
صلہ رحمی واجب جبکہ قطع رحمی حرام ہے۔ مگر افسوس ہمارے معاشرے میں یہ بُری
عادت بھی پائی جاتی ہے، ہمارے رشتہ دار ہمارے ساتھ حسن سلوک کریں یا نہ کریں شریعت
مطہرہ ہمیں انکے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا درس دیتی ہے۔
صِلۂ رِحم کا معنیٰ رشتے کو جوڑنا ہے، یعنی رشتہ والوں کے ساتھ نیکی اور
(حُسنِ) سلوک کرنا۔ (بہارِ شریعت،3/ 558) جبکہ رشتہ داری توڑنا اور ان کے ساتھ نیکی
اور اچھا سلوک نہ کرنا قطع رحمی یعنی تعلق توڑنا ہے۔
قرآن پاک میں الله پاک ارشاد فرماتا ہے:
وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَؕ-اِنَّ اللّٰهَ
كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا(۱) (پ 4، النساء: 1) ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ سے ڈرو جس کے
نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بے شک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے۔مفتی
احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مُسَلمانوں پر جیسے نماز، روزہ،حج،زکوٰۃوغیرہ
ضروری ہے، ایسے ہی قَرابت داروں کا حق اَدا کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔ (تفسیر نعیمی،4/455)
احادیث مبارکہ کی روشنی میں قطع تعلقی کی مذمت:
1۔ رحمت نہ اترنے کا سبب: جس قوم میں رشتہ داری توڑنے والاہوتا ہے اس پر رحمت نہیں اترتی۔ (شعب الایمان،
6/223، حدیث:7962)
2۔ جنت میں داخلہ ممنوع: رشتہ داروں سے تعلق توڑنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔ (مسلم، ص 1338، حدیث:2556)
3۔ دنیا میں بھی سزا: جس گناہ کی سزا دنیا میں بھی جلد ہی دیدی جائے اور اس کے لئے آخرت میں بھی
عذاب رہے وہ بغاوت اور قَطع رَحمی سے بڑھ کر نہیں۔ (ترمذی، 4/229، حدیث: 2519)
4۔ رشتہ داری کاٹنا: حدیث قدسی
ہے الله پاک نے رحم (رشتہ داری) سے فرمایا: جو تجھے ملائے گا میں اسے ملاؤں گااور
جو تجھے کاٹے گا میں اُسے کاٹوں گا۔ (بخاری، 4/98، حدیث: 5988)
5۔ مغفرت سے محروم: پیر اور
جمعرات کو الله پاک کے حضور لوگوں کے اعمال پیش ہوتے ہیں تو الله پاک آپس میں
عداوت رکھنے اور قطعِ رحمی کرنے والے کے علاوہ سب کی مغفرت فرمادیتا ہے۔ (معجم کبیر،
1/167، حدیث:409)
اے عاشقان رسول! اگر آپ نے بھی اپنے رشتہ داروں سے قطع تعلقی کی ہوئی ہے تو
اگرچہ قصور اُنکا ہی ہو سانس بعد میں لیجیئے پہلے ان سے صلح کرلیجیے اور حسن سلوک
سے پیش آئیے۔
رشتہ داروں سے سلوک کی صورتیں: صلہ رحم کی مختلف صورتیں ہیں انکو ہدیہ تخفہ دینا اور اگر انکو کسی کام میں
تمہاری اعانت مدد درکار ہو تو اس کام میں انکی مدد کرنا،انہیں سلام کرنا، انکی
ملاقات کو جانا،انکے پاس اٹھنا بیٹھنا، انکے ساتھ بات چیت کرنا،انکے ساتھ لطف و
مہربانی سے پیش آنا۔ الله پاک ہمیں شریعت کے احکامات کے مطابق اپنی زندگی بسر
کرنےوالا بنائے۔ آمین یا رب العالمین

شریعت میں جن سے صلہ یعنی نیک سلوک کا حکم دیا گیا ہے ان سے تعلق توڑنا قطع
تعلقی ہے۔
قطع تعلقی کی چند مثالیں: بلااجازت شرعی اپنے کسی رشتے دار سے بات چیت اور ملنا ختم کر دینا، کسی کو
کمتر سمجھتے ہوئے اس سے ملنا ختم کر دینا وغیرہ۔
قطع تعلقی کی مذمت میں فرمانِ باری تعالیٰ: فَهَلْ عَسَیْتُمْ
اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا
اَرْحَامَكُمْ(۲۲) اُولٰٓىٕكَ
الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ(۲۳) (پ 26، محمد: 22-23) ترجمہ کنز الایمان: تو کیا تمہارے
لچھن نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے
کاٹ دو یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ نے لعنت کی اور انہیں حق سے بہرا کردیا اور ان کی
آنکھیں پھوڑ دیں۔
قطع تعلقی کی مذمت پر فرامین مصطفیٰ:
1۔ قطع تعلقی کرنے والا جنت میں نہ جائے گا۔ (ترمذی، 3/364، حدیث: 1916)
2۔ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: دو شخصوں کی طرف قیامت کے دن رب تعالیٰ نظر
رحمت نہیں فرمائے گا: قطع رحمی کرنے والا اور برا ہمسایہ۔ (کنز العمال، 3/655)
3۔ بے شک بنی آدم کے اعمال ہر جمعہ کی رات کو پیش کیے جاتے ہیں اور قاطع رحم
کے اعمال قبو ل نہیں کیے جاتے۔ (شعب الایمان، 10/341)
4۔ دو گناہ ایسے ہیں جن کی سزا جلدی ہے اور معافی نہیں ہے: ظلم اور قطع رحمی۔
