کتبِ احادیث اور سیرتِ طیبہ میں سائلین و سامعین کی حوصلہ افزائی کی کثیر نظیریں ملتی ہیں اور اگر اس کا تتبع کیا جائے تو پوری کتاب تیار ہوسکتی ہے البتہ اس مضمون کے اعتبار سے  ایک آخری روایت پیش کی جاتی ہے چنانچہ مصر کےا یک شخص کا کہنا ہے کہ میں نے حضرت سیّدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سورۂ یونس کی آیت نمبر64 :” لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ترجمہ کنزالایمان:انہیں خوشخبری ہے دنیا کی زندگی “کے بارے پوچھا تو انہوں نے فرمایا:

مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ غَيْرُكَ إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

میں نے جب سے رسولِ کریم ﷺ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا ہے تمہارے علاوہ صرف ایک آدمی نے مجھ سے اس کے بارے میں سوال کیا ہے۔

پھر فرمایا(کہ جب میں نے رسولِ کریم ﷺ کی بارگاہ میں اسی آیت کے بارے میں پوچھا تو) رسولِ کریم ﷺ نے مجھے فرمایا تھا:

مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ غَيْرُكَ مُنْذُ أُنْزِلَتْ

جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے تمہارے سوا کسی نے اس کے متعلق سوال نہیں کیا۔

پھر آیت مبارکہ کے متعلق فرمایا:اس سے مراد نیک اور اچھے خواب ہیں جو مسلمان دیکھتا ہے یا اسے دکھایا جاتاہے۔

(سنن ترمذی، کتاب الرؤیا، جلد4، صفحہ121، حدیث:2280)

اسی طرح صرف صحابہ ہی نہیں بلکہ صحابیات میں سے بھی جب کوئی صحابیہ سوال کرتیں تو آپ ﷺ کئی مواقع پر ان کی حوصلہ افزائی فرماتے اور ان کی فہم و فراست کی تعریف بھی فرماتے جیسا کہ گزشتہ مضمون میں شعب الایمان کے حوالے سے حضرت اسماء بنت یزید کا واقعہ گزرا کہ آپ نے رسولِ کریم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی:’’یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں آپ کے پاس خواتین کی ترجمان بن کر آئی ہوں، جہاں تک میری بات ہے یارسول اللہ! میری جان آپ پر قربان، البتہ مشرق ومغرب کی ہر عورت جو میرے آپ کے پاس حاضر ہونے کا سبب جانتی ہے یا نہیں مگر اس کا بھی وہی سوال ہے جو میں پوچھنے آئی ہوں۔۔۔۔۔ رسولِ کریم ﷺ ان کا مکمل سوال سن کر صحابہ کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ ’’کیا تم نے کبھی کسی عورت کو اس سے زیادہ اچھے طریقے سے اپنے دین کے متعلق سوال کرتے ہوئے سنا ہے؟’’ صحابہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارا تو گمان بھی نہیں کہ کوئی عورت اس جیسا سوال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوگی۔ پھر نبی کریم ﷺ حضرت اسماء کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ’’جاؤ اور اپنے پیچھے سب عورتوں کو بتادو کہ عورت کا اپنے شوہر کی اچھی بیوی بن کر رہنا اور اس کی خوشنودی چاہنا اور اس کے ساتھ ہم آہنگ رہنا ان سب اعمال میں اس کے ساتھ اجر وثواب میں برابری کا ذریعہ ہے۔ حضرت اسماء یہ سن کر خوشی سے نعرہ تکبیر بلند کرتی اور کلمہ طیبہ کی صدا لگاتی ہوئی وہاں سے لوٹیں۔

(الجامع لشعب الایمان، الشعب ستون، حقوق الاولاد والاھلین، جلد11، صفحہ177، حدیث:8369)

ہمارے ہاں معاشرے میں ایک عجیب رویہ پایا جاتا ہے، بچہ کسی وجہ سے بچپن میں نہ پڑھ سکا تو اب اگر 10سال کا ہوگیا تو اسے پہلی دوسری کلاس میں داخلہ دلوانا معیوب سمجھا جاتاہے، کچھ داڑھی مونچھ کے بال نکل آئیں اور ابھی قرآن پاک نہ پڑھا ہو تو قرآن سیکھنے میں شرم و عار محسوس کی جاتی ہے، تھوڑا جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ دیں تو کہیں طہارت، نماز اور دیگر عمومی فرض علوم سیکھنے میں بےتُکی شرم آڑے آجاتی ہے، حالانکہ علم دین حاصل کرنے کا تو جس عمر میں بھی موقع ملے ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ رسولِ کریم، معلمِ کائنات، شاہ ِ موجودات ﷺ کا طالبِ علم کے ساتھ انداز بہت کریمانہ تھا، ایک بڑی عمر کے صحابی حضرت سیّدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے پوچھا:” يَا قَبِيصَةُ مَا جَاءَ بِكَ قبیصہ کیسے آنا ہوا ؟“ میں نے عرض کی: كَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي فَأَتَيْتُكَ لِتُعَلِّمَنِي مَا يَنْفَعُنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور میری ہڈیاں کمزور ہوچکی ہیں میں آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ آپ مجھے کوئی ایسی بات سکھا دیجئے جس سے اللہ مجھے نفع پہنچائے، نبی مکرم ﷺ نے (حضرت قبیصہ کے جذبہ طلب علم اور سوال پربہت حوصلہ افزائی کرتے ہوئے) فرمایا:” يَا قَبِيصَةُ مَا مَرَرْتَ بِحَجَرٍ وَلَا شَجَرٍ وَلَا مَدَرٍ إِلَّا اسْتَغْفَرَ لَكَ اے قبیصہ! تم جس پتھر یا درخت یا مٹی پر سے گزر کر آئے ہو ان سب نے تمہارے لیے استغفار کیا ہے۔“

قارئین کرام! غور تو کیجئے کہ کیسے شفیق و مہربان اور عظیم و اعظم معلم و مربی ہیں کہ بوڑھے شخص کے جذبہ حصول علم کی بھی کتنی قدر و حوصلہ افزائی فرماتے ہیں۔

مزید ارشاد فرمایا: اے قبیصہ! جب تم فجر کی نماز پڑھا کرو تو تین مرتبہ سبحان اللہ العظیم وبحمدہ کہہ لیا کرو،تم نابینا پن اور جذام اور فالج کی بیماریوں سے محفوظ رہوگے اور قبیصہ یہ دعا کیا کرو: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِمَّا عِنْدَكَ وَأَفِضْ عَلَيَّ مِنْ فَضْلِكَ وَانْشُرْ عَلَيَّ رَحْمَتَكَ وَأَنْزِلْ عَلَيَّ مِنْ بَرَكَاتِكَ اے اللہ میں تجھ سے اس چیز کا سوال کرتا ہوں جو تیرے پاس ہے مجھ پر اپنے فضل کا فیضان فرما مجھ پر اپنی رحمت کو وسیع فرما اور مجھ پر اپنی برکتیں نازل فرما۔ (مسند احمد بن حنبل، مسند البصریین، حدیث قبیصۃ بن مخارق، جلد34، صفحہ207، الرسالۃ بیروت)

الحمد للہ!رسولِ مہربان، کائناتِ الٰہیہ کے سلطان جناب محمد مصطفےٰ ﷺ کے فیضان سے عاشقانِ رسول کی انٹرنیشل دینی تحریک ”دعوتِ اسلامی“ جہاں دینی خدمت کے دیگر بیسیوں شعبہ جات میں مصرو ف عمل ہے وہیں ایک بہت ہی اہم شعبہ ”مدرسۃ المدینہ برائے بالغان“ بھی ہے۔ اس شعبہ کے تحت دنیا بھر میں جہاں جہاں دعوتِ اسلامی کا نیٹ ورک ہے وہاں وہاں بڑی عمر کے مسلمان مرد وخواتین کو طہارت، نماز، قاعدہ، ناظرہ قراٰن پاک اور دیگر چند ضروری مسائل سکھانے کا اہتمام ہوتاہے۔ اللہ کریم کے فضل و کرم سے تادمِ تحریر ملک و بیرونِ ملک میں 34ہزار441 مدرسۃ المدینہ بالغان کا سلسلہ جاری ہے جن میں1لاکھ96ہزار935 سے زائد مردو خواتین مفت قراٰن پاک اور دیگر فرض علوم کی تعلیم حاصل کرنے میں مصروف ہیں،

اس کے علاوہ الحمد للہ کئی طرح کے شارٹ کورسز، اجتماعات، مدنی حلقوں اور مساجد میں درس و بیان کے ذریعے بھی بہت بڑی تعداد میں بڑی عمر کے مسلمان مرد و خواتین کی اصلاح و تربیت کا سلسلہ جاری ہے۔

(بقیہ آنے والی قسط میں )


استاد کا مقام ومرتبہ

Tue, 6 Apr , 2021
7 days ago

عالم دین اور استاد نائب رسول ہے،اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّ الَّذِیۡنَ یُنَادُوۡنَکَ مِنۡ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْقِلُوۡنَ ﴿۴﴾ وَلَوْ اَنَّہُمْ صَبَرُوۡا حَتّٰی تَخْرُجَ اِلَیۡہِمْ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمْ ؕ وَ اللہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۵(پ26،الحجرات:4۔5)ترجمہ کنز الایمان: بے شک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم آپ ان کے پاس تشریف لاتے تو یہ اُن کے لئے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

علامہ نظام الدین علیہ الرحمہ نقل فرماتے ہیں :استاد کی تعظیم یہ ہے کہ وہ اندر ہو اور یہ حاضر ہو تو اس کے دروازہ پر ہاتھ نہ مارے بلکہ اس کے باہر آنے کا انتظار کرے ۔(فتاوی عالمگیری،5/378)کیونکہ عالمِ دین ہر مسلمان کے حق میں عام طور پراور استادِ علم دین اپنے شاگرد کے حق میں خاص طور پر نائبِ حضور پُر نور سیّد عالم ہے۔(الحقوق لطرح العقوق،ص78)

استاد آقا اور شاگرد غلام ہے،حضور نبی رحمتفرماتے ہیں: جس نے کسی آدمی کوقرآن مجید کی ایک آیت سیکھائی وہ اس کا آقا ہے۔(معجم کبیر،8/112،حدیث:7528)امیر المؤمنین حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:جس نے مجھے ایک حرف سکھایا اس نے مجھے اپنا غلام بنا لیا چاہے تو مجھے بیچ دے اور چاہے تو آزاد کردے۔(المقاصد الحسنہ،ص483)حضرت امام شعبہ بن حجاج رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:جس سے میں نے چار یا پانچ حدیثیں لکھیں میں اس کا تاحیات غلام ہوں۔بلکہ فرمایا:جس سے میں نے ایک حدیث لکھی میں اس کا عمر بھر غلام رہا ہوں۔(المقاصد الحسنہ،ص483)

استاد کے سامنے ہمیشہ عاجزی کی جائے اور خود کوکبھی بھی استاد سے افضل نہ سمجھاجائے ۔حضور نبی اکرم فرماتے ہیں:علم سیکھو اور علم کے لئے ادب واحترام سیکھو،جس استاد نے تمہیں علم سکھایاہےاس کے سامنے عاجزی اور انکساری اختیار کرو۔(معجم اوسط، 4/342، حدیث:6184) اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :عقلمند اور سعادت مند اگر استاد سے بڑھ بھی جائیں تو اسے استاد کا فیض اور اس کی برکت سمجھتے ہیں اور پہلے سے بھی زیادہ استاد کے پاؤں کی مٹی پر سر ملتے ہیں جبکہ بے عقل اور شریر اور ناسمجھ جب طاقت وتوانائی حاصل کرلیتے ہیں تو بوڑھے باپ پر ہی زور آزمائی کرتے ہیں اور اس کے حکم کی خلاف ورزی اختیار کرتے ہیں، جب خود بوڑھے ہوں گے تو اپنے کئے کی جزا اپنے ہاتھ سے چکھیں گےصحیح بخاری ،جلد3،ص163 پر ہے:کَمَا تُدِیْنُ تُدَان یعنی جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔(الحقوق لطرح العقوق،ص90)

استاد کا حق ماں باپ سے بھی زیادہ ہے،علماء کرام فرماتے ہیں کہ استاد کے حق کو والدین کے حق پر مقدم رکھنا چاہئے کیونکہ والدین کے ذریعے بدن کی زندگی ہے اور استاد روح کی زندگی کا سبب ہے ۔کتاب ”عین العلم“ میں ہے:والدین کے ساتھ نیکی کرنی چاہئے کیونکہ ان کی نافرمانی بہت بڑا گناہ ہے اور استاد کے حق کو والدین کے حق پر مقدم رکھناچاہئے کیونکہ وہ روح کی زندگی کا ذریعہ ہے جبکہ علامہ مناویرحمۃ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں :جو شخص لوگوں کو علم سکھائے وہ بہترین باپ ہے کیونکہ وہ بدن کا نہیں روح کا باپ ہے۔(تیسیرشرح جامع الصغیر2/454)

استاد کے تمام حقوق اد کیے جائیں،استاد کے حقوق کا انکار کرناتمام مسلمانوں بلکہ سارے عقل والوں کے اتفاق کے خلاف ہے ،یاد رہے کہ عالم کا حق جاہل پر اور استاد کا حق شاگرد پر یکساں ہے،فتاوی عالمگیری میں چند حقوق یہ بیان ہوئے ہیں : شاگر استاد سے پہلے بات نہ کرے ، اس کے بیٹھنے کی جگہ اس کی غیر موجودگی میں بھی نہ بیٹھے اور چلنے میں اس سے آگے نہ بڑھے، اپنے مال میں کسی چیزسے اس کے ساتھ بخل نہ کرے( یعنی جوکچھ اسے درکار ہو بخوشی حاضر کرے اور اس کے قبول کر لینے میں اس کا احسان اور اپنی سعادت جانے۔)استاد کے حق کو اپنے ماں باپ اور تمام مسلمانوں کے حق سے مقدم رکھے اور جس نے اسے اچھا علم سکھایا اگرچہ ایک حرف ہی پڑھایا ہو اس کے لئے عاجزی وانکساری کرے اور لائق نہیں کہ کسی وقت اس کی مدد سے باز رہے، اپنے استاد پر کسی کو ترجیح نہ دے لہذا اگرکسی کو ترجیح دے گا تو اس نے اسلام کی رسیوں سے ایک رسّی کھول دی اوراستاذ کی تعظیم یہ ہے کہ وہ اندر ہو اور یہ حاضر ہو تو اس کے دروازہ پر ہاتھ نہ مارے بلکہ اس کے باہر آنے کا انتظار کرے ۔(فتاوی عالمگیری،5/373تا379)

استاد کی بات ہمیشہ مانی جائے،کبھی استاد کی بات کو رَد نہ کرے ،وہ اگر کسی جائز بات کا حکم دے تواپنی طاقت وحیثیت کے مطابق اُس پر عمل کرنے کو اپنی سعادت سمجھے ۔اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جس نے استاد کی نافرمانی کی اُس نے اسلام کی گرہوں سے ایک گرہ کھول دی، علماء فرماتے ہیں :جس سے اس کے استاد کو کسی طرح کی ایذا پہنچے وہ علم کی برکت سے محروم رہے گااور اگر استاد کا حکم کسی شرعی واجب کے متعلق ہو تو اب اس کا لازم ہونا اور زیادہ ہوگیا،استاد کے ایسے حکم میں اُس کی نافرمانی تو واضح طور پر جہنم کا راستہ ہے (نعوذباللہ من ذالک)۔ہاں! اگر استاد کسی خلافِ شرع بات کا حکم دے تو شاگردوہ بات ہرگز نہ مانے کیونکہ حدیث پاک میں ہے :اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ۔(مسند احمد،7/363،حدیث:20678) مگر اس نہ ماننے پر بھی گستاخی وبے ادبی سے پیش نہ آئے بلکہ بکمال عاجزی سے معذرت کرے اوراُس پر عمل کرنے سے بچے۔(الحقوق لطرح العقوق،ص79ماخوذا)

شاگر ہمیشہ استادکا شکر گزار رہے،کیونکہ استاد کی ناشکری خوفناک بلا اور تباہ کن بیماری ہے اور علم کی برکتوں کو ختم کرنیوالی ۔حضور نبی کریمنے فرمایا ہے:وہ آدمی اللہ تعالیٰ کا شکر بجا نہیں لا تا جو لو گوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا (ابو داؤد، 4/335،حدیث:4811)۔پھر یہ کہ شاگر کبھی استاد کا مقابلہ نہ کرے کہ یہ تو ناشکری سے بھی بڑھ کر ہے کیونکہ ناشکری تو یہ ہے کہ شکر نہ کیا جائے اور مقابلے کی صورت میں بجائے شکر کے اس کی مخالفت بھی ہے اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہے ”جس نے احسان کے بدلے برائی کی اس نے تو ناشکری سے بھی بڑا گناہ کیا“

محمد آصف اقبال

16فروری 2019ء


54قراٰنی دُعائیں

Tue, 6 Apr , 2021
7 days ago

لفظ دُعَا دَعْوٌ یا دَعْوَۃٌ سے بنا ہے جس کے معنیٰ بُلانا یا پُکارنا ہے۔قراٰن شریف میں لفظِ دُعا پانچ معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔ (1)پُکارنا (2)بُلانا (3)تمنا، آرزو کرنا (4)پوجنا یعنی معبود سمجھ کر پُکارنا (5)مانگنا یا دُعا کرنا ۔ اس مضمون میں صرف آخری معنیٰ کو سامنے رکھتے ہوئے گفتگو کی گئی ہے ۔

دُعا مانگنے کا حکم اللہ پاک نے خود قراٰنِ مجید میں دیا ہے چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: اُدْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ- ترجَمۂ کنزُ العرفان: مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ (پ24، المؤمن: 60) دُعا مانگنا اللہ پاک کے اَنبیا و مُرسلین کا معمول، اُس کے پیارے آخری نبی، مکی مدنی محمدِ عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بہت ہی پیاری سنّت اور ایک عظیم عبادت ہے جس میں بندہ اپنے خالق و مالک کی پاک بارگاہ میں اپنی حاجات و ضروریات پیش کرتا ہے۔ قراٰن و حدیث میں کئی مقامات پر دعا مانگنے کے فضائل اور دعا مانگنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِۙ- ترجَمۂ کنزُالعرفان: میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا کرے۔(پ2، البقرۃ: 186) نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ اللہ پاک کے نزدیک کوئی چیز دعا سے بزرگ تَر نہیں۔(ترمذی، 5/243، حدیث:3381) ایک جگہ ارشاد فرمایا: دعا مسلمانوں کا ہتھیار، دین کا ستون اور آسمان و زمین کا نور ہے۔(مستدرک للحاکم، 2/162، حدیث: 1855) قارئین کرام! اللہ پاک نے قراٰنِ کریم میں کئی مقامات پر انبیا و مُرسلین، ملائکہ مقربین، مسلمین و مؤمنین اور نیک صالحین بندوں کی دعائیں ذِکْر فرمائی ہیں۔ اس مضمون میں 15انبیا و مُرسلین، ملائکہ مقربین، مسلمین و مؤمنین اور نیک صالحین بندوں کی 54 قراٰنی دُعائیں بیان کی جارہی ہیں۔ اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ ان دعاؤں کو اپنے معمولات کا حصہ بنا لیجئے اِنْ شآءَ اللہ دنیا و آخرت کی کثیر برکتیں حاصل ہوں گی:

حضرت سیّدُنا آدم علیہ السّلام کی دُعا:(1)رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَاٚ- وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ(۲۳) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اور اگر تو نے ہماری مغفرت نہ فرمائی اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ضرور ہم نقصان والوں میں سے ہوجائیں گے۔(پ8، الاعراف: 23)

حضرت سیّدُنا نُوح علیہ السّلام کی دُعائیں: (2)رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْــٴَـلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌؕ- وَاِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَتَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ(۴۷) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے میرے رب! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تجھ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں اور اگر تو میری مغفرت نہ فرمائے اور مجھ پر رحم نہ فرمائے تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤں گا۔(پ12، ھود:47) (3)رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّاَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ(۲۹) ترجَمۂ کنزُالعرفان:اے میرے رب! مجھے برکت والی جگہ اتار دے اور تو سب سے بہتر اُتارنے والا ہے۔(پ18، المؤمنون: 29) (4)رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ(۱۱۷) فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَبَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّنَجِّنِیْ وَمَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ(۱۱۸) ترجَمۂ کنزُالعرفان:اے میرے رب! بیشک میری قوم نے مجھے جھٹلایا۔ تو مجھ میں اور ان میں پورا فیصلہ کردے اور مجھے اور میرے ساتھ والے مسلمانوں کو نجات دے۔ (پ19، الشعراء: 117، 118) (5)رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِؕ-وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا۠(۲۸) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے میرے رب!مجھے اور میرے ماں باپ کو اور میرے گھر میں حالتِ ایمان میں داخل ہونے والے کو اور سب مسلمان مردوں اور سب مسلمان عورتوں کوبخش دے اور کافروں کی تباہی میں اضافہ فرما دے۔(پ29، نوح:28)

حضرت سیّدُنا ابراہیم و اسماعیل علیہما السّلام کی دعا: (6)رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّاؕ- اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۱۲۷) رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ۪- وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَیْنَاۚ- اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(۱۲۸) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے ہمارے رب! ہم سے قبول فرما، بیشک تو ہی ہے سننے والا جاننے والا ہے۔ اے ہمارے رب! اورہم دونوں کو اپنا فرمانبردار رکھ اور ہماری اولاد میں سے ایک ایسی امت بنا جو تیری فرمانبردار ہواور ہمیں ہماری عبادت کے طریقے دکھا دے اور ہم پر اپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرما بیشک تو ہی بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔(پ1، البقرۃ: 127، 128)

حضرت سیّدُنا ابراہیم علیہ السّلام کی دعائیں:(7)رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ ﳓ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ(۴۰) رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠(۴۱) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے میرے رب! مجھے اور کچھ میری اولاد کونماز قائم کرنے والا رکھ، اے ہمارے رب اور میری دعا قبول فرما۔ اے ہمارے رب! مجھے اور میرے ماں باپ کو اور سب مسلمانوں کو بخش دے جس دن حساب قائم ہوگا۔(پ13، ابراہیم: 40، 41) (8)رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَۙ(۸۳) وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ(۸۴) وَاجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ(۸۵) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے میرے رب! مجھے حکمت عطا کر اور مجھے ان سے ملادے جو تیرے خاص قرب کے لائق بندے ہیں۔ اوربعدوالوں میں میری اچھی شہرت رکھ دے۔ اور مجھے ان میں سے کردے جو چین کے باغوں کے وارث ہیں۔ (پ19، الشعراء: 83تا85) (9)رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَاِلَیْكَ اَنَبْنَا وَاِلَیْكَ الْمَصِیْرُ(۴) رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَاۚ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۵) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے ہمارے رب! ہم نے تجھی پر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع لائے اور تیری ہی طرف پھرنا ہے۔اے ہمارے رب! ہمیں کافروں کیلئے آزمائش نہ بنا اور ہمیں بخش دے، اے ہمارے رب! بیشک تو ہی بہت عزّت والا، بڑا حکمت والا ہے۔(پ28، الممتحنۃ: 4، 5) (10)رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۱۰۰) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے میرے رب! مجھے نیک اولاد عطا فرما۔(پ23، الصّٰٓفّٰت:100)

حضرت سیّدُنا موسیٰ علیہ السّلام کی دعائیں: (11)اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ(۶۷) ترجَمۂ کنزُالعرفان:میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہوجاؤں۔ (پ1، البقرۃ: 67) (12)رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَلِاَخِیْ وَاَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ ﳲ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠(۱۵۱) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔(پ9، الاعراف: 151) (13)اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ(۱۵۵) وَاكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّفِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَؕ- ترجَمۂ کنزُالعرفان:تو ہمارا مولیٰ ہے، تو ہمیں بخش دے اور ہم پررحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔ اور ہمارے لیے اس دنیا میں اور آخرت میں بھلائی لکھ دے، بیشک ہم نے تیری طرف رجوع کیا۔(پ9، الاعراف: 155، 156) (14)رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ(۲۵) وَیَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ(۲۶) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے میرے رب! میرے لیے میرا سینہ کھول دے۔اور میرے لیے میرا کام آسان فرما دے۔(پ16، طٰہٰ: 25، 26) (15)رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے میرے رب!میں نے اپنی جان پر زیادتی کی تو تومجھے بخش دے۔ (پ20، القصص:16) (16)رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠(۲۱) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے میرے رب! مجھے ظالموں سے نجات دیدے۔ (پ20، القصص:21)

حضرت سیّدُنا عیسیٰ علیہ السّلام کی دعا: (17)اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآىٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰیَةً مِّنْكَۚ-وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ(۱۱۴) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے اللہ! اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے ایک دسترخوان اُتار دے جو ہمارے لئے اور ہمارے بعد میں آنے والوں کے لئے عید اور تیری طرف سے ایک نشانی ہوجائے اور ہمیں رزق عطا فرما اور تو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔(پ7، المآئدۃ:114)

