کسی بھی معاشرے (Society) کو ترقی و کامیابی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے اوّلاً اس کے افراد کی درست تربیت ضروری ہے کیونکہ معاشرہ انہی افراد کا مجموعہ ہوتاہے، جہاں افرادی تربیت کا اہتمام نہ ہوتو وہ معاشرہ اخلاقی و معاشرتی اعتبار سے زوال پذیر رہتاہے۔ کائنات کے سب سے بڑے عقل مند ، دانشور، مصلح، منتظم اور مربی و معلم جنابِ سرورِ کائنات محمد مصطفےٰ ﷺ کے مبارک کردار و عمل سے پتا چلتا ہے کہ اوّلاً افرادی قوت کو درست سمت گامزن کیا جائے، ان کے نظریات، اعمال، کردار، گفتار اور جملہ متعلقات حیات کی درجہ بدرجہ تربیت کی جائے تو ایک مضبوط اور ستھرا معاشرہ قائم ہوتاہے۔

یہاں ایک یہ بات بھی ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ جب کسی بھی فرد یا معاشرے کی تربیت کسی خاص نظامِ فکر کے مطابق کرنی ہو تو ان کے سامنے ایک ایسے عملی نمونے کو رکھنے کی ضرورت پڑتی ہے کہ جسے دیکھ کر معاشرہ اپنے شب و روز اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔ صرف اصول و ضوابط مجمل و مفصل بیان کردینا کافی نہیں ہوتا۔ اللہ کریم کا نظام کائنات اس پر ایک قوی ترین گواہ ہے کہ رب تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا اور اس کی اصلاح کے لئے جہاں احکام و اصول بصورتِ کتب سماویہ دئیے وہیں ہر کتاب کے ساتھ ایک رسول اور پیغمبر کو بھی مبعوث فرمایا جو ربِّ کریم کی ان تعلیمات و احکام کا کامل نمونہ ہوتے تھے۔ انبیاء کرام کا مبارک کردار و عمل قوموں کو ان کی کتب پر عمل کرنا آسان کردیتا تھا۔

اسی طرح خالقِ کائنات نے قراٰن کریم کی تعلیمات و احکامات جو کہ رہتی دنیا تک کے لئے ذریعہ ہدایت و اصلاح ہیں ان کو سمجھنے اور عمل پیرا ہونے کے لئے عملی نمونہ دیکھنے کے لئے شاہِ موجودات جنابِ محمد مصطفےٰ ﷺ کے کردار و عمل کو ہمارے سامنے عیاں فرمایا۔

احکامات و قوانین پر عمل درآمد کے لئے عملی نمونہ اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ جب ایک ذات ان اصول و تعلیمات کا عملی پیکر بن کر سامنے آتی ہے تو انسانی ذہن خود بخود ان کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے اور ان کے قابلِ عمل ہونے کے بارے میں کسی شک و شبہ یا اعتراض و تنقیص کا شکار نہیں رہتا۔

قراٰنِ کریم مکمل ضابطۂ حیات ہے، یہ کتابِ معظم رہتی دنیا تک کے لئے ہدایت کا ذریعہ ہے بلکہ یوں کہئے کہ حیاتِ انسانی کے شب و روز کے لئے ایک قانونی دستاویز ہے اور اصول و ضوابط اور احکام و قوانین کے اس آئینِ الٰہی کا واحد و یکتا کامل و اکمل نمونہ ہمارے پیارے نبی محمد مصطفےٰ ﷺ کی ذاتِ ستودہ صفات ہے۔

قراٰنِ کریم اور رسولِ عظیم دونوں کے لازم و ملزوم ہونے کا بیان بھی بڑادلچسپ ہے وہ یوں کہ قراٰنِ پاک رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک سیرت کو ہمارے لئے کامل عملی نمونہ قرار دیتا ہے، چنانچہ سورۃ الاحزاب کی آیت21 میں ہے:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ترجمۂ کنزالایمان:بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے ۔

اور جب ہم رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیروی و اطاعت، آپ کی مبارک سیرت و حیات اور اخلاق و کردار کے بارے میں جاننے کی طرف بڑھتے ہیں تو صدیقۂ کائنات، محبوبہ محبوبِ ربّ العالمین اُمُّ المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا کا مبارک فرمان: كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ یعنی قراٰن ان کے خُلق ہی کا تو بیان ہے۔(مسنداحمد، 9/380، حدیث: 24655) سامنے آتا ہے۔

خلاصہ یہ نکلا کہ اگر رسولِ کائنات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارک اَخلاق و سیرت کو جاننے اور سمجھنے کے لئے قراٰنِ کریم کا پڑھنا ضروری ہے اورتو قراٰنِ کریم پر عمل کو آسان بنانے کے لئے رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک سیرت و حیات کا مطالعہ ضروری ہے۔

آج کے پُرفتن دور میں جہاں ہر طرف اخلاقی زبوں حالی عام ہے، رشتوں کی قدریں کھوتی جارہی ہیں، باہمی پیارمحبت اور امن و آشتی کا ماحول نفسی نفسی میں بدلتا جارہاہے، تربیت و رہنمائی کرنے والے خال خال ملتے ہیں، مستقبل کے معمار تیار کرنے والے خود زمانۂ حال کے معمار کہلانے کے قابل نہیں، معاشرے سے اچھے خصائل ختم ہوتے جارہے ہیں، غور کیا جائے تو اس گمراہی اور پستی کا شکار ہونے کی ایک بہت بڑی وجہ ہم مسلمانوں کی اپنے دین اور سرورِ کائنات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک سیرت سے لاعلمی یا پھر علم ہوتے ہوئے بھی غیروں کے طریقوں کو اپنانے کی رَوِش ہے۔

ہم تین سال کے بچے کو مہنگے سے مہنگے اسکول و ٹیوشن کے ذریعے آٹھ آٹھ گھنٹے تک M for Mango سکھانے کا اہتمام تو کرتے ہیں لیکن میم سے محمد(ﷺ) سکھانے کے لئے یا تو بالکل ہی انتظام نہیں اور اگر ہے تو وہی صرف بیس سے تیس منٹ۔ ہم بیس بیس سال تک دنیوی نصابی کتابیں تو پڑھ لیتے ہیں، غیر نصابی مطالعہ بهی اتنا کہ سینکڑوں رسالے، ناول، ڈائجسٹ، ماہانہ میگزین، اخباریں اور ناجانے کیا کیا چاٹ گئے لیکن کبھی اپنے پیارے و محسن نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زندگی کو مکمل نہیں پڑھا۔

كتنے ہی ایسے نوجوان ملتے ہیں جو سکون کی تلاش، مستقبل کی تعمیر، بہترین اخلاقی اقدار، خوش رہنے کے طریقے، غم بھلانے کے ذرائع اور اس جیسے کئی اہم موضوعات و مسائل پر غیرمسلم مصنفین کی کتب اور ان کے لٹریچر کے حوالے دیتے، پڑھتے اور دوسروں کو ترغیب دلاتے ہیں، ان بےچاروں کو اتنا علم ہی نہیں ہوتا کہ ان مسائل کے جو حل اور جو طریقے اللہ کے کامل و اکمل شاہکار ، مدینے کے تاجدار محمد عربی ﷺ نے دئیے ہیں یہ دنیا کے ماہرین نفسیات تو ابھی ان کے عشر عشیر تک نہیں پہنچے۔

آخر وہ کون سا ایشو ہے، وہ کون سی پریشانی ہے، وہ کون سا اہم سے اہم تر معاملہ ہے جس کے بارے میں رسولِ عربی، آخری نبی ﷺ نے اپنے کردار، گفتار اور تعلیمات سے رہنمائی نہ فرمائی ہو، اور بھلا ہو بھی کیسے سکتاہے کہ قراٰنِ کریم ایک مکمل ضابطۂ حیات اور آپ ﷺ اس کتابِ عظیم کے کامل عامل اور قراٰن کے آپ کے خلق کا بیان کار ہے۔

یادرکھئے! سیرتِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور معاشرتی و اخلاقی تربیت میں آپ ﷺ کے مبارک کردار و انداز کا مطالعہ جہاں ہمیں اخلاقی پستیوں سے نکالے گا وہیں اس کے دیگر بھی بہت سے انفرادی و اجتماعی اور اقتصادی و معاشرتی فوائد ہیں۔

معاشرے کی ہدایت و راہنمائی، اصلاحِ احوال اور تربیت کے لئے ایک استاذ، مبلغ، مصلح اور راہنما کو کیسا ہونا چاہئے؟ رسولِ کریم ﷺ کی مبارک سیرت و فرامین میں اس کا ایک پورا نصاب قولی اور عملی دونوں صورتوں میں موجود ہے۔

مطالعۂ سیرت سے پتا چلتا ہے کہ وہ کیا اندازِ حیات اور کیا تعلیمات تھیں جن کی بدولت خانہ جنگی میں الجھے ہوئے قبائل عرب دنیا کی مضبوط ترین طاقت بن کر ابھرے۔

وہ کیسا کردار تھا کہ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کردینے والے معاشرے کے لوگ سارے جہان کی بیٹیوں کی عزت و ناموس کی حفاظت کا درس دینے والے بن گئے۔

جی ہاں! یہ رسولِ عربی ﷺ ہی کی سیرت و تعلیمات تھیں جن سے بدولت مختصر ترین عرصے میں عرب کے ناخواندہ لوگ عظیم اسکالر اور آسمانِ ہدایت کے تارے بن گئے اور راستوں اور بازاروں میں سامان رکھ کر بیچنے والے چھوٹے تاجر ساری دنیا کے اقتصادی نظام میں انقلاب لے آئے۔

یہ کردارِ حبیبِ کِردِگار ہی ہے کہ جس سے ایک باپ کو پتا چلتا ہے کہ بیٹیوں کی تربیت کیسے کرنی ہے؟ شادی شدہ بیٹی کے گھر جانے کا انداز کیا رکھنا ہے؟ بیٹی کے شوہر کے ساتھ کیا انداز رکھنا ہے؟ اولاد کو دشمن ستائیں تو صبر کیسے کرنا ہے؟

یہ بی بی آمنہ کے لعل ہی کی زندگانی ہے جس سے بیٹے کو درس ملتاہے کہ سگی ماں تو سگی ماں ہے ، صرف دودھ پلانے والی ماں کی تعظیم کیسے کرنی ہے؟ ماں باپ کے وِصال کے بعد بھی ان کے حقوق کا کیا کیا خیال رکھنا ہے۔

یہ بی بی عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ کے محبوب ہی کی ذا ت ہے جس سے شوہرو ں کو پتا چلتاہے کہ بیویوں میں باہم حقوق کی ادائیگی کا کامل خیال کیسے رکھا جاتاہے۔

دیواروں اور کمروں پر مشتمل جگہ کو گھر کا نام دینے والی عورت کے حقوق کیا ہیں اور کیسے ادا کرنے ہیں یہ کردارِ رسولِ عربی سے ہی پتا چلتاہے، یہ انہیں کی مبارک تعلیم ہے کہ خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِاَهْلِهِ، وَاَنَا خَيْرُكُمْ لِاَهْلِي یعنی تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے لئے بہترین ہو اور میں اپنے اہلِ خانہ کے لئے تم سب سے بہترین ہوں۔( ترمذی،5/475،حدیث:3921)

ایک خاندان، ادارے، قبیلے یا علاقے کی قیادت کرنے والوں کو کامل نمونہ برائے عمل انہیں کی مبارک ذات میں ملتا ہے۔

الغرض استاد ہو یا شاگر، مالک ہو یا نوکر، باپ ہو یا بیٹا، تاجر ہو یا گاہک حاکم ہو یا رعایا رسول اللہ ﷺ کی مبارک سیرت اور فرامین کے آئینہ میں ہر کسی کے لئے ترقی و کامیابی اور فلاح موجود ہے۔ کس کو، کس طرح اور کیا کچھ سیرت و فرامینِ مصطفےٰ سے ملتا ہے۔ اس کا اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سلسلہ وار کالمز میں بیان کیا جائے گا۔اللہ کریم ہمیں رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سچی پیر وی کا جذبہ عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


(1) حضرت سیّدنا حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتےہیں: عالم کی موت دینِ اسلام میں ایک ایسا شگاف ہے کہ جب تک رات اور دن بدلتے رہیں گے کوئی چیز اس شِگاف کو نہیں بھر سکتی۔( جامع بیان العلم وفضلہ،ص213،رقم:654)حضرت سیّدنا سفیان بن عُیَیْنَہ رحمۃ اللہ علیہفرماتے ہیں: لاعلموں کے لئے بھلا اہلِ علم کی وفات سے زیادہ سخت مصیبت اور کیا ہوسکتی ہے۔( شرح السنۃ للبغوی،1/249)

(2) حضرت کعب فرماتے ہیں:تم پر لازم ہے کہ علم کے چلے جانے سے پہلے اسے حاصل کرلو، بےشک اہلِ علم کا وفات پانا علم کا جانا ہے ، عالم کی موت گویا ایک تارا ہے جو ڈوب گیا، عالم کی موت ایک ایسی دراڑ ہے جو بھری نہیں جاسکتی، ایک ایسا شگاف ہے جو پُر نہیں ہوسکتا، علما پر میرے ماں باپ قربان، ان کے بغیر لوگوں میں کوئی بھلائی نہیں۔(اخلاق العلماء للآجری، صفحہ 31)

(3) حضرت ابووائل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا:کیا تم جانتے ہو کہ اسلام کیسے کمزور ہوگا؟ لوگوں نے عرض کی: کیسے؟ فرمایا:جیسے جانور اپنے موٹاپے سے کمزوری کی طرف جاتاہے، اور جیسے کپڑا طویل عرصہ پہننے سے کمزور ہوجاتاہے اور جیسے درہم طویل عرصہ چلتے رہنے سے گھِس جاتاہے، ہوگا یوں کہ ایک قبیلہ میں دو عالم ہوں گے، پس جب ان میں سے ایک فوت ہوجائے گا تو آدھا علم جاتا رہے گا اور جب دوسرے کا انتقال ہوجائے گا تو سارا علم جاتا رہے گا۔ (اخلاق العلماء للآجری،صفحہ33)

(4) حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:لوگ اس وقت تک خیر کے ساتھ رہیں گے جب تک کہ پہلے سے دوسرا علم حاصل کرتا رہے گا، پس جب کبھی پہلا فوت ہوگیا اور دوسرے نے اس سے علم نہ سیکھا تو یہ لوگوں کی ہلاکت ہوگی (یعنی جب علم اگلی نسل تک نہ جائے گا تو گویا وہ لوگ ہلاک ہوجائیں گے)۔ (سنن دارمی، المقدمہ، باب ذھاب العلم، جلد1، صفحہ314، حدیث:255)

(5) حضرت سیّدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ شیاطین نے ابلیس سے کہا: اے ہمارے آقا! کیا معاملہ ہے ؟ ہم نے دیکھا ہے کہ آپ ایک عالم کی موت پر جتنا خوش ہوتے ہیں عابد کی موت پر نہیں ہوتے؟ ابلیس نے کہا: چلو میرے ساتھ آؤ، وہ سب چل پڑے اور ایک عبادت گزار کے پاس آئے جو نماز پڑھ رہا تھا، (وہ نماز سے فارغ ہوا تو ) ابلیس نے اسے کہا: ہم آپ سےایک سوال پوچھنا چاہتے ہیں، وہ یہ کہ کیا آپ کا رب اس بات پر قادر ہے کہ وہ ساری دنیا کو ایک انڈے میں ڈال دے؟ اس عابد نے کہا: نہیں، ابلیس نے اپنے چیلوں سے کہا: کیا تم نے دیکھا کہ وہ اسی وقت کافر ہوچکا ہے، پھر وہ ایک عالم کے پاس آئے جو اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا باتوں اور خوش طبعی میں مصروف تھا، ابلیس نے کہا: ہم آپ سے کچھ پوچھنا چاہتے ہیں؟ عالمِ دین نے کہا: پوچھیں، ابلیس نے کہا: کیا آپ کا رب اس بات پر قادر ہے کہ وہ ساری دنیا کو ایک انڈے میں ڈال دے؟ انہوں نے کہا: بالکل کرسکتاہے؟ ابلیس نے کہا: کیسے؟ عالمِ دین نے کہا: جب وہ اس کا ارداہ فرمائے گا تو صرف کن فرمائے گا اور ہوجائے گا۔ ابلیس نے اپنے چیلوں سے کہا: دیکھا تم لوگوں نے، یہ اپنے نفس کے پیچھے نہیں چلتا اور یہی چیز مجھ پر سب سے زیادہ بھاری ہے۔(جامع بیان العلم و فضلہ، جلد1، صفحہ127، رقم:127)

(6) علم حاصل كرو اس سے پہلے کہ یہ قبض کرلیا جائے، علم کاقبض ہونا اہلِ علم کے وصال سے ہوتاہے، عالم اور متعلم یعنی دینی استاد اور شاگرد دونوں خیر میں حصہ دار ہوتے ہیں، ان کے علاوہ تمام کے تمام لوگوں میں کوئی خیر نہیں، بے شک لوگوں میں سے سب سے بڑا غنی وہ عالم ہے جس کے علم کے لوگ محتاج ہوں، پس جو کوئی اس کی طرف حاجت لاتاہے نفع پاتاہے، اگر لوگ اس کے علم سے بے پرواہ ہو جائیں تو بھی عالم کو اپنے علم کا وہ نفع ضرور ملتا ہے جو اللہ کریم نے اس میں رکھا ہے، کیا بات ہے ؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے علما رخصت ہوتے جارہے ہیں اور بے علم لوگ علم حاصل نہیں کرتے، مجھے ڈر ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ علم رکھنے والا پہلا رخصت ہوجائے اور دوسرے نے اس سے علم نہ سیکھا ہو، اگر علم والا مزید علم کی طلب کرے تو اس سے علم میں اضافہ ہی ہوگا کچھ نقصان نہ ہوگا، اوراگر جاہل علم کی طلب کرے تو علم کو موجود پائے گا، آخر کیا بات ہے کہ میں تمہیں کھانے سے سیر تو دیکھ رہا ہوں لیکن علم سے خالی دیکھ رہاہوں۔(جامع بیان العلم و فضلہ، جلد1، صفحہ602، رقم:1036)

(7) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسولِ کریم ﷺ کو فرماتے سنا:طالب علم کو جب راہِ طلبِ علم میں موت آجائے تو وہ شہادت کی موت ہے۔(جامع بیان العلم و فضلہ، جلد1، صفحہ121، رقم:115)

