عبد
الرسول (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ،کراچی ،پاکستان)
اسلام ایک
ایسا دین ہے جو امن، عدل اور اصلاحِ معاشرہ کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں جہاں نیکی،
تقویٰ اور بھلائی کی ترغیب دی گئی ہے، وہاں فساد فی الارض یعنی زمین میں بگاڑ پیدا
کرنے کی سخت مذمت بھی بیان کی گئی ہے۔ فساد سے مراد ہر وہ عمل ہے جو انسانی زندگی،
معاشرتی نظام، اخلاقی اقدار اور امن و سکون کو نقصان پہنچائے۔ یہ ظلم، ناانصافی،
قتل و غارت، دھوکہ بازی، بددیانتی اور دیگر برے اعمال کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز
الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو
کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔(سورۃا
لبقرۃ:11،12)
اس آیت سے
واضح ہوتا ہے کہ بعض لوگ اپنے برے اعمال کو بھی اچھائی کا نام دے کر معاشرے میں
بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔ ایسے افراد نہ صرف خود گمراہ ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی
گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ فساد فی الارض کی ایک بڑی شکل ظلم و زیادتی ہے۔فساد فی
الارض کی ایک بڑی مثال ہمیں قوم لوط کی بھی ملتی ہے کہ انہوں زمین میں اپنی بد
اعمالیوں اور بد کاریوں سے زمین میں فساد پھیلایا تو اللہ تعالٰی نے ان پر عذاب
نازل فرمایا قرآن میں ظالموں کے لیے سخت وعید سنائی گئی ہے اور انہیں اللہ کے عذاب
سے ڈرایا گیا ہے۔ اسی طرح قتلِ ناحق کو بھی بہت بڑا فساد قرار دیا گیا ہے۔ ایک
انسان کا ناحق قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر بتایا گیا ہے، جو اس بات کی شدت
کو ظاہر کرتا ہے کہ اسلام میں انسانی جان کی کتنی اہمیت ہے۔ معاشی بدعنوانی بھی
فساد کی ایک اہم قسم ہے۔ ناپ تول میں کمی کرنا، رشوت لینا، دھوکہ دینا اور حرام
ذرائع سے مال کمانا قرآن کی نظر میں سخت ناپسندیدہ اعمال ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے
لوگوں کو تنبیہ کی ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور دوسروں کے حقوق غصب کرتے ہیں۔
اسی طرح جھوٹ، غیبت اور بہتان بھی معاشرتی فساد کو جنم دیتے ہیں اور لوگوں کے درمیان
نفرت اور دشمنی کو بڑھاتے ہیں۔ قرآن مجید ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اصلاحِ معاشرہ
ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم برائی کو روکیں اور بھلائی کو فروغ دیں۔
اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور نیکی کا راستہ اختیار کرے تو معاشرہ خود
بخود فساد سے پاک ہو سکتا ہے۔ اسلام میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا تصور
اسی مقصد کے لیے دیا گیا ہے۔ آخر میں یہ کہنا میں مناسب سمجھتا ہوں کہ فساد فی
الارض ایک سنگین جرم ہے جس کی قرآن میں بار بار مذمت کی گئی ہے۔ ایک صالح معاشرہ
وہی ہوتا ہے جہاں امن، عدل اور انصاف کا بول بالا ہو اور لوگ ایک دوسرے کے حقوق کا
احترام کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن کی تعلیمات کو اپنائیں اور ہر قسم کے فساد سے
بچ کر ایک پرامن اور خوشحال معاشرہ قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
Dawateislami