حضرت سیّدُنا لُوط علیہ السّلام کی دعائیں: (18)رَبِّ نَجِّنِیْ وَاَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ(۱۶۹) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے میرے رب! مجھے اور میرے گھر والوں کو ان کے اعمال سے محفوظ رکھ۔(پ19، الشعراء: 169) (19)رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠(۳۰) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے میرے رب!ان فسادی لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما۔(پ20، العنکبوت:30)

حضرت سیّدُنا ایوب علیہ السّلام کی دعا: (20)(رَبِّیْ) اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ(۸۳) ترجَمۂ کنزُ العرفان: (اے میرے رب!) بیشک مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔(پ17، الانبیاء:83)

حضرت سیّدُنا یونس علیہ السّلام کی دعا: (21)لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ ﳓ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷) ترجَمۂ کنزُالعرفان: تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (پ17، الانبیاء:87)

حضرت سیّدُنا یوسف علیہ السّلام کی دعائیں:(22)یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ٘-وَهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ(۹۲) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب مہربانو ں سے بڑھ کر مہربان ہے۔(پ13، یوسف:92) (23)فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِۚ- تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ(۱۰۱) ترجَمۂ کنزُالعرفان:اے آسمانوں اور زمین کے بنانے والے! تو دنیا اور آخرت میں میرا مددگار ہے، مجھے اسلام کی حالت میں موت عطا فرما اور مجھے اپنے قرب کے لائق بندوں کے ساتھ شامل فرما۔(پ13، یوسف: 101)

حضرت سیّدُنا شعیب علیہ السّلام کی دعا:(24)رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ(۸۹) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے ہمارے رب! ہم میں اور ہماری قوم میں حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے اور تو سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔(پ9، الاعراف:89)

حضرت سیّدُنا زکریا علیہ السّلام کی دُعائیں: (25)رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةًۚ-اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ(۳۸) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے میرے رب! مجھے اپنی بارگاہ سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، بیشک تو ہی دعاسننے والاہے۔(پ3، آل عمرٰن: 38) (26)رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّاَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ(۸۹) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے میرے رب! مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے۔ (پ17، الانبیاء:89)

حضرت سیّدُنا سلیمان علیہ السّلام کی دعا: (27)رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰى وَالِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَاَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ(۱۹) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے میرے رب!مجھے توفیق دے کہ میں تیرے اس احسان کا شکر اداکروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیا اور (مجھے توفیق دے) کہ میں وہ نیک کام کروں جس پر تو راضی ہو اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے ان بندوں میں شامل کر جو تیرے خاص قرب کے لائق ہیں۔(پ19، النمل:19)

اللہ پاک کے آخری نبی حضرت محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دعائیں: (28)رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا(۱۱۴) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔(پ16، طٰہٰ: 114) (29)رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا(۸۰) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے میرے رب مجھے پسندیدہ طریقے سے داخل فرما اور مجھے پسندیدہ طریقے سے نکال دے اور میرے لئے اپنی طرف سے مددگار قوت بنادے۔(پ15، بنی اسرائیل: 80) (30)رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّؕ-وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۠(۱۱۲)ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے میرے رب! حق کے ساتھ فیصلہ فرمادے اور ہمارا رب رحمٰن ہی ہے جس سے ان باتوں کے خلاف مدد طلب کی جاتی ہے جو تم کرتے ہو۔(پ17، الانبیاء:112) (31)رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ(۹۷) وَاَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ(۹۸) ترجَمۂ کنزُالعرفان:اے میرے رب! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اور اے میرے رب! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ وہ شیطان میرے پاس آئیں۔(پ18، المؤمنون: 97، 98) (32)رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠(۱۱۸) ترجَمۂ کنزُالعرفان:اے میرے رب! بخش دے اور رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔(پ18، المؤمنون: 118) (33)اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ(۱) مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ(۲) وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ(۳) وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ(۴) وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠(۵) ترجَمۂ کنزُالعرفان: میں صبح کے رب کی پناہ لیتا ہوں۔ اس کی تمام مخلوق کے شر سے۔ اور سخت اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھاجائے۔ اور ان عورتوں کے شر سے جو گرہوں میں پھونکیں مارتی ہیں۔ اور حسد والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ (پ30، الفلق: 1تا5) (34)اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ(۱) مَلِكِ النَّاسِۙ(۲) اِلٰهِ النَّاسِۙ(۳) مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ ﳔ الْخَنَّاسِﭪ(۴) الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ(۵) مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠(۶) ترجَمۂ کنزُالعرفان:میں تمام لوگوں کے رب کی پناہ لیتا ہوں۔ تمام لوگوں کا بادشاہ۔ تمام لوگوں کا معبود۔ بار بار وسوسے ڈالنے والے، چھپ جانے والے کے شر سے(پناہ لیتا ہوں)۔ وہ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ جنوں اورانسانوں میں سے۔ (پ30، الفلق: 1تا5)

ملائکہ مقربین، مسلمین و مؤمنین اور نیک صالحین بندوں کی دعائیں: (35)رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّفِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ(۲۰۱) ترجَمۂ کنزُالعرفان:اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آخرت میں (بھی) بھلائی عطا فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔(پ2، البقرۃ:201) (36)رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ(۲۵۰) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے ہمارے رب! ہم پر صبر ڈال دے اور ہمیں ثابت قدمی عطا فرما اورکافر قوم کے مقابلے میں ہماری مددفرما۔(پ2، البقرۃ:250)(37)سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ﱪ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَیْكَ الْمَصِیْرُ(۲۸۵) رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَاۚ-رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَاۚ-رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖۚ-وَاعْفُ عَنَّاٙ-وَاغْفِرْ لَنَاٙ-وَارْحَمْنَاٙ- اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠(۲۸۶) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے ہمارے رب!ہم نے سنا اور مانا، (ہم پر) تیری معافی ہواور تیری ہی طرف پھرنا ہے۔اے ہمارے رب! اگر ہم بھولیں یا خطا کریں تو ہماری گرفت نہ فرما،اے ہمارے رب! اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر رکھا تھا، اے ہمارے رب!اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہیں اور ہمیں معاف فرمادے اور ہمیں بخش دے اور ہم پر مہربانی فرما، تو ہمارا مالک ہے پس کافر قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔(پ3، البقرۃ: 285، 286) (38)رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةًۚ-اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ(۸) رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠(۹) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے ہمارے رب تو نے ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے،اس کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، بیشک تو بڑاعطا فرمانے والاہے۔ اے ہمارے رب! بیشک تو سب لوگوں کو اس دن جمع کرنے والا ہے جس میں کوئی شبہ نہیں، بیشک اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔(پ3، آل عمرٰن:8، 9) (39)رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِۚ(۱۶) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے ہیں، تو تو ہمارے گناہ معاف فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔ (پ3، آل عمرٰن:16) (40)رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ(۵۳) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے ہمارے رب! ہم اس کتاب پر ایمان لائے جو تو نے نازل فرمائی اورہم نے رسول کی اِتّباع کی پس ہمیں گواہی دینے والوں میں سے لکھ دے۔(پ3، آل عمرٰن:53)(41)رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ(۱۴۷) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے ہمارے رب! ہمارے گناہوں کو اور ہمارے معاملے میں جو ہم سے زیادتیاں ہوئیں انہیں بخش دے اور ہمیں ثابت قدمی عطا فرما اور کافر قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔(پ4، آل عمرٰن: 147) (42)رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًاۚ-سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ(۱۹۱) رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَهٗؕ-وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ(۱۹۲) رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا ﳓ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِۚ(۱۹۳) رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ(۱۹۴) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے ہمارے رب!تو نے یہ سب بیکار نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔ اے ہمارے رب! بیشک جسے تو دوزخ میں داخل کرے گا اسے تو نے ضرور رسوا کردیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے۔ اے ہمارے رب! بیشک ہم نے ایک ندا دینے والے کو ایمان کی ندا (یوں ) دیتے ہوئے سنا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے پس اے ہمارے رب! تو ہمارے گنا ہ بخش دے اور ہم سے ہماری برائیاں مٹادے اور ہمیں نیک لوگوں کے گروہ میں موت عطا فرما۔ اے ہمارے رب! اورہمیں وہ سب عطا فرما جس کا تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے ہم سے وعدہ فرمایا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوانہ کرنا۔بیشک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔(پ4، آل عمرٰن:191تا194)([1]) (43)رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠(۴۷) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے ہمارے رب! ہمیں ظالموں کے ساتھ نہ کرنا۔(پ8، الاعراف:47) (44)رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّتَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠(۱۲۶) ترجَمۂ کنزُالعرفان:اے ہمارے رب! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں حالتِ اسلام میں موت عطا فرما۔(پ9، الاعراف: 126) (45)رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ(۸۵) وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ(۸۶) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے ہمارے رب! ہمیں ظالم لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا۔ اور اپنی رحمت فرما کر ہمیں کافروں سے نجات دے۔ (پ11، یونس: 85تا86) (46)رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے میرے رب! تو ان دونوں پر رحم فرما جیسا ان دونوں نے مجھے بچپن میں پالا۔(پ15، بنی اسرائیل: 24) (47)رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا(۱۰) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے ہمارے رب! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے لئے ہمارے معاملے میں ہدایت کے اسباب مہیا فرما۔(پ15، الکھف: 10) (48)رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ(۱۰۹) ترجَمۂ کنزُالعرفان:اے ہمارے رب!ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔(پ18، المؤمنون: 109) (49)رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ ﳓ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ(۶۵) اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّمُقَامًا(۶۶) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے ہمارے رب!ہم سے جہنم کا عذاب پھیر دے، بیشک اس کا عذاب گلے کا پھندا ہے۔ بیشک وہ بہت ہی بری ٹھہرنے اور قیام کرنے کی جگہ ہے۔(پ19، الفرقان: 65، 66) (50)رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا(۷۴) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے ہمارے رب! ہماری بیویوں اور ہماری اولاد سے ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔(پ19، الفرقان: 74) (51)رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ(۷) رَبَّنَا وَاَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ ﹰالَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآىٕهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّیّٰتِهِمْؕ- اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ(۸) وَقِهِمُ السَّیِّاٰتِؕ- وَمَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَىٕذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗؕ- وَذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠(۹) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے ہمارے رب!تیری رحمت اور علم ہر شے سے وسیع ہے تو انہیں بخش دے جوتوبہ کریں اور تیرے راستے کی پیروی کریں اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔ اے ہمارے رب! اور انہیں اور ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے جو نیک ہوں ان کو ہمیشہ رہنے کے ان باغوں میں داخل فرما جن کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے، بیشک تو ہی عزت والا، حکمت والا ہے۔ اور انہیں گناہوں کی شامت سے بچالے اور جسے تونے اس دن گناہوں کی شامت سے بچالیا تو بیشک تو نے اس پر رحم فرمایااور یہی بڑی کامیابی ہے۔(پ24، المؤمن:7تا9) (52)رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰى وَالِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَاَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ ﱂ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَاِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ(۱۵) ترجَمۂ کنزُالعرفان:اے میرے رب!مجھے توفیق دے کہ میں تیری نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پراور میرے ماں باپ پر فرمائی ہے اور میں وہ نیک کام کروں جس سے تو راضی ہوجائے اور میرے لیے میری اولاد میں نیکی رکھ،میں نے تیری طرف رجوع کیااور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔(پ26، الاحقاف:15) (53)رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠(۱۰) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اے ہمارے رب! ہمیں اورہمارے ان بھائیوں کوبخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کیلئے کوئی کینہ نہ رکھ، اے ہمارے رب! بیشک تو نہایت مہربان، بہت رحمت والا ہے۔(پ28، الحشر: 10) (54)رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْ لَنَاۚ-اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۸) ترجَمۂ کنزُالعرفان:اے ہمارے رب! ہمارے لیے ہمارا نور پورا کردے اور ہمیں بخش دے، بیشک تو ہر چیز پر خوب قادر ہے۔ (پ28، التحریم: 8)



([1])ان آیات میں ”رَبَّنَا“ کا لفظ پانچ بار ہے، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ کے والدِ محترم حضرت مفتی نقی علی خان رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: پانچ بار ”یَارَبَّنَا“ کہنا بھی نہایت مؤثر ِاِجابت ہے (یعنی دعا کی قبولیت میں بہت اَثر رکھتا ہے)۔ قرآنِ مجید میں اس لفظ مبارک کو پانچ بار ذِکْر کر کے اس کے بعد ارشاد فرمایا: (فَاسْتَجَابَ لَھُمْ رَبُّھُمْ) تو ان کی دعا قبول کی اُن کے رب نے۔4، آل عمرٰن: 195) حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے منقول ہے:جو شخص عجز کے وقت پانچ بار ”یَارَبَّنَا“ کہے، اللہ تعالیٰ اسے اس چیز سے جس کا خوف رکھتا ہے، امان بخشے اور جو چیز چاہتا ہے، عطا فرمائے پھر یہ آیتیں تلاوت کیں: (رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا) اِلٰی قَوْلِہٖ تَعَالٰی: (اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ) (پ4، آل عمرٰن:191تا194، فضائلِ دعا، ص71)


(سلسلہ تحریر”تربیت و تفہیم سیرتِ مصطفےٰ کے آئینہ میں“ کی تیسری قسط میں ”حضور ﷺ  سے ہونے والے سوالات اور آپ کا اسوۂ جواب“ کے تعلق سے 10صورتیں بیان کی گئی تھیں، جن میں سے ساتویں قسم”سوال کرنے والے کی حوصلہ افزائی کرنا“ ہے، آئیے! اس کی تفصیل جانتے ہیں)

(7)سوال کرنے والے کی حوصلہ افزائی کرنا

رسولِ مکرم ﷺ کی بارگاہ میں سوالات کئے جاتے تو آپ ﷺ کا جواباً اصلاح و تربیت فرمانے کا ایک بہت دل موہ لینے والا انداز ”سائل کی حوصلہ افزائی کرنا“ ظہورپذیر ہوتا، یوں کہہ لیجئے کہ اگر سائل آپ ﷺ کی شان و عظمت اور مقامِ نبوت کے پیشِ نظر جتنا بھی مرعوب ہوتا، آپ ﷺ کے لب ہائے مقدسہ سے سوال یا سائل کی حوصلہ افزائی کے کلمات سن کر طبیعت ہشاش بشاش ہوجاتی، آئیے حوصلہ افزائی فرمانے کے حوالے سے چند روایات اور نکات ملاحظہ کرتے ہیں:

حضور نبی رحمت ﷺ ایک ماہر صاحبِ حکمت اور رمزشناس معلمِ کامل ہیں، آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اچّھے سوالات پر صحابۂ کرام کی حوصلہ افزائی فرمایا کرتے تھے، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کی: ”یارسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ مجھے ایسا عمل ارشاد فرمائیں جو مجھے جنّت میں داخل کردے!“ نبی کریم ﷺ نے(ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے)فرمایا:”بَخٍ بَخٍ لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ عَظِيمٍ وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّه یعنی شاباش! شاباش! بے شک تُو نے عظیم (چیز) کے بارے میں سوال کیا اور بِلاشبہ وہ اس شخص کیلئے آسان عمل ہے جس پر اللہ آسان کردے۔ فرض نماز پڑھو اور فرض زکوٰۃ ادا کردو۔“ (مسند ابی داؤد طیالسی، ص76، حدیث: 560)

رسولِ کریم ﷺ نے لفظ”بخ، بخ“ استعمال فرمایا، یہ لفظ کسی چیز کی تعریف اور اس کے بارے میں اظہار خوشی کے لیے استعمال کیا جا تا ہے اور اس کے معنی شاباش، بہت خوب، آفرین اوراس کے مترادفات سے کئے جاتے ہیں۔ امام ابنِ اثیر جزری لکھتے ہیں:یہ کلمہ مدح اور کسی چیز سے رضا مندی کے موقع پر بولا جاتاہے اور مبالغہ کے لئے مکرر (یعنی بار بار) بولا جاتاہے۔(النہایۃ فی غریب الاثر،جلد1، صفحہ101)

مزید یہ کہ رسولِ کریم ﷺ نے خوشی و تعریف کے اظہار کو مزید تقویت دینے کے لئے یہ لفظ دو بار ارشاد فرمایا۔

ایک مرتبہ حضرت سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسولِ کریم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی:”يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِكَ يَوْمَ القِيَامَةِ یا رسول اللہ! روزِ قیامت آپ کی شفاعت کی سعادت پانے کا سب سے زیادہ حق دار کون ہوگا؟“

جنابِ ابوہریرہ کے اس سوال پر رسولِ کریم ﷺ نے ان کے بارے میں اپنے حسن ظن اور حوصلہ افزائی کا کیا ہی خوب اظہار فرمایا، ارشاد فرمایا:”لَقَدْ ظَنَنْتُ، يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، أَنْ لاَ يَسْأَلَنِي عَنْ هَذَا الحَدِيثِ أَحَدٌ أَوَّلُ مِنْكَ، لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الحَدِيثِ۔ اے ابو ہریرہ! حدیث کے متعلق تمہاری حرص کے پیش نظر مجھے یقین تھا کہ تم سے پہلے اس کے متعلق مجھ سے کوئی دریافت نہ کرے گا۔

قارئین کرام!ربّ کعبہ کی قسم! ابوہریرہ کے نصیبوں پر قربان جانے کو دل کرتاہے، کیسے مقدروں والے ہیں کے جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ حرصِ طلبِ حدیث کا گمان رکھتے ہیں۔

پھر جواب دیتے ہوئے فرمایا: روز قیامت میری شفاعت کی سعادت کا سب سے زیادہ حق دار وہ ہوگا، جس نے سچے دل سے”لا إله إلا الله “ کہا ہوگا۔(بخاری، کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار، جلد4، صفحہ264، حدیث:6570)

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اکرم ﷺ کی بارگاہ میں آیا اور سوال کیا:

عَلِّمْنِي عَمَلًا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ

مجھے ايسا عمل سكھا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کردے۔

رسول کریم ﷺ نے( اس اعرابی کی حوصلہ افزائی فرمائی اور سوال کی تعریف کرتے ہوئے) فرمایا:

لَئِنْ كُنْتَ أَقَصَرْتَ الْخُطْبَةَ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ

تم نے بات تو اگرچہ مختصر کی ہے لیکن سوال بہت بڑا پوچھا ہے۔

پھر فرمایا: أَعْتِقِ النَّسَمَةَ، وَفُكَّ الرَّقَبَةَجان آزادکرو اور گردن چھڑاؤ۔

اس نے عرض کی : کیا یہ دونوں ایک ہی نہیں؟

آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، جان آزاد کرنا یہ ہے کہ تو تنہا اس کو آزاد کرے اور گردن چھڑانا یہ ہے کہ اس کی قیمت کی ادائیگی میں معاونت کرے اور زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی یا بکری عطیہ دو، ظالم قرابت دار سے بھی اچھا سلوک کرو، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلاؤ اور پیاسے کو پانی پلاؤ اور نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہوتو خیروبھلائی کی بات کے علاوہ اپنی زبان کوروکے رکھو۔(الآداب للبیہقی،باب فی اطعام الطعام و سقی الماء، صفحہ 32، رقم:88مؤسسۃ الکتب الثقافیۃ)

سبحان اللہ!ایک چھوٹے سے سوال کے جواب میں حسن معاشرت اور فکر آخرت کے کیسے کیسے زریں اصول بیان فرمادئیے۔

سائل کی حوصلہ افزائی فرمانے کے حوالے سے ایک اور روایت حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ

ایک سفر کے دوران رسولِ کریم ﷺ کے سامنے ایک اعرابی آگیا اور آپ کی سواری کی لگام تھام کر عرض کرنے لگا:یارسول اللہ! أَخْبِرْنِي بِمَا يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ، وَمَا يُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ

مجھے وہ عمل بتادیجئے جو مجھے جنت سے قریب کر دے اور جہنم کی آگ سے دور کر دے؟

نبی کریم ﷺ نے اس اعرابی کے سوال پر قولی اور عملی دونوں طرح سے اس کی حوصلہ افزائی فرمائی چنانچہ آپ اس کی بات سن کر ایک لمحے کے لئے خاموش رہے، پھر اپنے صحابہ کرام کی جانب دیکھا اور پھر ارشاد فرمایا:

لَقَدْ وُفِّقَ، أَوْ لَقَدْ هُدِيَ

بلاشبہ اسے خیر کی توفیق ملی ہے یا اس کی رہنمائی کی گئی ہے۔

رسولِ کریم ﷺ نے اعرابی سے (سوال دہرانے کا فرماتے ہوئے)کہا: تم نے کیسے کہا؟ تو اس نے سوال دوبارہ عرض کیا۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

تَعْبُدُ اللهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ

اللہ کی عبادت کرو اور کسی شے کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم رکھو، زکوٰۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو۔

جواب دینے کے بعد فرمایا: دَعِ النَّاقَةَ

اب اونٹنی کو چھوڑ دو۔(صحیح مسلم، کتاب الایمان، صفحہ36، حدیث:104)

رسولِ کریم ﷺ کا اعرابی کا سوال سننا، پھر توقف فرمانا اور صحابہ کرام کی جانب دیکھنا اور پھر اس اعرابی کو ”توفیق دیاگیا“ فرمانا، یہ حوصلہ افزائی کے بڑے ہی پیارے انداز ہیں۔

(بقیہ آنے والی قسط میں )


(گزشتہ دو مضامین میں بارگاہِ رسالت میں ہونے والے سوالات کی4صورتوں کا ذکر ہوا، مزید چند صورتیں ملاحظہ کیجئے)

(5)کسی فضیلت، اجر یا مقام دلانے والے اعمال کے متعلق ہونے والے سوالات کا جواب دینا

رسولِ کریم ﷺ کی تشریف آوری کامقصد ہی مخلوقِ خدا کی رہنمائی اور تعلیمِ دینِ الٰہی تھا، اس لئے کوئی کیسا ہی سوال کرتاآپ جواب ارشاد فرماتے، کبھی ایسا بھی ہوتا کہ آپ کی بارگاہ میں کسی خاص اجر، مقام یا رتبہ ذکر کیا جاتا اور پھر سوال کیا جاتا کہ یہ کس عمل سے مل سکتاہے؟ اس طرح کے سوالات کئی مواقع پر ہوئے، چنانچہ

حضرت سیّدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: عَلِّمْنِي أَوْ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ قَالَ: «كُنْ مُؤَذِّنًا» قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ قَالَ: «كُنْ إِمَامًا» قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ قَالَ: «فَقُمْ بِإِزَاءِ الْإِمَامِ»

ایک شخص نے رسولِ مکرم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی:مجھے ایسا عمل سکھائیے یا ایسے عمل کی طرف میری رہنمائی کیجئے جو مجھے جنت میں پہنچادے ، ارشاد فرمایا: مؤذن بن جاؤ۔ اس نے عرض کیا: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا،توارشاد فرمایا: امام بن جاؤ، اس نے عرض کیا:میں یہ بھی نہیں کرسکتا،تو فرمایا:پھر امام کے برابر میں کھڑے ہوا کرو۔ (المعجم الاوسط للطبرانی، باب المیم، من اسمہ محمد، جلد7، صفحہ363، حدیث:7737 دارالحرمین، القاھرۃ)

اسی طرح حضرت سیّدنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :

قال رجلٌ: يا رسولَ الله، دُلَّني على عَمَل يَنفَعُني الله به، قال: «عَلَيْكَ بِرَكْعَتَيِ الفَجْرِ؛ فَإِنَّ فِيهِمَا فَضِيلَةً» .

