لئے اسے قرآن کہا جاتا ہے یا پھر یہ قرآۃٌ سے بنا ہے تو اس کے معنی ہیں پڑهی ہوئی چیز، چونکہ قرآن کریم پڑھا ہوا نازل ہوا، نیزجس قدر قرآن کریم پڑھا گیا اور پڑھا جاتا ہے، اس قدر کوئی کتاب دنیا میں نہ پڑھی گئی۔

یا یہ قَرْنٌ سے بنا ہے تو قَرْنٌ کے معنی ہیں ملنا اور ساتھ رہنا، اب اس کوقرآن اسلئے کہتے ہیں کہ حق اور ہدایت اس کے ساتھ ہے، نیز یہ مسلمان کےہر وقت ساتھ رہتا ہے، پھر زندگی میں ہر حالت میں ہر جگہ ساتھ رہتاہے، پھر قبر میں، حشر میں بھی ساتھ کہ گناہگار کو خدا سے بخشوائے۔

2۔فرقان:

یہ نام قرآن کریم کی سورہ بقرہ کی آیت 185 میں ذکرہوا:شهر رمضان الذي انزل فيه القرآن هدى للناس وبینت من الھدى والفرقان۔

ترجمہ کنرالعرفان:" رمضان کا مہینہ جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کیلئے ہدایت اور رہنمائی ہے اور فیصلے کی روشن باتوں (پر مشتمل ہے)۔"

فرقان لفظ فَرْقٌ سے بنا ہے، جس کے معنی ہیں فرق کرنے والی چیز، قرآن کوفرقان اس لئے کہتے ہیں کہ حق وباطل ، جھوٹ اور سچ مؤمن و کافر میں فرق کرنے والا ہے۔

3۔ کتاب:

یہ نام سورہ بقرہ کی دوسری آیت میں ذکر ہواہے:ذَلِكَ الْكِتٰبُ لَارَيْبَ فِيْهِ۔

ترجمہ کنزالایمان:"وہ بلند رتبہ کتاب ( قرآن ) کوئی شک کی جگہ نہیں۔"

الکتاب ، کَتَبَ سے بناہے اور اس کے چند معنی ہیں،

٭جمع ہونا:اگر اس کے یہ معنی مراد ہوں تو اس کے معنی ہوں گے، یہ جمع کی ہوئی چیز ہے، کیونکہ قرآن کریم میں سارے علوم جمع ہیں تو گویا کامل کتاب یہی ہے۔

٭ لکھنا اور لکھی ہوئی چیز: اگر یہ معنی مراد ہوں تو مطلب ہوگا کہ یہ لکھی ہوئی چیز ہے، یعنی لکھنے میں کامل کتاب یہی ہے، اس کے سوا سب ناقص ہیں۔

4۔ذکر و تذکره:

یہ لفظ سورہ فجر کی آیت نمر 9 میں بیان ہوا ہے:اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإنَّا لَهٗ لَحٰفِظُونَ۔

ترجمہ کنز العرفان:"بے شک ہم نے اس قرآن کو نازل کیا ہے اور بے شک ہم خوداس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔"

ذکر و تذکرہ کے معنی ہیں یاد دلانا، چونکہ یہ قرآن کریم اللہ اور اس کی نعمتوں کی اور میثاق کے عہد کو یاد دلاتا ہے، اس لئے اس کو ذکر و تذکرہ کہتے ہیں۔

5۔حکيم:

سوره یسین آیت نمبر2 میں قران کریم کیلئے لفظ حکیم ذکر ہوا ہے:والقرآن الحکيم۔

ترجمہ کنز العرفان:"حکمت والے قرآن کی قسم۔"

حکمت، حکیم یا حکم سے بنے ہیں، اس کے معنی ہیں مضبوط کرنا، لازم کرنا اور روکنا، چونکہ یہ قرآن پاک مضبوط بھی ہے، کوئی اس میں تحریف نہ کر سکا اور لازم بھی ہے کہ کسی کتاب نے اس کو منسوخ نہ کیا اور بری باتوں سے روکنے والا بھی ہے، اسلئے یہ نام ہوئے۔

6۔تنزيل:

حم سجدہ کی آیت 42 میں یہ نام ذکر ہوا ہے:لا يأتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه تنزيل من حكيم حمیدٍ۔

ترجمہ کنز العرفان:"باطل اس کے سامنے اور اس کے پیچھے سے بھی اس کے پاس نہیں آسکتا، وہ قرآن اس کی طرف نازل کیا ہوا ہے، جو حکمت والا تعریف کے لائق ہے۔"

تنزیل کےمعنی ہیں، اتاری ہوئی کتاب، چونکہ یہ بھی ربّ کی طرف سے اتاری گئی ہے، اس لئے تنزیل کہتے ہیں۔

7،8،9،10۔ موعظۃ، شِفَاءٌ، هُدیً، رحمت:

سورہ یونس کی آیت نمبر 57 میں قرآن پاک کے 4 نام مذکور ہیں:يايها الناس قد جاءتكم موعظة من ربكم وشفاء لما في الصدور وهدى ورحمة للمؤمنين۔

ترجمہ کنز العرفان:"اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی شفا اور مؤمنوں کیلئے ہدایت اور رحمت آگئی۔"

موعظۃ کے معنی نصیحت کے ہیں اور یہ کتاب سب کو نصیحت کرنے والی ہے، شفاء اسلئے کہتے ہیں کہ یہ ظاہری اور باطنی بیماریوں سے سب کوشفادینے والی کتاب ہے، ھدی اسلئے کہتے ہیں کہ یہ لوگوں کو ہدایت کرتی ہے، رحمت اس لئے کہتے ہیں کہ یہ علم ہے اور جہالتوں اور گمراہیوں سے نکالنے والا علم ہے اور علم حق تعالی کی رحمت ہے۔

11،12۔برہان، نور:

قرآن پاک کے یہ دو نام سوره نساء کی آیت 174 میں ذکر کئے گئے ہیں:یايھا الناس قد جاءكم برهان من ربكم وانزلنا اليكم نورا مبيناً۔

ترجمہ کنز العرفان:"اے لوگو! بے شک تمہارے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے واضح دلیل آگئی اور ہم نے تمہاری طرف روشن نور نازل کیا۔"

برہان کے معنی ہیں دلیل اور قرآن کریم کا ربّ، نبی پاک صلّی اللہُ علیہ وسلّم اور تمام سابقہ انبیاء کے صدق کی دلیل ہے۔

نور اسے کہتے ہیں، جو خودبھی ظاہر ہو اور دوسروں کو ظاهر کرے، چونکہ قرآن پاک خود بھی ظاہرہے اور اللہ کے احکام وغیرہ سب کو ظاہر فرمانے والا ہے، اس لئے اس کو نور کہا، نیز یہ قرآن کریم پُل صراط پر نور بن کر مسلمانوں کے آگے آگے چلے گا۔