(شعب الایمان، 10/337) لہٰذا ہمیں چاہیے کہ قطع رحمی سے بچیں اور صلہ رحمی کو
اپنائیں اس لیے کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا: جو تجھے محروم کرے تو اسے عطا کر، جو تجھ
پر ظلم کرے اسے معاف کر اور جو تم سے تعلق توڑے اس سے تعلق جوڑو۔ (شعب الایمان،
10/335)
نیز صلہ رحمی کرنے والے کی عمر میں اور رزق میں برکت و زیادتی ہوتی ہے، عزت
ملتی ہے، یہ دنیاوی فوائد ہیں جبکہ اخروی فوائد یہ ہیں کہ یہ دخول جنت کا سبب ہے،
رب تعالیٰ کی رضا ملتی ہے وغیرہ۔ اور قطع رحمی سے دنیا میں بھی نقصانات ہوتے ہیں،
مثلا لوگوں سے عداوت و دشمنی پیدا ہوتی ہے، ذلت و تنہائی میں مبتلا کر کے غموں میں
اضافہ کرتی ہے وغیرہ، اور آخرت میں بھی نقصانات و عذابات ملتے ہیں، مثلا رب تعالیٰ
کی ناراضگی کا سبب، اللہ کی رحمت سے دوری اور ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا اس
لیے ہمیں اللہ کے عذابات سے ڈرتے ہوئے صلہ رحمی کرنی چاہیے۔ اللہ پاک ہم سب کو صلہ
رحمی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

بلاوجہ شرعی تین دن سے زیادہ مسلمانوں سے قطع تعلق حرام ہے، قطع تعلقی کو
مطلقا حلال سمجھنا کفر ہے، بدمذہب بے دین سے ہر قسم کا تعلق توڑنا فرض ہے، اگر ہم
کسی سے بغیر اجازت شرعی تعلق توڑیں گے تو حرام ہے تو اس کی مذمت قرآن و حدیث میں
صراحت کیساتھ وارد ہے اللہ ہمیں اس سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
قطع تعلقی کی تعریف: شریعت
میں جن سے صلہ (نیک سلوک) کا حکم دیا گیا ان سے تعلق توڑنا قطع تعلق ہے۔ (صلہ رحمی
اور قطع تعلقی کے احکام، ص 226)
فرامین مصطفیٰ:
1۔ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ تین دن سے زیادہ اپنے مسلمان بھائی سے تعلق
توڑے، جو تین دن سے زیادہ تعلق توڑے اور اس حال میں مر جائے تو جہنم میں جائے گا۔
(ابو داود، 4/364، حدیث: 4914)
2۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: میں اللہ ہوں، میں رحمٰن ہوں اور میں نے رحم
یعنی رشتہ کو پیدا کیا ہے اور اس کا نام اپنے نام سے مشتق کیا پس جو اسے ملائے گا
میں اسے ملائے رکھوں گا اور جو اس کو قطع کرے گا یعنی کاٹے گا میں اس سے قطع کروں
گا۔ (ترمذی، 3/363، حدیث: 1914)
3۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک بار مجلس میں تشریف فرما تھے
انہوں نے فرمایا: میں قاطع رحم (رشتہ توڑنے والے کو) اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ وہ
یہاں سے اٹھ جائے تاکہ ہم اللہ سے مغفرت کی دعا کریں کیونکہ قاطع رحم پر آسمان کے
دروازے بند رہتے ہیں یعنی وہ اگر یہاں موجود رہے گا تو رحمت نہیں اترے گی اور
ہماری دعا قبول نہیں ہوگی۔ (معجم کبیر، 9/158، حدیث: 8793)
4۔ ہر جمعرات اور جمعہ کی رات بنی آدم کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں بس قطع رحمی
کرنے والے کا عمل قبول نہیں کیا جاتا۔ (مسند امام احمد، 3/532، حدیث: 10276)
5۔ میرے پاس جبرائیل آئے اور عرض کی: یہ شعبان کی پندرہویں رات ہے اور اس رات
اللہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے اس میں
اللہ نہ مشرک کی طرف نظر رحمت فرماتا ہے، نہ دشمنی رکھنے والے کی طرف، نہ قطع رحمی
کرنے والے کی طرف، نہ تکبر سے اپنا تہبند لٹکانے والے کی طرف، نہ والدین کے
نافرمان کی طرف اور نہ ہی شراب کے عادی کی طرف۔ (شعب الایمان، 3/383، حدیث: 3837)
معاشرتی نقصانات: قطع تعلقی سے لڑائی جھگڑی، حسد، تکبر، دنیا کی محبت، دوسرے
کی عزت نفس کا خیال نہ کرنا اور علم دین کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
قطع رحمی سے بچنے کی ترغیب: موت کو کثرت سے یاد کیجیے، گناہوں سے بچنے کا ذہن
بنے، قطع تعلقی کی تباہ کاریوں پر غور کریں، طنز و تنقید کی عادت سے پیچھا
چھڑائیے، اللہ کی عطا پر نظر رکھیے۔

شریعت میں جن سے صلہ رحمی یعنی نیک سلوک کا حکم دیا گیا ہے ان سے تعلق توڑنا
قطع تعلقی ہے۔
قطع تعلقی کی چند مثالیں: بلااجازت شرعی اپنے کسی رشتے دار سے بات چیت اور ملنا ختم کر دینا، قادر ہونے
کے باوجود اس کی حاجت پوری نہ کرنا، کسی کو کمتر سمجھتے ہوئے اس سے ملنا ختم کر
دینا۔
قطع تعلقی کے احکام: بلاوجہ
شرعی تین دن سے زیادہ مسلمانوں سے قطع تعلقی حرام ہے، قطع تعلقی کو مطلقا حلال