ایک شخص نے عرض کی:یارسول اللہ!مجھے ایسا عمل بتائیے کہ جس کے سبب اللہ کریم مجھے نفع عطا فرمائے، ارشاد فرمایا: فجر کی دو رکعات(یعنی سنتّوں ) کو لازم پکڑ لو کیونکہ ان میں بڑی فضیلت ہے۔(المعجم الکبیر للطبرانی، مسند عبداللہ بن عمر، جلد13، صفحہ337، حدیث:14147)

جلیل القدر صحابی رسول کہ ذخیرۂ حدیث میں جن کی مرویات سب سے زیادہ ہیں یعنی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ کریم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی:

يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي إِذَا رَأَيْتُكَ طَابَتْ نَفْسِي وَقَرَّتْ عَيْنِي، فَأَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ. فَقَالَ: كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنْ مَاءٍ قَالَ: قُلْتُ : أَنْبِئْنِي عَنْ أَمْرٍ إِذَا أَخَذْتُ بِهِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ. قَالَ: أَفْشِ السَّلَامَ، وَأَطْعِمِ الطَّعَامَ، وَصِلِ الْأَرْحَامَ، وَقُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، ثُمَّ ادْخُلِ الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ

یارسولَ اللہ! جب میں آپ کو دیکھتا ہوں تو میرا دل ٹھنڈا ہوجاتاہے اور آنکھوں کو قرار آجاتاہے، آپ مجھے ہر چیز کے بارے میں بتائیے، ارشاد فرمایا: ہرچیز پانی سے پیدا کی گئی ہے، فرماتے ہیں میں نے عرض کی:مجھے ایسی چیز کے بارے میں رہنمائی فرمائیے کہ جسے میں تھام لوں تو جنت میں داخل ہوجاؤں، ارشاد فرمایا:”سلام عام کرو، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو اور جب لوگ راتوں میں سو رہے ہوں تم قیام کرو یعنی بارگاہِ الٰہی میں نماز پڑھو، پس تم سلامتی کے ساتھ داخل جنت ہوجاؤ گے۔(مسند احمد، مسند المکثرین من الصحابۃ، مسند ابی ہریرۃ، جلد13، صفحہ314، حدیث:7932)

رہنمائے عالَم و معلّمِ اعظم ﷺ نے مختصر سے چار جملوں میں دینی و دنیوی فوائد کو محیط ایسے امور کو جمع فرمادیا ہے کہ صرف اہلِ اسلام ہی نہیں بلکہ غیر مسلم معاشرے بھی ان میں سے پہلے تین کی اہمیت کے معترف بلکہ ان پر اپنی اپنی طرز سے عامل بھی ہیں، ہر واقف و ناواقف کو سلام کرنا ، دوسروں کو کھانا کھلانا اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا یہ کسی بھی معاشرے، طبقے اور علاقے کی حسنِ معاشرت کے بنیادی قواعد و اصول ہیں جو رسولِ کریم ﷺ نے آج سے 14سو سال قبل ارشاد فرمادئیے۔

(6) یہ انسانی فطرت ہے کہ جو نعمت دوسروں کو ملتی ہے اس کی تمنا دل میں اٹھتی ہے، اس کے مختلف پہلو ہیں، دینِ اسلام اچھے پہلو کی حوصلہ افزائی اور برے پہلو کی مذمت کرتاہے، برا پہلو یہ کہ نعمت دوسرے سے چھن جائے اور ہمیں مل جائے، یہ حسد ہے جو کہ بہت مذموم ہے، جبکہ اچھا پہلو یہ ہے کہ دوسرے سے اس نعمت کے زوال کی تمنا نہ ہو اور اپنے لئے حصول کی تمنا ہو، چونکہ صحابہ کرام اور صحابیات علم اور اجرو ثواب کے بہت حریص تھے اس لئے وہ ایسے مواقع پر بھی سوالات کرتے تھے کہ جب رسولِ کریم ﷺ کسی ایک فرد یا طبقہ کو کسی عمل کا اجر و ثواب بتاتے تھے، چنانچہ ام المؤ منین حضرتِ سیدتنا مَیْمُونَہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسولِ کریم ﷺ نے مردوں اور عورتوں کی صف کے درمیان کھڑے ہوکر فرمایا: اے خواتین کے گروہ! جب تم اس حبشی (یعنی حضرتِ سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ)کی اذان اور اقامت سنوتو جیسے یہ کہے تم بھی اسی طرح کہہ لیاکرو کیونکہ تمہارے لئے ایسا کرنے میں ہر حر ف کے بدلے میں دس لاکھ نیکیاں ہیں، (یہ سن کر ) حضرتِ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا:یہ فضیلت تو عورتوں کے لئے ہے مردوں کیلئے کیاہے؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اے عمر!مردوں کیلئے اس سے دگنا ثواب ہے ۔ (المعجم الکبیرللطبرانی، مسند النساء، ازواج رسول اللہ ﷺ، میمونۃ بنت الحارث، جلد24، صفحہ16، حدیث:28)

اسی طرح عورتیں بھی مردوں کے لئے طرح طرح کی نیکیوں اور اجرو ثواب کا سن کر سرکار دوجہاں ﷺ سے سوال کرتی تھیں، چنانچہ

شعب الايمان میں ہے کہ رسولِ کریم ﷺ اپنے صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے کہ حضرت اسماء بنت یزید حاضرِ بارگاہ ہوئیں اور عرض کی:’’یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں آپ کے پاس خواتین کی ترجمان بن کر آئی ہوں، جہاں تک میری بات ہے یارسول اللہ! میری جان آپ پر قربان، البتہ مشرق ومغرب کی ہر عورت جو میرے آپ کے پاس حاضر ہونے کا سبب جانتی ہے یا نہیں مگر اس کا بھی وہی سوال ہے جو میں پوچھنے آئی ہوں۔ اللہ نے آپ کو مردوں اور عورتوں، سب کی طرف رسول برحق بنا کر بھیجا ہے اور ہم آپ پر اور آپ کو بھیجنے والے اللہ کریم پر ایمان لائی ہیں۔ ہم خواتین پردہ نشین ہو کر گھروں کی حد تک رہتی ہیں، مردوں کی جنسی ضرورتوں کو پوراکرتیں اور ان کے بچوں کو پالتی ہیں، جبکہ مَردوں کو ہم پر کئی طرح سے فضیلت دی گئی، وہ جمعہ، نماز باجماعت، نمازِ جنازہ، مریضوں کی عیادت اور پے درپے حج اورجہاد فی سبیل اللہ میں شریک ہوتے ہیں جبکہ ہم خواتین پیچھے ان کے اموال کی حفاظت اور بچوں کی پرورش کرتی اور کپڑے بُنتی ہیں، اب سوال یہ ہے کہ ان مَردوں کے ثواب میں سے کچھ حِصّہ ہم عورتوں کو بھی ملے گا یا نہیں؟

حضرت اسماء کا یہ سوال سن کر نبی کریم ﷺ صحابہ کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ ’’کیا تم نے کبھی کسی عورت کو اس سے زیادہ اچھے طریقے سے اپنے دین کے متعلق سوال کرتے ہوئے سنا ہے؟’’ صحابہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارا تو گمان بھی نہیں کہ کوئی عورت اس جیسا سوال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوگی۔ پھر نبی کریم ﷺ حضرت اسماء کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ’’جاؤ اور اپنے پیچھے سب عورتوں کو بتادو کہ عورت کا اپنے شوہر کی اچھی بیوی بن کر رہنا اور اس کی خوشنودی چاہنا اور اس کے ساتھ ہم آہنگ رہنا ان سب اعمال میں اس کے ساتھ اجر وثواب میں برابری کا ذریعہ ہے۔ حضرت اسماء یہ سن کر خوشی سے نعرہ تکبیر بلند کرتی اور کلمہ طیبہ کی صدا لگاتی ہوئی وہاں سے لوٹیں۔ (الجامع لشعب الایمان، الشعب ستون، حقوق الاولاد والاھلین، جلد11، صفحہ177، حدیث:8369)

(بقیہ آنے والی قسط میں )


بچوں  کے لئے لکھنا یوں تو آسان ہے کہ بیٹھا جائے، قلم پکڑا جائے اور ساری معلومات کو سمیٹ دیا جائے پھر نتیجۃً یہ سمجھا جائے کہ ہمارے لکھے ہوئے سے بچے احساسِ ذمہ داری، خود اعتمادی اور بلند عزائم پانے میں کامیاب ہوجائیں گے، نیک امنگوں سے سرشار ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین صلاحیتوں اور قابلیتوں کے حامل ہوں گے اور آگے چل کر اپنے دین، قوم اور ملک کے لئے ضرور مفید ثابت ہوں گے، لیکن! کیا یہ نتائج بچوں کی طبیعت، ذہنی رجحانات اور دلی لگاؤ کا لحاظ رکھے بغیر حاصل ہوں گے؟، ان کی عمر، دلچسپی اور الفاظوں کے ذخیرے کی رعایت کئے بغیر مل جائیں گے؟ ہرگز نہیں !

اسی لئے میرے عزیز! بچوں کے لئے لکھتے ہوئے آپ کو بچہ بننا پڑے گا، ان کی نفسیات، رجحانات اور دلی میلانات کو سمجھنا پڑے گا اور پسند و ناپسند، جبلی اور نفسیاتی تقاضوں کا دھیان رکھنا ہوگا تبھی وہ آپ کی تحریر میں دلچسپی لیں گے اور آپ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوں گے۔

ذیل میں اسی پس منظر کی وجہ سے بچوں کے لکھاریوں کے لئے 15مفید اور کارآمد اصول پیش کئے جارہے ہیں ، انہیں قبول فرمائیے، عمل میں لائیے اور نتیجہ پائیے۔

(1)لکھنے سے پہلے کے کام:(Before Writing)

(01)بچوں کے لئے کچھ بھی لکھنے سے پہلے آپ کو طے کرنا ہوگا کہ آپ کیا پیغام دینے جارہے ہیں؟، اس تحریر کے ذریعے سے چھوٹے سے دماغ میں کیا بٹھانا چاہتے ہیں؟، ورنہ تحریر بے مقصد ہوجائے گی یا مضمون اور سبق میں کوئی ربط ہی نہیں رہے گا۔ یقین نہیں آتا تو ایک مثال پڑھ لیجئے:

کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک کوے کی کہانی پڑھی تھی، کہ سرداری حاصل کرنے کے لئے اس نے ایک تدبیر کی، سب پرندوں کے پنکھ جمع کئے، اور رنگ برنگی بن کر سرداری حاصل کرلی لیکن جب دوسروں کو اس حقیقت کا پتا چلا تو انہوں نے خوب اس کی درگت بنائی۔ اس کے بعد کہانی سے درس دیتے ہوئے موصوف لکھتے ہیں:

”اچھا اخلاق سب سے بڑی خوب صورتی ہے“۔

لہٰذا یہ طریقہ غلط ہے کہ لکھنے کے بعدتانے بانے ملا کر زبردستی نتیجہ اخذ کیا جائے اور کڑوی دوائی کی طرح بچے کو پکڑ کر پلایا جائے۔

(02)اس کے ساتھ دوسری اہم چیز جس کی لکھنے سے پہلے رعایت کرنی ہے وہ یہ ہے کہ اس مضمون کی وساطت سے جو پیغام آپ دینا چارہے ہیں وہ کس عمر کے بچوں کے لئےہے؟ لکھنے سے پہلے آپ کو متعین کرنا ہوگا کہ یہ پیغام کس عمر کے بچوں کے لئے ہے؟ پندرہ سال کے بچے کے لئے چڑے چڑی کی کہانی اتنی ہی غیر دلچسپ اور بور ہوگی جتنی کہ 8 سال سے کم عمر بچے کے لئے سائنسی معلوماتی کہانی۔

عمر کے تعین ہی سے مضمون کی بہت سی چیزیں متعین ہوتی ہیں مثلاً بنیادی خیال، پلاٹ، اندازِ بیاں، زبان، اس کی طوالت وغیرہ ۔آپ کی معلومات کے لئے یہ نقشہ پیش ہے جس میں ایج لمٹ کے اعتبار سے مضمون یا کتاب کا حجم بتایا گیا ہے۔

0 سے 3 سال تک

200 الفاظ

2 سے پانچ سال تک

200 سے 500 الفاظ

3 سے 7 سال تک

500 سے 800 الفاظ

4 سے 8 سال تک

600 سے 1000 الفاظ

5 سے 10 سال تک

3000 سے 10000 الفاظ

7 سے 12 سال تک

10،000 سے 30،000 الفاظ

(2)لکھتے وقت کے کام: (During Writing)

بچوں کے لئے لکھتے وقت جن باتوں کا خیال رکھنا چاہئے ذیل میں انہیں بیان کیا جارہا ہے۔

(01)ہر مضمون کے تین بنیادی عناصر ہوتے ہیں:

ابتدا، نفس مضمون اور خاتمہ ، مگر جب بات بچوں کی ہو تو اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، ہر عنصرکی پوری پوری رعایت رکھنا ضروری ہوجاتی ہے۔

ابتداء کو کیسے دلکش بنانا ہے؟، آخر سے آگے آنا ہے یا یا درمیان سے شروع کرنا ہے ؟ کردار کا تعارف بیانی ہوگا یا عملی؟درمیان مضمو ن میں سلاست اور تجسس کیسے برقرار رکھنا ہے؟ مکالمہ جات کو کیسے طول دیتے ہیں ؟ خاتمہ میں مسئلہ کا حل دیا جاتا ہے یا کسی اور موڑ کا پتا بتاکر رخصت ہوجاتے ہیں ؟ان ساری چیزوں کی معلومات ہونی چاہئے اور استعمال بھی آنا چاہئے، اگر اب تک پتا نہیں ہیں تو انہیں سیکھئے، لکھاریوں کے مضامین میں تلاش کیجئے،نوٹ کیجئے اور پھر استعمال کیجئے۔

(02)لکھتے وقت انداز چاہے روایتی ہو یا آب بیتی، اس میں بیان، عمل، حرکت اور مکالمے سب کا رنگ ہونا چاہئے لیکن اس طرح کہ کوئی حصہ بھی زیادہ طوالت کا شکار نہ ہو۔ جیساکہ

شعیب ۔۔۔شعیب۔۔شہاب صاحب نےلان میں اخبار پڑھتے ہوئے کہا۔

کمرے میں بال بناتے ہوئے شعیب نے جواب دیا: جی آیا ،بابا جان!

بیٹا! شاپنگ کے لئے جانا ہے، جلدی کرو، دیر ہورہی ہے ۔

جی بابا جان! میں تو تیار ہوں، شعیب لان میں آچکا تھا، و ہ بس علیزہ آپی اورآمنہ تیار ہورہی ہیں،

(03)لکھتے وقت آپ کو یہ یاد رکھنا پڑے گا کہ جس عمر اور علمی کیفیت کے بچہ کو آ پ شروع میں دکھا رہے ہیں آخر تک اس کا لیول اسی طرح رہنا چاہئے، ایسا نہ ہو کہ شروع میں وہ بالکل بھولا نظر آئے اور آخر تک پہنچتے پہنچتے ایسا محسوس ہو کہ وہ تو سب جانتا ہے ۔

جیساکہ ایک کہانی کے شروع میں بچے کی علمی حیثیت واضح کرتے ہوئے لکھا جاتا ہے:

بابا جان کے ساتھ جب گھر کی طرف واپسی ہوئی تو میں نے بابا جان سے پوچھا:

بابا جان ! امام بخاری کون تھے؟

لیکن آخر میں وہی بچہ معصومانہ سوال کرتے ہوئے صاحب کشف الظنون کا چھوٹا بھائی محسوس ہوتا ہے:

بابا جان! امام بخاری نے بخاری شریف کیوں لکھی؟

موطا امام مالک، امام اعظم کی، کتاب الآثار، جامع سفیان ثوری، مصنف ابن ابی شیبہ، مصنف عبد الرزاق اور عبد اللہ ابن مبارک جیسے بڑے بڑے بزرگوں کی کتابیں موجود تھی۔ میں نے بابا جان سے پوچھا۔

(04)یوں ہی بچہ سے جب کوئی بات کہلوائی جائے تو اس کی سطح کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے، ایسا نہ ہو سات سالہ ناصر کتابوں کے حوالہ دے رہا ہو، حدیث عربی متن کے ساتھ بتارہا ہو، معاشرے کی تباہی کے اسباب شمار کروا رہا ہو ، مطلب کہ پوری کہانی میں فطری پن کو برقراررکھنا کہانی کی تاثیر کا سبب بنے گا۔

(05)لکھتے وقت بچہ کے ذخیرہ الفاظ کی رعایت کرنا ایک ضروری امر ہے۔ اس حوالے سے یہ بھی ذہن نشین رہے کہ ابتدا میں لکھنے والے آسان ہی لکھتے ہیں لیکن جوں جوں کہانی آگے بڑھتی ہے واپس اپنی عمر کے لحاظ سے فطری زبان کی کی طرف لوٹ جاتے ہیں، اس لیے اپنے لکھے ہوئے ٹکڑوں کو بار بار دہرانا ضروری ہے۔

(01)جملے چھوٹے ہوں، بچوں کو طویل بیانیےیا زیادہ بیانیے پسند نہیں ہوتے۔

(02)تحریر میں مناسب تکرارہو، جملوں کو دہرایا جائے تاکہ ان کے ننھےذہن میں آپ کے خیالات اپنی جگہ بنا سکیں۔

(03)خیال رہے کہ ضرورت سے زیادہ منظر کشی،نصیحت کے طویل مواعظ، ربط کا فقدان یا صریح تضاد بچوں کی دلچسپی کے ختم ہونے کا سبب بن سکتے ہیں۔

(04)آخری بات یہ ہے کہ ان سب چیزوں سے آپ کی تحریر پڑھنا، سمجھنا آسان ہوجائے گی، اور سچ کہا ہے کسی نے: ’’آسانی سے پڑھی جانے والے تحریر بہت مشکل سے لکھی جاتی ہے۔‘‘

(3)لکھنے کے بعد کے کام: (After Writing)

تحریر لکھنے کے بعد درج ذیل چیزیں عمل میں لانے سے آپ کی تحریر میں نکھار پیدا ہوگا اور دن بہ دن حسن بڑھے گا:

(01)مضمون لکھ لینے کے بعد کچھ دیر کے لئے وقفہ کریں،اسے چھوڑ دیں، وقت ہو تو ایک دن کا وقفہ کریں۔

(02)دوسرے دن مضمون پر نظر ثانی کریں، قاری کے پڑھنے سے قبل ایک بار خود پڑھیں، جارج پلمٹن کو (03)انٹرویو دیتے ہوئے ہیمنگوے نے کہا تھا: اپنالکھا ہوا دوبارہ پڑھئے۔یہ آپ کی تحریر میں نکھار لانے کا سبب بنے گا۔

(04)دوسری بار پڑھتے ہوئے جملوں کی ترتیب اور ربط کا بغور مطالعہ کریں، ان کی نوک پلک سنواریں، املاء دیکھیں،اسے درست کریں۔

(05)اس کے بعد کسی تجربہ کار کو چیک کرائیں اور اچھے مشورے کو قبول کریں۔


بچوں  کے لئے لکھنا یوں تو آسان ہے کہ بیٹھا جائے، قلم پکڑا جائے اور ساری معلومات کو سمیٹ دیا جائے پھر نتیجۃً یہ سمجھا جائے کہ ہمارے لکھے ہوئے سے بچے احساسِ ذمہ داری، خود اعتمادی اور بلند عزائم پانے میں کامیاب ہوجائیں گے، نیک امنگوں سے سرشار ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین صلاحیتوں اور قابلیتوں کے حامل ہوں گے اور آگے چل کر اپنے دین، قوم اور ملک کے لئے ضرور مفید ثابت ہوں گے، لیکن! کیا یہ نتائج بچوں کی طبیعت، ذہنی رجحانات اور دلی لگاؤ کا لحاظ رکھے بغیر حاصل ہوں گے؟، ان کی عمر، دلچسپی اور الفاظوں کے ذخیرے کی رعایت کئے بغیر مل جائیں گے؟ ہرگز نہیں !

اسی لئے میرے عزیز! بچوں کے لئے لکھتے ہوئے آپ کو بچہ بننا پڑے گا، ان کی نفسیات، رجحانات اور دلی میلانات کو سمجھنا پڑے گا اور پسند و ناپسند، جبلی اور نفسیاتی تقاضوں کا دھیان رکھنا ہوگا تبھی وہ آپ کی تحریر میں دلچسپی لیں گے اور آپ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوں گے۔

ذیل میں اسی پس منظر کی وجہ سے بچوں کے لکھاریوں کے لئے 15مفید اور کارآمد اصول پیش کئے جارہے ہیں ، انہیں قبول فرمائیے، عمل میں لائیے اور نتیجہ پائیے۔

(1)لکھنے سے پہلے کے کام:(Before Writing)

(01)بچوں کے لئے کچھ بھی لکھنے سے پہلے آپ کو طے کرنا ہوگا کہ آپ کیا پیغام دینے جارہے ہیں؟، اس تحریر کے ذریعے سے چھوٹے سے دماغ میں کیا بٹھانا چاہتے ہیں؟، ورنہ تحریر بے مقصد ہوجائے گی یا مضمون اور سبق میں کوئی ربط ہی نہیں رہے گا۔ یقین نہیں آتا تو ایک مثال پڑھ لیجئے:

کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک کوے کی کہانی پڑھی تھی، کہ سرداری حاصل کرنے کے لئے اس نے ایک تدبیر کی، سب پرندوں کے پنکھ جمع کئے، اور رنگ برنگی بن کر سرداری حاصل کرلی لیکن جب دوسروں کو اس حقیقت کا پتا چلا تو انہوں نے خوب اس کی درگت بنائی۔ اس کے بعد کہانی سے درس دیتے ہوئے موصوف لکھتے ہیں:

”اچھا اخلاق سب سے بڑی خوب صورتی ہے“۔

لہٰذا یہ طریقہ غلط ہے کہ لکھنے کے بعدتانے بانے ملا کر زبردستی نتیجہ اخذ کیا جائے اور کڑوی دوائی کی طرح بچے کو پکڑ کر پلایا جائے۔

(02)اس کے ساتھ دوسری اہم چیز جس کی لکھنے سے پہلے رعایت کرنی ہے وہ یہ ہے کہ اس مضمون کی وساطت سے جو پیغام آپ دینا چارہے ہیں وہ کس عمر کے بچوں کے لئےہے؟ لکھنے سے پہلے آپ کو متعین کرنا ہوگا کہ یہ پیغام کس عمر کے بچوں کے لئے ہے؟ پندرہ سال کے بچے کے لئے چڑے چڑی کی کہانی اتنی ہی غیر دلچسپ اور بور ہوگی جتنی کہ 8 سال سے کم عمر بچے کے لئے سائنسی معلوماتی کہانی۔

عمر کے تعین ہی سے مضمون کی بہت سی چیزیں متعین ہوتی ہیں مثلاً بنیادی خیال، پلاٹ، اندازِ بیاں، زبان، اس کی طوالت وغیرہ ۔آپ کی معلومات کے لئے یہ نقشہ پیش ہے جس میں ایج لمٹ کے اعتبار سے مضمون یا کتاب کا حجم بتایا گیا ہے۔

0 سے 3 سال تک

200 الفاظ

2 سے پانچ سال تک

200 سے 500 الفاظ

3 سے 7 سال تک

500 سے 800 الفاظ

4 سے 8 سال تک

600 سے 1000 الفاظ

5 سے 10 سال تک

3000 سے 10000 الفاظ

7 سے 12 سال تک

10،000 سے 30،000 الفاظ

(2)لکھتے وقت کے کام: (During Writing)

بچوں کے لئے لکھتے وقت جن باتوں کا خیال رکھنا چاہئے ذیل میں انہیں بیان کیا جارہا ہے۔

(01)ہر مضمون کے تین بنیادی عناصر ہوتے ہیں:

ابتدا، نفس مضمون اور خاتمہ ، مگر جب بات بچوں کی ہو تو اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، ہر عنصرکی پوری پوری رعایت رکھنا ضروری ہوجاتی ہے۔

ابتداء کو کیسے دلکش بنانا ہے؟، آخر سے آگے آنا ہے یا یا درمیان سے شروع کرنا ہے ؟ کردار کا تعارف بیانی ہوگا یا عملی؟درمیان مضمو ن میں سلاست اور تجسس کیسے برقرار رکھنا ہے؟ مکالمہ جات کو کیسے طول دیتے ہیں ؟ خاتمہ میں مسئلہ کا حل دیا جاتا ہے یا کسی اور موڑ کا پتا بتاکر رخصت ہوجاتے ہیں ؟ان ساری چیزوں کی معلومات ہونی چاہئے اور استعمال بھی آنا چاہئے، اگر اب تک پتا نہیں ہیں تو انہیں سیکھئے، لکھاریوں کے مضامین میں تلاش کیجئے،نوٹ کیجئے اور پھر استعمال کیجئے۔

(02)لکھتے وقت انداز چاہے روایتی ہو یا آب بیتی، اس میں بیان، عمل، حرکت اور مکالمے سب کا رنگ ہونا چاہئے لیکن اس طرح کہ کوئی حصہ بھی زیادہ طوالت کا شکار نہ ہو۔ جیساکہ

شعیب ۔۔۔شعیب۔۔شہاب صاحب نےلان میں اخبار پڑھتے ہوئے کہا۔

کمرے میں بال بناتے ہوئے شعیب نے جواب دیا: جی آیا ،بابا جان!

