انسان فطرتاً ایک سماجی مخلوق ہے اور اسے انفرادی زندگی کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی میں بھی دوسروں کا محتاج رہنا پڑتا ہے۔ یہ تعلقات خاندانی ہوں یا معاشرتی، دوستی کی صورت میں ہوں یا پیشہ ورانہ، ہر شعبے میں باہمی میل جول، حسنِ سلوک اور رواداری ناگزیر ہے۔ اسی باہمی ربط و ضبط کی ایک نہایت اہم صورت مصاحبت و ہم نشینی ہے، یعنی کسی کے ساتھ وقت گزارنا، اٹھنا بیٹھنا اور ایک دوسرے کے معاملات میں شریک ہونا وغیرہ۔ دینِ اسلام نے مصاحبت اور ہم نشینی کے آداب و حقوق پر غیر معمولی تاکید کی ہے تاکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل پائے جو امن، محبت اور ہم آہنگی کا بہترین نمونہ ہو۔

قرآن کریم اور احادیثِ نبویہ میں بہترین مصاحبت اور ہم نشینی کی تعلیمات بدرجہ اتم موجود ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی تلقین فرمائی۔

مصاحبت و ہم نشینی کے چند اہم اور جامع حقوق درج ذیل ہیں جن کی پاسداری سے باہمی تعلقات میں استحکام اور خیر و برکت پیدا ہوتی ہے:

(1) حسنِ اخلاق اور نرم گفتاری: ہم نشین سے ہمیشہ انتہائی حسنِ اخلاق سے پیش آنا چاہیے۔ بات چیت میں نرمی، شائستگی، اور ہر قسم کے ادب و آداب کو ملحوظ خاطر رکھنا لازم ہے۔ سخت کلامی، بدتمیزی، بے جا تنقید اور جھوٹ سے مکمل پرہیز کیا جائے، کیونکہ یہ رویے تعلقات میں کڑواہٹ اور فاصلے پیدا کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مومن طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، بدکلام اور بے حیا نہیں ہوتا۔(جامع ترمذی، ابواب البر والصلۃ عن رسول اللہ ﷺ ، باب ماجاء فی اللعن، حدیث نمبر: 1977، جلد: 4، صفحہ: 349)

(2) عزت و احترام اور قدر دانی: ہر ہم نشین کی عزت کرنا اور اس کے مقام و مرتبے کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اس کی رائے کو اہمیت دینا، اسے حقیر نہ سمجھنا اور اس کی ذات کا احترام کرنا مصاحبت کا بنیادی اصول ہے۔ اس کی بات کو توجہ سے سننا اور مناسب جواب دینا چاہیے وہ آپ کے ہم پلہ ہو یا نہ ہو، کیونکہ یہ باہمی احترام کا تقاضا ہے۔

(3) عیب پوشی، خیر خواہی اور نصیحت: ہم نشین کے عیوب اور کمزوریوں کی پردہ پوشی کرنا اور انہیں دوسروں کے سامنے ظاہر نہ کرنا، اس کے حقوق میں سے ہے۔ اس کی غیر موجودگی میں بھی اس کی تعریف کرنا، اس کے حق میں بھلائی کی دعا کرنا اور اسے بہترین الفاظ میں یاد کرنا نیک مصاحبت کی علامت ہے۔ اگر کوئی ہم نشین کسی غلطی یا گمراہی کا شکار ہو تو اسے حکمت، محبت اور نرمی سے نصیحت کی جائے، نہ کہ رسوا کرنے والے انداز میں ۔

(4) مالی و جانی تعاون اور غمگساری: ضرورت پڑنے پر ہم نشین کی مالی اور جانی مدد کرنا بھی مصاحبت کے اہم حقوق میں شامل ہے۔ بیماری، پریشانی، مالی تنگی یا کسی بھی مشکل وقت میں اس کا ساتھ دینا، غم بانٹنا اور حسبِ استطاعت ہر ممکن تعاون کرنا انسانیت کا تقاضا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:مومن آپس میں ایک جسم کی مانند ہیں، جب جسم کا کوئی حصہ دکھتا ہے تو سارا جسم درد محسوس کرتا ہے۔(صحیح بخاری، کتاب الادب، باب رحمۃ الناس و البھائم، حدیث نمبر: 6011، جلد: 8، صفحہ: 8؛ صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب تراحم المؤمنین وتعاطفھم، حدیث نمبر: 2586، جلد: 4، صفحہ: 1999)

(5) حقوق کی پاسداری اور بدگمانی سے پرہیز: ہم نشین کے حقوق کا ہر حال میں خیال رکھنا، اس کے لیے وہی پسند کرنا جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں، اور ہر طرح کی بدگمانی سے بچنا اشد ضروری ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے۔ (پ26، الحجرات:12)

اس آیت میں بدگمانی سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے جو ہم نشینوں کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ اور فساد کا باعث ہے۔

(6) امانت داری اور راز داری کی پاسبانی: ہم نشین کی امانتوں کی حفاظت کرنا اور اس کے رازوں کو فاش نہ کرنا ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔ اگر کسی نے آپ پر بھروسہ کر کے کوئی ذاتی یا حساس بات بتائی ہے تو اسے ہرگز کسی دوسرے کے سامنے ظاہر نہ کریں، کیونکہ یہ خیانت ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: مجلسیں امانت ہوتی ہیں۔(سنن ابوداؤد، کتاب الادب، باب فی نقل الحدیث، حدیث نمبر: 4868، جلد: 4، صفحہ: 308؛ جامع ترمذی، ابواب البر والصلۃ عن رسول اللہ ﷺ ، باب ماجاء فی المجالس بالأمانۃ، حدیث نمبر: 1946، جلد: 4، صفحہ: 326)

(7) معافی، درگزر اور رواداری: اگر ہم نشین سے کوئی غلطی یا کوتاہی سرزد ہو جائے تو اسے معاف کرنا اور درگزر کرنا چاہیے۔ انتقام کے بجائے صلح صفائی ، برداشت اور اعلیٰ ظرفی سے کام لینا چاہیے۔ اسلام ہمیں معافی اور عفو و درگزر کی تعلیم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے: خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ(۱۹۹) ترجمہ کنزالایمان: اے محبوب معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو۔ (پ9، الاعراف: 199)

مصاحبت و ہم نشینی ایک ایسا عظیم تعلق ہے جس کی بنیاد مضبوط اخلاقی اصولوں، باہمی احترام، سچی خیر خواہی اور رواداری پر ہونی چاہیے۔ اگر ہم ان حقوق کی پاسداری کریں، اسلامی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں اپنائیں تو ہمارے باہمی تعلقات مستحکم ہوں گے، معاشرہ ایک پر امن اور محبت بھری فضا کا گہوارہ بن جائے گا اور ہم دنیا و آخرت میں فلاح و کامیابی حاصل کر سکیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بہترین مصاحبت اور ہم نشینی کے آداب و حقوق کو احسن طریقے سے بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین