دورِ حاضر میں دیکھا جائے تو غالباً یوں کہا جا سکتا ہے مسلمانوں کی اکثریت مہنگائی کی زد میں ہے غریب طبقہ پریشان اور مایوسی کا شکار ہے کیونکہ آمدنی محدود ہوتی ہے لیکن اخراجات زیادہ ہوتے ہیں یوں بعض اوقات دیکھا جاتا ہے کہ گھر کے گھر برباد ہو رہے ہوتے ہیں کسی کی زوجہ شوہر کو کم آمدنی پر ستاتی ، طعنے دیتی ،  اور زیادہ پیسوں کا مطالبہ کرتی ہے ، تو کسی کے بچے اپنی فرمائشیں پوری نہ ہونے پر والد کو ستاتے اور بے چین رکھتے ہیں یوں مایوسی کے سبب بعض اوقات خود کشی کرنے کے واقعات بھی سامنے آتے ہیں اس سلسلے میں الحمدلله دینِ اسلام کفایت شعاری کا درس دیتے ہوئے ہماری رہنمائی کرتا ہے۔

مشہور کہاوت ہے ’’ضرورت‘‘ تو فقیر کی بھی پوری ہوجاتی ہے لیکن ’’خواہش‘‘بادشاہ کی بھی پوری نہیں ہو پاتی ۔

امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے شہزادے کو نصیحت فرمائی : اپنے پاس موجود مال میں حُسنِ تدبیر (یعنی کفایت شِعاری) سے کام لینا اور لوگوں سے بے نیاز ہوجانا ۔ (1)

کفایت شعاری خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین ذریعہ ، اور فضول خرچی بربادی کا پیشِ خیمہ ہے ، دینِ اسلام ہمیں دین و دنیا کے تمام معاملات میں بہترین انداز کی طرف گامزن کرتا ہے ، دینِ اسلام ہمیں اخراجات میں کفایت شعاری کا درس دیتا ہے تاکہ ہم اپنی زندگی کی اُلجھنوں اور پریشانیوں سے محفوظ رہ سکیں۔

پیارے آقا ﷺ نے فرمایا : خرچ میں مِیانہ رَوی آدھی زندگی ہے۔ (2)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : خوش حالی کا دار و مدار دو چیزوں پر ہے: (1) کمانا (2) خرچ کرنا ۔

مگر اِن دونوں میں ”خرچ کرنا“ بہت ہی کمال ہے ، کمانا سب جانتے ہیں ، خرچ کرنا کوئی کوئی جانتا ہے ، جسے خرچ کرنے کا سلیقہ آگیا وہ ان شاء الله ہمیشہ خوش رہے گا۔ (3)

کفایت شعاری سے کام لینا اخراجات میں میانہ روی ہے ، انسان کو چاہئے کہ مال و دولت کو ضرورت کے مطابق خرچ کرے ، کیونکہ اخراجات میں میانہ روی ، اِسراف اور بخل کے درمیان کی راہ ہے ، جیسا کہ آقا ﷺ نے فرمایا: میانہ روی اختیار کرنے والا کبھی مفلس نہیں ہوتا۔ (4)

دیکھا جائے تو گاڑی ہمیشہ دو پہیوں سے چلتی ہے لہٰذا مرد و عورت دونوں کو میانہ روی اختیار کرنی چاہئے کہ اگر شوہر کی آمدنی کم ہو تو عورت کو صبر کرنا چاہئے اپنے شوہر کی ہمت بندھانی چاہئے اسکی ڈھال بننا چاہئے نہ کہ طعنے دے ذلیل کرنا چاہئے ایسی عورتیں دنیا میں بھی پچھتاتی ہیں اور آخرت بھی خراب کرتی ، اسی طرح شوہر کو بھی چاہئے اپنی طرف سے کمی نہ کرے ، بعض اوقات عورت حق پر ہوتی مرد ہی سست ہوتا ہے لہٰذا مرد کو بھی چاہئے حلال کما کر اپنے بیوی بچوں کی کفالت کر کے ثواب کا حق دار بنے۔

حوالہ جات:

(1) امام اعظم کی وصیتیں، ‏ص 32

(2) معجم الاوسط ، 5 / 108 ، حدیث : 6744

(3) مراٰۃ المناجیح ، 6 / 634

(4) مسند احمد ، 3 / 157 ، حدیث : 4269