بیٹا! شاپنگ کے لئے جانا ہے، جلدی کرو، دیر ہورہی ہے ۔

جی بابا جان! میں تو تیار ہوں، شعیب لان میں آچکا تھا، و ہ بس علیزہ آپی اورآمنہ تیار ہورہی ہیں،

(03)لکھتے وقت آپ کو یہ یاد رکھنا پڑے گا کہ جس عمر اور علمی کیفیت کے بچہ کو آ پ شروع میں دکھا رہے ہیں آخر تک اس کا لیول اسی طرح رہنا چاہئے، ایسا نہ ہو کہ شروع میں وہ بالکل بھولا نظر آئے اور آخر تک پہنچتے پہنچتے ایسا محسوس ہو کہ وہ تو سب جانتا ہے ۔

جیساکہ ایک کہانی کے شروع میں بچے کی علمی حیثیت واضح کرتے ہوئے لکھا جاتا ہے:

بابا جان کے ساتھ جب گھر کی طرف واپسی ہوئی تو میں نے بابا جان سے پوچھا:

بابا جان ! امام بخاری کون تھے؟

لیکن آخر میں وہی بچہ معصومانہ سوال کرتے ہوئے صاحب کشف الظنون کا چھوٹا بھائی محسوس ہوتا ہے:

بابا جان! امام بخاری نے بخاری شریف کیوں لکھی؟

موطا امام مالک، امام اعظم کی، کتاب الآثار، جامع سفیان ثوری، مصنف ابن ابی شیبہ، مصنف عبد الرزاق اور عبد اللہ ابن مبارک جیسے بڑے بڑے بزرگوں کی کتابیں موجود تھی۔ میں نے بابا جان سے پوچھا۔

(04)یوں ہی بچہ سے جب کوئی بات کہلوائی جائے تو اس کی سطح کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے، ایسا نہ ہو سات سالہ ناصر کتابوں کے حوالہ دے رہا ہو، حدیث عربی متن کے ساتھ بتارہا ہو، معاشرے کی تباہی کے اسباب شمار کروا رہا ہو ، مطلب کہ پوری کہانی میں فطری پن کو برقراررکھنا کہانی کی تاثیر کا سبب بنے گا۔

(05)لکھتے وقت بچہ کے ذخیرہ الفاظ کی رعایت کرنا ایک ضروری امر ہے۔ اس حوالے سے یہ بھی ذہن نشین رہے کہ ابتدا میں لکھنے والے آسان ہی لکھتے ہیں لیکن جوں جوں کہانی آگے بڑھتی ہے واپس اپنی عمر کے لحاظ سے فطری زبان کی کی طرف لوٹ جاتے ہیں، اس لیے اپنے لکھے ہوئے ٹکڑوں کو بار بار دہرانا ضروری ہے۔

(01)جملے چھوٹے ہوں، بچوں کو طویل بیانیےیا زیادہ بیانیے پسند نہیں ہوتے۔

(02)تحریر میں مناسب تکرارہو، جملوں کو دہرایا جائے تاکہ ان کے ننھےذہن میں آپ کے خیالات اپنی جگہ بنا سکیں۔

(03)خیال رہے کہ ضرورت سے زیادہ منظر کشی،نصیحت کے طویل مواعظ، ربط کا فقدان یا صریح تضاد بچوں کی دلچسپی کے ختم ہونے کا سبب بن سکتے ہیں۔

(04)آخری بات یہ ہے کہ ان سب چیزوں سے آپ کی تحریر پڑھنا، سمجھنا آسان ہوجائے گی، اور سچ کہا ہے کسی نے: ’’آسانی سے پڑھی جانے والے تحریر بہت مشکل سے لکھی جاتی ہے۔‘‘

(3)لکھنے کے بعد کے کام: (After Writing)

تحریر لکھنے کے بعد درج ذیل چیزیں عمل میں لانے سے آپ کی تحریر میں نکھار پیدا ہوگا اور دن بہ دن حسن بڑھے گا:

(01)مضمون لکھ لینے کے بعد کچھ دیر کے لئے وقفہ کریں،اسے چھوڑ دیں، وقت ہو تو ایک دن کا وقفہ کریں۔

(02)دوسرے دن مضمون پر نظر ثانی کریں، قاری کے پڑھنے سے قبل ایک بار خود پڑھیں، جارج پلمٹن کو (03)انٹرویو دیتے ہوئے ہیمنگوے نے کہا تھا: اپنالکھا ہوا دوبارہ پڑھئے۔یہ آپ کی تحریر میں نکھار لانے کا سبب بنے گا۔

(04)دوسری بار پڑھتے ہوئے جملوں کی ترتیب اور ربط کا بغور مطالعہ کریں، ان کی نوک پلک سنواریں، املاء دیکھیں،اسے درست کریں۔

(05)اس کے بعد کسی تجربہ کار کو چیک کرائیں اور اچھے مشورے کو قبول کریں۔


شرح فقہ اکبر (از ملا علی قاری) جامعات المدینہ نیز تنظیم المدارس کے درجہ سابعہ کے نصاب میں شامل ہے اسی لئے چند ماہ قبل المدینۃ العلمیہ نے شرح فقہ اکبر کو مکتبۃ المدینہ سے شائع کروانے کا ارادہ کیا۔اس کتاب پر شعبہ درسی کتب نے کام کیالیکن کام کے دوران کتاب کے چند ایسے مقامات سامنے آئے جن میں شرعی اغلاط تھیں چنانچہ ایسے مقامات پر فتاوی رضویہ ودیگر کتب سے حاشیہ لگا کر واضح کر دیاگیا نیز صحیح مسئلہ وموقف بھی بیان کردیاگیا جیسا کہ علمیہ کا اسلوب ہے۔کتاب چھپنے کے لئے پریس پر چلی گئی اور اس بات کو چند ماہ گزر گئے۔ مجلس علمیہ کی ایک اچھی عادت ہے کہ وقتاً فوقتاً کام کے حوالے سے پوچھ گچھ رکھتی ہے کہ کس کتاب پر کیا کام کیا ہورہا ہے وغیرہ، لہٰذا آج سے کچھ عرصہ قبل میرا مجلس کے ساتھ بیٹھنا ہوا تومجلس نے کام کے بارے میں پوچھا، میں نے تمام کارکردگی پیش کردی۔ اسی دوران شرح فقہ اکبر کے بارے میں بھی بات چلی تو فقیر نے اس کے بارے میں بھی مختصرا ًبتایا لیکن جب مجلس کو پتا چلا کہ ہم نے اس کتاب کی متعددشرعی اغلاط کودرست کیا ہے حتی کہ وہ اغلاط جو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کے دَور سے چلی آرہی ہیں انکی بھی تصحیح کردی گئی ہےنیز متن کی تصحیح میں حتی الامکان کافی توجہ دی گئی ہے تو نگران مجلس المدینہ العلمیہ ورکن شوری جناب مولانا محمد شاہد عطاری مدنی نے ارشاد فرمایا کہ جو کام آپ نے کیا ہے اگر اسکا کچھ تعارف ایک جگہ جمع کر دیا جائے تو آپ کا کام ایک نظر میں سامنے آجائے گااور ہم اسے کسی ماہنامے یا شمارے میں شائع کردیں گےچنانچہ مجھے بھی اس کی افادیت کا اندازہ ہوگیا کہ اسطرح اہل علم حضرات تک ہم صحیح دینی مواد پہنچاسکیں گےنیز دعوتِ اسلامی اور اعلی حضرت کا نام مبارک مزید روشن کر سکیں گے۔الغرض انھوں نے اس بات کا اصرار بھی کیا اور ترغیب بھی دلائی، انکی اسی ترغیب کے سبب" شرح فقہ اکبر پر علمیہ کے کام" کے سلسلے میں کچھ لکھنے کا قصد کیا۔ اہل علم وفن بالخصوص علماء کرام سے گزارش ہےکہ اگر اس میں کوئی کوتاہی ہو تو ضرور مطلع فرمائیں۔ انسان بہر حال خطاء کا پتلا ہے غلطی کا امکان پھر بھی باقی ہے۔ واللہ المستعان وعلیہ التکلان۔

شرح فقہ اکبر پر مختلف زاویوں سے کام کیا گیا ہے ، اس کام میں سے چند مقامات کا خلاصہ یہ ہے:

۱۔ غیر اللہ پر لفظِ قیوم کے اطلاق کو جائز لکھا تھا ہم نے ثابت کیا کہ یہ ناجائز ہے اورکتاب میں الحاق ہے۔

۲۔ لکھا تھا کہ "یہ جائز نہیں کہ ابن ملجم کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اور ابو لؤلؤ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قاتل کہا جائے کیونکہ انکا قاتل ہونا تواتر ویقین سے ثابت نہیں"۔ ہم نے اسے درست کردیا اور لکھا: جی ہاں یہ کہنا جائز ہے کہ ابن ملجم نے حضرت علی کو اور ابو لؤلؤ نے حضرت عمر کو قتل کیا (رضی اللہ عنہما)، کیونکہ یہ بات تواتر سے ثابت ہے۔

۳۔ملا علی قاری نے شرح فقہ اکبر میں والدینِ کریمین کے عدمِ ایمان کا قول کیا ہے۔اور اس کی بنیاد امام اعظم کی اس عبارت پر رکھی: (ووالدا رسول الله صلى الله عليه وسلم ماتا على الكفر) (الفقه الاكبر)، لیکن ہم نے ثابت کیا ہے کہ یہ عبارت امامِ اعظم کی نہیں، مزید برآں ملا علی قاری کا اپنے موقف سے رجوع ثابت کیا۔

۴۔ سید المکاشفین شیخ ابن عربی (متوفٰی638ھ) جلیل القدر ولی وصوفی بزرگ گزرے ہیں لیکن ملا علی قاری نے غلطی کی بنا پر انکا رد کیا اور کہا کہ یہ قبولِ ایمانِ فرعون کے قائل ہیں۔ ہم نے ثابت کیا کہ ایسا نہیں ہے۔

پہلی مثال

شرح فقہ اکبر میں ہے

فما سمّى به الربّ نفسه وسمّى به مخلوقاته مثل الحيّ والقيّوم والعليم والقدير, أو سمّى به بعض صفات عباده, فنحن نعقل بقلوبنا معاني هذه الأسماء في حق الله.....إلخ([1])

اس عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ بعض اسماء ایسے ہیں جن کا اطلاق اللہ تعالی نے خود اپنی ذات پر بھی کیا ہے اور ان سے بندوں کو بھی موسوم فرمایا ہے جیسے حی ،قیوم، علیم، قدیر۔تو ایسے اسماء کے معانی کو ہم اللہ تعالی اور بندوں دونوں کے حق میں دل سے تسلیم کرتے ہیں لیکن فرق کے ساتھ یعنی اللہ بھی حی ہے اور بندہ بھی لیکن اللہ خود سے حی ہے اور بندہ خدا کے بنائے سے، اللہ ازل سے حی ہے اور ابد تک لیکن بندہ حادث اور فانی ہے۔ وعلی ھذا القیاس البواقی الی فروق کثیرۃ۔

لیکن شرح فقہ اکبر کی مذکورہ عبارت میں ایک فحش غلطی ہے جس کی وجہ آگے آرہی ہے۔

غلطی یہ ہے کہ اس عبارت میں غیر اللہ پر لفظ (قیوم) کے اطلاق کو جائز کہا گیا ہے حالانکہ یہ جائز نہیں۔ ہمارے موقف کی تائید امام اہل سنت اعلی حضرت کی اس عبارت سے ہوتی ہے۔

[ہماری نظر میں ہیں وہ کلمات جو اکابر اولیاء سے گزر کر اکابر علماء معتمدین مثل امام ابن حجر مکی وملا علی قاری وغیرہما کی کتب مطبوعہ میں پائے جاتے ہیں، اور ہم یقین کرتے ہیں کہ وہ الحاقی ہیں، ایک ہلکی نظیر علی قاری کی شرح فقہ اکبر صفحہ ۴۷ پر ہے:

ماسمی بہ الرب نفسہ وسمی بہ مخلوقاتہ مثل الحی والقیوم والعلیم والقدیر([2]) ۔

نا م کہ رب تعالٰی نے اپنے لئے اور مخلوق کے لئے مقرر فرمائے وہ مثل حی، قیوم، علیم، قدیر ہیں۔ (ت)

اس میں مخلوقات پر قیوم کے اطلاق کا جواز ہے حالانکہ ائمہ فرماتے ہیں کہ غیر خدا کو قیوم کہنا کفر ہے۔

مجمع الانہر میں ہے: اذا اطلق علی المخلوق من الاسماء المختصۃ بالخالق نحو القدوس والقیوم والرحمٰن وغیرھا یکفر([3]) ۔

جو اللہ تعالٰی کے مخصوص ناموں میں سے کسی نام کا اطلاق مخلوق پر کرے، جیسے قدوس، قیوم اور رحمن وغیرہ تو وہ کافر ہوجائے گا۔ (ت)

اسی طرح او رکتابوں میں ہے۔حتی کہ خود اسی شرح فقہ اکبر صفحہ ۲۴۵ میں ہے:

من قال لمخلوق یا قدوس اوالقیوم او الرحمٰن کفر ([4])۔

جو کسی مخلوق کو قدوس یا قیوم یا رحمٰن کہے کافر ہوجائے۔

پھر کیونکر مان سکتے ہیں کہ وہ صفحہ ۴۷ کی عبارت علی قاری کی ہے ضرور الحاق ہے۔](فتاوی رضویہ 15/560)

شرح فقہ اکبر پر کام کے دوران جب ہم اس مقام پر پہنچے تو ہم نے حاشیہ لگا کر عبارت کے سقم کو ظاہر کر دیا۔ فلله الحمد.

دوسری مثال

شرح فقہ اکبر میں ہے:

بل لا يجوز أن يقال إن ابن ملجم قتل عليا رضي الله عنه ولا أبو لؤلؤة قتل عمر رضي الله عنه فإن ذلك لم يثبت متواترا([5]).

اس عبارت میں بھی ایک فحش غلطی ہے کہ جائز کو ناجائز لکھ دیا ہےاور کہا گیا ہے کہ:

[یہ جائز نہیں کہ ابن ملجم کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اور ابو لؤلؤ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قاتل کہا جائے کیونکہ ان کا قاتل ہونا تواتر ویقین سے ثابت نہیں]

حالانکہ صحیح عبارت یہ ہے:

صحیح عبارت: نعم يجوز أن يقال: قتل ابن ملجم عليا رضي الله عنه وقتل أبو لؤلؤة عمر رضي الله عنه، فإن ذلك ثبت متواترا.

یعنی جی ہاں یہ کہنا جائز ہے کہ ابن ملجم نے حضرت علی کو اور ابو لؤلؤ نے حضرت عمر کو قتل کیا (رضی اللہ عنہما)، کیونکہ یہ بات تواتر سے ثابت ہے۔

اب اسکی دلیل ملاحظہ فرمائیں۔

دلیلِ اول: امامِ اہل سنت اعلی حضرت فرماتے ہیں:

وقع هاهنا في نسخة شرح الفقه الأكبر الشائعة في بلادنا تحريف شديد فنُقل فيها لفظ الإحياء هكذا: بل لايجوز أن يقال إن ابن ملجم قتل عليا ولا أبو لؤلؤ قتل عمر فإن ذلك لم يثبت متواترا.هـ, وهو باطل صريح كما لا يخفى, والصواب ما نقلتُ فليتنبه. (الزمزمة القُمرية, ص:27)

اعلی حضرت کے اس قول سے پتا چلا کہ عبارت میں تحریف ہوئی ہے۔نوٹ: اعلی حضرت نے جو صحیح عبارت بیان فرمائی وہ ہم اوپر بیان کرچکے ہیں۔

دلیلِ ثانی: شرح فقہ اکبر میں احیاء العلوم کی جس عبارت کا تذکرہ کیا گیا ہے اسے اگر احیاء العلوم میں دیکھا جائے تو اس طرح ہے:

نعم يجوز أن يقال: قتل ابن ملجم عليا وقتل أبو لؤلؤة عمر رضي الله عنهما, فإن ذلك ثبت متواترا. (احیاء علوم الدین ۳/۱۵۴ دار صادر بیروت)

اسی طرح دار المعرفہ والی احیاء العلوم میں ہے اور اسی طرح شاملہ میں ہے۔اور یہ عبارت بعینہ اسی طرح ہے جس طرح اعلی حضرت نے بیان فرمائی۔

افسوس: لیکن ہمیں افسوس وحیرانی اس بات کی ہے کہ ہمارے پاس موجود شرح فقہ اکبر کے جتنے بھی مطبوعے یا نسخے ہیں (مطبوعہ صورت میں اور نیٹ سے حاصل کئے گئے پی ڈی ایف نسخے) سب میں احیاء العلوم سے نقل کردہ عبارت غلط مرقوم ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ حیرانی اس وقت ہوئی کہ جب بیروت (دار البشائر الاسلامیہ )کی چھپی ہوئی شرح فقہ اکبر دیکھی کہ عبارت وہی کی وہی غلط۔ مزید برآں یہ حیرانی یہاں نہ رکی بلکہ ترقی کر کے اس وقت اپنی انتہاء کو پہنچ گئی جب اسی بیروت والی شرح فقہ اکبر(کے مبحوث عنہ مقام) پر محشی کا حاشیہ دیکھا وہ حاشیہ کیا تھا ملاحظہ فرمائیے:

إذن لِمَا ذا قتلهما أصحابُ رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ أليس لأنه ثبت لديهم قتلُهما؟ اللهم بلى([6]).

یعنی اگر اس بات کو صحیح مان لیا جائے(کہ قاتلین کا یقینی طور پر پتا نہیں چلا تھا یا انکا قاتل ہونا تواتر سے ثابت نہیں) تو پھر اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قتل کیوں کیا ، کیا اس وجہ سےنہیں کہ انکا قتل کرنا صحابہ کے نزدیک ثابت ہو گیا تھا؟ کیوں نہیں، ضرور(ثابت ہو گیا تھا)۔

یہ حاشیہ محشی نے ایک اشکال واعتراض کی صورت میں لگایا ہے لیکن یہ اعتراض تو اس صورت میں ہوگا جب عبارت کو درست مان لیا جائے جیسا کہ لفظِ اذن سے ظاہر ہے([7])۔دوسری بات یہ کہ ان دونوں کو صحابہ کرام نے قتل کیا تھا تو اس میں بھی کلام ہے۔

حیرانی اس وجہ سے ہوئی کہ محشی کو یہاں حاشیہ لگانے کے بجائے احیاء العلوم میں یہ عبارت دیکھنی چاہئے تھی کیونکہ یہ عبارت احیاء العلوم کے حوالے سے شرح فقہ اکبر میں نقل کی گئی ہے، اگر محشی احیاء العلوم میں دیکھ لیتے تو انہیں بخوبی اندازہ بلکہ علم ہو جاتا کہ یہ عبارت امام غزالی کی نہیں ہے، لہذ ا اس عبارت پر مذکورہ حاشیہ (بصورتِ اشکال واعتراض) لگانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔

بہرحال ہم نے شرح فقہ اکبر پر علمیہ کی طرف سے کام کے دوران اس مقام پر تحقیقی حاشیہ لگا دیا ہے۔

تیسری مثال

ایمانِ والدینِ کریمین (فداہما ابی وامی)

مشہور ہے کہ ملا علی قاری نے شرح فقہ اکبر میں حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے والدینِ کریمین کے عدم ایمان کا قول کیا ہے۔ہم نے اس مقام پر تحقیق کے بعد ایک محتاط حاشیہ لگایا ہے۔ قبل اسکے کہ ہم اس حاشیہ کا خلاصہ بیان کریں۔یہ جان لینا ضروری ہے کہ ملا علی قاری نے یہ موقف کیوں اختیار کیا۔ اس موقف کو اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ملا علی قاری کے سامنے فقہ اکبر( مصنف امام اعظم ) کا جو متن تھا اس میں کاتب کی غلطی([8]) سے یا کسی کی تحریف سے یہ عبارت مذکور تھی:

(ووالدا رسول الله صلى الله عليه وسلم ماتا على الكفر)([9]).

یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کا کفر پر خاتمہ ہوا۔ (معاذ اللہ)

ملا علی قاری نےیہ گمان کر کے کہ امام اعظم جیسے عظیم مجتہد نے جب یہ قول کہا ہے توضرور درست ہوگا اسی کو اختیار کیا اور اسی کے دلائل دئیے۔ حالانکہ یہ قول امامِ اعظم کا نہیں بلکہ انکی عبارت میں تحریف یا کاتب کی غلطی تھی۔

اب آئیےاسکی تفصیل کی طرف۔

جیسا کہ ہم ذکر کر آئے ہیں کہ مذکورہ بالا عبارت میں تحریف یا کاتب کی غلطی ہے۔اب صحیح عبارت ملاحظہ فرمائیں۔

(ووالدا رسول الله صلى الله عليه وسلم ما ماتا على الكفر).

اس عبارت کا ترجمہ ہے: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کریمین کا خاتمہ کفر پر نہیں ہوا۔

دیکھئے کس طرح صرف ایک حرف([10])سے عبارت کا مفہوم واضح ودرست ہو گیا۔اس عبارت کے صحیح اور اس سے پچھلی عبارت کے غلط ہونے کے دلائل ملاحظہ فرمائیں:

دلائل:

امام زاہد کوثری فرماتے ہیں:

الحمد للہ خود میں نے اور میرے دوستوں نے دار الکتب المصریہ میں موجود فقہ اکبر کے دو قدیم نسخوں میں ما ماتا کے الفاظ اور مکتبہ شیخ الاسلام کے دو قدیم نسخوں میں ماتا علی الفطرۃ کے الفاظ دیکھے ہیں اور ملا علی قاری نے جو شرح کی ہے وہ غلط نسخہ کی بنیاد پر ہے، یہ ان سے بے ادبی ہوگئی ہے اللہ کریم انھیں معاف فرمائے([11])۔

علامہ طحطاوی فرماتے ہیں:

وہ جو فقہ اکبر میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کا خاتمہ ایمان پر نہیں ہوا یہ امامِ اعظم کے خلاف سازش ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فقہ اکبر کے مستند نسخوں میں ایسا کچھ بھی نہیں([12])۔

شیخ محمد بن ابراہیم بیجوری متوفی 1276فرماتے ہیں:

یہ امامِ اعظم کے خلاف سازش ہے ان کا دامن اس بات سے بری ہے اور ملا علی قاری (اللہ انکی مغفرت کرے) سے غلطی ہوئی کہ ایسا شنیع کلمہ کہا([13])۔

عبارت کا سقم:

قطع نظر ان دلائل کہ جو ہم نے ذکر کئے صرف عبارت پر ہی غور کر لیا جائے تو بخوبی انداز لگایا جاسکتا ہے کہ اس میں کچھ گڑبڑ ضرور ہےآئیے اب سقم عبارت دیکھتے ہیں:

ملا علی قاری نے جو متن اختیار کیا ہے اسکی پوری عبارت یہ ہے:

(ووالدا رسول الله صلى الله عليه وسلم ماتا على الكفر وأبو طالب عمّه مات كافراً)

یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کا خاتمہ کفر پر ہوا اور ابو طالب حضور کا چچا بھی کفر پر مرا۔

عربی جاننے والے حضرات کے ذہن میں فورا یہاں یہ اشکال وارد ہو گا کہ جب والدین کریمین اور ابو طالب دونوں کا خاتمہ کفر پر ہوا توان کو الگ الگ کیوں ذکر کیا بلکہ عربی اسلوب کے مطابق سب کو یکجا کرکے یوں کہا جاسکتا تھا:

ووالدا رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو طالب ماتوا كفارا.

یعنی والدینِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو طالب کا خاتمہ کفر پر ہوا۔

نہ یہ کہ والدین کا کفرالگ بیان کیا جائے اور ابو طالب کا الگ اور کہا جائے:

(ووالدا رسول الله صلى الله عليه وسلم ماتا على الكفر) (وأبو طالب عمّه مات كافراً).

بخلاف اس صورت کے کہ جب اِسے اُس طرح پڑھا جائے جیسے صحیح عبارت ہم نے بیان کی اور وہ یہ ہے:

(ووالدا رسول الله صلى الله عليه وسلم ما ماتا على الكفر) (وأبو طالب عمّه مات كافراً).

آپ نے خود دیکھ لیا کہ کس طرح عبارت صحیح عربی طرز واسلوب میں آکر مستقیم ہوگئی([14])۔ وللہ الحمد

تحریف کی وجوہات:

اتنی بات ذہن نشین کر لینے کے بعد آئیے اب تحریف کی وجہ بھی علما کی زبانی سنتے ہیں چنانچہ:

امام زاہد کوثری فرماتے ہیں: بعض نسخوں میں (ماتا على الفطرة) ہےاور½الفطرة¼ کا رسم الخط ½الكفر¼ سے ملتا جلتا ہے لہذا یہ خطِ کوفی میں باآسانی ½الكفر¼ میں تحریف وتبدیل ہو سکتا ہے([15])۔

حافظ علامہ محمد مرتضٰی زبیدی (شارح احیاء العلوم وقاموس) اپنے رسالے "الإنتصار لِوالدَي النبي المختار" میں فرماتے ہیں:میں نے ہمارے شیخ احمد بن مصطفٰی عمری حلبی مفتیِ لشکر ، عالمِ معمر کے ہاں جو کچھ لکھا ہوا دیکھا اسکا معنی ومفہوم کچھ اس طرح ہے کہ: ناسخ وکاتب نے جب لفظ ما ماتا میں ما کا تکرار دیکھا تو یہ گمان کیا کہ ایک ما زائد ہو گیا ہے لہذا اسے حذف کردیا پھر یہ غلط عبارت والا نسخہ پھیل گیا۔ اور اسکے غلط ہونے پر دلیل سیاق ِ خبر ہے کیونکہ اگر ابو طالب وابوین کریمین ایک ہی حالت (یعنی کفر) پر ہوتے تو مصنف ایک ہی جملہ کہہ کر تینوں کو ایک ہی حکم میں جمع فرماتےنہ یہ کہ دو جملوں میں تذکرہ کرتے باوجود یہ کہ ان تینوں کے حکم میں کوئی تخالف نہ ہوتا([16])۔

ملا علی قاری کا اپنے موقف سے رجوع:

ملا علی قاری علیہ رحمۃ الباری نے اپنے اس موقف سے رجوع کر لیا تھا اور ابوین کریمین کے ثبوتِ ایمان کے قائل ہو گئے تھے چنانچہ خود شرح شفا میں فرماتے ہیں:

(وأما إسلام أبويه ففيه أقوال، والأصح إسلامهما على ما اتفق عليه الأجلّة من الأمة كما بينه السيوطي في رسائله الثلاث المؤلفة). ("شرح الشفا" للقاري, 1/605)

یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کے ایمان کے بارے میں چند اقوال ہیں اور سب سے صحیح قول انکے اسلام کا ہے جس پر امت کے جلیل القدر علماء کا اتفاق ہے جیسا کہ امام سیوطی نے اپنے تین رسالوں میں بیان فرمایا۔

اسی شرح شفا میں ایک اور جگہ ملا علی قاری فرماتے ہیں:

(وأما ما ذكروا من إحيائه عليه الصلاة والسلام أبويَه فالأصح أنه وقع على ما عليه الجُمهور الثقات، كما قال السيوطي في رسائله الثلاث المؤلفات). ("شرح الشفا" للقاري, 1/651)

یعنی یہ جو ذکر کیا گیا ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنے والدین کو (انکے انتقال کے بعد) زندہ فرمایا (اور پھر وہ آپ علیہ السلام پر ایمان لائے) یہ درست ہے اور اسی بات پر جمہور ثقات متفق ہیں جیسا کہ سیوطی نے اپنے تصنیف کردہ تین رسائل میں فرمایا۔

نوٹ: ملا علی قاری شرح شفا کی تالیف سے 1011ھ میں فارغ ہوئے یعنی اپنی وفات سے صرف تین سال پہلے، لہذا یہ انکی آخری تالیفات میں سے ہے۔

ثبوتِ ایمان پر علما کی تالیفات وتصنیفات:

اگر فقہ اکبر کی عبارت درست ہوتی اور امامِ اعظم کا یہی موقف ہوتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کا خاتمہ ایمان پر نہیں ہوا تو کثیر علما ثبوتِ ایمانِ والدین کریمین پر تصنیفات وتالیفات کا خاص اہتمام نہ کرتے اس موضوع پر علما نے جو کثیر کتب تالیف وتصنیف کی ہیں ہم ان کا مکمل احصاء وشمار تو نہیں کر سکتے لیکن ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں:

(١).."شمول الإسلام لأصول الرسول الكرام" للمجدد الأعظم الإمام أحمد رضا خان, ت1340هـ

(٢).."مطلب في نجاة أبويه صلى الله عليه وسلم" للعلامة السيد محمد عبد الله الجرداني الشافعي, ت1331هـ

(٣).."الانتصار لوالدي النبي المختار" للإمام مرتضي الزبيدي, ت1205هـ

(4).."حديقة الصفا في والدي المصطفى" للعلامة أبو محفوظ الكريم المعصومي الهندي, ت1430هـ

(5).."منهاج السنة في كون أبوي النبي في الجنة" للعلامة ابن طولون الدمشقي الحنفي, ت953هـ

(6).."رسالة في أبوي النبي" لأحمد بن سليمان بن كمال باشا, ت940هـ

(7).."انباء الاصطفاء في حق آباء المصطفى" لمحمد بن قاسم بن يعقوب الأماسي, ت940هـ

(8).."تحقيق آمال الداجين في أن والدي المصطفى بفضل الله في الدارين من الناجين" للإمام ابن الجزار المصري, كان حياً سنة984هـ

(9).."الجوهرة المضية في حق أبوي خير البرية" لصالح بن محمد تمرتاشي الغزي, ت1055هـ

(10).."تأديب المتمردين في حق الأبوين" لعبد الأحد بن مصطفى السيواسي, ت1061هـ

(١1).."تحقيق النصرة للقول بإيمان أهل الفَترة"

(12).."منحة البارئ في إصلاح زلة القارئ" كلاهما لحسن بن علي بن يحيى العجيمي المكي, ت1113هـ

(١3).."السرور والفرج في حياة إيمان والدي الرسول" لمحمد بن أبي بكر المرعشي ساجقلي, ت1150هـ

(١4).."تحفة الصفا فيما يتعلق بأبوي المصطفى" لأحمد بن عمر الديربي الغنيمي الأزهري الشافعي, ت1151هـ

(١5).."بسط اليدين لإكرام الأبوين" لمحمد غوث بن ناصر الدين المدراسي ت 1238هـ

(١6).."القول المسدد في نجاة والدي محمد" لمحمد بن عبد الرحمن الأهدل الحسيني ت 1258هـ.

امام سیوطی کے چھے رسائل:

(١7)..مسالك الحنفاء في والدي المصطفى

(١8)..الدرج المنيفة في الآباء الشريفة

(١9)..المقامة السندسية في النسبة المصطفوية

(20)..التعظيم والمنة في أن أبوي رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في الجنة

(21)..نشر العلمين المنيفين في إحياء الأبوين الشريفين

(22)..السبل الجلية في الآباء العلية.

چوتھی مثال۔

سید المکاشفین شیخ ابن عربی (متوفٰی638ھ) جلیل القدر ولی وصوفی بزرگ گزرے ہیں([17]) ان کی متعدد عظیم تصنیفات بھی ہیں جن میں سے الفتوحات المکیہ اور فصوص الحکم بہت مشہور ہیں۔ ان کے بارے میں بعض لوگوں میں یہ مشہور ہوگیا تھا کہ انھوں نے اپنی تصنیفات میں فرعون کے ایمان کا قول کیا ہے حالانکہ یہ بات درست نہیں بلکہ انکی عبارات سے بعض لوگوں نے دھوکاکھایا اور انکے خلاف ہوگئے چنانچہ ملا علی قاری نے بھی شرح فقہ اکبر میں شیخ اکبر ابن عربی کا رد کیا اور کہا کہ میں نے ابن عربی و جلال دوانی کے رد میں مستقل رسالہ لکھا ہے([18]) اور اسمیں فرعون کے ایمان کے قول کا رد کیا ہے([19])۔

شرح فقہ اکبر پر کام کے دوران جب ہم اس مقام پر پہنچے تو ہم نے یہاں ایک حاشیہ لگایا جس میں شیخِ اکبر کے بارے میں غلط تأثر کو رفع کیا اور ثابت کیا کہ شیخ اکبراس اعتراض سے بری الذمہ ہیں۔

آئیے اب ہم اپنے حاشیے کا خلاصہ بیان کرتے ہیں:

خلاصہ یہ ہے کہ شیخ اکبرکی عبارت سےایمانِ فرعون کا مفہوم اخذ کرنا درست نہیں اور اگر اس قسم کی کوئی عبارت ہے جس سے ایسا مفہوم نکلتا ہو تو وہ مصروف عن الظاہر ہے۔([20])

الیواقیت والجواہر للشعرانی میں ہے کہ امام نووی سے جب ابن عربی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:

تلك أمة قد خلت، لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ عقل وشعور رکھنے والے ہر شخص پر حرام ہے کہ اللہ کے کسی بھی ولی کے بارے میں برا گمان وخیال رکھے بلکہ اُس پر یہ واجب ہے کہ اولیاء کے اقوال وافعال کی اچھی تاویل کرے جب تک کہ خود انکے درجے ومرتبے تک نہ پہنچ جائے([21])۔اور اس تاویل سے قلیل التوفیق ہی عاجز رہے گا([22])۔

یاد رہے کہ شیخ اکبر محی الدین ابن عربی نے جان بوجھ کر اپنی تصنیفات میں ایسے الفاظ استعمال کئے ہیں جنکے معانی تک غیر اہل شخص کی رسائی ممکن نہ ہو اور صرف وہی حضرات سمجھ سکیں جنکو سمجھانا مقصود ہو۔ مثال کے طور پر حضرت موصوف کا ایک شعر ہے جس میں خدا کو یوں پکارتے ہیں:

يا من يراني ولا أراه

كم ذا أراه ولا يراني

لفظی ترجمہ: اے وہ ذات جو مجھے دیکھتی ہے اور میں اسے نہیں دیکھتا۔۔۔کتنی مرتبہ میں تو اسے دیکھتا ہوں لیکن وہ مجھے نہیں دیکھتی۔

اس شعر سے جب کسی نے دھوکہ کھا کر حضرت موصوف سے پوچھا کہ اسکا معنی بتائیں تو آپ نے فی الفور جواب دیا:

يا من يراني مجرما

ولا أراه آخذا

كم ذا أراه منعما

ولا يراني لائذا

ترجمہ: اے وہ ذات (ذاتِ خدا) جو مجھے جرم کرتے دیکھتی ہے۔۔۔۔اور میں اسے گرفت کرتے نہیں دیکھتا

اور کتنی مرتبہ میں اسے نعمتوں کی بارش کرتے دیکھتا ہوں۔۔۔۔ اور وہ مجھے اپنی پناہ میں آتا نہیں دیکھتی([23])

قارئینِ کرام آپ نے ملاحظہ فرما لیا ہو گاکہ کس طرح حضرت کے لفظ ولایرانی (وہ مجھے نہیں دیکھتا) سے اشتباہ پیدا ہوااور کس طرح حضرت نے ولایرانی لائذا کہہ کر اپنی مراد بتا دی۔اسی لئے علما نے فرمایا کہ صوفیا کی بظاہر غلط نظرآنے والی عبارات یا انکے اقوال میں جتنا ممکن ہوسکے تاویل سے کام لیکر انکے اچھے معانی بیان کئے جائیں۔ موجودہ دور میں بھی بعض لوگ اپنی کم فہمی یا ذاتی عناد کی بنا پراولیا وصوفیا کی باتوں کا غلط مقصد بیان کرتے ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں صوفیا نے فرمایا:

حرامٌ عليهم النظرُ في كتبنا.

یعنی ایسے لوگوں کے لئے ہماری کتابوں کو دیکھنا حرام ہے۔کیوں کہ یا تو وہ خود کفر میں پڑ سکتے ہیں یا اولیا کی تکفیر کردیں گے۔

اور یہ الزام کہ شیخ اکبر نے ایمان فرعون کا قول کیا ہے تو اسکی تردید میں امام عبد الوہاب شعرانی فرماتے ہیں:

منکر ومخالف کا ایک دعوٰی یہ ہے کہ شیخ اکبر قبولِ ایمانِ فرعون کے قائل ہیں تو یہ شیخ پر کذب وافتراء ہے کیونکہ شیخ اکبر خود اپنی کتاب الفتوحات المکیہ کے باسٹھویں باب میں تصریح فرماتے ہیں کہ فرعون اُن اہل نار میں سے ہے جو کبھی بھی آگ سے نہ نکلیں گے۔اور فتوحات، شیخ کی آخری تالیفات میں سے ہے کیونکہ وہ انتقال سے تین سال قبل اس کتاب کی تالیف سے فارغ ہوئے([24])۔

امامِ اہل سنت اعلی حضرت کاابن عربی کے بارے میں موقف:

آئیے اب اس تمام تر بحث کواعلی حضرت کے ارشادات در بارہ شیخِ اکبر پر ختم کرتے ہیں۔ تاکہ ختمِ سخن ہو اور کلام کی مزید حاجت نہ رہے۔ہم یہاں صر ف ان القابات کا ذکر کریں گے جواعلی حضرت نے شیخ اکبر اور انکی تالیف الفتوحات المکیہ کو دئیے ہیں تاکہ آپ خود شیخِ اکبر کے مقام ومرتبہ کا اندازہ لگا سکیں، القابات یہ ہیں:

(١)حضرت سیدی امام المکاشفین محی الملۃ والدین شیخ اکبر ابن عربی (٢) امامِ اجل, عارف کبیر (٣) اما م الطریقۃ بحر الحقیقۃسیدنا شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رضی الله تعالى عنه فتوحات مکیہ شریف([25]) میں فرماتے ہیں (٤)حضر ت خاتم الولایۃ المحمدیۃ فی زمانہ بحر الحقائق ولسان القوم بجنانہ وبیانہ سیدی شیخ اکبر محی الدین ابن عربی نَفَعَنا اللهُ فی الدّارَين بفَيضانه.

ختم شد



([1]) (منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر اللہ سبحانہ اوجد المخلوقات مصطفی البابی مصر ص۳۹)

([2]) (منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر اللہ سبحانہ اوجد المخلوقات مصطفی البابی مصر ص۳۹)

([3]) (مجمع الانھر شرح ملتقی الابحرثم ان الفاظ الکفر انواع دار احیا التراث العربی بیروت۱/ ۶۹۰)

([4]) ( منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۹۳)

([5]) ( منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر , مصطفی البابی مصر ص72)

([6]) ( منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر , دار البشائر الاسلامیہ بیروت، ص216)

([7]) تقدیرِ عبارت یوں ہوگی: اذا صح ہذا فلما ذا قتلہمااصحاب۔۔۔۔۔۔الخ۔

([8]) جیسا کہ امام زاہد کوثری فرماتےہیں: وعليّ القاري بنى شرحَه على النسخة الخاطئة وأساء الأدب سامحه الله. (مقدمة "العالم والمتعلم" للكوثري ص:7)

([9]) ( منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر , دار البشائر الاسلامیہ بیروت، ص310)

([10]) (ما حرفِ نفی ہے)

([11]) امام زاہد کوثری کی عبارت یہ ہے: وإني بحمد الله رأيت لفظ (ما ماتا) في نسختين بدار الكتب المصرية قديمتين كما رأى بعض أصدقائي لفظَي ½ما ماتا¼ و½ماتا على الفِطرة¼ في نسختين قديمتين بمكتبة شيخ الإسلام, وعليّ القاري بنى شرحَه على النسخة الخاطئة وأساء الأدب سامحه الله. (مقدمة "العالم والمتعلم" للكوثري ص:7)

([12]) علامہ طحطاوی کی عبارت یہ ہے: وما في "الفقه الأكبر" من أن والدَيه صلى الله عليه وسلم ماتا على الكفر فمدسوس على الإمام, ويدل عليه أن النسخ المعتمدة منه ليس فيها شيء من ذلك. (حاشية الطحطاوي على الدر,كتاب النكاح, باب نكاح الكافر, ٢/٨٠)

([13]) علامہ بیجوری کی عبارت یہ ہے: ما نقل عن أبي حنيفة في "الفقه الأكبر" من أن والدَي المصطفى ماتا على الكفر فمدسوس عليه، وحاشاه أن يقول ذلك. وغلط ملا علي القاري غفر الله له في كلمة شنيعة قالها. (تحفة المريد شرح جوهرة التوحيد ص:69)

([14]) اس تمام بحث کو کسی نے یوں بیان کیا ہے: الذي يقرأ: (وأبو طالب مات كافرا) بعد النص الذي نقله ملا عليّ القاري يقول معترضاً حالا: إذا كان والدا رسول الله صلى الله عليه وسلم ماتا على الكفر وأبو طالب كذلك فكان حق الكلام أن يكون هكذا: ووالدا رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو طالب ماتوا كفارا، لا أن يذكر كفر أبويه صلى الله عليه وسلم وحده ويذكر كفر أبي طالب عقبه وحده.

([15]) امام زاہد کوثری کی عبارت یہ ہے: ففي بعض تلك النسخ: (ماتا على الفطرة) و½الفطرة¼ سهلة التحريف إلى ½الكفر¼ في الخط الكوفي. (مقدمة "العالم والمتعلم" للكوثري ص:7)

([16]) حافظ علامہ محمد مرتضٰی زبیدی کی عبارت یہ ہے: وكنتُ رأيتها بخطه عند شيخنا أحمد بن مصطفى العمري الحلبي مفتي العسكر العالم المعمر ما معناه: إن الناسخ لمّا رأى تكرُّر ½ما¼ في ½ما ماتا¼ ظن أن إحداهما زائدة فحذفها فذاعت نسختُه الخاطئة، ومن الدليل على ذلك سياق الخبر لأن أبا طالب والأبوين لو كانوا جميعاً على حالة واحدة لجمع الثلاثة في الحكم بجملة واحدة لا بجملتين مع عدم التخالف بينهم في الحكم. (مقدمة "العالم والمتعلم" للكوثري ص:7)

([17]) انکی پیدائش کا واقعہ مشہور ہے کہ انکے والد گرامی کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی چنانچہ آپ غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ جناب میرے ہاں اولاد نہیں دعا فرمائیں کہ نیک وصالح اولاد ملے۔ غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ نے سر جھکا کر مراقبہ فرمایا اور کچھ دیر بعد سر اٹھا کر فرمایا کہ تمہارے نصیب میں اولاد نہیں ہے، لیکن انہیں بزرگوں سے لینے کے آداب معلوم تھے عرض گزار ہوئے کہ حضرت اگر میرے مقدر میں اولاد ہوتی تو میں آپ سے لینے کیوں آتا، میں تو اپنے مقدر میں آپ سے اولاد لکھوانے آیا ہوں۔ یہ سن کر غوث اعظم جلال میں آگئے اور فرمایا : ادھر آؤ اور میری پشت سے اپنی پشت رگڑو، میری صلب میں صرف ایک بیٹا رہتا ہے یہ لے جاؤ، اس طرح محی الدین ابن عربی پیدا ہوئے۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: میری تقدیر بری ہو تو بھلی کردے کہ ہے۔۔۔محو واثبات کے دفتر پر کروڑا تیرا

([18]) اس رسالہ کا نام ہے : فرالعون ممن یدّعی ایمان فرعون۔ (ایضاح المکنون، ھدیۃ العارفین)

([19]) ملا علی قاری کی عبارت یہ ہے: وفيه رد على ابن العربي ومن تبعه كالجلال الدواني, وقد ألفت رسالة مستقلة في تحقيق هذه المسألة وبينت ما وقع لهم من الوهم فى المواضع المشكلة وأتيت بوضوح الأدلة المستجمعة من الكتاب والسنة ونصوص الأئمة. (منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر , دار البشائر الاسلامیہ بیروت، ص98)

([20]) یعنی اسکا ظاہر ی معنی مراد نہیں۔

([21]) اور جب انکے مرتبے پر پہنچ جائے گا تو انکے قول کے صحیح معنی خود جان لے گا اور صرف اندازے سے تاویل نہیں کرنی پڑے گی. (علمیہ)

([22]) فسئل الإمام محي الدين النووي عن الشيخ محي الدين بن عربي فقال: تلك أمة قد خلت, ولكن الذي عندنا أنه يحرم على كل عاقل أن يسيء الظن بأحد من أولياء الله عزوجل ويجب عليه أن يؤول أقوالهم وأفعالهم ما دام لم يلحق بدرجتهم ولا يعجز عن ذلك إلا قليل التوفيق. (اليواقيت والجواهر للشعراني, ص:12)

([23]) یعنی (گناہوں کو چھوڑ کر) اپنی پناہ میں آتا نہیں دیکھتی۔ (علمیہ)

([24]) قال الإمام عبد الوهاب الشعراني قدس سره الرباني: ومِن دعوى المنكِر أن الشيخ يقول بقبول إيمان فرعون وذلك كذب وافتراء على الشيخ، فقد صرح الشيخ في الباب الثاني والستين من "الفتوحات" بأن فرعون من أهل النار الذين لا يخرجون منها أبد الآبدين و"الفتوحات" من أواخر مؤلفاته فإنه فرغ منها قبل موته بنحو ثلاث سنين. (اليواقيت والجواهر, ص:17)

([25]) اس لفظ سے فتوحات مکیہ کی شرافت ومنزلت کا پتا چلتا ہے، اگر شیخ اکبر نے اس میں ایمانِ فرعون کا قول اختیار کیا ہوتا تو اعلی حضرت اس کتاب کو" شریف" نہ فرماتے، فافہم۔ (علمیہ)


دینی کتب کا مطالعہ کرنے والے بخوبی  جانتے ہیں کہ حوالہ جات میں بارہا فردوس الاخبار ، الفردوس بماثور الخطاب ، مسند الفردوس کے نام آتے ہیں ، کئی طلبہ ناواقفیت کی بنا پر ان کتب کو ایک ہی کتاب کا نام سمجھ لیتے ہیں جبکہ بعض طلبہ ایک کتاب کے نام کو دوسری کتاب کا نام سمجھ بیٹھتے ہیں ، سو اس طرح کی الجھنوں کو دور کرنے کے لیے یہ مضمون ترتیب دیا گیا ہے جس میں ضمناً مختلف علمی و منہجی فوائد ذکر کیے گئے ہیں ۔

بنیادی مقدمات:

اصل موضوع سے پہلے چند ایک باتیں عرض کرتا ہو ں ، اللہ نے چاہا تو طلبہ کرام کے لیے مفید ثابت ہونگی :

٭طالب علم کو چاہیے کہ جس علم کو بھی پڑھے ، تو پڑھنے کیساتھ اس علم پر لکھی کتابوں کی معرفت حاصل کرے کہ اس فن کی بنیادی اور مشہور کتابیں کون کون سی ہیں ، ان کے مصنف کون ہیں ، کس صدی سے ان کا تعلق ہے ،اسی طرح کتاب کا کیا منہج واسلوب ہے اور اگر اس کتاب پر شروح وحواشی وغیرہ لکھے گئے ہیں تو وہ کونسے ہیں وغیرہ ۔

٭ کسی علم یا فن میں تخصص اور مہارت کا ارادہ رکھنے والا وہ طالب علم جواس فن میں اپنی تحقیقی خدمات بھی سرانجام دینا چاہتا ہو یہ اس کے لئے انتہائی ضروری ہے ، کیونکہ اگر اسے کتابوں کے عروج و ارتقا کا معلوم نہ ہوگا تو وہ فن کے ارتقا کو کیسے سمجھے گا اور کس طرح تسلسل کیساتھ فن کو پڑھ اور سمجھ سکے گا ۔ یہاں میں اپنے دور کے ایک بڑے امام کی عبارت ذکر کرتا ہوں جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کتابوں کی صحیح معرفت کتنی ضروری ہے ۔ چنانچہ امام ابو العباس احمد بن خطیب فرماتے ہیں : یہ بات جان لو ! کہ کتابو ں اور ان کے مصنفین کی معرفت فنون میں سے ایک فن ہے اور لا جواب و کمال فن ہے ، اسی طرح فقہاء کے طبقات اور کس فقیہ کا کس زمانے سے تعلق رہا ، اس کو جاننا بھی طالب علم کے لیے انتہائی ضروری ہے ، اسی طرح جو اس طالب علم کے زمانے میں لکھا جارہا ہے اس کا بھی علم ہونا ضروری ہے ۔ ( فہرس الفہارس ،ج1، ص 84)

٭ اب کتاب کے منج واسلوب سے آگہی کے طریقےذکرکئے جاتے ہیں :

1)کتاب کا نام : عام طور پر ہمارے اسلاف کتب کے نام ایسے رکھتے ہیں کہ پڑھ کر ہی کتاب کی اہمیت اور اس کے اسلوب پر بھی اجمالی نظر پڑ جاتی ہے ۔جیسے بخاری شریف کا اصل نام ” الجامع المسند الصحیح المختصر من امور رسول اللہ وسننہ و ایامہ“ہے ، اگر ہم اس نام کی روشنی میں صحیح بخاری کا منہج لکھیں تو کتاب تیار ہوسکتی ہے۔

2)مقدمہ ِ کتاب : عام طور پر ہمارے ائمہ ِ اسلام کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ مقدمہ میں کتاب لکھنے کی وجہ اور اس کا اسلوب بیان کردیتے ہیں ، مثلا اس میں کس علم پر گفتگو ہوگی؟ کتنے ابواب ہونگے؟اور ان ابواب کے تحت کتنی فصول ہونگی؟ ( اگر اس کا شاندار نظارہ کرنا چاہیں تو ایک نظر امام غزالی کے لکھے ہوئے احیاء علوم الدین کے مقدمہ کو پڑھ لیجیے ) ۔ دور حاضر میں تحقیق و تصنیف کا معیاری طریقہ جسے ” البحث العلمی“ سے تعبیر کیا جاتا ہے ، اس میں بتایا جاتا ہے کہ مصنف پر لازم ہے کہ وہ کتاب کی ابتدا میں واضح کردے کہ وہ یہ کتاب کیوں لکھ رہا ہے ، اس نے یہ موضوع کیوں اختیار کیا اور کتاب لکھنے کا کیا طریقہ کار ہوگا وغیرہ وغیرہ۔اس طریقہ بحث کے متعلق یہ گمان کیا جاتا ہے کہ اس کے لانے والے اور سب سے پہلے پیش کرنے والے ” مغربی ماہرین ِ تعلیم “ ہیں حالانکہ ان ماہرین ِ تعلیم کے دنیا میں آنے سے بہت پہلے ہمارے ائمہ دین اپنی کتابوں کے شروع میں مقدمہ کے نام سے یہ ساری چیزیں ذکر کرتے آرہے ہیں ۔ بس اس وقت یہ نیا نام نہ تھا تو کیا نام نہ ہونے سے یا نام کے آج ہونے سے فیصلہ ہوگا کہ کون اس طریقہ ِ تصنیف کا موجد ہے ۔ خلاصہ یہ کہ یہ بات واضح ہے کہ تصنیف و تالیف میں اس طریقہ ِ تصنیف کے موجد ہمارے ائمہ اسلام ہی ہیں ۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں ایک غلط رواج چلا ہوا ہے کہ جب کتاب شروع کی جاتی ہے تو یہ کہہ کر کہ ” اصل کتاب ہے“ ، مقدمہ چھڑوا دیا جاتاہے ، یوں طالب علم پوری کتاب پڑھ لینے کے باوجود بھی صحیح انداز میں اسلوب ِ کتاب بیان کرنے سے عاجز رہتا ہے ، اس لیے ضروری ہے کہ مقدمہ پڑھا جائے بلکہ انتہائی توجہ سے استاد ہی پڑھا دے کہ مقدمات الکتب کنوز مخفیۃ ۔