سمجھنا کفر ہے، بدمذہب و بے دین سے ہر قسم کا قطع تعلق فرض ہے۔ آیت مبارکہ ہے: الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ
اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ
اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷)
(پ 1، البقرۃ: 27) ترجمہ کنز الایمان: وہ جو اللہ کے عہد کو
توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے ہیں اس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم
دیا ہے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی نقصان میں ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں ہے
کہ " جس کا حکم اللہ نے دیا ہے" سے ایک مراد تعلقات جوڑنا ہے۔
وَ
اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَؕ-اِنَّ اللّٰهَ
كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا(۱) (پ 4، النساء: 1) ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ سے ڈرو جس کے
نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بے شک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے۔اس آیت
مبارکہ کے تحت تفسیر مظہری میں ہے: یعنی تم قطع رحمی (یعنی رشتہ داروں سے تعلق
توڑنے) سے بچو۔ اس حوالے سے فرامین مصطفیٰ ملاحظہ ہوں:
1۔ پیر اور جمعرات کو اللہ کے حضور لوگوں کے اعمال پیش ہوتے ہیں تو اللہ آپس
میں عداوت رکھنے اور قطع رحمی کرنے والوں کے علاوہ سب کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ (معجم
کبیر، 1/167، حدیث: 409)
2۔ رشتہ کاٹنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ (بخاری، 4/917، حدیث: 5984) تفہیم
البخاری میں ہے کہ اس میں اختلاف نہیں کہ صلہ رحمی واجب ہے اور قطع کرنا کبیرہ
گناہ ہے۔
3۔ امانت اور صلہ رحمی کو بھیجا جائے گا تو وہ پل صراط کے دائیں اور بائیں
جانب کھڑی ہو جائیں گی۔ (مسلم، ص 127، حدیث: 349) حکیم الامت مفتی احمد یار خان اس
حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: یہ ان دونوں وصفوں کی انتہائی تعظیم ہوگی کہ ان دونوں
کو پل صراط کے آس پاس کھڑا کیا جائے گا شفاعت اور شکایت کے لیے کہ ان کی شفاعت پر
نجات اور ان کی شکایت پر پکڑ ہوگی، اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ انسان امانت
داری اور رشتے دارون کے حقوق کی ادائیگی میں ضرور احتیاط کو لازم پکڑے کہ ان دونوں
میں کوتاہی کرنے پر سخت پکڑ ہے مگر ان کی شفاعت پر دوزخ سے نجات ہے ان کی شکایت پر
وہاں گرتا ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، ص 24)لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ قطع رحمی سے بچیں
اگر ہمارا کوئی رشتہ دار ہم سے ناراض ہے تو خود آگے بڑھ کر اس سے معافی مانگ لیں
کہ ایسا کرنے سے ثواب بھی ملے گا اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کی نیت بھی کرے۔ ہمیں
چاہیے کہ اگر کوئی ہم سے تعلق قطع کر بھی رہا ہو تو ہم اس کو جوڑیں کہ اس کی بہت
فضیلت ہے۔
قطع تعلقی کی مذمت از بنت رشید احمد، فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ

شریعت میں جن سے صلہ (نیک سلوک) کا حکم دیا گیا ہے ان سے تعلق توڑنا قطع تعلقی
کرنا کہلاتا ہے۔ ہم سب کو اپنے رشتہ داروں سے حسن سلوک سے پیش آنا چاہے وہ رشتہ
دار امیر ہو یا غریب ہو، رشتہ داروں سے حسن سلوک سے پیش آنا سنت بھی ہے، اور اس سے
اللہ کے حکم کی بھی پیروی ہو جاتی ہے، آج کل ہمارے معاشرے میں یہ عام ہوتا جا رہا
ہے کہ جو رشتہ دار اسٹیٹس کا نہ ہو یعنی غریب ہو تو اس سے میل ملاپ کم کر دیا جاتا
ہے، بعض اوقات تو جو رشتہ دار غریب ہو تو اس سے رشتہ داری ہی ختم کر دی جاتی ہے،
بعض دفعہ باطنی بیماریوں جیسے امراض مثلا حسد اور تکبر بھی قطع تعلقی کا سبب بنتے
ہیں، بلاوجہ شرعی تین دن سے زیادہ مسلمانوں سے قطع تعلقی حرام ہے۔ (فتاویٰ رضویہ،
6/599) قطع تعلقی کو مطلقا حلال سمجھنا کفر ہے۔ (صلہ رحمی اور قطع تعلقی کے احکام،
ص 228) بد مذہب بے دین سے ہر قسم کا قطع تعلق فرض ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، 14/594) یہ
سب اسباب صرف اور صرف علم دین سے دوری کی وجہ سے ہیں۔ یا اللہ ہم سب کو رشتہ داروں
کے حقوق پورے کرنے کی توفیق عطا فرما!
