اعلیٰ حضرت اعلیٰ سیرت

Mon, 11 Sep , 2023
1 year ago

ایک مرتبہ ایک استاذ صاحب بچوں کو پڑھا رہے تھے کہ اتنے میں ایک بچے نے آکر سلام کیا جس پر استاذ صاحب کی زبان سے نکلا ”جیتے رہو“ بچوں میں موجود ایک علمی گھرانے سے تعلق رکھنے والے بچے نے عرض کیا: یہ سلام کا جواب تو نہیں!وعلیکم السلام کہنا چاہیئے، یہ سن کر استاذ صاحب بہت خوش ہوئے اور اُس بچے کو دعاؤں سے نوازا۔

یہ بچہ کوئی اور نہیں بلکہ اپنے وقت کے امام، مترجمِ قراٰن،امامِ اہلسنت، مجددِ دین و ملت، ماحی بدعت، شیخ المسلمین اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ذاتِ مبارکہ تھی۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں، آپ دنیا بھر میں اہلسنت و جماعت کے بہت بڑے امام و مُقْتَدَا (جس کی اقتدا کی جائے) اور مذہب و ملت کے محافظ کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔

ولادتِ باسعادت

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ 10 شوال المکرم1272ھ بمطابق 14جون 1856ء کو ہند کے مشہور و معروف شہر بریلی میں واقع محلہ جسولی میں پیدا ہوئے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا پیدائشی نام محمد اور تاریخی نام المختار ہے جبکہ آپ کے جدِّ امجد مولانا رضا علی خان رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کا نام احمد رضا رکھا۔(سیرتِ امام احمد رضا خان قادری، 94)

آپ رحمۃ اللہ علیہ بچپن ہی سے ذہین و فطین اور اعلیٰ اخلاق و سیرت کے مالک تھے ۔بچپن ہی سے دینِ اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنا، بزرگوں کا ادب کرنا اور ساداتِ کرام (آلِ رسول) کا احترام کرنے سمیت دیگر ایسے کثیر واقعات سے آپ رحمۃا للہ علیہ کی زندگی بھری ہوئی ہے نیز اللہ پاک نے آپ کو بےشمار علمی صلاحیتوں سےبھی نوازا تھا جن پر آ پ کی تصانیف اور فتویٰ جات گواہ ہیں۔

جس کے لئے روزہ رکھا ہے وہ تو دیکھ رہا ہے

ایک مرتبہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ جاری و ساری تھا، اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی پہلی روزہ کشائی کی تقریب کا سلسلہ تھا، ایک کمرے میں فیرنی کے پیالےجمانے کے لئے رکھے ہوئے تھے۔سخت گرمی ہونے کے باوجود اعلیٰ حضرت نے کم عمری میں بھی بڑی خوش دلی سے روزہ رکھا تھا۔ دوپہر کے وقت اعلیٰ حضرت کے والدِ محترم آپ کو اُس کمرے میں لے گئے اور دروازہ بند کر کے فیرنی کا ٹھنڈا پیالہ اٹھا کر دیا اور کہا کہ اسے کھالو۔اعلیٰ حضرت نے اپنے والدِ محترم سے کہا کہ میرا تو روزہ ہےکیسے کھاؤں؟والدِ محترم نے فرمایا: بچوں کا روزہ ایسا ہی ہوتا ہے، لو کھالو، کمرہ بند ہے، کوئی دیکھنے والا بھی نہیں ہے۔اس پر اعلیٰ حضرت عرض گزار ہوئے:”جس کے لئے روزہ رکھا ہے وہ تو دیکھ رہا ہے “، والدِ محترم آپ کی باتین سن کر آبْ دِیْدَہْ ہو گئے(آنکھوں میں آنسو آگئے) ، انہوں نے اللہ پاک کا شکر ادا کیاکہ جس کو کم عمری میں اپنے وعدے کو پورا کرنے کا اتنا لحاظ ہو وہ بچہ اپنے رب سے کئے ہوئے عہد (وعدے) کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔(سیرتِ اعلیٰ حضرت معہ کرامات، 90)

مریض ہوں تو علاج نہ کروں؟

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق کہا جاتا ہے:نہ ان کے کسی بڑے کی زبانی سنا، نہ ہی کسی برابر والے(ہم عمر)نے بتایااور نہ ہم چھوٹوں نے اعلیٰ حضرت کو کبھی ماہِ مبارک کا کوئی روزہ قضا کرتے ہوئے دیکھا۔بعض مرتبہ اعلیٰ حضرت ماہِ مبارک میں بیمار ہوئے مگر انہوں نے روزہ نہیں چھوڑا۔کسی نے عرض کی کہ ایسی حالت میں روزہ رکھنے سے کمزوری اور بڑھ جائےگی تو ارشاد فرمایا کہ مریض ہوں تو علاج نہ کروں؟لوگوں نے تعجب سے کہا: کہ روزہ بھی کوئی علاج ہے؟ تو ارشاد فرمایاکہ علاج کا توڑہے، میرے آقا صلی اللہ علیہ و سلم کا بتایا ہوا اکسیر ہے۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں:صوموا تصحوا روزہ رکھو صحتیاب ہو جاؤ گے۔(سیرتِ اعلیٰ حضرت معہ کرامات، 91)

اس سے معلوم ہوا کہ اعلیٰ حضرت بچپن ہی سے اللہ عزوجل اور اس کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم پر عمل کرنے والے اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے کہ عام طور پر بچوں میں ان چیزوں کا زیادہ رجحان نہیں ہوتا لیکن قربان جائیں میرے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان پر کہ بیماری کے عالم میں بھی روزہ نہ چھوڑا ۔

حسنِ اخلاق کا اعلیٰ درس

آپ رحمۃ اللہ علیہ کے اعلیٰ اخلاق کا اندازہ اُس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے جب ایک کم سن بچے نے اعلیٰ حضرت کو اپنے گھر کھانے کی دعوت دی ۔اس پر اعلیٰ حضرت نے مزاحاً پوچھا:دعوت میں کیا کھلاؤ گے؟کم سن بچے نے اپنے ہاتھ میں پکڑے کُرتے کے دامن کو پھیلایا جس میں ماش کی دال اور مرچیں تھیں، اور کہا دیکھئے نا یہ لایاہوں۔اعلیٰ حضرت نے اُس بچے کے سر پر دستِ شفقت رکھا اور دعوت قبول کرتے ہوئے فرمایا:کہ میں اور حاجی کفایت اللہ صاحب آئیں گے ۔

اگلے روز وقتِ مقررہ پر اعلیٰ حضرت حاجی کفایت اللہ صاحب کے ہمراہ اُس کم سن بچے کے گھر(جو کہ بریلی شہر کے محلہ ملوکپور میں واقع تھا) پہنچے ۔اعلیٰ حضرت اور حاجی کفایت اللہ صاحب کچھ دیر گھرکے باہر کھڑے رہے۔ اس کے بعد ایک بوسیدہ چٹائی آئی اورایک ڈلیا(مونج یا کھجور کے پتّوں کی بنی ہوئی چھوٹی ٹوکری) میں باجرہ کی گرم گرم روٹیاں آئیں،مٹی کے برتن میں ماش کی دال آئی جس میں مرچوں کے ٹکڑے ٹوٹے ہوئے پڑے تھے۔کھانے کے دوران حاجی کفایت اللہ صاحب کے دل میں خیال آیا کہ گھر پر تو اعلیٰ حضرت کے کھانے میں احتیاط کی جاتی ہے کہ چپاتی کے بجائے سوجی کا بسکٹ تناول فرماتے ہیں اور یہاں باجرہ کی روٹی اور ماش کی دال کھانا پڑی ہے مگرقربان جائیں میرےآقا اعلیٰ حضرت کے اخلاقِ کریمہ پر کہ میزبان کی خوشنودی اور اُس کا دل رکھنے کے لئے پوری توجہ کے ساتھ کھانا کھا رہے ہیں۔(سیرتِ اعلیٰ حضرت معہ کرامات، 97تا 98)

اس واقعہ میں اعلیٰ حضرت نے اپنے چاہنے والوں کو حسنِ اخلاق کا کیسا اعلیٰ درس دیا ہے کہ ہمیں ہر ایک کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا چاہیئےچاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، نیز معلوم ہوا کہ آپ کا علمی مقام جس قدر بلند تھا بلکل اسی طرح آپ کے اخلاقِ کریمہ بھی بلند و بالا تھے۔

سیّد صاحب کے حکم کی تعمیل

اعلیٰ حضرت سمیت آپ کا پورا خاندان ساداتِ کرام (آلِ رسول) کی عزت و عظمت اور اُن سے بےحد محبت کرنے والا مشہور گھرانہ تھا۔ آپ کے آبا و اجداد اکثر ساداتِ کرام کی خیریت معلوم کرنے اور انہیں سلام کرنے جایا کرتے تھے اور انہیں اپنی دعوتوں میں شریک کرتے تھے۔ ایک بار اعلیٰ حضرت نے کسی سبب سےکھانا چھوڑ دیا اور صرف ناشتہ پر قناعت کرنے لگے۔سارے خاندان اور اُن کے احباب نے بڑی جد و جہد کی کہ اعلیٰ حضرت کھانا شروع کردیں لیکن ان سب کی کوشش رائیگاں گئی تو وہ سب سیّد مقبول صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آج دو مہینے ہو گئے ہیں، اعلیٰ حضرت نے کھانا چھوڑ دیا ہے، ہم سب کوشش کرکے تھک گئے ہیں اب آپ ہی انہیں سمجھا سکتے ہیں۔اس پر سیّد مقبول صاحب نے اپنے گھر والوں سے کھانا تیار کروایا اور خود اعلیٰ حضرت کے پاس تشریف لے گئے، جب اعلیٰ حضرت کو سیّد صاحب کے آنے کی اطلاع ملی تو فوراً کمرے سے باہرچلے آئےاور سیّد صاحب سے قدم بوس ہوئے ۔سیّد مقبول صاحب نے فرمایا : میں نے سنا ہے کہ آپ نے کھانا چھوڑ دیا ہےتو اعلیٰ حضرت نے کہا کہ میں تو روز کھاتا ہوں، میرے معمولات میں اب تک کوئی فرق نہیں پڑا، میں اپنا کام بدستور کر رہا ہوں، مجھے اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں اس پر سیّد مقبول صاحب برہم ہوگئے اور کھڑے ہو کر فرمانے لگے اچھا تو میں کھانا لے جاتا ہوں، کل بروزِ قیامت میں سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ و سلم کا دامن پکڑ کر عرض کروں گا کہ ایک سیّدہ نے بڑے شوق سے کھانا پکایا اور ایک سیّد لے کر آیا مگر آپ کے احمد رضا نے کسی طرح نہ کھایا۔یہ سن کر اعلیٰ حضرت کانپ گئے اور عرض کیا کہ میں تعمیلِ حکم کے لئے حاضرہوں،ابھی کھالیتا ہوں۔سیّد صاحب نے اعلیٰ حضرت سے وعدہ لیا کہ اب عمر بھر کھانا نہیں چھوڑو گے چنانچہ اعلیٰ حضرت نے عمر بھر کھانا نہ چھوڑنے کا وعدہ کیا تو سیّد صاحب اعلیٰ حضرت کو کھانا کھلا کر خوشی خوشی تشریف لے گئے۔( سیرتِ اعلیٰ حضرت معہ کرامات، 94 تا 95)

ساداتِ کرام کا ادب و احترام جزءِ رسول ہونے کی حیثیت سے

ساداتِ کرام کا اس قدر ادب و احترام کرنے کے متعلق تلمیذِ اعلیٰ حضرت، ملک العلماء حضرت علامہ محمد ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: علمائے دین نے اپنی مستند کتابوں میں اس بات کی تصریح فرمائی ہے کہ حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت و تعظیم میں سے ہے کہ ہر وہ چیز جس کو حضور سے نسبت ہو جائے اُس کی تعظیم و توقیر کی جائے۔ساداتِ کرام جزءِ رسول ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ مستحقِ توقیر و تعظیم ہیں اور اس پر پورا عمل کرنے والا میں نے اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کو پایا ہے، اس لئے کہ کسی سیّد صاحب کو اعلیٰ حضرت اُس کی ذاتی حیثیت سے نہیں دیکھتے بلکہ اس حیثیت سے دیکھتے ہیں کہ وہ سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ و سلم کا جز ہیں۔(حیاتِ اعلیٰ حضرت 1، 179)

اعلیٰ حضرت کے زندگی کا ہر ایک پہلو ہمارے لئے ایک بہترین نمونہ ہے، اللہ پاک ہمیں بھی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی اعلیٰ سیرت اور اُن کے فرامین پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

از: غیاث الدین مدنی (اسلامک ریسرچ سینٹر دعوتِ اسلامی)


شراب کسے کہتے ہیں ؟ لغت میں پینے کی چیز کو شراب کہتے ہیں اور اصطلاح فقہا میں شراب اسے کہتے ہیں جس سے نشہ ہوتا ہے ، اس کی بہت قسمیں ہیں ، خمر، انگور کی شراب کو کہتے ہیں یعنی انگور کا کچا پانی جس میں جوش آ جائے اور شدت پیدا ہو جائے ۔ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃُ اللہِ علیہ کے نزدیک یہ بھی ضروری ہے کہ اس میں جھاگ پیدا ہو اور کبھی ہر شراب کو مجازاً خمر کہہ دیتے ہیں ۔[A]

شراب کا حکم:رسولِ اَکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پاس ایک مَٹکے میں جوش مارتی ہوئی (نشہ آور) نبیذ لائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اسے دیوار پر دے مارو کیونکہ یہ اس شخص کا مشروب ہے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔[B]حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا فرمان ہے: ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔[C]ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا ارشاد ہے:ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر شراب حرام ہے ۔[D]

شراب کی کمائی کا حکم: جس طرح شراب کا پینا حرام ہے اسی طرح اس کا بیچنا اور اس کی کمائی کھانا بھی حرام ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا ارشاد ہے: اللہ پاک نے شراب اور اس کی کمائی ، مردار اور اس کی کمائی، خنزیر اور اس کی کمائی کو حرام قرار دیا ہے۔[E]دوسری حدیث میں ہے:جب اللہ پاک کسی قوم پر کوئی چیز حرام کرتا ہے تو اس کی کمائی بھی ان پر حرام کر دیتا ہے۔[F]

خمر کی حرمت نص قطعی سے ثابت ہے: خمر حرام بعینہٖ ہے اس کی حرمت نصِ قطعی سے ثابت ہے اور اس کی حرمت پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے اس کا قلیل و کثیر سب حرام ہے اور یہ پیشاب کی طرح نجس ہے اور اس کی نجاست غلیظہ ہے جو اس کو حلال بتائے کافر ہے کہ نصِ قرآنی کا منکر ہے مسلم کے حق میں یہ مُتَقَوِّم نہیں یعنی اگر کسی نے مسلمان کی یہ شراب تلف (ضائع) کر دی تو اس پر ضمان(تاوان) نہیں اور اس کو خریدنا صحیح نہیں۔[G]

شراب سے کسی قسم کا فائدہ اٹھانا جائز نہیں: شراب سے کسی قسم کا انتفاع جائز نہیں نہ دوا کے طور پر استعمال کر سکتا ہے نہ جانور کو پلا سکتا ہے نہ اس سے مٹی بھگا سکتاہے نہ حقنہ کے کام میں لائی جا سکتی ہے ۔ جانوروں کے زخم میں بھی بطور علاج اس کو نہیں لگا سکتے۔[H]

شراب کے متعلق آٹھ احکام: ملا احمد جیون حنفی رحمۃُ اللہِ علیہ نے ’’تفسیراتِ احمدیہ‘‘ میں خمر (شراب) کے بارے میں آٹھ احکام ذکر کئے ہیں ۔ جو یہ ہیں :

(1) ہمارے نزدیک خمر (انگور کی شراب) بعینہ حرام ہے ۔ اس کی حرمت نشہ پر موقوف ہے نہ نشہ اس کے حرام ہونے کی علت ہے ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا نشہ حرام ہے کیونکہ یہی فساد کا باعث بنتا ہے اور اللہ کی یاد اور نماز سے روکتا ہے ۔ یہ خیال ہمارے نزدیک کفر ہے کیونکہ یہ کتاب الٰہی کا انکار ہے اللہ تعالیٰ نے خمر کو رِجْس کہا ہے اور رِجْس حرام لِعَیْنِہٖ ہوتا ہے اسی پر امت کا اجماع ہے اور سنت سے بھی یہی ثابت ہے ۔ لہٰذا خمر حرام لِعَیْنِہٖ ہے ۔

(2) شراب پیشاب کی طرح نجاستِ غلیظہ ہے کیونکہ یہ دلیل قطعی سے ثابت ہے ۔

(3) مسلمان کے لئے اس کی کوئی قیمت نہیں یعنی اگر کوئی شخص کسی مسلمان کی شراب ضائع کر دے یا غصب کر لے تو اس پر کوئی ضمان نہیں ، اس کی خرید و فروخت جائز نہیں کیونکہ اللہ پاکنے اہانت کی وجہ سے اسے نجس قرار دیا ہے لہٰذا اس کی قیمت لگانا گویا اسے عزت دینا اور اہانت سے نکالنا ہے ۔

(4) شراب سے نفع اٹھانا حرام ہے کیونکہ یہ نجس ہے اور نجس شے سے نفع حرام ہوتا ہے اور اللہ پاک نے بھی اس سے اجتناب کا حکم دیا ہے ۔

(5) شراب (خمر) کو حلال جاننا کفر ہے کیونکہ یہ دلیل قطعی کا انکار ہے ۔

(6) شراب پینے والے پر حد جاری ہو گی خواہ اسے نشہ نہ بھی ہو ۔ خمر کے علاوہ دیگر میں نشہ کی قید ہے ۔

(7) شراب بننے کے بعد مزید پکانے سے اس میں فرق نہیں پڑتا یعنی یہ بدستور حرام ہی رہتی ہے ۔

(8) البتہ! ہمارے (یعنی احناف کے) نزدیک اسے سرکہ میں تبدیل کرنا جائز ہے۔ [I]

شراب نوشی کی حرمت پر دس دلائل:علامہ شامی رحمۃُ اللہِ علیہ نے شراب کی حرمت پر دس دلائل ذکر کئے ہیں ۔ جو یہ ہیں :

(1) … شراب کا ذکر جوئے بت اور جوئے کے تیروں کے ساتھ کیا ہے اور یہ سب حرام ہیں ۔

(2) … شراب کو ناپاک فرمایا اور ناپاک چیز حرام ہوتی ہے ۔

(3) … شراب کو عملِ شیطان فرمایا اور شیطانی عمل حرام ہے ۔

(4) … شراب سے بچنے کا حکم دیا اور جس سے بچنا فرض ہو اس کا ارتکاب حرام ہے ۔

(5) …فلاح (کامیابی) کو شراب سے بچنے کے ساتھ مشروط ٹھہرایا ۔ اس لیے اجتناب فرض اور ارتکاب حرام ہوا ۔

(6)…شراب کے سبب سے شیطان آپس میں عداوت (دشمنی) ڈالتا ہے اور عداوت حرام ہے اور جو حرام کا سبب ہو وہ بھی حرام ہی ہے ۔

(7) … شراب کے سبب سے شیطان بغض (نفرت) ڈالتا ہے اور بغض حرام ہے ۔

(8) … شراب کے سبب شیطان اللہ کے ذکر سے روکتا ہے اور اللہ پاک کے ذکر سے روکنا حرام ہے ۔

(9) …شراب کے سبب شیطان نماز سے روکتا ہے اور جو نماز سے رکاوٹ کا سبب ہو اس کا ارتکاب حرام ۔

(10) …اللہ پاک نے اِستفہامیہ (سوالیہ) انداز میں شراب سے منع فرمایا کہ کیا تم باز آنے والے نہیں ہو، اس سے بھی حرمت کا پتا چلتا ہے ۔[J]

شراب نوشی کے دس نقصانات:(1)یہ بندے کی عقل میں فتور ڈال دیتی ہے اِس طرح وہ بچو ں کے لئے تماشااور مذاق بن جاتاہے۔ امام ابن ابی الدنیا رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : میں نے ایک شرابی کوپیشاب کرتے ہوئے دیکھا وہ اپنے منہ پر پیشاب مل رہاتھا اور کہہ رہاتھا : ’’یاالٰہی! مجھے کثرت سے تو بہ کرنے والوں اور پاکیز ہ رہنے والوں میں شامل فرما۔ ‘‘(2)یہ مال کو ضائع اور بر باد کرتی ہے اور تنگدستی کا سبب بنتی ہے جیسا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہُ عنہ نے دعا مانگی: ’’یاالٰہی!ہمیں شراب کے بارے میں واضح حکم ارشاد فرمادے کیونکہ یہ مال کو برباد اور عقل کو ختم کردیتی ہے۔ ‘‘(3) یہ عداوت اور دشمنی کاسبب ہے۔ (4) شراب کھانے کی لذت اور درست کلام سے شرابی کو محروم کردیتی ہے۔ (5)بعض اوقات شراب، شرابی کی بیوی کو اس پر حرام کردیتی ہے او روہ زنا میں مبتلاہوجاتا ہے اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ شرابی نشہ میں مدہوش ہوکراکثر طلاق دے دیتا ہے اور بعض اوقات لاشعوری طور پر قسم توڑڈالتا ہے تو اپنی حرام کی ہوئی بیوی سے زنا کر بیٹھتا ہے۔(6) یہ ہر برائی کی کنجی ہے اور شرابی کو بہت سے گناہوں میں مبتلاکر دیتی ہے ۔(7) شراب نوشی شرابی کو بدکاروں کی مجلس میں لے جاتی ہے ،اپنی بد بو سے اُس کے کاتب فرشتو ں کوایذا دیتی ہے۔ (8) یہ شرابی پر آسمانوں کے دروازے بند کردیتی ہے ، چالیس دن تک نہ اِس کا کوئی عمل اُوپر پہنچتا ہے نہ ہی دُعا۔ (9)شراب(خمر) ، شرابی پر اَسّی کو ڑے واجب کردیتی ہے لہٰذا اگر وہ دنیا میں اِس سزا سے بچ بھی گیا تو آخرت میں مخلوق کے سامنے اُسے کوڑے مارے جائیں گے۔ (10) یہ شرابی کی جان اور ایمان کو خطرے میں ڈال دیتی ہے اِس لئے مرتے وقت اِیمان چِھن جانے کا خدشہ رہتاہے۔[K]

شراب نوشی کے طبی نقصانات: شراب کا سب سے زیادہ اثر جگر (Liver)پر پڑتا ہے اور وہ سُکڑنے لگتا ہے ، گُردوں پر اِضافی بوجھ پڑتا ہے جو بِالآخرنِڈھال ہو کر انجامِ کار ناکارہ (FAIL) ہو جاتے ہیں ، عِلاوہ ازیں شراب کے استِعمال کی کثرت دِماغ کو مُتَوَرَّم (یعنی سُوجن میں مُبتَلا) کرتی ہے ، اَعصاب میں سوزِش ہو جاتی ہے نتیجۃً اَعصاب کمزور اور پھر تباہ ہو جاتے ہیں ، شرابی کے مِعدہ میں سُوجن ہو جاتی ہے ، ہڈّیاں نرم اور خَستہ (یعنی بَہُت ہی کمزور) ہو جاتی ہیں ، شراب جسم میں موجود وٹامنز کے ذخائر کو تباہ کرتی ہے ، وٹامن BاورC اِس کی غار تگری کا بِالخصوص نشانہ بنتے ہیں ۔ شراب کے ساتھ ساتھ تمباکو نوشی کی جائے تو اِس کے نقصان دہ اثرات کئی گُنا بڑھ جاتے ہیں اور ہائی بلڈ پریشر، سٹروک اور ہارٹ اٹیک کا شدید خطرہ رہتا ہے ۔ بکثرت شراب پینے والا تھکن، سر درد، متلی اور شدّتِ پیاس میں مبتَلا رہتا ہے ۔ بے تحاشا شراب پی جانے سے دل اور عملِ تَنَفُّس (سانس لینے کا عمل) رُک جاتا اور شرابی فوری طور پر موت کے گھاٹ اُتر جاتا ہے ۔[L]زیادہ شراب نوشی سے عارضۂ قلب (Heart problem) ، فشارِ خون (Blood pressure) ، ذیابیطس (Sugar) ، جگر اور گردوں (Kidney) کے امراض پیدا ہوتے ہیں ۔



[A] فتاوی عالمگیری،5/409دار الفکر بیروت، در مختار، کتاب الاشربۃ، 10/32دار المعرفۃ بیروت

[B] حلیۃ الاولیاء، 6/159، حدیث:8148 دار الکتب العلمیہ بیروت

[C] مسلم،ص854، حدیث:5219 دار الکتاب العربی بیروت

[D] مسلم،ص855، حدیث:5221 دار الکتاب العربی بیروت

[E]ابو داود،3/386 ،حدیث:3485دار احیاء التراث العربی بیروت

[F]ترمذی،3/343،حدیث:1873 دار الفکر بیروت

[G]بہارشریعت،3/672،حصہ17،مکتبۃ المدینہ کراچی

[H]بہارشریعت،3/672،حصہ17،مکتبۃ المدینہ کراچی

[I] التفسیرات الاحمدیۃ، المائدۃ، مسئلۃ حرمۃ الخمرو المیسر، ص369 مکتبہ حقانیہ پشاور

[J]رد المحتار،10/33 دار المعرفۃ بیروت

[K]آنسوؤں کا دریا،ص 292مکتبۃ المدینہ کراچی

[L]برائیوں کی ماں،ص 39 ،40مکتبۃ المدینہ کراچی 

از: محمد گُل فراز مدنی (اسلامک ریسرچ سینٹر دعوتِ اسلامی)


اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ ہمارے پیارے آقا ﷺ اپنے رب کے اذن و حکم سے دافع البلاء ہیں یعنی مسائل کو حل فرماتے ہیں بلاؤں کو دفع فرماتے ہیں اور اسیروں کے مشکل کشا ہیں، اس عقیدے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ پاک نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

آیت نمبر 1۔ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ-(پ 9، الانفال: 33) ترجمہ: اللہ کہ یہ شان نہیں کہ انہیں عذاب دے جب تک اے حبیب تم ان میں تشریف فرما ہو۔ سبحٰن اللہ ہمارے حضور دافع البلاء ﷺ کفار پر سے بھی سبب دفعِ بلاء ہیں کہ مسلمانوں پر تو خاص رؤف رحیم ہیں۔

آیت نمبر 2۔ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا(۶۴) (پ 5، النساء: 64) ترجمہ: اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں تو اے حبیب تمہاری بارگاہ میں حاضر ہوجائیں پھر اللہ سے معافی مانگیں اور رسول بھی ان کی مغفرت کی دعا فرمائیں تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔ آیت کریمہ میں بالکل صاف واضح ہوا کہ حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضری سبب قبول توبہ و دفع بلائے عقاب ہے اور اس آیت مبارکہ سے حضور ﷺ کے دافع البلاء ہونے کا وصف رب کریم نے خود بیان فرمایا کہ وہ چاہے تو یونہی گناہ بخش دے مگر ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! اگر اپنے گناہ معاف کروانا چاہو تو میرے محبوب کی بارگاہ میں آجاؤ اور پھر اگر میرے محبوب تمہارے لیے دعائے بخشش کردیں تو میں رب بھی تمہارے گناہ معاف فرمادوں گا۔ سیدی اعلیٰ حضرت کیا خوب فرماتے ہیں:

مجرم بلائے آئے ہیں جاءوک ہے گواہ پھر رد ہو کب یہ شان کریموں کے در کی ہے

آیت نمبر 3۔ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷) (پ 17، الانبیاء: 107) ترجمہ: اور ہم نے تمہیں تمام جہاں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا۔ اس آیت مبارکہ میں فرمایا گیا کہ حضور ﷺ رحمت ہیں اور رحمت ہی وہ چیز ہوتی ہے جو سبب دفعِ بلا و زحمت ہوتی ہے۔

حدیث مبارکہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں لوگوں کو سخت قحط سالی پہنچی تو جب نبی ﷺ خطبہ پڑھ رہے تھے جمعہ کے دن ایک دیہاتی اٹھا بولا: یا رسول اللہ مال برباد ہوگیا اور بچے بھوکے ہوگئے آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا فرمائیں تو حضور ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھائے ہم آسمان میں بادل نہیں دیکھتے تھے، تو اس کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ حضور نے ہاتھ نیچے نہ کیے حتیٰ کہ بادل پہاڑوں کی طرح اٹھا پھر حضور اپنے منبر سے نہ اترے حتیٰ کہ میں نے آپ کی داڑھی پر بارش ٹپکتی دیکھی۔ (مراٰۃ المناجیح، جلد 8، حدیث: 590) اس طرح کی کئی روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ حضور ﷺ دافع البلاء ہیں کہ کبھی کسی صحابی کا غزوہ میں بازو کٹ جاتا ہے تو وہ حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوجاتے ہیں حضور اپنا لعاب دہن لگا کر ان کے بازو کو درست فرماتے ہیں اور انہیں اس بلاء سے نجات بخشتے ہیں، اسی طرح کسی صحابی کی تیر لگنے سے آنکھ نکل جاتی ہے تو وہ حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوجاتے ہیں تو حضور انہیں اس بلاء سے نجات بخشتے ہیں، دنیا میں بھی حضور دافع البلاء ہیں اور آخرت میں بھی کہ قبر کی وحشت اور اندھیرے سے نجات حضور کے کرم سے ملے گی وہ تشریف لائیں گے تو قبر کے اندھیرے سے نجات ملے گی۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:

قبر میں لہرائیں گے تاحشر چشمے نور کے جلوہ فرما ہوگی جب طلعت رسول اللہ کی

اور آخرت کی ہولناکیوں سے نجات بھی حضور کے کرم سے ملے گی کہ حضور وہاں بھی دافع البلا ہوں گے اور آپ ہی کے صدقے سے آپ کی امت کے گنہگار لوگ محشر و پل صراط کی سختیوں اور بلاؤں سے بچ کر داخل جنت ہوں گے۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:

رضا پل سے اب وجد کرتے گزریئے کہ ہے رب سلم دعائے محمد

پائے کوباں پل سے گزریں گے تیری آواز پر رب سلم کی صدا پر وجد لاتے جائیں گے


قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ-(پ 9، الانفال: 33) ترجمہ: اللہ کہ یہ شان نہیں کہ انہیں عذاب دے جب تک اے حبیب تم ان میں تشریف فرما ہو۔ ایک اور جگہ ارشاد باری ہے: لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا(۲۵) (پ 26، الذریت: 35) ترجمہ: اگر مسلمان مکہ سے نکل جائیں تو ہم کافروں پر عذاب بھیجتے۔ ان آیات مبارکہ میں فرمایا کہ دنیا پر عذاب نہ آنے کی وجہ حضور کا تشریف فرما ہونا ہے نیز مکہ والوں پر فتح مکہ سے پہلے اس لیے عذاب نہ آیا کہ وہاں کچھ غریب مسلمان تھے معلوم ہوا کہ انبیائے کرام اور مؤمنین کے طفیل سے عذاب الٰہی نہیں آتا یہ حضرات دافع البلاء ہیں بلکہ آج بھی ہمارے اس قدر گناہوں کے باوجود جو عذاب نہیں آتا یہ سب اس سبز گنبد کی برکت سے ہے۔ اعلیٰ حضرت نے کیا خوب فرمایا:

