اویس محمد علی (درجہ رابعہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
یاد رہے کہ
جانور زمین پر اللہ تعالٰی کی بہت بڑی نعمت ہے اور اس نعمت کا اندازہ کچھ یوں لگا
سکتے ہیں۔ کہ اگر یہ نہ ہوں تو انسان رزق کے وافر حصے حصے سے محروم ہو جائے گا اور
جانوروں کا گوشت کھانے اور دودھ پینے کو ترس جائے گا لہذا ہمیں چاہیے کہ ہمیں
جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے ان کے حقوق ادا کرنے چاہیے ۔ آئیے جانوروں کے
چند حقوق پڑھیئے:
(1)
ظلم کرنا: جانور پر ظلم کرنا ذمی
کافر پر( اب دنیا میں سب کافر حربی ہیں) ظلم کرنے سے زیادہ برا ہے اور ذمی پر ظلم
کرنا ، مسلم پر ظلم کرنے سے بھی بُرا ہے کیوں کہ جانور کا کوئی معین و مدد گار
اللہ عزوجل کے سوا نہیں اس غریب کو اس ظلم سے کون بچائے! (در مختار و رَدُّ
المُحتار، ج 9 ص 772 )
(2)
ذبیحہ کو تکلیف پہنچانا: صحیح مسلم
میں شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی رسول الله صلى الله تعالى علیہ وسلّم
نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالی نے ہر چیز میں خوبی کرنا لکھ دیا ہے، لہذا قتل
کرو تو اس میں بھی خوبی کا لحاظ رکھو (یعنی بے سبب اس کو ایذا مت پہنچاؤ )اور ذبح
کرو تو ذبح میں خوبی کرو اور اپنی چھری کو تیز کر لے اور ذبیحہ کو تکلیف نہ
پہنچائے ۔(صحيح مسلم، كتاب الصيد.... إلخ، باب الأمر بإحسان الذبح والقتل ... إلخ،
الحديث: 57 - (1955) ، ص 1080)-
(3)
بطور تفریح نشانہ بنانا : نبی کریم
صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس پر لعنت کی جس نے ذی روح کو نشانہ بنایا ۔ (صحيح
مسلم، كتاب الصيد... إلخ ، باب النهى عن صبر البهائم، الحدیث: 59- (1958) ، ص
1081)
(4)
بلا وجہ تکلیف پہنچانا: ہر وہ فعل
جس سے جانور کو بلا فائدہ تکلیف پہنچے مکروہ ہے مثلاً جانور میں ابھی حیات باقی ہو
ٹھنڈا ہونےسے پہلے اس کی کھال اتارنا اس کے اعضاء کاٹنا یا ذبح سے پہلے اس کے سرکو
کھینچنا کہ رگیں ظاہر ہو جائیں یا گردن کو توڑنا، یو ہیں جانور کو گردن کی طرف سے
ذبح کرنا مکروہ ہے بلکہ اس کی بعض صورتوں میں جانور حرام ہو جائے گا۔ ( المرجع
السابق)
(5)
کسی جانور کو ناحق قتل کرنا:احمد
ونسائی و دارمی عبد الله بن عُمْرُو رضى الله تعالى عنهما سے راوی کہ رسول الله
صلى الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے چڑیا یا کسی جانور کو ناحق قتل کیا، اُس
سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سوال کرے گا ، عرض کیا گیا : یا رسول الله صلی الله
تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس کاحق کیا ہے؟ فرمایا کہ اس کا حق یہ ہے کہ ذبح کرے اور
کھائے یہ نہیں کہ سر کاٹے اور پھینک دے۔ (المسند للإمام أحمد بن حنبل، مسند عبد
الله بن عمرو، الحديث: 7572، ج 2 ، ص 577)
اللہ تعالٰی
سے دعا ہے کہ وہ ہمیں جانوروں پر رحم اور ان کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے
۔آمین یا رب العالمین
محمد مبین علی (درجہ رابعہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
اللہ عزوجل نے
انسان کو اشرف المخلوقات پیدا فرمایا اور اس کو عقل کے ذریعے تمام مخلوقات پر برتری
عطا فرمائی اور اس پر بہت سی چیزوں کے حقوق کو ضروری قرار دیا جیسے کہ ماں
باپ،رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حقوق وغیرہ۔اسی طرح جانوروں کے حقوق بھی لازم کیے ۔
آئیے ان حقوق میں سے چند کو ملاحظہ کرتے ہیں:
(1)ناحق
قتل نہ کرنا: روایت ہے حضرت عبد
اللہ عمرو بن عاص سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جوکوئی چڑیا یا
اس سے اوپر کے کسی جانور کو ناحق مارڈالے تو اس کے قتل کے متعلق اللہ اس سے پوچھے
گا ، عرض کیا گیا : یارسول اللہ ! اس کا حق کیاہے ؟ فرمایا کہ اسے ذبح کرکے کھائے یہ
نہ کرے کہ اس کا سرکاٹے پھر اسے پھینک دے۔ (مشکاۃ المصابیح،جلد 2،کتاب الصید
والذبائح،الفصل الثانی،ص 489،ح 4093)
(2)نرمی
سے ذبح کرنا: حضرت سیِّدُنا ابویعلی
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
نے ارشاد فرمایا: بےشک اللہ پاک نے ہر چیز کے ساتھ بھلائی کرنا فرض کیا ہے، لہٰذا
جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح
کرو، تم اپنی چھری کو تیز کرو اور ذبح ہونے والے جانور کو آرام پہنچاؤ۔ (صحیح
مسلم،کتاب الصید والذبائح ومال یؤکل من الحیوان،باب الامر باحسان الذبح والقتل،ص
161،ح 5055)
(3)جانور
نہ لڑوانا: حضرت ابن عباس رضی اللہ
عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جانور لڑوانے سے منع فرمایا۔ (مشکاۃ
المصابیح،جلد 2،باب ذکر الکلب،الفصل الثانی،ص 490،حدیث: 4104)
اللہ عزوجل ہمیں
جانوروں کے حقوق کو پامال کرنے سے بچائے اور ان کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا
فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