فرامین مصطفیٰ:
1۔ رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنے والا شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا۔(ریاض
الصالحین، ص 109، حدیث:339)
2۔ رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھنے والا وہ شخص نہیں ہوتا جو کسی اچھائی کا
بدلہ دینا چاہتا ہو بلکہ خیال رکھنے والا وہ شخص ہوتا ہے جب اس کے ساتھ رشتے داری
کو ختم کیا جا رہا ہو تو وہ اس وقت اسے برقرار رکھے۔ (ریاض الصالحین، ص 104، حدیث:
322)
3۔ ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کی: یا رسول اللہ! میرے کچھ رشتہ دار ہیں
جن کے ساتھ میں تعلق برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہوں تو وہ اسے توڑ دیتے ہیں، میں
ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں، میں ان کے
ساتھ تحمل سے پیش آتا ہوں وہ میرے ساتھ جاہلانہ رویہ کرتے ہیں۔ (مجھے کیا کرنا
چاہیے؟) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جیسے تم نے بتایا ہے اگر واقعی ایسا ہے تو تم
انہیں جلتی ہوئی راکھ کھلا رہے ہو اور تم جب تک ایسا کرتے رہوگے اللہ پاک کی طرف
سے ایک مددگار تمہیں نصیب رہے گا۔(ریاض الصالحین، ص 103، حدیث: 318)
4۔ جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت افزائی
کرے جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ رشتے داری کے حقوق کا خیال
رکھے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات کہے ورنہ
خاموش رہے۔ (ریاض الصالحین، ص 102، حدیث: 314)
5۔ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ تین دن سے زیادہ اپنے مسلمان بھائی سے تعلق
توڑے جو تین دن سے زیادہ تعلق توڑے اور اس حال میں مر جائے تو جہنم میں جائے گا۔
(ابو داود، 4/364، حدیث: 4914)

قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اس پر اتفاق ہے کہ فی الجملہ صلہ رحمی
کرنا واجب ہے اور قطع رحم کرنا معصیت کبیرہ ہے جیسا کہ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ
عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے والا جنت
میں داخل نہیں ہوگا۔ (شرح صحیح مسلم، 7/94)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے
رزق میں کشادگی کی جائے یا اس کی عمر دراز کی جائے اسے چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کرے۔
(شرح صحیح مسلم، 7/95)
قطع رحمی کی مذمت پر نہ صرف احادیث کریمہ بلکہ اللہ کا پاک کلام بھی اس بات پر
شاہد ہے کہ قطع رحمی شدید مذموم صفت ہے، اللہ پاک سورۂ نساء پارہ نمبر 4 میں
ارشاد فرماتا ہے: وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ
تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا(۱)
(پ 4، النساء: 1) ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ سے ڈرو جس کے
نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بے شک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے۔
نبی پاک ﷺ کا فرمان عالیشان ہے کہ سرکشی اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی گناہ
ایسا نہیں کہ اللہ دنیا میں فورا اس گناہ کے کرنے والے کو سزا دے اور اس کے ساتھ
ساتھ آخرت میں بھی سزا دے۔(جہنم میں لے جانے والے اعمال، 2/277)
مندرجہ بالا آیت قرآنیہ اور احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ قطع رحمی وہ کبیرہ
گناہ ہے جس کا مرتکب دنیا میں بھی عذاب میں گرفتار ہوتا ہے اور آخرت کا عذاب اس کے
علاوہ ہے، قطع تعلقی کرنے والے کی دعا قبول ہوتی ہے اور نہ اس مجمع کی جس میں قاطع
رحم موجود ہو، جیسا کہ حضرت اعمش رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن
مسعود رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کے بعد ایک محفل میں تشریف فرما تھے، آپ نے ارشاد
فرمایا: میں قطع تعلق کرنے والے کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ وہ ہمارے درمیان سے
اٹھ جائے کیونکہ ہم اپنے رب سے دعا کرنے والے ہیں۔ یقینا آسمان کے دروازے قطع
تعلقی کرنے والے پر بند کر دیئے جاتے ہیں۔ (جہنم میں لے جانے والے اعمال، ص 291)
پتا چلا کہ قطع تعلقی قبولیت دعا میں رکاوٹ ہے کیونکہ قطع تعلقی اللہ کو ناپسند
ہے۔ اللہ ہمیں اتفاق و اتحاد اور پیار و محبت کے ساتھ رہنے کی سعادت نصیب فرمائے۔

قطع رحمی بہت بڑا گناہ اور عظیم جرم ہے، جو رابطوں میں جدائی کا ذریعہ ہے،
عداوت اور دشمنی پیدا کر کے دوری کو پروان چڑھاتی ہے اس گناہ کی شناخت کے سلسلے
میں باری تعالیٰ کا یہ ارشاد کافی ہے: فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ(۲۲) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ
اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ(۲۳) (پ 26، محمد: 22-23) ترجمہ کنز الایمان: تو کیا تمہارے
لچھن نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے
کاٹ دو یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ نے لعنت کی اور انہیں حق سے بہرا کردیا اور ان کی
آنکھیں پھوڑ دیں۔
فرامین مصطفیٰ:
1۔ قطع تعلقی کرنے والا جنت میں نہ جائے گا: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: قطع تعلقی کرنے والا جنت میں
نہ جائے گا۔ (ترمذی، 3/364، حدیث: 1916)
2۔ قاطعِ رحم جنت کی خوشبو نہ پائے گا: قطع رحمی کرنے والا جنت تو کیا جنت کی خوشبو بھی نہ پائے
گا۔ صفۃ الجنۃ میں حافظ ابو نعیم احمد الاصبہانی روایت کرتے ہیں، حضرت جابر رضی
اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک جنت کی خوشبو ایک ہزار
سال کی مسافت سے پائی جاتی ہے خدا کی قسم! اس کی خوشبو والدین کا نافرمان اور قطع
تعلقی کرنے والا نہ پائے گا۔(صفۃ الجنۃ، 2/42، حدیث: 195)
3۔ قطع تعلقی کرنے والا جہنم میں منہ کے بل جائے گا: امام ابن جوزی اپنی کتاب البر و الصلۃ میں روایت نقل کرتے
ہیں کہ جو رات عبادت کرے اور دن کو روزہ رکھے لیکن قطع تعلقی کرے اسے منہ کے بل
جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا۔ (البر و الصلۃ، ص 167)
4۔ قطع تعلقی کرنے والا نظر رحمت سے محروم: قطع تعلقی کرنے والے کی طرف قیامت والے دن رب کریم نظر رحمت
نہیں فرمائے گا۔ کنز العمال میں ہے: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو شخصوں
کی طرف قیامت کے دن رب تعالیٰ نظر رحمت نہیں فرمائے گا: قطع رحمی کرنے والا اور
برا ہمسایہ۔ (کنز العمال، 3/655)
5۔ رحم قطع کرنے والے کے اعمال قبول نہیں ہوتے: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بنی آدم کے اعمال ہر جمعہ کی
رات کو پیش کئے جاتے ہیں اور قاطعِ رحم کے اعمال قبول نہیں کیے جاتے۔ (شعب
الایمان، 10/341)

وہ اعمال جو نیک
اعمال کو برباد کر دیتے ہیں ان میں سے 5 اعمال درج ذیل ہیں: (1) ریا کاری (2)
احسان جتلانا (3) ایذا دینا (4) بخل (5) کافروں اور بد مذہبوں کو دوست بنانا۔
1،2،3۔ یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰىۙ- (البقرہ:264) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو!
احسان جتا کر اور تکلیف پہنچا کر اپنے صدقے برباد نہ کر دو۔ سورۃ البقرہ کی آیت
مبارکہ کے اس حصے میں ان 3 اعمال کا ذکر کیا گیا ہے جو نیک اعمال کو برباد کر دیتے
ہیں؛ 1)ریا کاری، 2)احسان جتلانا اور 3)ایذا دینا۔ افسوس کہ ہمارے ہاں ان تینوں بد
اعمال کی بھر مار ہے۔ ریاکاری سے اعمال کا ثو اب باطل ہو جاتا ہے۔ فقیر پر احسان
جتلانا اور اسے ایذا دینا ممنوع ہے اور یہ بھی ثواب کو باطل کر دیتا ہے۔ جہاں ریا
کاری یا اس طرح کی کسی دوسری آفت کا اندیشہ ہو وہاں چھپا کر مال خرچ کیا جائے۔
اعلانیہ اور پوشیدہ دونوں طرح صدقہ دینے کی اجازت ہے، جیسا کہ سورۂ بقرہ آیت 271
اور 274 میں صراحت کے ساتھ اس کا بیان ہے، لیکن اپنی قلبی حالت پر نظر رکھ کر عمل
کیا جائے۔
4۔ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۙ-
(التوبۃ: 34) ترجمہ کنز العرفان: اور اسے اللہ کی
راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہودی و عیسائی علماء و پادریوں کی حرصِ
مال کا ذکر فرمایا تو مسلمانوں کو مال جمع کرنے اور اس کے حقوق ادا نہ کرنے سے خوف
دلاتے ہوئے فرمایا کہ وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کر رکھتے ہیں اور اسے اللہ
تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں درد ناک عذاب کی خوشخبری سناؤ۔
5۔ وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا
فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ- (ہود:113) ترجمہ کنز العرفان: اور ظالموں کی طرف
نہ جھکو ور نہ تمہیں آگ چھوئے گی۔
اللہ تعالیٰ
کے نافرمانوں یعنی کافروں، بے دینوں اور گمراہوں کے ساتھ میل جول، رسم و راہ، مودت
و محبت ان کی ہاں میں ہاں ملانا ان کی خوشامد میں رہنا سب ممنوع ہے۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ان تمام اعمال سے
بچنے کی توفیق عطا فرمائے جو نیک اعمال کو برباد کر دیتے ہیں۔ (اے ایمان والو!،ص
9،50،71)
نیک اعمال
کو برباد کرنے والے 5 اعمال از بنت ندیم احمد،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ

نیک اعمال کی
توفیق ملنا اللہ کا بہت بڑا کرم ہوتا ہے، نبی کرم ﷺ سے نیکی کے متعلق سوال کیا گیا