تمہیں حاکم برایا، تمہیں قاسم عطایا تمہیں دافع بلایا تمہیں شافع خطایا

کوئی تم سا کون آیا

میرے آقا اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: سبحن اللہ ہمارے حضور دافع البلاء کفار پر سے بھی سبب دفر بلا ہیں اور مسلمانوں پر تو خاص رؤف و رحیم ہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، 30/379)

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ہمیں نظر نہیں آتا مگر حضور ہر مصیبت کے وقت غمخواری فرماتے ہیں۔ (اطیب النعم، ص 4)

تڑپ کے غم کے مارو تم پکارو یا رسول اللہ تمہاری ہر مصیبت دیکھ نا دم میں ٹلی ہوگی

غلط فہمی کا ازالہ: 7 ویں صدی کے عظیم بزرگ امام تقی الدین سبکی شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضور سے مدد مانگنے کا یہ مطلب نہیں کہ حضور خالق و فاعل مستقل یعنی اللہ پاک کے عطا کے بغیر مدد فرمانے والے ہیں یہ تو کوئی مسلمان ارادہ نہیں کرتا تو اس معنی پر کلام کو ڈھالنا یعنی حضور سے مدد مانگنے کو اللہ سے ملانا اور حضور سے مدد مانگنے کو منع کرنا دین میں مغالطہ دینا اور مسلمانوں کو پریشانی میں ڈالنا ہے۔ (شفاء السقام، ص 175)

حشر میں ہم بھی سیر دیکھیں گے منکر آج ان سے التجا نہ کرے

شرح کلام رضا: میرے آقا اعلیٰ حضرت اس شعر میں فرماتے ہیں: جو لوگ آج دنیا میں اللہ پاک کے پیاروں کو بے اختیار سمجھتے ہیں روز محشر ہم بھی ان کا خوب تماشا دیکھیں گے کہ کس طرح بے بسی اور بے چینی کے ساتھ انبیائے کرام کے پاک درباروں میں شفاعت کی بھیک لینے کے لیے دھکے کھا رہے ہوں گے مگر ناکامی کا منہ دیکھیں گے جبھی تو کہا جا رہا ہے:

آج لے ان کی پناہ آج مدد مانگ ان سے پھر نہ مانیں قیامت میں اگر مان گیا

شرح کلام رضا: یعنی آج اختیارات مصطفیٰ کا اعتراف کرلے اور ان کے دامن کرم کی پناہ میں آجا اور ان سے مدد مانگ اگر تو نے یہ ذہن بنالیا کہ سرکار مدینہ ﷺ اللہ پاک کی عطا سے بھی مدد نہیں کر سکتے تو یاد رکھ کل بروز قیامت جب اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی شان محبوبی ظاہر ہوگی اور تو اختیارات تسلیم کر لے گا اور شفاعت کی صورت میں مدد کی بھیک لینے دوڑے گا تو اس وقت سرکار نہیں مانیں گے کہ دنیا دار العمل یعنی عمل کی جگہ تھی اگر وہیں مان لیتا تو کام ہوجاتا اب ماننا کام نہ دے گا کیونکہ آخرت دار العمل نہیں دار الجزا یعنی دنیا میں جو عمل کیا اس کابدلہ ملنے کی جگہ ہے۔

بیٹھتے اٹھتے مدد کے واسطے یارسول اللہ کہا پھر تجھ کو کیا

خواب میں تشریف لا کر دلجوئی فرمائی: مکے مدینے کے تاجدار ﷺ اپنے غلاموں کے حالات سے کیسے خبردار ہیں اس ضمن میں امیر اہل سنت کے 1980ء کے سفر مدینہ کا ایک واقعہ پڑھئے اور جھومئے، چنانچہ سیدی قطب مدینہ رحمۃ اللہ علیہ کے ایک مرید حاجی اسمعیل مرحوم بمبئی ہند کے رہنے والے تھے مدینہ پاک میں سالہا سال رہتے رہے انہوں نے عاشق مدینہ امیر اہل سنت کو بتایا کہ ایک بڑی عمر کی خاتون سنہری جالیوں کے سامنے حاضر ہو کر اپنے سادہ سے انداز میں بارگاہ رسالت میں سلام عرض کر رہی تھی اتنے میں ان کی نظر ساتھ کھڑی ایک خاتون پر پڑی جو ایک کتاب سے دیکھ دیکھ کر خوبصورت القابات سے بارگاہ رسالت میں سلام عرض کر رہی تھی بڑی بی یہ دیکھ کر اداس ہوکر کہنے لگی: یا رسول اللہ میں تو اتنی پڑھی لکھی نہیں ہوں آپ تو شاید اسی اچھے انداز سے پڑھنے والی خاتون ہی کا سلام قبول فرمائیں گے میرا سلام بھلا کیسے پسند آئے گا اتنا کہہ کر وہ غمزدہ ہو کر رونے لگی جب رات میں سوئی تو اس کی قسمت جاگ گئی اللہ پاک کی عطا سے دلوں کی بات جاننے والے غمخوار آقا ﷺ نے خواب میں تشریف لاکر ارشاد فرمایا: مایوس کیوں ہوتی ہو؟ ہم نے تمہارا سلام سب سے پہلے قبول فرمایا ہے۔

تم اس کے مددگار ہو تم اس کے طرفدار جو تم کو نکمے سے نکما نظر آئے

لگاتے ہیں اس کو بھی سینے سے آقا جو ہوتا نہیں منہ لگانے کے قابل


ہمارے آقا ﷺ کو اللہ کریم نے سراپا رحمت بنایا ہے چنانچہ اللہ پاک پارہ 17 سورۃ الانبیا میں ارشاد فرماتا ہے: وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷) (پ 17، الانبیاء: 107) ترجمہ کنز الایمان: ہم نے نہ بھیجا تمہیں مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔ یہ آپ ﷺ کی بے پایاں رحمت ہی ہے کہ کفار بھی دنیا میں عذاب سے محفوظ ہیں۔ اللہ پاک پارہ 9 سورۂ انفال کی آیت نمبر 33 میں ارشاد فرماتا ہے: وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ- ترجمہ: اللہ کہ یہ شان نہیں کہ انہیں عذاب دے جب تک اے حبیب تم ان میں تشریف فرما ہو۔ ہمارے حضور ﷺ دافع البلا کفار پر سے بھی سبب دفعِ بلا ہیں، پھر مسلمان پر تو خاص رؤف رحیم ہیں، اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ عرض کرتے ہیں:

شافع روز جزا تم پہ کروڑوں درود دافعِ جملہ بلا تم پہ کروڑوں درود

ہمارے آقا ﷺ دافع البلا ہیں یہ ایسا مسلم عقیدہ ہے جسے ساری امت مانتی ہے، صحابہ کرام سے لے کر آج تک اس امت کا یہی نظریہ اور اعتقاد رہا ہے کہ اللہ پاک نے اپنے پیارے آخری نبی ﷺ کو سراپا رحمت بنایا ہے اور رحمت دفعِ بلا و زحمت ہوتی ہے، آپ کی برکت سے لوگوں کی حاجتیں پوری ہوتی ہیں، آفات دور ہوتی ہیں، بے سہارے غم کے مارے امتی آپ کے دامن اقد میں پناہ لیتے ہیں، صرف انسانوں کے ہی نہیں میرے آقا تو جانوروں بلکہ بے جان چیزوں کے لیے بھی دافعِ بلا ہیں، لہٰذا کبھی تو صحابہ کروم اپنی حاجات کے حصول کے لیے اور آفات کے دو ہونے کے لیے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوتے ہیں اور کبھی جانور فریاد کر رہے ہیں کہیں لکڑی کا بے جان ستون حنانہ دافعِ بلا آقا ﷺ سے تسکین چاہتا ہے وہ سب کو نوازتے ہیں ہر جگہ عطا فرماتے ہیں، چنانچہ

جب حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تو حضور انور ﷺ ان کے یہاں تشریف لے گئے اور ان کے یہاں یتیم بچوں کو خدمت اقدس میں یاد فرمایا، وہ حاضر ہوئے حضرت عبد اللہ بن جعفر طیار اسے بیان کر کے فرماتے ہیں: میری ماں نے حاضر ہو کر حضور پناہِ بے کساں ﷺ سے ہماری یتیمی کی شکایت عرض کی تو حضور نے فرمایا: کیا تو ان پر محتاجی کا اندیشہ کرتی ہے، حالانکہ میں ان کا والی و کارساز ہوں دنیا و آخرت میں۔

وہ غم نہیں کھاتا جس کا محافظ، والی، آقا اور ولی تو ہے

فتاویٰ رضویہ جلد 30 صفحہ نمبر 436 تا 437 پر ہے: حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے قصیدہ نعتیہ میں لکھتے ہیں، ترجمہ: ہمیں نظر نہیں آتا مگر سرکار ﷺ ہر مصیبت کے وقت غم خواری فرماتے ہیں۔

کیوں رضا مشکل سے ڈریئے جب نبی مشکل کشا ہو


اللہ پاک نے ہمارے پیارے اور آخری نبی ﷺ کو بے شمار کمالات اور معجزات سے نوازا ہے ان میں ایک کمال یہ بھی ہے کہ آپ دافع رنج و بلا ہیں۔

شتر ناشاد کی داد رسی: حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور ﷺ کے ساتھ کہیں جارہے تھے کہ ہمارا گزر ایک ایسے اونٹ پر ہوا جس پر پانی دیا جا رہا تھا، اونٹ نے حضور کو دیکھا تو بلبلانے لگا اور اپنی گردن حضور کے سامنے جھکا دی، آپ اس کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا: اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ مالک حاضر ہوا تو ارشاد فرمایا: یہ اونٹ بیچتے ہو؟ اس نے عرض کی نہیں بلکہ یہ آپ کے لیے تحفہ ہے۔ مزید عرض کی کہ یہ ایسے گھرانے کا ہے جن کے پاس اس کے علاوہ اور کچھ نہیں، آپ اس اونٹ نے شکایت کی ہے کہ تم اس سے کام زیادہ لیتے ہو اور چارہ کم ڈالتے ہو اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس واقعے کے تحت فرماتے ہیں: اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:

1۔ حضور جانوروں کی بولی بھی سمجھتے ہیں۔

2۔ حضور مشکل کشا اور حاجت روا ہیں۔

اور یہ وہ مسئلہ ہے جسے جانور بھی مانتے ہیں جو انسان مسلمان ہو کر حضور کو حاجت روا نہ مانے وہ جانوروں سے بھی بدتر ہے۔

3۔ حضور کی کچہری میں جانور بھی فریادی ہوتے ہیں۔

ہاں یہی کرتی ہیں چڑیاں فریاد ہاں یہی چاہتی ہے ہرنی داد

اسی در پہ شتران ناشاد گلہ رنج و عنا کرتے ہیں

(مراٰۃ المناجیح، 8/238-239)

قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور زمانہ کتاب الشفا جس کے متعلق بزرگوں نے فرمایا: شفاء شریف وہ متبرک کتاب ہے کہ جس مکان میں رہے اسے ضرر نہ پہنچے اور جس کشتی میں رہے وہ ڈوبنے سے محفوظ رہے اور جو مریض اس کتاب پڑھے یا سنے شفا پائے۔ آپ نے اپنی کتاب میں تحریر فرمایا: غزوہ ذی قرد میں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر ایک تیر لگا تو حضور نے انہیں بلا لیا اور زخم پر مبارک لعاب لگایا فرماتے ہیں اس وقت سے نہ تو مجھے درد ہوا اور نہ زخم میں پیپ پڑی بلکہ اچھا ہو گیا۔ (شفا شریف، 1/212)

اسی مزید فرماتے ہیں: جنگ بدر میں ابو جہل نے حضرت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہ کا ہاتھ کاٹ ڈالا پس وہ اپنا ہاتھ اٹھائے ہوئے حاضر ہوئے تو حضور نے اس ہاتھ پر اپنا لعاب دہن لگا دیا اور اس کو جوڑ دیا تو وہ اسی وقت جڑ گیا۔ (شفا شریف، 1/213)

اس سے پتا چلا کہ ہمارے اسلاف کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ حضور رحمۃ للعالمین مشکل کشا اور دافع البلاء ہیں۔ اللہ پاک ہمیں خوش عقیدہ مسلمانوں کا ساتھ مقبول بارگاہ کے ساتھ حشر فرمائے۔ آمین

ہمارے پیارے آقا ﷺ دافع البلا ہیں اس متعلق احادیث میں کئی دلائل موجود ہیں جبکہ قرآن مجید خود اس پر شاہد ہے کہ آپ دافع البلا ہیں، اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال کیا گیا کہ ایک بدمذہب کہتا ہے کہ درود تاج اور دلائل الخیرات پڑھنا شرک ہے اس لیے کہ اس میں حضور ﷺ کی شان میں یہ الفاظ کہے گئے کہ دافع البلا والوباء و القحط والمرض والالم یعنی مصیبتوں، وباؤں، قحط بیماری اور تکلیفوں کو دور کرنے والے اور یہ الفاظ کہنا شرک ہے اور اس درود کو پڑھنا بدعت سیئہ ہے۔ سوال کرنے والے نے اس بد مذہب کو جواب میں جو دلائل دیئے وہ سوال میں مذکور ہیں ان میں سے چند یہ ہیں:

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ-(پ 9، الانفال: 33) ترجمہ: اللہ کہ یہ شان نہیں کہ انہیں عذاب دے جب تک اے حبیب تم ان میں تشریف فرما ہو۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷) (پ 17، الانبیاء: 107) ترجمہ: اور ہم نے تمہیں تمام جہاں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا۔

قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ ﳓ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا(۱۹) (پ 16، مریم: 19) ترجمہ: میں تو تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروں۔

ہمیشہ سے علما ان کا ورد کرتے رہتے ہیں تو کیا سب مشرک ہوگئے؟ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے حضور ﷺ کو دافع البلاء فرمایا ہے، اس اعتراض کے جواب میں علمائے کرام نے اقوال پیش کیے ہیں، بدمذہبوں کے نزدیک تو معاذ اللہ سب مشرک جنہوں نے رسول ﷺ کو دافع البلاء لکھا ہے ہم احادیث سے کیا دلائل دیں جو بعد ہی لکھی گئی؟ حضور دافع البلاء ہیں اس پر قرآن مجید میں دلیل ہے: وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا(۶۴) (پ 5، النساء: 64) ترجمہ: اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں تو اے حبیب تمہاری بارگاہ میں حاضر ہوجائیں پھر اللہ سے معافی مانگیں اور رسول بھی ان کی مغفرت کی دعا فرمائیں تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔ آیت کریمہ صاف بتارہی ہے کہ حضور کی بارگاہ میں حاضری توبہ قبول ہونے اور عذاب دور ہونے کا سبب ہے حالانکہ رب قادر ہے کہ ایسے ہی گناہ بخش دے مگر فرمایا کہ توبہ کی قبولیت چاہو تو ہمارے محبوب کی بارگاہ میں حاضر ہو۔ اسی طرح حدیث مبارکہ میں ہے: میں حمد ہوں میں محمد ہوں میں حاشر ہوں کہ لوگوں کو اپنے قدموں پر حشر دوں گا میں ماحی ہوں کہ اللہ میرے ذریعے سے کفر کی بلا دور فرماتا ہے۔ (مسلم، ص 985، حدیث: 2354)

رسالے میں ماحی یعنی مٹانے والا اس میں دلیل ہے کہ معاذ اللہ کفر سے بڑی اور کیا بلا ہے؟ آقا ﷺ کفر کو مٹانے والے ہیں ان سے بڑھ کر کون دافع البلاء ہے، اسی طرح تاریخ دمشق الکبیر میں ہے: میرا نام قرآن میں محمد، انجیل میں احمد، تورات میں اُحید اور میرا نام اُحید اس لیے ہوا کہ میں امت سے آتش دوزخ کو دفع فرماتا ہوں۔(فتاویٰ رضویہ، 30/473)