(8) حضرت سیّدنا عبداللہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے: جیسے جیسے علما کا وصال ہوتا جائے گا حق کا اثر کم ہوتا جائے گا، یہاں تک کہ جہالت کی کثرت ہوجائے گی اور علماء رخصت ہوجائیں گے، پس لوگ اپنی جہالت پر ہی عمل کریں گے اور جاہلوں سے ہی دین سیکھیں گے اور راہِ راست سے گمراہ ہوجائیں گے۔ (جامع بیان العلم و فضلہ، جلد1، صفحہ 603، رقم:1038)

علمی شخصیات کے وصال پر اہلِ دانش کا اظہارِ افسوس

حضرت سیّدنا عبدُاللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے امیر ُالمؤمنین حضرت سیّدنا عمرفاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے وصال پر فرمایا:میں سمجھتا ہوں کہ آج علم کے دس میں سے نو حصّے چلے گئے۔( معجم کبیر،9/163، رقم:8809)

جب حضرت سیّدنا زید بن ثابت کا وصال ہوا تو حضرت سیدنا عبداللہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس طرح علم رخصت ہوتاہے، تحقیق آج علمِ کثیر دفن کردیا گیا۔(مستدرک للحاکم، کتاب معرفۃ الصحابۃ، جلد3، صفحہ484، حدیث:5810)

حضرت ابوایّوب سختیانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جب مجھے اہل سنت میں سے کسی فرد کے فوت ہونے کی خبر ملتی ہے تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے میرے اعضاء میں سے کوئی عضو جدا ہوگیا ہو۔(حلیۃ الاولیاء، ایوب سختیابی، جلد3، صفحہ9)

ہماری ذمہ داری کیا ہے؟

تعلیم و تعلم کی فضیلت و اہمیت کو ہم جانتے ہیں، علمائے کرام تعلیم و تعلیم کی وجہ سے باعثِ شرف و فضل ہیں، وہ کسی کو دنیا کا مال نہیں دیتے بلکہ علم سکھاتے ہیں اسی لئے دینِ اسلام میں ان کو فوقیت حاصل ہے، ان کی زندگیاں اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ لوگوں کو راہِ حق کی جانب بلانے کے لئے ہوتی ہیں،علماء گمراہوں کو ہدایت کی جانب بلاتے ہیں، لوگوں کی جانب سے اذیتوں پر صبر کرتے ہیں، مردہ دلوں کو کتابِ الٰہی کے ذریعے زندہ کرتے ہیں، بصیرت سے اندھوں کو اللہ کے نور سے بینا کرتے ہیں، شیطان کے ہاتھوں قتل ہونے والے کتنے ہی ایسے ہیں کہ جن کو علما نے زندہ کردیااور کتنے ہی ہیں کہ جو گمراہی کے گڑھے میں تھے علما نے ان کو راہِ راست دکھائی۔یاد رہے کہ جو اپنے نفس کے لئے جیتا ہے جلد مرجاتاہے اور جو نفس کی بجائے کسی اچھے مقصد کے لئے جیتا ہے تو برسوں زندہ رہتاہے۔

پیارے اسلامی بھائیو! علماکا وصال فرما جانا ہمارے لئے لمحۂ فِکریہ ہے، اس لئے اَشد ضرورت ہے کہ ہم علمائے کرام کی قدرو توقیر اورعلمِ دین کے حصول کی جانب متوجہ ہوں، اپنے بچوں کو حافظِ قراٰن اور عالمِ دین بنائیں۔ ([1])

علماہی کے دَم سے علم کا وجود ہے جب اللہ پاک اس دنیا سے علما کو اُٹھالے گا تو ان کی جگہ جاہل بیٹھ جائیں گے اور دین کے حوالے سے ایسی باتیں کریں گے کہ وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ انٹرنیٹ پر اپنی مرضی کی دینی تشریحات اور عقائدِ اہلِ سنّت کے مخالفین کی موجودگی ہمارے دور میں عام ہے۔ ہر مسلمان کو چاہئے کہ اپنے علاقے اور شہر کے عاشقانِ رسول علمائے کرام کا دامن تھام لے اور ہر طرح کے معاملے میں صرف مفتیانِ اہلِ سنّت سے شرعی راہنمائی لے۔

نیز نوجوان علما کی زیادہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے عقائد و اعمال کی حفاظت، نئی نسل کی اخلاقی وعلمی تربیت کے لئے تقریر و بیان، تدریس اور تحریر جیسے اہم ترین مَحاذوں پر اپنے اَکابِر کی کمی کو پوراکرنے کی کوشش کریں۔

کسی عالمِ دین کے وصال پر یہ ذہن نہ بنالیں کہ اب امت ختم ہوگئی ، نہیں نہیں بلکہ جو اہلِ علم ، علمائے کرام و مفتیانِ عظام حیات ہیں ان کو غنیمت جانیں، ان کے وجود پر اللہ کا شکر ادا کریں اور ان کے دامن سے مخلص ہو کر وابستہ ہوجائیں۔

ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم علمِ دین سیکھنے سکھانے کے لئے کمر کس لیں، عوام و خواص سبھی کو علمِ دین کی جانب متوجہ ہونے کی اشد ضرورت ہے، دینی طلبہ کو تو بہت ضرورت ہے کہ دین سمجھنے اور علم کی گہرائی تک جانے کے لئے خوب محنت کریں۔ طلبا کو یاد رکھنا چاہئے کہ بڑے بڑے علمائے کرام و مفتیان عظام نے یونہی مقام نہیں پایا انہوں نے اپنی زندگیاں علم دین کی طلب میں گزاردیں، علم کے لئے مال خرچ کیا جمع نہیں کیا، سفر کئے ایک ہی جگہ آرام میں نہیں رہے، صبر کیا ، رضائے الٰہی پر راضی رہے، عاجزی و انکساری کو اپنایا۔



([1])اپنے بچوں کو حافظِ قراٰن بنانے کے لئے دعوتِ اسلامی کے مدارسُ المدینہ اور عالمِ دین بنانے کے لئے جامعاتُ المدینہ میں داخلہ دلوائیے۔


تحقیق کسے کہتے ہیں؟

Sat, 23 Jan , 2021
2 days ago

تحقیق کی لغوی واصطلاحی تعریف :

تحقیق ’’حق‘‘ سے مشتق ہے اور حق کہتے ہیں درست ومحکم شے کو،اس کے تمام مشتقات میں حقیقت سے ہم آہنگی اور استحکام کا مفہوم پایاجاتاہے۔تحقیق کی اصطلاحی تعریف کرتے ہوئے حضرت علامہ شریف جرجانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :’’التحقیق :اثبات المسألۃ بدلیلھایعنی مسئلے کو اس کی دلیل کے ساتھ ثابت کرنا۔‘‘(التعریفات،حرف التاء،ص40) علمی تحقیق کی تعریف یوں بھی کی گئی ہے:” کسی معین میدان میں ایسی منظم سعی وکوشش جس کا مقصد حقائق اور اصولوں کی دریافت ہو ۔“ بعض نے یہ کہا : دقیق اور منضبط مطالعہ جس کا ہدف کسی مسئلے کی وضاحت یا حل ہو اور اس مطالعہ کے طریقے اور اصول مسئلے کے مزاج اور حالات کے اعتبار سے مختلف ہوسکتے ہیں۔ ایک تعریف یہ ہے: منظم جستجو اور کھوج جس میں علمی حقائق کے لیے متعین شدہ مختلف اسالیب اور علمی مناہج اختیار کئے جائیں اور جس سے مقصود ان علمی حقائق کی صحت کی تحقیق یا ان میں ترمیم یا اضافہ ہو۔(تحقیق وتدوین کا طریقہ کار،ص22) باالفاظ دیگر استدلال ،شواہد اور مآخذ کی بینادپر کسی نظریہ کو ثابت کرنے یاکسی شے کو محکم بنانے یاکسی بات کی درستی کو ثابت کرنے یا کسی امر کی حقیقت کو آشکار کرنے کے لئے باقاعدہ اور مربوط فکری وعلمی جدوجہدکو تحقیق کہتے ہیں۔

تحقیق کے تقاضے اور احتیاطیں :

جس طرح ہرکام کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں یوں ہی تحقیق کے بھی کچھ تقاضے اور احتیاطیں ہیں ،مثلاً

(۱) تحقیق کا خواہش مند متعلقہ موضوع کی مبادیات سے واقف ہو ۔

(۲)موضوع سے متعلق کتب ومراجع سے مراجعت کی صلاحیت رکھتا ہو۔

(۳)تحقیق کرنے والا خوب چھان بین سے کام لے،جان نہ چھڑائے۔

(۴)گہرائی وگیرائی سے مطالعہ کرے،سرسری وسطحی مطالعے پر اکتفا ءنہ کرے۔

(۵)درایت وروایت میں مہارت وممارست رکھتاہو۔

(۶)دورانِ تحقیق اصل موضوع سے نہ ہٹے ۔

(۷)اندازِ بیان سادہ اور واضح ہو،تعبیرات گنجلک پن اور جھول سے پاک ہوں۔

میدان تحقیق کی مختلف جہتیں:

بدلتے زمانے، تغیرات عالم اور علمی ترقی کے سبب جس طرح ہر علم وفن میں تنوع اور توسیع ہوتی جارہی ہے ٹھیک اسی طرح ”تحقیق“ کا میدان بھی بڑا وسیع ہوتا جارہا ہے،تحقیقات کی جہتوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔دور حاضر میں درج ذیل علمی کام بھی تحقیق کے دائرے میں آتے ہیں:

(01)متعدد نسخوں سے تقابل کرکے کسی کتاب کا صحیح ترین نسخہ تیار کرنا۔جیسے المدینۃ العلمیہ کی پیش کردہ” بہارشریعت“

(02)مخطوطے کی تصحیح کرکے اسے کتابی شکل میں پیش کردینا۔مثلا جدالممتار علی رد المحتار ،التعلیقات الرضویۃ علی الحدیقۃ الندیۃ از المدینۃ العلمیہ

(03)کسی مشکل متن کی تسہیل وتوضیح کی غرض سے اُس پر حاشیہ نگاری کرنا ،اس پربین السطور کا اہتمام کرنا یا قوسین میں معانی کی وضاحت کردینا۔جیسے مفتی نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ کا رسالہ ” فضل العلم والعلماء“ ،امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ کا رسالہ ”اسماع الاربعین“ اوراستاد عبدالواحد مدظلہ العالی کا حاشیہ” الفرح الکامل علی شرح ماۃ عامل“

(04)کسی مفصل وطویل کتاب کی تلخیص کرنا۔جیسے مختصرمنہاج العابدین ،لباب الاحیاء(المدینۃ العلمیہ سے ان خلاصوں کے تراجم شائع ہوچکے ہیں)

(05) کتب ورسائل کی تخریج کرکے اس میں درج حوالہ جات کوکتاب،باب،فصل، جلداور صفحہ نمبر کی قیودات کے ساتھ بیان کردینا۔اسلامک ریسرچ سینٹر(المدینۃ العلمیہ )کی کتب میں یہ طریقہ کار رائج ہے۔

(06)کتاب کے اصلاح طلب یا توضیح کے متقاضی مقامات پر تحقیقی حواشی کا اہتمام کرنا،اس کی کثیر صورتیں بنتی ہیں جن میں سے یہاں 11صورتیں اور اُن کی مثالیں ذکرکی جاتی ہیں :

علمی تحقیق کی 11 صورتیں:

(۱)بسا اوقات کسی عبارت کے ظاہر سے اہلسنّت کے کسی مسلمہ عقیدہ یا معمول پر زدپڑرہی ہوتی ہے ۔محقق کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مقام کی احسن طریقے پر تحقیق وتفہیم کرے۔مثلاً

اصلاح اعمال(ترجمہ الحدیقۃ الندیہ)،ج1،ص678پر مذکورہے:’’اورحدیث شریف میں وارِد ’’سختی نہ کرو‘‘کامعنی یہ ہے کہ لوگوں کوحاجات طلب کرنے اوران کے پوراکرنے کے لئے مخلوق کے پاس نہ بھیجو۔‘‘…اس پر یہ تحقیقی حاشیہ دیاگیاہے کہ’’مطلب یہ ہے کہ حقیقی طورپرحاجات کواللہ عزوجل ہی پورافرماتاہے اورایک بندۂ مومن کاعقیدہ بھی یہی ہوناچاہئے کہ حقیقۃً کارسازاللہ تبارک وتعالیٰ ہی ہے اوریہ مراد نہیں کہ حضرات انبیائے کرام علیہم السلام اور اولیائے عظام رحمہم اللہ السلام کی بارگاہوں سے حاجات طلب کرنے اورانہیں وسیلہ بنانے کی ممانعت ہے ۔ورنہ احادیث ِ مبارَکہ میں تعارُض لازم آئے گا۔کیونکہ ۔۔۔۔۔الخ۔

(۲)بعض اوقات کسی کتاب پر اعتماد کرتے ہوئے اس میں وارداصل ماخذذکر کردیا جاتاہے جبکہ اس میں وہ روایت موجود نہیں ہوتی۔لہٰذا ایسے مقام پر وضاحت ناگزیر ہوتی ہے۔مثلاً

بہار شریعت ،ج3،ص65 پرحدیث یوں مذکورہے ::ترمذی نے ام المؤمنین عائشہ رضی االلہ تعالی عنہا سے روایت کی ،رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:’’ہدیہ کرو کہ اس سے حسد دور ہوجاتا ہے ۔‘‘…اس پراسلامک ریسرچ سینٹر(المدینۃ العلمیہ) نے یہ حاشیہ دیا :’’یہ روایت ترمذی میں نہیں ملی ہاں مشکوۃ المصابیح میں موجود ہے جہاں ترمذی کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے ۔(مشکوۃالمصابیح ،ج۲،ص۱۸۷۔حدیث:۳۰۲۷،مطبوعہ: دارالفکر بیروت)

(۳)کبھی ایسا ہوتا ہے کہ قول کسی اور کا ہوتاہے اور بیان کسی اور کے حوالے سے ہوجاتاہے ۔اب تحقیق اس بات کی متقاضی ہے کہ اصل قائل کا نام دلیل کے ساتھ ظاہر کیا جائے۔مثلاً

(i)اصلاح اعمال ،ج1،ص517 پر ہے:’’ تَنْوِیْرُالْاَبْصَار‘‘میں ہے : ’’اگرکسی نے بلا طہار ت دو رکعتوں کی منت مانی توحضرت سیِّدُناامام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ (متوفی۱۵۰ھ)کے نزدیک ان دورکعتوں کوطہارت کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے۔‘‘اس پر المدینۃ العلمیہ کی طرف سے لکھا گیاہے کہ’’یہاں کتابت کی غلطی ہے کیونکہ یہ حکم حضرت سیِّدُنا امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (متوفی۱۸۲ھ) کے نزدیک ہے ۔جیساکہ تنویرالابصار کی شرح درمحتار، کتاب الصلاۃ ، باب الوتر والنوافل ، جلد2کے صفحہ595پر اس کی صراحت موجود ہے اور ایسا ہی فتح القدیر ،کتاب الایمان ،فصل فی الکفارۃ، جلد5کے صفحہ87پر ہے۔

(ii)احیاء العلوم ،ج۳،ص۱۵۲(مطبوعہ: دارصادربیروت) میں مروی ہے کہ سیدنا کعب الاحبار رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: جمعہ کی آخری ساعت قبولیت کی گھڑی ہے۔‘‘اس پر علامہ مرتضیٰ زبید ی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا :یہ تو حضرت سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے جیساکہ سنن ابی داود اور نسائی میں مروی ہے۔ (اتحاف،ج۳،ص۴۶۱مطبوعہ :دارالکتب العلمیہ بیروت)اور سنن نسائی میں ہے کہ سیدنا کعب احبار رحمۃ اللہ علیہ شروع میں اس بات کے قائل تھے کہ’’ یہ قبولیت کی ساعت سال میں ایک مرتبہ ہوتی ہے۔‘‘ پھر آپ نے اس سے رجوع کرلیا تھالیکن آخری ساعت کی’’ تعیین ‘‘ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول ہے ۔(سنن النسائی ،ص۶۴۲،حدیث:۱۴۲۷،مطبوعہ: دارالکتب العلمیہ بیروت)

(۴)کبھی کسی روایت کو زیادتی کے ساتھ ذکر کردیا جاتا ہے حالانکہ وہ زیادتی کے ساتھ مروی نہیں ہوتی۔یہاں اس زیادتی کی نشاندہی ضروری ہے۔مثلاً

ردالمحتار،ج5،ص198(مطبوعہ دارلثقافۃ والتراث دمشق) پر علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :’’قد روی فی حدیث ابی ہریرۃ :ان المؤمن لا ینجس حیا ولا میتا ۔‘‘…اس پرردالمحتارکے محقق لکھتے ہیں کہ :یہ روایت’’حیاً ولا میتاً‘‘ کی زیادتی کے ساتھ حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہمیں نہیں ملی۔

(۵)کبھی کتابت کی غلطی سے ’’ واحد کا صیغہ‘‘ جمع اور’’ جمع کا صیغہ ‘‘واحد ہوجاتاہے۔ایسے مقام کی نشاندہی لازمی ہے۔مثلاً

کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب ،صفحہ نمبر42پر نزہۃ القاری ،ج1،ص 239کے حوالے سے اقتباس نقل کیا گیاہے (جس میں یہ بھی ہے): ’’یونہی وہ باتیں جن کا ثبوت قطعی ہے مگر ان کادین سے ہونا عوام وخواص سب کو معلوم نہیں تو وہ بھی ضروریاتِ دین سے نہیں ،جیسے صلبی بیٹی کے ساتھ اگر پوتی ہو تو پوتی کو چھٹا حصہ ملیگا۔‘‘…اس پربانی دعوتِ اسلامی ، قبلہ شیخ طریقت، امیراہلسنّت زید مجدہ الکریم نے تحریر فرمایا:’’نزہۃ القاری ‘‘کے نسخوں میں اس جگہ ’’بیٹی‘‘کے بجائے ’’بیٹیوں‘‘لکھا ہے جو کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ حضرت علامہ ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ ’’المسایرہ‘‘ صفحہ ۳۶۰پر تحریر فرماتے ہیں :جن کا ثبوت قطعی ہے مگر وہ ضروریات دین کی حد کون نہ پہنچا ہو جیسے (میراث میں) صلبی بیٹی کے ساتھ اگر پوتی ہوتو پوتی کو چھٹا حصہ ملنے کا حکم اجماع امت سے ثابت ہے۔۔۔۔۔الخ

(۶)بعض دفعہ ملتا جلتا ہونے کے باعث مولف ،قائل یا راوی وغیرہ کا نام بدل جاتاہے۔محقق کو چاہیے کہ اصل نام کو بیان کردے۔مثلاً

ردالمحتار،ج5،ص365پر علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے ذکرفرمایا:ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہر سال شہدائے اُحد کی قبور پر تشریف لے جایا کرتے تھے ۔‘‘اس پر محقق فرماتے ہیں :یہ روایت ’’ابن شبہ‘‘ نے تاریخ المدینۃ المنورۃمیں نقل کی ہے۔’’مصنف ابن ابی شیبہ‘‘ میں یہ روایت موجود نہیں یعنی یہاں’’ابن شبہ‘‘ کو ’’ابن ابی شیبہ‘‘ گمان کرلیا گیا۔

(۷)کبھی کسی فقہی مسئلے کی وضاحت ناگزیر ہوتی ہے ۔لہٰذا تحقیق کی ضرورت پیش آتی ہے ۔مثلاً

بہار شریعت ،ج3،ص341پر ہے:جس کے دانت نہ ہوں(اس کی قربانی ناجائز ہے)اس پراسلامک ریسرچ سینٹر ( المدینۃ العلمیہ) کی طرف سے یہ تحقیق دی گئی ہے:’’یعنی ایساجانورجوگھاس کھانے کی صلاحیت نہ رکھتاہو،ہاں!اگرگھاس کھانے کی صلاحیت رکھتاہوتواس کی قربانی جائزہے جیساکہ بحرالرائق،ج۸، ص ۳۲۳، الھدایۃ،ج۲،ص۳۵۹، تبیین الحقائق،ج۶،ص۴۸۱، الفتاوی الخانیۃ،ج۲،ص۳۳۴، الفتاوی الھندیۃ،ج۵،ص۲۹۸ پرمذکورہے۔‘‘

(۸)کبھی ایسا ہوتا ہے کہ توجہ نہ ہونے یا نسخہ کی تبدیلی یاکتابت میں غلطی یا الفاظ کے ہم شکل ہونے کے سبب لفظ ہی بدل جاتاہے ۔ایسے مقام پراصل سے مراجعت کرکے درست لفظ کی تحقیق وتعیین ناگزیر ہوتی ہے ۔مثلاً

اصلاح اعمال ،ج1،ص557 پر ’’ المواھب اللدنیۃ“سے منقول ہے :’’ کیونکہ علمِ لدنی روحانی کی پہچان ہی یہ ہے کہ وہ …الخ۔‘‘…اس پر امام اہلسنّت ، امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ علیہ (متوفی۱۳۴۰ھ)نے حاشیہ میں فرمایا:’’(لفظ المواہب ج۶،ص۳۶۰)رحمانی بالنسبۃ الی الرحمٰن عزوجل وہو الاوفق الاصح۔۱۲یعنی المواہب اللدنیۃ، ج۶،ص ۳۶۰ (دارالکتب العلمیۃ کے نسخے مطبوعہ 1996ء کے مطابق ج۲،ص۴۹۲) پرروحانی کے بجائے رحمانی ہے اور رحمن عزوجل کی طرف نسبت کے اعتبار سے یہ ہی زیادہ صحیح اور مناسب ہے۔‘‘

(۹)بسا اوقات کتابت کی غلطی یا مؤلف کے تسامح سے کتاب میں یہ صراحت ہوتی ہے کہ فلاں کتاب میں یہ روایت فلاں صحابی سے مروی ہے۔وہ روایت اس کتاب میں موجود توہوتی ہے لیکن دوسرے صحابی سے مروی ہوتی ہے ۔مثلاً

بہارشریعت ،ج3،ص 563پر ہے :طبرانی نے اوسط میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور(صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم) نے فرمایاکہ ’’لڑکا یتیم ہو تو اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے میں آگے کو لائے اور بچہ کا باپ ہو تو ہاتھ پھیرنے میں گردن کی طرف لے جائے۔‘‘ اس پرالمدینۃ العلمیہ کی طرف سے یہ تحریر کیا گیاہے :’’یہ روایت طبرانی اوسط میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے منقول ہے ۔‘‘

(۱۰)بعض اوقات کسی مسئلہ میں دلیل کے طور پرضعیف حدیث نقل ہوجاتی ہے ۔مُحقِّق ومُخَرِّج کی ذمہ داری ہے کہ اس کے ضعف کودلیل کے ساتھ واضح کرے ۔مثلاً

اصلاح اعمال ،ج1،ص100 پرہے :مختار قول یہ ہے کہ ہمزہ کو ترک کر دیا جائے کیونکہ حضورنبی کریم،رء وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی لغت بھی یہی ہے۔ مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہِ نبوی میں حاضرہو کر عرض کی:’’یا نبیٔ اللہ۔‘‘ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ا س سے ارشاد فرمایا:’’میں نبیٔ اللہ نہیں بلکہ نبیُّ اللہ ہوں۔‘‘اس پراسلامک ریسرچ سینٹر کی طرف سے یہ حاشیہ دیا گیا ہے:’’اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعدحضرت سیدناامام قرطبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں:’’ابو علی نے کہا: اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔(اس کے بعد آپ فرماتے ہیں) اس حدیث کے ضعیف ہونے کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ نبی ٔکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی مدح کرنے والے شاعر (صحابی ) نے سرکارِمدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کرکے یاخاتمَ النباء(یعنی اے آخری نبی ) کہا (اور ہمزہ کے ساتھ نباء لفظ ِنبیٔ بالھمزہ کی جمع ہے) اور سرکارِمدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا اس بات سے انکار منقول نہیں۔‘‘(الجامع لاحکام القران للقرطبی تحت الایۃ:۶۱’’لاتدخلوابیوت النبی۔۔۔۔۔ الایۃ،ج ۱، ص۳۴۹)

(۱۱)کبھی عبارت کے ظاہری مفہوم سے سخت مغالطے کا اندیشہ ہوتا ہے ۔لہٰذا اس کے سد باب کے لئے محقق ومدلل حاشیہ ضروری ہوتاہے ۔مثلاً

اصلاح اعمال ،ج1،ص601 پرتحریر ہے :’’لہٰذا کفر کوباعتبارِکفر برا سمجھا جائے نہ کہ اس معین کافر کو۔‘‘اس المدینۃ العلمیہ نے یہ تحقیقی حاشیہ دیاہے: ’’یاد رہے کافرکوبراسمجھنے اوراس کی تعظیم وعزت افزائی میں فرق ہے ۔کفارکی تعظیم وتکریم کفرہے ۔چنانچہ،مجدداعظم ،اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ(متوفی ۱۳۴۰ھ) ’’فتاوی ظہیریہ، الاشباہ والنظائر اور درمختار‘‘کے حوالے سے تحریرفرماتے ہیں:لَوْسَلَّمَ عَلَی الذِّمِّیِّ تَبْجِیْلًا یُکْفَرُلِاَنَّ تَبْجِیْلَ الْکَافِرِ کُفْرٌ وَلَوْقَالَ لِمَجُوْسِیٍّ یَااُسْتَاذُتَبْجِیْلًاکَفَرَ ترجمہ:اگرکسی مسلمان نے کسی ذمی کافرکوبطورِعزت و توقیرسلام کیاتووہ کافرہوجائے گاکیونکہ کافرکی عزت افزائی کفرہےاوراگرکسی نے آتش پرست(یعنی آگ کے پجاری )کوتعظیم کے طورپر ’’اے استاذ‘‘ کہا تووہ کافرہوگیا۔ (فتاوی رضویہ، ج۶،ص۱۹۳)نیز کفارکے ساتھ حسنِ سلوک ، کفراورکفرپرمددواعانت کے علاوہ دیگرمعاملات میں ہوسکتا ہے مثلاً مشرک پڑوسی کے ساتھ حق پڑوس کی ادائیگی اور کافر باپ کی غیرکفریہ معاملات میں اطاعت وغیرہ، ورنہ کفارسے موالات (یعنی میل جول )ناجائزوحرام ہے۔چنانچہ،سیِّدی اعلی حضرت امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ۱۳۴۰ھ) ارشاد فرماتے ہیں: ’’قرآنِ عظیم نے بکثرت آیتوںمیں تمام کفارسے موالات(یعنی میل جول،باہمی اتحاد،آپس کی دوستی)قطعاًحرام فرمائی، مجوس (آگ کے پجاری) ہوں خواہ یہودونصار یٰ (یہودی وعیسائی) ہوں، خواہ ہُنُود(ہندو)اورسب سے بدترمُرتدانِ عُنُود(دینِ حق سے بغاوت کرنے والے مرتدین ) (فتاوی رضویہ، ج۱۵،ص۲۷۳)، ہاں! دنیوی معاملات مثلاًخرید و فروخت وغیرہ(اس کی شرائط کے ساتھ) جس سے دین پرضرر(یعنی نقصان)نہ ہو مرتدین کے علاوہ کسی سے ممنوع نہیں(فتاوی رضویہ، ج۲۴،ص۳۳۱مُلَخَّصًا )مزیدتفصیل کے لئے فتاوی رضویہ شریف کے مذکورہ مقامات کامطالعہ فرمالیجئے۔


جس طرح اللہ پاک کی اِطاعت و فرمانبرداری بالاتفاق عُمدہ وپسندیدہ عمل ہےاسی طرح اس کی نافرمانی اورگناہ کا کام بھی بالاتفاق بُرا و ناپسندیدہ فعل ہے۔ گناہ دو طرح کے ہوتے ہیں ایک گناہ صغیرہ دوسرے گناہ کبیرہ۔ اس مضمون میں کبیرہ گناہوں کے بارے میں بتایا جائے گا، اِنْ شَآءَ اللہ !

کبیرہ گناہ کسے کہتے ہیں ؟

٠جو شخص گناہوں میں سےکسی ایسےگناہ کا ارتکاب کرے جس کا بدلہ دنیا میں حَدیعنی سزاہے مثلاًقتل، زنا یا چوری وغیرہ

٠ ایسا گناہ کرے جس کے مُتعلق آخرت میں عذاب یا غضَبِ الٰہی کی وعید ہو

٠ اُس گناہ کےمُرتکِب پر ہمارےنبی حضرت محمدمصطفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زبان سے لعنت کی گئی ہو

٠وہ گناہ جِس کا مُرتکِب قراٰن و سُنّت میں بیان کی گئی کسی سخت وعید کا مُسْتحِق ہوتو وہ کبیرہ گناہ ہے۔ (الکبائر،ص8، الزواجر ، 1/12، اشعۃ اللمعات،77/1)

گناہِ کبیرہ کی تعداد:

گناہِ کبیرہ کتنے ہیں؟ ان کی تعداد کیا ہے اس میں اختلاف ہے۔ایک روایت سے پتا چلتا ہے کہ سات ہیں دوسری روایت میں نو کی تعداد بتائی گئی ہے جبکہ حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ کیا گناہ کبیرہ سات ہیں؟

تو آپ نے فرمایا: کہ گناہِ کبیرہ کی تعداد سات سو تک ہے۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ مختلف روایتوں میں جو گناہ کبیرہ کی تعداد بتائی گئی وہ حصرکے لیے نہیں بلکہ مثال کے طور پر ہے ورنہ اور بھی بہت سے گناہ کبیرہ ہیں۔ (منتخب حدیثیں،ص116،115)

50کبیرہ گناہ:

بحیثیت مسلمان چونکہ ہم پرکبیرہ گناہوں سے بچنا لازم ہے اور بچنے کے لئے ان کا جاننا ضروری ہے، اس لئے ذیل میں پچاس کبیرہ گناہ بیان کئے جارہے ہیں تاکہ ان کی معرفت حاصل ہو اور ان سے بچا جاسکے۔

(1) اللہ پاک کا کسی کو شریک ٹھہرانا (2)قتلِ ناحق (3)جادو کرنا (4)نماز چھوڑنا (5)زکوٰۃ نہ دینا (6)والدین کی نافرمانی کرنا (7)سود کھانا (8)ظلماً یتیم کا مال کھانا (9)رَمَضان کے روزے بلا عذر چھوڑنا (10)زِنا کرنا (11)جھوٹی قسم کھانا (12)خود کشی کرنا (13)دَیُّوثی (14)خِیانت کرنا (15)ریاکاری (16)پیشاب سے نہ بچنا (17)مُردار کا گوشت کا کھانا (18)ناجائز ٹیکس وُصول کرنا (19)اِحسان جتانا (20) لواطت (21)کاہِن اور نجومی کو سچا جاننا (22)شوہر کی نافرمانی کرنا (23)قطع تَعلّقی کرنا (24)نوحہ کرنا اور چہرا پیٹنا (25)نسب پر طعن کرنا (26)تکبر سے تہبند لٹکانا (27)مرد کا ریشمی لباس پہننا (28)مرد کا سونا استعمال کرنا (29)سونے چاندی کے برتن استعمال کرنا (30)بد شگونی (31)سونا چاندی کے برتن میں کھانا پینا (32)ناپ تول میں ڈنڈی مارنا (33)اللہ کی رحمت سے ناامید ہونا (34)جوا کھیلنا (35)نماز جمعہ ترک کرنا (36)مسلمانوں کی جاسوسی کرنا (37)نسب بدلنا (38)اولیاء اللہ سے عداوت رکھنا (39)چغلی کھانا (40)کپڑےیا دیوار میں تصویر بنانا (41)مردوں کا زنانی اورعورتوں کا مردانی وضع اپنانا (42)قراٰن و سنّت کے خلاف فیصلہ کرنا (43)ڈاکہ ڈالنا (44)ظلماً لوگوں کا مال لینا (45)پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت لگانا (46)حاکم کا اپنی رعایا کو دھوکا دینا (47)شراب پینا (48)میدانِ جہاد سے بھاگنا (49)رسولُ اللہ پر جھوٹ باندھنا (50) صحابہ کو برا بھلا کہنا۔ (الکبائر، الزواجر)


محرّمُ الحرام 1331ھ کی ایک مبارک شب تھی ،ایک صالح جوان ،صاحبِ بصیرت عالم دین مدینہ شریف میں محوِاِستراحَت (یعنی سورہے) تھے،خواب میں کیا دیکھتے ہیں کہ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ،حضراتِ شیخین کریمین یعنی حضرت ابوبکرصدیق(1) اور حضرت عمرفاروقِ اعظم (2)رضی اللہ عنہما جلوہ فرماہیں، تھوڑی دیربعد حضراتِ شیخین تشریف لے جاتے ہیں ،یہ تنہانبی پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس رہ جاتے ہیں، آگے بڑھ کر نبی پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےمبارک ہاتھ پکڑکر اپنےسینےپر رکھتے ہوئےچلنےلگتےہیں اورعقائدسے متعلق یکے بعددیگرے تین سوالات عرض کرتے ہیں،نبی پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہرسوال کے بعد انہیں جواب عطافرماکر آخرمیں یہ ارشادفرماتے ہیں کہ ’’جواحمدرضا خاں کہتے ہیں وہ حق وصِدق (سچ)ہے۔‘‘یہ خواب دیکھنے والے اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ(3) سے اتنا متاثرہوئے کہ مدینہ شریف میں ہی نیت کرلی کہ میں اعلیٰ حضرت کے پاس بریلی شریف(4) ضرورجاؤں گا اورآپ کی زیارت کروں گا۔(5) پھر جب آپ ہند آئے تو اعلیٰ حضرت کی خدمت میں حاضرہوئے،شرفِ تلمذحاصل کرکے اجازتِ حدیث اورسلسلۂ قادریہ رضویہ میں خلافت سے سرفراز ہوئے(6) ۔ یہ عظیم ہستی ضلع چکوال (پنجاب، پاکستان) (7) کےگاؤں اوڈھروال(8) اورچکوڑہ (9) کے علامہ قاضی محمدنورقادری صاحب ہیں۔جن کا مختصرتذکرہ آنے والی سطور میں ملاحظہ کیجئے:

ولادت: خلیفۂ اعلیٰ حضرت،عالمِ رَبَّانی حضرت مولانا قاضی ابوالفخر محمد نور قادری سُنی حنفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت باسعادت 13 رجب 1307ھ مطابق 5مارچ 1890ء موضع اوڈھروال (ضلع چکوال، پنجاب، پاکستان) کےایک علمی کہوٹ قریشی گھرانے میں ہوئی۔والدِ گرامی حضرت مولانا قاضی عالم نور قریشی اور دادا حافظ محمد سرداراحمد قریشی رحمۃ اللہ علیہما تھے۔ آپ کی ذاتی ڈائری میں تحریر کردہ خاندانی شجرے کے مطابق آپ کا سلسلۂ نسب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چچاجان حضرت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ (10) سے جا ملتاہے۔(11)

علمی خاندان کےچشم وچراغ:آپ کاخاندان کئی پشتوں سے علم وفضل کا گہوارہ ہے، آپ کےداداجان حضرت علامہ حافظ محمد سردار احمد قریشی صاحب بحرالعلوم حافظ محمدعظیم پشاوری (12)رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد،جیّدعالمِ دین،محقق ومدقّق اور استاذُ العلماتھے۔ شیخ طریقت خواجہ حافظ غلام نبی للہی (13)،عالمِ شہیر مولانا حافظ عبدُالحلیم کریالوی (14) اوران کے بیٹے مولانا عالم نورقریشیرحمۃ اللہ علیہم آپ کےہی شاگردہیں۔(15)

تعلیم وتربیت: کمزور بینائی کے باوجود آپ کوحصولِ علم کابہت شوق تھا،والدِگرامی حضرت مولاناقاضی عالم نورصاحب سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اپنے علاقے کے جید علما سے استفادہ کیا۔اترپردیش ہندبھی تشریف لےگئے، شاہجہانپور(16) اور دیگر شہروں میں علمِ دین حاصل کیا، آپ بہت ذہین وفطین تھے ۔دیگرعلوم کے ساتھ ساتھ عربی زبان پر کامل دسترس رکھتےتھے اور اپنے زمانے کے علمائے کرام سے عربی زبان میں مراسلت کیا کرتے تھے۔(17)

حرمین شریفین میں حاضری:شوال المکرّم 1329ھ مطابق اکتوبر 1911ء کو حرمین طیبین حاضرہوکرحج کی سعادت سے بہرہ ورہوئے۔ قطبِ مکۂ مکرمہ ، شیخُ الدلائل حضرت مولانا شاہ عبد الحق صدیقی محدث الہ آبادی نقشبندی حنفی مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ (18) سے جملہ علوم اور اَورَاد و وَظائف کی اجازت حاصل کی۔ اس کے بعد تین سال مدینہ منورہ میں مقیم رہے اورعلمائے مدینہ سے خوب استفادہ کیا۔(19) یہاں آپ ’’صوفی‘‘کےلقب سے معروف تھے۔آپ نے1330ھ کو مدینہ شریف میں حضرت مولاناسیّداحمدعلی رامپوری(20) اورحضرت مولانا کریم اللہ پنجابی(21)رحمۃ اللہ علیہما سےملاقاتیں کیں، انہوں نے آپ کی دعوت بھی کی ،ان حضرات نےانہیں اَلدَّوْلَۃُ الْمَکِّیَّۃ کےبعض مضامین سنائے،جسےسن کرآپ خوش ہوئے، مولانا کریم اللہ صاحب نےانہیں تقریظ لکھنےکا کہا،آپ نےفرمایا کہ میں وطن لوٹ رہا ہوں وہاں جاکراعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سےملاقات بھی کروں گا اوراچھے اندازسےتقریظ بھی لکھوں گا۔(22) علامہ احمدعلی صاحب نے علامہ شیخ یوسف نبہانی رحمۃ اللہ علیہ(23) کی کتاب ’’جواہرُالبحار‘‘ (24) اپنے دستخط کے ساتھ آپ کو عطافرمائی۔(25)

حرمین شریفین سے واپسی: ذیقعدۃ الحرام 1331ھ مطابق اکتوبر 1913ء میں نبیٔ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بذریعہ خواب آپ کو حج کرنے اور اپنے اہل وعیال کی طرف لوٹنے کا حکم فرمایا۔چنانچہ حج سے پہلے آپ نےمدینہ شریف کوالوداع کہتے ہوئے ایک دردبھرافِراقیہ قصیدہ لکھا جوآپ کی ڈائری میں موجودہے۔وطن واپس آکرآپ کی مولاناکریمُ اللہ صاحب سےمراسلت جاری رہی مگر اَلدَّوْلَۃُ الْمَکِّیَّۃ پر تقریظ لکھ سکےیا نہیں اس کی صراحت نہیں مل سکی۔ البتہ اس موضوع پر ایک مستقل کتاب النیرالوضی فی علم النبی تحریر فرمائی۔ (26)

بیعت واجازت: ابتدائی عمر میں سلسلۂ چشتیہ کےشیخ طریقت سیّدصاحب کی صحبت یابیعت کا شرف پایا۔ (27) آپ کو آستانہ عالیہ قادریہ گیلانیہ بغداد شریف کے سجادہ نشین حضرت شیخ سیّدعلی قادری گیلانی سے بھی سندِاجازت حاصل تھی۔حرمین طیبین سے واپسی پر بریلی شریف حاضرہوئے اور اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہسے شرفِ تلمذحاصل کرکےاجازت حدیث اورسلسلۂ قادریہ رضویہ میں خلافت سے سرفراز ہوئے، (28) اعلیٰ حضرت نے آپ کو جو الاجازات المتينه لعلماء بكة والمدينة کا نسخہ اپنے دستخط کے ساتھ عطا فرمایا وہ ان کے ورثا کے پاس محفوظ ہے۔

اس پر علامہ محمدنورقادری صاحب کی یہ تحریر ہے: یقول الفقیر كان اللہ تعالی له ان أوّل إجازتی فی ھذہ "الإجازات المتینة" قول مولانا و شیخنا صاحب الحجة القاھرة مؤید الملة الطاھرة مؤلّف التألیفات النافعة عالم أهل السنّة والجماعة نخبة أهل العلم والعرفان الشیخ المفسر المحدّث الفقیه الحافظ الحاج أحمد رضا خان البریلوی عاشق النبی الآمر(صلی اللہ تعالی علیه وعلی آله وسلم)سلمہ ربہ القوی بسم اللہ الرحمن الرحیم.فی ص ۱۲ الی قوله: وھو یرید العدوان من بعد فی ص۱۳۔ وبعده قوله: یامولاناالفاضل الحسن الشمائل ص۱۷ ۔لکن ۔۔۔الجلیلة أي: قول ال۔۔۔۔وآخر کل۔۔۔اتفقت العبارات ۔۔۔منھا وغیرھا الی قوله آخر الاجازة والحمدللہ رب العالمین ص۲۳ .منھا وقد أجزت بھا وبکلّ ما أجازنی به مولانا الشیخ العارف محمد عبد الحق المکی وغیرہ من المشائخ رحمھم اللہ المنعم وکلّ من کان أهلاً لذلك من أولادي وأقاربي بشرطها المذكور في محلّه، ربنا تقبل منّا إنّك أنت السميع العليم وصلّى الله تعالى وسلّم وعلى سيّدنا محمد وآله الكريم.كتبه بقلمه الفقير إلى مولاه محمد نور السنّي الحنفي القادري ساكن أوہڈر وال ضلع جهلم، كان الله تعالى له بمحمد النبي الآمر صلّى الله تعالى عليه وآله وسلّم يوم الأربعاء ٢٣ رجب المرجب ١٣۳۲۔

یعنی فقیر(اللہ پاک اس سے راضی ہو) کہتا ہےکہ ہمارے سردار اور شیخ ، دلائلِ قاہرہ دینے والے، پاکیزہ دین کے مددگار،لوگوں کو فائدہ پہنچانے والی کتابوں کے مصنف، اہل سنّت وجماعت کے عالم، اہلِ علم ومعرفت میں ممتاز، مفسر ،محدث ، فقیہ ،حافظ، حاجی احمد رضا خان بریلوی ، نیکیوں کا حکم فرمانے والےاور برائیوں سے روکنے والے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سچے عاشق ، اللہ پاک انہیں سلامت رکھے۔ انہوں نے اپنی اس کتاب ’’الاجازات المتینه‘‘ میں مجھے پہلی اجازت ان مقامات پر ان الفاظ سے دی:صفحہ 12: ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ سے صفحہ 13: ’’ وھو یرید العدوان من بعد‘‘ تک۔اس کے بعد صفحہ 17 پر ان کے اس قول: ’’ یامولاناالفاضل الحسن الشمائل ‘‘سے ان کی آخری اجازت تک، الحمد للہ رب العلمین صفحہ 23 تک۔ بیشک (الاجازات المتینہ میں) جو مجھے اجازتیں ملی ہیں اورمولانا شیخ عارف محمد عبد الحق مکی وغیرہ مشائخ کرام رحمۃ اللہ علیہم نے جو اجازتیں دی ہیں ان سب کی ان شرائط پر جو اس کے مقام پر مذکور ہیں ، اپنی اولاد اور قریبی لوگوں میں سے اہل افراد کو اجازت دیتا ہوں ، اے اللہ! تو ہم سےاس کوقبول فرما بیشک تو ہی سب سے بہتر سننے اور جاننے والا ہے اور اللہ پاک درود وسلام نازل فرمائے۔ ہمارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی عزت والی آل پر ۔اپنے پروردگار کامحتاج اوڈھروال ضلع جہلم (29) کے رہائشی محمد نور سنی حنفی قادری نے 23رجب 1332ھ ہجری کو اسے اپنے قلم سے لکھا ہے، اللہ پاک نیکیوں کا حکم فرمانے والے اور برائیوں سے روکنے والے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکےصدقےاس سے راضی ہو۔(30) اس سے معلوم ہوتاہے کہ آپ کو یہ اجازت ذیقعدۃ الحرام 1331ھ مطابق اکتوبر 1913ء کے بعد 23رجب 1332ھ مطابق 17جون 1914ء سے پہلےحاصل ہوئی ۔

علمی مقام :آپ عالمِ جلیل،مفتیِ اسلام،صوفی ِباصفا ،شاعراورمصنف تھے۔ عربی ،اردواورپنجابی میں نظم ونثرمیں کامل دسترس تھی ،علمائے اہلسنت سے عربی میں مراسلت بھی فرماتے تھے۔جن علماسے آپ کا رابطہ تھا ان میں سے حضرت قبلہ عالم پیرمہرعلی شاہ گولڑوی(31) حضرت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری(32) ،صدرُالافاضل علامہ نعیمُ الدّین مرادآبادی(33) اورحضرت علامہ فیضُ الحسن فیض(34) رحمہم اللہ وغیرہ شامل ہیں۔(35)

خدمات دین ،تصنیف وتالیف:آپ نے اپنی زندگی کو علمِ دین کے حصول اوراس کی اشاعت کے لیے وقف کر رکھا تھا ۔ آپ نے عربی، اردو اور پنجابی میں نظم ونثرپر مشتمل 15 کتب تصنیف کیں ،جن کے نام یہ ہیں:

(1) دفع الجہال عن تکرار الجماعة(عربی )، (2)دفع الجہال عن تکرار الجماعة (اردو)، (3) المباحثۃ المعمدة قضاء السنة قبل الجمعة (اردو) (4) ردّ الشہاب علی المفتری الکذاب (اردو )، (5)مجموعہ المورد الروی فی المولا النبی (پنجابی منظوم)،(6)المراة الحلیہ للحلیة النبویة (پنجابی،منظوم)،(7) سلوک اکمل السبیل یا التوجہ الی افضل الرسول (پنجابی ، منظوم)، (8) احسن النغم فی مدح الغوث الاعظم (پنجابی منظوم) ۔(9) الخزی المزید (اردو، مطبوعہ) ، (10) التوضیحات لمافی اشعة اللمعات (عربی) (11) قول الکلم فی ظہر الجمعة(عربی مسودہ)، (12) النیرالوضی فی علم النبی(عربی مسودہ)،(13) قہدالاھوتی(عربی مسودہ)، (14) ضرب الحدیدعلی راس الرشید (عربی مسودہ) ، (15)الدود الجلیل لتاویلات الذلیل (عربی مسودہ)۔ (36)

علماسے روابط :آپ برصغیرپاک وہندکے کئی جیدعلماسے رابطے میں تھے ۔اعلیٰ حضرت امام احمدرضا رحمۃ اللہ علیہ کی جوكتاب شائع ہوتی وہ بریلی شریف سےآپ کوبھیج دی جاتی ۔(37) صدرُالافاضل حضرت علامہ مولانا سیدمحمدنعیمُ الدّین مرادآبادی کے ساتھ عربی میں مراسلت رہی۔آپ کے کئی فتاویٰ اس وقت کےمشہور ہفتہ روزہ سراجُ الاخبار(38) میں شائع ہوئے ۔(39)

سیرت وعادات:آپ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سچے عاشق،متبع سنت،صالح کردارکےمالک،شرم وحیاکے پیکراوروضع قطع میں سنّتِ رسول کے پابندتھے۔(40)

شادی واولاد:آپ کی شادی موضع چکوڑہ(ضلع چکوال)کے ایک علمی خاندان میں ہوئی ۔اس کے بعدآپ مستقل چکوڑہ میں رہائش پذیر ہوگئے ۔ آپ کے بیٹے حضرت مولانا قاضی حکیم احمدچکوڑوی طب وحکمت میں مشہور، اورآپ کے علمی جانشین تھے۔اسی طرح آپ کے خاندان کے مولانا حکیم محمد فاروق صاحب بہترین حکیم اورجامع مسجدچکوڑہ کے امام ہیں۔(41)

وفات ومدفن:1914ء کے آخراور1915ء کےشروع میں چکوال میں طاعون کی بیماری پھیل گئی، گھر کے گھر ویران ہوگئے،آپ کا وصال اسی طاعون کی بیماری میں صفرُالمظفریاربیعُ الاول 1333ھ مطابق جنوری 1915ء (42) کوکلمہ شہادت پڑھتےہوئے ہوگیا ،آپ کےخاندان کی چھ عورتیں بھی اسی دن فوت ہوئیں ،سب کا جنازہ اکٹھاہوا۔ (43) آپ کو قبرستان میاں صاحب بابا عبدالشکور(رحمۃ اللہ علیہ)موضع اوڈھروال(44) میں دفن کیا گیا۔جہاں آج بھی آپ کامزارموجودہے۔(45)

علامہ محمدنورقادری صاحب کے مزارپرحاضری کے احوال: راقم کچھ سالوں سے خلفائے وتلامذہ اعلیٰ حضرت کی معلومات ،ان کے وابستگان سے ملاقات اوران کے مزارات کی زیارات میں مصروف ہے، حضرت علامہ مفتی قاضی محمدنورقادری صاحب کےبارے میں سب سےزیادہ معلومات مصنفِ کتب کثیرہ ومنتظم اعلیٰ بہاء الدین زکریالائبریری چکوال پیرزادہ عابدحسین شاہ صاحب (46)سےحاصل ہوئیں ،ان سے ملاقات کا اشتیاق رہا، دعوت اسلامی کی برکت سے چنداسلامی بھائیوں کے ہمراہ ان سے دوملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ ایک سفرجو راولپنڈی سےمشہورپنجابی صوفی شاعر محمدبخش قادری(47) کے شہرکھڑی شریف اور میرپورکشمیرتک ہواجس میں مبلغ دعوت اسلامی محمدحمادعطاری اورمحمدخورشیدعطاری صاحب میرے ہمراہ تھے،یہ 7جنوری 2016ء (27ربیع الاول1437ھ)کی خوشگوارصبح تھی،خورشیدبھائی نے پُرتکلف ناشتہ کروایا،انہیں کی گاڑی میں راولپنڈی سے بذریعہ موٹروےچکوال کے لیے روانہ ہوئے، غالبادوگھنٹے میں چکوال پہنچ گئے، پیرزادہ عابدصاحب انتظارمیں تھے،مرکزی ڈاکخانہ چکوال کےقریب حضرت مولانا ڈاکٹرعبدالواحد الازہری صاحب(48) کی مسجدحسینیہ حنفیہ میں ڈاکٹرصاحب اورعابدصاحب سے ملاقات ہوئی، الاجازات المتينه لعلماء بكة والمدينة کاعلامہ محمدنورصاحب کا وہ ذاتی نسخہ دیکھا جو انہیں اعلیٰ حضرت سے حاصل ہواتھا۔اس کے بعدایک اسکول میں جانا ہوا جس کے ایک ٹیچرچکوڑہ کےتھے یہیں علامہ محمدنورصاحب کی بیاض کی زیارت کی، ان ہی کےہمراہ چکوڑہ گاؤں جانا ہوا، علامہ محمدنور صاحب کےخاندان کے کئی افرادسےملاقات ہوئی اورعلامہ صاحب کا ذکرخیرہوتارہا ۔ علامہ صاحب کی مسجدکے امام وخطیب صاحب سے بھی ملاقات ہوئی جو غالباًآپ کے پوتے کے بیٹے تھے ۔ان کے ساتھ چکوڑہ قبرستان میں آپ کےمزارپرانوارکی زیارت کی ، ہمیں کھڑی شریف میں ہونے والے دعوت اسلامی کے ہفتہ واراجتماع میں پہنچنا تھا اس لیے بعدِظہروہاں سے روانہ ہوئے۔ راستے میں شدید پارش اورچکوال تاجی ٹی روڈ راستے کی خرابی کی وجہ سےتاخیر ہوگئی ،جب کھڑی شریف پہنچےتو بارش کا سلسلہ جاری تھا،بعدِنمازمغرب ہفتہ واراجتماع میں بیان کرنے کی سعادت ملی۔ اس کے بعد کھانا کھایا اورمیرپورکے لیے روانہ ہوگئےاور ایک گھنٹے میں وہاں پہنچ گئے،مقامِ قیام پر پہنچ کر حمادبھائی اورخورشیدبھائی راولپنڈی روانہ ہوگئے ۔

(کتبہ: ابوماجد محمد شاہد عطاری مدنی عفی عنہ، 8جمادی الاولیٰ 1442ھ مطابق 24دسمبر2020ء، بمقام عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی)

حواشی ومراجع

(1)۔ ام المؤمنین حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بنوتمیم کے چشم و چراغ، قریش کی مُقتدِر شخصیت، اَفْضَلُ الْبَشَر بَعْدَ الْاَنْبِیَاءِ ، سفر و حضر میں سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے رفیق اور مسلمانوں کے پہلے خلیفہ ہیں۔ ولادت واقعۂ فیل کے تقریباً ڈھائی سال بعدمکّہ شریف (عرب شریف) میں ہوئی۔ 22 جُمادَی الاُخریٰ 13 ہجری کو مدینۂ منوّرہ میں وِصال فرمایا اور حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پَہلو میں دفن ہوئے۔ (تاریخ الخلفاء، ص 21تا 66)

(2)۔ امیرُالمؤمنین حضرت سیّدنا ابوحفص عمر فاروقِ اعظم عِدَوِی قرشی رضی اللہ عنہ کی ولادت واقعۂ فیل کے 13سال بعد مکۂ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ دورِ جاہلیت میں علمِ انساب، گھڑ سواری، پہلوانی اور لکھنے پڑھنے میں ماہر اور قریش کے سردار و سفیر تھے، اعلانِ نبوت کے چھٹے سال مسلمان ہوئے۔ آپ جلیلُ القدر صحابی، دینِ اسلام کی مؤثر شخصیت، قاضیِ مدینہ، قوی و امین، مبلغ عظیم، خلیفۂ ثانی، پیکرِ زہد و تقویٰ، عدل و انصاف میں ضربُ المثل اور عظیم منتظم و مدبر تھے۔ آپ کے ساڑھے 10سالہ دورِخلافت میں اسلامی حدود تقریباً سوا 22 لاکھ مربع میل تک پھیل گئیں۔ آپ نے یکم محرم 24ھ کو مدینہ شریف میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ (تاریخ الخلفاء، ص 86تا117، العبر فی خبر من غبر، 1/20)

(3)۔ اعلیٰ حضرت ،مجدددین وملت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1272ھ کو بریلی شریف(یو۔پی) ہند میں ہوئی، یہیں 25 صفر 1340 ھ کو وصال فرمایا۔ مزار جائے پیدائش میں مرجع خاص وعام ہے۔آپ حافظ قرآن، پچاس سے زیادہ جدیدوقدیم علوم کے ماہر،تاجدارفقہاو محدثین، مصلح امت، نعت گوشاعر، سلسلہ قادریہ کے عظیم شیخ طریقت، تقریبا ایک ہزارکتب کے مصنف، مرجع علمائے عرب وعجم اور چودہویں صدی کی مؤثر ترین شخصیت کے مالک تھے۔ کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن،فتاویٰ رضویہ (33جلدیں)، جد الممتارعلی ردالمحتار(7 جلدیں،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) اور حدائق بخشش آپ کی مشہور تصانیف ہیں۔(حیاتِ اعلیٰ حضرت، 1/58، 3/295،مکتبۃ المدینہ،تاریخِ مشائخِ قادریہ رضویہ برکاتیہ،282، 301)