کہ نیکی کیا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ کے فرمان کا مضمون ہے کہ حسن اخلاق نیکی ہے۔ ایک
روایت کا مفہوم ہے کہ وہ کام کرنے سے اگر دل مطمئن ہے تو یہ نیکی ہے۔ نیکی کی اگر
توفیق مل جائے تو ہمیں ایسے کاموں سے بچنا بھی ضروری ہے کہ جو نیک اعمال کو اکارت
کر دیں جیسے کہ مشہور مقولہ ہے ”نیکی کر دریا میں ڈال“ یعنی اگر ہم نے کوئی نیک
کام کر لیا تو اسے محض رب کا فضل سمجھنا چاہئے، فخر و غرور میں مبتلا نہیں ہونا
چاہئے، اللہ تعالیٰ نے اگر ہمیں نیک اعمال کی توفیق دے دی تو ہمیں نیک اعمال میں
استقامت کی دعا کرنی چاہیے، لوگ نیک اعمال کرتے ہی نہیں اگر کر بھی لیں تو ریا کاری
کی نظر کر دیتے ہیں۔
عمل
کا ہو جذبہ عطایا الہی مجھے
نیک انساں بنا یا الہی
نیک اعمال کو برباد کرنے والے بہت سے اعمال ہیں
جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
1۔ یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰىۙ-(البقرۃ:
264) ترجمہ: اے ایمان والو! جس پر خرچ کرو
اس پر احسان جتلا کر اور اسے تکلیف پہنچا کر اپنے صدقے کا ثواب برباد نہ کرو۔اس آیت
سے ہمیں یہ باتیں معلوم ہوئیں؛
1)ریا کاری سے
مال کا ثواب باطل ہو جاتا ہے۔
2)فقیر پر
احسان جتلانا اور اسے ایذا دینا ممنوع ہے یہ بھی ثواب باطل کر دیتا ہے۔
3)کافر کا کوئی
عمل بارگاہِ الٰہی میں مقبول نہیں۔
2۔ اسی طرح
قرآن مجید میں ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا
الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً۪- وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ
تُفْلِحُوْنَۚ(۱۳۰) (پ 4، اٰل عمران: 130) ترجمہ کنز العرفان:اے
ایمان والو! دگنا در دگنا سود نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں کا میابی
مل جائے۔سود قطعی حرام ہے، اسے حلال جاننے والا کافر ہے، سود نیک اعمال کو برباد
کر دیتا ہے۔ حضرت جابر سے مروی ہے حضور سید المرسلین ﷺ نے سود کھانے اور کھلانے
اور اس کی گواہی دینے والے پر لعنت فرمائی اور فرمایا یہ سب اس گناہ میں شامل ہیں۔(89
آیات قرآنی)
3۔ اسی طرح
قرآن مجید میں ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ
بِالْبَاطِلِ
(پ 5، النساء: 29) ترجمہ: اے ایمان والو! باطل طریقے سے آپس میں ایک دوسرے کے مال
نہ کھاؤ۔ سود، چوری اور جوئے کے ذریعے مال حاصل کرنا اور گانے بجانے کی اجرت یہ سب
باطل طریقے میں داخل اور حرام ہے، اسی طرح رشوت کا لین دین کرنا، ڈنڈی مارنا، کسی
کا مال وصول کرلینا یہ سب برے اعمال ہیں۔
4۔قرآن مجید میں
ہے: وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى
اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا(۳۲) (پ 15، بنی
اسرائیل:32) ترجمہ کنز الایمان: اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بے شک وہ بے حیائی ہے
اور بہت ہی بری راہ۔
زنا کبیرہ
گناہوں سے ہے۔
5۔اس طرح قرآن
مجید میں ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ
وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ(۷۰) (پ 22،
الاحزاب: 70) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو! اللہ سے ڈروا در سیدھی بات کہو۔ تفسیر
صراط الجنان میں ہے: سچی اور درست بات کہنی چاہیے اللہ تم پر کرم فرمائے گا تمہارے
اعمال سنوارے گا اگر اس کے بر عکس معاملہ ہوا تو اعمال کے ضائع ہونے کا سبب ہو
سکتا ہے۔(89 آیات قرآنی)
اللہ
پاک سے دعا ہےکہ ہمیں نیک اعمال کرنے کی تو فیق دے، کیونکہ بسا اوقات نیکی کی توفیق
تو مل جاتی ہے مگر بد قسمتی سے وہ ریا کی نظر ہو جاتی ہے یا پھر نیکی کی توفیق ہی
نہیں ملتی، نیکیاں کرنا آسان لیکن گناہ سے بچنا مشکل ہے اور ا فضل عمل گناہ سے
بچنا ہے، اللہ پاک ہمیں نیکیاں کرنے اور گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

جس طرح نیک اعمال کرنا ضروری
ہے اسی طرح بلکہ اس سے بڑھ کر ان کی حفاظت کرنا لازم ہے، کیونکہ انسان بڑی کوششوں
کے بعد اپنے آپ کو گناہ سے محفوظ کر کے نیک اعمال کرتا ہے، ذرا سی بے احتیاطی سے
یہ برباد بھی ہو سکتے ہیں، لہٰذا ایک مسلمان کی اولین کوشش یہی ہونی چاہیے کہ اس
سے کوئی ایسا عمل سرزد نہ ہو جس کی وجہ سے اس کی محنت و مشقت بے کار ہو جائے، جس
طرح نیک اعمال کرنے سے ایمان میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے، اسی طرح بعض اعمال ایسے ہیں
جن کے کرنے سے انسان کے نیک اعمال برباد ہو جاتے ہیں جس کا ثبوت قرآن پاک کی
آیات کریمہ سے واضح ہوتا ہے، قرآن پاک میں اعمال کے برباد کرنے کے لیے حبط عمل
کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، یہاں ہم 5 ایسے اعمال ذکر کرتے ہیں جو نیک اعمال کو
برباد کر دیتے ہیں تاکہ لوگ ان سے بچیں اور اپنے اعمال کو برباد ہونے سے بچائیں،
جن کا تذکرہ آیات قرآنیہ میں ہے؛
1۔کفر و شرک:چنانچہ اللہ
پاک ارشاد فرماتا ہے:
وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ
اَعْمَالُهُمْؕ-هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠(۱۴۷) (پ 9،
الاعراف: 147) ترجمہ کنز العرفان: اور جنہوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کی ملاقات
کو جھٹلایا تو ان کے تمام اعمال برباد ہوئے انہیں ان کے اعمال ہی کا بدلہ دیا جائے
گا۔
2۔مرتد ہونا:
چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ
عَمَلُهٗ٘-وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۠(۵) (پ 6، المائدۃ: 5) ترجمہ کنز العرفان:
اور جو ایمان سے پھر کر کافر ہوجائے تو اس کا ہر عمل برباد ہوگیا اور وہ آخرت میں
خسارہ پانے والوں میں ہوگا۔
3۔نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں آواز
بلند کرنا: اللہ
پاک ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا
اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ
كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا
تَشْعُرُوْنَ(۲) (الحجرات: 2) ترجمہ کنز العرفان: اے
ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو اور ان کے حضور زیادہ بلند
آواز سے کوئی بات نہ کہو جیسے ایک دوسرے کے سامنے بلند آواز سے بات کرتے ہو کہ
کہیں تمہارے اعمال برباد نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔
4۔صدقہ دے کر احسان جتانا اور تکلیف
پہنچانا:
چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰىۙ-(البقرۃ:
264) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو!
احسان جتا کر اور تکلیف پہنچا کر اپنے صدقے برباد نہ کر دو۔
5۔ نیک اعمال
کے ذریعے دنیا طلب کرنا: مَنْ كَانَ یُرِیْدُ
الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا
وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ(۱۵) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ
لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ ﳲ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا
وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۶) (ہود: 15-16) ترجمہ کنز العرفان: جو دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتا
ہو تو ہم دنیا میں انہیں ان کے اعمال کا پورا بدلہ دیں گے اور انہیں دنیا میں کچھ
کم نہ دیا جائے گا، یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں اور
دنیا میں جو کچھ انہوں نے کیا وہ سب برباد ہو گیا اور ان کے اعمال باطل ہیں۔

انسان اللہ پاک کی تخلیق کا
شہکار ہے اور یہ تخلیق عبث و بیکار نہیں ہے، جیسا کہ آیت مبارکہ ہے: اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا
خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ(۱۱۵) (المؤمنون:115) ترجمہ کنز الایمان: تو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں
بیکار بنایا اور تمہیں ہماری طرف پھرنا نہیں۔ بلکہ انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ کی
عبادت ہے، جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ
الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶) (الذٰریٰت:56)
ترجمہ کنز الایمان: اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی لیے بنائے کہ میری بندگی کریں۔
چونکہ مقصدِ تخلیق عبادتِ الٰہی ہے اور یہ عبادت اللہ پاک کے اوامر و نواہی کی
صورت میں ہی ہو سکتی ہے کہ جن کاموں کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے انہیں بجا لایا
جائے اور جن سے منع کیا گیا ہے ان سے باز رہا جائے۔ ممنوع اعمال میں سے کچھ ایسے
بھی ہیں جن کا ارتکاب اعمال حسنہ کی بربادی کا سبب بنتا ہے۔ ان میں سے 5 کا تذکرہ
کیا جاتا ہے۔
1۔ بارگاہ
رسالت میں آواز بلند کرنا بھی بربادیِ اعمال کی ایک وجہ ہے جس کو اللہ پاک نے سورۃ
الحجرات میں بیان فرمایا ہے۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا
تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ
اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) (الحجرات: 2)
ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو اور
ان کے حضور زیادہ بلند آواز سے کوئی بات نہ کہو جیسا ایک دوسرے کے سامنے بلند آواز
سے بات کرتے ہو کہ کہیں تمہارے اعمال برباد نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔ صراط
الجنان میں ہے:بارگاہ رسالت میں ایسی آواز بلند کرنا منع ہے جو آپ ﷺ کی تعظیم و
توقیر کے برخلاف ہے اور بے ادبی کے زمرے میں داخل ہے اور اگر اس سے بے ادبی اور تو
ہین کی نیت ہو تو یہ کفر ہے۔(صراط الجنان، 9/404)
2۔انہیں اعمال
میں سے ایک غیبت ہے جو کہ نیکیوں کو برباد کر دیتی ہے جس کے نتیجے میں غیبت کرنے
والے کی نیکیاں جس کی غیبت کی گئی اس کے نامۂ اعمال میں داخل کی جائیں گی، جیسا
کہ سورہ حجرات میں ہے: وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اس کے
تحت تفسیر صراط الجنان میں امام غزالی کا قول نقل ہے: جس کی غیبت کی وہ مر گیا یا
غائب ہو گیا اس سے کیونکر معافی مانگے، یہ معاملہ بہت دشوار ہو گیا اس کو چاہیے کہ
نیک کام کی کثرت کرے تاکہ اگر اس کی نیکیاں غیبت کے بدلے میں اسے دے دی جائیں تو
اس کے پاس نیکیاں باقی رہ جائیں۔ (صراط الجنان، 9/443)
3۔اعمال کو
برباد کرنے والا ایک عمل احسان جتلا کر اور تکلیف دے کر صدقات کا ثواب باطل کرنا
بھی ہے جس کی تصدیق اس آیت مبارکہ سے بھی ہوتی ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰىۙ- (البقرۃ:
264) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! احسان جتلا کر اور تکلیف پہنچا کر اپنے
صدقے برباد نہ کرو۔
4۔چوتھا عمل
شرک ہے جو نیک اعمال کو برباد کرنے والے اعمال میں سے سب سے زیادہ برا اور خطرناک
ہے۔ یہ ایسا گناہ ہے جو سب اعمال حسنہ کو کھا جاتا ہے اور اس کی بخشش نہیں، جیسا
کہ آیت مبارکہ میں ہے: اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ
یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ- (النساء:
48) ترجمہ کنز الایمان: بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور
کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے۔
5۔ ان میں سے
سے ایک حسد بھی ہے جو نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ خشک لکڑی کو کھا کر راکھ
بنا دیتی ہے، جیسا کہ ابو داؤد شریف کی حدیث ہے: اِيَّاكُمْ
وَالْحَسَد فَاِنَّ الْحَسَدَ يَاْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَاْكُلُ النَّارُ
الْحَطَبَ
ترجمہ: حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو یوں کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا
جاتی ہے۔ (ابو داود، 4/360، حدیث: 4903)

ایک مسلمان کے دل میں نیکیاں کرنے کا جذبہ موجود ہوتا ہے، لیکن نیکیوں
کے اس جذبہ کے ساتھ کچھ ایسے افعال بھی اس سے سرزد ہو رہے ہوتے ہیں جو اس کے نیک
اعمال کو برباد کر رہے ہوتے ہیں، لیکن ہماری اس کی طرف توجہ ہی نہیں ہوتی۔یہاں چند
ایسے اعمال بیان کئے جائیں گے جو ہمارے نیک اعمال کو بربا د کر دیتے ہیں، چنانچہ قرآن
پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰىۙ-(البقرۃ: 264)
اے ایمان والو! احسان جتا کر اور تکلیف دے کر
اپنے صدقات باطل نہ کرو۔ صدقہ کرنا
اچھا عمل ہے لیکن اگر اس کے ساتھ سامنے والے پر احسان جتایا جائے یا بار بار اس کو
یاد دلا کر تکلیف دی جائے تو صدقہ باطل ہوجاتا ہے، اس کے علاوہ حدیث مبارکہ میں حسد
کے متعلق ارشاد ہوتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: حسد سے دور رہو، کیونکہ حسد نیکیوں
کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو۔ (ابو داود، 4/360، حدیث: 4903)
اس کے علاوہ حُبِّ مدح (یعنی لوگوں کی طرف سے کسی عمل پر کی جانے والی
تعریف) کی تمنا بھی ایسا عمل ہے جو نیک عمل کو برباد کر دیتا ہے۔ حدیث مبارکہ میں
ہے: اللہ پاک کی عبادت کو لوگوں کی زبانوں سے اپنی تعریف پسند کرنے کے ساتھ ملانے
سے بچو ایسا نہ ہو کہ تمہارے عمل برباد ہوجائیں۔(باطنی بیماریوں کی معلومات) یقینا
اللہ پاک کی عبادت کو لوگوں کی حقیر تعریف کے بدلے ضائع کرنا بے وقوفی ہے۔ اللہ پاک
ہمیں حب مدح سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اس کے علاوہ طلبِ شہرت کے لیے عمل کر نا بھی
ہمارے نیک اعمال کو برباد کر دیتا ہے، حدیث مبارکہ میں ہے:جو شہرت کے لیے عمل کرے
گا اللہ اسے رسوا کرے گا جو دکھاوے کے لیے عمل کرے گا تو اللہ قیامت کے دن اسے
لوگوں پر ظاہر فرما دے گا۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات)
نفسانی
خواہشات کی پیروی بھی انسان کو بربادی عمل کی طرف لے جاتی ہے، حدیث مبارکہ میں
ارشاد ہے کہ تین چیزیں ہلاکت میں ڈال دیتی ہیں: حرص و طمع، نفسانی خواہشات کی
پیروی کرنا، اپنے آپ پر فخر کرنا۔
اللہ پاک ہمیں
ان اعمال سے بچ کر نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین