ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں ہر انسان کو کچھ حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ ان حقوق کا تحفظ کرنا ہر فردِ معاشرہ کی ذمے داری ہے، لیکن افسوس کہ آج ہمارا معاشرہ اس ناسور میں مبتلا ہے جسے حق تلفی کہا جاتا ہے۔ یہ صرف ایک اخلاقی خرابی نہیں، بلکہ ایک ایسا گناہ ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کو بربادی کی طرف لے جاتا ہے۔

انسان جب دوسروں کے حقوق پامال کرتا ہے، ان کا مال یا زمین غصب کرتا ہے، انصاف کے بجائے دھوکہ دہی اور خود غرضی کو ترجیح دیتا ہے تو گویا وہ اپنے رب کی نافرمانی کرتا ہے۔ نہ وہ ضمیر کی آواز سنتا ہے، نہ ہی قیامت کے دن کے انجام کا خیال کرتا ہے۔ اسی ظلم کو حق تلفی کہتے ہیں۔

اللہ پاک قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ (پ 8، الاعراف: 85) ترجمہ: اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ دو۔

تفسیر صراط الجنان جلد 2 سورۃ النساء میں آیت نمبر 29 کی تفسیر میں لکھا ہے: چوری، غصب، خیانت، دھوکہ دہی، رشوت، ناپ تول میں کمی، زبردستی وراثت دبانا، زمین پر ناجائز قبضہ اور دیگر تمام ایسے ناجائز طریقے جن سے دوسروں کا حق مارا جائے، وہ سب حرام اور جہنم میں لے جانے والے کام ہیں۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی کی بالشت بھر زمین بھی ظلماً لے لی، تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ (بخاری، 2/129، حدیث: 2453)

یہ حدیثِ مبارکہ ان تمام لوگوں کے لیے سخت وعید ہے جو دوسروں کی زمینوں پر ناجائز قبضہ کرتے ہیں۔

رشوتوں کے ذریعے زمین ہتھیانے والے، کسانوں کی زمین دبا لینے والے، سڑک یا سرکاری زمین پر قبضہ کر کے پلازے تعمیر کرنے والے، سب کو فوراً توبہ کر لینی چاہیے۔

حق تلفی کی اقسام: حق تلفی کی کئی اقسام ہیں، مثلاً: زمین یا جائیداد پر ناجائز قبضہ کرنا، کسی کا مال، تنخواہ یا قرض روک لینا، وراثت میں حق نہ دینا، جھوٹ، فریب یا دغا سے نفع لینا، نوکری یا امتحان میں سفارش یا دھوکہ دہی کے ذریعے دوسرے کا حق مارنا، علما و مشائخ، والدین، اساتذہ یا محنت کش افراد کی بے قدری کرنا وغیرہ۔

حق تلفی پیدا ہونے کی وجوہات: دنیا کی محبت اور لالچ، ایمان کی کمزوری، احساسِ جوابدہی کا فقدان، ظلم کو گناہ نہ سمجھنا، قانونی کمزوریاں یا خاموشی اختیار کرنا۔

حق تلفی سے بچاؤ کے طریقے: قرآن و حدیث کا علم حاصل کرنا، اپنے ضمیر کو زندہ رکھنا، ایمان مضبوط کرنا اور آخرت کا یقین رکھنا، لوگوں کو ان کا حق خوش دلی سے دینا، دعوتِ اسلامی جیسے دینی ماحول سے وابستہ ہونا، اپنے عمل کا محاسبہ کرنا اور عاجز رہنا۔

حق تلفی بظاہر دنیاوی فائدہ دیتی ہے لیکن درحقیقت یہ آخرت کا بڑا خسارہ ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ انصاف، عدل اور محبت سے بھر جائے تو ہمیں خود سے آغاز کرنا ہوگا۔ دوسروں کا حق دینا اور ان کے حقوق کی حفاظت کرنا ہمارا دینی، اخلاقی اور معاشرتی فریضہ ہے۔

اللہ پاک ہمیں ہر قسم کی حق تلفی سے بچائے اور دوسروں کو ان کا حق خوش دلی سے دینے والا بنائے۔ آمین بجاہِ النبیِّ الامین ﷺ


حق تلفی کیا ہے؟ حق تلفی یہ ہے کہ کسی دوسرے انسان کا حق دبانا، چھیننا یا ادا نہ کرنا۔ چاہے وہ مال کا ہو، عزت کا ہو یا وقت کا، اسلام میں یہ سخت گناہ ہے۔

اللہ پاک قرآن میں فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 5، النساء: 29) ترجمہ: اے ایمان والو! ایک دوسرے کے مال ناحق نا کھاؤ۔

سرکارِ دو عالم ﷺ نے فرمایا: مزدور کی مزدوری اس کے پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔ (ابن ماجہ، 3/162، حدیث: 2443)

اور ایک اور حدیث میں فرمایا: جس نے ایک بالشت زمین ظلم سے لی، قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ (بخاری، 2/129، حدیث: 2453)

حق تلفی کی صورتیں: مزدور کو پوری اجرت نہ دینا۔ ملازم سے زیادہ کام لے کر تنخواہ کم دینا۔ وراثت میں بہنوں یا کمزوروں کا حق مارنا۔ لین دین میں دھوکہ دہی اور ناپ تول میں کمی۔ کسی کی زمین یا جائیداد پر قبضہ کرنا۔ کسی کے مال یا عزت کو نقصان پہنچانا۔

حق تلفی کے نقصان: اسلامی بہنو! حق تلفی کا نقصان صرف دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں بھی ہے۔ دنیا میں بے برکتی، پریشانی اور نااتفاقی ملتی ہے، جبکہ آخرت میں سخت حساب ہوگا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے خون کے بارے میں فیصلہ ہوگا اور پھر حقوق العباد کے بارے میں۔

یعنی نماز، روزہ، حج سب قبول ہوں گے لیکن اگر بندوں کا حق مارا تو قیامت کے دن نیکیاں دوسروں کو دے دی جائیں گی، اور جب نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو دوسروں کے گناہ اپنے ذمے لے کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

جب لوگ ایک دوسرے کے حقوق دبانے لگتے ہیں تو پورا معاشرہ بگڑ جاتا ہے۔ ناانصافی، جھگڑے، قتل و غارت، بے برکتی اور نفرتیں بڑھ جاتی ہیں۔ ایک حدیث میں آیا ہے: تم سے پہلے قومیں اسی وجہ سے ہلاک ہوئیں کہ وہ کمزوروں کا حق مار دیتی تھیں اور طاقتوروں کو چھوڑ دیتی تھیں۔

حق تلفی سے بچنے کے طریقے: ہر ایک کا حق خوش دلی سے ادا کریں۔ لین دین میں صاف ستھرا اور ایماندار رویہ اپنائیں۔ ملازم و مزدور کو وقت پر اجرت دیں۔ وراثت میں حق داروں کو ان کا پورا حق دیں۔ اگر کسی کا حق مارا ہے تو فوراً ادا کریں یا معافی مانگیں۔