(4)۔ بریلی Bareilly)):یہ بھارت کے صوبے اترپردیش میں واقع ہے، دریائے گنگا کے کنارے یہ ایک خوبصورت شہر ہے۔ دریا کی خوشگوار فضاء نے اس کے حسن میں موثر کردار ادا کیا ہے۔

(5)۔ علماء عرب کےخطوط فاضل بریلوی کےنام،111

(6)۔ تذکرہ علمائےاہل سنت ضلع چکوال،120

(7)۔ ضلع چکوال:چکوال پاکستان کے صوبے پنجاب کے شمالی حصے میں واقع ہے، دار الحکومت پاکستان اسلام آباد سے جانب جنوب یہ ایک سوبائیس (122)کلومیٹرفاصلے پر ہے، یہ آثار ِ قدیمہ کی جنت ہے، یہاں دو کروڑ 20 لاکھ پرانے آثار بھی دریافت ہوئے ہیں، موجودہ چکوال شہر آٹھویں صدی عیسوی میں ماسٹر منہاس قوم نے آباد کیا۔انگریزی دور میں یہ ضلع جہلم کا حصہ تھا۔1985 میں اسے ضلع کا درجہ دے دیا گیا۔ اس وقت ضلع چکوال چھ ہزار پانچ سو چوبیس (6524) مربع كلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے، یہ پانچ تحصیلوں چکوال، کلر کہار، چوآسیدن شاہ، تلہ گنگ اورلاوہ جبکہ 68 یونین کونسلوں پر مشتمل ہے ، یہاں کی ایک تعداد پاک فوج میں ملازم ہے، یہاں کی ریوڑیاں بہت مشہور ہیں ،مشہور نعت گو شاعر خالد محمود مرحوم کا تعلق بھی چکوال سے ہے ان کی وہ نعت جس کا مطلع ہے یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے، بہت مقبول ہے، موجودہ آبادی تقریبا ایک لاکھ ہے، ۔(نگر نگر پنجاب 131 تا 136)ر اقم کے سسرال ملوٹ (تحصیل کلر کہار ضلع چکوال )کے رہنے والے ہیں۔

(8)۔ اوڈھروال: Odherwal) پاکستان کا ایک پاکستان کی یونین کونسلیں جو ضلع چکوال میں واقع ہے۔ یہ تحصیل چکوال کا قصبہ ہے،شہرچکوال سے جانب مغرب ساڑھےچارکلومیٹرفاصلے پرہے۔تیرہویں اورچودھویں صدی ہجری میں یہ دینی علوم وفنون حاصل کرنے کا مرکز تھا ۔

(9)۔ چکوڑہ: Chakora) پاکستان کا ایک گاؤں جو پنجاب ضلع چکوال میں واقع ہے۔ جو یونین کونسل اوڈھروال میں ہے،یہ چکوال شہر سےجانب مغرب ڈیڑھ میل(تقریبا 6کلومیٹر) برلب تلہ گنگ روڈ واقع ہے۔جب 1985ء میں چکوال کو ضلع کا درجہ دیا گیا تو چکوڑہ میں غازی آباد کمپلکیس بنایا گیا جو جدید و قدیم طرزِ تعمیر کا مرقع ہے،یہ چکوال تلہ کنگ روڈ کے جنوبی کنارے واقع ہے۔(نگر نگر پنجاب ، 133)

(10)۔نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چچا جان حضرتِ سَیِّدُنا ابوالْفَضْل عبّاس ہاشِمی قُرَشِی مکّی رضی اللہ عنہ عامُ الِفیل سے 3 سال قبل مَکَّۂ مُکَرَّمہ میں پیدا ہوئے اور 14 رجب 32ھ کو مدینۂ منوّرہ میں وِصال فرمایا، تدفین جَنّتُ الْبَقِیع میں ہوئی۔(تاریخِ مدینہ دمشق، 26/273،379)

(11)۔ تذکرہ علمائےاہل سنت ضلع چکوال،118

(12)۔ بحرُالعلوم حضرت علّامہ حافظ محمد عظیم واعظ پشاوری رحمۃ اللہ علیہ کی وِلادَت 1205ھ اور وِصال 24جُمادَی الاُولٰی 1275ھ کو فرمایا، عَربی، فارسی، پَشتو اور پنجابی زبان میں عُبور رکھنے والے جَیِّد عالمِ دین، واعظِ شِیریں بیان، نقشبندی بزرگ، استاذُالعلماء اور خطیب و امام جامع مسجد خواجہ مَعروف علاقہ گنج پشاور تھے۔( علماء و مشائخِ سرحد، ص 128تا137)

(14)۔بدۃ الکاملین حضرت مولاناخواجہ غلام نبی للّٰہی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1234ھ کو للہ شریف (تحصیل پنڈدادنخان ضلع جہلم) کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی ،ابتدائی تعلیم والدمحترم ،حضرت مولاناسردارحمد(چکوال)علامہ حافظ درازمحمداحسن پشاوری وغیرہ سےحاصل کی،مولانا خواجہ غلام محی الدین قصوری دائم الحضوری(قصور) سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں مریدہوکرخلافت سےسرفرازہوئے،زندگی بھردرس وتدریس اوررشدوہدایت میں گزارکر 21؍ربیع الاول  1307ھ کووصال فرمایا ،مزارخانقاہ عالیہ للہ شریف میں ہے ۔آپ حافظ قرآن ،عالم باعمل ،شیخ طریقت ،صاحب کرامت بزرگ اوربانی خانقاہ للہ شریف ہیں ۔(تذکرہ اعلیٰ حضرت للہی،65۔ تذکرہ اکابرِ اہلسنت،363)

(14)۔مولانا حافظ عبدالحلیم کریالوی رحمۃ اللہ علیہ کریالہ (تحصیل وضلع چکوال)کےایک علمی گھرانےمیں پیداہوئے ،آپ حافظ قرآن،مفتی زمانہ،خوش الحان مقرراورصاحب تصنیف بزرگ تھے،اعلیٰ حضرت امام احمدرضاسےگہرے تعلقات تھے ،ایک عرصہ تک ممبئی (ہند)میں خدمات دین میں مصروف رہے ،ان کی ایک کتاب احترازالصالحین عن شرورالفاسقین پر اعلیٰ حضرت امام احمدرضا رحمۃ اللہ علیہ نے1301ھ میں ایک تقریظ بھی لکھی۔(تقاریظ امام احمدرضا ،80)

(15)۔تذکرہ علمائےاہل سنت ضلع چکوال،118 ۔

(16)۔ شاہجہاں پور : Shahjahanpur) بھارت کا ایک شہر جو اتر پردیش میں واقع ہے ۔

(17)۔تاریخ الدولۃ المکیہ ص68

(18)۔ شیخُ الدلائل حضرت مولانا محمد عبدالحق صدیقی محدثِ الٰہ آبادی، نقشبندی حنفی مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1252ھ ضلع نیوان الٰہ آباد (یوپی) ہند میں ہوئی اور وصال16شوَّالُ المکرَّم 1333ھ مکّۃُ المکرمہ میں ہوا۔ آپ استاذُالعلماء، مفسرِقراٰن، صوفیِ باصفا، قطبِ مکۂ مکرمہ، جامع علم و عمل، مقرّظِ حسامُ الحرمین اور اکابر علمائے اہلِ سنّت سے ہیں۔ متعدد تصانیف میں الاکلیل علیٰ مدارک التنزیل مطبوع ہے۔(الاعلام للزرکلی، 6/186، انوارِ قطبِ مدینہ،ص73، 189،191)

(19)۔ تذکرہ علمائےاہل سنت ضلع چکوال،119

(20)۔ مولانا سیداحمدعلی رامپوری رحمۃ اللہ علیہ یوپی ہند کے رہنےوالے تھے ،آپ مدینہ شریف گئے تو وہیں رہائش اختیارکرلی ،الدولۃ المکیۃ کے تقاریظ لینے میں کافی کوشش فرمائی ،خودبھی عربی میں تقریظ لکھی ،اعلیٰ حضرت سے رابطے میں رہتے تھے،ان کے کئی مکتوب شائع شدہ ہیں ،(تاریخ الدولۃ المکیۃ،64)

(21)۔ مولاناکریم اللہ پنجابی رحمۃ اللہ علیہ عالم دین،علامہ عبدالحق مکی رحمۃ اللہ علیہ کے تلمیذ،صاحب طریقت اورخیرخواہ اہلسنت تھے،عقائداہلسنت کےتحفظ واشاعت میں مخلص ومتحرک ہونےکی وجہ سے مولانا کریم اللہ جانبازفی سبیل کے لقب سے ملقب ہوئے،(تاریخ الدولۃ المکیۃ،65)

(22)۔ علماء عرب کےخطوط فاضل بریلوی کےنام،111

(23)۔ عاشقِ رسول حضرت شیخ یوسف بن اسماعیل نَبہانی اَزْہَری رحمۃ اللہ علیہ شافِعی فقیہ،صوفی،قاضی ، شاعر اور کثیرکتب کے مصنف ہیں، سَعَادَۃُ الدَّارَیْن،جامع کراماتِ اولیاءاور شَواهِدُ الحق مشہورِ زمانہ تصانیف ہیں، 1265 ھ قصبۂ اِجْزِم(نزدحیفاشمالی فلسطین) میں پیدا ہوئے،اوائلِ رَمَضان 1350ھ کو وصال فرمایا، مزارِ مبارک بیروت (لبنان) میں ہے۔ ( شواهد الحق، ص 3،8)

(24)۔ جواہرالبہار فی فضائل النبی المختار سیرت مصطفی پر عربی میں کتاب ہے ، علامہ یوسف نبہانی نے پچاس سے زائدعلمائے اہل سنت کی تحریرات کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ یہ مستقل ایک تصنیف معلوم ہوتی ہے ۔ پوری کتاب سیرت النبی ، خصائص،شمائل،مغازی، فضائل النبی ،معجزات، معاشرت النبی،عشق مصطفی، کمالات نبی جیسے عنوانات ومودسے لبریز ہے ،اس کا اردومیں ترجمہ علمائے اہلسنت مثلاعلامہ عبدالحکیم شرف قادری،علامہ عبدالحکیم شاہ جہان ہوری وغیرہ نے کیا ۔

(25)۔تذکرہ علمائےاہل سنت ضلع چکوال،119

(26)۔تذکرہ علمائےاہل سنت ضلع چکوال،119،تاریخ الدولۃ المکیۃ،69

(27)۔ علماء عرب کےخطوط فاضل بریلوی کےنام،110

(28)۔تذکرہ علمائےاہل سنت ضلع چکوال،119،تاریخ الدولۃ المکیۃ،69

(29)۔ اوڈھروال،پہلے ضلع جہلم میں تھا،مگر1985ء میں جب چکوال کو ضلع بنایاگیاتواب یہ اس کا حصہ ہے۔

(30)۔مخطوط الاجازات المتینہ،مخطوط کے سرور ق کی مطلوبہ عبارت کی تکمیل اوراس کاترجمہ محقق اسلامک ریسرچ سینٹرالمدینۃالعلمیہ مولاناحافظ کاشف سلیم عطاری مدنی صاحب نے کیا ہے،راقم اِس پر اُن کا شکرگذارہے۔ابوماجدعطاری

(31)۔ قبلۂ عالم، تاجدارِگولڑہ حضرت پیر سیّد مہر علی شاہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1275ھ میں گولڑہ شریف (اسلام آباد، پنجاب) پاکستان میں ہوئی اور29 صفر 1356ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مزار گولڑہ شریف میں زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔ آپ جید عالمِ دین، مرجعِ علما، شیخِ طریقت، کئی کتب کے مصنف، مجاہدِ اسلام، صاحبِ دیوان شاعر اور عظیم و مؤثر شخصیت کے مالک تھے ۔(مہرِ منیر، ص61، 335، فیضانِ پیر مہر علی شاہ، ص4، 32 )

(32)۔ امیرِ ملّت حضرت پیر سیّد جماعت علی شاہ نقشبندی محدّثِ علی پوری رحمۃ اللّٰہ علیہ حافِظُ القراٰن، عالمِ باعمل، شیخُ المشائخ، مسلمانانِ برِّعظیم کے متحرّک راہنما اور مرجعِ خاص وعام تھے۔ ایک زمانہ آپ سے مستفیض ہوا، پیدائش 1257ھ میں ہوئی اور 26ذیقعدہ 1370ھ میں وصال فرمایا، مزار مبارک علی پورسیّداں (ضلع نارووال، پنچاب) پاکستان میں مرجعِ خَلائق ہے۔ (تذکرہ اکابرِ اہل سنّت،ص 113تا117)

(33)۔ صدرُالاَفاضِل حضرت علامہ حافظ سیّد محمدنعیم الدّین مُرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت1300ھ مُرادآباد (ہند) میں ہوئی اور آپ نے 18ذوالحجہ 1367ھ کو وفات پائی۔دینی عُلوم کے ماہِر، شیخُ الحدیث، مُفَّسِّرقراٰن، مُناظِرِذيشان،مُفتیٔ اسلام ،درجن سے زائد کُتُب کے مصنف،قومی رَہنما وقائد،شیخِ طریقت، اسلامی شاعر،بانیِ جامعہ نعیمیہ مُرادآباد، اُستاذُالعُلَمااوراکابرینِ اہلِ سنّت میں سے تھے۔کُتُب میں تفسیرِخزائنُ العِرفان مشہور ہے۔(حیات صدرالافاضل،ص9تا19)

(34)۔ علامہ ٔ زمن حضرتِ مولانافیض الحسن فیض رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1300ھ کو بھیں چکوال کے علمی گھرانے میں ہوئی اورجمادی الاولیٰ 1347ھ کووصال فرمایا۔آپ بہترین عالم دین ،عربی ادیب وشاعر،مدرس جامعہ نعمانیہ لاہور،استاذالعلمااورکئی عربی کتب کےمترجم ہیں ۔امیرحزب اللہ حضرت پیرسیدفضل شاہ جلالپوری رحمۃ اللہ علیہ آپ کے مشہورشاگردہیں ۔(تذکرۂ علمائے اہل سنت ضلع چکوال،83)

(35)۔ تذکرہ علمائےاہل سنت ضلع چکوال،120

(36)۔ تذکرہ علمائےاہل سنت ضلع چکوال،120

(37)۔تذکرہ علمائےاہل سنت ضلع چکوال،45

(38) ۔ ہفتہ روزہ سراج الاخبار(1885ءتا1917ء):صاحب حدائق الحنفیہ حضرت مولانا فقیرمحمدجہلمی رحمۃ اللہ علیہ (25،اکتوبر1916ء/27ذوالحجہ1334ھ)نے1302ء کو اپنے مطبع سراج المطابع جہلم سے ہفتہ واراخبارسراج الاخبارجاری کیا،اس کی اشاعت کچھ انقطاع سے کم وبیش سولہ (16)سال جاری رہی۔اس کےمدیرغازی اسلام،مناظراہل سنت حضرت مولانا کرم الدین دبیرسیالوی رحمۃ اللہ علیہ (وفات 17جولائی 1946ء/17شعبان 1365ھ)تھے۔(ردقادنیت اورسُنی صحافت،37،46،61)

(39)۔ سراج الاخبار،6فروری1915ء،ص17

(40)۔تذکرہ علمائےاہل سنت ضلع چکوال،121

(41)۔ تذکرہ علمائےاہل سنت ضلع چکوال،122

(42)۔آپ کےمزارکےکتبے پروفات کی تاریخ 1914ء لکھی ہوئی ہے جوکہ درست نہیں،کیونکہ سراج الاخبار،6فروری1915ءمیں آپ کی وفات کا تذکرہ ہےجس سے معلوم ہوتاہے کہ آپ نے صفرُالمظفریاربیعُ الاول 1333ھ مطابق جنوری 1915ء کووصال فرمایا۔

(43)۔ سراج الاخبار،6فروری1915ء،ص17

(44)۔ حضرت میاں صاحب باباعبدالشکوررحمۃ اللہ علیہ ،اڈھروال کی علمی وروحانی شخصیت،باکرامت ولی اللہ ،عوام وخواص کےمرجع اورصاحب کرامت بزرگ تھے،انھوں نےگیارہویں صدی ہجری اسی گاؤں دینی مدرسہ قائم فرمایا،جواب بھی موجودہے، اس سے ایک زمانہ مستفیض ہوا۔ان کا مزارمرجع خاص وعام ہے۔(تذکرہ علمائےاہل سنت ضلع چکوال،55)

(45)۔ تاریخ الدولۃ المکیہ ص68

(46)۔پیرزادہ عابدحسین شاہ صاحب، یادگاراسلاف حضرت مولانا پیرانورحسین شاہ رحمۃا للہ علیہ (بانی بہاوالدین زکریالائبریری وسابق امام ومدرس جامع مسجدحنفیہ رضویہ چھونبی ضلع چکوال)کے بیٹے اورعلمی جانشین ہیں ،آپ عمدہ علمی وتحقیق ذوق کے حامل ،اردووعربی ادب سے آشنا،صحافتِ عرب کا گہرائی سےمطالعہ کرنے والے ،تراجم علمائے عرب وعجم سے خوب واقف اورحُسنِ اخلاق کے مالک ہیں ۔ طویل مدت حجازمقدس میں گزاری،عرب کے اہل علم سے ذاتی مراسم اوررابطے ہیں ،بیس (20)سے زیادہ کتب ومضامین کے مصنف ہیں ،کتب میں تاریخ الدولۃ المکیۃ،امام احمدرضا محدث بریلوی اورعلمائے مکہ مکرمہ ،محدث حجازاورسعودی صحافت اورتذکرہ سنوسی مشایخ اہم ہیں ۔ آجکل چکوال میں رہائش پذیرہیں ۔راقم کئی مرتبہ ان سے ملاقات کرچکا ہے۔(مزیددیکھئے :ماہنامہ سوئےحجازدسمبر2020ء،ص59،دمشق کے غَلایینی علماء،76)

(47)۔ رُومیِ کشمیر، صاحبِ سیفُ المُلوک حضرت میاں محمد بخش قادری رحمۃ اللہ علیہ عالمِ دین، مُصنِّف، پنچابی شاعر اور ولیِ کامل تھے، آپ 1246ھ کو موضع چک بہرام (ضلع گجرات) پاکستان میں پیدا ہوئے اور 7ذوالحجہ1324ھ کو وِصال فرمایا، آپ کا مزار مبارک کھڑی شریف (ضلع میر پور) کشمیر میں مرجَعِ خاص و عام ہے۔ (انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام، 1/455تا469)

(48)۔حضرت مولانا ڈاکٹرعبدالواحدالازہری صاحب موضع وروال (یونین کونسل،ضلع چکوال )کے رہنےوالےہیں ،قاہرہ مصرمیں بارہ(12) سال مقیم رہے،اس دوران جامعۃ الازہرسے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی،اس کے بعدپاکستان آئےاوربین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آبادمیں پروفیسرہوئے،آپ جامعہ سعیدیہ غوثیہ (متصل جامعہ مسجدحسینیہ حنفیہ مرکزی ڈاکخانہ چکوال) اوردیگرمدارس کےبانی وسرپرست ہیں۔راقم ان سے شرف ملاقات پاچکا ہے۔(مزیددیکھئے :ماہنامہ سوئےحجازدسمبر2020ء،ص65)


رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور اسلافِ امت نے اہلِ اسلام کو قیامت کے دن کی تیاری کرنے اور اپنی آخرت سنوارنے کی نصیحتیں کرنے کے ساتھ ساتھ کئی ایسی علامات و اسباب کا بھی ذکر کیا جن کے بعد قیامت قائم ہوگی۔ انہیں اسلامی اصطلاح میں علاماتِ قیامت کہا جاتاہے۔ قیامت کی ان علامات میں سے ایک بہت ہی فکرانگیز علامت علمائے دین کا انتقال فرماجانا بھی ہے۔ فی زمانہ اگر غور کیا جائے تو یہ علامتِ قیامت اپنا آپ ظاہر کرچکی ہے۔ علما کا وصال ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ علما کا دنیا سے جانا دراصل علم کا اُٹھنا ہے اور دنیا کا علم سے محروم ہونا کائنات کا سب سے بڑا نقصان ہے۔

امامِ اہلِ سنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”قیامت قریب ہے ، اچھے لوگ اُٹھتے جاتے ہیں ، جو جاتا ہے اپنا نائب نہیں چھوڑتا، امام بخاری نے انتقال فرمایا تو نوّے ہزار شاگرد محدّث چھوڑے، سیدنا امامِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے انتقال فرمایا اور ایک ہزار مجتہدین اپنے شاگرد چھوڑے، محدّث ہونا علم کا پہلا زینہ ہے اور مجتہد ہونا آخری منزل! اور اب ہزار مرتے ہیں اور ایک بھی ( نائب ) نہیں چھوڑتے۔( ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت،ص238)

امامِ اہلِ سنّت، مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا یہ فرمان بہت ہی قابل فکر و تشویش ہے۔یہ بات آپ نے 100سال سے بھی پہلے فرمائی تھی تو آج 100سال بعد بھلا کیا حال ہوگا؟ وہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔

مسندِ احمد میں ہے کہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:”امت اس وقت تک شریعت پر قائم رہے گی جب تک کہ ان میں تین چیزیں ظاہر نہ ہوجائیں:(1)علم کا قبض ہونا(2)ولدالزنا کی کثرت اور (3)صقارون، عرض کی گئی یارسول اللہ ! صقارون کیا ہے؟ ارشاد فرمایا: یہ آخری زمانہ کے لوگ ہیں جن کی باہم ملتے وقت کی تحیت ایک دوسرے پر لعنت کرنا ہوگی۔“(مسند احمد جلد 24، صفحہ 391، حدیث: 15628)

اس حدیث پاک کے تناظر میں دیکھا جائے تو قیامت کی یہ نشانیاں پوری ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں، ہر آئے دن کوئی نہ کوئی عظیم و جلیل القدر عالم دین دنیا سے رخصت ہورہے ہیں۔

خطبہ حجۃ الوداع میں سرورِ کائنات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اے لوگو! علم لے لو اس سے پہلے کہ وہ قبض کرلیا جائے، اس سے پہلے کہ وہ اٹھا لیا جائے۔(مسند احمد، جلد36، صفحہ621، حدیث:22290)

علم کا اٹھ جانا کس قدر ناقابلِ تلافی نقصان ہے اس کی حقیقت وہی سمجھ سکتا ہے جو علم اور اس کے فوائد و ثمرات کو جانتا اور سمجھتاہے۔ ایک عالم دین کا دنیا سے جانا گویا کہ ہمارا وراثت انبیاء سے محروم ہونا ہے کیونکہ انبیائے کرام کی وراثت علم ہے اور اس وراثت کے حامل علما ہی ہیں، رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے علم کے اٹھ جانے کی کیفیت اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات کی خبر ان الفاظ میں ارشاد فرمائی:اِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ العِلْمَ اِنْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ العِبَادِ، وَلٰكِنْ يَّقْبِضُ العِلْمَ بِقَبْضِ العُلَمَاءِ، حَتّٰى اِذَا لَمْ يَبْقَ عَالِمٌ اِتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَاَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَاَضَلُّوا یعنی اﷲ پاک علم کو بندوں(کے سینوں ) سے کھینچ کر نہ اٹھائے گا بلکہ علما کی وفات سےعلم اٹھائے گا، حتّٰی کہ جب کوئی عالم نہ رہے گا لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے، جن سے مسائل پوچھے جائیں گے وہ بغیر علم فتویٰ دیں گے، تو وہ خودبھی گمراہ ہوں گے اور (دوسروں کو بھی) گمراہ کریں گے۔( بخاری، 1/54حدیث:100)

اہلِ معرفت و علم کے نزدیک علماء کے وصال کا نقصان

(1) ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: بے شک اللہ کریم لوگوں کو علم دینے کے بعد ان سے واپس نہیں کھینچتا، بلکہ علماء کو لےجاتاہے، پس جب بھی کسی عالم کو لے جاتاہے تو اس کے ساتھ اس کا علم بھی چلاجاتاہے، یہاں تک کہ وہ باقی رہ جائیں گے جن کے پاس کوئی علم نہ ہوگا پس وہ گمراہ ہوں گے۔(اخلاق العلماء للآجری، صفحہ 32)

(2) رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےفرمایا: عالم کی موت ایک ایسی مصیبت ہے جس کا کوئی مداوا نہیں، ایسا شگاف ہے جو بند نہیں ہوسکتا، ایک تارا ہے جو ڈوب گیا، ایک عالم کی موت کی نسبت پورے قبیلے کی موت آسان ہے(یعنی جو نقصان پورے قبیلے کی موت سے ہوتاہے، عالم کی موت کے نقصان سے بہت کم ہے)(جامع بیان العلم و فضلہ، جلد1، صفحہ170، رقم:179)

(3) امیرُالمؤمنین حضرت سیّدنا عمرفاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کریم کے مقرر کردہ حلال اور حرام کی سمجھ رکھنے والے ا یک عالم کی موت کے آگے ایسے ہزارعبادت گزاروں کی موت بھی کم ہے جو دن کو روزہ رکھنے والے اور رات کو قیام کرنے والے ہوں۔ (جامع بیان العلم و فضلہ، ص42، رقم:115)

(4) شیرِ ِخدا حضرت سیّدنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہ وجہَہُ الکریم سے منقول ہے :جب عالم وفات پاتا ہے تو 77 ہزار مقربین فرشتے رخصت کرنے کے لئے اس کے ساتھ جاتے ہیں اور عالم کی موت اسلام میں ایسا رَخْنَہ ہے جسے قیامت تک بند نہیں کیا جاسکتا۔( الفقیہ و المتفقہ، 2/198، رقم :856)

(5) حضرت سیّدنا سعید بن جُبیر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ علما کا دنیا سے جانا لوگوں کی ہلاکت کی علامت ہے۔( سنن دارمی،1/90، حدیث :241)

(6) حضرت سیّدنا حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتےہیں: عالم کی موت دینِ اسلام میں ایک ایسا شگاف ہے کہ جب تک رات اور دن بدلتے رہیں گے کوئی چیز اس شِگاف کو نہیں بھر سکتی۔( جامع بیان العلم وفضلہ،ص213،رقم:654)حضرت سیّدنا سفیان بن عُیَیْنَہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: لاعلموں کے لئے بھلا اہلِ علم کی وفات سے زیادہ سخت مصیبت اور کیا ہوسکتی ہے۔( شرح السنۃ للبغوی،1/249)

(7) حضرت کعب فرماتے ہیں:تم پر لازم ہے کہ علم کے چلے جانے سے پہلے اسے حاصل کرلو، بےشک اہلِ علم کا وفات پانا علم کا جانا ہے ، عالم کی موت گویا ایک تارا ہے جو ڈوب گیا، عالم کی موت ایک ایسی دراڑ ہے جو بھری نہیں جاسکتی، ایک ایسا شگاف ہے جو پُر نہیں ہوسکتا، علما پر میرے ماں باپ قربان، ان کے بغیر لوگوں میں کوئی بھلائی نہیں۔(اخلاق العلماء للآجری، صفحہ 31)

(8) حضرت ابووائل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا:کیا تم جانتے ہو کہ اسلام کیسے کمزور ہوگا؟ لوگوں نے عرض کی: کیسے؟ فرمایا:جیسے جانور اپنے موٹاپے سے کمزوری کی طرف جاتاہے، اور جیسے کپڑا طویل عرصہ پہننے سے کمزور ہوجاتاہے اور جیسے درہم طویل عرصہ چلتے رہنے سے گھِس جاتاہے، ہوگا یوں کہ ایک قبیلہ میں دو عالم ہوں گے، پس جب ان میں سے ایک فوت ہوجائے گا تو آدھا علم جاتا رہے گا اور جب دوسرے کا انتقال ہوجائے گا تو سارا علم جاتا رہے گا۔ (اخلاق العلماء للآجری،صفحہ33) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(جاری ہے)


تحریر: ابوالنّور محمد راشد علی عطّاری مدنی

یکم ربیع الاول1442ھ

روایت میں ہے:

من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ

جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔

مجھے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی سے منسلک ہوئے 15سال سے زائد عرصہ ہوگیاہے، میں اگرچہ دعوتِ اسلامی کے اندر کا ہوں، کسی کے ذہن میں شاید یہ آئے کہ گھر کا بندہ ہے گھر کے قصیدے پڑھ رہا ہےلیکن

واللہ! آج بالکل غیر اختیاری طور پر امیرِ اہلِ سنّت علّامہ الیاس قادری اور دعوتِ اسلامی کا شکریہ ادا کرنے کا دل کررہا ہے۔

بالکل غیر جانبدار رہ کر

جی ہاں!

یوں تو علامہ الیاس قادری صاحب نے زندگی کے کئی شعبہ جات میں انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں۔

قریہ قریہ تعلیم قراٰن کے مدارس کھول دیئے

جگہ جگہ تقسیم وراثتِ انبیاء کے مراکز یعنی جامعات المدینہ کھول دیئے

اور نہ جانے کیا کیا انقلابی خدمات ہیں لیکن میں یہاں صرف ایک ڈیپارٹ کی بات کرنا چاہوں گا وہ ہے ”آئی ٹی مجلس دعوتِ اسلامی“

گزشتہ ہفتے نیت بنی کہ رسولِ کریم ﷺ کی آمد کے پیارے مہینے ربیع الاول کو اس بار بالکل الگ انداز میں منانا ہے، جس کے لئے فیصلہ ہو ا کہ پورا مہینہ سیرتِ رسولِ کریم ﷺ پربیانات کئے جائیں، ایک جدول بنایا جائے، ہر روز الگ موضوع ہو ،

جو پہلے دن کا موضوع منتخب ہوا وہ ہے

”رسول اللہ ﷺ کی شان قراٰن کی روشنی میں“

اب معاملہ تھا اس موضوع پر مواد جمع کرنے کا،

یوں تو مارکیٹ میں اس موضوع پر کتب بھی موجود ہیں اور انٹرنیٹ پر طرح طرح کے کالم بھی

لیکن اپنا ارادہ تھا کہ اپنی محنت

بس جو پہلا اور آخری ذریعہ ہاتھ آیا وہ تھا

علامہ محمد الیاس قادری صاحب کی دعوتِ اسلامی کی طرف سے بنایا گیا سافٹ وئیر

القراٰن الکریم

جی ہاں اس سافٹ وئیر میں آیات، ترجمہ اور تفسیر سرچ کرنے کا آپشن ہے، اس میں متن قراٰن، ترجمہ کنزالایمان اور تفسیر خزائن العرفان سرچ و کاپی پیسٹ کی سہولت کے ساتھ موجود ہے،

بس بیٹھے بیٹھے جو جو شانِ رسالت پر نکتہ ذہن میں آتا گیا اسے لکھتا گیا اور اس کی آیت منٹ سے بھی کم دورانیہ میں اس سافٹ وئیر کے ذریعہ سے ملتی گئی،

الحمد للہ صرف ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ میں 30 صفحات کا آیات قراٰنیہ و ترجمہ کنزالایمان کا مجموعہ تیار ہوگیا۔

شکریہ ! شکریہ! شکریہ!

اے الیاس قادری!(دام اللہ ظلک علینا) اے دعوتِ اسلامی!

اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں اے دعوتِ اسلامی تِری دھوم مچی ہو


نام کتاب: جَدُّ الْمُمْتارعَلٰی رَدِّ الْمُحْتار

جلدوں کی تعداد: 7

کل صفحات: 4000

فقہ حنفی کی مشہور کتاب ’’فتاوی شامی‘‘ جسے ’’رَدُّ الْمُحْتَار‘‘ بھی کہا جاتا ہے اس پر اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ نے انتہائی مفید تحقیقی حواشی تحریر فرمائے ہیں جسے جدید تحقیقی معیار کے مطابق سات جلدوں میں انتہائی مزین انداز میں مکتبۃ المدینہ نے شائع کیا ہے، یہ کتاب در اصل علامہ ابن عابدین شامی قُدِّسَ سِرُّہ السَّامی کی کتاب ردالمحتار پر عربی زبان میں حاشیہ ہے۔ اور’’رد المحتار‘‘ علامہ علاؤ الدین حصکفی علیہ الرحمہ کی’’در مختار‘‘ جو کہ امام تمرتاشی علیہ الرحمہ کی کتاب ’’تنویر الابصار‘‘ کی شرح ہے، اس پر حاشیہ ہے۔دعوتِ اسلامی کی مجلس المدینۃ العلمیہ کے شعبہ کتب اعلیٰ حضرت کے مدنی علمائے کرام نے اس کتاب میں درج ذیل کام کئے ہیں:

(1)تقدیم وترتیب (Presentation) :

٭ہر ”قَولُہُ“ پر نمبرنگ کا قیام ٭جدید عربی رسم لخط کے التزام کے ساتھ ساتھ رموز واوقاف کا اہتمام ٭مشکل الفاظ پر اعراب ٭کتاب، باب اور فصل کا قیام۔

(2)تخریج وتحقیق (References & Research):

٭قرآنی آیات، احادیث کریمہ اور عبارتوں کی تخریج ٭وہ کتابیں جو طبع ہی نہیں ہوسکیں اور مخطوطے کی شکل میں ہیں ان کی تخاریج

امام اہلسنّت علیہ الرحمہ کی عادتِ کریمہ ہے کہ کسی مسئلہ میں چند کتابوں کی عبارتیں ذکر کرنے کے بعد اپنے مؤقف کی تائید میں دیگرکئی کتابوں کے صرف نام ذکر فرمادیتے ہیں تو ان کی بھی تخریج کا اہتمام کیا گیا ہے۔

کبھی اس مسئلہ کی تحقیق کسی دوسری جگہ فرماچکے ہوتے ہیں تو اس کی طرف صرف اشارہ فرمادیتے ہیں تو ان کی بھی تخاریج کی کوشش کی گئی ہے۔

امام اہلسنت علیہ الرحمہ نے رد المحتار پر حواشی کے ساتھ ساتھ کئی علوم وفنون اور کتب پر بھی حواشی رقم فرمائے ہیں اور جد الممتار میں کئی جگہ ان کا حوالہ بھی دیا ہےتو ان حواشی کی تخریج کے ساتھ وہاں بیان کردہ امام کی تحقیق کو بھی کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔

جہاں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے کسی حدیث مبارکہ کی طرف اشارہ کیا ہے تو غوروخوض کے بعد امام کی مرادی حدیث مبارکہ بھی مکمل بیان کردی گئی ہے۔

اپنی رائے،تحقیق اور اضافہ جات کو امام اہلسنّت کی عبارت سے الگ رکھا گیا ہے تاکہ غلطی کی صورت میں مصنف علیہ الرحمہ کا دامن پاک رہے۔

عرب دنیا میں رائج جدید اندازِ تحقیق وتخریج اختیار کیا گیا ہے۔

(3)تقابل (Comparison) :

پوری کتاب کا ایک سے زائد مرتبہ تقابل کیا گیا ہے۔

اس حاشیے کی ابتدائی دوجلدیں (کتاب الطہارۃ تاکتاب الطلاق) الجمع الاسلامی مبارکپور ہند سے شائع ہوچکی تھیں تویہاں تک کے تقابل اور کام میں بھی اسی نسخہ کو معیار بنایا گیا ہے اس کے بعد کتاب الایمان سے آخرکتاب تک کا مواد مخطوطے کی شکل میں تھا لہذا اس کا تقابل مخطوطے سے کیا گیا ہے۔

صحتِ متن کیلئے حتی المقدور کوشش کی گئی ہے، اس میں صحتِ عبارت کے ساتھ ساتھ فقہی صحت کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔ فارسی عبارتیں ماہرین سے چیک کروائی گئی ہیں، اور دیگر فنی ابحاث مثلاً کتاب الصلوۃ میں جہاں علم توقیت کے حوالے سے گفتگو آئی ہے وہاں درجہ اور دقیقہ وغیرہ میں علم توقیت کے ماہرین سے بھی مدد لی گئی ہے۔

(4)تعریب (Arabic Translation):

جہاں کہیں اردو یا فارسی عبارتیں آئی ہیں ان کی عربی بھی بنائی گئی ہے۔

(5)تراجم (Books Intro. & Persons Biography):

جہاں کہیں امام اہلسنت نے کسی شخصیت یا کتاب کا نام ذکر کیا ہے تو ان کا مختصر تعارف بھی کردیا گیا ہے اسی طرح کتاب کے مصنف کا نام ، اس کتاب کا موضوع وغیرہ بیان کردیا گیا ہے۔

(6)فتاویٰ رضویہ:

اس کتاب کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ فتاویٰ رضویہ میں جہاں کہیں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے تنویر الابصار، در مختار یا رد المحتار کی کسی عبارت پر کوئی کلام فرمایا ہے۔ اسے مکمل تلاش اور چھان بین کے بعد شامل کردیا گیا ہے البتہ اصل حواشی اور فتاویٰ رضویہ کے اضافہ جات میں فرق کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔

(7)فہارس:(Indexes)

اس کتاب کی ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ اس میں 9 طرح کی فہرستیں بنائی گئی ہیں جنہیں آپ کتاب میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

علماء ومفتیانِ کرام بالخصوص تخصص فی الفقہ کےاسلامی بھائیوں کی سہولت کیلئے امام اہلسنّت علیہ الرحمہ کا عظیم الشان رسالہ ’’ اَجْلَی الْاِعْلَام اَنَّ الْفَتْوٰی مُطْلَقًا عَلٰی قَوْلِ الْاِمَام ‘‘ کو تحقیق وتخریج کے ساتھ پہلی جلد میں شامل کیا گیا ہے، بحمد اللہ اب یہ رسالہ علیحدہ بیروت سے بھی شائع ہوچکا ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کی اس کاوش کو علمائے کرام کی طرف سے خوب سراہا گیا اور اس پر تحقیقی کام کرنے والوں کو دعاؤں سے نوازا گیا۔ اسی کی برکت ہے کہ امام اہلسنّت رحمۃ اللہ علیہ کی غیر مطبوعہ تصانیف پر تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے اور اس وقت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے فقہِ حنفی کی مشہور کتاب ’’ہدایہ‘‘ اور اس کی شروحات (فتح القدیر، عنایہ، کفایہ اور حاشیہ چلپی) پر لکھے گئے حواشی پر مندرجہ بالا انداز پر کام کرکے طباعت کیلئے بیروت روانہ کردیا گیا ہے جو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ عنقریب شائع ہوجائے گی، آخر میں اخلاص وقبولیت کیلئے دعاجو ہوں اوردعاگو ہوں کہ اللہ کریم اس چمن اور اس کے نگہبان شیخ طریقت امیر اہلسنّت حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری اور جملہ علما ومشائخ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا سایہ اور شفقتیں تادیر قائم ودائم رکھے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن دنیائے اسلام کی ان عظیم ہستیوں میں سےتھے جنہوں نے نہ صرف بر صغیر پاک وہندمیں رہنے والوں کو فیضیاب کیا بلکہ دیگر ممالک کے بسنے والے افراد بھی اس بارگاہ سے اپنے شرعی معاملات کا حل پاتے نظر آئے، اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں ملک وبیرون ملک سے کتنی کثرت سے سوالات آتے تھے اس کا جواب بارگاہِ اعلیٰ حضرت سے یوں ملتا ہے:

بفضلہ تعالیٰ تمام ہندستان ودیگر ممالک مثل چین و افریقہ و امریکہ وخود عرب شریف وعراق سے ا ستفتا آتے ہیں اور ایک ایک وقت میں چار چار سوفتوے جمع ہوجاتے ہیں بحمد اﷲ تعالیٰ حضرت جد امجد قدس سرہ العزیز کے وقت سے اس ۱۳۳۷؁ھ تک اس دروازے سے فتوے جاری ہوئے اکانوے (۹۱)برس اور خود اس فقیر غفرلہ کے قلم سے فتوے نکلتے ہوئے اکاون(۵۱) برس ہونے آئے یعنی اس صفر کی ۱۴ تاریخ کو پچاس(۵۰) برس چھ (۶)مہینے گزرے، اس نو۹ کم سو۱۰۰ برس میں کتنے ہزار فتوے لکھے گئے ، بارہ مجلد تو صرف اس فقیر کے فتاوے کے ہیں۔(فتاوی رضویہ، 6/562)

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:

فقیر کے یہاں علاوہ دیگر مشاغل کثیرہ دینیہ کے کار فتوٰی اس درجہ وافر ہے کہ دس مفتیوں کے کام سے زائد ہے۔ شہر ودیگر بلاد امصار جملہ اقطار ہندوستان وبنگال وپنجاب و ملیبار وبرہما وارکان و چین وغزنی وامریکہ وافریقہ حتی کہ سرکار حرمین شریفین محترمین سے استفتاء آتے ہیں ا ور ایک وقت میں پانچ پانچ سو جمع ہوجاتے ہیں۔(فتاوی رضویہ، 9/499)

افریقہ:

(۱)افریقہ کے مقام بھوٹا بھوٹی باسو ٹولینڈ سے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی خدمت میں مختلف موضوعات پر111سوالات پوچھے گئے جن کے جوابات آپ نے تحریر فرمائے ۔"فتاوی افریقہ"کی صورت میں یہ سوالات مع جوابات موجود ہیں۔

اسی مقام سے آپ کی خدمت میں مزید6 استفتاء بھیجے گئے ۔ (فتاوی رضویہ، 4/324، 365، 563، 572، 599، 11/301)

(۲)افریقہ کے مقام ’’منڈی‘‘ سے بھی آپ کی خدمت میں روزے سےمتعلق استفتاء بھیجا گیا ۔ (فتاوی رضویہ، 10/431)

(۳) افریقہ کے مقام ’’ٹرانسوال‘‘سے جمعہ کے متعلق استفتاء بھیجا گیا۔(فتاوی رضویہ، ۶/۳۵۵)

(٤) افریقہ کے علاقے ’’ ممباسہ‘‘ سے 4 استفتاء بھیجے گئے ۔ (فتاوی رضویہ، 6/352، 7/198،300، 9/523)

(5)افریقہ کے مقام ’’ڈربن نا ٹال‘‘ سے 1استفتاء بھیجاگیا ۔ (فتاوی رضویہ، 21/195)

(6)افریقہ کے مقام ’’بلنڈی‘‘ سے2 استفتاء بھیجے گئے۔ (فتاوی رضویہ، 7/235،468)

(7) افریقہ ’’جوہانس برگ ‘‘ سے بھی آپ کی خدمت میں 1استفتاء بھیجا گیا۔(فتاوی رضویہ، 8/394)

(8) افریقہ سے ایک مزید استفتاء بھیجا گیا لیکن اس مقام کا نام ذکر نہیں ۔(فتاوی رضویہ،23/375)

برما:

ملک برما سے اعلیٰ حضرت کی خدمت میں 5استفتاء بھیجئے گئے جن کے جوابات آپ نے تحریر فرمائے۔(دیکھئے فتاوی رضویہ قدیم ۶/۲۵، ۳/۷۴۶،۱۰/۱۴۴نصف ثانی،۱۰/۱۴۶نصف ثانی، ۶/۱۵۴)

بنگلہ دیش:

(۱)بنگلہ دیش کےمختلف علاقوں سے اعلیٰ حضرت کی خدمت میں73 سےزائداستفتاء بھیجے گئے جن کی کچھ تفصیل یہ ہے:

(1)ڈھاکہ سے 9 استفتاء پوچھے گئے۔ (فتاوی رضویہ،7/137،8/86، 365، 552، 575، 11/352، 12/392، 14/622، 20/333)

(2)نواکھالی سے 18 استفتاء پوچھے گئے۔ (فتاوی رضویہ، 1-ب/1071، 8/154، 9/159، 420، 643، 13/136، 155، 208، 233، 16/261، 295، 17/614، 19/494، 20/310، 24/180، 338، 23/110، 329 )

(3)چٹاگانگ سے 3 استفتاء پوچھے گئے۔ (فتاوی رضویہ، 4/328، 6/234، 12/386 )

(4)پیڑا بنگال سے1استفتاء پوچھا گیا۔ (فتاوی رضویہ، 8/107)

(5)سلہٹ سے 15 استفتاء پوچھے گئے۔ (فتاوی رضویہ، 8/164، 584، 9/161، 176، 408، 653، 10/154، 11/413، 12/325، 637، 639، 646، 13/305، 21/634، 23/541)

(6)کمرلہ سے5 استفتاء بھیجے گئے۔ (فتاوی رضویہ، 8/355، 595، 22/203، 23/562، 24/113)

(7)پابنہ سے2 استفتاء بھیجے گئے۔ (فتاوی رضویہ، 5/378، 8/341)

(8)بیر بھوم 2استفتاء بھیجے گئے۔ (فتاوی رضویہ، 9/264، 528)

(9) بنگلہ دیش کے مقام ’’شرشدی‘‘ ضلع نواکھالی سے آپ کی خدمت میں3 استفتاء بھیجے گئے۔ (فتاوی رضویہ، 9/158،420،23/330)

(10) میمن سنگھ کے علاقہ سے بھی آپ کی خدمت میں 14استفتاء بھیجے گئے۔ (فتاوی رضویہ، 7/346، 8/77، 354، 361، 456، 570، 584،9/646، 19/486، 20/444، 22/407، 23/545، 691، 714)

(11) چاہ بگان ضلع ڈونگ سے بھی آپ کی خدمت میں استفتاء بھیجا گیا۔ (فتاوی رضویہ،20/260)

عراق:

عراق سے اعلیٰ حضرت کی خدمت میں کتنے استفتاء بھیجے گئے ان کی صحیح تعداد تو معلوم نہیں البتہ بغداد شریف سے بھیجے گئے 2 استفتاء کا ذکر فتاوی رضویہ میں ملتا ہے۔ (فتاوی رضویہ،۱۵/۱۶۵، 9/۵۹۳)

افغانستان:

افغانستان سے بھی آپ کی خدمت میں استفتاء بھیجا گیا ۔ (خطوط مشاہیر بنام امام احمد رضا،1/402)

پاکستان:

پاکستان کے مختلف شہروں(کراچی ،لاہور،ڈیرہ غازی خان،پاکپتن،راولپنڈی،گجر خان، پشاور، سکھر،بہالپور، جہلم، ہری پور اورمیرپور آزاد کشمیر) سے اعلیٰ حضرت کی خدمت میں88سے زائد استفتاء بھیجئے گئے جن کے جوابات آپ نے تحریر فرمائے۔

(1) کراچی سے 10 استفتاء بھیجے گئے۔ ( فتاوی رضویہ،6/574، 576،7/527، 528، 8/443، 14/604، 20/348، 21/248، 29/89، 26/353)

(2) مرکز الاولیاء لاہور سے 20استفتاء بھیجے گئے۔ ( فتاوی رضویہ،9/657، 10/520، 11/463، 488، 663، 12/169، 14/102، 426، 580، 394، 17/131، 19/292، 505، 18/359، 21/281، 26/278، 590، 29/201، 335، 591)

(3) ڈیرہ غازی خان سے 3 استفتاء بھیجے گئے۔ (فتاوی رضویہ،11/684، 14/617، 24/133)

(4)راولپنڈی سے 14استفتاء بھیجے گئے۔(فتاوی رضویہ، 4/342، 6/189، 10/291، 486،11/259، 12/180،193،358، 378، 14/654، 18/511، 619، 20/290، 29/334)

(5) بہاولپورسے13استفتاء بھیجے گئے۔ (فتاوی رضویہ،11/443، 14/641، 691، 15/283، 16/241، 18/123، 415، 600، 19/362، 384، 638، 26/374، 378)

(6) جہلم سے6استفتاء بھیجے گئے۔ ( فتاوی رضویہ،5/322، 9/139، 16/529، 20/223، 21/666، 22/692)

(7) پشاور سے 5استفتاء بھیجے گئے۔ ( فتاوی رضویہ،6/190، 11/215، 16/336، 18/624، 22/200)

(8) سکھر سے 4استفتاء بھیجے گئے۔( فتاوی رضویہ،11/680، 20/210، 223، 21/290)

(9) بلوچستان سے 12استفتاء بھیجے گئے۔ ( فتاوی رضویہ، 4/601، 8/108، 212، 9/406، 11/237، 13/585، 17/337، 19/505، 20/222، 26/609، 29/204، 328)

(10) میرپور آزاد کشمیر سے استفتاء بھیجا گیا۔( فتاوی رضویہ،11/647)

پرتگال:

پرتگال کے علاقے ’’دمن خرد‘‘ سے بھی آپ کی خدمت میں3استفتاء بھیجے گئے۔ (فتاوی رضویہ، 5/386، 414، 8/589)


اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریر کردہ کتب ورسائل سے پتہ چلتا ہے کہ 105 سے زائد علوم وفنون پر آپ نے قلم اٹھایا ہے۔ (ماخوذ ازمعارف رضا، ص233، سال1991) جن میں دینی علوم مثلاً قرآن وحدیث ،فقہ وغیرہ کے ساتھ ساتھ دیگرعلوم وفنون مثلاً سائنس، ریاضی، معاشیات واقتصادیات وغیرہ شامل ہیں، کتب ورسائل کے ساتھ ساتھ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے اشعار بھی ان علوم وفنون سے لبریز نظر آتے ہیں۔

ان میں سے کچھ علوم درج ذیل ہیں:

(1) علم لغت(Vocabulary): الفاظ کی بناوٹ اور معانی کا علم

اس فن میں اعلیٰ حضرت کی دو کتابیں ہیں:(1)اَحْسَنُ الْجُلُوْہ فِی تَحْقِیْقِ المِیْلِ وَالذِّرَاعِ وَالْفَرْسَخِ وَالْغُلُوہ (2)فَتْحُ الْمُعْطِی بِتَحْقِیْقِ مَعْنَی الْخَاطِی وَالْمُخْطِی۔(حیات اعلیٰ حضرت،۲/۷۷ مکتبہ نبویہ لاہور)

(2) علم تاریخ(History)

اس فن میں اعلیٰ حضرت کی تین کتابیں ہیں: (1)اِعْلَامُ الصَّحَابَۃِالْمُوَافِقِیْنَ لِلْاَمِیْرِ مُعَاوِیَۃَ وَاُمِّ الْمُؤْمِنِیْن (2)جَمْعُ الْقُرْآنِ و بِمَ عَزْوَہُ لِعُثْمَان(3)سرگزشت وماجرائے ندوہ۔ (حیات اعلیٰ حضرت،۲/۸۹)

(3) علم تکسیر(Fractional Numeral Math)

(1)اَطَائِبُ الْاِکْسِیْرِ فِی عِلْمِ التَّکْسِیْرِ۔(2) 1152 مربَّعات (3)حاشیہ اَلدُّرُّ الْمَکْنُوْن (4) رسالہ در علمِ تکسیر(حیات اعلیٰ حضرت،۲/۹۲)

(4) علم توقیت و نجوم(Reckoning of Time)

اوقات نماز کا علم ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے تاکہ ہر نماز صحیح وقت پر ادا کی جائے، اعلیٰ حضرت اس فن میں بھی یکتائے زمانہ تھے ، آپ ہی نے سب سے پہلے متحدہ پاک وہند میں شمسی سال کے اعتبار سے اوقاتِ نماز کا نقشہ مرتب کیا تھا۔اس فن میں اعلیٰ حضرت نے اردو، فارسی اور عربی زبانوں میں کم وبیش 16 کتب وحواشی تحریر فرمائے: (1)اَلْاَنْجَبُ الْاَنِیْقِ فِیْ طُرْقِ التَّعْلِیْقِ (2)زِیْجُ الْاَوْقَاتِ لِلصَّوْمِ وَالصَّلٰوۃ ِ (3)تاجِ توقیت(4)کَشْفُ الْعِلّۃِ عَنْ سَمْتِ الْقِبْلَۃِ (5)دَرْءُ الْقُبْحِ عَنْ دَرْکِ وَقْتِ الصُّبْح(6)سِرُّ الْاَوْقَاتِ (7)تَسْہِیْلُ التَّعْدِیْلِ (8)جدولِ اوقات (9)طلوع وغروب نیرین (10)اِسْتِنْبَاطُ الْاَوْقَاتِ (11)اَلْبُرْہَانُ الْقَوِیْمِ عَلَی الْعَرْضِ وَالتَّقْوِیْمِ (12)اَلْجَوَاہِرُ وَالتَّوْقِیْتُ فِیْ عِلْمِ التَّوْقِیْتِ (13)رؤیتِ ہلالِ رمضان (14)جدولِ ضرب (15)حاشیہ جَامِعُ الْاَفْکَار (16)حاشیہ زُبْدَۃُ الْمُنْتَخَب۔ (حیات اعلیٰ حضرت،۲/۹۴)

(5تا 7) علم نجوم، ہیئت وفلکیات(اسٹرولوجی واسٹرونومی)

علم نجوم یعنی ستاروں اور سیاروں کے متعلق علم۔

علم ہیئت : وہ علم جس میں اجرام ِ فلکی ،زمین اور اس کی گردش و کشش وغیرہ سے بحث کی جاتی ہے ۔

اعلیٰ حضرت ستاروں اور سیاروں کی چالوں سے اتنے زیادہ باخبر تھے کہ جب آپ سے سوال کیا گیا کہ اہرامِ مصر کب اور کس نے تعمیر کیا تو آپ نے امیر المؤمنین مولی علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے قول کی روشنی میں اوراس فن میں اپنی مہارت سےجواب دیا کہ اسکی تعمیرات کو12640 سال آٹھ ماہ کا عرصہ گزرچکا ہے اور یہ تعمیرات سیدنا آدم علیہ السلام کی پیدائش سے بھی 5750 سال پہلے جنات نے کی تھی ۔(معارف رضا، ص16-17، مجلہ 2013)

ان علوم پر امام اہلسنّت علیہ الرحمہ کی درج ذیل آٹھ کتابیں ہیں: (1) مَیْلُ الْکَوَاکِبِ وَتَعْدِیْلِ الْاَیَّامِ (2)اِسْتِخْرَاجُ تَقْوِیْمَاتِ کَوَاکِب(3) زَاکِیُ الْبِہَا فِیْ قُوّۃِ الْکَوَاکِبِ وَضُعْفِہَا (4)رِسَالَۃُ الْعَاد قَمَر (5)حاشیہ حَدَائِقُ النُّجُوْم (6)اِقْمَارُ الْاِنْشِرَاحِ لِحَقِیْقَۃِ الْاِصْبَاحِ (7)اَلصِّرَاحُ الْمُوْجِزُ فِی تَعْدِیْلِ الْمَرْکَزِ (8)جَادَۃُ الطُّلُوْعِ وَالْحَمْرِ لِلسَّیَّارَۃِ وَالنُّجُومِ وَالْقَمْرِ۔ (حیات اعلیٰ حضرت،۲/۹۵)

(8-9) علمُ الْحِسَاب وریاضی(Arithmetic & Mathemetic)

