شارح کا نام: علامہ محمود محمد خطاب السبکی رحمۃُ اللہِ علیہ

تحقیق و تصحیح: امین محمود محمد خطاب (مصنف کے صاحبزادے نے حصہ ششم کے بعد کام کیا )

ناشر: مطبعۃ الاستقامہ، قاہرہ (مصر)

اشاعت: پہلی طباعت ۱۳۵۱ھ تا ۱۳۵۳ھ

بعد میں مصر اور بیرونِ ملک کی مختلف مطابع نے اس کی نقل (تصویر) شائع کی، جن میں سے بعض نے غلطی سے ”الطبعۃ الثانیۃ “ لکھ دیا حالانکہ وہ پہلی طباعت ہی کی نقل تھی۔

ٹوٹل مجلدات:10 جلدوں پر مشتمل ہے۔

اہم نوٹ:

۞ ہر جلد کے آخر میں اہم تصحیحات اور استدراکات شامل ہیں، جن سے استفادہ کرنا مفید ہے۔

۞یہ شرح باب الہَدْی من المناسک (یعنی حج کے ابواب) تک پہنچ کر ختم ہوتی ہے، کیونکہ مصنف اسی دوران وفات پا گئے۔

۞آپ رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے امین محمود محمد خطاب نے اس کی تکمیل کے طور پر ایک نیا حصہ لکھا: فتح الملك المعبود تكملة المنهل العذب المورود جو کتاب الطلاق کے آخر تک پہنچتا ہے۔یہ تکملہ چار جلدوں میں شائع ہوا۔مگر وہ بھی وفات کے باعث اسے مکمل نہ کر سکے۔

یوں ”المنهل العذب المورود“ اور ”تکملہ فتح الملك المعبود“ مجموعی طور پر سنن ابی داؤد کے تقریباً آدھی احادیث پر مشتمل شرح ہے۔

شرح کی خصوصیات

۞راویوں کی سوانح کو بیان کیا گیا ہے۔

۞احادیث کے الفاظ کی شرح اور اس كے معانی کو واضح کر کے بیان کیا گیا ہے۔

۞ احادیث سے حاصِل ہونے والے احکام و فوائد کو بیان کیا گیا ہے۔

۞اگر کسی حدیث میں کوئی اختلاف ہے تو اختلاف کے پہلوؤں کو واضح کر کے بیان کیا گیا ہے۔

۞ حدیث کی تخریج بیان کرتے ہیں خواہ وہ ائمۂ ستہ میں سے ہوں یا اِن کے علاوہ ہے تو اس نے کس سے نقل کی ہے؟اس کو بیان کیا گیا ہے۔

۞حدیث کی سند کی حیثیت بیان کرتے ہیں ،مثلاً :حدیث صحیح ،حسن ہے یا کوئی اور درجہ رکھتی ہے۔

(المنہل العذب المورود شرح سنن ابی داؤد،جلد:1،صفحہ:3،مطبوعۃ الاستقامۃ، القاهرة - مصر)

محمود بن محمد سبکی رحمۃُ اللہِ علیہ کا تعارف

کنیت : ابو محمد

القابات: ٭الامام الجليل ٭ المحقق ٭العارف الربانی ٭ المدقق٭محی السنۃ٭ قامع البدعۃ٭ صاحب الفضيلۃ اور ٭الارشاد الشيخ

نام: محمود بن محمد بن احمد بن خطاب السبکی

ولادت: ۱۲۷۴ھ (1857ء) میں پیدا ہوئے۔

مقلد :علامہ محمود خطاب السبکی رحمۃُ اللہِ علیہ فقیہِ مالکی اور ازہری عالم تھے۔

مقامِ پیدائش:آپ رحمۃُ اللہِ علیہ کی پیدائش مصر کے صوبہ منوفیہ کے ایک گاؤں سبك الاحد (قریہ اشمون) میں ہوئی۔

دینی تعلیم:ابتدائی تعلیم کے بعد آپ رحمۃُ اللہِ علیہ نے جامعۃ الازہر سے اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کی، وہیں آپ رحمۃُ اللہِ علیہ بڑے عالم بنے اور تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔

اصلاحی تنظیم کی بنیاد:آپ رحمۃُ اللہِ علیہ نے ”الجمعية الشرعية“ کے نام سے ایک مشہور دینی و اصلاحی تنظیم قائم کی اور سنہ ۱۳۳۱ھ سے ۱۳۵۲ھ تک اس کے صدر رہے۔یہ انجمن عوامی اصلاح، دینی تعلیم اور سنت کی ترویج میں بہت مؤثر ثابت ہوئی۔

تصوف:علامہ سبکی رحمۃُ اللہِ علیہ تصوف کی ایک معروف سلسلہ سے بھی وابستہ تھے ۔

وفات: آپ رحمۃُ اللہِ علیہ کا انتقال ۱۳۵۲ھ (1933ء) کو قاہرہ (مصر) میں ہوا۔

تصنیفات:آپ رحمۃُ اللہِ علیہ نے مختلف دینی موضوعات پر کئی اہم تصنیفات کیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

۞الدین الخالص

یہ 6 جلدوں پر مشتمل عظیم دینی تصنیف، جسے ”ارشاد الخلق الى دين الحق“ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔یہ کتاب خالص دینِ اسلام کی تعلیمات اور اصلاحِ عقائد پر مبنی ہے۔

۞تحفۃ الابصار والبصائر، فی بيان كيفية السير مع الجنازة الى المقابر

جنازے کے ساتھ قبرستان تک جانے کے آداب و احکام پر مفصل رسالہ ہے ۔

۞الرسالة البديعة الرفيعة، في الرد على مَن طغى فخالف الشريعة

ایک فتاویٰ نما رِسالہ ہے، جس میں مختلف بدعات و انحرافات کی تردید کی گئی اور سنت کے مطابق عمل کی ترغیب دی گئی ہے۔

۞غاية التبيان، لما به ثبوت الصيام والافطار في شهر رمضان

رؤیتِ ہلال اور رمضان المبارک کے روزے و افطار کے ثبوت سے متعلق ایک مفصل تحقیقی کتاب۔

۞المنهل العذب المورود شرح سنن ابي داؤد

۞فصل القضية في المرافعات وصور التوثيقات والدعاوي الشرعية

یہ قضایا و عدالت سے متعلق کتاب ہے، جس میں شرعی دعوؤں، دستاویزات اور عدالت کے اصول و طریقۂ کار کو بیان کیا گیا ہے۔

(الاعلام خير الدين ، الزركلی الدمشقی، جلد:7، صفحہ:186، مطبوعہ:دار العلم للملايين)

از قلم: ابو مبین محمد امین مدنی


حقیقی توبہ

Wed, 3 Jun , 2026
6 days ago

انسان خطاکار ہے۔ انسان کی زندگی لغزشوں، کوتاہیوں اور غفلتوں سے خالی نہیں مگر اسی کے ساتھ اللہ پاک نے انسان کو  رجوع، ندامت اور اصلاح کا دروازہ بھی عطا فرمایا ہے، جسے توبہ کہا جاتا ہے۔ توبہ محض چند الفاظ کی ادائیگی یا وقتی جذبات کا نام نہیں بلکہ یہ دل کی گہرائیوں سے اٹھنے والی سچی ندامت، گناہوں کو فوراً ترک کرنے اور آئندہ نہ کرنے کے پختہ عزم کا نام ہے۔ یہی کیفیت جب اخلاص، خوفِ خدا اور محبتِ الٰہی کے ساتھ جمع ہو جائے تو اسے حقیقی توبہ کہا جاتا ہے۔

مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ عنہ نے ایک اعرابی کو کہتے ہوئے سنا: اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ اِلِيْك یعنی :اے اللہ !میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔آپ رَضِیَ اللہُ عنہ نے فرمایا:اے شخص! زبان سے جلدی جلدی توبہ کہنا جھوٹوں کی توبہ ہوتی ہے۔اس نے عرض کی:پھر توبہ کیا ہے؟آپ رَضِیَ اللہُ عنہ نے فرمایا:بے شک توبہ 6 چیزوں کا مجموعہ ہے:

(1): گزشتہ گناہوں پر سچی ندامت اور پشیمانی۔

(2): فرض عبادات کی ادائیگی یعنی اگر رہ گئی ہوں تو ان کی قضا خواہ نماز ہو، روزہ ہو، زکوٰۃ ہو یا دیگر فرائض۔

(3): حقوق العباد کی ادائیگی اور جن لوگوں کا حق مارا ہو ان سے معافی طلب کرنا۔

(4): پختہ ارادہ کرنا کہ آئندہ کبھی بھی گناہ کی طرف واپس نہ لوٹے گا۔

(5): اپنے نفس کو اللہ کی اطاعت میں اس طرح گھلا دینا جیسے اسے گناہوں میں پروان چڑھایا تھا۔

(6):نفس کو اطاعت کی مشقت اور کڑواہٹ چکھانا جیسے اسے گناہوں کی لذت چکھائی تھی۔

(تفسیر روح البیان ،پارہ28،سورۂ تحریم،زیرِ آیت:8،جلد:10،صفحہ:61 دارالفکر بیروت)

اس روایت سے معلوم ہوا کہ توبہ صرف الفاظ کا نام نہیں اور صرف اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ اِلِيْك کہہ دینا کافی نہیں بلکہ دل کی کیفیت، ندامت اور عملی اصلاح ضروری ہے اور اسی بارے میں اللہ پاک فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا ؕ ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو!اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جس کے بعد گناہ کی طرف لوٹنا نہ ہو ۔(پارہ:28، التحریم:8)

یعنی اے ایمان والو!اللہ پاک کی بارگاہ میں ایسی سچی توبہ کرو جس کا اثر توبہ کرنے والے کے اَعمال میں ظاہر ہو اور اس کی زندگی طاعتوں اور عبادتوں سے معمور ہوجائے اور وہ گناہوں سے بچتا رہے۔

حقیقی توبہ کرنے والے عابد کا واقعہ ملاحظہ کیجئے؛حضرت ذوالنون مصری رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں :میں نے ایک عابد کو دیکھا کہ اس کا ایک پاؤں عبادت خانہ سے باہَر پڑا ہے اور اس سے پیپ بہہ رہی ہے ۔میں نے اس سے اس کا سبب پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ ایک مرتبہ ایک عورت میری زیارت کرنے کے لیے آئی اور میری عبادت گاہ کے قریب سو گئی ،میں نے اس عورت کے ساتھ بدکاری کرنے کا ارادہ کیا۔ اس ارادے سے میں نے یہ پاؤں باہَر نکالا تو مجھ پر خوفِ خدا طاری ہو گیا ۔میں نے قسم کھائی کہ اب اس فاجر پاؤں کو اپنے ساتھ نہ ملاؤں گا۔

(تفسیر روح البیان،پارہ:21،سورۂ روم،زیرِ آیت:41،جلد:7،صفحہ:47 دار الفکر بیروت)

معزز قارئین کرام !یہ حکایت اپنے اندر زہد و تقویٰ اور خوفِ خدا کے گہرے موتی سموئے ہوئے ہے۔ اس سے ہمیں چند باتیں سیکھنے کو ملیں:

۞خوفِ خدا گناہ سے بچنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے کیونکہ جب بندے کے دل میں خوفِ خدا پیدا ہو جائے تو وہ گناہ کے قریب جا کر بھی رک جاتا ہے۔

۞نفس کا محاسبہ (Self-Accountability)؛کیونکہ عابد نے اپنے نفس کو سزا دی اور عہد کیا کہ اس پاؤں کو اپنے ساتھ نہ ملائے گا۔ یہ نفس کے احتساب کی اعلیٰ مثال ہے۔

۞بزرگ کے تقویٰ کا اعلیٰ درجہ ؛کیونکہ بزرگانِ دین کی حساسیت عام انسانوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے؛ وہ چھوٹی سی لغزش کو بھی بڑی کوتاہی سمجھتے ہیں۔عام لوگ گناہ کرنے کے بعد بھی بے پرواہ رہتے ہیں ۔

۞برے ارادے سے فوراً رجوع کر لینا نجات کا سبب ہے؛ عابد نے فوراً گناہ کا ارادہ چھوڑ دیا۔ یہ سچی توبہ اور رجوع الی اللہ کی علامت ہے۔

لہٰذا ہمیں گناہوں کے ایسے اسباب، حالات اور مواقع سے بچنا ضروری ہے جو انسان کو لغزش کی طرف لے جائیں۔حقیقی توبہ دراصل روح کی پاکیزگی، دل کی بیداری اور کردار کی اصلاح کا ذریعہ ہے۔ یہ انسان کو مایوسی سے نکال کر امید کی روشنی عطا کرتی ہے اور گناہوں کی تاریکی سے نکال کر قربِ الٰہی کے انوارکی منازل تک پہنچاتی ہے۔

اللہ پاک ہمیں حقیقی توبہ کی توفیق عطا فرمائیں ۔اٰمین بجاہِ النبیین الامین صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

تحریر: ابو مبین محمد امین مدنی


مال کی دعا کا مقصد

Tue, 2 Jun , 2026
6 days ago

حضرت سعد بن عبادہ کی دعا

حضرت سعد بن عُبادہ رَضِیَ اللہُ عنہ یہ دعا مانگا کرتے تھے : اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِي مَالًا وَفَعَالًا فَاِنَّهُ لا يَصْلُحُ الْفَعَالُ اِلَّا الْمَال ترجمہ:اے اللہ! مجھے مال اور اچھے کام کرنے کی توفیق عطا فرما کیونکہ اچھے کام مال کے بغیر نہیں ہو سکتے ۔

(روضۃ العقلاء ونزہۃ الفضلاء ،صفحہ: 263 دار الكتب العلمیہ )

ایک مسلمان کو مال کی دعا اور مال کی خواہش کا مقصد صرف دنیاوی آرام و سکون اور آسائشوں کے لیے نہیں بلکہ نیکی کے کاموں خرچ کرنے ، خدمتِ خلق اور اعمالِ صالحہ کرنے کے لیے کرنی چاہئے۔اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ مال کی دعا کرتے وقت یہ نیت کریں کہ اللہ پاک ہمیں ایسا پاکیزہ مال اور رزق عطا فرمائے جو دین کی خدمت، محتاجوں کی مدد اور دیگر بھلائی کے کاموں میں معاون ثابت ہو۔

پیارے اسلامی بھائیو!ہم اللہ پاک سے مختلف اچھے کاموں کی توفیق مانگ سکتے ہیں ؛مثلاً: ۞ گھر والوں ۞والدین ۞رشتہ داروں اور ۞پڑسیوں سے حسنِ سلوک کرنا ،نیز۞ صدقہ و خیرات کرنا ۞نیکی کی دعوت دینا اور بُرائی سے منع کرنا اور ۞دیگر دین کے کاموں میں اپنا خرچ کرنا وغیرہ۔

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہُ عنہ نے پہلے مال کی دعا کی پھر مختلف اچھے اور دینِ اسلام کے کاموں خرچ کرنے کی توفیق مانگی کیونکہ مال سے ہونے والے اچھے کام ا ب فی زمانہ مال کے بغیر نہیں ہو سکتے ۔ہمیں بھی اللہ پاک سے حلال مال کی دعا کرنی چاہیے اور پھر اس مال کو اچھے کاموں میں خرچ کرنے کی بھی توفیق مانگنی چاہیے۔اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ۔

نیکی اور احسان کی ابتدا کس سے کریں؟

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ سب سے پہلے ہم اچھے کاموں کی ابتدا کس سے اور کن سے کریں؟تو اس حوالے سے حضرت ابو حاتم رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:عقلمند پر لازم ہے کہ نیکی اور احسان کی ابتدا سب سےپہلے فرض اور ضروری کاموں سے کرے ،اس کے بعد سب سے پہلے اپنے بھائیوں اور پڑسیوں پر پھر جو درجہ بدرجہ قریب ہوں ۔نیکی اور احسان کرنے میں علمائے کرام اور دینداروں کا خاص خیال رکھے ۔

(روضۃ العقلاء ونزہۃ الفضلاء ،صفحہ: 255 دار الكتب العلمیہ )

اس سے معلوم ہوا کہ نیکی اور مدد کا آغاز اپنے گھر والوں سے کرنا چاہیے، پھر رشتہ داروں، پڑوسیوں اور قریبی لوگوں کی طرف بڑھنا چاہیے۔اس کے ساتھ ساتھ علمائے کرام اور دیندار افراد کے ساتھ خاص طور پر احسان اور حسنِ سلوک کرنا چاہیے۔

از قلم:ابو مبین محمد امین عطاری مدنی


تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جب اِعلان نبوت فرمایا اور لوگوں کو قبولِ اسلام کی دعوت دی تو بغض وحسد سے پاک دل رکھنے والی نیک طینت ہستیوں نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دعوتِ حق پر لبیک کہا، ان کے اَعْضا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اِطاعت کے لیے جھک گئے اور دل ودماغ دین اسلام کی خدمت کے لئے تیار ہو گئے۔ اس طرح یہ پاک باز ہستیاں کفر وجہالت کی تاریکیوں سے نکل کر اسلام کی روشنی میں آگئیں۔ ان میں سے وہ حضرات جنہوں نے اسلام کو اس کے ابتدائی دنوں میں قبول کیا، قرآنِ کریم نے اِنہیں اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ کے دل نشین خطاب سے نوازا اور ساتھ ہی ساتھ یہ تین (3)عظیم وجلیل بشارتیں بھی سنائیں کہ

٭ اللہ عَزَّوَجَلَّ اُن سے راضی ہے ٭وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے راضی ہیں ٭اُن کے لئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اِن میں رہیں گے۔

چنانچہ پارہ گیارہ ، سورۂ توبہ، آیَت نمبر 100 میں ہے:

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔ ۱۱، التوبۃ: ۱۰۰)

ترجمہ:اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پَیرو (پیروی کرنے والے) ہوئے، اللہ اُن سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور اُن کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ ،جن کے نیچے نہریں بہیں ،ہمیشہ ہمیشہ اِن میں رہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔

یہ اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ جنہوں نے اِسلام کو اس کے ابتدائی ایّام میں قبول کیا اور سب سے پہلے حُضُور علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت ورِسالت کی گواہی دی، اِن میں سے جلیل القدر صَحابِی رسول حضرتِ سیِّدنا سُہیل بن عَمْرو رضی اللہُ عنہ کے بھائی حضرتِ سیِّدنا سَکْرَان بن عَمْرو رضی اللہُ عنہ اور آپ کی زَوْجہ حضرتِ سیِّدَتُنا سَوْدَہ بنتِ زَمعَہ رضی اللہُ عنہا بھی تھیں۔

کفار مکہ کو جب ان لوگوں کی ہجرت کا پتا چلا تو اُن ظالموں نے اِن لوگوں کی گرفتاری کے لیے اِن کا تعاقب کیا لیکن یہ لوگ کشتی پر سوار ہو کر روانہ ہو چکے تھے اس لئے کفار ناکام واپس لوٹے۔ یہ مہاجرین کا قافلہ حبشہ کی سرزمین میں اتر کر امن وامان کے ساتھ خدا کی عِبادت میں مصروف ہو گیا۔ چند دنوں بعد ناگہاں یہ خبر پھیل گئی کہ کفارِ مکہ مسلمان ہو گئے۔ یہ خبر سن کر چند لوگ حبشہ سے مکہ لوٹ آئے مگر یہاں آکر پتا چلا کہ یہ خبر غلط تھی۔ چنانچہ بعض لوگ تو پھر حبشہ چلے گئے مگر کچھ لوگ مکہ میں رُوپوش ہو کر رہنے لگے لیکن کفارِ مکہ نے ان لوگوں کو ڈھونڈ نکالا اور ان لوگوں پر پہلے سے بھی زیادہ ظلم ڈھانے لگے تو حُضُور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پھر لوگوں کو حبشہ چلے جانے کا حکم دیا۔ چنانچہ حبشہ سے واپس آنے والےاور ان کے ساتھ دوسرے مظلوم مسلمان کل تراسی(83) مرد اور اٹھارہ (18) عورتوں نے حبشہ کی جانب ہجرت کی۔

اِس دوسری بار کی ہجرت میں حضرتِ سیِّدنا سَکْرَان بن عَمرو رضی اللہُ عنہ اور آپ کی زوجہ حضرتِ سیدتنا سَودہ بنتِ زَمعَہ رضی اللہُ عنہا بھی شریک ہوئے۔

ہجرت کے کچھ عرصہ بعد حضرتِ سیدتنا سَودہ رضی اللہُ عنہا اپنے شوہرحضرتِ سیدنا سَکْرَان بن عمرو رضی اللہُ عنہ کے ساتھ مکہ معظمہ واپس آ گئیں۔

اس وقت بھی کفار ناہنجار مسلمانوں کی ایذا رسانی میں اسی طرح سرگرم تھے اور ان کی تکلیف دہی میں کوئی کسر نہ چھوڑتے تھے۔ لیکن یہ دونوں مقدس ہستیاں سرکارِ رِسالت مآب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قرب سے فیض یاب ہونے کے لیے مکہ میں رہائش پذیر دیگر مسلمانوں کے ساتھ یہیں مقیم ہو گئیں اور کفارِ بداطوار کے ظلم وستم نہایت صبر وتحمل سے سہتی رہیں لیکن اپنے ایمان کے لہلہاتے ہوئے چمن کو شرک وکفر کی آگ کی ہلکی سی آنچ تک نہ آنے دی۔

تعارف: سیدتنا سَوْدَہ رضی اللہُ عنہا

نام ونسب:آپ رضی اللہُ عنہا کا نام سَوْدَہ، والد کا نام زَمعَہ اور والِدہ کا نام شَمُوْس ہے جبکہ آپکی کنیت اُمِّ اَسْوَد ہے۔

والد کی طرف سے آپ کا نسب اس طرح ہے: ” زَمعَہ بن قیس بن عَبْدشَمْس بن عَبْدِ وُدّ بن نصر بن مالِک بن حِسْل بن عامر بن لُؤَیّ “

اور والدہ کی طرف سے یہ ہے: ” شَمُوْس بنتِ قیس بن زید بن عَمْرو بن لَبِیْد بن خِرَاش بن عامر بن غنم بن عَدِی بن نجار۔ “

حضرتِ لُؤَیّ میں جا کر آپ رضی اللہُ عنہا کا نسب رسولِ خُدا، صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نسب شریف سے مل جاتا ہے۔حضرت لُؤَیّ،رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے 9ویں جدِّ محترم ہیں۔

حلیہ مبارک: آپ رضی اللہُ عنہا طویل القامت اور بھاری جسم کی حامِل تھیں۔

آپ رضی اللہُ عنہا کے پہلے شوہر حضرتِ سیِّدنا سَکران بن عمرو رضی اللہُ عنہ سے آپ کے ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام ”عبد الرحمن“ رکھا گیا۔

چند شرف صحابیت پانے والے قَرابت دار

اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیدتنا سَودہ رضی اللہُ عنہا کے ڈھیروں ڈھیر فضائل میں سے ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ آپ رضی اللہُ عنہا کے خاندان کے بیشتر افراد کو رسولِ کریم، رَءوف رَّحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صحابی ہونے کا شَرَف حاصل ہے، ان میں سے تین(03) کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔

٭حضرتِ عَبْد بن زَمعَہ رضی اللہُ عنہ: یہ فتح مکہ کے دن ایمان لائے اور رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا دیدار کر کے شرف صحابیت سے مُشرف ہوئے۔ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیدتنا سَودہ بنتِ زَمعَہ رضی اللہُ عنہا کے باپ شریک بھائی ہیں۔ ان کی والِدہ عاتکہ بنتِ اَخْیَف ہیں۔

٭حضرتِ مالِک بن زَمعَہ رضی اللہُ عنہ: اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَودہ رضی اللہُ عنہا کے بھائی ہیں۔ قدیم الاسلام صحابی ہیں اور ہجرتِ حبشہ میں اپنی اہلیہ کے ساتھ شریک ہوئے۔

٭حضرتِ عبد الرحمن بن زَمعَہ رضی اللہُ عنہ: اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا سَودہ بنتِ زَمعَہ رضی اللہُ عنہا کے باپ شریک بھائی ہیں۔ انہیں کے بارے میں حضرت عبد بن زَمعَہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہُ عنہما کے درمیان اختلاف ہوا تھا۔ حضرت سعد رضی اللہُ عنہ کہتے تھے کہ یہ میرے بھتیجے ہیں اور حضرت عبد رضی اللہُ عنہ کا دعویٰ یہ تھا کہ یہ میرے بھائی ہیں۔ مدینے کے تاجدار، دو عالَم کے مالِک ومختار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فیصلہ کرتے ہوئے حضرتِ عبد رضی اللہُ عنہ سے فرمایا: اے عبد بن زَمعَہ! یہ تمہارا بھائی ہے۔

دو(02)مُبارَک خواب

ایک رات حضرتِ سیِّدَتُنا سَودہ رضی اللہُ عنہا نے خواب دیکھا کہ شہنشاہِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پیدل چلتے ہوئے اِن کی طرف متوجہ ہوئے حتی کہ اپنے پائے اقدس ان کی گردن پر رکھتے ہوئے گزر گئے۔ جب آپ نے اپنے شوہرحضرتِ سَکْرَان بن عمرو رضی اللہُ عنہ کو اس خواب کے بارے میں بتایا تو انہوں نے کہا: اگر تمہارا خواب سچا ہے تو عنقریب میں یقینی طور پر وفات پا جاؤں گا اور سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تجھ سے نِکاح فرمائیں گے۔

پھر ایک دوسری رات آپ رضی اللہُ عنہا نے خواب دیکھا کہ چاند ٹوٹ کر آپ پر گِر پڑا ہے اور آپ کروٹ کے بل لیٹی ہوئی ہیں۔ بیدار ہونے پر آپ رضی اللہُ عنہا نے اس خواب کا بھی اپنے شوہر سے تذکِرہ کیا۔ انہوں نے کہا: اگر تیرا خواب سچا ہے تو میں بہت جلد انتقال کر جاؤں گا اور تم میرے بعد شادی کرو گی۔جس دن حضرتِ سیدتنا سَودہ رضی اللہُ عنہا نے اپنا دوسرا خواب بیان کیا تھا اسی دن حضرتِ سیِّدنا سَکران رضی اللہُ عنہ بیمار ہو گئے، کچھ دن بیمار رہے اور پھر بہت جلد اس دارِ ناپائیدار سے رخصت ہو کر دارِ آخرت کی طرف کوچ فرما گئے۔

حُضُورِاقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے نِکاح ثانی

جب حضرتِ سیدتنا خدیجہ رضی اللہُ عنہا کا اِنتقال ہوگیا تو حضرتِ خولہ بنتِ حکیم نے بارگاہِ رِسالت میں عَرض کی: یَا رَسول اﷲ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! آپ سودہ بنتِ زمعہ سے نکاح فرما لیں۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرتِ خولہ رضی اللہُ عنہا کے اِس مُخلصانہ مشورہ کو قبول فرما لیا چنانچہ حضرتِ خولہ رضی اللہُ عنہا نے پہلے حضرتِ سودہ رضی اللہُ عنہا سے بات کی تو اُنہوں نے رِضا مندی ظاہر کی، پھر آپ کے والد سے بات کی تو اُنہوں نے بھی خوشی سے اجازت دے دی، یوں اعلانِ نبوت کے دسویں سال میں یہ بابرکت نکاح منعقد ہوا۔(سیر اعلام النبلاء،ج3،ص513)

اس طرح آپ رضی اللہُ عنہا رسولِ خدا، صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زوجیت میں آکر اُمَّہَاتُ المؤمنین کی فہرست میں شامِل ہو گئیں۔ اعلانِ نبوت کے 10ویں سال، شوال المکرم کے مہینے میں حُضُور سیِّدِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آپ رضی اللہُ عنہا سے نِکاح فرمایا۔

اہلِ اِسلام کی مادَرانِ شفیق

بانُوانِ طہارت پہ لاکھوں سلام

مدینہ منورہ میں قیام

جب مسلمانوں کو مشرکین کی طرف سے ایذائیں دیے جانے کا سلسلہ بہت طویل ہو گیا اور ان کے ظلم وسِتَم سے مسلمانوں پر عرصہ حَیَات تنگ ہو گیا جس کی وجہ سے مسلمانوں کا اپنے پیارے وطن مکۃ المکرمہ زادھَا اللہُ شرفاً وَّ تعظیماً میں زندگی بسر کرنا دُوْبَھر (دُشْوار) ہو گیا تو سید المرسلین، خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مسلمانوں کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی اِجازت مرحمت فرما دی اور کچھ روز بعد خود بھی ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور اس کے گلی کوچوں کو اپنے جلوؤں سے جگمگانے لگے۔

مدینہ منورہ میں قیام پذیر ہونے کے کچھ عرصہ بعد حُضُورِ اکرم، رسولِ محتشم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرتِ زَیْد بن حارثہ اور اپنے غُلام حضرتِ ابورَافِع رضی اللہُ عنہما کو 500 دِرْہَم اور دوا ونٹ دے کر مکۃ المکرمہ بھیجا اور یہ حضرتِ فاطمہ، حضرتِ اُمِّ کلثوم، حضرتِ سَودہ بنتِ زَمعَہ، حضرتِ اُسَامہ اور حضرتِ اُمِّ اَیْمَن رضی اللہُ عنہم کو لے کر مدینہ منورہ آ گئے۔ جب یہ حضرات مدینہ شریف پہنچے ان دِنوں رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مسجدِ نَبَوِی عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اس کے گِرد حجروں کی تعمیر فرما رہے تھے۔ پھر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِنہیں حجروں میں اپنے اہل وعیال کو ٹھہرایا۔

متفرق فضائل و مَناقب

حضرتِ عائشہ رضی اللہُ عنہا کی پسندیدہ شخصیت: اپنے اعلیٰ اوصاف اور حُسْن اخلاق کی بدولت آپ رضی اللہُ عنہا ، اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا کی پسندیدہ شخصیت بن چکی تھیں ۔ (زرقانی علی المواھب ،ج4،ص380 ملخصاً)

ایثار وسخاوت

اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا سَودہ رضی اللہُ عنہا نہایَت کریم وسخی خاتون تھیں، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ رضی اللہُ عنہا کو سخاوت کی نعمت سے بھی بہت نوازا تھا۔ ایک دفعہ کا ذِکْر ہے کہ امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہُ عنہ نے آپ رضی اللہُ عنہا کے پاس درہموں سے بھرا ہوا ایک بڑا سا تھیلا بھیجا۔ آپ رضی اللہُ عنہا نے پوچھا: یہ کیا ہے؟کہا: درہم۔ اس پر آپ نے حیران ہوتے ہوئے فرمایا: کھجوروں کی طرح اتنے بڑے تھیلے میں.! ! پھر آپ رضی اللہُ عنہا نے یہ سب دِرْہَم راہِ خدا میں تقسیم فرما دیے۔

پردہ

اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا سودہ رضی اللہُ عنہا فرض حج ادا کر چکی تھیں۔ جب آپ رضی اللہُ عنہا سے دوبارہ نفلی حج وعمرہ کے لیے عرض کی گئی تو فرمایا کہ: میں فرض حج کر چکی ہوں۔ میرے رب عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے گھر میں رہنے کا حکم فرمایا ہے۔ خدا عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اب میرے بجائے میرا جنازہ ہی گھر سے نکلے گا۔ راوی فرماتے ہیں: خدا عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اس کے بعد زندگی کے آخری سانس تک آپ رضی اللہُ عنہا گھر سے باہر نہیں نکلیں۔

وِصال

ایک قول کے مطابق آپ رضی اللہُ عنہا کا وِصال ماہ ِشوال المکرّم 54ہجری کو حضرتِ امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ کے دورِ خلافت میں ہوا۔(فیضانِ اُمَّہات المومنین،ص66) آپ رضی اللہُ عنہا کی قبر مُبارک جنت البقیع شریف میں ہے۔

مولانا نعمان شیخ عطاری مدنی (حیدر آباد)


بقیع پاک: تذکرہ و زیارت

Tue, 12 May , 2026
27 days ago

سبق:1

امام مالک رحمۃُ اللہِ علیہ سے روایت ہے: مَاتَ بِالْمَدِينَةِ مِنَ ‌الصَّحَابَةِ ‌نَحْوُ ‌عَشَرَةِ آلَافِ نَفْسٍ۔ یعنی تقریباً 10 ہزار صحابہ کرام جنت البقیع میں آرام فرما ہیں۔ (ترتیب المدارک و تقریب المسالک 1/46، فتح المغیث 4/111)

مبارک قبریں

1: بی بی فاطمہ زہرا، حضر ت عباس، امام حسن مجتبیٰ ، امام زین العابدین، امام محمد باقر، امام جعفر صادق۔

2:بی بی زینب ، بی بی رقیہ، بی بی ام کلثوم(بناتِ رسول)۔

3:امہات المومنین کی:حضرت عائشہ، حضرت زینب بنتِ جحش، حضرت زینب بنتِ خزیمہ، حضرت جُویریہ، حضرتِ اُمِّ حبیبہ ، حضرت صفیہ، حضرت ام سلمہ ، حضرت مار یہ، حضرت حفصہ ۔

4:حضرت عقیل ، حضر ت جعفر طیار۔5: امام نافع ، امام مالک 6:حضرت عبدالرحمن ابن فاروق اعظم۔7: حضرت ابراہیم ابن ِرسولُ اللہ ، حضرت عبدللہ بن مسعود، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد بن وقاص، حضرت ابوہریرہ، بی بی فاطمہ بنت اسد(والدہ ٔمولا علی) ، حضرت محمد بن حنفیہ۔8:شہدائے واقعہ حرہ، ايك يا دو شہدائے احد۔ 9:حضرت عثمان غنی۔10:بی بی حلیمہ سعدیہ اور ان کی بیٹی بی بی شیما۔11: حضرت سعد ابن معاذ، حضرت ابو سعید خدری۔ 12:بی بی صفیہ، بی بی عاتکہ(رسول اللہ کی پھوپھیاں ) اور بی بی ام البنین(زوجہ ٔمولا علی)۔ رضی اللہ عنہم اجمعین

13:وضو خانہ۔ (جستجوئے مدینہ ص609)

سبق:2

منعِ زیارت کے لیے عدمِ مزارکایقین چاہئے اورجوازِزیارت کے لیے ایک روایت واحتمال کافی ہے ۔ انہیں جہاں سے پکاروگے فیض پہنچائیں گے۔ حضرتِ فاطمہ زہرا رضی اﷲ عنہا کے مزارِاطہر میں بھی دوروایتیں ہیں :

(1):بقیع شریف میں اور(2):خاص جوارِروضۂ اَقدس( یعنی گنبد خضرا کے ساتھ متصل ان کے اپنے مکان) میں۔ ایک صاحبِ دل نے مدینے شریف کے ایک عالم سے کہا:میں دونوں جگہ حاضرہوکر سلام عرض کرتاہوں، اَنوار پاتا ہوں۔ فرمایا: یہ کریم ذاتیں جگہ کی پابندنہیں تمہاری توجّہ چاہئے پھر نورِباری ان کاکام ہے۔

(فتاویٰ رضویہ ج26ص432سے مختصراً)

سبق:3

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ’’بہار شریعت جلد اوّل صفحہ 1228پر لکھتے ہیں :

بقیع قبرستان میں قریب دس ہزار صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم مدفون ہیں اور تابعین و تبع تا بعین و اولیا و علما و صلحا وغیرہم کی گنتی نہیں۔ یہاں جب حاضر ہو پہلے تما م مدفونین مسلمین کی زیارت کا قصد کرے اور یہ پڑھے:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ اَنْـتُمْ لَنَا سَلَفٌ وَّ اِنَّا اِنْشَاءَ اللہُ تَعَالٰی بِکُمْ لَاحِقُوْنَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِاَھْلِ الْبَقِیْعِ بَقِیْعِ الْغَرْقَدِ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَـنَا وَلَھُمْ .

تمام اہلِ بقیع میں افضل امیر المومنین سید نا عثمان غنی رضی اﷲ عنہ ہیں، اُن کے مزار پر حاضر ہوکر سلام عرض کرے۔

قبہ 2:حضرت سیدنا ابراہیم ابن رسول اﷲ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور اسی قبہ شریف میں ان حضراتِ کرام کے بھی مزارات طیبہ ہیں، حضرت رقیہ (حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی صاحبزادی) حضرت عثمان بن مظعون (یہ حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے رضاعی بھائی ہیں) عبدالرحمن بن عوف و سعد بن ابی وقاص (یہ دونوں حضرات عشرہ مبشرہ سے ہیں) عبداﷲ بن مسعود (نہایت جلیل القدر صحابی خُلفائے اربعہ کے بعد سب سے اَفقہ) خنیس بن حُذافہ سہمی واسعد بن زرارہ رضی اﷲ عنہم اجمعین۔ ان حضرات کی خدمت میں سلام عرض کرے۔

قبہ 3:حضرت سیدنا عباس رضی اﷲ عنہ، اسی قبہ میں حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰ و سر مبارک سیدنا امام حسین و امام زین العابدین و امام محمد باقر و امام جعفر صادق رضی اﷲ عنہم کے مزاراتِ طیبات ہیں، ان پر سلام عرض کرے۔

قبہ 4:اَ زواج مطہرات حضرت اُم المومنین خدیجۃ الکبریٰ رضی اﷲ عنہا کا مزار مکہ معظمہ میں اور میمونہ رضی اﷲ عنہا کا سرف میں ہے۔ بقیہ تمام ازواج مکرّمات اسی قبہ میں ہیں۔

قبہ 5:حضرت عقیل بن ابی طالب اس میں سفیان بن حارث بن عبدالمطلب و عبداﷲ بن جعفر طیار بھی ہیں اور

6: اس کے قریب ایک قبہ ہے جس میں حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تین اولادیں ہیں۔

قبہ 7:صفیہ رضی اﷲ عنہا حضور انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پھوپھی۔

قبہ 8: امام مالک رضی اﷲ عنہ۔ قبہ 9:نافع مولیٰ ابن عمر رضی اﷲ عنہما۔

ان حضرات کی زیارت سے فارغ ہو کر مالک بن سِنان و ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہما و اسماعیل بن جعفر صادق و محمد بن عبداﷲ بن حسن بن علی رضی اﷲ عنہم و سیّد الشہدا امیر حمزہ رضی اﷲ عنہ کی زیارت سے مشرف ہو۔(بہار شریعت)

(تفصیلی معلومات کے لیے دیکھئے: ’ارشاد الساری الیٰ مناسک ا لملا علی قاری ، مبطوعہ: المکتبۃ الامدایۃ ، مکۃ المکرمۃ صفحہ730تا733)

سبق:4

1… بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم رات کے آخری حصے میں بقیع تشریف لے جاتے اور یہ دعا کرتے :

اللهم اغْفِرْ ‌لِأَهْلِ ‌بَقِيعِ ‌الْغَرْقَدِ ۔ اے اللہ ! تواہل بقیع کی مغفرت فرما۔ (صحیح مسلم، حدیث: 974مختصراً)

2… اللہ پاک کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالی شان ہے :

قیامت کے دن بقيع الغرقد سے 70 ہزار اَفراد ایسے اُٹھیں گے جن کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے اور وہ سب بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ (مسند ابو داؤد طیالسی، ج 3 ص 206حدیث:1740)

3… رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:

تم میں سےجس سےہوسکےکہوہ مدینے میں فوت ہو، بے شک میں اُس شخصکی شَفاعت کروں گاجو مدینے میں فوت ہوگا۔

(سنن ترمذی، حدیث:3943)

4…حضرت ابن عمر رضی اللہُ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:

(جب لوگ اٹھائیں جائیں گے)سب سے پہلے میری قبر کھلے گی، پھر ابو بکر پھر عمر(رضی اللہ عنہما) کی قبریں کھلیں گی پھر میں اہل بقیع کے پاس آؤں گاتو وہ بھی اپنی قبروں سے نکلیں گے اور وہ میرے ساتھ ہوں گے۔ (مستدرک ،حدیث:4486)

وضاحت: جب قیامت میں دوسرے نفخہ پر قبریں کھلیں گی، مردے نکلیں گے زندہ ہوکر تو اس کی ترتیب یہ ہوگی کہ سب سے پہلے حضور انور (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی قبر کھلے گی اور نبیوں کی بعد میں،پھر سب سے پہلے حضرت صدیق و فاروق(رضی اللہ عنہما) کی قبریں کھلیں گی دوسرے لوگوں کی بعد میں۔ (مرآت شرح مشکات ج8ص28)

5 حضرت ا بو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :بقیع کابطور قبر ستان انتخاب رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خود کیااور ارشاد فرمایا :

’’ مجھے اس جگہ (یعنی بقیع کے انتخاب )کا حکم دیا گیا ہے ۔‘‘ اس قبرستان میں (مہاجرین) میں سب سے پہلے حضرت عثمان بن مظعون کی تدفین ہوئی، رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے (بطورِ نشانی ) ان کے سرہانے کی جانب ایک اینٹ رکھ دی۔ (مستدرک،حدیث:4919)