3)کتاب کا دقتِ نظری سے مطالعہ کرکے اسلوب و منہج کا استقرا کرنا :کتاب کا گہرائی سے مطالعہ کرکے اس کے منہج واسلوب سے آگائی ہوسکتی ہے ۔

4) تعارف علم وکتب پر لکھی کتب کا مطالعہ :

وہ کتابیں جن میں علوم اسلامیہ اور ان علوم کی کتابوں کا تعارف ہو ، اسی طرح وہ کتابیں جن میں مصنفین کا تعارف ذکر کیا جاتا ہے مثلا کشف الظنون ، ہدیۃ العارفین ، مفتاح السعادۃ ، خاص حدیث کے موضوع پر ” الرسالۃ المستطرفہ فی بیان کتب السنۃ المشرفہ “اسی طرح فقہائے ا حناف کے لیے ” الطبقات السنیہ فی تراجم الحنفیۃ“ وغیرہ ( اللہ نے چاہا تو اس موضوع پر ایک مقالہ لکھا جائے گا )، الغرض اپنے فن سے متعلقہ کتاب لیکر اس کے مصنف کے احوال کو دیکھا جائے ۔

اب اختصار کیساتھ اصل موضوع پر آتا ہوں ۔

شہاب الاخبار فی الحکم والامثال والمواعظ والآداب

سب سے پہلے امام شہاب بن سلامہ القضاعی ( م454) نے ایک کتاب لکھی جس میں انھوں نےاخلاق و آداب کے موضوع پر اپنی مسموعات میں سے اسناد کو ذکر کیے بغیر 1200قصار (چھوٹی) احادیث جمع کیں ،جس کا نام انھوں نے ”شہاب الاخبار فی الحکم والامثال والمواعظ والآداب“رکھا ۔ یہ الگ سے تو مطبوع نہیں ہے البتہ دار النوادر سے ایک شرح کیساتھ چند سال قبل شائع ہوئی ہے ۔

مسند الشہاب :

امام قضاعی نے مذکورہ کتاب کے علاوہ ایک اور کتاب لکھی جس میں ”شہاب الاخبار “ کی سندوں کو ذکر کیا بنام ” مسند الشہاب فی الحکم والامثال والمواعظ والآداب “۔ اس میں اولا متن کا ایک جز ذکر کرکے اس کی سند ذکر کرتے ہیں اور پھر پورا متن ذکر کردیتے ہیں ۔ یہ دو جلدوں میں مطبوع ہے ۔

فردوس الاخبار :

پھر امام ابو شجاع شیرُوَیہ بن شھردار بن شیرویہ الدیلمی الہمدانی (م 509) آئے ،انھوں نے مسند شہاب پر اضافے اور اسلوب کی تبدیلی کیساتھ ایک کتاب مرتب کی ۔ کتاب کے نام میں دو قول ہیں ، خود مصنف نے کتاب کے مقدمہ میں ” الفردوس بماثور الخطاب “ ذکر کیا جبکہ علامہ عبد الحی الکتانی رحمۃ اللہ علیہ نے ” فردوس الاخبار بماثور الخطاب المخرج علی کتاب الشہاب “ذکر کیا ہے ۔( الرسالۃ المستطرفہ ،ص:73، ط: دار البشائر الاسلامیہ )۔ یہاں ایک بات واضح کرتا چلوں کہ عام طور پر ہمارے یہاں کے مطبوعہ نسخوں پر اس کا نام ” مصنف کے ذکر کردہ نام سے ہٹ کر ”فردوس الاخبار“لکھا ہوتا ہے ، مثلا دار الفکر بیروت ،دار الکتاب العربی وغیرہ کے نسخوں پر ” فردوس الاخبار “ نام لکھا ہے ، جبکہ دار الکتب العلمیہ کے سن 2010 میں چھپے ہوئے نسخے پر ” مسند الفردوس وہو الفردوس بماثور الخطاب “ لکھا ہے ، (ہمارے ہاں دونوں نسخے موجودہیں ۔)اس میں نام کی تصحیح تو ہوگئی ، لیکن مسند الفردوس لکھ کر قارئین کو اشتبا میں ڈال دیا حتی کہ بعض طلبہ اس سے سمجھنے لگے کہ ” الفردوس بماثور الخطاب “ کا دوسرا نام مسند الفردوس ہے اور ایک کتاب ہے جس کا نام فردوس الاخبار بماثور الخطاب “ ہے ۔ حالانکہ فردوس الاخبار اور الفردوس بماثور الخطاب یہ دونوں ایک ہی کتاب کے نام ہیں جبکہ مسند الفردوس ایک دوسری کتاب ہے جو ان کے بیٹے نے لکھی ہے جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ اس میں احادیث کی تعداد کتنی ہے ؟ مقدمہ میں بیان کیا کہ اس میں دس ہزار احادیث ہیں (فردوس الاخبار ،ج1،ص 40)جبکہ ہمارے یہاں مطبوعہ نسخے میں 9056 ہیں ۔

لطيف  نکتہ : مصنف  کا  نام ” شیرویہ “ ہے ، اس طرح کے دیگر نام  بھی ہیں  مثلا  سیبویہ ، راہویہ وغیرہ   ان  کو  کس طرح پڑھا جائے گا  اس سے متعلق دو قول ہیں :

1)علمائے نحو  کے نزدیک: واو  اور اس سے پہلے والے حرف پر زبر  ، یاء  پر جزم  ، پھر ہاء ہے  یعنی سیبَوَیْہ، شیرَوَیْہ وغیرہ۔ہمارے ہاں یہی رائج ہے۔

2) علمائے حدیث کے نزدیک :   جس طرح فارسی میں پڑھا جاتا ہے ، اسی طرح پڑھتے ہیں  ۔واو سے پہلے والے حرف پر پیش ، واو پر جزم ، یاء کے فتحہ  ، پھر ہاء ساکن  ۔ یعنی سیبُوْیَہ، شیرُوْیَہ وغیرہ  ( تدریب الراوی ، ص338)

الفردوس بماثور الخطاب کا منہج و اسلوب :

الفردوس بماثور الخطاب کی اصل ” مسند شہاب “ ہے ، لہذا اس تناظر میں کتاب کا جو اسلوب سامنے آیا ، اس کے چند نکات پیش ہیں :

۱)احادیث کی سندوں کا حذف ۔

۲)احادیث کو مختصر کرکے ذکر کرنا ۔ اگر کہیں طویل حدیث آجائے تو مختصر ذکر کرکے ” الحدیث “ کہہ کر رک جانا ۔

۳)ہر حدیث کے شروع میں عبارت سے الگ کرکے صحابی راوی کا نام ذکر کرناجسے ” ہامش الکتاب “ کہتے ہیں ( ہمارے مطبوعہ نسخوں میں عبارت کیساتھ ہی ذکر کردیا جاتا ہے) ۔

۴)حروفِ معجم کی ترتیب پر ابواب بندی ۔ ( خیال رہے کہ اس کتاب میں حروف معجم کی ترتیب پر ابواب ہیں ، جبکہ امام سیوطی علیہ الرحمہ کی الجامع الصغیر میں احا دیث ہیں )۔

۵)احادیث کو الفاظ کے ہم شکل ہونے کے اعتبار سے فصول میں تقسیم کرنا ۔

مسند الفردوس :

صاحب ”الفردوس بماثور الخطاب “ کے بیٹے ” امام ابو منصور شَھَردار بن شیرُویہ (م 558)“آئے ، انھوں نے الفردوس بماثور الخطاب پر یہ کام کیا کہ اس کی اسانید جمع کیں اور احادیث کا اضافہ بھی کیا ۔امام ذہبی لکھتے ہیں : حافظ الحديث امام شهردار بن شیرویہ الدیلمی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے والد ِ محترم کی کتاب ” الفردوس بماثور الخطاب “ کی اسانید جمع کی ہیں ، میں نے شہرِ مَرْوْ میں اس کا ایک مکمل اور مہذب نسخہ دیکھا تھا۔ ( سیر اعلام النبلاء ، ج20، ص 376)۔ اس كا نام كيا ہے اس میں دو قول ہیں : عام مخطوطات پر ” مسند الفردوس “ لکھا ہے ،جبکہ امام عبد الروف مناوی رحمۃ اللہ علیہ اور امام عبد الحئی الکتانی رحمۃ اللہ علیہ نے ” إبانة الشبه في معرفة كيفية الوقوف على ما في كتاب الفردوس من علامات الحروف“ ذکر کیا ہے ۔( فیض القدیر ، ج1، ص 37۔ الرسالۃ المستطرفہ ، ص 73)

احادیث کی تعداد ”17000“ سے زیادہ ہیں ۔(تسديد القوس في ترتيب مسند الفردوس ، مخطوط )

مسند الفردوس کا منہج و اسلوب :

مسند الفردوس ابھی تک شائع نہیں ہوئی ، تسدید القوس جو حافظ ابن حجر کا لکھا ہوا مسند الفردوس کا اختصار ہے ، وہ بھی ابھی تک مکمل شائع نہیں ہوا، تسدید القوس کے کچھ حصے دار الکتاب العربی والی” الفردوس بماثور الخطاب “ کیساتھ شائع ہیں ۔البتہ اس ” تسدید القوس مختصر مسند الفرودس “ کا کامل مخطوط پی ڈی ایف میں ہمارے پاس موجود ہے ۔ ابتدا ء میں حافظ ابن حجر نے مسند الفردوس کے مقدمہ کا کچھ حصہ ذکر کیا ہے ، جس کی مدد سے ہم نے مسند الفردوس کا اسلوب تحریر کیا ہے ۔ اسی طرح حافظ ابن حجر کا اس کتاب پر ایک اور کام بنام ”زہر الفردوس “ جو ” الغرائب الملتقطہ“ سے بھی معروف ہے ، جو چند سال قبل ہی شائع ہوا ہے اس کے مقدمہ سے بھی ہم نے معاونت لی ہے ۔

1)ابتدا ء ایک مقدمہ لکھا ، جس میں کتاب لکھنے کی وجہ بتائی کہ اپنے والد ” امام ابو شجاع الدیلمی م 509“کی مذکورہ کتاب میں موجود احادیث کی اسناد ذکر کرنا۔

2)احادیث کی ترتیب میں تبدیلی نہیں کی بل کہ اصلِ کتاب ” الفردوس بماثور الخطاب “کی ترتیب کو ہی برقرار رکھا ہے ۔

3) الفردوس پر احادیث کا اضافہ ۔ چونکہ ان کے والدمحترم نے احادیث قصار کا التزام کیا تھا ،لیکن انھوں نے کام کو وسعت دی اور طویل احادیث کو بھی ذکر کیا ۔ جس کے سبب احادیث کی تعداد 17000 ہزار سے بھی بڑھ گئی۔

4) الفردوس بماثور الخطاب ، اسی طرح اضافہ کردہ احادیث کی تخریج بھی کی ، تخریج میں صحیحین سے ابتدا کرتے ہیں اگر اس میں نہ ہو تو دیگر کتب کے حوالے ذکر کرتے ہیں۔

5)تخریج میں انھوں نے کتب ِ مستخرجا ت کا اسلوب اپنایا ہے کہ تھوڑی بہت لفظی تبدیلی کے باوجود حوالہ مُسَلَّم ہوتا ہے جب کہ حدیث کا سیاق و سباق ایک ہی رہے اور اس حدیث کے راوی صحابی بھی ایک ہی ہوں ۔

6)ابتدا ء میں کتب کے اشارات بیان کردیے ہیں تاکہ تخریج میں تکرار سے بچا جاسکے۔

7)اولا حدیث ذکر کرتے ہیں ، پھر مکمل سند بیان کرکے ”الحدیث“ لکھ کر سابقہ متن کی طرف اشارہ کردیتے ہیں۔

8،9،10)الفاظ میں اختلاف ہو تو اسے بھی بیان کرتے ہیں، اسی طرح بعض اوقات مشکل الفاظ کے معانی بھی بیان کرتے ہیں۔ بسااوقات یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث ان کے علاوہ کس کس صحابی سے مروی ہے ۔

اس کتاب میں مصنف نے ان کتب سے بھی احادیث لی ہیں جو مفقود ہوچکی ، اسی طرح ایسی احادیث بھی ہیں جو مشہور و معروف کتب میں نہیں پائی جاتی اور مصنف نے محنت کرکے انہیں جمع کیا ہے ، اس لیے علما نے تخریج ِ حدیث کے لیے اسے حدیث کا ایک اہم مصدر قرار دیا ۔

اس کتاب پر ہونے والے کام :

حافظ ابن حجر م 856نے اس کتاب پر دو کام کیے :

تسدید القوس فی ترتیب مسند الفردوس :

اس میں حافظ ابن حجر نے مسند الفردوس کا اختصار کیا ہے ۔ طریقہ کار یہ ہے کہ ہر حدیث کا ابتدائی حصہ یا معروف حصہ ذکر کرتے ہیں ، اس کے ساتھ تخریج بھی کرتے ہیں کہ کس کتاب میں یہ روایت موجود ہے ۔

منہج و اسلوب :

اس کتاب میں حافظ ابن حجر کے پیش نظر اختصار ہے ۔ انھوں نے تین چیزوں میں اختصار سے کام لیا ہے :

1)احادیث ذکر کرنے میں : کیونکہ حافظ ابن حجر نے مسند الفردوس میں ذکر کردہ تمام احادیث ذکر نہیں کیں ، بل کہ ان میں سے احادیث کو منتخب کیا ہے ۔

2)متن ِ حدیث میں اختصار: حافظ ابن حجر متن حدیث بھی مکمل ذکر نہیں کرتے بلکہ اس کا ایک معروف حصہ ذکرکردیتے ہیں ۔

3) طریقہ ِتخریج میں اختصار: صاحب مسند الفردوس کا تخریج میں کیا انداز ہے ، پیچھے گزر چکا ، چونکہ تخریج بھی کتاب کی طوالت کا سبب تھا ، اسی لیے حافظ ابن حجر نے تخریج میں بھی اختصار کیا بایں طور کہ محض مصنفِ کتاب کا نام ذکر کیا ۔ البتہ ضرورتاً کتاب کا نام بھی ذکر کردیتے ہیں ۔

زہر الفردوس :

بعض نے اس کا نام ” الغرائب الملتقطہ“ بھی ذکر کیا ہےشائع شدہ نسخے میں یہیں نام لکھاہے لیکن صحیح طور پر”زہر الفردوس “ ہی ثابت ہے ، حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کے حالات و سوانح پر لکھی کتاب میں آپ کے جلیل القدر شاگرد ” امام عبد الرحمن السخاوی “ نے اس کا نام یہی ذکر کیا ہے ۔ دیکھیے : الجواہر والدر ر،ج2، ص 667

زہر الفردوس پر منہج و اسلوب کے طریقوں کی تطبیق :

1)کتاب کا نام : زہر الفردوس۔الغرائب الملتقطہ ( چونکہ یہ نام بھی منقول ہے اس لیے اسے بھی لیا گیا ہے) : اس نام کا جب دقیق نظر سے جائزہ لیا تو یہ امور واضح ہوئے :

حافظ ابن حجر کی اس کتاب کا تعلق ” مسند الفردوس “ سے ہے یعنی یہ مسند الفردوس پر کسی نوعیت کا کام ہے ۔

زہر کا اصولی اور اساسی معنی ہے : خوبصورتی ، چمک دمک وغیرہ ، چونکہ پھول بھی ایک خوبصورت شے ہے اس لیے اسے بھی ” زہر یا زہرۃ “ کہا جاتا ہے ۔ اس کی مناسبت جو سمجھ آرہی ہے ، وہ یہ ہے : : در اصل مسند الفردوس میں احادیث دو طرح کی ہیں : بعض احادیث وہ ہیں جو معروف ہیں اور دیگر کتب ِ مشہورہ میں بھی بآسانی مل جاتی ہیں جبکہ دیگر بعض احادیث غیر معروف کتب میں پائے جانے کی وجہ سے بآسانی نہیں ملتی۔لہذا اس کتاب کا اصل کمال اور حسن ” ان احادیث کا ایک جگہ مل جانا “ ہے ،لہذا معلوم ہوا کہ حافظ ابن حجر اپنی اس کتا ب میں مسند الفردوس سے فقط انہی احادیث کا انتخاب کریں گے جو زیادہ معروف نہیں ہیں ، اسی لیے اس کا دوسرا نام ” الغرائب الملتقطہ من مسند الفردوس “ ہے یعنی مسند الفردوس سے ان احادیث کا انتخاب جو زیادہ معروف نہیں ۔

2)مقدمہ ِ کتاب : حافظ ابن حجر نے مقدمہ کتاب کے طور پر چند سطور ذکر کی ہیں ، ان سے جو منہج و اسلوب سامنے آیا وہ نکات کی صورت میں پیش ہے :

۱)اس کتاب میں درج احادیث مسند الفردوس کا ایک حصہ ہیں ، پوری کتاب پر کام نہیں ہے ۔

۲)حافظ ابن حجر نے منتخب کردہ احادیث کا ” اسماء الرجال “ کے اعتبار سے تعین کیا ہے کہ آیا وہ حدیث صحیح ، حسن یا ضعیف ہے ۔ ( یہ حافظ ابن حجر نے مقدمہ میں بیان کیا ہے لیکن آگے جا کر احادیث پر حکم لگانے میں ہر جگہ اسے ملحوظ نہیں رکھا۔)

۳) حافظ ابن حجر نے مسند الفردوس سے جن احادیث کا انتخاب کیا ہے ان میں سے اکثر احادیث ” غیر معروف کتب“ سے لی گئی ہیں ، اس بات کو بیان کرکے حافظ ابن حجر نے مشہورکے نام ذکر کیے ہیں : کتب ستہ ، مسند امام شافعی ، مسند امام احمد ، امام طبرانی کی تینوں معاجم ، مسند ابو یعلی ، مسند احمد بن منیع، مسند ابو داود الطیالسی ، مسند حارث بن ابو اسامہ ۔

پھر لکھا کہ اس کے علاوہ دیگر کتب سے لی ہوئی احادیث ، اسی طرح وہ حدیثیں جن کی سند صاحب مسند الفردوس نے ذکر کی لیکن کسی کتاب کا حوالہ نہیں دیا یا ان کے والد نے ذکر کیں لیکن بیٹے نے اس کی تخریج نہیں کی ، اس طرح کی تمام احادیث اس تعلیق میں مذکور ہیں۔ ( اس میں الغرائب الملتقطہ کے مقدمہ سے بھی مدد لی گئی ہے )

3)کتاب کا دقتِ نظری سے مطالعہ کرکے اسلوب و منہج کا استقرا کرنا : استقرا سے جو اسلوب و مناہج واضح ہوئے ، ان میں سے بعض یہ ہیں :

1) کتاب کے شروع میں ایک مقدمہ ذکر کیا ، جس میں مختصر اسلوب واضح کیا۔

۲)اصل ( مسند الفردوس ) کی ترتیب پر ہی احادیث کو باقی رکھا ۔

۳) احادیث کو صاحب کتاب کی سند سے ذکر کرنا ۔

۴) بسااوقات حافظ ابن حجرتخریج کرنے میں اختصار کے پیش ِ نظر صاحب ِکتاب کی مصنف ِ کتاب تک ذکر کردہ سند کو حذف کردیتے ہیں ، فقط مصنف کا نام ذکر کردیتے ہیں۔

۵) کبھی کبھار احادیث کو بالمعنی بھی روایت کرتے اور الفاظ ِ حدیث میں تقدیم و تاخیر کرتے ہیں ۔

۶) امام دیلمی کی سند میں اگر کہیں سقط واقع ہوا ہے تو اسے اصل کے مطابق مکمل کردیتے ہیں ۔

۷)بسااوقات حدیث ذکر کرنے کے بعد کسی راوی کا حال بھی ذکر کردیتے ہیں، راوی کا حال بیان کرنے میں یاتو اپنا تحقیقی حکم نقل کرتے ہیں یا پھر کسی ناقد کا قول ذکر کرتے ہیں۔

۸) کبھی کبھار راویِ حدیث کی کسی نے متابعت کی ہو تو اس کی جانب اشارہ کردیتے ہیں۔

۹) سند ا حدیث مرفوع ہے یا موقوف، اسی طرح متصل ہے یا منقطع ،ا س میں اگر اختلاف تو اسے بیان کرتے ہیں ۔

۱۰) بعض اوقات حدیث ذکر کرنے کے بعد اس پر صریح حکم بھی ذکر کردیتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے ، یہ ضعیف ہے وغیرہ وغیرہ

۱۱) چند ایک مقامات پر احادیث میں آنے والے مشکل اور غریب الفاظ کے معانی بھی ذکر کیے ہیں ۔

۱۲) بسااوقات ایک صحابی سے حدیث کو ذکر کرکے دوسرے صحابی سے مروی ہونے کی جانب اشارہ کردیتے ہیں۔

قاسم بن قطلو بغا: اسی طرح حافظ ابن حجر کے شاگرد رشید ” امام حافظ قاسم بن قطلوبغا الحنفی رحمۃ اللہ علیہ “ نے بھی مسند الفردوس پر ایک کام کیا تھا ( فہرس الفہارس ، ج2، ص :972)لیکن یہ مطبوع نہیں ہے اور غالب گمان یہی ہے کہ یہ ان کتب میں سے ہے جو ہم تک نہ پہنچی۔

الفردوس بماثور الخطاب میں موجوداحادیث کی تخریج کے لیے اقدامات:

چونکہ الفردوس بماثور الخطاب میں بغیر سند کے احادیث ہیں اور وہ کتاب جس میں اس کی اسانید جمع کی گئی ہیں وہ مخطوط ہے تو ایسی صورت میں اگر کہیں الفردوس سے حدیث آئے تو یہ اقدامات کیے جائیں :

1)” زہر الفردوس “ کو لازما دیکھئے کہ اس میں حافظ ابن حجر نے کافی احادیث بالخصوص غیر معروف احادیث کی اسانید جمع کردی ہیں اور ساتھ ہی کئی ایک مقامات پر راویوں پر حکم بھی لگایا ہے ، اسی طرح بعض احادیث پر بھی حکم لگایا ہے ۔

2)اگر اس میں نہ ملے تو ” کتب ستہ“ میں اجمالی طور پر دیکھنے کے لیے ” جامع الاصول فی احادیث الرسول “ کو دیکھئے کہ اس میں کتب ستہ کی احادیث کو مکررات کے بغیر جمع کردیا گیا ہے ۔

3(اسی طرح مجمع الزوائد میں دیکھئے کہ اس میں مسانید ثلاثہ ” مسند احمد ، مسند ابو یعلی اور مسند بزار “ اور امام طبرانی کی معاجم ثلاثہ ” المعجم الکبیر ، المعجم الصغیر اور المعجم الاوسط ) کو جمع کردیا گیا ہے ۔

4)اس میں نہ ملے تو کنز العمال میں تلاش کریں وہاں اکثر طور پر مل جائے گی اور ساتھ میں مصدر سے تخریج بھی ہوگی ،یوں اصل مصدر تک پہنچ سکتے ہیں ۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں علم ِ نافع ، عمل صالح عطا فرمائے اور مطالعے کا شوق و ذوق دے ! آمین 


لائبریری" لاطینی" زبان کا لفظ ہے جو "لائبر "سےبنا ہے اس کا معنی ہے کتاب ،سادہ الفاظ میں یوں سمجھئے کہ لائبریری اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کتابوں، رسالوں، اخباروں اور معلوماتی مواد کو جمع کیا جاتا ہے۔ اردواور فارسی میں اس کےلئے کتب خانہ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جب کہ عربی میں اس کا مترادف لفظ خزانة الکتب ،مکتبہ اور دارالکتب ہے۔لائبریری دراصل ایسا عظیم مقام ہے جہاں ہزاروں سالوں کا فکری و علمی اثاثہ لاکھوں کروڑوں اربابِ علم و دانش کی ذہنی اور قلمی کاوشوں کا ثمرہ اور حاصل جمع ہوتا ہے۔ جہاں الہامی کتب، بعض انسانی استعداد اور شعوری وسعت کے مفاہیم کے لفظی مجموعے، محدّثین و مفسّرین کی تفاسیر و شروحات کا مجموعہ،محققین و مفکرین کی تحقیقات و افکارکا علمی خزانہ، مصنفین و مترجمین کی کتب و تراجم ،انسانی تحریرات کا سرمایہ، علوم و فنون کی دولت،شاعروں، نثرنگاروں، ادیبوں اور خطیبوں کی قلمی فتوحات کا ذخیرہ یکجا ایک چھت کے نیچے میسر ہوتا ہے۔ لائبریری میں داخل ہونے والا لاکھوں نابغہ روزگار صفحہ ہستی کے شاہکار لوگوں سے بغل گیر اور ہم کلام ہوتا ہے اور ان کی فکری روشنی سے جہانِ ذہن و قلب کو جگمگاتا ہے ۔

لائبریری کی اہمیت

لائبریری علم و فکر اور تعلیم و تعلم کا مظہر و مرکز ہے ’’کتب‘‘سفاہت سے معرفت، جہالت سے علم اور ظلمات سے نور کی طرف لے جاتی ہیں ، کسی بھی قوم کو کسی بھی میدان میں عملی تجربات سے قبل نظریات اور اصول چاہئیں جن کی حفاظت و ترویج گاہیں لائبریریز ہیں ،جن کی اہمیت و افادیت کو مہذب قوموں نے ہر دور میں تسلیم کیا ہے۔ اہل علم کسی ملک میں پائی جانے والی لائبریرز کو اس ملک کی ثقافتی ، تعلیمی اور صنعتی ترقی کا نہ صرف پیمانہ بلکہ قومی ورثہ قرار دیتے ہیں۔ اگر کسی ملک کی ترقی کا جائزہ لینا ہو تو وہاں پر موجود تعلیمی اداروں کو دیکھا جائے اور تعلیمی اداروں کی ترقی کاجائزہ لیناہوتو وہاں پر موجودلائبریرز کودیکھا جائے۔ جہاں لائبریریز آباد ہوں گی وہاں تعلیمی ادارے بھی اسی قدر تعلیم و تحقیق میں فعال ہوں گے۔ جس کا لازمی نتیجہ ملک کی معاشی و معاشرتی ترقی اور عوام کی خوشحالی ہے۔ تاریخ بھی اُنہی قوموں کا احترام کرتی ہے جو اپنے عِلمی سرمائے کی حِفاظت کرنا جانتی ہیں۔ مہنگائی کے اِس دور میں نئی کتابیں خریدنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے اس لئے ذاتی لائبریری بنانا بھی ناممکن ہوتا جا رہا ہے تو اس اعتبار سے بھی لائبریریزکی اہمیت کہیں بڑھ جاتی ہے، پھرہر انسان کی اپنی اپنی پسند اور اپنا اپنا ذوق ہوتا ہے۔ بعض تاریخی کتابیں پسند کرتے ہیں۔ بعض ادبی، بعض سیاسی اور بعض دینی کتابوں کا شوق رکھتے ہیں۔ ایک لائبریری میں مختلف موضوعات سے متعلق کتابیں ہوتی ہیں اور ایک موضوع پر بہت سے کتابیں مل جاتی ہیں اور انسان بیک وقت ایک موضوع پر ہر قسم کے خیالات سے استفادہ کر سکتا ہے۔ تجزیے، تحقیق، رائے اور بھی بہت سے ذریعے ہیں لائبریری کی افادیت کو بیان کرنے کے لیے مگر مُختصراً یہ کہ جیسے ہر شے کو بڑھنے اور پھلنے پھولنے کے لیے ایک ماحول کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح کتابی کلچر کو بڑھانے کے لیے معاشرے میں لائبریریوں کی ضرورت ہے۔

لائبریری کی ضرورت کیوں ؟

کتاب کی اہمیت وضرورت سے کسی بھی ذی شعور کو انکار کی راہ نہیں ہے ، کتاب پڑھنے سے جہاں ذہن کھلتا ہے فکر و خیال نکھرتے ہیں وہیں پر یہی کتاب زندگی کےنشیب و فراز کی بہترین مددگار بھی ہے مگر یہ سب مُہذب و دینی کتابوں سے ہی حاصل ہو سکتا ہے نہ کہ وہ کتابیں جو فحاشی کو فروغ دیں۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب جدید ٹیکنالوجی نے ہر کام آسان کر دیا ہے ، ہم ہزارں لاکھوں کتابوں کا ذخیرہ اپنے موبائل لیپ ٹاپ میں رکھ سکتے ہیں ان کو کھولنا، سرچ کرنا اور اپنے مطلوبہ مواد تک پہنچنا نہایت ہی آسان ہو چکا ہے تو پھرلائبریری کی ضرورت کیوں؟تو یاد رہے کہ تعلیم و تعلم کے لئے جہاں کتاب استاد اور تعلیمی ادارے کی سخت ضرورت ہے وہیں لائبریری کا ہونا بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کی ٹیکنالوجی تک پہنچ ہم سے زیادہ ہے مگر اُن کے ہاں ابھی بھی پبلک لائبریریز کھُلی رہتی ہیں، کیوں کہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ٹیبلٹ یا موبائل سے پڑھنے کی نسبت کتاب سے پڑھی گئی تحریر جلد سمجھ آ جاتی ہے اور یاد بھی رہتی ہے۔ماہر نفسیات کے مطابق جب ہم کوئی چیز پڑھتے ہیں تو ہمارا ذہن متواتر اس کا موازنہ کرتا رہتا ہے اور اسی کے مطابق نقوش کھینچ لیتا ہے جو کہ مُستقبل کے لیے ہمیں یاد رہ جاتے ہیں۔ بنسبت اسکرین کے پڑھنے سے کتاب سے پڑھنے والے الفاظ کی نقشہ سازی نہایت واضح ہوتی ہے۔ کتاب کی دائیں اور بائیں صفحے اور آٹھ کونے الفاظ کی جگہ کو یاد رکھنے کا سبب ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے بنسبت اسکرین پہ ریڈنگ کے کتاب پر ریڈنگ بھی آسان ہو جاتی ہے۔ کتاب پر پڑھنا اسکرین پر پڑھنے سے زیادہ جسمانی وجود رکھتا ہے۔اس لیے دُنیا میں ٹیکنالوجی کی اس قدر ترقی کے باوجود لوگ اسکرین سے پڑھنے کے بجائے کتاب سے پڑھنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں، اور پھر جب بات کتاب پڑھنے کی آتی ہے تو گھر کے بجائے لائبریری کو فوقیت دینا بھی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ لائبریری ایک ایسا ماحول پیدا کر دیتی ہے جہاں کتاب کو پڑھنے اور سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ماہر نفسیات کے مطابق ہم پڑھتے وقت دو طرح سے تھک جاتے ہیں ایک نفسیاتی حوالے سے، دوسرا جسمانی حوالے سے۔ لائبریری میں پڑھنے کا یہ فائدہ ہے کہ انسان نفسیاتی تھکاوٹ کا کم شکار رہتا ہے کیونکہ ہم اپنے ارد گرد لوگوں کو پڑھنے میں مصروف دیکھتے ہیں تو ذہن اس بات پر آمادہ ہو جاتا ہے کہ اُن کی طرح ہم بھی نہیں تھکے ہیں۔لائبریری کا ایک سب سے اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ ہر طالب علم ہر کتاب کو نہیں خرید سکتا، مگر لائبریری میں اُنہیں کئی بہترین کتابیں میسر ہو سکتی ہیں۔ لائبریری صرف کتابیں یا کتب بینی کےلیےایک ماحول مہیانہیں کرتی بلکہ یہ معاشرے کا وہ حصہ ہے جہاں باقاعدہ مُستقبل کی نشوونما ہو رہی ہوتی ہے۔ یہیں پر طلبا اپنی سوچ کے مطابق دوسرےا فراد سے ملتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ معلومات بانٹتے ہیں، کتابوں کے اوپر اپنی رائے پیش کرتے ہیں، تجزیے کرتے ہیں، جس سے ان کی معلومات میں مزید اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

لائبریری اور کتب کی درجہ بندی

لائبریری میں درجہ بندی (classification) ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اگر کتب کی ترتیب درست نہ ہو اور مواد بکھرا ہوا ہو تو لائبریری کے فوائد و ثمرات کماحقہ حاصل نہ ہوں گے،درجہ بندی دراصل اس علمی عمل کو کہتے ہیں کہ جس کے تحت مختلف اقسام کی اجناس،یا علوم میں امتیاز اور تفریق چند خصوصیات کی بنیاد پر کی جائےیعنی کتابوں یا دیگر موجود مواد کو کسی خاصیت کی بنا پر الگ الگ کردیناجیسے علوم کے مطابق کتب کو الگ الگ خانوں میں رکھنا، اس طرح فقہ کی کتب الگ اور حدیث کی کتب الگ ہو جائیں گی، اسی طرح زبان وار، ملک وار، یا فن وار کتب کو الگ الگ رکھا جائے ۔ اب درجہ بندی کیسے کی جائے؟ کونسا طریقہ اپنایا جائے ؟اس میں لائبریری کا عملہ اپنی کتب و مواد کو مد نظر رکھ کر ہی کرے گا کیونکہ مواد کی نوعیت کے حساب سے درجہ بندی میں بھی فرق ہو گا ۔

لائبریری میں موجود کتب کی اقسام

لائبریری میں موجود ،مصادر و مراجع اور کتب کو درج ذیل اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔عمومی دائرۃ المعارف (General Encyclopedias)

مخصوص دائرۃ المعارف (Specialized Encyclopedia)

عمومی معاجم (General Dictionaries)

مخصوص معاجم (Specialized Dictionaries)

سالانہ کارکردگی پر مبنی کتب (Year Books)

سوانح عمریاں (Biographies)

حوالہ جاتی کتب (Bibliographies)

تحقیقی مجلات(Periodicals)

رسائل و اخبارات(News Papers and Magazines)

نایاب کتابیں (Reserved Books)

فہارس(Indexes)

کتابیں (Books)

مخطوطات(Manuscripts)

تحقیقی مقالات (Theses Dissertations)

لائبریری سے کتاب لینے کے اصول

لائبریریز سے کتاب کا حصول مخصوص نظام کے تحت ہوتا ہے اور یہ نظام لائبریریوں کے منتظمین خود طے کرتے ہیں جس کی وجہ سے اس نظام میں اختلاف پایا جاتا ہے البتہ جو چیزیں تقریباً لائبریرز میں مشترک ہوتی ہیں وہ پیشِ خدمت ہیں ۔

کتاب کے حصول کی شرائطکتاب حاصل کرنے کے اوقاتلائبریری سے حاصل کردہ کتب کی تعدادکتاب واپس کرنے کی مدتوہ کتابیں جو جاری نہیں کی جاتیں محتاط انداز میں دی جانے والی کتب کتاب ضائع ہو جانے کا تاوان (تحقیق و تدوین کا طریقہ کار،ص 52تا56)

لائبریرین کی خصوصیات

جس طرح لائبریرین کے بغیر لائبریری کا نظام کامیاب نہیں ہو سکتا اسی طرح اگر لائبریرین میں چند خصوصیات نہ ہوں تو بھی یہ نظام ناکامی کا منہ دیکھتا ہے لہذا لائبریرین کے لئےدرج ذیل چند خصوصیات کا حامل ہونا انتہائی ضروری ہے ۔

لائبریری میں موجود تمام کتابی اور غیر کتابی مواد سے کلّی طور پر شناسائی قارئین کےمزاج ،ذوق و شوق سے آگاہی لائبریری کے مواد کا انتخاب اور اس کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت و قابلیتقارئین کے سوالات کا تجزیہ کرنےاور احسن طریقےسے اس کا حل نکالنے کی قابلیتقارئین کے لائبریری کے استعمال اور مواد سے مستفیدہونے میں خوشدلی سے مدد اور تعاون کرنا لائبریرین اعلی اخلاق کا مالک ہو نے کے ساتھ ساتھ ملنساری اورصبر و تحمل جیسی خوبیوں سے سرشار ہو ۔

گھر میں لائبریری بنانے کے فوائد

دنیا میں کونسے ایسے والدین ہیں جو یہ نہیں چاہتے کہ ان کے بچے دینی و دنیوی معلومات میں آگے بڑھیں ؟ یقیناً کوئی نہیں ۔ ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد اپنا زیادہ سے زیادہ وقت علمی سر گرمیوں میں گزارے ،اور اس خواہش کی تکمیل کے لئے گھر میں ایک خوبصورت، دلکش اور پرسکون لائبریری کا ہونا انتہائی ضروری ہے جس میں دینی و دنیوی ایسی کتب جو معتبر مواد پر مشتمل ہوں اور غیر اخلاقی مواد سے پاک ہوں موجود ہوں ۔ گھر میں لائبریر ی كے چند فوائد پیشِ خدمت ہیں ۔

گھر میں موجود لائبریری بچوں کی اخلاقی تربیت کرنے میں بہترین معاون ثابت ہوتی ہے۔گھر میں لائبریری کے وجود سے بچوں میں علم دوستی اور سیکھنےکا رجحان پروان چڑھتا ہے۔گھر میں موجود لائبریری بچوں کی ذہنی استعداد میں اضافہ کر کےان کی صلاحیت کو بڑھاتی ہے۔کم عمری میں کتب سے آشنائی ہوجائےتو طویل مدتی صلاحیتیں پیدا ہوتی ہیں۔گھر میں لائبریری کا اثر ایسا ہے جیسے بچوں نے کئی سال کی اضافی تعلیم حاصل کر رکھی ہو۔جو بچے ہوم لائبریریوں میں پلے بڑھے ہوتے ہیں ان کا علم اپنے ہم عمر بچوں سے زیادہ ہوتا ہے۔گھر میں موجود لائبریری ہماری ذہنی و فکری نشوونما کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں بری صحبت سے بھی دور رکھتی ہے ۔کسی دانشور نے کہا تھا کہ جس گھر میں اچھی کتابیں نہیں وہ گھر حقیقتاً گھر کہلانے کا مستحق نہیں وہ تو زندہ مردوں کا قبرستان ہے۔

ایک تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی تھی کہ کتابیں نوعمری میں ایک لڑکے یا لڑکی کی پڑھنے کی صلاحیت،اور انفارمیشن کمیونی کیشن ٹیکنالوجی جیسے ہنر کو کس طرح بڑھاتی ہیں۔ اس کے لیے 2011ء سے 2015ء کے درمیان 31ملکوں کے ایک لاکھ 60ہزار نو عمر افراد کا مشاہدہ کیا تھا۔ تحقیق میں نوجوانوں سے سوال کیا گیاکہ جب آپ 16سال کے تھے، اس وقت آپ کے گھر میں اندازاً کتنی کتابیں موجود تھیں؟(ان کتابوں میں نصابی کتب شامل نہیں اور ایک میٹر کے شیلف میں تقریباً40کتابیں رکھی جاسکتی ہیں)تحقیق کا نتیجہ یہ نکلا کہ جس گھر میں 80یا اس سے زائد کتابیں موجود ہوں، وہاں بچے اورنوجوان پڑھنے کی صلاحیت،ہندسوں کے علم اور انفارمیشن کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کے ہنر میں اُن بچوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ آگے ہوتے ہیں جن کے گھر میں کتابیں نہیں ہوتیں ۔ وہ والدین جو چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کو گھر کی لائبریری کے خاطر خواہ فوائد پہنچیں، وہ گھر میں زیادہ سے زیادہ کتابیں رکھیں ۔

المدینہ لائبریری اورامیراہلسنت

محترم قارئین!شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت حضرت علّامہ محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں: دینی کتب کا مطالعہ اپنی عادت بنالیجئے، اِنْ شَآءَ اللہ آپ کی نسلوں کو فائدہ ہوگا۔آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ہفتہ وار رسالے کےمطالعہ کا ایسا ذہن دیا ہے کہ آج بلامبالغہ ملک و بیرونِ ملک میں لاکھوں لوگ ہر ہفتے رسالہ پڑھتے اور سنتے ہیں ۔آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے اپنے قول و عمل دونوں سے مطالعہ اور لائبریری بنانے کی ترغیب دلائی ہے آپ نے اپنے ذوقِ مطالعہ کی تسکین اور تحریری کام کے لئے کتب خانہ بھی بنایا۔جس کی کتابوں میں رفتہ رفتہ اِضافہ ہوتا گیا اور آج علمِ قرآن وحدیث عقائدفقہ اورتصوف کے درجنوں  موضوعات پر سینکڑوں  کتب ورسائل آپ کی لائبریری کی زینت ہیں  جن میں ترجمۂ کنزالایمان مع تفسیر خزائن العرفان ، فتاوٰ ی رضویہ ،بہارِ شریعت اور اِحیاء العلوم سرِفہرست ہیں۔آپ نے کتابوں کو محض جمع نہیں  کیا بلکہ مسلسل مطالعہ ،غور وفکر اور عملی کوششیں  آپ کے کردارِ عظیم کا حصہ ہیں اگر آپ بھی اپنی گھر میں ایک خوبصورت اور مختصر المدینہ لائبریری بنانا چاہتے ہیں تو اپنے شہر کے مکتبۃ المدینہ کی طرف رجوع کیجئے اس کے مکمل پیکجز بنے ہوئے ہیں۔ امیرِ اہلسنت اور المدینۃ العلمیہ کی تحریر کردہ 400کتب و رسائل کا مجموعہ المدینہ لائبریری 28ہزار800 میں لے سکتے ہیں ۔

اس کے علاوہ پاکستان کے 10بڑے شہروں میں المدینہ لائبریری کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس لائبریری میں قرآنیات، حدیثِ پاک اور اس کی شرح، فقہی مسائل، تاریخ اسلام اور دیگرسینکڑوں موضوعات پر کتب و رسائل موجود ہیں ۔اگر آپ کتب خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے تو المدینہ لائبریری سافٹ وئیر بھی موجود ہےجو بہت ہی مفید اور معاون سافٹ وئیر ہے ۔ اس میں کتب کی مخصوص کلیکشن موجود ہے۔ اس سافٹ وئیر میں جو کتب مکتبہ المدینہ سے شائع ہوتی ہیں انہیں سرچ ایبل شکل میں سافٹ وئیر میں ڈھالا گیا ہے اس کی چند خصوصیات پیشِ خدمت ہیں :

20سے زائد اسلامی موضوعات  کی کیٹگری کے تحت علمی وتحقیقی اسلوبِ تصنیف وتالیف کے اعلی معیارکی حاملزیور طبع سے آراستہ مکتبۃ المدینہ کی 500 سے زائد مطبوعاتامیر اہلسنت کی  117 کتابوں کے علاوہ صراط الجنان مکمل ،فتاوی رضویہ مکمل،بہارشریعت مکمل،احیاء علوم الدین مکمل،اللہ والوں کی 7 جلدیں،فیضان فاروق اعظم 2 جلدیں،فیضان ریاض الصالحین 2 جلدیں،27 واجبات حج نیز  اس کے علاوہ ملفوظات امیر اہلسنت اور مدنی مذاکرہ کی موصول ہونے والی قسطیں۔ رسائل دعوت اسلامی  وغیرہ وغیرہ۔ہر کیٹگری  میں حروف تہجی کے اعتبار سے کتابوں کی ترتیبسرچنگ کی بہترین سہولت اور بک مار کنگ  کے ذریعے یادداشت کا تحفظ

کتب اور ہمارےاسلاف

دینی علوم کا عظیم سرمایہ ہمیں جن بزرگوں کے ذریعے ملا ہے انہوں نے کس قدر تکالیف و مصائب برداشت کر کے یہ عظیم سرمایہ ہم تک پہنچایا ہے اگر ماضی میں جھانک کر دیکھیں تو ان لوگوں کی قربانیاں پڑھ کر انسانی عقل حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہو جاتی ہے یقیناً یہ لوگ علم دوست تھے۔

امام احمد بن محمد المقری جو زبردست محدث تھے آپ کو ایک کتاب سے حوالہ نقل کرنے کے لیے 70 دن کا سفر کرنا پڑا۔ خود فرماتے ہیں کہ وہ کتاب اس حالت میں تھی کہ" ولو عرضت على خبَّاز برغيف لم يقبلها "اگر وہ کتاب کسی نان بائی کو دے کر ایک روٹی بھی خریدنا چاہتے تو شاید وہ اس پر بھی تیار نہ ہوتا۔(تذکرۃ الحفاظ للذہبی،3/121)خطیب تبریزی کو عربی زبان و قواعد پر غیر معمولی مہارت حاصل تھی۔ آپ کو ایک مرتبہ ابو منصور کی کتاب "تہذیب اللغہ"کہیں سے مل گئی۔ آپ نے ارادہ کیا کہ اس کتاب کے مندرجات کو کسی ماہر زبان سے تحقیقی طور پر سمجھیں۔ لوگوں نے ابوالعلاء المعری کا نام پیش کیا۔ آپ نے کتاب تھیلے میں ڈالی، اس تھیلے کو بغل میں لٹکایا اور تبریز سے ’’معرہ‘‘ کی جانب چل پڑے۔ آپ کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ سواری کا انتظام کر سکتے۔"فنفذ العرق من ظهره إليها فأثر فيها البلل، وهي ببعض الوقوف ببغداد، وإذ رآها من لا يعرف صورة الحال فيها ظن أنها غريقة، وليس بها سوى عرق الخطيب المذكور"اس لیے دھوپ میں پیدل چلنے سے پسینہ آیا اور اس کا اثر تھیلے اور کتاب تک پہنچا، نتیجتاً کتاب پسینہ سے تر ہو گئی۔ اب اگر کوئی اس کتاب کو دیکھتا اور اسے صحیح صورت حال کا پتہ نہ ہوتا تو وہ یہی خیال کرتا کہ شاید پانی میں بھیگ گئی ہے حالانکہ اس پر صرف خطیب تبریزی کا پسینہ تھا۔ (وفیات الاعیان،6/192)حضرت علی بن احمد کے پاس’’الجمھرۃ فی علم اللغۃ‘‘ کا ایک بہت ہی عمدہ نسخہ تھا۔ ایک مرتبہ غربت نے اسے بیچنے پر مجبور کر دیا۔ شریف مرتضیٰ ابوالقاسم نے 60 دینار میں خرید لیا جب اس کا ورق پلٹا تو اس پر ابوالحسن کے ہاتھ سے لکھے ہوئے اشعار نظر آئے جن کا ترجمہ یہ ہے:میں20 سال تک اس کتاب سے مانوس رہنے کے بعد آج اس کو بیچ رہا ہوں۔ اس کے چھوٹ جانے سے میرا غم بہت بڑھ گیا ہے۔ قرضوں کی وجہ سے اگر عمر قید بھی ہو جاتی تو پرواہ نہ تھی مگر یہ وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ کبھی اس کو بیچنا پڑے گا لیکن کیا کروں، کمزوری، ناداری اور چھوٹے چھوٹے بچوں کی وجہ سے حالات نے یہ دن دکھائے۔ میں بہتے ہوئے آنسوؤں پر قابو نہ پا سکا اور کسی دل جلے غمزدہ کی طرح یوں کہا :ضرورت کبھی کبھی عمدہ چیزوں کو اپنے آقا سے جدا ہونے پر مجبور کر دیتی ہے حالانکہ وہ انہیں اپنے پاس سے الگ نہیں کرنا چاہتا۔(وفيات الاعيان، 1 / 337)شریف مرتضیٰ نے جب کتاب پر لکھے ہوئے یہ اشعار پڑھے تو اس کا دل بھر آیا اور اس نے کتاب کا نسخہ واپس کر دیا اور دینار اْن ہی کے پاس رہنے دئیے۔

محترم قارئین!تاریخِ اسلام ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی علوم کی تدوین و تالیف، پُرفضا و شاداب مقامات، نہروں کے کنارے یا سایہ دار درختوں کی چھاؤں میں بیٹھ کر نہیں ہوئی بلکہ یہ کام خواہشات کی قربانی دے کر ہوا ہے۔ اس کے لیے سخت گرمیوں میں پیاس کی ناقابلِ برداشت تکالیف اٹھانی پڑی ہیں اور رات بھر ٹمٹماتے چراغوں کے سامنے جاگنا پڑا ہے۔

لائبریریوں کی تاریخ

لائبریریوں کی تاریخ جہاں دلچسپ ہے وہیں سبق آموز بھی ہے ،دنیا کی سب سے پہلی لائبریری کب وجود میں آئی؟ شاید اس کا کوئی حتمی جواب تو نہ ملے کیونکہ روز بروز ہونے والی تحقیقات سے کچھ نیا ہی نتیجہ نکل رہا ہوتا ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ لائبریریز کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی قدیم انسان کی تہذیب ہے۔ شروع سے ہی انسان نے ہر دور میں حاصل ہونے والے علم کا ریکارڈ رکھنے کی کوشش کی ہے۔تاریخ کے اوراق پلٹنے سے معلوم ہوتا ہے کہ لائبریریوں کا آغاز اس وقت سے ہوا جب انسان کے پاس لکھنے کے لئے کاغذ قلم نہ تھا اور وہ مٹی کی تختیوں، چمڑے اور ہڈیوں پر تحریر کو محفوظ کرتا تھا۔آج جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے اور ڈیجیٹل لائبریریوں نے دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ آشور بنی پال،سکندریہ لائبریری ، عیسائیوں ، ایرانی، ساسانی، یونانی، رومی کتب خانے ، عربوں کے کتب خانے یورپ اور برصغیر کے حکمرانوں کے کتب خانے بہت مشہور ہیں۔قدیم دور کے کتب خانوں میں آشور بنی پال، کتب خانہ سکندریہ اور کتب خانہ پرگامم قابل ذکر ہیں۔ اشور بنی پال کی لائبریری میں اس وقت کا لکھا گیا زیادہ تر ادب موجود تھا ۔(سکندریہ کی لائبریری کی داستان،ص16) مصر کے نئے حکمران خاندان نے اقتدار سنبھالا اور سکندریہ کو دانش وروں کا شہر بنا دیا ۔اس خاندان کے حکمرانوں نے علم و فن سے بہت زیادہ محبت کی تھی اور مصر کے قدیم علمی خزانوں کو دوبارہ دریافت کر کے دنیا کے لئے مفید بنایا تھا اگرچہ فرعونوں نے بھی سقارا میں عظیم اہرام تعمیر کر کے دنیا کو حیرت زدہ کر دیا تھا۔ اب سکندریہ نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا تھا اور اس کے علم و کمال نے دنیا کو اپنی طرف کھینچا تھا ، سکندریہ کی مشہور لائبریری "ٹالمی اول" نے شروع کی اور "ٹالمی دوم" کے دورِ حکومت میں مکمل ہوئی ۔ٹالمی دوم نے اپنے ماتحت ریاستوں کے حکمرانوں اور مختلف علوم کے علما کو دعوت دی کہ اس عظیم لائبریری کے لئے کتابیں جمع کریں اور علماکتابیں تحریر کریں ،زیادہ تر کتابیں خریدی گئیں اور لاکھوں کتابیں مختلف علوم کے علما سے تحریر کروائی گئیں کچھ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ سکندریہ کی لائبریری میں کئی لاکھ کتابیں تھیں۔سٹرابولکھتا ہے کہ قدیم "ڈورک" زبان اور قدیم یونانی زبان میں لکھی گئی کتابیں جو کہ نام ور شاعروں اور فلسفیو ں کی تھیں ۔رہوڈس کے بازار سے سونے کے ساتھ تول کر خریدی گئیں اور ان کتابوں کے عوض سونا دیا گیا تھا۔(اقتباس ازسکندریہ کی لائبریری کی داستان،ص38)یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دنیا کا پہلا منظم کتب خانہ سکندریہ تھا اور اس میں منہ مانگی قیمت پر کتب خرید کر رکھی جاتی تھیں اس میں رکھے گئے مواد کو مضامین کے اعتبار سے رکھا جاتا تھا۔ اس کا قیام 323 ق۔م میں مصر میں عمل میں آیا اور اس میں ذخیرہ کتب 9لاکھ تھا۔ یونانی کتب خانوں میں کتب خانہ ارسطو، کتب خانہ افلاطون اور پرگامم کا کتب خانہ قدیم ترین ہیں۔افلاطون کے متعلق قیاس کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس بھی ایک شاندار کتب خانہ موجود تھا جو اس کی وفات کے بعد کہا ں گیا کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے البتہ ارسطو کے کتب خانے کے حوالے سے تاریخی شواہد موجود ہیں۔ یہ کتب خانہ سینکڑوں کتابوں پر مشتمل تھا جو کہ ایک اندازے کے مطابق4سو رولز پر مشتمل تھا۔ نجی کتب خانوں کا بانی ارسطو کو کہا جا تا ہے۔ ارسطو نے کتب خانوں کی تنظیم و ترتیب سائنسی بنیادوں پر رکھنا شروع کی تھی۔ قدیم یونان کا دوسرا اہم ترین کتب خانہ پرگامم ہے جسے اتالوسی دوم نے 137ء سے 159ء تک قائم کیا۔ پرگامم کا مواد پیپرس رولز اور پارجمنٹ پر مشتمل تھا اور یہ ذخیرہ دولاکھ کے لگ بھگ تھا۔ یونانی کتب خانوں میں ادب، تاریخ ، سائنس ، ریاضی ، فلسفہ ، مذہبیات ، سیاسیات اور اخلاقیات جیسے موضوعات پر ذخیرہ کتب زیادہ تھا۔سرزمین روم میں عوامی کتب خانے ، نجی کتب ا ور مخصوص کتب خانے موجود تھے۔ 360ء سے 370ء تک روم میں 28عوامی کتب خانے موجود تھے۔روم کے یہ تمام کتب خانے16ویں صدی تک نیست و نابود ہو گئے۔چوتھی یا پانچویں صدی عیسوی میں برصغیر پاک و ہند میں کتب خانے موجود تھے۔کتب خانہ نالندہ یونیورسٹی، وکرم شلا اورسرسوتی بھنڈار برصغیر کے قدیم کتب خانے ہیں۔ پرانے وقتوں کے عظیم کتب خانوں کی دو اہم خصوصیات علم دوستی اور حکمرانوں کی ذاتی دلچسپی اور ان کی ہیت و تنظیم میں ہم آہنگی تھی۔

دنیائے جدید کی دس بڑی لائبریریاں

ایسی لائبریریاں بنانا جہاں علم وحکمت ایک عام آدمی کی دسترس میں آجائےیہ یقیناًنوع انسان کی ایک بہت بڑی کاوش ہے، دنیا کی چند بڑی اور چند دلچسپ لائبریریوں کےنام پیشِ خدمت ہیں ۔

امریکی کانگریس کی لائبریریبرٹش لائبریری لندن انگلینڈنیویارک پبلک لائبریری نیویارکرشین ا سٹیٹ لائبریرینیشنل لائبریری آف رشیانیشنل ڈائٹ لائبریری جاپان نیشنل لائبریری آف چائنا نیشنل لائبریری آف فرانسبودلیئن لائبریری،آکسفورڈ برطانیہبوسٹن پبلک لائبریری

ترکی کی عظیم الشان لائبریری

ترکی جہاں اہل علم حضرات کا مرکز ہے وہیں دینی کتب و دلکش لائبریزز کا مظہر بھی ہے ترکی صدارتی کمپلیکس میں بنائی گئی لائبریری میں 40 لاکھ سے زائد کتابیں رکھی گئی ہیں جبکہ وہاں 5 ہزار افراد بیک وقت مطالعہ کر سکتے ہیں ترکی اردو کی رپورٹ کے مطابق انقرہ کی اس عظیم الشان لائبریری میں ایک کروڑ 20 لاکھ الیکٹرانک اور ساڑھے 5 لاکھ ای کتب کے ساتھ ساتھ تاریخی دستاویزات بھی موجود ہیں ، جہاں بیک وقت 5 ہزار افراد مطالعہ کرسکتےہیں صدارتی کمپلیکس کا کل رقبہ 125 ہزار مربع میٹر ہے، جس کی تعمیر کا آغاز 2016ء میں کیا گیا تھا۔(ترکی اردو ویب سائٹ)

لائبریریاں جو مٹ گئیں

اسلام کی تاریخ جہاں دلچسپ واقعات سے بھری پڑی ہے وہیں دردناک حقائق بھی اسی تاریخ کا جُزْوِ لَایُنْفَک ہیں انہی حقائق میں سےایک دردناک حقیقت لائبریریز کو جلانا اور مٹانا بھی ہے کیونکہ اس کی وجہ سے دینی علوم کا کثیر حصہ دنیا سے ختم ہو گیا ،مختصرا ًچند واقعات حسبِ ذیل ہیں ۔

D503 ہجری میں طرابلس (لیبیا) پر عیسائیوں نے قبضہ کیا تو وہاں کے کتب خانوں کو جلا دیا۔D656 ہجری میں ہلاکو خان نے بغداد تاراج کرنے کے بعد وہاں کے عظیم الشان کتب خانوں کو دریائے دجلہ میں پھینکوا دیا۔ دریائے دجلہ میں ڈالی جانے والی کتب کی تعداد 6 لاکھ سےزائد تھی۔Dتاتاریوں نے بغداد کے کتب خانے تباہ کئے اور تمام کتب دریا میں ڈا ل دیں جس سے دریا کا پانی سیاہ ہو گیا۔تاتاریوں کا یہ سیلاب صرف بغداد تک ہی محدود نہ رہا بلکہ ترکستان ، خراسان، فارس، عراق اور شام سے گزرا اور تمام علمی یادگاریں مٹاتا چلا گیا۔D اسپین میں عیسائی غلبے کے بعد وہاں کے کتب خانے جلا دیئے گئے۔Cardinal XimenesDنے ایک ہی دن میں 80 ہزار کتب نذر آتش کر دیں۔ Dصلیبی جنگوں کے دوران عیسائیوں نے مصر، شام،ا سپین اور دیگر اسلامی ممالک کے کتب خانوں کو بری طرح جلا کر تباہ و برباد کر دیا۔ ان کتب کی تعداد 30لاکھ سے زائد تھی۔Dقاضی ابن عمار نے طرابلس میں عالیشان کتب خانے کی تاسیس کی جس میں ایک لاکھ سے زائد کتابیں تھیں۔یہ کتب خانہ صلیبی جنگوں کے دوران برباد کر دیا گیا۔Dفاطمین مصرکے دور میں قاہرہ کے قصرشاہی کا عدیم النظیرکتب خانہ تمام اسلامی دنیا کے کتب خانوں پر سبقت لے گیا تھا اسے جلا دیا گیا ۔ Dصاحب بن عباد وزیر کا عظیم الشان کتب خانہ’’ جو دارالکتب رے ‘‘کے نام سے معروف تھا،اسے جلا کر تباہ کر دیا گیا ۔Dبغدادکے محلہ کرخ میں دارالعلم نام سے ایک لائبریری تھی جس میں دس ہزار سے زائد ایسی کتب تھیں جو خود مصنفین یا مشہور خطاطوں کی لکھی ہوئی تھیں ، دنیا میں اس سے بہتر کوئی کتب خانہ نہ تھا، یہ مایہ ناز کتب خانہ 451ھ میں جلا دیا گیا۔ Dبغداد میں ابو جعفر محمد بن حسن طوسی کا کتب خانہ 385ھ تا 420ھ کئی مرتبہ جلایا گیا۔آخری مرتبہ 448میں اسطرح جلایا گیا کہ اس کا نام بھی باقی نہ بچا۔D549ھ میں ایک گروہ نے ماوراء4 النہر سے آکر نیشا پور کے کتب خانے جلا دیئے۔(ماخوذازویب سائٹ)

ابومعاویہ محمد منعم مدنی (شعبہ سیرت النبی)

اسلامک ریسرچ سینٹر(المدینۃ العلمیہ)

14 رجب المرجب 1442ھ

27 فروری 2021ء


(گزشتہ مضمون میں بارگاہِ رسالت میں ہونے والے سوالات کی10صورتوں کا تعارفی تذکرہ ہوا تھا اور ایک صورت کی مثال پیش کی گئی تھی، مزید چند صورتوں کی مثالیں ملاحظہ کیجئے)

(2)بعض دفعہ ایک ہی سوال بار بار کیا جاتا لیکن نبی کریم ﷺ پھر بھی جواب ارشاد فرماتے چنانچہ

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرَأَيْتَ رَجُلًا غَزَا يَلْتَمِسُ الْأَجْرَ وَالذِّکْرَ مَالَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا شَيْئَ لَهُ فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَقُولُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا شَيْئَ لَهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنْ الْعَمَلِ إِلَّا مَا کَانَ لَهُ خَالِصًا وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ

حضرت سیدنا ابومامہ باھلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسولِ کریم ﷺ کی بارگاہ میں آیا اور عرض کرنے لگا: آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو صرف دولت اور نام ونمود کے لئے جہاد کرے، اس کے لئے کیا اجر ہے؟ رسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کے لئے کچھ نہیں(یعنی کوئی اجر نہیں) ۔ اس آدمی نے تین بار اسی سوال کو دہرایا، رسولِ کریم ﷺ نے یہی فرمایا کہ اس کے لئے کچھ نہیں، اس کے بعد آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسی عمل کو قبول فرماتا ہے جو خالص اسی کے واسطے ہو اور جو اسی کی رضا کے لئے کیا گیا ہو۔(سنن نسائی، کتاب الجہاد، باب من غزا یلتمس الاجر والذکر، جلد6، صفحہ25، حدیث:3140 مكتب المطبوعات الإسلامیۃ - حلب)

دیکھا آپ نے!رسولِ کریم ﷺ نے تین بار جواب ارشاد فرمایا اور بالآخر اپنے جواب کی تفصیلی وجہ بھی ارشاد فرمادی جو کہ ایک قانون اور اصول کی حیثیت رکھتا ہے یعنی ”ہر وہ عمل جو خالصتاً اللہ رب العزّت کی رضا کے لئے نہ ہو وہ مقبول نہیں“۔

اسی طرح حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے بھی ایک روایت ہے :

أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الصَّلَاةُ. قَالَ: ثُمَّ مَهْ، قَالَ ثُمَّ:الصَّلَاةُ قَالَ: ثُمَّ مَهْ، قَالَ: ثُمَّ الصَّلَاةُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ،

ایک شخص پیارے نبی ﷺ کی بارگاہ میں آیا اور آپ سے سب سے افضل عمل کے بارے میں سوال کیا، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:”الصلوٰۃ“ یعنی نماز، اس نے پوچھا اس کے بعد، فرمایا: پھر نماز، عرض کیا: پھر، ارشاد فرمایا: پھر نماز، (رسول کریم ﷺ نے ) تین بار نماز کا فرمایا۔(صحیح ابن حبان، کتاب الصلاۃ، باب فضل الصلوات الخمس، ذکر الخبرالدال۔۔الخ، جلد5، صفحہ8، حدیث:1722، مؤسسۃ الرسالۃ،بیروت)

(3)مختلف مواقع پر ایک ہی سوال کا دہرایا جانا

بعض سوالات ایسے بھی تھے کہ مختلف مواقع پر بار بار دہرائے جاتے، رسولِ کریم ﷺ پھر بھی جواب ارشاد فرماتے، لیکن اکثر حالات و افراد کے اعتبار سے پہلے کی نسبت جواب الگ ہوتا، جیسا کہ صرف ایک سوال”کون سا عمل افضل ہے؟“ کے ہمیں احادیث کریمہ میں کئی جوابات ملتے ہیں، مثلاً(۱) زبان کی حفاظت کرنا([1]) (۲)اپنے بھائی سے خوش ہوکر ملنا یا اُس کا قرض ادا کردینا یااسے کھانا کھلانا([2]) (۳)طویل قیام([3]) (۴)وقت پر نماز پڑھنا([4])(۵)صبر اور سخاوت([5]) یہ سب مختلف مواقع وافراد کے اعتبار سے ایک ہی سوال کے جوابات ہیں۔

(4)افضل ایمان، اسلام اور عمل کے متعلق سوالات کے جواب دینا

ہر بندہ اس اعتبار سے سوچتا ہے کہ کون سا کام زیادہ بہتر رہے گا،راہِ خدا میں خرچ کرنے کا جذبہ رکھنے والے سوچتے ہیں کہ کیا اور کہاں خرچ کرنا بہتر رہے گا، علمِ دین کا حریص سوچتاہے کہ اس وقت کون سی کتاب پڑھنا زیادہ بہتر رہے گا الغرض ہر کسی کی سوچ اس کے مقصد کی غماز ہے، اسی طرح صحابہ کرام بھی اس پہلو سے سوچا کرتے تھے اور رسولِ کریم ﷺ کی بارگاہ میں اس طرز کے سوالات کرتے تھے کہ کون سا ایمان یا کون سا اسلام افضل ہے؟ چنانچہ ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں رسولِ کریم ﷺ نے نہ صرف سوال کرنے والے بلکہ رہتی دنیا تک کے ہرفرد معاشرہ کو ایک ایسا نسخہ سمجھادیا جو ایک صالح معاشرے کی بنیاد بنتاہے،بخاری شریف میں ہے:

قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الإِسْلاَمِ أَفْضَلُ، قَالَ: مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ، وَيَدِهِ

لوگوں نے عرض کی:یارسول اللہ! کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں ۔(صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب ای الاسلام افضل، صفحہ13، حدیث:11)

قارئینِ کرام! غور تو کیجئے کہ کیسے معلم اور عظیم رہبر و رہنما تھے کہ ایک مختصر سے جملے میں کس قدر وسیع معانی و نتائج اور عظیم تَر معاشرتی فوائد پر مشتمل جواب ارشاد فرمایا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ ایسے دو اعضاء ہیں جو اکثر لڑائی جھگڑوں کا باعث ہوتے ہیں اور معاشرتی امن و امان تو تباہ کرتے ہیں۔

(بقیہ آنے والی قسط میں )



([1]): كتاب الصمت و آداب اللسان لابن ابی الدنیا، باب حفظ اللسان وفضل الصمت، صفحه47,رقم:8دارالکتاب العربی،بیروت

([2]):مکارم الاخلاق للطبرانی، باب فضل معونۃ المسلمین۔۔الخ، صفحہ344، رقم:91 دارالکتب العلمیہ، بیروت

([3]):سنن ابی داؤد ،کتاب التطوع ، با ت افتتاح صلاۃ اللیل بر کعتین ، جلد2، صفحہ36، حدیث:1325، المكتبۃ العصريۃ، صيدا - بيروت

([4]):صحیح بخاری ، کتاب التوحید، باب وسمی النبی الصلاۃ عملاً۔۔الخ، صفحہ1862، حدیث:7534 دارابن کثیر، بیروت

([5]):الجامع لشعب الايمان ، السبعون من شعب الایمان، باب فی الصبر علی المصائب..الخ، جلد12، صفحہ192، حدیث:9263, مکتبۃ الرشد،ریاض


معلّمِ اعظم، جنابِ رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک سیرت سے معلوم ہونے والے طرقِ تربیت و تفہیم میں سے ایک طریقہ ”سوال و جواب“ کا ہے۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے اس طریقہ کو کئی اعتبار سے متعارف فرمایا۔ اسے سادہ سے الفاظ میں ہم ”سوال کی آزادی(Freedom of Question)“ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس میں آپ ﷺ کا کیا کیا انداز ہوتا تھا اس کا مختصر سا خاکہ یوں ہے:

1. سوال دَر سوال ہونے پر بھی جواب دینا

2. ایک شخص کا بار بار ایک ہی سوال ہونا اور آپ کا پھر بھی جواب دینا

3. مختلف مواقع پر ایک ہی سوال ہونا او رپھر بھی جواب دینا۔

4. افضل ایمان، اسلام اور عمل کے متعلق سوالات کے جواب دینا ۔

5. کسی فضیلت، اجر یا مقام دلانے والے اعمال کے متعلق ہونے والے سوالات کا جواب دینا

6. دوسرے کو کسی عمل پر ملنے والے اجر کا سن کر سوال کرنا اور آپ کا جواب دینا

7. سوال کرنے والے کی حوصلہ افزائی کرنا

8. مختلف اعمال کے اجر و ثواب کے متعلق سوالات کا جواب دینا

9. اچھے اور برے عمل یا ایک ہی عمل کے اچھے اور برے انداز یا نیت کے بارے میں تقابلاً ہونے والے سوالات کے جواب دینا

10. عقائد کی توضیح اور مابعد آنے والوں کی تعلیم پر مشتمل سوال کرنا اور رسولِ کریم ﷺ کا سمجھانا

چونکہ لوگوں کے سوال کرنے کی نفسیات الگ الگ ہوتی ہیں اسی لئے سوالات مندرجہ بالا صورتیں سامنے آتی تھیں، رسولِ کریم ﷺ نے ان سوالات کے جوابات میں کیا کیا رہنمائی فرمائی اس کی چند مثالیں ملاحظہ کیجئے:

(1)بعض اوقات سوال در سوال کا ایک طویل سلسلہ بھی چل نکلتا چنانچہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے بارگاہِ رسالت مآب میں حاضر ی دی اور عرض کی کہ دنیا وآخرت کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہتا ہوں تو معلّمِ کامل و اکمل، رسولِ جمیل و اجمل محمد مصطفےٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا:پوچھو! جو پوچھنا چاہتے ہو۔

آنے والے نے عرض کی:میں سب سے بڑا عالم بننا چاہتا ہوں۔

ارشادفرمایا:اللہ سے ڈرو،سب سے بڑے عالم بن جاؤ گے۔

عرض کی : میں سب سے زیادہ غنی بننا چاہتا ہوں۔

ارشادفرمایا:قناعت اِختیار کرو، غنی ہوجاؤ گے۔

عرض کی : میں لوگوں میں سب سے بہتر بننا چاہتا ہوں۔

ارشادفرمایا:لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو دوسروں کو نفع پہنچاتا ہو ،تم لوگوں کیلئے نفع بخش بن جاؤ۔

عرض کی : میں چاہتا ہوں کہ سب سے زیادہ عدل کرنے والا بن جاؤں۔

ارشادفرمایا:جو اپنے لیے پسند کرتے ہو وہی دوسروں کیلئے بھی پسند کرو، سب سے زیادہ عادِل بن جاؤ گے۔

عرض کی : میں بار گاہِ الٰہی میں خاص مقام حاصل کرنا چاہتا ہوں۔

ارشادفرمایا:ذکرُ اللہ کی کثرت کرو،اللہ تعالیٰ کے خاص بندے بن جاؤ گے ۔

عرض کی: اچھا اور نیک بننا چاہتا ہوں۔

ارشادفرمایا:اللہ تعالیٰ کی عبادت یوں کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہواور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ ہی رہا ہے۔

عرض کی: میں کامِل ایمان والا بننا چاہتا ہوں۔

ارشادفرمایا:اپنے اخلاق اچھے کر لو،کامل ایمان والے بن جاؤ گے۔

عرض کی: (اللہ تعالیٰ کا) فرمانبردار بننا چاہتا ہوں۔

ارشادفرمایا:اللہ تعالیٰ کے فرائض کا اہتمام کرو،اس کے مُطِیع( وفرمانبردار) بن جاؤ گے۔

عرض کی: (روزقیامت) گناہوں سے پاک ہوکر اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہتا ہوں۔

ارشادفرمایا: غسلِ جنابت خوب اچھی طرح کیا کرو،اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملو گے کہ تم پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔

عرض کی: میں چاہتا ہوں کہ روزِ قیامت میرا حشر نورمیں ہو۔

ارشادفرمایا:کسی پر ظُلْم مت کرو،تمہارا حَشْر نُور میں ہوگا۔

عرض کی: میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر رحم فرمائے۔

ارشادفرمایا:اپنی جان پر اور مخلوقِ خدا پر رحم کرو ،اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے گا۔

عرض کی:گناہوں میں کمی چاہتا ہوں۔

ارشادفرمایا: اِستغفار کرو،گناہوں میں کمی ہوگی۔

عرض کی: زیادہ عزت والا بننا چاہتا ہوں۔

ارشادفرمایا:لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کے بارے میں شکوہ وشکایت مت کرو،سب سے زیادہ عزت دار بن جاؤ گے۔

عرض کی:رِزْق میں کشادگی چاہتا ہوں۔

ارشادفرمایا:ہمیشہ باوضو رہو،تمہارے رزق میں فراخی آئے گی ۔

عرض کی:اللہ و رسول کا محبوب بننا چاہتا ہوں۔

ارشادفرمایا:اللہ ورسول کی محبوب چیزوں کو محبوب اور ناپسند چیزوں کو ناپسند رکھو۔

عرض کی:اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے امان کا طلب گار ہوں۔

ارشادفرمایا:کسی پر غصہ مت کرو،اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے امان پاجاؤ گے۔

عرض کی:دعاؤں کی قبولیت چاہتا ہوں۔

ارشادفرمایا:حرام سے بچو،تمہاری دعائیں قبول ہوں گی۔

عرض کی: چاہتا ہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے لوگوں کے سامنے رُسوا نہ فرمائے۔

ارشادفرمایا:اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرو ،لوگوں کے سامنے رُسوا نہیں ہوگے۔

عرض کی:چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری پردہ پوشی فرمائے۔

ارشادفرمایا: اپنے مسلمان بھائیوں کے عیب چھپاؤ،اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہاری پردہ پوشی فرمائے گا۔

عرض کی: کون سی چیز میرے گناہوں کو مٹاسکتی ہے؟

ارشادفرمایا:آنسو، عاجزی اور بیماری ۔

عرض کی: کون سی نیکی اللہ رب العزت کے نزدیک سب سے افضل ہے؟

ارشادفرمایا:اچھے اخلاق،تواضُع، مصائب پر صبر اور تقدیر پر راضی رہنا۔

عرض کی:سب سے بڑی برائی کیا ہے؟ کون سی برائی اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے بڑی ہے؟

ارشادفرمایا:برے اخلاق اور بُخْل ۔

عرض کی:اللہ تعالیٰ کے غَضَب کو کیا چیز ٹھنڈا کرتی ہے ؟

ارشادفرمایا:پوشیدہ صدقہ کرنااور صِلہ رحمی۔

عرض کی:کونسی چیز دوزخ کی آگ کو بجھاتی ہے؟

ارشادفرمایا:روزہ۔

(کنزالعمال، حرف المیم، کتاب المواعظ والرقائق۔۔الخ، فصل فی جامع المواعظ والخطب، خطب النبی ﷺ و مواعظہ، جلد16، صفحہ127، حدیث:44154)

قارئین ذرا غور تو کیجئے! کیاکمال کا علم ، حوصلہ اور حلم تھا کہ سوال پر سوال ہو رہے ہیں اور آپ ہیں کہ جواب دینے میں ذرا اکتاہٹ نہیں، اورپھر ہر سوال کا جواب کیسا جامع اور نہایت دوراندیشی پر مبنی عطا فرمایا، غورکیا جائے تو ہر جواب اپنے اندر حکمت کے سمندر سموئے ہوئے ہے۔

(بقیہ آنے والی قسط میں )