ان پر امام اہلسنّت علیہ الرحمہ کی درج ذیل دس کتابیں ہیں: (1)کَلامُ الْفَہِیْمِ فِی سَلَاسِلِ الْجَمْعِ وَالتَّقْسِیْمِ (2)جَدْوَلُ الرِّیَاضِی (3)مسئولیاتِ اَسہام (4)اَلْجَمَلُ الدَّائِرَۃِ فِی خُطُوطِ الدَّائِرَۃِ (5)اَلْکَسْرُ الْعُسْرٰی (6)زَاوِیَۃُ الْاِخْتِلَافِ الْمَنْظَرِ (7)عَزْمُ الْبَازِی فِی جَوِّ الرِّیَاضِی (8)کسورِ اَعشاریہ (9)معدنِ علومی درسنینِ ہجری، عیسوی ورومی (10)حاشیہ جامعِ بہادر خانی۔ (حیات اعلیٰ حضرت،۲/۹۶)

(10) علمِ اَرْثْمَا طِیْقِی (Greek Arithmetic)

اس فن میں اعلیٰ حضرت کی تین کتابیں ہیں: (1)اَلْمُوْہِبَاتُ فِی الْمُرَبَّعَاتِ (2)اَلْبُدُوْرُ فِی اَوْجِ الْمَجْذُوْرِ (3)کِتَابُ الْاَرْثْمَاطِیْقِی۔ (حیات اعلیٰ حضرت، ۲/۹۷)

(11) علم جبر ومقابلہ(Algebra)

یہ علم حساب کی فرع ہے۔ اس فن میں اعلیٰ حضرت کا ایک رسالہ ہے:(۱)حَلُّ الْمُعَادَلَات لِقَوِیِّ الْمُکَعَّبَاتِ (2)رسالہ جبرومقابلہ (3)حاشیہ اَلْقَوَاعِدُ الْجَلِیْلَۃ۔ (حیات اعلیٰ حضرت،۲/۹۷)

(12) علم الزیجات(Astronomical Tables)

اس علم میں اعلیٰ حضرت کی ایک کتاب ہے: (۱)مُسْفِرُ الْمَطَالِعِ لِلتَّقْوِیْمِ وَالطَّالِعِ (2)حاشیہ زیج بہادر خانی۔ (حیات اعلیٰ حضرت،۲ /۱۰۱)

(13) علم الجفر(Numerology Cum Literology)

اس فن میں اعلیٰ حضرت نے بغیر کسی استاد کےاس قدر مہارت حاصل کی کہ اس فن کے کئی قواعد آپ نے خود استخراج فرمائے،عربی زبان میں6 کتابیں ہیں: (1)اَلثَّوِاقِبُ الرَّضَوِیَّۃ عَلَی الْکَوَاکِبِ الدُّرِّیَّۃ (2)اَلْجَدَاوِلُ الرَّضَوِیَّۃ عَلَی الْکَوَاکِبِ الدُّرِّیَّۃ (3)اَلْاَجْوِبَۃُ الرَّضَوِیَّۃ لِلْمَسَائِلِ الْجَفَرِیَّۃ (4)اَلْجَفَرُ الْجَامِع (5)سَفرُ السَّفر عَنِ الْجَفَرِ بِالْجَفَرِ (6) مُجْتَلَّی الْعُرُوسِ وَالنُّفُوسِ۔

(14) علم ہندسہ(Geometry): خطوط اور زاویوں کا علم

(1)اَلْمَعْنَی الْمُجَلِّی لِلْمُغْنِی وَالظِّلِّی (2)اَلْاَشْکَالُ الْاِقْلِیْدَسْ (3)حاشیہ اصولِ ہندسہ (4)حاشیہ تحریرِ اقلیدس۔

(15-16) سائنس وہیئت (سائنس اینڈ فزکس)

اس فن پر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی تحریروں اور فتاوی میں بیش بہا خزانہ عطا فرماتے ہوئے کئی سائنسی نظریات بھی پیش کئے ہیں ، اس فن پر آپ کی درج ذیل 3 اردوکتابوں اور 1 عربی حاشیہ کا پتہ چلا ہے: (1) نزولِ آیاتِ قرآن بسکونِ زمین وآسمان(2) فوزِ مُبین دَر رَدِّ حرکتِ زمین (3) مُعینِ مُبین بَہر دَورِ شمس وسکونِ زمین (4)حاشیہ اصولِ طبعی ۔

(17)معاشیات واقتصادیات(Economics)

اعلیٰ حضرت نے اس شعبہ میں بھی مسلمانوں کی نہ صرف بھرپور رہنمائی فرمائی بلکہ انہیں معاشی استحکام کا راستہ بھی دکھایا اس سلسلے میں آپ نے1912ء میں چار معاشی نکات بھی پیش کئے، اس موضوع پر آپ کی 3 کتابیں ہیں: (1)کِفْلُ الْفَقِیْہِ الْفَاہِمِ فِی اَحْکَامِ قِرْطَاسِ الدَّرَاہِمِ (2)تدبیرِفلاح ونجات واصلاح (3)اَلمُنٰی وَالدُّرَرْلِمَنْ عَمَدَ مَنِیْ آرْدَرْ

(18) علم ارضیات(Geology)

یعنی وہ علم جس میں زمین اور اس کے حصوں کے متعلق گفتگو کی جاتی ہے، زلزلے کا تعلق بھی اسی علم سے ہے ۔ زلزلہ کیسے آتا ہے؟ اس کے اسباب کیا ہیں؟زلزلہ مختلف علاقوں میں کیوں آتا ہے؟ زلزلہ پوری دنیا میں ایک ساتھ کیوں نہیں آتا ؟ زلزلہ کبھی کم شدت کے ساتھ اور کبھی انتہائی شدت کے ساتھ کیوں آتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب اس فن کا ماہر ہی دے سکتا ہے، امام اہلسنّت سے جب سوالات پوچھے گئے تو آپ علیہ الرحمہ نے اپنی فنی مہارت سے ان تمام کے تسلی بخش جوابات مرحمت فرمائے، اسی طرح تیمم کے مسئلہ میں مٹی اور پتھروں کی اقسام وحالتوں پر اپنی تحقیق سے 107 ایسی اقسام کا اضافہ فرمایا ہے جن سے تیمم جائز ہے اور 73 وہ بھی بتائی ہیں جن سے تیمم جائز نہیں، مزید تفصیل کیلئے آپ کا رسالہ ’’ اَلْمَطَرُ السَّعِیْد عَلٰی نَبْتِ جِنْسِ الصَّعِیْد‘‘ کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔

(19) علم حجریات(Petrology)

یہ علم ارضیات کی ایک شاخ ہے جس میں پتھروں سے متعلق معلومات حاصل کی جاتی ہیں کہ کون سا پتھر، معدنیات، ہیرے جواہرات کہاں اور کیسے بنتے ہیں اور ان کو کس طرح تقسیم کیا جاسکتا ہے، Metalکی تعریف جتنی وضاحت کے ساتھ اعلیٰ حضرت نے فرمائی ہے اتنی وضاحت کے ساتھ علم حجریات والے بھی نہ کرسکے، اس فن میں اعلیٰ حضرت کے 3 رسائل ہیں: (1)حُسْنُ التَّعَمُّم لِبَیَانِ حَدِّ التَّیَمُّم (2)اَلْمَطَرُ السَّعِیْد عَلٰی نَبْتِ جِنْسِ الصَّعِیْد (3)اَلْجِدُّ السَّدِیْد فِیْ نَفْیِ الْاِسْتِعْمَالِ عَنِ الصَّعِیْد۔(ماخوذ ازمعارف رضا، ص17، مجلہ 2013)

(20) علم صوتیات:

یہ علم ہیئت کی ایک اہم شاخ ہے جس میں آواز کی لہروں سے متعلق علم حاصل کیا جاتا ہے، موبائل فون کے ذریعے ایک دوسرے تک آواز کا پہنچنا اسی طرح الٹرا ساؤنڈ کی مشینوں میں بھی آوازکی لہروں سے مدد لی جاتی ہے، اعلیٰ حضرت آواز کی لہروں سے بھی بھرپور واقف تھے ،’’اَلْکَشْفُ شَافِیَا حُکْمُ فُوْنُوْ جِرَافِیا‘‘ نامی کتاب اس فن پر آپ کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔(ماخوذ ازمعارف رضا، ص17، مجلہ 2013)

(21) علم البحر(Oceanography)

اس علم کی ایک شاخ سمندری موجوں سے تعلق رکھتی ہے جسے Tidesکہا جاتا ہے اور یہ لہریں مختلف قسم کی ہوتی ہیں، ان میں سے ایک قسم کو ’’مدوجزر‘‘ یعنی Lunar Tideکہا جاتا ہے،اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے’’فوز مبین ‘‘ میں ’’مدووجزر‘‘ کے سبب پر اپنا مؤقف نہ صرف مدلل انداز میں بیان فرمایا بلکہ اس فن میں بھی اپنی مہارت کا لوہا منوایا۔

(22) علم الوفق

اس فن میں بھی اعلیٰ حضرت کی ایک کتاب ہے: (۱)اَلْفَوْزُ بِالْآمَال فِی الْاَوْفَاقِ وَالْاَعْمَالِ۔ (حیات اعلیٰ حضرت، ۲/۹۳)


تحریر: مولانا انصار احمد مصباحی صاحب

نُوْرُ الْاِيْضَاحِ کوآپ میں سے اکثر لوگوں نے حرفاً حرفاً پڑھا ہوگا۔ بر صغیر کے سارے مدارس نظامیہ میں داخل نصاب ہے۔ سچ پوچھیں تو فقہ حنفی میں اس سے مختصر اور جامع کتاب نہیں لکھی گئی۔ اس کے مشمولات طلبہ کو آگے کی فقہی مطولات میں روح کا کام کرتے ہیں۔ نور الایضاح کی اختصار اور جامعیت کی خوبی اسے دوسری کتابوں سے ممتاز کرتی ہے۔

کتاب کا پورا نام نُوْرُ الْاِيْضَاحِ وَ نَجَاةُ الْاَرْوَاحِ ہے۔ مصنف ہیں شیخ ابو الاخلاص حسن بن عمارشرنبلالی حنفی مصری رحمۃ اللہ علیہ (م ١٠٧٩ھ )۔ مصنف نے یہ کتاب اپنے بعض محبین کے لئے لکھی، جب ضرورت محسوس کیا کہ کئی مقامات وضاحت طلب ہیں، کہیں کہیں عبارت مبہم ہوگئی ہے، توضیح و تشریح کی ضرورت ہے، تو خود ہی اس کی مختصر شرح مَرَاقِی الْفَلَّاحِ بِاِمْدَادِ الْفَتَّاحِ کے نام سے لکھ دی۔

آج میری توجہ کی چیز کتاب ہے نہ ہی اس کی شرح بلکہ جس چیز نے مجھے اس مشہور کتاب کا تجزیہ لکھنے پر مجبور کیا، وہ اس کا حاشیہ ہے۔

دعوت اسلامی کے”مکتبۃالمدینہ“ نے، نُوْرُ الْاِيْضَاحِ اور مَرَاقِی الْفَلَّاحِ کو النورُ و الضياءُ من افاداتِ الامام احمد رضا نام کے حاشیے کے ساتھ شائع کیا ہے۔ نام سے آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ حاشیے شیخ الاسلام حضور اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمة اللہ علیہ کے افادات پر مشتمل ہیں،لیکن آپ کو کہیں پر بھی افادات کا گمان نہیں ہوگا، بلکہ مستقل اور مکمل حاشیہ ہی لگتا ہے۔ یہ یقیناً دعوت اسلامی کی مجلس المدینۃ العلمیہ کے علما کی محنت شاقہ کا نتیجہ ہے۔ جَدُّ الْمُمْتَار کے بعد رضویات میں دعوت اسلامی کا یہ نمایاں کام کہا جا سکتا ہے۔

ترتیب یہ ہے کہ صفحے میں پہلے نور الایضاح کی عبارت ہے، نیچے مراقی کی شرح اور پھر امام احمد رضا بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے افادات۔ افادات عام فہم اور سلیس عبارتوں میں لکھے گئے ہیں، جن کا سر چشمہ فتاوی رضویہ شریف ، جَدُّ الْمُمْتَار اور حضرت امام کی دوسری کتب فقہ پر لکھی گئیں حواشی و تعلیقات ہیں۔ امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی عادت کریمہ تھی، دوران مطالعہ کتابوں میں حاشیہ بھی لکھ دیا کرتے۔ ماہر رضویات پروفیسر مسعود احمد مجددی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، ”راقم کے کتب خانے میں صرف علم حدیث کے متعلق امام احمد رضا علیہ الرحمہ کے ٢١ مخطوطات موجود ہیں“۔ (جامع الاحادیث، مقدمہ ، ٦٥) حضرت امام نے فقہ میں تین سو کے قریب کتابیں تصنیف فرمائیں، فقہ حنفی کی ہدایہ، کتاب الخراج، فتح القدیر، بدائع و الصنائع، فواتح الرحموت، الجوہرہ، البحر الرائق، مجمع الانہر، فتاوی ہندیہ، فتاوی حدیثیہ، فتاوی خیریہ وغیرہ ٣٥ کتابوں پر حواشی و تعلیقات ہیں۔

زیر نظر حاشیہ آپ کے گراں قدر افادات پر مشتمل ہے۔ ملک العلماء رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتےتھے، ”اعلی حضرت کے افادات بھی افادات ہوتے ہیں“۔ (مقدمہ صیح البہاری)

نور الایضاح ویسے تو میں آج مسلسل آٹھ سالوں سے پڑھا رہا ہوں، لیکن جو لطف مندرجہ شرح اور امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے افادات کے ساتھ پڑھنے میں آیا، اس کی چاشنی میرا ذوق مطالعہ کبھی فراموش نہیں کر پائیگا۔ اس دور میں کتابوں کی عمدہ اور معیاری اشاعت ہی کمال ہے، فقہ کی کسی کتاب کو فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے افادات کے ساتھ شائع کرنا سونے پہ سہاگا ہے۔ نور الایضاح کے مصنف کے حالات بہت مختصر ہے، اس کمی کے علاوہ ساری باتیں قابل تعریف ہیں۔

کتاب نُوْرُ الْاِيْضَاحِ مع مَرَاقِی الْفَلَّاحِ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

https://arabicdawateislami.net/bookslibrary/1043/


تحریر: مولانا   محمد ضیاء السلام قادری صاحب (دارالعلوم منظر الاسلام واہ کینٹ)

عرس رضا کے موقع پر دعوت اسلامی کی طرف سے امت کو عظیم تحفہ :

پچھلے دنوں تنظیم المدارس اہلسنت کے تحت امتحانات کا سلسلہ ہوا تو اس وقت بھی یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ واہ کینٹ ،ٹیکسلا ،حسن ابدال کے بڑے بڑے جامعات ایک طرف اور دعوت اسلامی کا جامعۃ المدینہ ایک طرف ۔ سب سے زیادہ امتحانات دینے والے طلباء کی تعداد جامعۃ المدینہ کی تھی اور اب عرس امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ کے موقع پر جامعات المدینہ سے عالم کورس کر کے فراغت حاصل کرنے والے طلباء کرام کی دستار فضیلت کی جا رہی ہے جس کی تعداد دیکھ کر انتہائی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ 1000سے زائد علماء اس سال تیار ہو کر خدمت دین کے لیے میدان میں اتر رہے ہیں۔

یہ دعوت اسلامی ہے کہ جس سے تعداد پوچھنی نہیں پڑھتی بلکہ خود نظر آ جاتی ہے اور اگر کوئی پوچھ بھی لے تو بتانے میں شرم محسوس نہیں ہوتی بلکہ سر فخر سے بلند کر کے تعداد بتائی جاتی ہے اس وقت دعوت اسلامی کے تحت 814 سے زائد جامعات قائم ہیں جہاں 64 ہزار سے زائد طلباء علم دین حاصل کر رہے ہیں ۔فتدبر!!!

اور جو تعداد اس وقت جامعات المدینہ میں زیر تعلیم ہے اور جو میں نے ٹیکسلا ،حسن ابدال اور واہ کینٹ میں تنظیم المدارس کے تحت امتحانات دینے والے طلبا کی تعداد دیکھی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آئندہ سالوں میں عنقریب دعوت اسلامی سے عالم کورس کر کے فراغت حاصل کرنے والوں کی تعداد تین چار ہزار سے زائد ہوگی ۔ اس پر فتن دور میں اتنے علماء و مبلغین تیار کرنا اور پھر ان علماء کو مختلف شعبہ جات میں دین متین کی خدمت کے لیے لگا دینا یقینا امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی کرامت ہے اور یہ آپ کے جذبہ خدمت دین اور مسلک اہلسنت کے لیے دن رات کی محنت و کوشش اور اپنی ذاتی ترجیحات کو پس پشت ڈال کر خدمت دین کا نتیجہ ہے کہ آج ہر سمت سے نظریں دعوت اسلامی کو ہی تلاش کرتی ہیں اور لوگ اپنے دین و عقائد کے معاملے میں امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی آواز اور آپ کی تحریک کو اپنے عقائد و اعمال کا محافظ اور مضبوط قلعہ شمار کرتے ہیں ۔

موجودہ حالت کو ایک ولی کامل نے تقریبا تین سال قبل ملاحظہ کیا اور امت کو ایک نعرہ دیا ،میری معلومات کے مطابق اس نعرہ کو بلند کرنے سے قبل امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے علمائے کرام و مفتیان عظام سے فرمایا کہ ایک نعرہ بتائیے جو کہ ہر بچہ کی زبان پر آسانی سے جاری ہو تو مختلف مفتیان کرام نے مختلف نعرے بتائے لیکن قبلہ امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا آسان سے آسان نعرہ ہو ،تو پھر امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے خود ایک نعرہ بلند کیا جو کہ زبان پر انتہائی آسانی سے جاری ہونے والا نعرہ تھا اور وہ نعرہ تھا ” ہر صحابی نبی جنتی جنتی “

شکریہ امیر اہلسنت جنہوں نے امت کو اتنے علماء کا تحفہ دیا ۔ اللہ پاک محسن اہلسنت کا سایہ تا دیر سلامت رکھے ۔

یہ فیض ہے غوث پاک کا،یہ فیض ہےاحمد رضا کا

شکریہ دعوت اسلامی

نوٹ: راقم کی تحریر میں ادارے کی پالیسی کے مطابق ترمیم کی گئی ہے۔