شاہ زیب عطاری (درجہ سادسہ جامعہ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
دین اسلام ایک
مکمل ضابطہ حیات ہے اس میں نہ صرف انسانوں کے بلکہ جانوروں کے حقوق کو بھی ملحوظ
خاطر رکھا گیا ہے جانوروں کے حقوق کے حوالے سے حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
کے فرامین اور صحابہ کرام اور تابعین کی اقوال و افعال بھی ہیں جن میں ان کے حقوق
کی تعلیم دی گئی ہے آئیے ہم بھی چند حقوق پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں:
(1)
زیادہ بوجھ نہ ڈالنا: سہل بن حنظلیہ
سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : نبی ﷺ نے ایک جانور کو دیکھا جس کی پیٹھ پر بہت زیادہ
بوجھ تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: جانوروں پر اس قدر بوجھ نہ ڈالو جو وہ اٹھا نہ سکیں اور
ان کو کھانے پینے سے محروم نہ رکھو۔( سنن ابی داود،باب في الرّحمة بالبهائم،صفحہ نمبر: 368،حدیث نمبر: 2548)
(2)
کھانے پینے سے محروم نہ کرنا : حضرت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک عورت
جہنم میں داخل ہوئی، اس وجہ سے کہ اُس نے ایک بلی کو باندھ کر رکھا، نہ اسے کھانے
کو دیا اور نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔ (صحیح بخاری،باب فضل
الإحسان إلى البہائم،صفحہ نمبر: 416،حدیث نمبر: 2365)
(3)
پیاسے کو پانی پلانا: حضرت ابو ہریرہ
سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک شخص چلتے ہوئے پیاسا ہوا، اس نے کنویں
سے پانی نکال کر پیا، وہاں ایک پیاسا کتا دیکھا، اُس نے کہا: یہ بھی میری طرح پیاسا
ہے۔ اُس نے اپنا موزہ اتار کر پانی بھرا اور کتے کو پلایا، اللہ نے اس کے عمل کو
پسند فرمایا اور اسے بخش دیا ۔( صحیح بخاری،باب فضل سقی الماء،جلد 1،صفحہ 416،حدیث
نمبر 2363)
جانوروں کے
حقوق کے متعلق چند مزید مفید معلومات و احکام:
۱۔جانوروں پر
ظلم زیادتی یا کھیل تماشے کے طور پر تکلیف دینا حرام ہے۔
۲۔ پالتو
جانوروں کی ذمہ داری لینا ان کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ مشروط ہے۔
۳۔ جانوروں کو
کھانا پانی اور سایہ فراہم کرنا اجر عظیم کا باعث ہے ۔
۴۔ جانور ذبح
کرتے وقت نرمی اور رحم سے پیش آنا چاہیے۔
اللہ عزوجل ہمیں
ان تمام احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے
کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ
النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم
محمد عبدالرحمٰن عطاری (درجہ اولیٰ جامعۃ المدینہ گلزار حبیب سبزہ زار لاہور ،پاکستان)
اسلام ایک
مکمل ضابطۂ حیات ہے جو نہ صرف انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دیتا ہے بلکہ
جانوروں جیسے بے زبان مخلوقات کے حقوق کو بھی نظر انداز نہیں کرتا۔ قرآن مجید ،
احادیثِ مبارکہ اور اقوالِ بزرگانِ دین اس بات پر گواہ ہیں کہ جانوروں کے ساتھ
شفقت اور عدل اختیار کرنا ایمان کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد
فرماتا ہے:
وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُۚ-وَ لَا تَتَّبِعُوا
السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖؕ- ترجمۂ کنزالایمان: اور یہ کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے تو اس پر
چلو اور دوسری راہوں پر نہ چلو ورنہ وہ راہیں تمہیں اس کے راستے سے جدا کردیں گی ۔ (پ8، الانعام: 153)
اس آیت کی تفسیر کے مطابق صراطِ مستقیم میں
مخلوقِ خدا کے ساتھ حسنِ سلوک اور انصاف شامل ہے، اور اس میں جانور بھی داخل ہیں۔(صراط الجنان، جلد 3، صفحہ 434)
(1)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جو شخص کسی جانور پر رحم
کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرماتا ہے۔ (بخاری، ج3،
ص429، حدیث 6003)
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ مخلوقِ خدا پر رحم
کرنا، اللہ کی رحمت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
(2)
جانوروں پر ظلم کی ممانعت:اسلام میں جانور کو بلا وجہ تکلیف دینا حرام ہے۔
ایک اور حدیثِ مبارکہ میں ہے:ایک عورت جہنم میں داخل کی گئی اس وجہ سے کہ اس نے ایک
بلی کو باندھ کر رکھا، نہ اسے کھانے کو دیا نہ آزاد کیا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے
کھا لیتی۔(بخاری، ج1، ص245، حدیث 205)
یہ حدیث ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جانور پر چھوٹا
سا ظلم بھی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بن سکتا ہے۔
اسلام کے مطابق جانور بے زبان ضرور ہیں، مگر ان
کے احساسات ہوتے ہیں۔ ان پر رحم، شفقت اور عدل واجب ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ان کی بھوک،
پیاس، آرام، اور علاج کا خیال رکھیں۔ یہی طرزِ عمل ایک سچے مسلمان کی نشانی ہے اور
یہی ہمارے دین کا پیغام ہے۔
Dawateislami