ان آیات و احادیث سے معلوم ہوا کہ حضور دافع البلا ہیں آقا ﷺ رب کی عطا سے بلاؤں کو دفع کرنے والے ہیں اور جو یہ کہے کہ حضور دافع البلاء نہیں اسے چاہیے کہ اپنی عقل کا علاج کروائے۔

کعبہ کے بدر الدجی تم پہ کروڑوں درود طیبہ کے شمس الضحی تم پہ کروڑوں درود


جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم لمحہ بہ لمحہ موت کے قریب ہوتے جا رہے ہیں اور چونکہ موت کا وقت بھی کسی کو معلوم نہیں، یہ بھی جانتے ہیں کہ موت آنی ہی ہے اور ہمیں اپنے رب کے حضور پیش کیا جائے گا اور نہ کہ ہم خود بلکہ ہمارے اعمال بھی اللہ کی بارگاہ میں پیش کیے جائیں گے تو اگر ہمارے اعمال اللہ کی ناراضی والے ہوئے تو ہم کیا کریں گے اور ہمیں ہمارے گناہوں کے سبب جہنم میں ڈال دیا گیا تو ہم کس کے در پر جائیں گے؟ اس لیے ہمیں چاہیے کہ جو وقت ہمیں مل رہا ہے اس کو اللہ کی رضا والے کاموں میں بسر کریں تاکہ اللہ ہم سے راضی ہوجائے اور ہمیں بخش دے، ہم لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ رحمٰن ہے رحیم ہے تو یہ بھی درست ہے مگر جہاں وہ رحمٰن ہے وہاں وہ قہار بھی ہے جہاں وہ رحم فرماتا ہے وہاں وہ پکڑ فرمانے پر بھی قادر ہے، تو ہمیں یہ ہی چاہیے کہ ہماری جب تک زندگی ہے ہم اللہ کو راضی کرنے والے کاموں میں لگ جائیں، آئیے ہم قرآن پاک کی روشنی میں دیکھتی ہیں کہ کون سے اعمال کر کے ہم اللہ کو راضی کر سکتے ہیں:

فرامینِ الٰہی:

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ(۲) (پ 18، المؤمنون: 2) ترجمہ کنز الایمان: جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جو اپنی نماز کو خشوع و خضوع سے پڑھتے ہیں اس وقت ان کے دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے اس عمل کے ذریعے بھی ہم اللہ کو راضی کر سکتی ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ(۳) (پ 18، المؤمنون: 3) ترجمہ کنز العرفان: اور وہ جو فضول بات سے منہ پھیرنے والے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ(۴) (پ 18، المؤمنون: 4) ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو زکوٰۃ دینے کا کام کرتے ہیں۔

4،5۔ وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸) (پ 18، المؤمنون: 8) ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرنے والے ہیں۔ اس آیت میں دو اعمال کے متعلق ذکر فرمایا گیا کہ ایک تو وہ عمل ہے کہ بندہ امانت میں خیانت نہ کرے اور اللہ کی رضا حاصل کر لے اور دوسرا یہ کہ وعدہ خلافی نہ کرے۔ یاد رہے کہ امانتیں خواہ اللہ کی ہوں یا مخلوق کی اور اسی طرح عہدخدا کے ساتھ ہو یا مخلوق کے ساتھ سب کی وفا لازم ہے۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ(۹) (پ 18، المؤمنون: 9) ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں۔اس آیت میں یہ فرمایا گیا کہ وہ لوگ کامیاب ہیں جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں اور یہ رضائے الٰہی پانے کا اچھا ذریعہ ہے۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ(۵) (پ 18، المؤمنون: 5) ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میرے لیے چھ چیزوں کے ضامن ہو جاؤ میں تمہارے لیے جنت کا ضامن ہوں: بات بولو تو سچ بولو، وعدہ کرو تو پورا کرو، تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو ادا کرو، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو، اپنی نگاہوں کو پست کرو اور اپنے ہاتھوں کو روکو۔ (مسند امام احمد، 8/412، حدیث: 22821) اس میں جنت کی ضمانت دی گئی تو ظاہر ہے کہ جو عمل کر کے ہم جنت حاصل کر سکتے ہیں وہ رضائے الٰہی پانے کا بھی بہترین ذریعہ ہے، کیونکہ اللہ کے راضی ہونے سے ہی ہم داخلِ جنت ہوں گے، اللہ رحم کرنے پر آئے تو وہ ایک چھوٹی سے چھوٹی نیکی پر بھی بخش سکتا ہے اور اگر غضب فرمانے پر آئے تو چھوٹے سے چھوٹے گناہ پر بھی پکڑ فرمانے پر قادر ہے، اس لیے ہم نیت کرتی ہیں کہ اللہ کی ناراضی والے تمام کاموں کو چھوڑ کر نیکیوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گی۔ اللہ سے دعا ہے کہ اے اللہ تو ہمیں راضی فرما اور ہم سے راضی ہوجا۔ آمین


قطع تعلقی یعنی تعلقات توڑنا ایک معیوب عمل ہے جو انسان کو حسنِ اخلاق سے محروم کر دیتا ہے اور رب کی ناراضگی کا باعث بنتا ہے۔ صدرُالشریعہ مولانا امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: صلۂ رحم کے معنی رشتہ کو جوڑنا ہے، یعنی رشتہ والوں کے ساتھ نیکی اور سلوک کرنا، ساری امت کا اس پر اتفاق ہے کہ صلۂ رحم واجب ہے اور قطع رحم (یعنی رشتہ کاٹنا) حرام ہے۔ (بہارِ شریعت، 3/558، حصہ: 6) یاد رہے قطع تعلقی ظلم کی ایک بد تر صورت جسکی احادیثِ مبارکہ میں سخت مذمت بیان کی گئی ہے، چنانچہ

فرامینِ مصطفیٰ:

1۔ شراب کا عادی، جادو پریقین رکھنے والا اور قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔ (الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، 7/648، حدیث: 6104)

2۔ جس قوم میں رشتہ داری توڑنے والا ہوتا ہے اس پر رحمت نہیں اترتی۔ (شعب الایمان، 6/223، حدیث: 7962)

3۔ کسی مسلمان کو یہ حلال نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رہے تو اگر اس پر تین دن گزر جائیں تو یہ اس سے ملے اسے سلام کرے پھر اگر وہ اسے سلام کا جواب دے دے تو دونوں ثواب میں شریک ہوگئے اور اگر جواب نہ دے تو وہ گناہ کے ساتھ لوٹا سلام کرنے والا چھوڑنے سے نکل گیا۔ ( مراة المناجیح، 6/ 414)

4۔ رشتہ کاٹنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ (مسلم، ص 1383، حدیث: 2556)

5۔ جس گناہ کی سزا دنیا میں بھی جلد ہی دیدی جائے اور اس کے لئے آخرت میں بھی عذاب رہے وہ بغاوت اور قَطع رَحمی سے بڑھ کر نہیں۔ (ترمذی، 4 / 229،حدیث: 2519)

اے حسنِ اخلاق کے طلبگارو! شیطان انسان کو قطع تعلقی پر ابھارنے کیلئے طرح طرح کے حیلے بہانوں پر ابھارتا ہے اور دل میں یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ فلاں کا رویہ میرے ساتھ ایسا تھا، فلاں نے مجھے طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا تو میں کیوں اچھائی کروں تو ذہن نشین فرما لیجیے کہ صلۂ رحمی اس کا نام نہیں کہ وہ سلوک کرے تو تم بھی کرو، یہ چیز تو حقیقت میں مکافاۃ یعنی ادلا بدلا کرنا ہے حقیقی مزہ تو تب ہی ہے کہ وہ کاٹے تم اس سے جوڑو، وہ تم سے دور جانا چاہتا ہے بے اعتنائی کرتا ہے تو تم اس کے ساتھ رشتے کے حقوق کی مراعات کرو اور یہ سب محض رضائے رب الانام کیلئے ہو۔ اللہ پاک ہمیں قطع تعلقی سے بچائے اور صلح رحمی کو اپنا شعار بنانے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین 


قطع تعلقی حرام ہے جو کہ معاشرے میں عام ہو چکا ہے لوگوں میں الله پاک کا خوف ختم ہو چکا ہے ساری امت کا اس پر اتفاق ہے کہ صلہ رحمی واجب ہے قطع تعلقی حرام ہے۔ جب تک شریعت اجازت نہ دے تب تک قطع تعلقی نہیں کرنی چاہیے۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے: وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا(۱) (پ 4، النساء: 1) ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بے شک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے۔اس آیتِ مبارکہ کے تحت تفسیرِ مظہری میں ہے: یعنی تم قطع رحم (یعنی رشتے داروں سے تعلق توڑنے) سے بچو۔ (تفسیرِ مظہری، 2/3)

قطع تعلقی کے متعلق احادیث مبارکہ:

1۔ رشتہ کاٹنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ (بخاری، 6/97، حدیث:5986)

2۔ الله پاک فرماتا ہے: جو جوڑے گا میں اسے ملاؤں گا اور جو کاٹے گا میں اسے ہلاک کروں گا۔ (ابوداؤد، 2/183، حدیث: 1694)

3۔ جو یہ چاہے کہ اس کے رزق میں کشادگی اور عمر میں اضافہ کیا جائے تو اسے صلہ رحمی کرنی چاہیے۔ (مسلم، ص1384، حدیث:255)

4۔ جس قوم میں رشتہ داری توڑنے والا ہوتا ہے اس پر رحمت نہیں اترتی۔ (شعب الایمان،7/223، حدیث: 7962)

5۔ جس گناہ کی سزا دنیا میں بھی جلد ہی دے دی جائے اور اس کے لیے آخرت میں بھی عذاب رہے وہ بغاوت اور قطع رحمی سے بڑھ کر نہیں۔ (ترمذی، 4/229، حدیث: 2519)

رشتے جوڑیئے: صلہ رحمی (رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک) اسکا نام نہیں کہ وہ سلوک کرے تو تم بھی کرو یہ چیز تو حقیقت میں مکافاۃ یعنی ادلا بدلا کرنا ہے کہ اس نے تمہارے پاس چیز بھیج دی تم نے اس کے پاس بھیج دی وہ تمہارے یہاں آیا تم اس کے پاس چلے گئے۔ حقیقتاً صلہ رحمی (یعنی کامل درجے کا رشتے داروں سے اچھا سلوک) یہ ہے کہ وہ کاٹے اور تم جوڑو وہ تم سے جدا ہونا چاہتا ہے بے اعتنائی (لا پرواہی) کرتا ہے اور تم اس کے ساتھ رشتے کے حقوق کی مراعات (لحاظ و رعایت) کرو۔ (رد المحتار، 9/687)

اگر ہم کسی کے ساتھ قطع تعلقی کر رہے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ الله سے ڈریں اور ہمیں دوسروں کو بھی اسکی مذمت کے بارے میں الله کا خوف دلانا چاہیے اگر ہماری کسی رشتے دار کے ساتھ ناراضگی ہے تو ہمیں صلح کے لیے خود پہل کر لینی چاہیے اور خود آگے بڑھ کر خندہ پیشانی کے ساتھ اس سے مل کر تعلقات سنوار لینے چاہئیں۔ الله پاک ہمیں قطع تعلقی کرنے سے محفوظ فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

قطع تعلق حرام ہے۔ قرآنِ پاک میں قطع تعلقی سے منع فرمایا گیا ہے: وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا(۱) (پ 4، النساء: 1) ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بے شک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے۔اس آیتِ مبارکہ کے تحت تفسیرِ مظہری میں ہے یعنی تم قطع رحم یعنی رشتے داروں سے تعلق توڑنے سے بچو۔ (تفسیرِ مظہری، 2/3)

قطع رحمی کی ایک صورت: جب اپنا کوئی رشتے دار کوئی حاجت پیش کرے تو اسکی حاجت روائی کرے اس کو رد کر دینا قطع رحم (یعنی رشتہ کاٹنا) ہے۔ (درر، ص323) یاد رہے! قطع رحم یعنی رشتہ کاٹنا حرام ہے۔

قطع رحمی کے متعلق فرامینِ مصطفیٰ:

1۔ رشتہ کاٹنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ (بخاری، 4/97، حدیث:598)

2۔ جس قوم میں قاطع رحم (یعنی رشتے داری توڑنے والا) ہو اس قوم پر الله کی رحمت کا نزول نہیں ہوتا۔ (الزواجر، 2/153)

3۔ جسے یہ پسند ہو کہ اس کے لیے (جنت میں) محل بنایا جائے اور اس کے درجات بلند کیے جائیں، اسے چاہیے کہ جو اس پر ظلم کرے یہ اسے معاف کرے اور جو اسے محروم کرے یہ اسے عطا کرے۔ اور جو اس سے قطع تعلقی کرے یہ اس سے ناطہ (یعنی تعلق) جوڑے۔ (مستدرک: 3/16، حدیث:3615)

4۔ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس قوم میں رشتہ داری توڑنے والاہوتا ہے اس پر رحمت نہیں اترتی۔ (شعب الایمان، 6/223، حدیث: 7962)

5۔ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس گناہ کی سزا دنیا میں بھی جلد ہی دیدی جائے اور اس کے لئے آخرت میں بھی عذاب رہے وہ بغاوت اور قَطع رَحمی سے بڑھ کر نہیں۔ (ترمذی، 4/229، حدیث: 2519)

الله پاک سے دعا ہے کہ ہمیں قطع تعلقی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین


قطع کے معنیٰ تعلق توڑنے کے ہیں، ہمارے معاشرے میں قطع تعلقی بہت عام ہو چکی ہے جو کہ حرام ہے، قطع تعلقی کو مطقاً حلال سمجھنا کفر ہے۔

قطع تعلقی کی تعریف: شریعت میں جن سے صلہ رحمی(نیک سلوک) کا حکم دیا گیا ہے ان سے تعلق توڑنا قطع تعلقی ہے۔ (صلہ رحمی اور قطع تعلقی کے احکام، ص226)

قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں رشتہ داری کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے، چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵) (پ 13، الرعد: 25) ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اللہ کا عہد اس کے پکے ہونے کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور اُن کا نصیبہ بُرا گھر۔

رشتہ توڑنے کی مذمت پر فرامینِ مصطفیٰ:

1۔ حضرت ابوبکر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس گناہ کی سزا دنیا میں بھی جلد ہی دیدی جائے اور اس کے لئے آخرت میں بھی عذاب رہے وہ بغاوت اور قَطع رَحمی سے بڑھ کر نہیں۔ (ترمذی، 4/229، حدیث: 2519)

2۔ حضرت جُبَیر بن مُطْعَم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: رشتہ داری توڑنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ (بخاری، 4/97، حدیث: 5984)

3۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ اس کا رزق فراخ ہو اور اس کی عمر دراز ہو جائے تو اسے چاہئے کہ صلہ رحمی کیا کرے۔ (بخاری،4/97، حدیث: 5985)

4۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بدلہ لینے والا صلہ رحمی کرنے والا نہیں بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس سے رشتہ توڑا جائے تو وہ اسے جوڑے۔ (بخاری، 4/98، حدیث: 5991)

5۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ سرکار ِدو عالَم ﷺ نے ارشاد فرمایا: و ہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے اور اچھی باتوں کا حکم نہ کرے اور بری باتوں سے منع نہ کرے۔ (ترمذی، 3/369، حدیث: 1928)

یاد رکھیں! غیبت، حسد، تکبر، وعدہ خلافی، لڑائی جھگڑے کی وجہ سے انسان اپنے رشتہ داروں سے تعلق توڑ دیتا ہے اسی لیے ہر مسلمان کو ان سب برائیوں سے بچتے رہنا چاہیے اور صلہ رحمی کے فضائل پڑھتے اور سنتے رہنا چاہیے۔

الله پاک سے دعا ہے کہ تمام مسلمانوں کو قطع تعلقی سے بچائے اور سب کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