13۔مبارک:

سوره انعام آیت 155میں یہ نام ذکرہوا ہے:وهذا كتب انزلنه مبٰركٌ۔

ترجمہ کنزالعرفان:"اور یہ ( قرآن ) وہ کتاب ہے، جسے ہم نے نازل کیا، بڑی برکت والا ہے۔" مبارک کے معنی ہیں برکت والا، چونکہ اس کے پڑھنے اور عمل کرنے سے ایمان میں برکت، نیک عملوں میں عزت، چہرے کے نور میں برکت ہے، اس لئے اس کو مبارک کہتے ہیں۔

14،15۔حدیث، مثانی:

سوره زمرآیت 23 میں یہ نام ذکر ہوئے ہیں:الله نزل احسن الحديث كتبا متشابہا مَثَانِىَ۔ ترجمہ کنز العرفان:"اللہ نے سب سے اچھی کتاب اتاری کہ ساری ایک جیسی ہے، بار بار دہرائی جاتی ہے۔"

حديث کے معنی میں نئی چیزیا کلام، چونکہ بمقابلہ توریت وانجیل کے یہ دنیا میں زمین پر بعد میں آیا، اس لئے یہ نیا ہے، نیزیہ پڑھا ہوا اترا، نہ کہ لکھا ہوا، اسلئے یہ کلام/بات ہے۔

مثانی جمع ہے مثنی کی، مثنی کے معنی ہیں بار بار، کیونکہ اس میں احکام اور قصّے بار بار آئے ہیں اور یہ کتاب خود بھی بار بار اتری ہے، اس لئے اس کو مثانی کہتے ہیں۔

16۔تبيان، بيان:

سوره نحل آیت 89 میں یہ لفظ آیا ہے:و نزلنا عليك الكت تبيانا لکل شیء۔

ترجمہ:"اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا، جو ہر چیز کا روشن بیان ہے۔"

اس کے معنی ہیں ظاہر کرنے والا، چونکہ قرآن حکیم سارے شرعی احکام کو اور سارے علومِ غیبیہ کو نبی صلّی اللہُ علیہ وسلّم پر ظاہر فرمانے والا ہے، اس لئے یہ نام ہوا۔

17۔صراط مستقیم:

سورة الانعام کی آیت 126 میں یہ ذکر ہوا ہے:و هٰذَا صِرَاطُ ربِّكَ مُسْتَقَيما۔

ترجمہ کنز العرفان :"اور یہ تمارے ربّ کی سیدھی راہ ہے۔"

صراط مستقیم اس لئے کہتے ہیں کہ اس پر عمل کرنے والا اپنی منزل پر آسانی سے پہنچ سکتا ہے۔

18۔النجم:

سوره نجم آیت1 میں یہ لفظ مذکور ہے:والنجم إذا هوى۔

ترجمہ کنز العرفان:"تارے کی قسم جب وہ اترے۔"

نجم کے معنی تارے کے بھی ہیں اور حصّہ کے بھی، چونکہ قران پاک کی آیتیں تاروں کی طرح لوگوں کو ہدایت کرتی ہیں اور علیحدہ علیحدہ آئیں، اسلئے نجوم نام ہوا۔

19۔حق:

سوره هود کی آیت نمبر 120 میں یہ لفظ مذکور ہے:وجاءک في هذه الحق وموعظة وذکري للمؤمنین۔

ترجمه کنز العرفان:"اور اس سورت میں تمھارے پاس حق آیا اور مسلمانوں کیلئے وعظ و نصیحت (آئی)۔"

حق کے معنی ہیں، سچی بات بمقابل باطل یعنی جهوٹی بات، قرآن پاک سچی بات بتاتا ہے، سچے کی طرف سے آیا ہے، سچا اس کو لایا ہے، سچے محمد صلّی اللہُ علیہ وسلّم پر اترا ہے، اس لئے اسے حق کہتے ہیں۔

20۔قيم:

سوره کہف میں ارشار ہوتا ہے:الحمد لله الذي انزل على عبده الکتب ولم يجعل له عوجا۔ قيما لينذر بأسا شديداً۔من لدنه وبشرالمؤمنين الذين يعملون الصلحت ان لهم اجرا حسناً۔ ترجمہ کنز العرفان:"تمام تعریفیں اس اللہ کیلئے، جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل فرمائی اور اس میں کوئی ٹیڑھ نہیں رکھی، لوگوں کی مصلحتوں کو قائم رکھنے والی نہایت معتدل کتاب، تاکہ اللہ کی طرف سے سخت عذاب سے ڈرائے اور اچھے اعمال کرنے والے مؤمنوں کو خوشخبری دے کہ ان کیلئے اچھا ثواب ہے۔"

قیم کے معنی ہیں قائم رہنے والی یا قائم رکھنے والی، اس لئے اللہ کو قیوم کہتے ہیں، قرآن پاک کو اس لئے قیم کہا جاتا ہے کہ وہ خود بھی قیامت تک قائم رہے گا اور اس کے ذریعے سے دین بھی قائم رہے گا۔

اللہ پاک ہمیں عاشقِ قرآن بنائے، اس کو پڑھنے، سمجھنے، اسکی تعلیمات پر عمل کی توفیق دے اور اس کی برکتوں سے ہمیں مالا مال فرمائے۔آمين

حوالہ:(صراط الجنان، جلد 1، مقدمہ تفسیرنعیمی، تفسیرنعیمی، قرآن پاک)


قرآن کریم وہ مقدس کتاب جو ربّ کریم نے اپنے پیارے محبوب صلّی اللہُ علیہ وسلّم پر نازل فرمائی، یہ وہ مقدس کتاب ہے، جو گزشتہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے، " یہ وہ مقدس کتاب ہے، جس کے ہر حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں، جیسے الم تو الف پڑھنے پر 10 نیکیاں، ل پڑھنے پر 10 نیکیاں، م پڑھنے پر 10 نیکیاں ملتی ہیں۔"

اس مبارک قرآن پاک کے کثیر نام ہیں، اور کہا جاتا ہے ناں کہ جس چیز کے زیادہ نام ہوں، وہ اس کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔

قرآن کریم کے کثیر نام ہیں، جس میں سے ان شاءاللہ میں 10 نام عرض کرتی ہوں، ساتھ ساتھ ان شاءاللہ الکریم میں ان ناموں کی وجہ تسمیہ(یعنی نام رکھنے کی وجہ) بھی بیان کرتی ہوں۔

1۔فرقان:

قرآن کریم کا ایک نام فرقان ہے، فرقان کے معنیٰ ہے حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والا اور چونکہ قرآن کریم حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والا ہے، اسی لئے قرآن کریم کو فرقان بھی کہا جاتا ہے۔

2۔برہان:

قرآن کریم کا ایک نام برہان ہے، برہان کے معنیٰ ہے دلیل اور چونکہ قرآن کریم دلیل ہے، اسی لئے اسے برہان کا نام دیا گیا ہے، قرآن پاک ربّ تعالیٰ کے واحد ہونے پر دلیل، گزشتہ آسمانوں کی تصدیق پر دلیل، انبیائے کرام کی رسالت کی دلیل ہے۔

3۔حق:

قرآن کریم کا ایک نام حق ہے، حق کے معنیٰ ہیں سچا اور چونکہ قرآن پاک حق حق اور حق ہی ہے، بلکہ جو قرآن کریم کے حق ہونے پر شک کرے وہ کافر ہے، قرآن پاک اللہ کا کلام ہے اور کلام اللہ تو حق کے سوا ہو ہی نہیں سکتا۔

4۔عزیز:

قرآن کریم کا ایک نام عزیز ہے، عزیز کے معنیٰ ہے بے مثل اور عزیز کا ایک معنیٰ غالب بھی آتا ہے اور چونکہ قرآن کریم بے مثل ہے، بے مثل کتاب ہے اور چونکہ قرآن غالب بھی ہے، تمام آسمانی کتابوں پر اور ہمیشہ غالب ہی رہے گا۔

5۔عظیم:

قرآن کریم کا ایک نام عظیم ہے، عظیم کا معنیٰ ہے عظمت والا اور چونکہ قرآن کریم بہت عظمت والا ہے، اس لئے قرآن کریم کو عظیم کا نام دیا گیا ہے۔

6۔مبارک:

قرآن کریم کا ایک نام مبارک ہے، مبارک کے معنیٰ ہے برکت والا، چونکہ قرآن کریم وہ مقدس کتاب ہے جو برکت والی ہے، لہذا اسی وجہ سے قرآن کریم کا نام مبارک بھی ہے۔

7۔بشیر:

قرآن کریم کا ایک نام بشیر بھی ہے، بشیر کے معنیٰ ہے خوشخبری دینے والا، چونکہ قرآن کریم وہ مقدس کتاب ہے، جس میں مؤمنین کے لئے بشارتیں ہیں، اور قرآن کریم اپنے پڑھنے والوں کی شفاعت بھی کرے گا، تو یہ مؤمنین کے لئے اس طرح بھی خوشخبری دینے والا ہوا، اس وجہ قرآن کریم کو بشیر کا نام بھی دیا گیا ہے۔

8۔نذیر:

قرآن کریم کا ایک نام نذیر بھی ہے، نذیر کا معنیٰ ہے ڈرانے والا چونکہ قرآن کریم میں کافروں کے لئے وعیدیں ہیں اور نافرمان لوگوں کے لئے سزائیں بھی موجود ہیں اور قرآن کریم ان لوگوں کے خلاف حجت بھی ہوگا، اس وجہ سے قرآن کریم کو نذیر کا نام بھی دیا گیا ہے۔

9۔مبین:

قرآن کریم کا ایک نام مبین بھی ہے، مبین کا معنیٰ ہیں ظاہر کرنے والا، کھلا ہوا ہونا، چونکہ قرآن کریم شرعی احکام، عقائد، توحید و رسالت وغیرہ تمام باتوں کو ظاہر کرنے والا ہے، اس وجہ سے قرآن کریم کو مبین بھی کہتے ہیں۔

10۔قصص:

قرآن کریم کو قصص کا نام بھی دیا گیا ہے، قصص کے معنیٰ ہیں قصّے، کہانیاں، چونکہ قرآن کریم میں گزشتہ قوموں کے واقعات ہیں، قصے ہیں، اس وجہ سے اسے یعنی قرآن پاک کو قصص بھی کہتے ہیں۔

پیاری پیاری اسلامی بہنو! قرآن کریم کے اور بھی بہت سے نام ہیں، لیکن اختصار کے پیش نظر یہاں کچھ اسماء ہی بیان کئے ہیں، پیاری پیاری اسلامی بہنو! قرآن کریم کے بہت فضائل ہیں، قرآن کریم بہت عظمت والی کتاب ہے، ہمیں چاہئے کہ کثرت سے اس مقدس کتاب کی تلاوت کرکے اس کو سمجھنے کے لئے تفسیر پڑھ کر اپنے قلب کو منور کریں۔

یہی ہے آرزو تعلیمِ قرآن عام ہوجائے

تلاوت کرنا صبح و شام میرا کام ہوجائے


قرآن کریم اللہ پاک کی آخری کتاب ہے، جو سب سے آخری نبی محمد مصطفی صلّی اللہُ علیہ وسلّم پر نازل ہوئی، جسے انسانوں کی ہدایت کیلئے نازل کیا گیا، چنانچہ ارشادِ ربّ مجید ہے:

انا نحن نزلنا علیک القرآن تنزیلا۔

ترجمہ کنزالایمان:"بیشک ہم نے تم پر قران بتدریج اتارا۔" (پ 29، الدھر :23)

یہ کتاب دورِ رسالت سے لے کر قیامت تک آنے والے انسانوں کیلئے دلیل و برہان اور نورِ ہدایت ہے، اس کے بکثرت نام ہیں، جو اس کتاب کے مقام و مرتبہ، عزت و عظمت کی دلیل ہیں، ان میں سے 20 نام درج ذیل ہیں:

1۔القرآن:

قرآن پاک کا ایک مشہور و معروف نام قرآن ہے، قرآن کے لغوی معنی ہیں، سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب، حضرت سیدنا امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قرآن کو قرآن اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں سورتیں، آیات و حروف بعض بعض سے ملے ہوئے ہیں۔ (التفسیر الکبیر، پ 2، سورہ بقرہ تحت الآیۃ 185، الجزء الخامس253/2، کتاب اللہ کی باتیں، ص3)

2۔الکتاب:

حضرت سیّدنا امام جلال الدین عبدالرحمن سیوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"قرآن کو اس لئے کتاب کہا جاتا ہے کہ اس میں تمام علوم کی اقسام، قصص اور خبریں بہت بلیغ طریقے کے ساتھ جمع ہیں اور کتاب کا لغوی معنی بھی جمع کرنا ہے۔ (الاتقان فی علوم القرآن النوع السابع عشر فی معرفۃ اسمائہ و اسماء سورہ الجز الثانی، ص 339،کتاب اللہ کی باتیں، ص 3/4)

3۔ النجوم:

قرآن پاک کا ایک نام النجوم ہے، حکیم الامت مفتی احمد یار خان فرماتے ہیں:"نجوم نجم سے بنا ہے، اس کے معنی تارے کے بھی ہیں اور حصہ کے بھی، چونکہ قرآن پاک کی آیتیں تاروں کی طرح لوگوں کی ہدایت کرتی ہیں اور علیحدہ علیحدہ آئیں، اس لئے ان کا نام نجم ہوا ۔" (تفسیر نعیمی، پ1، البقرہ تحت الآیۃ2، 117/1)

4۔النور:

حضرت علامہ محمد اسمعٰیل حقی فرماتے ہیں:"قرآن کو نور کا نام اس لئے دیا گیا کہ یہ دلوں میں ایمان کے نور داخل ہونے کا سبب ہے۔" (تفسیر روح البیان، سورۃ النساء، تحت الآیۃ174، 339/2)

5۔ الروح:

مفتی احمد یار خان فرماتے ہیں:"روح حضرت جبرئیل علیہ السّلام کی معرفت آتی ہے اور یہ جانوں کی زندگی ہے، اسلئے اس کو رُوح کہتے ہیں۔" (تفسیر نعیمی، پ1، البقرہ تحت الآیۃ2، 116/1)

6۔الفرقان:

حضرت سیدنا امام ابو عبداللہ محمد بن احمد قرطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"قرآن کو فرقان کہنے کی یہ وجہ ہے کہ یہ حق و باطل ،مؤمن اور کافر کے درمیان فرق کرتا ہے ۔ (تفسیر القرطبی، الفرقان، تحت الآیۃ الجز للثالث عشر 3/7)

7۔تنزیل:

حضرت سیدنا علامہ محمد بن عبداللہ زرکشی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"قرآن کریم کو تنزیل کا نام اس لئے دیا جاتا ہے کہ اللہ پاک کی طرف سے حضرت جبرئیل علیہ السّلام کی زبان پر نازل کیا۔" (البرھان فی علوم القرآن النوع الخامس عشر معرفتہ اسماء و اشتقاتھا، تفسیر ھذہ الاسامی،281/1)

8۔الکریم:

مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان فرماتے ہیں:"کریم کے معنی سخی کے ہیں، چونکہ قرآن کریم علم، خدا کی رحمت اور ایمان اور بے حساب ثواب دیتا ہے، اس لئے اس سے بڑھ کر سخی کون ہو سکتا ہے، اس لئے اس کا نام کریم ہے۔" (تفسیر نعیمی، پ 1،البقرہ، تحت الآیۃ:2، 117/1)

9۔العلم:

قرآن کریم کا ایک نام علم ہے، حضرت ابو حفص سراج الدین عمر بن علی رشقی حنبلی فرماتے ہیں:"قرآن کریم کو علم کا نام دیا جاتا ہے کہ یہ علم حاصل کرنے کا سبب ہے۔" (الباب فی علوم الکتاب یونس تحت الآیۃ93، 409/10)

10۔المجید:

علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"قرآن کو اسکی عزت و عظمت کی وجہ سے مجید کہا جاتا ہے۔" (الاتقان فی علوم القرآن النوع السابع عشر فی معرفہ اسمائہ و اسماء سورۃ الجز الثانی، ص 343)

1۔ صحف:

قرآن پاک کا ایک نام صحف ہے، سورتوں کی کثرت کی وجہ سے قرآن پاک کو صحف کا نام دیا گیا۔ (تفسیر بحر العلوم البینہ تحت الآیۃ:2، 499/2)

1۔ العربی:

سیدنا امام فخر الدین رازی فرماتے ہیں:"قرآن پاک کو عربی اسلئے کہا جاتا ہے، اس کے الفاظ اپنے ناموں اور اصطلاحات کے ساتھ عرب کے وضع پر خاص ہیں۔" (تفسیر الکبیر الز خرف، تحت الآیۃ الجز الرابع والعشرون 617/9)

13۔النبا:

علامہ مجد الدین یعقوب فیروز آبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"قرآن مجید کو النبا اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں تم سے پہلے اور بعد والوں کی خبریں ہیں۔" (بعاصئر ذوی التمییز الباب الاول الفصل رابع فی ذکر اسماء القرآن 96/1)

14۔المرشد:

علامہ مجدد الدین فرماتے ہیں:"قرآن کو المرشد اسلئے کہا جاتا ہے کہ جو اس پر عمل کرتا ہے، وہ ہدایت پاتا ہے۔" (بصائر زوی التصییز الباب الاول الفصل الرابع فی ذکر اسماء القران 95/1)

15۔الرافع:

علامہ مجد الدین فرماتے ہیں:"قرآن پاک کو الرافع اس لئے کہا جاتا ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے سے آخرت کی مصیبتیں دفع (یعنی دور ) کر دی جاتی ہیں۔" (بصائر ذوی التصییز الباب الاول الفصل الرابع فی ذکر اسماء القرآن 96/1)کتاب اللہ کی باتیں

16۔ المبین:

حضرت سیدنا محمد بن عبد اللہ زرکشی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"قرآن کو مبین اس لئے کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ حق و باطل کے درمیان فرق کرتاہے ۔" (البرھان فی علوم القرآن النوع الخامس عشر معرفتہ اسمائہ و اشتفاقاتھا تفسیر ھذا الاسامی 279/1)کتاب اللہ کی باتیں

17۔ العظیم:

مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان فرماتے ہیں:"العظیم کے معنی ہے بڑا، چونکہ یہ سب سے بڑی کتاب ہے، اس لئے اسے العظیم فرمایا گیا۔" (تفسیر نعیمی، پ1،البقرہ تحت الآیۃ 118/1) کتاب اللہ کی باتیں

18۔بشیر و نذیر:

حضرت سیدنا فخر الدین رازی فرماتے ہیں:"قرآن پاک اطاعت کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری سناتا ہے اور نافرمانی کرنے والوں کو آگ سے ڈراتا ہے، اس لئے اس کا نام بشیر و نذیر رکھا گیا۔" (تفسیر الکبیر البقرہ، تحت الآیۃ، الجز الثانی، 263/1)

19۔الفصل:

امام فخر الدین رازی فرماتے ہیں:"قرآن کو الفصل اس لئے کہا جاتا ہے کہ اللہ پاک اس سے لوگوں کے درمیان حق کے فیصلے فرماتا ہے۔" (تفسیر الکبیر البقرہ، تحت الآیۃ 2، الجز الثانی 262/1)

20۔القصص:

علامہ محمد بن عبداللہ زرکشی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"اس میں پہلی امتوں کے واقعات اور خبریں ہیں، اس لئے اسے القصص کہا گیا۔" (البرھان فی علوم القرآن النوع الخامس عشر معرفۃ اسمائہ و اشفاقاتھا تفسیر ھذا الاسامی، 280/1، کتاب اللہ کی باتیں، مجلس المدینہ العلمیہ دعوت اسلامی)

قرآن پاک بہت عظیم المرتبت، شان و شوکت اور عظمت و شرافت والی کتاب ہے ، یہ وہ مبارک کتاب ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جاتی ہے۔

اللہ پاک ہمیں بھی قرآن پاک پڑھنے،سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین

یہی ہے آرزو تعلیمِ قرآں عام ہو جائے

ہر ایک پرچم سے اونچاپرچمِ اسلام ہو جائے

علم دین  حاصل کرنا اللہ پاک کی رضا کا سبب،بخشش و نجات کا ذریعہ اور جنت میں داخلے کا سبب ہے علم دین کی روشنی سے جہالت کے اندھیرے دور ہوتے ہیں اسی سے دنیا و آخرت میں کامیابی نصیب ہوتی ہے

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہىں : علم مدارِ کار اور قطبِ دىن ہے (یعنی علم دین ودنیا میں کامیابی کی بنیاد ہے) ( احیاء علوم الدین، کتاب العلم، الباب الاول فی فضل العلم…الخ، 1/ 29)

صدرُالشریعہ،بدْرُالطَّریقہ حضرت علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ اِرْشاد فرماتے ہیں:عِلْم ایسی چیز نہیں جس کی فضیلت اور خوبیوں کے بیان کرنے کی حاجت ہو،ساری دنیاہی جانتی ہے کہ عِلْم بہت بہتر چیز ہے،اس کا حاصل کرنا بلندی کی علامت ہے۔یہی وہ چیزہے جس سے انسانی زندگی کامیاب اور خوشگوار ہوتی ہے اور اسی سے دنیا وآخرت بہترہوجاتی ہے۔ (اس عِلْم سے) وہ عِلْم مُراد ہے جو قرآن و حدیث سے حاصل ہو کہ یہی وہ عِلْم ہے جس سے دنیا و آخرت دونوں سَنْوَرتی ہیں،یہی عِلْم نجات کا ذریعہ ہے،اسی کی قرآن و حدیث میں تعریفیں آئی ہیں اور اسی کی تعلیم کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ (بہار شریعت ،3/618 ملخصاً)

اسلام دنیا كا وہ واحِد دین ہے جس کو یہ شَرَف حاصِل ہے کہ اس نے اپنے ہر ماننے والے کیلئے بقدر ضرورت عِلْم حاصِل کرنا فَرْض قرار دیا، یہی وجہ ہے کہ کائناتِ عالَم کے سب سے پہلے اِنسان حضرت سَیِّدُنا آدَم علیہ السّلامکو اَوّلاً اللہ پاک نے عِلْم کی بدولت ہی تمام مخلوقات پر فضیلت بخشی۔چُنَانْچِہ اِرشَاد باری تعالی ہے:

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا 1، البقرة: 31)

ترجمۂ کنز الایمان: اور اللہ پاک نے آدم کو تمام اَشیا کے نام سکھائے۔

عُلَمائے کرام اَنبِیَائے کِرام علیہمُ السّلام کے وَارِث ہوتے ہیں جیسا کہ فرمانِ مصطفےٰ صلّی اللہُ علیہ و سلّم ہے: بے شک عُلَما ہی اَنبیاءکے وَارِث ہیں، اَنبِیَا علیہمُ السّلام دِرْہَم ودینار کاوارِث نہیں بناتے بلکہ وہ نُفُوسِ قدسیہ علیہمُ السّلام تو صِرف عِلْم کا وارِث بناتے ہیں، تو جس نے اسے حاصِل کرلیا اس نے بڑا حِصّہ پالیا۔[1]جبکہ عُلَما ءکے عِلْمِ نبوَّت کے وَارِث ہونے کی وَضَاحَت قرآنِ کریم میں یوں فرمائی گئی ہے:

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَاۚ- 22، فاطر: 32)

ترجمۂ کنز الایمان: پھر ہم نے کِتاب کا وارِث کیااپنے چُنے ہوئے بندوں کو۔

مذکورہ آیات کریمہ سے علم کی اہمیت واضح طور پر معلوم ہورہی ہے دیگر آیات و کثیر احادیث مبارکہ میں بھی علم دین کے فضائل بیان ہوئے ہیں چنانچہ علم دین کے 6 حروف کی نسبت سے مُعَلِّمِ کائنات، فَخْرِ مَوجُودَات صلّی اللہُ علیہ و سلّم نے اِسْلَامی بہنوں کی تعلیم وتَرْبِیَت کے حوالے سے جو مُخْتَلِف مَوَاقِع پر فرامین اِرشَاد فرمائے، ان میں سے 6پیشِ خِدْمَت ہیں:

(1) …عورتوں کو چرخہ کاتنا سکھاؤ اور انہیں سورۂ نُور کی تعلیم دو۔

(2) …عِلْمِ دِین سیکھنے کی غَرَضْ سے آئے ہوئے صَحابۂ کِرام رضی اللہُ عنہم سے اِرشَاد فرمایا: جاؤ اپنے بیوی بچوں کو دِین کی باتیں سکھاؤ اور ان پر عَمَل کا حُکْم دو۔

(3) … اللہ پاک نے سورۂ بقرہ کو دو۲ ایسی آیات پر خَتْم فرمایا ہے جو مجھے اس کے عَرْشی خزانے سے عَطا ہوئی ہیں، لہٰذا انہیں خود سیکھو اور اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی سکھاؤ کہ یہ دونوں نَماز، قرآن اور دُعا (کا حِصّہ) ہیں۔

(4) …اپنی اولادکو تین۳ باتیں سکھاؤ (۱) اپنے نبی کی مَحبَّت (۲) اَہْلِ بیْت کی مَحبَّت اور (۳) قرأتِ قرآن۔

(5) …اپنی اولاد کے ساتھ نیک سُلُوک کرو اور انہیں آدابِ زِنْدَگی سکھاؤ۔

(6) …جس نے تین۳ بچیوں کی پروش کی، انہیں اَدَب سکھایا، ان کی شادی کی اور اَچھّا سُلُوک کیا اس کے لیے جنّت ہے۔ (احادیث کا حوالہ:صحابیات اور شوق علم دین)

مذکورہ احادیث مبارکہ سے خاص خواتین کے علم دین سیکھنے کی اہمیت معلوم ہوئی مزید خواتین کے لئے عالمہ کورس کی اہمیت کی چند وجوہات ملاحظہ فرمائیے۔

اصلاح نفس:

ہر مسلمان پر دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق اپنی اصلاح ضروری ہے اصلاح نفس کے لئےخوف خدا عزوجل بنیادی چیز ہے حضرت سَیِّدُنا ابوالحسن رضی اللہُ عنہ فرماتے تھے ، ‘‘

نیک بختی کی علامت بدبختی سے ڈرنا ہے کیونکہ خوف اللہ پاک اور بندے کے درمیان ایک لگام ہے، جب یہ لگام ٹوٹ جائے تو بندہ ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہوجاتا ہے ۔ (احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء 4/199)

حضرت ابو سلیمان رضی اللہُ عنہ نے فرمایا:خوف خدا دنیا و آخرت کی ہر بھلائی کی اصل ہے (خوف خدا صفحہ نمبر18) علماء کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ پاک سے ڈرتے ہیں چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:

اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ 22، فاطر : 28)

ترجمہ کنزالایمان:اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں

مولانا نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:

اوروجہ اِس حصرکی(یعنی ڈرکو علماکے ساتھ خاص کرنے کی وجہ) ظاہر ہے کہ جب تک انسان خدا کے قہر (غضب) اور بےپرواہى(بےنیازی) اور احوالِ دوزخ اور اَہوالِ قىامت(قیامت کی ہولناکیوں) کو بتفصىل نہىں جانتا (اس وقت تک) حقىقت خوف وخشىت کى اُس کو حاصل نہىں ہوتی اور تفصىل ان چىزوں کى علماء کے سوا کسى کو معلوم نہىں۔ (فیضان علم و علماءصفحہ نمبر 10)

معلوم ہوا علم عمل کا رہنما ہے درست علم ہوگا تو خوف خدا بھی نصیب ہوگا اور خوف خدا کی برکت سے نیکیوں سے رغبت اور گناہوں سے بچنے کا ذہن بنے گا۔

نسل نو کی تعمیر:

یہ ایک مُسَلَّمَہ حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم یا مِلّت کو اس کی آئندہ نسلوں کی مذہبی و ثقافتی تَرْبِیَت کرنے اور اسے ایک مَخْصُوص قومی و مِلّی تَہْذِیب و تَمَدُّن اور کلچرسے بہرہ وَر کرنے میں اس قوم کی خواتین نے ہمیشہ بُنْیَادِی و اَساسی کِردار ادا کیا ہے۔کیونکہ ایک عورت ہر مُعَاشَرے میں بَطَورِ ماں،بہن،بیوی اور بیٹی کے زِنْدَگی گزارتی ہے اور اپنی ذات سے وَابَسْتہ اَفراد پر کسی نہ کسی طرح ضَرور اَثَر انداز ہوتی ہے، [5]لِہٰذا اِسْلَام نے عورتوں کی اس بُنْیَادِی اَہَمِیَّت کے پیشِ نَظَر اس کی ہر حَیْثِیَّت کے مُطابِق اس کے حُقُوق و فَرَائِض کا نہ صِرف تَعَیُّن کیا بلکہ اسے مُعَاشَرے کا ایک اَہَم اور مُفِید فرد بنانے کے لیے اس کی تعلیم و تَرْبِیَت پر بھی خُصُوصِی تَوَجُّہ دی تاکہ یہ اپنی ذِمَّہ داریوں سے کَمَا حَقُّہٗ عُہْدَہ بَرآ ہوں اور ان کی گود میں ایک صِحَّت مند نسل تیّار ہو۔

اصلاح معاشرہ:

اسلامی تعلیمات سے دوری کے سبب خواتین کے عقائد و اعمال اور اخلاق و کردار میں بھی شدید بگاڑ پیدا ہوگیا ہے گھروں میں دینی ماحول میسر نہیں اور دیگر ذرائع کتب اور میڈیا میں غلط اور درست کی پہچان مشکل ۔۔۔اس بگاڑ کو دور کرنے کے لئے خواتین ہی کو درست علم دین سیکھ کر معاشرے کی دیگر خواتین کو علم دین سکھانے اور نیکی کی دعوت کے ذریعے انکے عمل و کردار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

یہ صحابیات رضی اللہُ عنہُنّ کی سنت بھی ہے اسلامی بہنوں سے متعلق کئی مسائل ایسے ہیں جو صحابیات رضی اللہُ عنہُنّ کے سوال کرنے کی برکت سے ہم تک پہنچے-

خواتین کی مخصوص مسائل میں رہنمائی:

خواتین کے مخصوص مسائل کے بارے میں اسلامی بہنوں میں بہت سے غلط نظریات ہوتے ہیں لیکن شرم کے باعث سوال نہیں کرتیں اور کم علمی کے سبب گناہ میں پڑ جاتی ہیں اسلئے خواتین کو ان مسائل میں مہارت حاصل کرنی چاہئیے تاکہ عوام اسلامی بہنوں کی درست رہنمائی کرسکیں-

دور حاضر کی ضرورت:

دور حاضر میں ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کی کوشش میں بعض خواتین اسلامی تعلیمات کے خلاف زندگی گزارنے کو کامیابی کا ذریعہ سمجھتے ہوئے گناہوں میں مشغول ہیں انہیں نیکی کی راہ پر لانے کے لئے خواتین کو خود مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین سے متعلقہ مسائل معلوم ہونا ضروری ہے تاکہ متعلقہ خواتین کو صحیح و غلط طریقوں سے روشناس کرواتے ہوئے عمل کی طرف راغب کرسکیں۔

مذکورہ خصوصیات اور جامعۃ المدینہ گرلز کا کردار:

علم دین :قرآن و حدیث میں علمائے دین کے کثیر فضائل بیان ہوئے ایک عالم کو بنیادی طور پر جن فنون کو پڑھنا ضروری ہے جامعۃ المدینہ میں تقریبا وہ تمام فنون (تفسیر اصول تفسیر،حدیث،اصول حدیث،عقائد،فقہ اصول فقہ ،بلاغت ،عربی گرامر وغیرہ)پڑھائے جاتے ہیں-

اصلاح نفس: جامعۃ المدینہ گرلز کی طالبات کے اخلاق و کردار میں نمایاں تبدیلی آتی ہےایسے کئی واقعات ہیں کہ بے نمازی نمازی ،بے پردہ باپردہ،والدین کی نافرماں فرماں بردار ،بد اخلاق حسن اخلاق کا پیکر بن گئیں بلکہ طالبات کے کردار سے متاثر ہوکر گھر والے بھی نمازوں کے پابند اور سنتوں کے عامل بن جاتے ہیں

نسل نو کی تعمیر:جامعات المدینہ گرلز میں صحابیات رضی اللہُ عنہُنّ کی سیرت بھی پڑھائی جاتی ہے تاکہ انکے نقش قدم پر چلتے ہوئے طالبات اپنی گھریلو زندگی بھی شریعت کے مطابق گزارسکیں - دینی تعلیم کے ساتھ امور خانہ داری بھی سکھائے جاتے ہیں تاکہ طالبات کما حقہ اپنی ذمہ داریاں نبھا سکیں-

اصلاح معاشرہ:جامعۃ المدینہ گرلز کا اصلاح معاشرہ میں ایک اہم کردار ہے جامعۃ المدینہ گرلز معاشرے سے بے علمی و عملی کو ختم کرنے کے لئے کوشاں ہے ہر سال ہی اسکی برانچز اور طالبات میں اضافہ ہورہا ہے اور جامعۃ المدینہ گرلز کی فارغ التحصیل طالبات دعوت اسلامی کے دیگر شعبہ جات فیضان آن لائن اکیڈمی، مدرسۃ المدینہ،مجلس مالیات،مجلس اجارہ ہوغیرہ میں بھی اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں نیز دعوت اسلامی کے تحت ہونے والے تنظیمی کاموں میں بھی حصہ لیتی ہیں۔

سال 2021 سے منتخب جامعات المدینہ گرلز کی طالبات کوعلوم دینیہ کے ساتھ مروجہ دنیاوی تعلیم کا بھی آغاز کیا گیا ہے تاکہ جامعات المدینہ گرلز سے فارغ التحصیل اسلامی بہنیں معاشرے کی شرعی رہنمائی کے ساتھ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اسلام و سنیت کی خدمت کرسکیں-

خواتین کے مخصوص مسائل: خواتین کے مخصوص مسائل سے متعلق مسائل بالتفصیل شامل نصاب ہیں۔

دور حاضر کی ضرورت:دور حاضر سے متعلقہ مسائل بھی شامل نصاب کرنے کی کوشش کی گئی ہے مثلا: خواتین میں آن لائن بزنس بہت بڑھ گیا ہے جامعۃ المدینہ میں خرید و فروخت کے بنیادی مسائل بھی پڑھائے جاتے ہیں۔

المختصر دینی،دنیاوی،اخروی بھلائیوں کے حصول کے لئے علم دین سیکھنا ناگزیر ہے اور جامعات المدینہ گرلز اسکا بہترین ذریعہ ہے ۔

اللہ پاک ہمیں علم دین حاصل کرنے اس پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے (آمین یا رب العالمین) ۔


دورِ جاہلیت میں عرب کے لوگ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے تھے، اسلام نے جہاں عربوں کو تہذیب و تمدن اور علم کے زیور سے آراستہ کیا، جس کی بدولت مرد حضرات علم کے سمندر سے سیراب ہونے لگے، وہیں عورتوں میں بھی علم کی پیاس بڑھنے لگی، وہ اپنی علمی پیاس بجھانے کے لئے خاص مواقع مثلاً عیدین وغیرہ میں حاضری کی منتظر رہتیں، ان کی علمی پیاس روز روز بڑھتی چلی گئی، اس کا اظہار اس وقت سامنے آیا، جب ایک صحابیہ نے خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر عرض کی کہ ان کے لئے بھی کچھ خاص وقت ہونا چاہئے، جس میں وہ دین کی باتیں سیکھ سکیں، ان میں یہ شعور حضور پاک صلّی اللہُ علیہ وسلّم کی نظرِ رحمت کا نتیجہ تھا، کیونکہ آپ صلّی اللہُ علیہ وسلّم کو اس بات کا بخوبی ادراک تھا کہ عورت پر پوری نسل کی تعلیم و تربیت کا انحصار ہے۔

چنانچہ آپ نے خواتین کو جہاں بحیثیت ماں، بہن، بیٹی کی عظمت بخشی، ان کے حقوق مقرر کئے، وہیں ان کی بہترین تعلیم و تربیت کا بھی اہتمام کیا، تا کہ ان کی گود میں ایک صحت مند نسل تیار ہو کر معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے۔

اسلام وہ واحد دین ہے، جس کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس نے اپنے ہر ماننے والے کے لئے علم حاصل کرنا فرض قرار دیا ہے، خواہ مرد ہو یا عورت، سب کے لئے علم حاصل کرنا ضروری ہے، رسول پاک صلّی اللہُ علیہ وسلّم نے فرمایا:طَلَبُ الْعِلْمُ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ۔ علم حاصل کرنا ہر مسلمان (مردو عورت) پر فرضِ عین ہے۔" (ابن ماجہ، صفحہ 49، حدیث 224، صحابیات و صالحات کے اعلی اوصاف، ص107)

خواتین معاشرے کا اہم فرد ہیں، ان کی تعلیم و تربیت اگر بہترین انداز میں ہو تو اس سے نہ صرف ایک گھرانہ، بلکہ ایک بہترین معاشرہ قائم ہوسکتا ہے۔

سرکار مدینہ صلّی اللہُ علیہ وسلّم نے علمِ دین سیکھنے کے بارے میں خواتین کی حوصلہ افزائی فرمائی، ہم علمِ دین حاصل کر کے دنیا و آخرت سنوار سکتے ہیں، جب ایک عورت علمِ دین حاصل کرے گی تو وہ دینی مسائل جانتی ہو گی، زندگی کے ہر باب پر دینِ اسلام کی روشنی میں مسائل حل کر سکے گی، اس طرح ایک اچھی نسل پروان چڑھا کر ملک و قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکے گی، کیونکہ تعلیم یافتہ عورت پورے گھرانے کے لئے مشعلِ راہ ہے، اس کا بہترین ذریعہ دعوت اسلامی کے مدارس و جامعات ہیں، جہاں بغیر معاوضے کے اسلامی بہنیں عالمہ کورس کرکے عالمہ بن کر اپنی دنیا اور آخرت سنوار رہی ہیں۔

عورت کے لئے پردہ کرنا فرض ہے، جب تک وہ اس کے بارے میں علم حاصل نہیں کرے گی، وہ شرعی پردہ کس طرح کر پائے گی کہ مجھے کس کس سے پردہ کرنا ہے اور کس سے پردہ نہیں کرنا، یہ معلومات حاصل کرنے کے لئے اس کا علم حاصل کرنا ہوگا ،ورنہ شرعی مسائل کو جان نہ سکے گی، عالمہ کورس کرنے سے فرض علوم سیکھنا اور اس کے ساتھ ساتھ تمام مہلکات مثلاً جھوٹ، غیبت، حسد، خود پسندی وغیرہ کے بارے میں علم حاصل کرنا بے حد آسان ہوگیا ہے۔

دعوت اسلامی ان تمام شعبہ جات میں پیش پیش ہے، مدارس و جامعات میں اسلامی بہنوں کے لئے اعلی سطح پر تعلیم کا انتظام ہے، اب تو علمِ دین کے ساتھ ساتھ عصری علوم کی تعلیم بھی دی جارہی ہے، تاکہ دنیاوی اعتبار سے بھی خواتین کسی سے کم تر نا کہلائیں، علماء انبیاء کے وارث ہیں، یہ اتنی بڑی فضیلت علمِ دین حاصل کرنے کی ہی ہے۔

ہمارے اسلاف پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ صحابیات اور اُمہات المؤمنین کی زندگی خواتین کے لئے بہترین نمونہ ہے، صحابیات علمِ دین حاصل کرنے کے جذبے سے سرشار تھیں، انہوں نے سرکار صلّی اللہُ علیہ وسلّم سے علمی مسائل سیکھے، اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ، طاہرہ، عالمہ، زاہدہ کی علمی شان و شوکت ہے۔

حضرت سیدنا موسٰی اشعری رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں، ہم اصحابِ رسول کو کسی بات میں اشکال ہوتا تو ہم آپ رضی اللہُ عنہا کے پاس سے ہی اس بات کا علم پاتے۔" (سنن ترمذی، صفحہ 873، حدیث3882)

اس سے حضرت عائشہ رضی اللہُ عنہا کی علمی حیثیت کا معلوم ہوتا ہے، آپ کے سامنے بڑے بڑے اہلِ علم کی عقلیں اور زبانیں گنگ نظر آتیں، آپ بہترین عالم اور زبردست فقیہہ تھیں۔ حضرت سیدناعطا رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں،حضرت عائشہ رضی اللہُ عنہا تمام لوگوں سے بڑھ کر فقیہہ اور تمام لوگوں سے بڑھ کر عالمہ اور تمام لوگوں میں سب سے زیادہ اچھی رائے رکھنے والی تھیں۔ ( المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابہ کانت عائشہ افقہ الناس)

معلوم ہوا کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ کو اللہ پاک نے علم و فقاہت کی نعمتوں اور بھرپور ذہنی صلاحیتوں سے نواز کر اس حوالے سے سب سے ممتاز کر دیا، اپنی امی جان کی سیرت طیبہ کو سامنے رکھتے ہوئے ہم سب کو چاہئے کہ اپنے دل میں جذبہ علمِ دین بیدار کریں، اللہ پاک ان کے صدقے ہمیں بھی علم دین حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (فیضان عائشہ صدیقہ)

حضرت عائشہ کا یہ روشن پہلو اسلامی بہنوں کی توجّہ کا طالب ہے، اسلامی بہنوں کو چاہئے کہ وہ علمِ دین حاصل کر کے خود کو دنیا و آخرت میں سرخرو کریں، مگر افسوس! اس وقت جبکہ علم دین حاصل کرنا مشکل نہ رہا، ہماری اکثریت علم سے دور دکھائی دیتی ہے، نماز پڑھنے والیوں کو وضو کا درست طریقہ معلوم نہیں ہوتا، کثیر عورتیں رمضان کے فرض روزوں، حج و زکوۃ کے ضروری مسائل سے نا آشنا ہیں اور ہماری صحابیات کو جب بھی کوئی دینی اور دنیاوی الجھن ہوتی تو فوراً بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر اس کا حل معلوم کر لیا کرتی تھیں، اے کاش! ہمیں بھی علمِ دین حاصل کرنے کی تڑپ پیدا ہوجائے اور اپنی آخرت سنوارنے کی فکر پیدا ہوجائے۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہم اسلامی بہنوں کے اندر خوب علم دین سیکھنے کا، اس پر عمل کرنے کا جذبہ بیدار ہو جائے، تاکہ ہم اپنی دنیا وآخرت کو سنوار سکیں۔آمین

(یہ مضمون صحابیات و صالحات کے اعلیٰ اوصاف حصہ اول کے باب صحابیات اور شوقِ علم دین کے صفحہ 102 سے 138 تک میں سے لکھا ہے اور فیضان عائشہ صدیقہ کتاب سے کچھ حوالے لئے ہیں)

امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمۃ اللہ علیہ کی جلالت، قدروعظمت اور شان کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ تابعیت کے عظیم دینی اور روحانی شرف کے حامل ہیں، امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی یہ ایسی فضیلت ہے، جس نے اپنے معاصر فقہاء، محدّثین میں اسنادِ عالی کی حیثیت سے ممتاز کردیا۔

امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فقہ و کلام کے علاوہ بطورِ خاص حدیث پاک کی تعلیم و تحصیل کی تھی اور اس کے لئے حضرات محدّثین کی روشنی کے مطابق اسفار بھی کئے، چنانچہ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ جو رجالِ علم و فن کے احوال و کوائف کی معلومات میں امتیازی شان کے مالک ہیں، اپنی مشہور اور انتہائی مفید تصنیف "سیر اعلام النبلا" میں امام صاحب کے تذکرہ میں لکھتے ہیں"امام صاحب نے طلبِ حدیث کی جانب خصوصی توجّہ کی اور اس کے لئے اسفار کئے۔"

امام معصرین کدام جو اکابر حفاظِ حدیث میں ہیں، امام صاحب کی جلالت شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی رفاقت میں حدیث کی تحصیل کی، تو وہ ہم پر غالب رہے اور زہدو پرہیزگاری میں مصروف ہوئے تو اس میں بھی فائق رہے اور فقدان کے ساتھ شروع کی تو تم دیکھتے ہو کہ اس فن میں کمالات کے کیسے جوہر دکھائے۔

مشہور امام تاریخ و حدیث حافظ ابو سعد سمعانی کتاب الاشاب میں امام صاحب کے تذکرہ میں لکھتے ہیں"کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ طلب علم میں مشغول ہوئے تو اس درجہ غایت انہماک کے ساتھ ہوئے کہ جس قدر علم انہیں حاصل ہوا، دوسروں کو نہ ہو سکا۔

غالباً امام صاحب کے اس کمالِ علمی کے اعتراف کے طور پر امام احمد بن حنبل اور امام بخاری کے استاذ حدیث شیخُ الاسلام حافظ عبدالرحمن مقری، جب امام صاحب سے کوئی حدیث روایت کرتے تو اس الفاظ کے ساتھ روایت کرتے :"اخبرنا شاہنشاہ"یعنی ہمیں علمِ حدیث کے شہنشاہ نے خبر دی۔"

اس بات کا اعتراف محدثِ عظیم حافظ یزید بن ہارون نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ :"امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پاکیزہ سیرت، متقی وپرہیزگار، صداقت شعار اور اپنے زمانے میں بہت بڑے حافظ حدیث تھے۔"

امام بخاری کے ایک اور استاذِ حدیث امام مکی بن ابراہیم فرماتے ہیں:کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ پرہیزگار، عالم،آخرت کے راغب،بڑے راست باز اور اپنے معاصرین میں سب سے بڑے حافظِ حدیث تھے۔

مشہور محدث ابو المقائل حفص بن سلم امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی فقہ و حدیث میں امام کا اعتراف ان الفاظ سے کرتے ہیں کہ "امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے زمانے میں فقہ و حدیث اور پرہیزگاری میں امام الدنیا تھے، ان کی ذات آ زمائش تھی، جس سے اہل سنت و جماعت اور اہل بدعت میں فرق و امتیاز ہوتا تھا، انہیں کوڑوں سے مارا گیا، تاکہ وہ دنیا داروں کے ساتھ دنیا میں داخل ہوجائیں (کوڑوں کی ضرب برداشت کرلی)مگر دخولِ دنیا کو قبول نہیں کیا۔"

علمِ حدیث میں امام صاحب کے اس بلند مقام و مرتبہ کی بناء پر اکابر محدثین اور آ ئمہ حفاظ کی جماعت میں عام طور پر امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ کیا جاتا ہے!

یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا

ہراک کا نصیب یہ بخت رسا کہاں