سبق:5

بقیع مسجدِ نبوی شریف کے جنوب مشرقی جانب واقع ہے ۔’بقیع ‘عربی زبان میں درختوں والے کھلے میدان کو کہتے ہیں جس میں مختلف قسم کے خو درَو گھاس ، پودے ہوں۔ چونکہ اس میدان میں غرقد کے درخت تھے اسی لیے اس جگہ کو ’ بقیع الغرقد ‘کہا جاتا ہے اور جب یہ مقام بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مرقد ومدفن بنا تو اِن حضرات کو جنّتی ہونے کی بشارت ملی ہے اِس مناسبت سے یہ قبرستان عرب وعجم میں ’ جنت البقیع ‘ کے نام سے مشہور ہے ۔

حاضری کا طریقہ: جنت البقیع کے مَدْفُونِین کی خدمت میں باہر ہی کھڑے ہوکر سلام عرض کریں اور باہر ہی سے دعا کریں کہ اب جنت البقیع میں موجود تقریباً تمام مزارات کو شہیدکردیا گیا ہے، اگر آپ اندرگئے تو کیا معلوم آپ کا پاؤں کس صحابی یا ولی کے مزار پر پڑرہا ہے۔شرعی مسئلہ: عام مسلمانوں کی قبروں پر بھی پاؤں رکھنا حرام ہے۔ فتاویٰ شامی میں ہے : (قبرِستان میں قبریں مِٹا کر) جونیاراستہ نکالا گیاہو اُس پرچلنا حرام ہے۔ (فتاویٰ شامی1/612)بلکہ نئے راستے کا صِرف گمان ہو تب بھی اُس پر چلنا ناجائز وگناہ ہے۔ (دُرِّمُختار3/183 ) (رفیق الحرمین ص235تا236سے خلاصہ)

میں ہوں سُنّی رہوں سُنّی مروں سُنّی مدینے میں // بقیعِ پاک میں بن جا ئے تُربت یارسولَ اللہ

یا اللہ! ہمیں ایمان کے ساتھ مدینے میں وفات، جنت البقیع میں تدفین اور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شفاعت نصیب فرما۔ آمین۔


امام ابو عبد اللہ محمد بن محمد علی کاشغری (متوفی 705ھ) کی کتاب ’’منیۃ المصلی‘‘ کو طہارت ونماز کے مسائل میں بہت اہمیت وشہرت حاصل ہے، متاخرین فقہائے احناف جیساکہ ابن نجیم حنفی (متوفی970ھ)، محشی شلبی (متوفی 947ھ)، در مختار کے مصنف امام حصکفی (1088ھ) اور علامہ ابن عابدین شامی (متوفی 1252ھ) رحمہم اللہ تعالیٰ نے کئی مسائل میں اس کو ماخذ بنایا ہے، اس کتاب کی بہت سی شروحات لکھی گئی جن میں امام ابراہیم محمد بن ابراہیم حلبی (متوفی 956ھ) رحمۃ اللہ علیہ کی شرح ’’غنیۃ المتملی‘‘ اور امام محمد بن محمد ابن امیر الحاج (متوفی879ھ ) رحمۃاللہ علیہ کی شروح بہت معروف ہیں اور انہی کی ایک اور شرح حلبی صغیر کے نام سے بھی ہے اس کے علاوہ محمد بن ابراہیم سیاح رومی (متوفی 1080ھ)کی شرح ’’زخر النجاۃ‘‘، مستقیم زادہ رومی(متوفی 1202ھ) کی شرح ’’وسیلۃ التعلی‘‘، قاضی محمد بن محمد قاضی زادہ(متوفی 1143ھ) کی شرح ’’حلیۃ المحلی‘‘ اسی طرح عمر بن سلیمان اور یحی صاروخانی کی شروحات مزید امام اہلسنّت کی تعلیقات اور محدث وصی احمد سورتی (متوفی 1334ھ) رحمہم اللہ تعالیٰ کا حاشیہ ’’التعلیق المجلی‘‘ (جس پر مفتی حسان رضا عطاری مدنی سلمہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی وسرپرستی میں کام جاری ہے) ہیں، ’’غنیۃ المتملی‘‘ تو عرصۂ دراز سے چھپتی رہی ہے لیکن ’’حلبۃ المجلی‘‘ مخطوط کی شکل میں تھی، 2015ء میں دنیائے عرب کے مشہور مکتبہ دار الکتب العلمیۃ نے اسے 2 جلدوں میں شائع کیا لیکن اس طبع شدہ کتاب میں کئی جگہ یجوز لایجوز کی نوعیت کی اغلاط تھیں جس کا اظہار ہم نے کچھ مقامات کا جدول الخطا بناکردار تراث العلمی کے نگران مولانا احمد رضا گھانچی صاحب کے ذریعے مکتبہ والوں سے کیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر اس کی اوریجنل فائلیں مل جائیں تو دعوتِ اسلامی کے ادارے المدینۃ العلمیۃ کا شعبہ کتب اعلیٰ حضرت اس کتاب کو محقق ومحشی کرکے دے گا، جواب میں مکتبہ والوں نے وہ فائلیں بھیجیں جس کے بعد ہم نے اس پر باقاعدہ کام کا آغاز کیا اور الحمد للہ یہ کام 3 جلدوں (753+756+701=2210 صفحات) پر مکمل ہوا، اس پر جو کام کئے گئے اس کی کچھ تفصیل درج ذیل ہے:

تصحیح متن وشرح:

صرف شرح کی تحقیق وتصحیح کا اہتمام نہیں کیا بلکہ متن منیۃ المصلی کی تحقیق وتصحیح کیلئے ہم نے 3 مطبوعہ اور 2 مخطوط نسخوں کو مد نظر رکھاجس کی تفصیل یہ ہے:

(1)مطبع ہوپ لاہور پاکستان، سن طباعت:1283ھ (2)دارالطباعۃ العامرۃ مصر ،سن طباعت: 1284ھ (3)دار القلم دمشق، سن طباعت: 1428ھ (4)مخطوط بخط محمد بن اسماعیل (5)مخطوط محمد علاء الدین ۔

اور حلبۃ المجلی میں بھی 5 مخطوطوں کو مدنظر رکھا جو درج ذیل ہیں:

(1)نسخۂ فاضل احمد، صحت عبارت کی وجہ سے اسے نسخۂ ام قرار دیا (2)نسخۂ ولی الدین جار اللہ (3) نسخہ ملکیت علی بن حسام (4)نسخہ جو مکتبہ سلیمانیہ استنبول ترکی میں ہے (5)نسخۂ وقف خلیل احمد پاشا۔ ان کے علاوہ محقق اہلسنّت مفتی علی اصغر صاحب دام ظلہ العالی نے بھی ایک مخطوط فراہم کیا تھا جسے بھی پیش نظر رکھا گیا۔

تحشی وتعلیقات امام اہلسنّت رحمۃ اللہ علیہ:

اس کتاب کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں امام اہلسنّت امام احمد رضا خان حنفی ماتریدی (متوفی: 1340ھ) رحمۃ اللہ علیہ کے اس کتاب پرتعلیقات کو شامل کیا گیا ہے جو کہ مخطوط کی صورت میں تھیں اوراس سے پہلے شائع نہیں ہوئی تھیں اس کے ساتھ ساتھ امام کی دیگر تصانیف جد الممتار، فتاوی رضویہ وغیرہ سے بھی حواشی لگائے گئے ہیں۔

فتاوی المحشی :

اس کام کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ کتاب کے آخر میں امام اہلسنّت رحمۃ اللہ علیہ کے فتاوی رضویہ میں طہارت اور نماز کے مسائل سے متعلق جو عربی فتاوی ہیں ان کا اضافہ کیا گیا ہے۔

تقابل:

ایک سے زیادہ مرتبہ متن وشرح کا تقابل کیا گیا ہے ۔

پروف ریڈنگ:

لفظی ومعنوی اغلاط سے کتاب کو محفوظ رکھنے کیلئے کئی مرتبہ اس کی پروف ریڈنگ کی گئی ہے۔

جدید رسم الخط وعلامات ترقیم:

جدید عربی انداز سے ہم آہنگ کرنے کیلئے جدید رسم الخط کا اہتمام کیا گیا ہے نیز فہم میں آسانی کیلئے علاماتِ ترقیم (کالن، سیمی کالن، کاما، فل اسٹاپ، انورٹڈ کاماز وغیرہ) کا بھی اہتمام رکھا گیا ہے۔

تخریج:

فقہ حنفی کی مجلدات پر مشتمل کتابوں پر تخریج کا اہتمام رائج نہیں ہے نیز یہ کام کرنے کی صورت میں کام کے دورانیے اور جلدوں کی تعداد میں بھی بہت اضافہ ہوجاتااس لئے صرف امام اہلسنّت رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیقات وحواشی کی تخاریج کی گئی ہیں۔

آیات واحادیث:

قرآنی آیت کو عرب میں رائج مصحف عثمانی میں رکھا گیاہے اور ساتھ اس کا حوالہ بھی دیا گیا ہے اور احادیثِ قولیہ یعنی اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کو ڈبل بریکٹ میں ذکر کیا گیا ہے ، آیات واحادیثِ قولیہ دونوں کو الگ رنگ دیا گیا ہے۔

متن منیۃ المصلی:

ہر جلد کے شروع میں جتنا اس جلد میں منیۃ المصلی کا کلام تھا صرف اتنا متن بھی علیحدہ سے ذکر کردیا گیا تاکہ اگر کوئی صرف متن کا مطالعہ کرنا چاہے تو اس کو آسانی ہو۔

تقدیم وفہارس:

شروع میں مقدمہ لکھا گیا جس میں کام کا انداز، نسخوں کے عکس، منیۃ المصلی کے مصنف کے حالات اور اس کتاب کا انداز واسلوب، حلبۃ المجلی کے مصنف ابن امیر الحاج کا تعارف اور ان کی شرح کی تفصیل اور امام اہلسنّت کے حالات بیان کئے گئے ہیں۔

اسی طرح ہر جلد کے آخر میں فہرست موضوعات بنائی گئی ہے اور آخری جلد میں مصادر التحقیق کی فہرست بھی تیار کی گئی ہے۔

معاون افراد:

اس کتاب میں وقتاً فوقتاً جن اسلامی بھائیوں کا تقابل پروف ریڈنگ وغیرہ کاموں میں تعاون رہا ان کے نام یہ ہیں:

مولانا شعیب رئیس عطاری مدنی ، مولانا حسین کھتری عطاری مدنی، مولانا ندیم حنفی عطاری مدنی، مولانا عدیل ذاکر اشرفی، مولانا شہروز عطاری مدنی ، ابو الحقائق مولانا راشد عطاری مدنی اور مولانا اسد عطاری مدنی۔

اللہ کریم اس کوشش کو قبول فرمائے اور اس کام میں جوکوتاہیاں ہوئیں انہیں معاف فرمائے اور ہمیں دونوں جہاں میں برکتیں اور اخلاص کی دولت عطا فرمائے اور دینِ متین کی مزید خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

یہ سب بانیٔ دعوتِ اسلامی شیخ طریقت امیر اہلسنّت ابو بلال مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ کی برکتیں اور ان کا فیضان ہےکہ انہوں نے ہمیں دعوتِ اسلامی جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی اور اس کے شعبہ المدینۃ العلمیۃ کے کتب اعلیٰ حضرت میں خدمت کا موقع فراہم کیا، اللہ کریم میرے شیخ طریقت کو صحت وعافیت کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے اور دعوتِ اسلامی کو مزید ترقیاں اور عروج عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

کاشف سلیم عطاری مدنی

23/01/2026


"یہ حدیث کسی کتاب میں نہیں"،

" اس حدیث کو کسی نے بھی روایت نہیں کیا،

" اس حدیث کی کوئی اصل نہیں"،

لہذا یہ حدیث "موضوع"(Fabricated Hadith) ہے۔

یہ وہ جملے ہیں جو میں اور آپ کسی ایسی حدیث کے متعلق مباحثے(Debate) کے دوران بارہا سنتے ہیں جب وہ حدیث کسی شخصیت کی منقبت و عظمت یا کسی کام کے کرنے کی فضیلت وغیرہ پر دلالت (Indication)کر رہی ہوتی ہے لیکن وہ حدیث کتبِ حدیثیہ کے مصادر و اصول(Origin) میں نہیں ملتی فقط متاخرین کی کُتُب میں ملتی ہے۔

کہنے والے کا طریقۂ استدلال(Argument Method) یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمائی ہے تو یقیناً اس کا اندراج (Entry)محدثین کی امہات کُتُبِ حدیثیہ مثلاً صحاحِ ستہ، مسانید، مؤطا و معاجم وغیرہ میں ہونا ہی چاہیئے۔ اگر یہ حدیث اِن کُتُب میں موجود نہیں تو مطلب یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے نہیں فرمائی اور حدیث موضوع ہے۔

کہنے کو تو بات بڑی بھلی لگتی ہے لیکن نظر ِتحقیق میں معاملہ بالکل مختلف نظر آتا ہے کیونکہ یہ دعویٰ تو گویا ایسے ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پوری حیات ِطیبہ میں آپ کی زبان اقدس سے جو کچھ جاری ہوا یا آپ سےجتنے بھی افعال صادرہوئے وہ تمام کے تمام اِن کُتُبِ حدیثیہ میں شامل کئے جا چکے ہیں، حالانکہ یہ تو صریح غلط فہمی و خلاف واقع بات ہے۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان قادری رحمۃُ اللہِ علیہ اسی غلط فہمی کو ختم کرنے کے لئے لکھتے ہیں:

”ان حضرات کا دابِ کلی (عمومی عادت)ہے کہ جس امر پر اپنی قاصر نظر، ناقص تلاش میں حدیث نہیں پاتے اس پر بے اصل(Baseless) و بے ثبوت ہونے کا حکم لگادیتے، اور اس کے ساتھ ہی صرف اس بناء پر اسے ممنوع و ناجائز ٹھہرا دیتے ہیں۔ پھر اس طوفانِ بے ضابطگی کا وہ جوش ہوتا ہے کہ اس اپنے نہ پانے کے مقابل علماء ومشائخ کی تو کیا گنتی حضرات عالیہ ائمہ مجتہدین رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کے ارشادات بھی پایۂ اعتبار سے ساقط اور ان کے احکام کو بھی یونہی معاذ اللہ باطل و غیر ثابت بتاتے ہیں۔ یہ وہ جہالت بے مزہ ہے جسے کوئی ادنٰی عقل والا بھی قبول نہیں کرسکتا، ان حضرات سے کوئی اتنا پوچھنے والا نہیں کہ ''کے آمدی وکے پیرشدی'' (کب آئے اور کب بوڑھے ہوئے)۔ بڑے بڑے اکابر محدثین ایسی جگہ "لم أر" و "لم أجد" پر اختصار کرتے ہیں یعنی ہم نے نہ دیکھی ہمیں نہ ملی، نہ کہ تمہاری طرح عدمِ وجدان(نہ پانے) کہ عدم وجود(نہ ہونے) کی دلیل ٹھہرادیں۔

صاحبو! لاکھوں حدیثیں(محدثین) اپنے سینوں میں لے گئے کہ اصلا تدوین (Collation) میں بھی نہ آئیں۔ امام بخاری رحمۃُ اللہِ علیہ کو چھ لاکھ حدیثیں حفظ تھیں، امام مسلم رحمۃُ اللہِ علیہ کو تین لاکھ، پھر صحیحین میں صرف سات ہزار حدیثیں ہیں۔ امام احمد رحمۃُ اللہِ علیہ کو دس لاکھ محفوظ تھیں مسند میں فقط تیس ہزار ہیں۔ خود شیخین وغیرہما ائمہ سے منقول کہ ہم سب احادیث صحاح کا استیعاب (تمام صحیح احادیث کو جمع کرنا) نہیں چاہتے۔“ ([1])

یعنی لاکھوں احادیث ایسی ہیں کہ اَجِلّہ محدثین کو یاد تھیں، لیکن زمانۂ تدوین میں ان کا اندراج مصادر کُتُب میں نہ ہوسکا، تو یہ کہنا کیسے درست ہوگا کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مبارک زندگی میں صادر ہونے والے تما م اقوال و افعال کُتُب حدیثیہ میں موجود و محفوظ ہیں؟

پھر جو احادیثِ مبارکہ کُتُب مدونہ(Edited Books) میں شامل کر لی گئیں کیا وہ تمام کی تمام بھی اب تک باقی ہیں؟ ہر گز نہیں۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ مزید فرماتے ہیں:

"اب جو حدیثیں تدوین میں آئیں ان میں سے فرمائے کتنی باقی ہیں؟ صدہا کتابیں کہ ائمہ دین نے تالیف فرمائیں محض بے نشان ہوگئیں اور یہ آج سے نہیں ابتداء ہی سے ہے۔ امام مالک رحمۃُ اللہِ علیہ کے زمانے میں اَسّی (80) علماء نے مؤطا لکھیں پھر سوائے مؤطائے مالک ومؤطائے ابن وہب کے اور بھی کسی کا پتا باقی ہے؟ امام مسلم رحمۃُ اللہِ علیہ کے زمانے کو ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری صاحب ِمستدرک کے زمانے سے ایسا کتنا فاصلہ تھا پھر بعض تصانیفِ مسلم کی نسبت امام ابن حجر نے حاکم سے نقل کیا کہ ”معدوم ہیں“۔ وعلی ھذہ القیاس صدہا بلکہ ہزارہا تصانیف ائمہ کا کوئی نشان نہیں دے سکتا، مگر اتنا کہ تذکروں ،تاریخوں میں نام لکھا رہ گیا۔“ ([2])

معلوم ہوا کہ کئی احادیث مبارکہ ایسی ہیں کہ اولاً یا تو ان کا اِندراج(Entry) کُتُبِ حدیثیہ میں بطورِ تدوین نہ ہوسکا یاہوا بھی تو بدقسمتی سے ہم تک ان کی رسائی نہ ہو سکی۔

لہذاایسا قطعاً ضروری نہیں کہ کوئی حدیث اگر کسی کتاب میں موجود نہ ہو تو اس حدیث کا وجود بھی نہ ہو، کیونکہ تمام کی تمام احادیث ہم تک پہنچنےوالی کُتُب میں موجود ہوں ایسا ہر گز نہیں ۔ یہ تو پھر بھی کتابوں کا معاملہ ہے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے متعلق بھی اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:

”خود أجلّہ صحابہ کرام جو گاہ بگاہ سفر وحضر میں دائماً بارگاہِ عرش جاہ حضور رسالت پناہ علیہ وعلیہم صلوات اللہ میں حاضر رہتے یہاں تک کہ حضرات خلفائے اربعہ وحضرت عبد اللہ بن مسعود وغیرھم رضی اللہ تعالی عنہم بھی یہ دعوٰی نہیں کرسکتے تھے، کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے کل اقوال وافعال پر ہمیں اطلاع ہے، کُتُب احادیث پر جسے نظر ہے وہ خوب جانتاہے کہ بعض باتیں ان حضرات پر بھی خفی (پوشیدہ) رہیں ”تا بدیگرے چہ رسد (دوسروں تک کیا پہنچے )۔“([3])

صاف ظاہر کہ جب صحابہ کرام علیہم الرضوان کے متعلق حضور ِ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تمام احادیث پر مطلع ہونے کا دعویٰ متصور (Imagined) نہیں تو بعد میں صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ذریعے نقل شدہ احادیث کے متعلق، ان احادیث پر مشتمل تدوین شدہ کُتُب کے متعلق، ان میں سے باقی رہ کر آج ہمارے ہاتھوں تک پہنچنے والی کُتُب کے متعلق یہ دعویٰ کیسے متصور ہوسکتا ہے؟ ظلم تو یہ کہ بعض غیر سنجیدہ و جری نو مولود محققین فقط شاملہ (Searching Software) اور گوگل کی سرچنگ پر اکتفاء کرکے یہ جملے کہتے ہیں:

"یہ حدیث کسی کتاب میں نہیں"،

" اس حدیث کو کسی نے بھی روایت نہیں کیا،

" اس حدیث کی کوئی اصل نہیں"،

لہذا یہ حدیث "موضوع" ہے۔

حالانکہ ہم واضح کر آئے کہ اگر حدیث کسی کتاب میں موجود نہیں تو ضروری نہیں کہ وہ حدیث سِرے سے ہو ہی نہیں ، کیا بعید کہ زیرِ بحث حدیث بھی انہی احادیث میں سے ہو کہ اس کا اندراج کُتُب میں نہ ہو سکا ہو؟ کیا بعید کہ اس کا اندراج تو ہوا ہو لیکن کتاب ہی اصلاً مفقود ہو گئی ہو؟ اور بالفرض کتاب بھی موجود ہو تو کیا سرچنگ سافٹ وئیرشاملہ میں روئے زمین کی تمام کُتُب موجود ہیں؟ بالکل نہیں،اس میں تو فقط آٹھ سے نو ہزار (8000 to 9000) کُتُب موجود ہیں باقی ہزاروں کُتُب ہیں جو شاملہ میں موجود نہیں۔

لہذا بہتر یہی ہے کہ ایسے جملوں سے بچا جائے، بغیر سوچے سمجھے حدیث کو موضوع قرار دینے میں جلدی نہ کی جائے، کیونکہ جس طرح فقط متاخرین ائمہ کی معتبر تصانیف میں ایسے حدیث کا وجود اس کے ثبوت (صحیح و حسن ہونے) کےلئے کافی نہیں اسی طرح اس کے مردودو موضوع ہونے کے لئے بھی کافی نہیں، الّا یہ کہ کوئی معتمد امام اس کے موضوع ہونے کی صراحت فرمادیں۔ والله اعلم۔

مولانااسعد شاہد عطاری مدنی (متخصص فی الحدیث)

نگران شعبہ تدوینِ مخطوطات،مرکزخدمۃ الحدیث(دعوتِ اسلامی)



(1) فتاویٰ رضویہ جلد22 صفحہ 294۔

(1) فتاویٰ رضویہ جلد22 صفحہ 296۔

(1) فتاویٰ رضویہ جلد22 صفحہ 296۔


مولانااسعد شاہد عطاری مدنی زِیْدَشَرْفُہ (متخصص فی الحدیث)

نگران شعبہ تدوینِ مخطوطات،مرکزخدمۃ الحدیث(دعوتِ اسلامی)

کتب ِ احادیث میں بلاشبہ بے شمار احادیثِ نبویّہ اپنی شان کے ساتھ جلوہ پذیر ہیں، اور اُن احادیث کی حیثیت باعتبارِ صحّت و ضُعف تعیین کرنا اُمورِ مھمّہ میں سے ایک ہے تاکہ صحیح ؛ سقیم (کمزور) سے ممتاز ہو اور ہر ایک اپنے اپنے مرتبے و شان کے لائق مقامات میں مقبول و معمول ہو۔لیکن عصر ِ حاضر میں صحّت و ضُعف کی پہچان کے لئے کیا طریقہ کار درست ہے؟ آیا ہر ایک کو اختیار ہے کہ فقط سند اور راویوں کی چھا ن بِین کے بعد جس حدیث پر جو چاہے حکم لگا دے قطعِ نظر اِس سے کہ اُس حدیث کے بارے میں اکابر ائمّہ محدّثین کی کیا رائے ہے اور اُنہوں سے اُس پر کیا حکم صادر فرمایا ہے؟ یا سب سے پہلے اُس حدیث کے متعلق کلام ائمّہ و احکام ائمہ کو تلاش کر کے اُس سےمدد لی جائے اور اُسی کو معتمد جان کر اُسی کا اعتبار کیاجائے؟

اِس بات کا فیصلہ کرنے کےلئے سب سے پہلے ہم ائمّہ محدّثین متقدمین و متاخرین کی جانب سے احادیث پر لگائے گئے احکامات کی کیفیت ملاحظہ ہو:

متقدمین محدثین کی نقدِ حدیث میں انوکھی مہارت و قابلیت:

اللہ کریم نےائمّہ متقدمین کو احادیث کی جانچ پڑتال میں ایسا مَلکَہ وفہم عطا فرمایا تھا کہ اِس مَلکَۂ تامّہ و فہمِ ثاقب کی بدولت وہ احادیث کی صحّت اور اُس کے ضُعف کو پَرَکھ لیتے تھے اور سندوں میں موجود پوشیدہ علّتوں پر مطّلع ہوجاتے تھے، اُن کی یہ معرفت الہامی ہوا کرتی تھی حتیٰ کہ بعض اوقات اِن پوشیدہ باتوں کو الفاظ کے ذریعے تعبیر کرنے سے بھی عاجز ہوتے تھے ، ملاحظہ ہو:

قَالَ السّيُوطِي: وَرُبَّمَا تَقْصُرُ عِبَارَةُ الْمُعَلِّلِ عَنْ إِقَامَةِ الْحُجَّةِ عَلَى دَعْوَاهُ، كَالصَّيْرَفِيِّ فِي نَقْدِ الدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ. امام سیوطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”بسا اوقات حدیث کو معّلل قرار دینے والے کی عبارت اپنے دعوے پر دلیل قائم کرنے سے قاصر ہوتی ہے جیسا کہ تاجر درہم و دینار کو پَرَکھنے کے معاملے کوبذریعہ الفاظ بتانے سے قاصر ہوتا ہے۔“

قَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ: فِي مَعْرِفَةِ عِلَّةِ الْحَدِيثِ إِلْهَامٌ، لَوْ قُلْتَ لِلْعَالِمِ بِعِلَلِ الْحَدِيثِ: مِنْ أَيْنَ قُلْتَ هَذَا؟ لَمْ يَكُنْ لَهُ حُجَّةٌ، وَكَمْ مِنْ شَخْصٍ لَا يَهْتَدِي لِذَلِكَ.

امام عبد الرحمن بن مہدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”حدیث میں موجود علّت کی معرفت اِلہامی ہوا کرتی ہے، اگر تم کسی عِلَلِ حدیث میں مہارت رکھنے والے سے پوچھو گے کہ تم نے یہ بات کیسے کہی؟ تو اُس کے پاس کوئی دلیل نہ ہوگی جبکہ کتنے ہی لوگ ہوتے ہیں جو اِس بات تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔

وَقِيلَ لَهُ أَيْضًا: إِنَّكَ تَقُولُ لِلشَّيْءِ: هَذَا صَحِيحٌ، وَهَذَا لَمْ يَثْبُتْ، فَعَن مَنْ تَقُولُ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ أَتَيْتَ النَّاقِدَ، فَأَرَيْتَهُ دَرَاهِمَكَ، فَقَالَ: هَذَا جَيِّدٌ وَهَذَا بَهْرَجٌ، أَكُنْتَ تَسْأَلُ عَنْ مَنْ ذَلِكَ، أَوْ تُسَلِّمُ لَهُ الْأَمْرَ؟ قَالَ: بَلْ أُسَلِّمُ لَهُ الْأَمْرَ، قَالَ: فَهَذَا كَذَلِكَ، لِطُولِ الْمُجَالَسَةِ وَالْمُنَاظَرَةِ وَالْخِبْرَةِ.

امام عبد الرحمن بن مہدی علیہ الرحمہ سے ہی عرض کی گئی: آپ کسی حدیث کے متعلق کہتے ہیں: ”یہ صحیح ہے، اور یہ ثابت نہیں۔“ تو یہ کس سے سُن کر کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”کیا خیال ہے کہ جب تم کسی ناقد کے پاس جاکر اُسے دَرَاہِم دکھاؤ تو وہ کہتا ہے: یہ جید (خالص) ہے اور یہ ردّی (ملاوٹی) ہے، تو کیا تم اُس سے یہ کہتے ہو کہ یہ تمہیں کس نے بتایا؟ یا اُس کی بات مان لیتے ہو؟“ اُس نے عرض کی : ”جی میں مان لیتاہوں۔“ تو آپ نے فرمایا: ”یہاں بھی طُولِ مُجالَسَت(کثرتِ مَشق)، مناظرہ اور ذہانت کے سبب ایسا ہی ہے۔“

وَسُئِلَ أَبُو زُرْعَةَ: مَا الْحُجَّةُ فِي تَعْلِيلِكُمُ الْحَدِيثَ؟ فَقَالَ: الْحُجَّةُ أَنْ تَسْأَلَنِي عَنْ حَدِيثٍ لَهُ عِلَّةٌ فَأَذْكُرَ عِلَّتَهُ ثُمَّ تَقْصِدَ ابْنَ وَارَةَ فَتَسْأَلَهُ عَنْهُ فَيَذْكُرَ عِلَّتَهُ ثُمَّ تَقْصِدَ أَبَا حَاتِمٍ فَيُعَلِّلَهُ، ثُمَّ تُمَيِّزَ كَلَامَنَا عَلَى ذَلِكَ الْحَدِيثِ، فَإِنْ وَجَدْتَ بَيْنَنَا خِلَافًا، فَاعْلَمْ أَنَّ كُلًّا مِنَّا تَكَلَّمَ عَلَى مُرَادِهِ، وَإِنْ وَجَدْتَ الْكَلِمَةَ مُتَّفِقَةً فَاعْلَمْ حَقِيقَةَ هَذَا الْعِلْمِ، فَفَعَلَ الرَّجُلُ ذَلِكَ فَاتَّفَقَتْ كَلِمَتُهُمْ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ هَذَا الْعِلْمَ إِلْهَامٌ.

امام ابو زُرْعَہ رازی سے سوال ہوا: آپ حضرات جب کسی حدیث کو معلّل قرار دیتے ہیں تو اِس پر دلیل کیا ہوتی ہے؟ آپ نے فرمایا : ”دلیل یہ ہے کہ تم مجھ سے کسی حدیث کے متعلق سوال کرو جس میں کوئی علّت پوشیدہ ہو، میں تمہیں وہ علّت بتادوں ، پھر تم ابنِ وَرَاۃ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس جاؤ اُن سے پوچھو وہ بھی علّت بتادیں، پھر تم ابو حاتِم رحمۃ اللہ علیہ کے پاس جاؤ وہ بھی علّت بیان کردیں، پھر تم اُس حدیث کے متعلق تمام کلام میں غور کرو، اگر تم ہمارے مابین فرق پاؤ تو سمجھ جانا کہ ہر ایک نے اپنی مرضی سے کلام کیا ہے،لیکن اگر سارے متّفق ہوں تو اِس علم کی حقیقت پر یقین کر لینا۔“ تو اُس شخص نے ایسا ہی کیا اور اُن تمام کے کلام کو متّفق پایا، تو کہا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ علم اِلہَامِی ہے۔“ (تدريب الراوی،1/ 296-297)

متاخرین میں اس صلاحیت کا فقدان:

بلا شبہ ایسی نایاب مہارت وقابلیت فقط اُن متقدمین کا ہی خاصّا تھا، متاخرین اگر چہ اپنی بَساط و استطاعت کے مطابق ذُروَۂ اعلیٰ (بلندی) کو پہنچے لیکن متقدمین کےہم درجہ نہ ہوسکے ۔ یہی وجہ تھی کہ امام ابنِ صلاح علیہ الرحمہ نے ساتویں سنِ ہجری میں اپنے زمانے کے لوگوں کو تصحیحِ احادیث سے منع فرمایا اور ان کے لئے یہ کام عدمِ صلاحیت کے سبب متعذر (مشکل) قرار دیا:

قال ابنُ الصلاح: إذا وَجَدْنَا فيما يُروى مِن أجزَاءِ الحَدِيثِ وَغَيرِهَا حديثًا صحيحَ الإِسناد وَلَمْ نجدْه في أحدِ (الصحيحَينِ) ولَا مَنصُوصًا على صِحّتِهِ في شيءٍ من مُصَنَّفَاتِ أئمَةِ الحَدِيثِ المُعتَمَدَةِ المَشهُورَةِ، فإنّا لا نَتَجَاسَرُ على جَزْم ِ الحُكم بِصِحَّتِهِ فَقَدْ تَعذَّرَ في هذه الأعصَارِ الاستقلالُ بإدراكِ الصّحيحِ بمُجَرَّدِ اعتبارِ الأسَانِيدِ. امام ابنِ صلاح نے فرمایا: ”جب کوئی مروی حدیث ایسی ہو کہ جو سند کے اعتبار سے صحیح ہو، لیکن صحیحین میں موجود نہ ہو اور نہ ہی ائمّہ محدثین کی معتمد اور مشہور تصانیف میں سے کسی میں اُس کی صحّت پر تصریح ہوتو ہم اُس کی صحّت پر جَزمی حکم کرنے کی جَسَارت نہیں کرسکتے، کیونکہ آج کے زمانے میں وہ صلاحیت متعذر ہوچکی ہے کہ محض سند کے ذریعے حدیث کی صحّت کو پہچان لیں۔“(مقدمہ ابن الصلاح،ص16-17)

امام بدر الدین ابنِ جماعہ علیہ الرحمۃ نے ”خلاصہ مقدمہ ابن الصلاح“ میں امام ابنِ صلاح علیہ الرحمہ کی متابعت کی اور اِسے برقرار رکھا: قَالَ فِي الْمَنْهَلِ الرَّوِيِّ: مَعَ غَلَبَةِ الظَّنِّ أَنَّهُ لَوْ صَحَّ لَمَا أَهْمَلَهُ أَئِمَّةُ الْأَعْصَارِالْمُتَقَدِّمَةِ؛ لِشِدَّةِ فَحْصِهِمْ وَاجْتِهَادِهِمْ. آپ نے فرمایا: کیونکہ اِس بات پر غلبۂ ظنّ ہے کہ اگر یہ حدیث صحیح ہی ہوتی تو پچھلے زمانے کے ائمّہ کرام اِس پر ضرور حکم لگاتے کیونکہ اِن کی چھان بِین اور اجتہاد کا معیار بہت سخت تھا۔ (تدريب الراوی ،1/ 157)

بلکہ امام ابنِ صلاح نے فقط تصحیح نہیں، تحسین وتضعیف کو بھی متعذر قرار دیا جیسا کہ امام جلال الدین سیوطی شافعی علیہ الرحمہ نے اُن کے کلام سےاخذ کیا: قال السيوطي: فَالْحَاصِلُ أَنَّ ابْنَ الصَّلَاحِ سَدَّ بَابَ التَّصْحِيحِ وَالتَّحْسِينِ وَالتَّضْعِيفِ عَلَى أَهْلِ هَذِهِ الْأَزْمَانِ لِضَعْفِ أَهْلِيَّتِهِمْ. امام سیوطی نے فرمایا: تو خلاصہ یہ نکلا کہ ابنِ صلاح نے آج کے لوگوں پر حدیث کی تصحیح، تحسین اور تضعیف تینوں دروازوں کو بند کردیا۔ (تدريب الراوی ،1/ 162)

متاخرین میں سے حُذّاق ائمّہ کے لئے استثناء:

البتہ اِس کے بعد دیگر ائمّہ محدثین مثلِ امام نووی، امام عراقی، امام بُلقِینی ، حافظ ابن حجر علیہم الرحمۃ وغیرہم نے اِن کے اِس قول میں کچھ مُستَثنِیات کو بیان فرمایا کہ یہ حکم کلّی نہیں بلکہ اس میں کچھ گنجائش ہے۔ اگر متاخرین میں کوئی ایسا حاذق ماہر حافظ ناقد ہو کہ جو فنِ حدیث و اصول ِحدیث میں رُسوخ و تَبحّر (مہارت) اور نظرِ تامّ رکھے تو اس کے لئے احادیث پر احکام لگانا جائز ہے:

قَالَ النّوَوِی: والأظهَرُ عِندِي جَوَازُهُ لِمَن تَمَكَّنَ وَقَوِيَتْ مَعرِفَتُه، والله أعلم.

امام نووی نے فرمایا: ”میرے نزدیک اظہر یہی ہے کہ جو قادر ہو اور اسکی معرفت پختہ ہو تو اُس کے لئے تحکیم جائز ہے۔“ (التقريب والتيسير للنووی،ص: 28)

قال البُلقینی: والمختارُ أنّ المُتَبحِّرَ في هذا الشَّأنِ له ذَلِكَ بِطُرُقِه التي تَظْهَرُ لَه.

امام بُلقِینی نے فرمایا: ”مختار یہی ہے کہ اِس فن میں متبحّر شخص کے لئے تحکیم جائز ہے اُن سندوں کو مطابق جو اُس تک پہنچے۔(مقدمۃابن الصلاح ومحاسن الاصطلاح ،ص 159)

اِسی طرح جب حکم لگائے تو مطلقاً حکم نہ لگائے بلکہ اُس حدیث کی سند پر حکم لگائے کہ سندکے اعتبار سے یہ حدیث صحیح یا حسن ہے، متن کے صحت و ضُعف کا دعویٰ نہ کرے (مثلا: هذا حديث صحيح الاسناد، هذا حديث حسن الاسناد وغیرہ) ممکن ہے کہ متن میں کوئی ایسی مخفی علّت موجود ہو جس تک اُس کی رَسائی نہ ہو سکی ہو، یا اُس حدیث کی کوئی دوسری سند بھی موجود ہوجس کو یہ ضعیف قرار دے رہا ہے۔

قال السیوطي: وَالْأَحْوَطُ فِي مِثْلِ ذَلِكَ أَنْ يُعَبَّرَ عَنْهُ بِصَحِيحِ الْإِسْنَادِ، وَلَا يُطْلَقُ التَّصْحِيحُ لِاحْتِمَالِ عِلَّةٍ لِلْحَدِيثِ خَفِيَتْ عَلَيْهِ، وَقَدْ رَأَيْتُ مَنْ يُعَبِّرُ خَشْيَةً مِنْ ذَلِكَ بِقَوْلِهِ صَحِيحٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى. امام سیوطی نے فرمایا: ”اِس جیسی صورت میں احوط(زیادہ محتاط انداز) یہی ہے کہ حدیث کو ”صحیح الاسناد“ سے تعبیر کیا جائے مطلقاً صحیح قرار نہ دیا جائے، کیونکہ اِس بات کا احتمال موجود ہے کہ اُس حدیث میں کوئی ایسی علّت ہو جو اُس پر مخفی رہ گئی ہو۔ اور میں نے بعض کو دیکھا ہے جو اسی احتیاط کے پیشِ نظر حدیث پر ”صحیح اِنْ شاء الله“ کا اطلاق کرتے ہیں۔ (تدريب الراوی،1/ 161)

قال أيضاً: وَقَدْ مَنَعَ فِيمَا سَيَأْتِي وَوَافَقَهُ عَلَيْهِ الْمُصَنِّفُ وَغَيْرُهُ أَنْ يَجْزِمَ بِتَضْعِيفِ الْحَدِيثِ اعْتِمَادًا عَلَى ضَعْفِ إِسْنَادِهِ، لِاحْتِمَالِ أَنْ يَكُونَ لَهُ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ غَيْرُهُ. آپ نے یہ بھی فرمایا: ”اور امام ابنِ صلاح نے ممنوع قرار دیا (اور مصنّف امام نووی وغیرہ نے اِن کی موافقت کی) اِس بات کو کہ محض سند کے ضعیف ہونے کی وجہ سے کسی حدیث کے ضعیف ہونے پر جَزمی حکم کر دیا جائے ، کیونکہ ممکن ہے اس حدیث کی کوئی دوسری صحیح سند بھی موجود ہو۔“ (تدريب الراوی (1/ 162)

متاخرین کے لئے حدیث کو موضوع قرار دینا بدرجہ اولیٰ ممنوع:

یہ ساری گفتگو احادیث کی تصحیح، تحسین اور تضعیف کے متعلق تھی، رہی بات متاخرین کے لئے حدیث پاک کو موضوع قرار دینے کی تو وہ تو ائمہ کرام نے بدرجۂ اولیٰ ممنوع قرار دیا کہ حدیث پاک کو موضوع قرار دینے کے لئے جو قرائن (دلائل) درکار ہیں ان پر اطّلاع متاخرین کے لئے ممکن ہی نہیں، اِلَّا یہ کہ اُس حدیث میں قرائنِ عامّہ (یعنی وہ قرائن جن کے ادراک پر متقدمین و متاخرین دونوں شریک ہوتے ہیں) پائے جائیں۔ (اِن قرائن کی تفصیل اعلیٰ حضرت کے رسالہ منیر العین میں موجود ہے)

قال السیوطی: وَلَا شَكَّ أَنَّ الْحُكْمَ بِالْوَضْعِ أَوْلَى بِالْمَنْعِ قَطْعًا إِلَّا حَيْثُ لَا يَخْفَى؛ كَالْأَحَادِيثِ الطِّوَالِ الرَّكِيكَةِ الَّتِي وَضَعَهَا الْقُصَّاصُ، أَوْ مَا فِيهِ مُخَالَفَةٌ لِلْعَقْلِ أَوِ الْإِجْمَاعِ. امام سیوطی نے فرمایا: بلاشبہ حدیث پر وضع کا قطعی (موضوع ہونے کا یقینی) حکم لگانا بدرجہ اولیٰ ممنوع ہے مگر جہاں موضوع ہونا واضح ہو، مثلاً وہ لمبی لمبی رکیک (کمزور الفاظ والی) احادیث جنہیں قصہ گو نے وضع کیا ہو، یا جو احادیث عقل یا اجماع کے خلاف ہو۔“ (تدريب الراوی ،1/ 162)

قال العَلَائِي: الحُكمُ عَلَى الحَديثِ بِكَونِهِ مَوضُوعاً مِن المُتَأخّرِينَ عُسرٌ جِدّاً، لأنّ ذَلِكَ لا يَتَأتَّى إلا بَعدَ جَمعِ الطُّرُقِ وكَثرَةِ التّفتِيشِ وإنّه لَيسَ لِهَذا المَتنِ سِوَى هَذِهِ الطَّرِيقِ. امام عَلَائی نے فرمایا: ”متاخرین کی جانب سے حدیث پر موضوع ہونے کا حکم لگانا انتہائی مشکل امر ہے۔ کیونکہ ایسا اُس حدیث کے تمام طُرُق (اسانید) کو جمع کرنے اور کثرتِ تفتیش کے بعد ہی ممکن ہے۔ اور پھر یہ یقین ہو کہ اِس کے علاوہ اِس حدیث کی کوئی اور سند ہے ہی نہیں۔“ (النقد الصحيح لما اعترض من أحاديث المصابيح ،ص 24)

اِس کے علاوہ کثیر نصوص ہیں جو یہ واضح کرتی ہیں کہ متاخرین کے لئےحدیث کو قطعی طور پر موضوع قرار دینا ممنوع ہے۔

کیا معاصرین اِس کام کی اہلیت رکھتے ہیں؟

معلوم ہوا کہ احادیث پر صحت، ضعف اور وضع وغیرہ کا حکم لگانا دراصل متقدمین محدثین کا کام تھا جن کی معرفتِ حدیث اِلہامی تھی اور حدیث اُن کی غِذا تھی، متاخرین میں ضُعفِ اہلیت کے سبب یہ امر ممنوع قرار پایا۔ ہاں اگر متاخرین میں سے کوئی ایسا جِہبِذ (ماہر) ہو جو فنِ حدیث میں اطّلاعِ تام رکھتا ہو تو اُس کے لئے احادیث کی سند پر حکم لگانا جائز ہے۔ لیکن وہ بھی صحت و ضعف کی حد تک، حدیث پاک کو موضوع قرار دینے کے لئے قرائنِ خاصّہ خفیہ (وہ قرائن جن کے ادراک پر صرف متقدمین قادر ہوتے ہیں) کا ادراک اُن کے لئے بھی ممکن نہیں، فقط قرائنِ عامہ کا ادراک ممکن ہے۔ یہ بات بھی متاخرین جَہابِذہ (ماہرین) کی ہے، وہ جَہابِذہ کہ بغیرکسی ڈیجیٹل ذرائع کے کتب و مصنفین پر اُن کی نظر اتنی وسیع ہوا کرتی تھی کہ آج بھی دیکھ کر عقلیں حیران ہو جاتی ہیں کہ کیا شاملہ اور کیا گوگل! یقین نہ آئے تو بطورِ نمونہ کتاب ”فہرس الفہارس والاثبات“ اور ”الرسالۃ المستطرفۃ“ اور اِن جیسی دیگر کتب دیکھ لی جائیں۔

لہٰذا وہ معاصرین کہ جن کی ساری تحقیقات، سارا مواد ، نیٹ اور شاملہ کے سہارے چلتا ہے اُن کا کیا حال ہوگا؟ اور اُن کا حدیث پر حکم لگانے کے متعلق کیا حکم ہوگا اِس کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

دورِ حاضر میں حدیث پر کس طرح حکم لگایا جائے؟

لہٰذا یہ بات اب واضح ہے کہ عصر ِحاضر میں اگر کوئی کسی حدیث کی فنی حیثیت معلوم کرنا چاہے تو وہ بذات خود نئے سِرے سے تحقیق کرنے کی کوشش نہ کرے بلکہ اُس کا سارا دار و مدار ائمّہ محدثین (متقدمین و متاخرین) کی جانب سے کی گئی تحقیقات اور احادیث پر لگائے گئے احکام و کلام پر ہونا چاہئے،کیونکہ دورِ حاضر کے افراد میں اتنی سَکَت ہے ہی نہیں کہ محدثین کی اتباع و پیروی کیے بغیر فقط اپنی اَٹَکل سے حدیث پاک پر حکم لگا سکیں۔

اب جب بھی کسی حدیث کے متعلق صحت و ضُعف کی جانچ کرنی ہو تواُن کتب محدثین کی طرف رجوع کیا جائے گا جن میں انہوں نے احادیث پر احکام لگائے ہوں یا کچھ کلام کیا ہو (مثلا سنن ترمذی، مستدرک ، مجمع الزوائد،المقاصد الحسنۃ وغیرہ ،اور اسکے علاوہ اس طرح کی بے شمار کتابیں ہیں)

کلام ائمہ کے متعلق مختلف صورتیں:

بعض اوقات کسی حدیث کے متعلق کلامِ ائمّہ آسانی سے مل جاتے ہیں اور اُن کے مطابق فیصلہ کرنا آسان ہوتا ہے۔ لیکن بسا اوقات کلام ائمّہ باوجود کثیر تلاش کے نہیں ملتے، یا ملتے ہیں تو مختلف ائمّہ کے کلام آپس میں مختلف ہوتے ہیں۔ تو اسکی صورتیں اور اور اُن کے متعلق حکم ملاحظہ ہو:

اول: اگر محدثین کی جانب سے لگائے گئے احکامات یکساں ہوں اور کسی طرح کا اختلاف نہ ہو،تو معاملہ آسان ہےکہ جو حکم وہاں موجود ہوگا وہی معتبر مانا جائے گا۔

ثانی:اگر اُن کتب میں ایک ہی حدیث کے متعلق ائمّہ کرام کے کلام مختلف ہوں، مثلا ایک جانب کسی امام نے حدیث کو صحیح قرار دیا ہواور دوسری جانب کسی اور نے ضعیف، تو ایسی صورت میں ترجیح کا طریقہ اختیار کیاجائے گا۔ جیسا کہ علامہ عبد الحی لکھنوی علیہ الرحمۃ نے ”ظفر الامانی“ میں بالتفصیل بیان فرمایا ہے۔ ملاحظہ ہو:

وأمّا إِذَا اختَلَفُوا فِيمَا بَينَهُم فَالأَمْرُ عَسِيرٌ وَالاختِلَافُ فِيمَا بَينَ جَهَابِذَةِ الحَدِيثِ فِي هَذَا البَابِ غَيرُ قَلِيلٍ وعِندَ ذَلِكَ يُطلَبُ التَّرجِيحُ بِوَجهٍ مِن الوُجُوهِ فَيُؤخَذ بِالمُرَجَّحِ ويُترَكُ مَا سِوَاهُ. وله طُرُقٌ كَثِيرَةٌ:

مِنهَا أن يُدَقَّقَ النَّظرُ فِيمَا قَالَهُ الفَرِيقَانِ وَيُنظَرَ فِيمَا به حَكَمَ بَعضُهُم بِالوَضعِ أو بِالضّعفِ وبَعضُهُم بِالصِّحَّةِ بِنَظرِ التَّأمُّلِ والعِرْفَانِ فَيُؤخَذ بِمَا وَضَحَتْ صِحَّتُهُ ويُترَك مَا ظَهَرَ سَقِيمُهُ.

ومِنهَا أنْ يَكُونَ صاحب أحد القَولَينِ مُتساهِلاً في التَّحسِينِ والتَّصحِيحِ والآخَرُ مُنقِّحاً ومُفَتِّشاً مُهتَمّاً بِالتَّحقِيقِ والتَّنقِيحِ فَحِينَئِذٍ يُرجَّح قولُ غَيرِ المُتَسَاهِلِ على قَولِ المُتَسَاهِلِ كالحَاكِمِ صَاحِبِ المُستَدرَكِ فإنَّهُم بِأجْمَعِهِم نَصُّوا عَلَى أنّهُ لا اعتِمَادَ عَلَى تَصحِيحِهِ.

ومِنهَا أنْ يَكُونَ صَاحِبُ أَحَدِ القَولَينِ من المُبَالِغِينَ في الجَرحِ والآخَرُ مُتَوسِّطاً ومُعتَدِلاً فِي القَدَحِ فيُرَجَّح قَولُ غَيرِ المُتَشدِّدِ على قَولِ المُتَشَدِّدِ ويُقبَل تَصحِيحُ المُتَوسِّطِ وتَحسِينُهُ دُونَ تَضعِيفِ المَشَدِّدِ وحُكمِ وَضعِهِ.

ومِنهَا أنْ يَكُونَ صَاحِبُ أحَدِ القَولَينِ مِنَ المُشَدِّدِينَ فِي الحُكمِ بِالوَضعِ والضُّعفِ كابنِ الجَوزِيِّ.... وَالآخَرُ من المُتَوَسِّطِينَ المُنَقِّحِينَ كابنِ حَجَر العَسقَلانِيّ وشَيخِهِ العِرَاقِيّ والسُيُوطِيّ وأشبَاهِهِم فَحِينَئِذٍ يُرَجَّح قَولُ الآخَرِينَ عَلى الأوَّلِينَ ولا يُبَادَر إلى الحُكمِ بِالضُّعفِ والوَضعِ بِمُجَرَّدِ حُكمِ الأوّلِينَ.

ترجمہ: بہر حال جب کلام ائمّہ آپس میں مختلف ہوں (اور درحقیقت اُن جَہَابِذہ کے مابین اختلاف کم تعداد میں نہیں) تو ایسی صورت میں وجوہ ِترجیح میں سے کسی وجہ کو تلاش کیا جائے گا، اور راجح کو اختیار کر کے ماسویٰ کو چھوڑ دیا جائے گا۔ اسکے کثیر طریقے ہیں:

ایک یہ کہ دقّتِ نظری کے ساتھ دونوں جانب كے اقوال دیکھے جائیں اور خوب غور و فکر کر کے اُن احادیث کو دیکھا جائےجن پر ایک نے وضع یا ضُعف کا حکم لگایا ہے اور دوسرے نے صحت کا۔ تو جس قول کی درستگی واضح ہو اُسے اختیار کیا جائے اور دوسرے کو چھوڑ دیا جائے۔

دوسرا یہ کہ اُن دو قائلین میں سے ایک حدیث کو صحیح و حسن قرار دینے میں مُتساہِل (نرمی برتنے والا) ہو اور دوسرا مُنقِّح و مفتّش ہو اور تحقیق و تنقیح کا اہتمام رکھنے والا ہو۔ تو ایسی صورت میں غیر مُتساہِل کا قول مُتساہِل کے مقابلے میں مقبول ہوگا۔ مثلا امام حاکم( صاحبِ مستدرک)کے بارے میں تمام محدثین نے یہ صراحت کی ہے کہ اِن کی تصحیح پر اعتماد نہیں۔

تیسرا یہ کہ دو قائلین میں سے ایک جَرح میں مبالغہ کرنے والا ہو جبکہ دوسرا جَرح کرنے میں متوسّط و معتدل ہو۔ تو غیر متشدّد کا قول متشدّد کے مقابلے میں راجح ہوگا اور متوسّط کی جانب سے تصحیح و تحسین مقبول ہوگی نہ کہ متشدّد کی جانب سے تضعیف اور حکمِ وضع۔

چوتھا یہ کہ دو قائلین میں سے ایک وضع اور ضُعف کا حکم لگانے میں متشدّد ہو مثلاً امام ابن الجوزی۔۔۔۔۔ اور دوسرا متوسّطین اور منقّحین میں سے ہو مثلاً امام ابنِ حجر عسقلانی اور اِن کے شیخ امام عراقی اور امام سیوطی وغیرھم۔ تو ایسی صورت میں متوسّطین کا قول راجح ہوگا متشدّدین کے مقابلے میں اور محض متشدّدین کی جانب سے حکم دیکھ کر حدیث کے ضُعف و وضع کا فیصلہ نہیں کر لیا جائے گا۔

کیا یہ طریقۂ ترجیح بھی ہر ایک کے بس میں ہے؟

یہاں ایک اور امر توجہ طلب ہےوہ یہ کہ ائمّہ کرام کے کلاموں کے مابین اختلاف کو حل کرنے کے لئے ترجیح کے طریقے کار کو اختیار کرنا بھی ہر ایک کےبس میں نہیں جیسا کہ امام لکھنوی علیہ الرحمہ نے اِس صورتحال کو امرِ عسیر (مشکل ترین امر)قرار دیا۔ کیونکہ اِس کے لئے خوب دقّتِ نظری اور غور و فکر چاہئے اور پھر محدثین اور کتبِ محدثین کے مناہج و صفات پر گہری نظر چاہئے کہ فلاں امام متشدّد ہے فلاں امام متوسط ہے، اور فلاں کتاب کی یہ خصوصیت ہے اور فلاں کی یہ وغیرہ وغیرہ ۔ فقط اپنی رِضا و خواہش سے جس قول پر دل جَمے اُس قول کو اختیار کر لینا اور باقی کو ترک کردینا کسی جرأت سے کم نہیں ہوگا۔

کسی کا یہ کہنا: ”کسی محدث کا حکم ہمارے لئے پتھر پر لکیر نہیں ہوتا“

یہی سے یہ بات ہر اَنکھیارے (آنکھ والے) کے لئے اَظْہَر مِنَ الشَّمس (سورج سے زیادہ روشن) ہو گئی کہ اختلاف کی صورت میں جب کسی ایک اما م کے قول کو اختیار کر کے مرجوح قول کو ترک کر دیا جائے تو متروکہ قول کے بارے میں ہر گز یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ”چونکہ کسی محدث کا حکم ہمارے لئے ”پتھر پر لکیر“ نہیں ہوتا اس لئے اس قول کو چھوڑ دیا گیا۔ کیونکہ در حقیقت اِس قول کو اِس وجہ سے ترک نہیں کیا گیا کہ اِس قول پر اعتماد نہیں تھا بلکہ اِس وجہ سے ترک کیا گیا کہ اِس قول کے مقابلے میں ایک دوسرا قول موجود تھا اور پھر وجوہِ ترجیح میں سے ایسی وجہِ ترجیح پائی گئی کہ جس نے اُس قولِ مقابِل کو راجح قرار دیا اور اِسے مرجوح۔جیسا کہ امام حاکم علیہ الرحمہ کی تصحیح اور اُس کے مقابلے میں امام ذہبی کی تضعیف، ایسے ہی امام ابنِ جوزی علیہ الرحمہ کی جانب سے حکمِ وضع اور اُس کے مقابلے میں امام سیوطی علیہ الرحمہ کا تعقب۔ وعلیٰ ہذا القیاس۔

اور پھر اگربطورِ تسلیم کسی محدّث کا حکم ہمارے لئے معتمد ہے ہی نہیں تو پھر کس طرح کسی حدیث کی فنی حیثیت کوجانا جائے؟ وہ مہارت وقابلیت کہاں سے حاصل کی جائے کہ جو محض ائمّہ محدثین کا ہی خاصّہ تھا؟ کسی حدیث پر صحت و ضُعف کاحکم لگانا کتنا دشوار ترین امر ہے اور کِن کِن منازِل کو طے کرنا پڑتا ہے اس کا اندازہ اعلیٰ حضرت امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کے رسالے ”الفضل الموھبی“ میں بیان کردہ منازل سے لگانا چاہئے۔ مزید یہ کہ اگر اُن کے احکام معتبر ہے ہی نہیں تو کیا اُن کی جانب سے کی گئی تحقیقات کا فائدہ فقط اتنا ہے کہ قیامت تک کتابوں کی زینت بنی رہے؟ نہ اُن پر اعتماد نہ اعتبار اور عمل تو کُجَا!

ثالث: اگر اُس حدیث کے متعلق کلام ائمّہ باوجود بحث و تفصیح کے ملے ہی نہیں تو اب ضرورت کے پیشِ نظر اپنی استطاعت و حیثیت کے مطابق حکم صادر کیا جائے گا اور یہ کام بھی اُن معاصرین مشتغلین بِعِلم الحدیث (علمِ حدیث میں مشغول علما) کا ہے کہ جنہوں نے اپنی زندگی اِ س فن میں وقف کردی ہواور کلامِ محدثین و کتبِ محدثین میں کثرتِ ممارست رکھتے ہوں، تو وہ راویوں کی تحقیق کے ذریعے محض سند پر صحت وضُعف کا حکم لگا سکتے ہیں، اور موضوع کاحکم فقط قرائنِ عامّہ کے ذریعے لگا سکتے ہیں (یعنی اُن قرائن کے ذریعے جن کے ادراک پر متقدمین ومتاخرین دونوں شریک ہوتے ہیں) لیکن یاد رہے یہ تب ہے کہ جب اُس حدیث کے متعلق کلام ائمّہ باوجود کثرتِ تلاش کے نہ ملے، ورنہ سب سے پہلے کلامِ ائمہ کو تلاش کیا جائے گا اور وہی پہلی ترجیح ہوگی۔

خلاصۂ بحث:

سابقہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ حدیث پر تحکیم آسان امر نہیں۔ یہ اکابر متقدمین محدثین کا کام تھا، عصر ِ حاضر میں اہلیت و قابلیت کے فُقدَان کے سبب حدیث کی فنی حیثیت کو جاننے کے لئے اُن محدثین کے اقوال کی طرف ہی رجوع کیا جائے گا اور اُسی کے مطابق صحت و ضُعف کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اور اگر بالفرض کسی حدیث کے متعلق کلام ائمہ نہ ملے تو احتیاج کے پیشِ نظر حدیث کی سند پر حکم لگایا جا سکتا ہے بشرط یہ کہ حکم لگانے والا اِس فن میں کثیر مہارت و مُمارَست رکھتا ہو اور مناہجِ محدثین و کتبِ محدثین سے واقف ہو، نیٹ، شاملہ اور دیگر سرچ انجن سافٹ ویئرز کے سہارے اُس کی گاڑی نہ چلتی ہو۔ والله أعلم


مولانامحمد عمیر عطاری مدنی زِیْدَشَرْفُہ

(ناظم ُالامور”مرکز خدمۃ الحدیث وعلومہ(دعوتِ اسلامی)“)

کتابُ اللہ کے بعد حدیثِ رسول پرہی ہمارے دین کی بنیاد ہے، بلکہ حدیثِ رسول کے بغیر کتاب اللہ کو کما حقہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ حدیث کا علم جتنا اہم ہےاتنا ہی مشکل بھی ہےاِس کے باوجود اسے حاصل کرنے کے لیے ہمارے اسلاف نے اپنی زندگیاں وقف کیں ۔ محدثین کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہمیں علومِ حدیث کا خزانہ حاصل ہے۔

علمِ حدیث کی دوقسمیں:

حدیث بظاہر ایک لفظ ہےلیکن یہ ایسا ہی ہے جیسے سمندر کو کوزے میں بند کر دیا گیا ہو۔ اہلِ علم اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ ہر علم وفن کے اپنے اصول وضوابط ہوتے ہیں، اسی طرح علم حدیث کے بھی ہیں۔

علم حدیث کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

(1) روایتِ حدیث: یعنی وہ علم جو نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اقوال، افعال، تقاریر، احوال واوصاف پر مشتمل ہو۔اِس علم کے ذریعے ہم حدیث کے معانی واستباط اورمعمول بہ ہونے کا علم حاصل کرتے ہیں۔

(2) درایت حدیث: یہ اُن قوانین کا علم ہےجن کے ذریعے”سند ومتن کےاحوال“جانے جاتے ہیں۔ اسی کو اصولِ حدیث یا مصطلح الحدیث کہتے ہیں۔یہ علم صحیح کو سقیم سےجدا کرکےدینِ اسلام کی روشن تعلیمات کی حفاظت کرتا ہے ۔

علم ِدرایت ِ حدیث کاثمرہ ”تحکیمِ حدیث“ ہے:

سند و متن کے احوال جاننے کے بعد باری آتی ہے حدیث پر حکم لگانے کی، بلکہ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ علمِ اصولِ حدیث کی غایت و انتہا یہی ہے کہ حدیث کے حکم کو جان لیا جائے، نہ صرف علم اصول حدیث بلکہ علم جرح وتعدیل، علم الرجال، علم التاریخ، علمِ عللِ حدیث اور وہ سارے علوم جن کا مقصد صحت و ضعف کے اعتبار سے حدیث کا حال جاننا ہوتا ہے، ان سب علوم کی انتہایہیں پر ہوتی ہے کہ مذکورہ قول حدیث ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کس درجے کی؟

تحکیم حدیث کی اقسام

حدیث پر حکم لگانے کے تین طریقے ہو سکتے ہیں:

(1) نقلی (2) درایتی (3) نقلی و درایتی

(1)نقلی

اس میں حکمِ حدیث معتبر ائمہ کرام سے اخذ کیے جاتے ہیں کہ انہوں نے احادیث پر حکم لگا کر صحیح کو ضعیف سے ممتاز کر دیا ہے، تو اگر منقولی حکم تک رسائی میسّر ہو تو اسی کو اختیار کرنا چاہیے کیونکہ دیگرخوبیوں کے ساتھ ساتھ درایت کے اعتبار سے بھی یہ حضرات ہم سے کہیں زیادہ فائق ہیں۔

(2)درایتی

کئی بار ایسا ہو جاتا ہے کہ منقولی حکم نہیں مل پاتا تو یہ ”کَمْ تَرکَ المُتَقَدِّمُ لِلّمُتَأخِّر“ کے قبیل سے ہوتا ہے، تو ایسی صورت میں ہم پر یہ ذمّہ داری عائد ہوتی ہے کہ علومِ درایت کو پیشِ نظر رکھ کر حدیث کے حال کا دراسہ کریں تاکہ حکم تک پہنچ سکیں۔

(3)نقلی و درایتی

کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ منقولی حکم مل تو جاتا ہے لیکن اقوالِ ائمہ اس میں مختلف ہوتے ہیں، اس صورت میں علومِ درایت کے مطابق تطبیق وترجیح کا طریقہ اختیار کیا جائے۔

ہمارا مقصد چونکہ منقولی احکام سے متعلق ہے اس لئے ہم اسی پر اپنی گفتگو جاری رکھتے ہیں:

حکمِ حدیث کن کتابوں سے نقل کیا جائے؟

ذیل میں مختلف عنوانات کے تحت کتب ذکر کیے جا رہے ہیں:

جوامع ، سنن وغیرہ:

(1)مستدرک علی الصحیحین از امام ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ حاکم شافعی : اس کے ساتھ امام ذہبی کی تلخیص لازمی دیکھنا چاہیے کہ امام ذہبی نے حکم کی موافقت کی ، تعقب کیا یا سکوت فرمایا۔

(2)الاحادیث المختارۃ از امام ضیاء الدین محمد بن عبد الواحد مقدسی حنبلی: عموماً متقدمین سے نقل کرتے ہیں لیکن کئی مرتبہ مناقشہ بھی کرتے ہیں۔

(3)سنن ابی داود از امام ابو داود سلیمان بن اشعث سجستانی:اس کی احادیث کی بات کی جائے تو امام منذری نے اس کا (مختصر) لکھا اور کئی احادیث پر حکم بھی لگایا۔ اسی طرح امام یحی بن شرف نووی شافعی نے بھی (الإيجاز في شرح سنن أبي داود) کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں طہارت سے متعلق سو (۱۰۰) سے کچھ زائد احادیث پر حکم بیان کیا۔

(4)جامع الاصول از امام ابن الاَثیر مبارک بن محمد جزری: اس میں بھی کئی مقامات پر احادیث و رواۃ کے متعلق کلام موجود ہے۔

(5)سنن ترمذی از امام ابو عیسی محمد بن عیسی ترمذی:جہاں تک تعلق ہے اس کتاب کاتو مصنف نے خود احکام ذکر فرمائے ہیں، مزید تحقیق کے لئے ابو الفتح ابن سید الناس کی شرح (النفح الشذی فی شرح جامع الترمذی) کا مطالعہ فرمائیں۔احادیث الباب وغیرہ پر کلام موجود ہے۔

(6)سنن ابن ماجہ از امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید قزوینی: اس میں دو طرح کی احادیث ہیں، ایک وہ جو صحیحین اور دیگر سنن میں ہیں تو اس کا حکم مذکورہ کتب میں اگر ہوں تو وہاں سے دیکھ لیا جائے۔ دوسری وہ جو زوائد کہلاتی ہیں، ان زوائد کو امام احمد بن ابو بکر بوصیری شافعی نے ”مصباح الزجاجہ فی زوائد ابن ماجہ“ کے نام سے جمع کیا ہےاور حکم سے متعلق کلام بھی کیا ہے۔

(7)القول المسدّد فی الذّبّ عن مسند احمدازامام ابن حجراحمد بن علی عسقلانی شافعی

(8)حاشیۃ السندی علی ابن ماجہ والنسائی از امام ابو الحسن محمد بن عبد الھادی سندی

احادیثِ احکام پر حکم:

(1)نصب الرایہ ازامام عبد اللہ بن یوسف زیلعی حنفی

(2)الدرایہ فی تخریج احادیث الہدایہ از امام ابن حجراحمد بن علی عسقلانی شافعی: یہ کتاب در اصل نصب الرایہ للزیلعی کی تلخیص ہیں لیکن اضافی فوائد ونکات پر مشتمل ہے۔

(3)البدر المنیر فی تخریج احادیث الشرح الکبیر از امام ابن ملقن عمر بن علی شافعی: امام غزالی نے فقہ شافعی پر ایک کتاب (الوجیز) لکھی، امام رافعی نے (فتح العزیز) کے نام سے اس کی شرح لکھی، پھر ابن ملقن نے اس شرح کی احادیث کی تخریج کی اور ساتھ احکام بھی بیان کیے۔

(4)التلخیص الحبیر فی تخریج احادیث الرافعی الکبیر از امام ابن حجراحمد بن علی عسقلانی شافعی: در اصل ابن حجر نے اپنے شیخ ابن ملقن کی ہی کتاب (البدر المنیر)کی تلخیص کی ہے اور مزید چند کتابوں کی احادیث کو بھی شامل کیا ہےاور ساتھ احکام پر گفتگو بھی فرمائی۔

(5)الاحکام الوسطی از امام عبد الحق بن عبد الرحمن الاشبیلی: عموما بغیر سند کے احادیث ذکر کرتے ہیں سوائے پہلے راوی کے پھر حدیث کے حکم سے متعلق کلام کرتے ہیں ۔

(6)السنن الکبری از امام احمد بن حسین بیہقی شافعی

(۷)خلاصۃ الاحکام از امام یحی بن شرف نووی شافعی

(۸)المجموع شرح المھذب از امام یحی بن شرف نووی شافعی

کتبِ دعوات:

(1)الترغیب والترھیب از امام عبد العظیم بن عبد القوی منذری شافعی

(۲)الاذکار از امام یحی بن شرف نووی شافعی

(۳)نتائج الافکار فی تخریج احادیث الاذکار از امام ابن حجراحمد بن علی عسقلانی شافعی

کتبِ شروحات:

(1)شرح السنۃ از امام حسین بن مسعود بغوی شافعی

(2)فیض القدیر شرح الجامع الصغیر از علامہ محمد عبد الرؤوف مناوی

(3)التیسیر بشرح الجامع الصغیر از امام محمد عبد الرؤوف مناوی

(4)السراج المنیر شرح الجامع الصغیر از امام علی بن احمد عزیزی شافعی

(5)مرقاۃ المفاتیخ شرح مشکاۃ المصابیح از امام علی بن سلطان محمدالقاری حنفی

(۶)شرح صحیح مسلم از امام یحی بن شرف نووی شافعی

(۷)فتح الباری از امام ابن حجراحمد بن علی عسقلانی شافعی

کتبِ تخریج وزوائد:

(1)الجامع الصغیر از امام جلال الدین عبد الرحمن بن ابو بکرسیوطی

(2)الجامع الکبیر/جمع الجوامع از امام جلال الدین عبد الرحمن بن ابو بکرسیوطی

(3)مجمع الزوائد از امام نور الدین علی بن ابو بکرہیثمی

(4)اتحاف الخیرۃ المہرۃ از امام احمد بن ابو بکر بوصیری شافعی

(5)المطالب العالیہ از امام ابن حجراحمد بن علی عسقلانی شافعی

(۶)المغنی عن حمل الاسفار از علامہ عبد الرحیم بن حسین عراقی شافعی: یہ امام غزالی کی کتاب احیاء العلوم کی احادیث کی تخریج سے متعلق ہے۔

(۷)جامع الاحادیث از مفتی حنیف رضوی صاحب:اعلی حضرت کی تالیفات میں موجود حدیثوں کو اس کتاب میں جمع کیا اور امام اہلسنت نے جو حکم لگائے اسے بیان کیااور بعض اوقات اپنی طرف سے حکم ذکر کیا۔

کتب الرجال:

(1)الضعفاء الکبیر از امام محمد بن عمروعُقَیلی: راوی کے ترجمہ کے تحت اسی راوی کی سند سے حدیث ذکر کرتے ہیں تو راوی جس درجے کا ہوگا حدیث پر بھی وہی حکم لگے گا۔بعض اوقات حدیث سے راوی کا درجہ معلوم ہوتا ہے۔

(2)المجروحین از امام محمد بن حبان بُستی

(3)الکامل فی ضعفاء الرجال از امام عبد اللہ بن عدی جرجانی

(4)میزان الاعتدال از امام شمس الدین محمد بن احمد ذہبی

(5)لسان المیزان از امام ابن حجراحمد بن علی عسقلانی شافعی

کتبِ موضوعات وغیرہ

(1)الموضوعات از امام ابن جوزی عبد الرحمن بن علی حنبلی

(2)تعقبات ابن جوزی از امام جلال الدین عبد الرحمن بن ابو بکرسیوطی

(3)اللآلی المصنوعۃ از امام جلال الدین عبد الرحمن بن ابو بکرسیوطی

(4)ذیل اللآلی از امام جلال الدین عبد الرحمن بن ابو بکرسیوطی

(5)الموضوعات از امام حسن بن محمد صغانی حنفی

(۶)جزء فیہ الرد علی الصغانی از علامہ عبد الرحیم بن حسین عراقی شافعی

(۷)تنزیہ الشریعہ از امام ابن عَرّاق علی بن محمد شافعی

(۸)کشف الخفاءاز امام اسماعیل بن محمدعجلونی

(۹)العلل المتناہیہ از امام ابن جوزی عبد الرحمن بن علی حنبلی

(۱۰)سِفر السعادۃ از امام محمد بن یعقوب فیروزآبادی

(۱۱)شرح سفر السعادۃ از امام عبد الحق محدث دہلوی حنفی، فارسی

(۱۲)المقاصد الحسنہ از امام محمد بن عبد الرحمن سخاوی شافعی

علل حدیث سے متعلق کتابوں سے بھی احکام اخذ کیے جا سکتے ہیں، مزید یہ کہ خاص خاص موضوع پر لکھی گئی کتابیں یا اجزاء وغیرہ بھی ہیں جن میں حکم ہوتا ہےجیسے:

فضائل خلفاء راشدین و اہل بیت سے متعلق کتب:

(1)الصواعق المحرقہ از امام ابن حجراحمد بن محمد ہیتمی شافعی

(2)استجلاب ارتقاء الغرف از امام محمد بن عبد الرحمن سخاوی شافعی

(3)تاریخ الخلفاء از امام جلال الدین عبد الرحمن بن ابو بکرسیوطی

درود شریف سے متعلق کتب:

(1)القول البدیع از امام محمد بن عبد الرحمن سخاوی شافعی

(2)الدر المنضود از امام ابن حجراحمد بن محمد ہیتمی شافعی

یہاں احاطہ مقصود نہیں ،اگر مزیدنام شامل کیے جائیں تو ایک طویل فہرست تیار ہو سکتی ہے۔

وضاحت:

لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ نقلی حکم کئی بار صرف خاص سند کے اعتبار سے ہوتا ہےلہذا متنِ حدیث پر حکم جمیع جہات کو پیش نظر رکھ کر لگایا جائے گا، سند کے ضعیف ہونے سے حدیث کا ضعیف ہونا لازم نہیں آتا اسی طرح سند کے صحیح ہونے سے متنِ حدیث کا صحیح ہونا لازم نہیں آتاکہ کبھی متن شاذ یا معلل ہوتی ہے۔

مذکورہ کلام صرف اُن معروف کتب کی نشاندہی کے لیے ہے جن سے منقولی احکام مل سکتے ہیں، باقی رہا اصلِ حدیث پر حکم کیسے لگے گا؟ متابع و شواہدات کے کیا اصول ہیں؟ ضعیف ہونے کی صورت میں کس کا ضعف کا پوراہو سکے گا اور کس کا نہیں؟ان سب کی تفصیل کے لیے متعلقہ کتب کا مطالعہ فرمائیں۔

28 ربیعُ الاخر1447مطابق22اکتوبر2025


( جشن منانے کے 15منفرد طریقے)

تحریر: محمد آصف اقبال مدنی

ہر شخص کو اپنی حیثیت واوقات اور قابلیت واہلیت کے مطابق جشنِ ولادت منانا چاہیے۔عوام اپنے انداز میں منائیں اورخواص اپنے انداز میں ۔ ہر دو طبقے کے لیے جشنِ ولادتِ مصطفیٰ منانے کی پندرہ تجاویز اور منفرد طریقے پیش خدمت ہیں:

(1) درس نظامی کے پندرہ طلبۂ کرام کے ساتھ مالی تعاون کیجیے، انہیں ماہانہ خرچ دیجیے ،کسی ایک طالب علم کو پندرہ ہزار روپے کا تحفہ پیش کیجیے، انہیں کتابیں دلائیے،درجے کے علاوہ الگ سے پڑھائیے، مقالہ لکھنے میں مدد کیجیے ۔

(2) پندرہ افراد کو علمِ دین سیکھنے کے لیے تیار کیجیے، درس نظامی کا ذہن دیجیے، فرض علوم سیکھنے پر ابھارئیے، بنیادی عقائد اسلام وعقائدِ اہلِ سنت سیکھنے کی ترغیب دیجیے، سنتیں سیکھنے کا جذبہ بیدار کیجیے۔

(3)سیرتِ رسول کریمﷺ پر لکھی گئی پندرہ کتب تقسیم کیجیے، ایک کتاب کے پندرہ نسخے بانٹ دیجیے، کتابیں تقسیم کرنے والے اداروں سے یہ کام کروائیے ، سیرت پر کام کرنے والوں کے ساتھ ہرطرح کابھرپور تعاون کیجیے، کتبِ سیرت کا مطالعہ فرمائیے۔

(4)اہل سنت کے پندرہ مدارس وجامعات کے ساتھ ماہانہ تعاون کیجیے،کسی ایک سنی ادارے کی پندرہ مہینے یا پندرہ سال تک مالی مدد کیجیے، اساتذہ کرام کی فلاح وبہبود میں حصہ لیجیے، سنی ادارے کی تعمیرو آباد کاری میں مدد کیجیے۔

(5)پندرہ اماموں/مؤذنوں /خادموں کی مالی خدمت کیجیے، ان کی کوئی ضرورت پوری کردیجیے، ان کے لیے ذاتی سواری کا انتظام کردیجیے،ان کے پندرہ مہینوں کے راشن کا انتظام اپنے ذمہ لے لیجیے، ان کے گھرکا کرایہ ادا کردیجیے۔

(6) پندرہ علمائے دین کی مدد کیجیے، اسلام کے ان خادموں کو ہر موقع پر یاد رکھیے،مفتی،مصنف، لکھاری اورمدرس علمائے کرام کو خاص اہمیت وترجیح دیجیے، کتب کی اشاعت وتقسیم میں تعاون کیجیے، کتب خرید کر حوصلہ افزائی کیجیے۔

(7) پندرہ غریب امتیوں کے گھر راشن ڈلوادیجیے، ان کا قرض اتارنے میں مدد کیجیے، ان کے یوٹیلیٹی /بجلی/گیس وغیرہ کے بِل ادا کردیجیے، ان کے بچوں کی شادیوں میں مدد کیجیے۔

(8) پندرہ یتیم وبے سہارا یا غریب بچوں کی اسکول فیس ادا کیجیے، کسی ایک بچے کی پندرہ مہینے تک فیس اپنے ذمہ لیجیے ،انہیں اسکول بیگ دِلادیں، نیا یونیفارم لے دیں، لَنچ باکس یا پانی کا تھرماس دلا دیں۔

(9)پندرہ غریب علاقوں میں پانی کا انتظام کردیجیے، چند دوست مل کر یہ کام کرلیجیے، پندرہ مقامات پر پکی سبیل کا اہتمام کیجیے،پندرہ گھروں میں پانی کے ٹینکر ڈلوادیجیے، پندرہ دن کے پانی کا انتظام کردیجیے، ربیع الاول میں پندرہ دن پانی یا شربت کی سبیل لگائیے، پانی کے پندرہ گیلن یا بوتلیں تقسیم کردیجیے۔

(10) پندرہ دن راہِ خدا کے مسافر بنیے، تین دن کے پانچ قافلوں میں شریک ہوجائیے، پندرہ قافلوں میں سفر کیجیے، پندرہ مہینے کا سفر اختیار کیجیے اور عاشقان رسول کی صحبت میں دین سیکھیے سیکھائیے ۔

(11) پندرہ مسلمانوں کو نماز سیکھا دیجیے، طہارت کے مسائل بتائیے، وضووغسل کا طریقہ سیکھائیے، نماز کی شرائط وواجبات وسنن بتائیے، تلاوت کی درستی کروائیے۔

(12) اللہ پاک کے آخری نبی محمد عربیﷺ کی پندرہ سنتوں پراستقامت کے ساتھ عمل شروع کیجیے، زہے نصیب تمام سنتوں پر عمل کی کوشش کیجیے، پندرہ لوگوں کو کسی ایک سنت پر عمل کے لیے تیار کیجیے۔

(13) پندرہ ہزار مرتبہ درود شریف پڑھیے، درود تاج پڑھیے، درود غوثیہ پڑھیے، درود رضویہ کا ورد کیجیے، گھروالوں اور دوست احباب کو بکثرت درود شریف پڑھنے کی ترغیب دیجیے۔

(14) پندرہ احادیثِ مبارکہ کی تحقیق کیجیے، موضوع ہونے سے متہم روایات کا حسن وضعف یا صحت ثابت کیجیے،حدیث کے نام سے مشہور اقوال کی حقیقت بیان کیجیے، حدیث مشہور ہونے والی من گھڑت روایات کا موضوع ہونا ظاہر کیجیے۔(نوٹ:یاد رہے کہ یہ کام صرف ماہرومحقق علمائے کرام کا ہے۔)

(15)سیرت النبی ﷺ پر پندرہ مضامین لکھیے، پندرہ ویڈیو کلپ بنائیے ،کچھ عنوانات یہ بھی ہوسکتے ہیں:15آیات قرآنی اور سیرت رسول اکرمﷺ، 15 احادیث کریمہ اور سیرت رسول اعظمﷺ، رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے 63سال(تاریخ کے آئینے میں) ، رسول اللہ ﷺ اور امت کی غم گساری ، معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے لوگوں کا مسیحا ، بچوں کے رسول عربیﷺ ، رسول اللہ ﷺنوجوانوں کی آئیڈیل شخصیت، دی نوبل پرافٹﷺ،رسول اللہ ﷺ کا معاشی نظام، ریاست نبوی کے خدوخال۔

عہد کیجیے کہ میلاد منائیں گے، سیرت اپنائیں گے۔ ان شاء اللہ

11صفرالمظفر1447ھ

مطابق6 اگست2025ء


مشہور تابعی بزرگ ، کروڑوں لوگوں کے پیشوا ،  امام المعقول والمنقول، سراج الامۃ امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رحمۃ اللہ علیہ اس امت پر ربّ کریم کا ایک عظیم احسان ہیں ۔آپ نے اپنی حیات مستعار کو خدمتِ اسلام کے لئے وقف کردیا،قرآن وسنت پر عمل کے لئے رہنما اصول مقرر کئے اور مسائل و احکام اَخَذ کر کے امت ِمرحومہ کے لئے شریعت پر عمل آسان بنایا۔آپ کے فقہی مذہب کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اس وقت بھی دنیا میں سب سے زیادہ اسی کے پیروکار موجود ہیں ۔

فقہ حنفی کے مسائل کی تائید و توثیق کے لئے بہت سے اکابر علمائے کرام نے اپنی کُتُب میں وہ احادیثِ مبارکہ اور آثارِطیبہ یکجا کردیئے جو فقہِ حنفی کا ماخذ و مستدل ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فقہ حنفی پرعمل کرنے والے درحقیقت طریقہ نبوی اور سنتِ مصطفٰی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اتباع کرتے ہیں۔حنفی فقہائےکرام اور علمائےعظام نے اسی عنوان پردرج ذیل کُتُب لکھی ہیں:

(1) کتاب الآثار: (شاگردِ امام اعظم ،امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃُ اللہِ علیہ وفات: 189ھ)

اس کتاب میں آپ رحمۃ اللہ علیہ نے امام اعظم رحمۃُ اللہِ علیہ سے روایت کردہ احادیث و آثار ذکر فرمائی ہیں اور اس کتاب کی ترتیب میں فقہی منہج اختیار فرمایا ہے، اس کتاب کو آپ رحمۃ اللہ علیہ کی امام اعظم رحمۃُ اللہِ علیہ سے مرویات کا مجموعہ بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔

(2)موطا امام محمد: (محررِ مذہب، امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃُ اللہِ علیہ وفات:189ھ)

یہ کتاب امام مالک رحمۃُ اللہِ علیہ سے سنی گئی روایات کا مجموعہ ہے لیکن اس میں روایتوں کے بعد زیادہ تر اپنے استاذ امام اعظم رحمۃُ اللہِ علیہ کےفقہی مذہب کی بھی وضاحت فرمائی ہے ، اس کتاب کی کئی شروحات وحواشی موجود ہیں جس میں حضرت علی بن سلطان قاری حنفی رحمۃُ اللہِ علیہ (وفات:1014ھ) کی شرح ’’فتح المغطا شرح الموطا‘‘اور علامہ عبد الحی لکھنوی رحمۃُ اللہِ علیہ (وفات:1304 ھ) کا حاشیہ’’التعلیق الممجدعلی موطا الامام محمد‘‘ معروف ہیں۔1431ھ بمطابق 2010ء میں علامہ شمسُ الہدی مصباحی کی شرح ”منائح الفضل و المنن “ کےنام سے منظرِ عام پر آئی،یہ شرح اپنے طرزِ استدلال کے اعتبار سے اپنا ایک منفرد مقام رکھتی ہے ۔

(3)شرح معانی الآثار: (امام ابوجعفر احمد بن محمد طحاوی رحمۃُ اللہِ علیہ، وفات:321ھ)

یہ فقہِ حنفی میں دلائلِ مذہبِ احناف کے حوالے سے بہت عمدہ تصنیف ہے جس میں آپ رحمۃ اللہ علیہ نے احکام اور فقہی مسائل کی احادیث ذکر فرمائی ہیں اور طریقہ یہ اختیار فرمایا ہے کہ سب سے پہلے اپنے فقہی مذہب کے خلاف والوں کی مستدل احادیث ذکر فرمائیں پھر احناف کا مؤقف اور اس کی تائید میں احادیث بیان فرماکر اس کی ترجیح بھی بیان فرمادی ہے، چونکہ یہ فقہی طور پر حنفی تھے اس لئے انہوں نے اکثر احناف کے مؤقف کو ہی دلائل سے راجح قرار دیا ہے البتہ کچھ مسائل میں ان کے تفردات بھی ہیں، اس عظیم کتاب کی بہت شروحات لکھی گئیں جن میں حافظ ابو محمد علی بن زکریا منبجی حنفی رحمۃُ اللہِ علیہ (وفات: 686ھ) کی’’اللباب فی الجمع بین السنۃ والکتاب‘‘ اور امام بدر الدین محمود بن محمدعینی رحمۃُ اللہِ علیہ (وفات: 855ھ) کی دو شروحات ’’نخب الافکار‘‘ اور ’’مبانی الاخیار‘‘ بھی ہیں نیز امام اہلسنّت مولانا احمد رضا خان قادری رحمۃُ اللہِ علیہ (وفات: 1340 ھ) کی اس پر تعلیقات بھی موجود ہیں اور صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی رحمۃُ اللہِ علیہ (وفات: 1367ھ) کا شاندارمفصل حاشیہ”کشف الاستار“ اس کتاب کی شروح وحواشی میں خوبصورت اضافہ ہےنیز استاذ الاساتذہ ابن داؤدمولانا عبد الواحد عطاری مدنی دام ظلہ جو کئی درسی کتب کے محشی بھی ہیں، انہوں نے علامہ بدر الدین عینی کی ’’نخب الافکار‘‘، امام اہلسنّت مولانامحدث وصی احمد سورتی (وفات: 1334ھ)اور صدر الشریعہ کے حواشی وتعلیقات سے استفادہ کرتے ہوئے ’’مبانی الابرار‘‘ کے نام سے حاشیہ تحریر فرمایا ہے جو المدینۃ العلمیہ کے شعبہ درسی کتب کی کوششوں سے مکتبۃ المدینہ سے منظرِ عام پر آچکا ہے ۔الحمد للہ

(4)شرح مشکل الآثار: (امام ابوجعفر احمد بن محمد طحاوی رحمۃُ اللہِ علیہ ، وفات: 321ھ)

یہ کتاب اپنے اسلوب کے اعتبار سے فقہی تونہیں کہی جاسکتی لیکن امام یوسف بن موسٰی لمطی حنفی رحمۃُ اللہِ علیہ نے امام ابوالولیدباجی مالکی رحمۃُ اللہِ علیہ کی ’’مختصرشرح مشکل الآثار‘‘کی جو تلخیص کی ہے اس میں ’’شرح مشکل الآثار‘‘ کی روایتوں سے مذہبِ احناف کا اثبات کیا ہے ، یہ کتاب اس کے لئے اصل اور متن کا درجہ رکھتی ہے اس لئے اس کو بھی دلائلِ مذہبِ احناف میں شمار کیا گیاہے،امام ابوجعفر طحاوی رحمۃُ اللہِ علیہ نے ’’شرح مشکل الٓاثار‘‘میں بظاہر متعارض نظر آنے والی احادیثِ کریمہ میں تطبیق بیان فرمائی ہے اور طریقہ یہ اختیار فرمایا ہے کہ ہر باب میں جداجدا مؤقف کی تائید کرنے والی احادیث ذکر فرمائیں پھر ان کی ایسی توضیح بیان فرمائی کہ ان کا تعارض ختم ہو، ایک ہزار ( 1,000) سے زیادہ ابواب قائم کئے گئے ہیں البتہ فقہی ترتیب کا التزام نہیں کیا گیا یہی وجہ ہے کہ کتاب کے شروع میں وضو سے متعلقہ احادیث ہیں تو کتاب کے آخر میں بھی، اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ اس کتاب میں آپ کامقصد فقہی احکام کااستخراج نہیں تھا البتہ کہیں کہیں فقہی مسائل اختصار وخلاصہ کے ساتھ ملتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ اس کا شمار مذہبِ حنفی کی فقہی کتابوں میں نہیں کیا جاتا۔ ابو الولید سلیمان بن خلف باجی مالکی رحمۃُ اللہِ علیہ (وفات: 474ھ) نے ’’شرح مشکل الآثار‘‘ کی احادیث کے طرق واسانید کو حذف کیں اور ایک باب کی احادیث ایک ساتھ جمع کرتے ہوئے اسے مرتب کیا پھر امام بدر الدین عینی (وفات: 855ھ) کے استاذ اور صاحبِ غایۃ البیان علامہ اتقانی (وفات: 758ھ ) کے شاگردابو المحاسن یوسف بن موسٰی لمطی حنفی رحمۃُ اللہِ علیہ (وفات: 803ھ )نے (ابو الولید باجی وفات: 474ھ نے جو اختصار کیا تھا )اس کی تلخیص’’المعتصر من المختصر من مشکل الاثار‘‘ نامی کتاب لکھ کر کی جس میں آپ نے اختلافِ ائمہ بالخصوص مذہب احناف کو ’’شرح مشکل الآثار‘‘ میں موجود روایتوں اور دیگر دلائل کی روشنی میں نہ صرف بیان فرمایا ہے بلکہ جہاں جہاں ابوالولید باجی رحمۃُ اللہِ علیہ نے فقہی مسائل میں مذہبِ احناف پرشبہات وارد کئے تھے ان کے جوابات بھی دیئے ۔

(5)التجرید: (امام ابو الحسین احمد بن محمد جعفر بغدادی قدوری رحمۃُ اللہِ علیہ، وفات: 428ھ)

یہ کتاب فقہی مسائل میں احناف وشوافع کے اختلاف کی وضاحت میں امام قدوری رحمۃُ اللہِ علیہ کا کئی جلدوں پر مشتمل زبردست فقہی شاہکار ہے جس میں اسلوب یہ اختیار کیا گیا ہے اس کہ کسی بھی مسئلہ میں پہلے امام اعظم ، صاحبین اور دیگر فقہائے احناف کا پھر امام شافعی اور ان کے مذہب کے فقہائے کرام رحمۃُ اللہِ علیہم کامؤقف ذکر کیا گیاہے اس کے بعد احناف کے دلائل پھر شوافع کے دلائل اور ان پر شبہات اور احناف کے مؤقف ودلائل پر وارد ہونے والے شبہات کے جوابات بھی دیئے گئے ہیں ۔

(6)ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی: (امام ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغینانی رحمۃُ اللہِ علیہ، وفات: 593ھ)

یہ فقہِ حنفی کی بہت ہی معروف ومشہور کتاب ہے ، اس کی اہمیت وعظمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ’’کشف الظنون‘‘ کے مصنف حاجی خلیفہ رحمۃُ اللہِ علیہ (متوفی: 1067ھ) نے اس کی 60 سے زائد شروحات، حواشی اور تعلیقات گنوائی ہیں نیز امام اہلسنّت مولانا شاہ احمدرضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ (وفات: 1340ھ) کی ہدایہ اور اس کی شروحات پر تعلیقات جو’’التعلیقات الرضویۃ علی الہدایۃ وشروحہا‘‘کے نام سے راقمُ الحروف کی تحقیق کے ساتھ بیروت کے معروف عالمی اشاعتی ادارےدار الکتب العلمیہ سے شائع ہوئی ہے، اس میں 71شروحات وحواشی وتعلیقات وغیرہ شمار کی گئی ہیں ۔

امام مرغینانی رحمۃُ اللہِ علیہ کا اس کتاب میں اسلوب یہ ہے کہ آپ نے پہلے اپنے مختار مذہب کو ذکر فرمایا ہے پھر اختلافِ ائمہ اور ان کے دلائل پھر آخر میں اپنی دلیل کے ساتھ مخالفین کے دلائل کے جوابات دئیے ہیں، جہاں آپ نے مذہبِ احناف کی تائید میں عقلی دلائل بیان فرمائے ہیں وہیں احادیث وآثار سے بھی دلائل ذکر فرمائے ہیں لیکن بعد میں کچھ مخالفین نے ان احادیث وآثار کے ثبوت وصحت پر اعتراضات کئے تو بہت سے علمائے کرام نے ان کی تخاریج وماخذ کے ثبوت پر کتابیں لکھیں جن میں امام علی بن عثمان ماردینی رحمۃُ اللہِ علیہ (وفات: 750ھ) کی ’’التنبیہ علی احادیث الہدایۃ و الخلاصۃ‘‘، امام عبد اللہ بن یوسف زیلعی رحمۃُ اللہِ علیہ (وفات:762ھ) کی ’’نصب الرایۃ‘‘، امام محی الدین عبد القادر قرشی رحمۃُ اللہِ علیہ (وفات: 775ھ) کی ’’عنایہ‘‘ اور امام احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی رحمۃُ اللہِ علیہ (وفات: 852ھ )کی ’’الدرایۃفی تخریج احادیث الہدایۃ‘‘ شامل ہیں۔

(7)فتح القدیر: (امام کمال الدین محمد بن عبد الواحد سیواسی المعروف بابن الہمام رحمۃُ اللہِ علیہ، وفات: 861ھ)

اسے ’’ہدایہ‘‘ کی سب سے بہترین شرح قرار دیا گیاہے جس میں ہدایہ کی عبارتوں کی تشریح کے ساتھ ساتھ، اختلافِ ائمہ بالخصوص فقۂ حنفی کے مسائل کو کتاب وسنت ودیگر دلائل سے نہ صرف ثابت کیا گیاہے بلکہ جہاں احناف کی جانب سے احادیث وآثار سے دی گئی کسی دلیل پر جرح کی گئی ہے تو اس کا جواب بھی دیا گیاہےلیکن علامہ ابن ہمام رحمۃُ اللہِ علیہ کتاب الوکالۃ تک ہی لکھ پائے تھے کہ آپ کی وفات ہوگئی پھر آگے امام شمس الدین احمد قاضی زادہ رحمۃُ اللہِ علیہ (وفات: 988ھ) نے ’’نتائج الافکار‘‘ کے نام سے اس بے مثال شرح کو مکمل کیا۔ یہ کتاب دنیا کے کئی مکتبوں نے کئی جلدوں میں تحقیق شدہ شائع کی ہے۔

(8)نصب الرایۃ فی تخریج احادیث الہدایۃ: (امام عبد اللہ بن یوسف زیلعی رحمۃُ اللہِ علیہ ،متوفی: 762ھ)

یہ دراصل فقہِ حنفی کی بہت ہی مشہور کتاب’’ہدایہ‘‘کی شرح ہے جس میں ہدایہ میں مذکور احادیث وآثار کی نہ صرف تخاریج بلکہ مزید روایتوں کااضافہ،اُن کی سند، حدیث کا حکم اورجرح وتعدیل بھی بیان کی گئی ہےنیز احکام میں احناف کی مؤید روایتوں کا بھی اس طرح ذکر کیا گیا ہے کہ منصف مزاج قاری اس نتیجہ پر پہنچے کہ احناف کے مذہب میں ہرفقہی باب کے مسائل کی دلیل احادیث وآثار سے موجود ہے۔یہ کتاب پاک وہند وعرب کے بیسیوں مکتبوں نے کئی جلدوں میں شائع کی ہے ۔

(9)فتح باب العنایۃ بشرح النقایۃ:(امام علی بن سلطان قاری رحمۃُ اللہِ علیہ، وفات:1014ھ)

یہ صدر الشریعہ عبید اللہ بن مسعود رحمۃُ اللہِ علیہ (وفات: 747ھ) کی کتاب ’’نقایہ‘‘ کی شرح ہے ، علامہ علی قاری رحمۃُ اللہِ علیہ نے اس کتاب کے مقدمہ میں فرمایا ہے کہ امام طحاوی، امام ابوبکر رازی اور امام قدوری وغیرہ متقدمین احناف نے مذہبِ احناف کے قرآن وسنت سے دلائل ذکر فرمائے، بعد میں آنے والوں نے انہی پر اعتمادر واقتصار کیا توکچھ مخالفین نے مذہبِ احناف پر اعتراضات کئے تو میں نے سوچا کہ ’’نقایہ‘‘ کی ایسی شرح لکھوں جس میں مسائل کی توضیح وتشریح اوراختلافِ ائمہ کے ساتھ ساتھ مذہبِ احناف کے دلائل قرآن وسنت کی روشنی میں ذکر کروں تو میں نے یہ کتاب لکھی۔یہ کتاب پاک وہند کے ساتھ ساتھ بیروت سے 3جلدوں میں تحقیق شدہ شائع ہوچکی ہے۔

(10)فتح المنان فی اثبات مذہب النعمان: (شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی رحمۃُ اللہِ علیہ، وفات: 1052ھ)

یہ احادیث وآثار سے مذہبِ حنفی کے اثبات میں بہت لا جواب کتاب ہے جو اسی مقصد کے لئے ہی لکھی گئی ہے جیساکہ کتاب کے نام سے بھی ظاہر ہے ۔ شیخ محقق رحمۃُ اللہِ علیہ نےاس میں مذہبِ احناف کےفقہی احکام کی روایتوں کو ’’مشکوٰۃ المصابیح ‘‘کی طرز پر جمع فرمایا ہے اورساتھ ہی دیگر مذاہب (مالکی، شافعی اور حنبلی) کے مسائل کوبھی آسان اور مختصر انداز میں بیان فرمایا ہے اور احناف کے مؤقف کو احادیث و روایات کے دلائل سے ثابت فرمایا ہے۔

(11)عقود الجواہر المنیفۃ فی ادلۃ الامام ابی حنیفۃ: (علامہ مرتضیٰ زَبیدی رحمۃُ اللہِ علیہ، وفات: 1205 ھ)

مذہبِ احناف کے احادیث سے تائیدی دلائل میں لکھی گئی کتابوں میں یہ کتاب عمدہ اضافہ ہے جس میں فقہی ترتیب کے مطابق احکام کی وہ روایتیں جو امام اعظم رحمۃُ اللہِ علیہ سے مروی ہیں اور وہ لفظی یا معنوی طور پر صحاح ستہ میں بھی موجود ہیں مصنف نے انہیں جمع کرتے ہوئے اس کی اسنادی حیثیت بھی واضح فرمائی ہے اور جہاں کسی روایت پر کلام تھا اس کی تائیدات ذکر فرماکر اس کا جواب بھی دیا ہے ۔

(12)آثار السنن: (امام ابو الخیرمحمد ظہیر احسن نیموی بہاری رحمۃُ اللہِ علیہ، وفات: 1322ھ )

اس کتاب میں علامہ نیموی رحمۃُ اللہِ علیہ نے ایک ہزار 113 ( 1,113) روایتوں کو راوی کے نام اور اس کے ماخذ کے ساتھ ذکرفرمایا ہے نیز ان روایتوں پر اصولِ حدیث کی روشنی میں فنی ابحاث بھی فرمائی ہیں لیکن کتاب کی تکمیل سے پہلے ہی آپ کا وصال ہوگیا۔ آپ کے بیٹے مولاناعبد الرشیدفوقانی اپنے والد کی تصانیف کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’’انہوں نے مختلف فنون پر بہت سی کتابیں لکھیں جن میں سے ایک یہ کتاب بھی ہے،اس کا دوسرا جزء 1314ھ میں لکھا اور اس بات کی وضاحت انہوں نے اپنی کتاب ’’التعلیق‘‘ کے پہلے صفحہ پر بھی لکھی ہے لیکن وہ اسے مکمل نہ کرسکے ، تیسرے جزء کی کتابُ الزکوۃ کا کچھ حصہ مصنف کے ہاتھ کا لکھا ہوا میرے پاس ہے لیکن نامکمل ہونے کی وجہ سے اس کو شائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔‘‘اس کتاب کو کئی مکتبوں نے شائع کیا ہے، المدینۃ العلمیہ(Islamic Research Center) کے شعبہ درسی کُتُب کے رکن استاذُ العلماء مولانا احمد رضا شامی صاحب زیدعلمہ نے اس کتاب پرتحقیق وتخریج کا عمدہ کام کیا ہے جو الحمد للہ شائع بھی ہوچکا ہے ۔

(13)صحیح البہاری:(ماہرِ علم توقیت ، ملک العلماءمولانا ظفر الدین محدث بہاری رحمۃُ اللہِ علیہ، وفات: 1382ھ)

اس کا نام ’’جامع الرضوی ‘‘بھی ہے یہ ملک العلماءکا 6 جلدوں پر مشتمل عمدہ علمی کارنامہ ہے جس کی پہلی جلد میں آیاتِ قرآنیہ اور احادیثِ نبویہ سے اہلِ سنّت وجماعت کے عقائد کو ثابت کیا گیا ہے بقیہ 5 جلدوں میں فقہی ترتیب کے مطابق فقہِ حنفی کی تائید پر مشتمل احادیث ذکر کی گئی ہیں جس میں عقائد ِاہلسنّت کےساتھ ساتھ احناف کے فقہی مسائل کو بھی دلائل احادیث سے ثابت کیا گیا ہے۔ پہلی جلد 1930ء اور بقیہ 3جلدیں 1932ء -1937ء کے دوران مطبع برقی، پٹنہ سے شائع ہوئی ، مولانامفتی ابوحمزہ محمدحسان عطاری مدنی دام ظلہ نے مکمل کتاب پر تحقیق وتخریج کے کام کا بیڑا اٹھایا اور الحمد للہ اس کی ایک جلد شائع بھی ہوچکی ہے مزید از سر نو اس پر کام کیا جارہا ہے ۔

(14)زجاجۃ المصابیح: (علامہ ابو الحسنات عبد اللہ محدث حیدرآبادی رحمۃُ اللہِ علیہ، وفات: 1384ھ )

یہ امام خطیب تبریزی رحمۃُ اللہِ علیہ (وفات: 737ھ) کی مشہورِ زمانہ کتاب ’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ کی طرز پر فقہِ حنفی کے مسائل کی احادیث سے تائید اور ان کی تشریح پر مشتمل کتاب ہے جس کے بارے میں خود مصنف عبد اللہ محدث حیدرآبادی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں کہ امام خطیب تبریزی رحمۃُ اللہِ علیہ نے جب ’’مشکوۃ المصابیح‘‘ میں وہ احادیث ذکر فرمائی ہیں جو امام شافعی رحمۃُ اللہِ علیہ کے فقہی مذہب کی تائید میں ہیں تو اکثر میرے دل میں یہ خیال آتا تھا کہ میں بھی اسی طرح کی کتاب لکھوں جس میں امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃُ اللہِ علیہ کے فقہی مذہب کی تائیدی روایتوں کو ذکر کروں لیکن میری بے سر وسامانی مانع رہی اسی دوران خواب میں خاتم النبیین رحمۃ للعالمین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زیارت کی سعادت نصیب ہوئی، سلام وجوابِ سلام کے بعد آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے علم و حکمت بھرے مبارک سینے سے لگالیاجس کی برکت سے میرا شرحِ صدر ہوا اور اس کام کی جملہ مشکلات آسان ہوگئیں تو میں نے یہ کتاب لکھنے کے لئے کمر باندھی اور بحمد اللہ اس کتاب میں ہر حدیث لکھتے وقت نبیِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر درودِ پاک پڑھنے کا التزام کیا اور اس کتاب کا نام ’’زجاجۃ المصابیح‘‘ رکھا۔کتاب کا اسلوب یہ ہےکہ اس میں احکام ومسائل سے متعلق احناف کے مستدلات جمع کئے گئے ہیں البتہ جس طرح ’’مشکوٰۃ‘‘ میں ہر باب کےتحت فصلیں قائم ہیں اس میں ایسا نہیں ہے بلکہ ہر باب کی ایک ہی فصل ہےاور اس کی ابتدا میں متعلقہ آیات واحادیث پھر ان سے مستنبط احکام، اختلافِ ائمہ،دلائلِ حنفیہ، ان کی وجوہ ترجیح اور دیگر احادیث و آثار سے ان کی تائید بیان کی گئی ہے،احادیث میں پہلےوہ احادیث جو ترجمۃ الباب سے مطابقت رکھتی ہیں وہ لائی گئی ہیں پھرضمنی اور التزامی دلائل ذکر کئے گئے ہیں، یہ کتاب پاک وہندسےمترجم شائع ہوئی ہے لیکن حال ہی میں ترکی کے ایک مکتبہ ’’دار السمان‘‘ نے اسے 5 جلدوں میں تحقیق وتخریج کے ساتھ اور عمدہ طباعت کے ساتھ شائع کیا ہے۔

اب اصل موضوع کی طرف آتے ہوئے ’’فتح المنان‘‘کا اسلوب اور اس پر المدینۃ العلمیہ(Islamic Research Center) کی طرف سے کئے گئے کام کاتعارفی جائزہ پیش کرتے ہیں :

اسلوب:

۞حضرت مصنف شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی رحمۃُ اللہِ علیہ نے فقہی کتابوں کی طرح کتاب اور ابواب بندی کا قیام نیزابواب اور فصول میں باب الجنائز کے آخر تک’’مشکاۃ المصابیح‘‘ کی طرز کو اپنایا ہے۔

۞ باب الجنائز کے آخر تک ان کا یہ اسلوب ہے کہ پہلے احادیثِ مبارکہ ذکر فرماتے ہیں پھر اس فصل کے آخر میں اس مسئلہ میں فقہائے کرام کے اختلاف کو ذکرکردیتے ہیں۔

۞ مذاہبِ اربعہ (حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی) کا آسان انداز میں انہی کی فقہی کتابوں سے دلائل کے ساتھ بیان۔

۞ مذہبِ حنفی کا بیان اور اس کی تائید میں احادیث ِ کریمہ پیش کرتے ہیں۔

۞ احادیثِ کریمہ نقل کرنے کے دوران جہاں لفظ ’’اَخْرَجَ‘‘ استعمال فرمایا ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ یہ روایت ’’جامع الاصول‘‘ سے لی گئی ہے ۔

۞ جہاں لفظ ’’رَوَی‘‘ استعمال کیا ہے اس سے مراد ہے کہ یہ روایت ’’کنز العمال‘‘ سے لی گئی ہے۔

احادیث میں ماخذ کتب:

”فتح المنان“ میں جن کتابوں سے احادیثِ مبارکہ لی گئی ہیں ان میں سے چند کے نام یہ ہیں:

(1)موطا امام محمد: امام محمد بن حسن شیبانی (وفات: 189ھ)، (2)سنن الدارمی: امام عبد اللہ بن عبد الرحمٰن دارمی (وفات:255ھ)، (3)جامع الاصول: ابو سادات مبارک بن محمد ابن اثیرجزری (وفات:606ھ)، (4) مشکاۃ المصابیح:امام محمد بن عبد اللہ خطیب تبریزی (وفات:741ھ)، (5) کنز العمال: امام علی متقی ہندی (وفات: 975ھ(۔

فقہ میں ماخذ کتب:

فقہ حنفی : فتح القدیر: امام کمال الدین ابن ہمام حنفی (وفات: 861ھ(۔

فقہ شافعی : شرح الحاوی الصغیر: ابو الحسن علی بن اسماعیل قونوی (وفات: ۷۲۹ھ(۔

فقہ مالکی : رسالۃ ابن ابی زید : ابو محمد عبد اللہ بن زید قیروانی (وفات: 386ھ(۔

فقہ حنبلی : کتاب الخرقی: ابو القاسم عمر بن حسین خرقی (وفات: 334ھ(۔

اس کے علاوہ شیخ محقق رحمۃُ اللہِ علیہ نے چاروں مذاہب کی مختلف کتب سے بھی حوالے دئیے ہیں۔

اس پر کام کرنے کی وجہ:

یہ کتاب لاہور اورملتان سے شائع ہوئی تھی لیکن تصحیح وتحقیق سے خالی تھی، کتاب کی عظمت اس پرمزید کام کی متقاضی تھی لہٰذا اس پر تصحیح،تخریج وتحقیق کاکام شروع کیا گیا، اس سلسلے میں دومخطوطوں کو سامنے رکھ کر کام شروع کیا گیا جن میں سے ایک سندھ کانسخہ تھا اور ایک ہند کا، سندھ والےمخطوطے کو معیار بناتے ہوئے نسخۂ ام بنایا گیا ہے۔

المدینۃ العلمیہ کی طرف سے کئے جانے والے کام:

جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ (دعوتِ اسلامی) کے تخصص فی الحدیث کے طلبائے کرام سے ان کے اساتذۂ کرام مولانا مفتی محمد حسان رضاعطاری مدنی اور مولانا احمد رضا شامی دام ظلہما نے اس پر کام شروع کروایا اور گاہے گاہے ان کی سرپرستی ورہنمائی بھی فرماتے رہےپھر یہ کام المدینۃ العلمیہ(Islamic Research Center) منتقل ہوا اور قبلہ مفتی حسان عطاری مدنی زیدعلمہ کی سرپرستی میں راقمُ الحروف کی زیرِنگرانی یہ عظیم کام مکمل ہوکر 2جلدوں میں منظرِ عام پر آچکا ہے ۔

اس کتاب پر تحقیق وتخریج وغیرہ کے حوالے سے جو کام کئے گئے ان کی کچھ تفصیل حسب ِذیل ہے:

(1)تقدیم ومقدمہ: کتاب پر کئے جانے والے کاموں کی تفصیل، مخطوطات کے عکس، شیخِ محقق رحمۃُ اللہِ علیہ کے حالات اور کتاب میں استعمال ہونے والی اصطلاحات ورموز کا قیام ۔

(2)تشکیل اوراوقاف ورموز:جدید عربی رسمُ الخط کے التزام کے ساتھ ساتھ اوقاف و رموز کا اہتمام اور مشکل الفاظ پر اعراب ۔

(3)تخریج:قرآنی آیات، احادیث کریمہ اور عبارتوں کی تخریج نیز غیر مطبوعہ اور مخطوطات کی شکل میں موجود کُتُب سے بھی تخاریج کا اہتمام۔

(4)دراسۃ الاسانید: روایتوں اورراویوں کے اعتبار سے احادیث کی تحقیق۔

(5)تراجم:جہاں شیخ محقق رحمۃُ اللہِ علیہ نے کسی شخصیت یا کتاب کا نام ذکر کیا ہے وہاں ان کا مختصر تعارف ،اسی طرح کتاب کے مصنف کا نام اور موضوع وغیرہ کابیان ۔

(6)تقابل :پوری کتاب کا سندھی اور ہندی مخطوط کے نسخوں سے تقابل وتصحیح اور ضروری مقامات پر حاشیہ میں اختلافِ نسخ کی وضاحت۔

(7)پروف ریڈنگ:لفظی غلطی کا امکان کم کرنے کے لئے پوری کتاب کی ایک سے زیادہ مرتبہ پروف ریڈنگ۔

(8)فہارس: آیات واحادیث،تراجم اعلام وکتب ، موضوعات ، اشاریات کی فہرستوں نیز مصادر التحقیق کا قیام۔

یہ تمام اور دیگر ضمنی کام مکمل کرکے حسنِ صوری ومعنوی کے ساتھ اس کتاب کو عرب دنیا سے شائع کروانے کا ارادہ ہے، دعاگو ہیں کہ اللہ کریم اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے طفیل اس کام کو بخیر وخوبی پایۂ تکمیل تک پہنچائے ،قبلہ مفتی حسان عطاری مدنی اور کتاب پرکام کرنے والے افراد مولانا اکرم عطاری مدنی، مولانا عاصم عطاری مدنی ، مولانا منصور عطاری اور مولانا احمد رضاعمر عطاری مدنی کے علم وعمل میں برکتیں عطافرمائے ، دعوتِ اسلامی اور المدینۃ العلمیہ(Islamic Research Center) کو مزید ترقی وعروج عطافرمائے اور ہمیں اخلاص کے ساتھ دینِ اسلام ومسلکِ اہلسنّت کی خوب خدمت کرنے کی توفیق بخشے۔ اٰمین بجاہ محمد خاتم النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

کاشف سلیم عطاری مدنی

المدینۃ العلمیۃ (اسلامک ریسرچ سینٹر)


سنیت کی پہنچان کے اصول

Fri, 1 Aug , 2025
312 days ago

پس منظر

ہند کے صوبے راجستھان کے علاقے مارواڑ سے حافظ محمد عثمان رحمۃ اللہ علیہ جو اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے عقیدت مند بھی تھے انہوں نے امامِ اہلسنت کو خط لکھا کہ ہمارے علاقے سانبھر میں مولانا احمد علی شاہ حنفی نقشبندی اویسی تشریف لائے ہیں آپ کی کتابوں کے ساتھ ساتھ مولانا احمد علی شاہ صاحب کے بیانات کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنے غلط عقیدے اور نظرئیے سے توبہ کرکے صحیح العقیدہ سنی ہوچکے ہیں، آپ اپنے ہر بیان میں صلح کلی والوں (ندوہ والوں) کا ایسا رد کرتے ہیں کہ یہاں کے وہ لوگ جو انہیں صحیح سمجھتے تھے اور ان کے عقیدت مند تھے اب توبہ کرکے ان سے کنارہ کشی اختیار کرچکے ہیں، آج کل ان صلح کلی والوں کا ایک مولوی یہاں آیا ہوا ہے اور کہتا ہے کہ مولوی احمد علی شاہ صاحب تو خود بد عقیدہ اور جاہل ہیں اور اس کے کہنے سے کچھ لوگ بہک کر اس کے ساتھ بھی ہوگئے ہیں ان کو سمجھایا تو کہتے ہیں کہ اگر مولانا احمد رضا خان صاحب ، مولانا احمد علی شاہ صاحب کے عقائد ونظریات کو درست قرار دے دیں گے تو ہم اپنے نظریات سے توبہ کرکے ان کی بات سنیں گے، لہٰذا آپ کی بارگاہ میں عرض ہے کہ آپ ارشاد فرمائیں کہ مولانا احمد علی شاہ صاحب آپ کے نظرئیے کے مطابق کیسے ہیں، آپ کے جواب سے امت کو بہت فائدہ ہوگا۔ والسلام

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے یہ جواب ارشاد فرمایا: معزز حافظ محمد عثمان صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ:آپ کا خط تشریف لایا، یاد کرنے کا شکریہ۔ ایک دفعہ مولانا احمد علی شاہ صاحب گھر پر تشریف لائے تھے یہ ان سے پہلی ملاقات تھی پھر عظیم آباد ، پٹنہ، بہار کے جلسے میں ملاقات ہوئی لیکن دونو ں ملاقاتوں میں صرف سلام ومصافحہ ہوا کسی موضوع پر کوئی بات نہیں ہوئی، کسی انسان کے بارے میں گواہی دینا ایک اہم اور نازک معاملہ ہے، میں مولانا احمد علی شاہ صاحب کے بارے میں کوئی بدگمانی نہیں کررہا بس یہ چاہتا ہوں کہ ان کے جو فضائل آپ کے خط کے ذریعے مختصراًسنے ہیں انہیں تفصیل سے جان لوں ، مولانا صاحب کی حق پسندی سے امید ہے کہ وہ ناراض ہونے کے بجائے خوش ہونگے کیونکہ صرف غیر مقلدین اور ندوہ والوں کا فتنہ ہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ سینکڑوں فتنے ہندوستان میں موجود ہیں ، میں بیس (20) چیزیں لکھتا ہوں جن پر مولانا صاحب اپنی تصدیق فرماکر بھیج دیں۔

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

سنیت کی پہنچان کے اصول

(۱) سید احمد خاں علی گڑھ اور اس کے پیروکارسب کفار ہیں۔

(۲) جو رافضی قرآنِ پاک کو نا مکمل کہے یا مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم یا ان کے علاوہ کسی غیر نبی کو، نبی سےافضل مانے،وہ کافر و مرتد ہے ۔

(۳) رافضی تبرائی فقہائے کرام کے نزدیک کافر ہے اور اس کے گمراہ بدعتی اور جہنمی ہونے پر علمائے کرام کا اتفاق ہے۔

(۴) جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو اللہ پاک کے قرب کے حوالے سے حضرت سیّدنا صديق اكبر اور عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما سے زیادہ فضیلت والا سمجھے، وہ گمراہ اور سنت کی خلاف ورزی كرنے والا ہے۔

(۵) جنگِ جمل و صفین میں امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم حق پرتھے مگر ان کے سامنے آنے والے صحابۂ کرام علیہم الرضوان کی خطا، اجتہادی تھی جس کی وجہ سے ان کے بارے میں برے جملے کہنا سخت حرام ہے اور ان کی شان میں گستاخی کرنا بلا شبہ رافضیت ہےاور ایسا کرنے والااہلسنت سے خارج ہے۔ جو شخص کسی صحابی کی شان میں (معاذ اللہ ) برے جملے کہے یا انہیں بُرا سمجھے یا ان میں سے کسی سے بغض رکھے وہ پکاّ رافضی ہے۔

(۶) صدیوں سے مجتہد مطلق کے درجہ کو کوئی نہ پہنچا اور اس درجہ کو پہنچے بغیر تقلید كرنا فرض ہے،لہذا غیر مقلدین گمراہ اور بددین ہیں۔

(۷) صدیوں سے اہلسنّت چارگروہ :حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی میں ہی ہیں جو ان سے خارج ہے وه بدعتی، جہنمی ہے۔

(۸) وہابیوں کا پہلا استاد ابنِ عبدالوہاب نجدی اور دوسرا اسماعیل دہلوی تقویۃ الایمان كا مصنف ہیں اور دونوں سخت گمراہ بددین تھے۔

(۹) اسماعیل دہلوی کی کتاب ”تقویۃ الایمان“، ”صراطِ مستقیم“، ”رسالہ یکروزی“ اور ”تنویر العینین“ کھلی گمراہیوں اور کفریہ باتوں پر مشتمل ہیں۔

(۱۰ )مولوی اسحٰق دہلوی کی کتاب مائۃ مسائل غلط و مردود مسائل، اہل سنّت اور جمہور كی مخالفت سے بھرپورہے۔

(۱۱) انبیائے کرام اور اولیائے کرام سے مدد مانگنا ، انہیں حاجت کے وقت مدد کے لئے پکارنا یعنی یارسول اﷲ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، یا علی کرم اللہ وجہہ الکریم، یا شیخ عبدالقادر الجیلانی رحمۃ اللہ علیہ کہنا اور انہیں اللہ پاک کے فیوض وبرکات جاری ہونے کا ذریعہ سمجھنا بلا شبہ درست اور جائز ہے۔

(۱۲) دنیا کی ظاہری زندگی میں اور اس کے بعدبھی انبیائے کرام علیہم السلام اور اولیائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ اللہ پاک کی عطا سے تصرف کرتے ہیں اور قیامت تک ان کا یہ فیضان جاری رہے گا۔

(۱۳) مُردوں کا سننا حق ہے ، عام مُردے زندوں کو دیکھتے ہیں، ان كی باتيں سُنتے اور سمجھتے ہیں پھر اولیائے کرام کی شان توبہت بلند ہے۔

(۱۴) پہلے دن سے قیامت تک جو کچھ ہوا یا ہوگا اﷲ پاک نے ایک ایک ذرّے کا حال اپنے آخری نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو بتادیا، لہٰذا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا علم ان تمام غیب کی باتوں کو شامل ہے۔

(۱۵) اسماعیل دہلوی کے رسالہ ”یکروزی“ اور گنگوہی کی کتاب ”براہین قاطعہ“ میں اللہ سبحانہ وتعالی کے جھوٹ بولنے کو جو ممکن مانا گیا ہے، یہ کھلی گمراہی ہے۔ پوری امت کا اس پر اجماع واتفاق ہے کہ اﷲ تعالیٰ کا جھوٹا ہونا“ یقیناً محال بالذات یعنی کسی بھی صورت ممکن ہی نہیں ہے۔ مسئلہ ”خلفِ وعید“ کولےکر جو اللہ سبحانہ وتعالی کے جھوٹ بولنے کو ممکن بتایا جاتا ہے حالانکہ حقیقت میں ان دونوں کاان کے اس ناپاک خیال سے کوئی تعلق ہی نہیں۔

(۱۶) شیطان کے علم کو (معاذ اﷲ) رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علم سے بڑھ کر سمجھنا جیسا کہ گنگوہی کی کتاب”براہین قاطعہ“ میں ہے، یہ کھلی گمراہی اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی واضح توہین ہے۔

(۱۷) میلاد شریف کی محفل میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کی خوشی میں تعظیماً کھڑا ہونا جس طرح صدیوں سے حرمین شریفین میں رائج ہے، جائز ہے۔

(۱۸) شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے گیارھویں شریف کی نیاز کرنا، اولیائے کرام کا عرس منانا اورمُردوں کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کرنا نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے۔

(۱۹) شریعت اور طریقت دونوں الگ الگ نہیں ہیں، شریعت کی پیروی کے بغیر اﷲ تعالیٰ تک رسائی ناممکن ہے، کوئی کتنے ہی بلند مرتبہ تک پہنچ جائے، جب تک عقل باقی ہے اللہ تعالیٰ کے احکامات اس پر سے معاف نہیں ہوسکتے، بناوٹی صوفی شریعت کی مخالفت کو اپناکمال سمجھتے ہیں سب گمراہ شیطان کے کھلونے ہیں، ”وحدتِ وجود“ کا نظریہ حق ہے جبکہ ”حلول“ اور ”اتحاد“ کا نظریہ جوآج کل کے بعض بناوٹی صوفی بکتے ہیں یہ واضح کفر ہے ۔

(۲۰) ندوہ گمراہیوں اور بدعتوں کا گڑھ ہے، گمراہوں سے میل جول حرام ہے، ان کی تعظیم کرنا اللہ عزوجل کے غضب کو دعوت دینا ہے اور ندوہ کے فتنے کا دفاع کرنا اللہ پاک کی لعنت کی طرف بلانا ہے، انہیں کسی دینی مجلس کارکن بنانا دین کو نقصان پہنچانا اور گراناہے۔ ندوہ کے لیکچروں میں وہ باتیں بھری ہیں جن سے اﷲ عزوجل اور رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بیزار اور بَری ہیں، اﷲ تعالیٰ تمام بدمذہبوں اور گمراہوں سے بچائے اور حقیقی سنّت پر ثابت قدم رکھے۔

پھر امام اہلسنّت رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تصدیق ومہر لگاتے ہوئے لکھا کہ آج کل بہت سے لوگ سنی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور عوام بیچارے دھوکے میں پڑتے ہیں،بعض وقتی مصلحت کے پیش نظر زبان سے کہتے کچھ ہیں لیکن پھر موقع ملتے ہی مکر جاتے ہیں، کسی کی سنی ہونے کی جانچ پڑتالی کے لئے یہ بیس پوائنٹس کافی ہیں اگر واقعی سنی ہوگا تو بغیر کسی شک وشبہ کے انہیں درست سمجھے گا اور قبول کرے گا ورنہ خود ہی گمراہی میں پڑے گا۔

تلخیص وتسہیل: مولانا محمد کاشف سلیم عطاری مدنی

تاریخ: 17.06.2025