پیاری پیاری اسلامی بہنو! حق تلفی ایک ایسا گناہ ہے جسے اللہ تعالیٰ تب تک معاف نہیں فرمائے گا جب تک بندہ خود معاف نہ کر دے۔ اس لیے ہمیں آج ہی توبہ کرنی چاہیے اور جن کا حق مارا ہے ان سے معافی مانگ کر ان کا حق ادا کرنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دوسروں کے حقوق ادا کرنے، حلال کمانے اور آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


کسی کا حق مارنا صرف اس کا نقصان نہیں بلکہ یہ ہمارے ایمان کو کمزور اور ہماری آخرت کو برباد کرنے والا جرم ہے۔ یہ آج ہمارے معاشرے میں بہت عام ہو چکا ہے، جو نہ صرف ہمارے اخلاق و کردار کو تباہ کر رہا ہے بلکہ ہمارے معاشرے کو ناکامی کی پستیوں میں گرا رہا ہے۔ ہر دوسرا شخص صاحبِ حق کے حق میں کمی کرتا ہوا نظر آ رہا ہے، جو اسلامی تعلیمات کے سخت خلاف ہے۔ دینِ اسلام ہمیشہ ہمیں اپنے اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کا درس دیتا ہے، اور اس حوالے سے قرآن و حدیث میں بار بار تنبیہ کی گئی ہے۔

اسی لیے ہمارے پیارے آقا ﷺ نے لوگوں کے حقوق میں کمی کرنے سے سختی سے منع فرمایا۔ اس کی وضاحت ایک حدیثِ مبارکہ میں یوں ملتی ہے: میری اُمت میں مفلِس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے اور یوں آئے کہ اس نے کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا اور کسی کو مارا۔ تو اس کی نیکیوں میں سے کچھ اس مظلوم کو دے دی جائیں گی اور کچھ اُس مظلوم کو۔ پھر اگر اس کے ذمے جو حقوق تھے ان کی ادائیگی سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں تو ان مظلوموں کی خطائیں لے کر اس ظالم پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ (مسلم، ص 1069، حدیث: 6579)

یہی نہیں، بلکہ قیامت کے دن انصاف اس قدر مکمل ہوگا کہ جانوروں کے درمیان بھی حقوق کا بدلہ چکایا جائے گا۔ جیسا کہ ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: بے شک روزِ قیامت تمہیں اہلِ حقوق کو ان کے حق ادا کرنے ہوں گے، حتی کہ بےسنگ بکری کا بدلہ سنگھ والی بکری سے لیا جائے گا۔ (مسلم، 4/1394، حدیث: 2582)

علمائے کرام نے بھی اس حقیقت پر زور دیا ہے کہ حقوق العباد کی کوتاہی آخرت میں انسان کے لیے بڑے نقصان کا سبب بنے گی۔ حضرت شیخ ابو طالب محمد بن علی مکی رحمۃ اللہ علیہ قوت القلوب میں فرماتے ہیں: زیادہ تر اپنے نہیں بلکہ دوسروں کے گناہ ہی دوزخ میں داخلے کا باعث ہوں گے، جو حقوق العباد تلف کرنے کے سبب انسان پر ڈال دیے جائیں گے۔ نیز بے شمار افراد اپنی نیکیوں کے سبب نہیں بلکہ دوسروں کی نیکیاں حاصل کر کے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ (قوت القلوب، 2/292)

ان تمام دلائل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دنیا میں اگر ہم نے دوسروں کے حقوق ادا نہ کیے تو آخرت میں نیکیوں کے بدلے میں یہ حقوق ادا کرنے پڑیں گے، اور اس وقت پچھتاوا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ہم اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہیں، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں اور حتی الامکان دنیا ہی میں ان کی ادائیگی کر دیں تاکہ کل قیامت کے دن سرخرو ہو سکیں۔


اسلام ایک ایسا دین ہے جو عدل و انصاف، مساوات اور حقوق کی مکمل ضمانت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں انسانوں کے لیے واضح اصول وضع کیے ہیں جن کی بنیاد پر ایک منصفانہ اور پُرامن معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔ انہی اصولوں میں سے ایک اہم اصول حقوق کی ادائیگی ہے۔ جب کسی کا جائز حق چھین لیا جائے یا دبایا جائے تو اسے حق تلفی کہا جاتا ہے۔ اسلام میں حق تلفی کو سختی سے منع کیا گیا ہے، اور اسے ظلم کے زمرے میں شمار کیا گیا ہے۔

حق تلفی کی تعریف:حق تلفی کا مطلب ہے کسی فرد، گروہ یا قوم کو اس کا جائز اور شرعی حق نہ دینا، خواہ وہ مالی، معاشی، سماجی، یا اخلاقی حق ہو۔ یہ ظلم کی ایک شکل ہے جو کسی بھی معاشرے میں نفاق، بداعتمادی اور فساد کو جنم دیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں بار بار عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے اور ظلم سے روکتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ (پ 14، النحل: 90) ترجمہ: بیشک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ انصاف کرنا اور دوسروں کو ان کا حق دینا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔

فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ (پ 8، الاعراف: 85) ترجمہ: اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ دو۔

حق میں کمی کرنا یا کسی کے مال یا مقام میں کمی کرنا ممنوع ہے۔

احادیث مبارکہ کی روشنی میں:

1۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مظلوم کی بددعا سے ڈرو، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔ (بخاری، 2/128، حدیث: 2448)

2۔ قیامت کے دن ہر حق دار کو اس کا حق دیا جائے گا حتیٰ کہ سینگ والی بکری کو بغیر سینگ والی بکری سے بدلہ دلایا جائے گا۔ (مسلم، ص 1394، حدیث: 2582)

3۔ حدیثِ قدسی:اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر لیا ہے اور تم پر بھی اسے حرام کر دیا، لہٰذا آپس میں ظلم نہ کرو۔ (مسلم، ص 1068، حدیث: 6572)

حق تلفی کے دنیاوی نتائج: معاشرے میں ناانصافی اور بے چینی بڑھتی ہے۔ افراد کے درمیان اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ ظالم کی دنیا و آ خرت خراب ہو جاتی ہیں۔ ظالم کی دنیا و آخرت دونوں خراب ہو جاتی ہیں۔ مظلوم کی آہیں اللہ کے دربار میں فوراً سنی جاتی ہیں۔ حق تلفی کرنے والے کی نیکیاں چھین کر مظلوم کو دی جائیں گی اور مظلوم کے گناہ اس کے سر ڈالے جائیں گے۔ اس کیلئے ہلاکت اور سخت عذاب ہے

اسلام نے ہر انسان کو اس کا حق دیا ہے۔ والدین، اولاد، شوہر، بیوی، پڑوسی، یتیم، مسکین، غریب، اور یہاں تک کہ دشمن کے بھی حقوق مقرر کیے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم نہ صرف دوسروں کا حق ادا کریں بلکہ کسی کی حق تلفی کو روکنے میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔ کیونکہ یاد رکھیں: جو حق ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کے ہاں مجرم ہے۔

اللّہ پاک ہمیں حق تلفی جیسے گناہ و جرم سے بچائے اور اللّہ پاک حقوق العباد و حقوق اللّہ کو احسن طریقے سے ادا کرتے رہنے کی توفیق رفیق مرحمت فرمائے۔ آمین


حق تلفی سے مراد کسی فرد یا گروہ کے جائز حقوق کی پامالی ہے۔ یہ ایک اخلاقی اور سماجی مسئلہ ہے جو معاشرے میں ناانصافی اور عدم توازن کا باعث بنتا ہے۔ قرآن و حدیث میں حق تلفی کی سختی سے ممانت کی گئی ہے اور اس کے مرتکب افراد کے لیے دنیا اور آخرت میں سخت سزا کا ذکر ہے۔

حق تلفی کی تعریف: حق تلفی سے مراد کسی شخص کے جائز حقوق کو نظر انداز کرنا، ان سے محروم کرنا یا ان میں مداخلت کرنا ہے۔ یہ حقوق کسی بھی قسم کے ہو سکتے ہیں، جیسے کہ معاشی حقوق، سماجی حقوق، مذہبی حقوق، یا قانونی حقوق۔

حق تلفی کی اقسام: حق تلفی کی کئی اقسام ہو سکتی ہیں، جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

معاشی حق تلفی: اس میں کسی کی جائز کمائی پر قبضہ کرنا، اسے اس کی محنت کا پورا معاوضہ نہ دینا، یا اس کے ساتھ دھوکہ دہی کرنا شامل ہے۔

سماجی حق تلفی: اس میں کسی شخص کو اس کے معاشرتی مقام، حیثیت، یا رنگ و نسل کی وجہ سے امتیازی سلوک کا نشانہ بنانا، یا اسے ہراساں کرنا شامل ہے۔

مذہبی حق تلفی: اس میں کسی شخص کو اس کے مذہب پر عمل کرنے سے روکنا، اس کے مذہبی عقائد کا مذاق اڑانا، یا اسے اس کے مذہبی حقوق سے محروم کرنا شامل ہے۔

قانونی حق تلفی: اس میں کسی شخص کو انصاف سے محروم رکھنا، اس کے خلاف جھوٹے الزامات لگانا، یا اسے اس کے قانونی حقوق سے محروم کرنا شامل ہے۔

قرآن و احادیث میں اس کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے۔ جیسا کہ اللہ پاک قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 5، النساء: 29) ترجمہ: اے ایمان والو! ایک دوسرے کے مال ناحق نا کھاؤ۔

صراط الجنان میں ہے کہ: اس آیت میں باطل طور پر کسی کا مال کھانا حرام فرمایا گیا خواہ لوٹ کرہو یا چھین کر،چوری سے یا جوئے سے یا حرام تماشوں یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یا رشوت یا جھوٹی گواہی سے یہ سب ممنوع و حرام ہے۔ (احکام القرآن، 1/304) اور ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اس آیت سے مراد وہ چیزیں ہیں جو انسان ناحق حاصل کر لیتا ہے۔ (مکاشفۃ القلوب مترجم، ص 473)

اسی طرح بہت سی احادیثِ کریمہ میں ناحق مال کھانے کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے۔

( 1) حضورِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: چار شخص ایسے ہیں جن کے لئے اللہ پاک نے لازم کردیا ہے کہ انہیں جنت میں داخل نہیں کرے گا اور نہ ہی وہ اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے، شرابی، سودخور، ناحق یتیم کا مال کھانے والا اور والدین کا نافرمان۔ (مستدرک، 2/338، حدیث: 2307)

حق تلفی کی مذمت: اسلام میں حق تلفی کی سختی سے مذمت کی گئی ہے۔ قرآن کریم میں کئی مقامات پر حق تلفی سے منع کیا گیا ہے اور اس کے مرتکب افراد کو قیامت کے دن سخت سزا کی وعید سنائی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی حق تلفی سے منع فرمایا ہے اور اس کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کیے ہیں۔

ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان کا حق مارا، اللہ اس پر جنت حرام کر دے گا۔ مسلم، ص 701، حدیث:353

ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: خبردار! مظلوم کی آہ سے بچو، کیونکہ اس کی آہ اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔(بخاری، 2/128، حدیث: 2448)

حق تلفی کے اثرات: حق تلفی کے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس سے معاشرے میں ناانصافی، عدم توازن، اور بدامنی پھیلتی ہے۔ حق تلفی کے شکار افراد مایوسی اور غصے کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے ان کی زندگیوں پر منفی اثر پڑتا ہے۔

حق تلفی سے بچاؤ: حق تلفی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں انصاف اور مساوات کو فروغ دیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم دوسروں کے حقوق کا احترام کریں اور کسی کے ساتھ بھی ناانصافی نہ کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم مظلوم کی مدد کریں اور ظالم کو اس کے ظلم سے محفوظ رکھیں۔

حق تلفی ایک سنگین جرم ہے الله پاک ہمیں اس سے بچنے اور دوسروں کو اس سے بچانے کی توفیق مرحمت فرمائے۔


ارشاد باری تعالی ہے: وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ (پ15،بنی اسرائیل:26) ترجمۂ کنز الایمان: اور رشتہ داروں کو ان کا حق دے اورمسکین اور مسافر کو۔

اللہ پاک کے محبوب ﷺ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے استفسار فرمایا: کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کی: ہم میں مفلس (یعنی غریب مسکین) وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہوں اور نہ ہی کوئی مال، تو فرمایا: میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوۃ لے کر آئے گا لیکن اس نے فلاں کو گالی دی ہو گی، فلاں پر تہمت لگائی ہوگی، فلاں کا مال کھایا ہو گا، فلاں کا خون بہایا ہو گا اور فلاں کو مارا ہوگا، پس (ان سب گناہوں کے بدلے میں) اس کی نیکیوں میں سے ان سب کو ان کا حصہ دے دیا جائے گا، اگر اس کے ذمے آنے والے حقوق کے پورا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو لوگوں کے گناہ اس پر ڈال دیئے جائیں گے، پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ (مسلم، ص 1069، حدیث: 6579)

فرمانِ مصطفی ﷺ: مسلمان کی سب چیزیں دوسرے مسلمان پر حرام ہیں اس کا مال،اس کی ابرو اور اس کا خون۔ (ابو داود، 4/354، حدیث:4882)

قرآن و حدیث میں متعدد مقامات پر حق تلفی کی مذمت بیان کی گئی ہے اور مسلمانوں کو حقوق کی ادائیگی پر تنبیہ فرمائی گئی ہے چونکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے یہ دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جس نے نہ صرف حقوق العباد کی اہمیت پر زور دیا بلکہ ان کی ادائیگی نہ کرنے والے کو دنیاوی اور اخروی طور پر نقصان اور سزا کا مستحق بھی قرار دیا ہے لہذا ایک کامل مسلمان وہی ہے جو ہمیشہ دوسروں کے حقوق دبانیں یا انہیں تلف کرنے سے بچتا ہے ہمیں خود کو اس سے محفوظ رکھنے کے لیے سب سے پہلے حقوق کے معنی اور مفہوم کا سمجھنا ضروری ہے۔

حقوق کسے کہتے ہیں؟ حقوق جمع ہے حق کی، جس کا معنی ہے: فرد یا جماعت کا ضروری حصہ۔ جبکہ حقوق العباد کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ تمام کام جو بندوں کو ایک دوسرے کے لیے کرنے لازم و ضروری ہیں۔

ان حقوق کی ادائیگی بجا نہ لانا، حقوق کو نظر انداز کرنا،یا ان کی ادائیگی میں کسی قسم کی بھی کمی کوتاہی کرنا حق تلفی کہلاتا ہے۔

بندوں کے حقوق کی ادائیگی ہم پر کیوں لازم ہے اس کا جواب دیتے ہوئے حجۃ الاسلام حضرت امام محمدبن غزالی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: انسان یا تو اکیلا رہتا ہے یا کسی کے ساتھ اور چونکہ انسان کا اپنے ہم جنس لوگوں کو ساتھ میل جول رکھے بغیر زندگی گزارنا مشکل ہے، لہذا! اس پر مل جل کر رہنے کے آداب سیکھنا ضروری ہیں۔ چنانچہ ہر اختلاط (یعنی میل جول) رکھنے والے شخص کے لیے مل جول کر رہنے کے کچھ حقوق ہیں۔ (احیاء العلوم،2/699)

معلوم ہوا کہ بندوں کے حقوق کے لازم ہونے کا بنیادی سبب تمام انسانوں کی آپس میں وابستگی ہے۔ جس شخص سے جتنا قریبی رشتہ ہو اس کے حقوق کی ادائیگی بدرجہ اولی لازم اور حق تلفی سخت نقصان کا باعث ہوگی ان حقوق میں والدین، اولاد، اساتذہ کرام،شاگرد، زوجین، بہن بھائی، پڑوسی،مسافر، دوست احباب کے ساتھ ساتھ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حقوق حتی کہ ایک مسلمان پر ذمی کافر کے حقوق بھی شامل ہیں۔

حق تلفی کی مثالیں: کسی کا مال ناحق کھانا، جائیداد پر قبضہ کرنا، چوری کرنا،کسی کا دل دکھانا، والدین اور اساتذہ ہیں تو ان کی نافرمانی کرنا، کسی کا خون بہانا،ناحق مارنا پیٹنا،گالی دینا، ڈانٹ ڈپٹ کرنا،بےجا غصہ کرنا، کسی کی عزت نفس کو مجروح کرنا، کسی کو جسمانی طور پر نقصان پہنچانا،ذہنی اذیت دینا، کسی شخص کو اس کے مقام سے محروم رکھنا،اور اس کے ساتھ ساتھ کسی کی غیبت، چغلی کرنا،کسی سے حسد و بغض رکھنا، بہتان باندھنا،تہمت لگانا، دھوکہ دہی وغیرہ۔ تمام ہی حق تلفی کی صورتوں کو شامل ہے۔

معاشرے کا المیہ: افسوس! مشاہدہ ہے کہ حقوق کے لین دین کے معاملے میں ہمارے معاشرے کا رویہ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ لوگ دوسروں سے اپنے حقوق وصول کرنے میں انتہائی چستی اور تیزی دکھاتے ہیں لیکن جب دوسروں کے حقوق کو ادا کرنے کی نوبت آتی ہے تو اس میں کمی کوتاہی اور غفلت و سستی کے مرتکب ہوتے ہیں ہر شخص کو صرف اور صرف اپنے حقوق کی فکر ہوتی ہے دوسری جانب اپنے ذمے دوسروں کے حقوق سے غافل ہوتے ہیں۔

معاشرے پر حق تلفی کے اثرات: انسانی حقوق کی حق تلفی کرنا شرعی اور قانونی جرم ہونے کے ساتھ ہی معاشرے میں مضر اثرات کو پیدا کرنے کا سبب ہے جن میں سے چند اثرات درج ذیل ہیں:

حق تلفی معاشرے میں عدم تحفظ اور بے یقینی کی فضا پیدا کرتی ہے۔ معاشرے کے اخلاقی اقدار کو نقصان پہنچاتی ہے۔ باہمی لڑائی جھگڑوں اور اختلافات کا سبب ہوتی ہے۔ حق تلفی کا شکار شخص ذہنی دباؤ اضطراب اور مایوسی کا شکار ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات جسمانی بیماریوں کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

حق تلفی سے بچاؤ کے لیے: حقوق کی معرفت حاصل کیجیے۔ زبان کی حفاظت کیجئے، سوچ سمجھ کر الفاظ کا چناؤ کیجیے کہ الفاظ ہی وہ شے ہے جو ہمیں کسی کے دل میں اتار دیتے ہیں، یا پھر دل سے۔ اپنے آرام اور خوشیوں پر دوسروں کے آرام اور خوشی کو مقدم رکھیے۔ حق تلفی کی وعیدات کا مطالعہ بھی کیا جائے اور اس میں غور و فکر کرتے رہیے ان شاءاللہ کریم حق تلفی سے بچنے کا ذہن بنے گا۔ جو حقوق تلف ہو چکے ہیں ان کی توبہ استغفار کر کے صاحب حق سے معافی طلب کر لی جائے کہ دنیا میں حقوق کی معافی طلب کر لینے میں آخرت میں طلب کرنے کے مقابلے میں بدرجہ اولی آسانی ہے۔

ان حقوق کا تعلق چونکہ بندے سے ہے اسی لیے حق تلفی کی صورت میں اللہ نے یہی ضابطہ مقرر فرمایا ہے کہ جب تک وہ بندہ معاف نہ کرے معاف نہ ہوں گے۔ (فتاوی رضویہ، 24/459، 460 ملخصاً )

فرمانِ مصطفےٰ ﷺ ہے: جس کے ذِمّے اپنے بھائی کی عزّت یا کسی اور شے کے معاملے میں ظُلم ہو،اُ سے لازِم ہے کہ( قیامت کا دن آنے سے پہلے) یہیں دنیا میں اس سے معافی مانگ لے،کیونکہ وہاں (یعنی روزِ محشر اس کے پاس ) نہ دینار ہوں گے اور نہ دِرْہَم، اگر اس کے پاس کچھ نیکیاں ہوں گی، تو بقَدَر اُس کے حق کے،اِس سے لے کر اُسے دی جائیں گی، اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں تو اُس(مظلوم ) کے گناہ اِس (ظالم)پررکھے جائیں گے۔ (بخاری،2/128، حدیث:2449)

اللہ پاک سے دعا ہے ہمارے معاشرے سے حق تلفی کا خاتمہ فرمائے ہمیں حقوق کو صحیح معنوں میں پہچان کر کامل طور پر ان کی ادائیگی کرنے والا بنائے۔


حق تلفی ازبنت چشتی، قصور

Sat, 23 May , 2026
19 days ago

ہر انسان کے کچھ نہ کچھ بنیادی حقوق ہیں جو اسکی عزت و وقار اور ترقی کے لئے نا گزیر ہیں۔ ان حقوق کا پامال کیا جاناحق تلفی  کہلاتا ہے۔

حق تلفی کی کئی اقسام ہیں مثلا:

معاشی حق تلفی: کسی کو اس کی محنت کا صلہ دینے کے بجائےاجرت کم دیا جانا،غریبوں کا استحصال، مزدوروں کے حقوق پر ڈاکہ اور وراثت میں بیٹیوں کا حصہ نہ دینا، یہ سب معاشی حق تلفی کی صورتیں ہیں۔

سماجی حق تلفی: کسی کو صحت،تعلیم، روزگار یا رہائش جیسےبنیادی سماجی حق سےمحرون کرنا۔ ذات پات، رنگ و نسل یا جنس کی بنیاد پر تعصب اورامتیازی سلوک،اسکی مثالیں ہیں۔

قانونی حق تلفی: کسی کو انصاف کے بنیادی حق سے محروم کر کے جھوٹے مقدمات میں پھنسانا یا اس پر تشدد کرنا قانونی حق تلفی ہے۔ صرف اس کے لئے بلکہ آس پاس کے ماحول کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔

معاشرتی عدم مساوات: حق تلفی معاشرے میں امیرو غریب، طاقتور و کمزور کے درمیان خلش کا باعث بنتی ہےجس سے معاشرہ عدم مساوات،انتشار اور بے چینی کا شکار ہو جاتا ہے۔

انصاف کا فقدان: جب لوگوں کو انکے حقوق سے محروم رکھا جائے اور انصاف نہ دیا جائے تو وہ قانون سے بدظن ہو کر قانون شکنی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

ترقی میں رکاوٹ: جس معاشرے میں حقوق کی پامالی عام ہو،وہ ترقی کیسے کرے گا؟جب افراد کو اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے مواقع نہ ملیں تو ترقی رک جاتی ہے اور قومیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔

ہماری ذمہ داری: حق تلفی کے خاتمے کیلئے نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی طور پر کوششوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے اردگرد ہونے والی حق تلفی کے خلاف آواز اٹھائیں، اپنے حقوق سے آگاہی حاصل کریں اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں۔

گھر میں اور معاشرتی سطح پر تعلیم، پرورش، جائیداد و وراثت کے معاملات میں انصاف سے کام لیا جائے۔

حکومت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ سخت قوانین بناکران پر سختی سے عمل درآمد کا اہتمام کریں۔

انصاف کا نظام خصوصاغریب کے لئے سستا اور آسان ہو۔

ہمارے مذہب نے حقوق العباد اور اخلاقی تعلیمات پر بہت زور دیا ہے۔ دوسروں کے حقوق کی پاسداری میں ہی دنیا و آخرت کی بھلائی مضمر ہے۔

اگر ہم ان تعلیمات پر عمل پیرا ہوں تو معاشرے سے حق تلفی کا ناسور جڑ سے ختم ہو جائے۔

والدین کا اولاد کی تعلیم و تربیت میں غفلت برتنا، شوہر کا بیوی کے حقوق پامال کرنا یا بھائیوں کا بہنوں کے حصوں پر قابض ہو بیٹھنا۔

یہ سب حق تلفی ہی کی مثالیں ہیں۔ قرآن کریم میں حق تلفی کی مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں اور اس پر سخت وعیدات سنائی گئی ہیں۔


اسلام کامل اور مکمل دین ہے اور اس کی ہمہ گیری کا یہ عالَم ہے کہ یہ حیاتِ انسانی کے ہر شعبہ پر حاوی (غالب)ہے۔ حضور سرورِ عالم نور مجسم ﷺ نے عملی زندگی کے بارے میں جو ہدایات دی ہیں۔ انہیں بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

ایک وہ جس کا تعلق حقوقُ اللہ سے ہے، یعنی بندوں پر اللہ تعالیٰ کا کیا حق ہے اور اس باب میں ان کے فرائض کیا ہیں؟

دوسرا حصہ وہ ہے جس کا تعلق حقوقُ العباد سے ہے، جس میں اس امر پرروشنی ڈالی گئی ہے کہ بندوں پر دوسرے بندوں کے اور عام مخلوقات کے کیا حقوق ہیں اور اس دنیا میں جب ایک انسان کا دوسرے انسان یا کسی بھی مخلوق سے واسطہ اور معاملہ پڑتا ہے تو اس کے ساتھ اس کا کیا رویہ ہونا چاہئے اور اس باب میں اللہ کے احکام کیا ہیں۔ یہاں یہ خصوصی طور پر قابلِ ذکر بھی ہے اور غورو فکر کی مستحق بھی کہ اگر اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی یا تقصیر (کمی)ہو جائے تو وہ غفور اور رحیم ہے۔ اگر چاہے تو اپنے حقوق کو خود معاف فرمادے، لیکن اگر ایک بندہ کسی بندہ کی حق تلفی کرتا ہے یا ظلم و زیادتی کرتا ہے تو اس کی معافی اور اس سے نجات و سبکدوشی (آزادی)کا معاملہ شریعت نے یوں مقرر فرمایا کہ یا تو حقدار کا حق ادا کر دیا جائے یا اس سے معافی حاصل کرلی جائے۔اگر ان دونوں میں سے کوئی بات اس دنیا میں نہ ہو سکی تو آخرت میں لازماً اس کا خمیازہ (بدلہ)بھگتنا ہوگا۔

حق تلفی کیا ہے؟ حق تلفی کا مطلب کسی شخص کے جائز حقوق کو چھیننا،نقصان پہنچانا،یا ان کو ضائع کرناہے۔ اسلام میں حق تلفی کو سختی سے منع کیا گیا ہے کیونکہ ہر شخص کو اس کا حق دینا ایک اہم فریضہ ہے۔

حقوق کے لین دین کے معاملے میں معاشرے کا رویہ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ لوگ دوسروں سے اپنے حقوق وصول کرنے میں انتہائی چستی اور تیزی دکھاتے ہیں لیکن جب دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی نوبت آتی ہے تو اس میں کمی کوتاہی اور غفلت و سستی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ہر شخص کو صرف اپنے حقوق کی فکر ہوتی ہے لیکن اپنے ذمے دوسروں کے حقوق سے وہ غافل ہوتا ہے۔ معاشرے میں بسنے والے لوگوں کے درمیان اختلافات، لڑائی اور جھگڑوں کی ایک بہت بڑی وجہ بھی یہی رویہ ہے۔ چناں چہ لوگ اپنے حقوق وصول کرنے کے لیے آپس میں دست و گریبان نظر آتے ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠(۳۱) (پ 23، الزمر:31) ترجمہ: پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے۔

اس آیت کے متعلق ایک تفسیر یہ ہےکہ اس سے سب لوگوں کاجھگڑنا مراد ہے کہ لوگ دنیوی حقوق کے بارے میں ایک دوسرے سے جھگڑا کریں گے اور ہر ایک اپنا حق طلب کرے گا۔ (روح البیان، 8/ 106)

بندوں کے حقوق کی اہمیت: اس آیت سے بندوں کے حقوق کی اہمیت بھی واضح ہوئی،لہٰذا جس نے کسی کا کوئی حق تَلف کیا ہے اسے چاہئے کہ اپنی زندگی میں ہی اس کا حق ادا کر دے یا اس سے معاف کروا لے ورنہ قیامت کے دن حق کی ادائیگی کرنا پڑی تو وہ بہت بڑی مصیبت میں مبتلا ہو سکتا ہے۔یہاں اس سے متعلق 3 اَحادیث بھی ملاحظہ ہوں،چنانچہ

دنیا میں ہی معافی تلافی کا حکم: آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کسی نے اپنے کسی بھائی پر ظلم و زیادتی کی ہو۔ اس کی آبروریزی کی ہو یا کسی اور معاملہ میں اس کی حق تلفی کی ہو تو اس کو چاہئے کہ آج ہی اور اسی زندگی میں اس سے معاملہ صاف کر لے۔ آخرت کے اس دن کے آنے سے پہلے جب اس کے پاس ادا کرنے کے لئے دینار و درہم کچھ بھی نہ ہوگا۔ اگر اس کے پاس اعمال صالحہ ہوں گے تو اس کے ظلم کے بقدر مظلوم کو دلا دیئے جائیں گے اور اگر وہ نیکیوں سے بھی خالی ہاتھ ہو گا تو مظلوم کے کچھ گناہ اس پر لاد دیئے جائیں گے۔ (بخاری، 2/128، حدیث:2449)

مفلس و کنگال کون ہے؟ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالَم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مفلس و کنگال کون ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کی: ہم میں مفلس وہ ہے کہ جس کے پاس نہ درہم ہوں نہ سامان۔ ارشاد فرمایا: میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزے، زکوٰۃ لے کر آیا اور یوں آیا کہ اِسے گالی دی، اُسے تہمت لگائی، اِس کا مال کھایا، اُس کا خون بہایا، اُسے مارا۔ اِس کی نیکیوں میں سے کچھ اِس مظلوم کو دے دی جائیں گی اور کچھ اُس مظلوم کو، پھر اگر اس کے ذمہ حقوق کی ادائیگی سے پہلے اس کی نیکیاں (اس کے پاس سے)ختم ہوجائیں تو ان مظلوموں کی خطائیں لے کر اس ظالم پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ (مسلم، ص 1069، حدیث: 6579)

اسی طرح ایک اور حدیث پاک میں ارشاد نبوی ہے: گناہوں کی ایک فہرست وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ انصاف کے بغیر نہ چھوڑے گا۔ وہ بندوں کے باہمی مظالم اور حق تلفیاں زیا دتیاں ہیں۔ ان کا بدلہ ضرور د لایا جائے گا۔ (شعب الایمان، 6/52، حدیث: 7474)

اللہ تعالیٰ ہمیں دوسروں کی حق تَلفی کرنے سے محفوظ فرمائے اور جن کے حقوق تَلف ہو گئے تو دنیا کی زندگی میں ہی ان کے حق ادا کر دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


ہمارا دین ایک بہت ہی پیارا دین ہے جو ہمیں وقتا فوقتاً دین کے احکام سے آگاہ فرماتاہے حقوق اللہ اللہ پاک اپنے کرم سے معاف فرما دے گا مگر حقوق العباد اس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک بندہ معاف نہیں کرتا۔حق تلفی بھی ایک بہت سنگین امر ہے۔

کسی کے حق کو چھین لینا یا کمی کر دینا حق تلفی ہے۔ حق تلفی کرنے کے متعلق قرآن پاک میں مذمت بیان فرمائی گی ملاحظہ کیجیے:

کنزُالعرفان: اور تیرے رب کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ بستیوں کو پکڑتا ہے جبکہ وہ بستی والے ظالم ہوں بیشک اس کی پکڑ بڑی شدید دردناک ہے۔

حضرت مِسْعَر بن کِدام رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ایک روز ہم حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ کہیں جارہے تھے کہ بےخیالی میں آپ کا پاؤں ایک لڑکے کے پاؤں پر پڑگیا، لڑکے کی چیخ نکل گئی اور اُس کے مُنہ سے بے ساختہ (یہ جملہ) نکلا: جناب! کیا آپ قیامت کے روز لئے جانے والے انتقامِ خُداوندی سے نہیں ڈرتے؟ یہ سننا تھا کہ امام اعظم پر لرزہ طاری ہوگیا اور آپ غش کھا کر زمین پرتشریف لے آئے، کچھ دیر کے بعد جب ہوش آیا توحضرت مِسْعَر بن کِدام نے عرض کی: ایک لڑکے کی بات سے آپ اس قدر کیوں گھبرا گئے؟ ارشاد فرمایا: کیا معلوم کہ اُس کی آواز غیبی ہدایت ہو۔ (المناقب للموفق، 2/148)

حق تلفی کے متعلق فرامین مصطفیٰ:

بے شک اللہ پاک ظالم کو مہلت دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو اپنی پکڑ میں لیتا ہے تو پھر اس کو نہیں چھوڑتا۔ تم لوگ حُقُوق، حق والوں کے حوالے کردو گے حتّٰی کہ بے سینگ والی کا سینگ والی بکری سے بدلہ لیا جائے گا۔ ( مسلم، ص 1394، حدیث: 2582)

حدیثِ مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ اگرتم نے دُنیا میں لوگوں کےحُقُوق اَدا نہ کئے تو ہر صورت میں قِیامت میں اَدا کرو گے، یہاں دنیا میں مال سے اور آخِرت میں اعمال سے، لہٰذا بہتری اسی میں ہے کہ دنیا ہی میں ادا کر دو ورنہ پچھتانا پڑے گا۔

حکیمُ الاُمّت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جانور اگرچِہ شرعی احکام کے مُکَلَّف نہیں ہیں مگر حُقُوقُ العِباد جانوروں کو بھی ادا کرنے ہوں گے۔ (مراۃ المناجیح، 6/ 674)

جس کے ذِمّے اپنے بھائی کا حق ہو، ا سے لازِم ہے کہ قیامت کا دن آنے سے پہلے دنیا میں اس سے مُعافی مانگ لے کیونکہ وہاں نہ دینار ہوں گے اور نہ دِرْہَم اگر اس کے پاس کچھ نیکیاں ہوں گی تو اُس کےحق کی مقدار کے برابر اِس سے لے کر اُسے دی جائیں گی ورنہ اُس (مظلوم ) کے گناہ اِس (ظالم )پررکھے جائیں گے۔ (بخاری، 2/128، حدیث: 2440)

رجسٹر تین ہیں: ایک دفترمیں اللہ پاک کچھ نہ بخشے گا، ایک دفتر کی اللہ پاک کوکچھ پروا نہیں اور ایک دفترمیں اللہ پاک کچھ نہ چھوڑے گا۔ وہ دفتر جس میں بالکل معافی کی جگہ نہیں وہ کفرہے کہ کسی طرح نہ بخشاجائے گا، وہ دفتر جس کی اللہ پاک کو کچھ پروانہیں وہ بندے کا گناہ ہےخالص اپنے اور اپنےربِّ کریم کے مُعاملہ میں کہ کسی دن کاروزہ چھوڑا یا کوئی نماز چھوڑدی اللہ پاک چاہےتو اسےمُعاف کردے اور درگزر فرمائے اور وہ دفتر جس میں سےاللہ پاک کچھ نہ چھوڑےگا وہ بندوں کاآپس میں ایک دوسرے پرظُلم ہے کہ اس میں ضرور بدلہ ہونا ہے۔ (مسند احمدبن حنبل، 7/342، حدیث: 25500)

آقا ﷺ کی عاجِزی: اللہ پاک کےآخری نبی ﷺ نے وفات ظاہِری کے وقت اجتماعِ عام میں اعلان فرمایا: اگر میرے ذمّے کسی کا قرض آتا ہو، اگر میں نے کسی کی جان ومال اور آبرو کو صدمہ پہنچایا ہو تو میری جان و مال اور آبرو حاضِر ہے، اِس دنیا میں بدلہ لے لے۔ تم میں سے کوئی یہ اندیشہ نہ کرے کہ اگر کسی نے مجھ سے بدلہ لیا تو میں ناراض ہوجاؤں گا، یہ میری شان نہیں! مجھے یہ معاملہ بَہُت پسند ہے کہ اگر کسی کا حق میرے ذِمّے ہے تو وہ مجھ سے وُصُول کر لے یا مجھے مُعاف کردے، پھر فرمایا: اے لوگو! جس شخص پر کوئی حق ہو اسے چاہئے کہ وہ ادا کرے اور یہ خیال نہ کرے کہ رسوائی ہوگی اس لیے کہ دنیا کی رُسوائی آخِرت کی رُسوائی سے بَہُت آسان ہے۔ (تاریخ ابنِ عساکِر،48/ 323 ملخصاً)

ہمیں اپنے ماتحت کی حق تلفی برے طریقے سے پیش آنے کی بجائے حسن اخلاق سے اور شفقت بھرے انداز سے پیش آئیں۔

خادموں سے شفقت: فرمانِ مُصطَفے ﷺ ہے: خادموں سےبرا سُلوک کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔ (مسند امام احمد، 1/ 20، حدیث: 13 ملخصاً)

شاگردوں سے شفقت: استاد کو چاہیے کہ اپنے شاگرد سے شفقت بھرا انداز اپنائے اسکےحقوق کو سر انجام دے شاگرد کی حق تلفی سے بچے۔دیگر طالبات کے سامنے ذلیل رسوا نہ کرے۔

کمزوروں اور غریبوں سے شفقت: امیر اور مضبوط لوگوں کو چاہیے کہ وہ غریب اور کمزوروں کی حمایت کریں۔انکے کے تمام حقوق کو سر انجام دیں۔

چھوٹے بہن بھائیوں سے شفقت: اسی طرح بڑے بہن بھائیوں کوچھوٹوں کے حُقُوق اَدا کرتے ہوئے ان پر شفقت کرنی چاہیے والِدَین کی وفات پر چھوٹے بہن بھائیوں کی پرورش کرنااوران کی اَچّھی تَربِیَت کرنا، ان کی ضروریاتِ زندگی کو پُوراکرنااور ہر مُشْکِل گھڑی میں ان کا ساتھ دینا اورجتنا ہوسکے ان کی حاجت رَوائی و دِلداری کرنا، والِدَین کی حیات میں بھی ان سے شَفْقت و مَحَبَّت سے پیش آنا، غیبت، چُغلی، بدگُمانی اورحسد عام مُسَلمان سے حرام ہے توان سے بدرجَہ اَولیٰ ناجائز ہے، بَتقاضائے بشریت ان سے سرزد ہونے والی خَطاؤں کو مُعاف کرنا اور ہمیشہ ان سے نرمی کا برتاؤ کرنا۔

احساسِ ذمہ داری پیدا کیجئے: حضرتِ عمر بن عبدُالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کی زوجہ کابیان ہے: جب حضرتِ عمر بن عبدُ العزیز کو مرتبہ خلافت پر فائز کیا گیا تو گھرآکر مصلے پر بیٹھ کر رونے لگے، یہاں تک کہ داڑھی آنسوؤں سے تر ہوگئی، میرے پوچھنےپراِرْشادفرمایا: میری گردن پر اُمتِ سرکار کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے، جب میں بُھوکےفقیروں، مریضوں، مُسافروں، بُوڑھوں، بچوں، اَلْغَرَض!تمام دُنیا کے مُصیبت زَدوں کی خبر گیری کے مُتَعَلِّق سوچتا ہوں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں ان کے مُتَعَلِّق اللہ پاک باز پرس نہ فرمائے اور مجھ سے جواب نہ بن پڑے، بس اس بھاری ذِمّہ داری کا اِحساس اور اسی کی فکر مجھے رُلا رہی ہے۔ (تاریخ الخلفاء، ص 236)

نیکیوں کے شیدائی بن جائیے: فرمانِ مصطفے ﷺ: لوگوں سے اچھا سلوک کرنا صدقہ ہے۔ (مجمع الزوائد، 8/38، حدیث: 12630)

حقوق کا علم حاصل کیجئے: سب سے پہلے حقوق العباد کا علم حاصل کیجئے، کسی بھی چیز کی صحیح معلومات کے بغیر اس پر عمل پیرا ہونا تقریباً ناممکن ہے۔

خوفِ خدا کا جام پیجئے: حضرت ابوالحسن ضریر فرماتے ہیں: کسی شخص کی سعادت مندی کی علامت یہ ہےکہ اسے بدبختی کا خوف لاحق رہے کیونکہ خوف اللہ پاک اور بندے کےدرمیان لگا م ہے، جب کسی بندے کی لگام ٹوٹ جائے تو وہ ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاکت کا شکار ہو جاتا ہے۔ (احیاء العلوم، 4/ 199)

اللہ پاک ہمیں حقوق العباد کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے اور حق تلفی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


اسلام ایک امن پسند کامل ترین، لاجواب خوبیوں کا حامل انسانی طبیعت و فطرت کے عین مطابق آسمانی اور سچا دین ہے۔یہ جس طرح اپنے ماننے والو کو عبادات و عشقِ مصطفی کا درس دیتا ہے اسی طرح اسلامی معاشی اصولوں پر کار بند رہ کر سچائی اور امانت داری کے ساتھ تجارت کرنے اور دوسروں کے مالی حقوق کی ادائیگی کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ مگر فی زمانہ اسلامی تعلیمات پر بحیثیتِ مجموعی عمل کمزور ہونے نے کی وجہ سے رشوت، چوری، دھوکا دہی، خیانت، غصب، ناپ تول میں کمی کرنے اور بھی کئی طریقوں سے دوسروں کے مالی حقوق کو دبایا جاتا ہے حالانکہ قرآن و احادیث میں اس کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے۔

جیسا کہ اللہ پاک قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 5، النساء: 29) ترجمہ: اے ایمان والو! ایک دوسرے کے مال ناحق نا کھاؤ۔

صراط الجنان میں ہے کہ اس آیت میں باطل طور پر کسی کا مال کھانا حرام فرمایا گیا خواہ لوٹ کرہو یا چھین کر،چوری سے یا جوئے سے یا حرام تماشوں یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یا رشوت یا جھوٹی گواہی سے یہ سب ممنوع و حرام ہے۔ (احکام القرآن، 1/ 304) اور ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اس آیت سے مراد وہ چیزیں ہیں جو انسان ناحق حاصل کر لیتا ہے۔

اسی طرح بہت سی احادیثِ کریمہ میں ناحق مال کھانے کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے۔ جن میں سے پانچ ملاحظہ ہوں:

1۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: چار شخص ایسے ہیں جن کے لئے اللہ پاک نے لازم کردیا ہے کہ انہیں جنت میں داخل نہیں کرے گا اور نہ ہی وہ اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے، شرابی، سودخور، ناحق یتیم کا مال کھانے والا اور والدین کا نافرمان۔ (مستدرک، 2/338، حدیث: 2307)

2۔ حضورِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص پرایا مال لے لے گا وہ قیامت کے دن اللہ پاک سے کوڑھی (یعنی برص کا مریض) ہو کر ملے گا۔ المعجم الکبیر، 1/233، حدیث: 637)

3۔ حضورِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: یتیم کا مال ظلماً کھانے والے قیامت میں اس طرح اُٹھیں گے کہ ان کے مُنہ، کان اور ناک سے بلکہ ان کی قبروں سے دُھواں اُٹھتا ہو گا جس سے وہ پہچانے جائیں گے کہ یہ یتیموں کا مال ناحق کھانے والے ہیں۔ (در منثور، 2/443)

4۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ملعون (لعنت کیا گیا) ہے وہ شخص جس نے کسی مؤمن کو نقصان پہنچایا یا دھوکا دیا۔ (ترمذی، 3/378، حدیث:1948)

5۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: خبردار ظلم نہ کرنا، خبردار کسی شخص کا مال دوسرے کو حلال نہیں مگر اس کی خوش دلی سے۔ (مسند امام احمد، 7/376، حدیث: 20720)

پیاری اسلامی بہنو! ذرا غور کیجئے کسی کے مالی حقوق دبانے کا کیا فائدہ محض دنیاوی عیش و عشرت۔ جبکہ اس کے مقابلے الله و رسول کی ناراضگی، ایمان کی دولت چھن جانے کا خطرہ، نیکیوں کا ضائع ہو جانا، عبادات کا مقبول نہ ہونا، دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی کا سبب اور بغیر حساب جہنم میں داخلہ۔ لہذا یہ ایک مذموم فعل ہے اور ہر مسلمان کو اس سے بچنا لازمی ہے۔

مذکورہ فعل میں مبتلا ہونے کے بہت سے اسباب ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں: (1) علم دین کی کمی (یعنی دوسروں کے مال کے شرعی احکام معلوم نہ ہونا ) (2) مال و دولت کی حرص (3)دنیا کی محبت (4) راتوں رات امیر بننے کی خواہش (5) مفت خوری کی عادت اور کام کاج سے دور بھاگنا (6) بری صحبت۔

اللہ پاک ہمیں دوسروں کے مالی حقوق کی ادائیگی اور دینی احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


حق تلفی کا مطلب ہے کسی کا جائز حق دبانا، چھیننا یا نہ دینا۔ یہ حق مالی ہو سکتا ہے، جانی ہو سکتا ہے، عزت کا ہو سکتا ہے یا کسی کی میراث، مزدوری، یا عدالت میں گواہی وغیرہ کا حق۔ دینِ اسلام میں حق تلفی کو سختی سے منع کیا گیا ہے اور اسے ظلم قرار دیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے: فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ (پ 8، الاعراف: 85) ترجمہ: اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ دو۔

یہ آیت اس بات کی صریح ممانعت کرتی ہے کہ کسی کا حق مارا جائے یا اس میں کمی کی جائے۔ اہلِ سنت والجماعت اس آیت کی روشنی میں اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ کسی بھی شخص کا حق دبانا یا نہ دینا حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۲۲) (پ 13، ابراہیم: 22) ترجمہ: بے شک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں:

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ترجمہ: ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب بنے گا۔ (بخاری، 2/127، حدیث: 2447)

حق تلفی بھی ظلم کی ایک قسم ہے۔ جب کوئی شخص کسی کا حق دباتا ہے تو وہ اللہ کی نگاہ میں ظالم شمار ہوتا ہے۔

ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان کا حق قسم کھا کر دبا لیا، اللہ نے اس کے لیے جہنم لازم کر دی اور جنت حرام کر دی۔ مسلم، ص 701، حدیث:353

اہلِ سنت کے تمام مکاتب فکر (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) اس بات پر متفق ہیں کہ: حق تلفی حرام ہے۔ یہ ظلم کے زمرے میں آتی ہے۔ اگر کسی نے کسی کا حق دبایا تو اس پر دنیا میں توبہ لازم ہے، اور آخرت میں مواخذہ ہو گا۔

حق دار کو اس کا حق دینا واجب ہے، ورنہ بندہ اللہ اور بندے دونوں کا مجرم ہے۔

حق تلفی کی مثالیں: یتیموں کا مال کھانا،میراث میں خواتین کو حق نہ دینا،مزدور کی اجرت نہ دینا،کسی کی زمین پر قبضہ کرنا،جھوٹی گواہی سے کسی کا حق مارنا

اسلام میں ہر گناہ سے رجوع کا دروازہ کھلا ہے، بشرطیکہ:

1۔ حق تلفی کرنے والا سچے دل سے توبہ کرے۔

2۔ متاثرہ شخص سے معافی مانگے۔

3۔ اس کا حق لوٹائے یا اس کے ورثاء کو دے۔

ورنہ قیامت کے دن حقوق العباد کا سخت حساب ہو گا۔

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو عدل و انصاف کی تعلیم دیتا ہے۔ حق تلفی نہ صرف ظلم ہے بلکہ ایک ایسا گناہ ہے جس کا تعلق بندے کے ساتھ ساتھ خدا سے بھی ہے۔ اہلِ سنت کا عقیدہ ہے کہ جب تک کسی مظلوم کا حق واپس نہ کیا جائے، اللہ کی مغفرت ممکن نہیں۔


معاشرے کا چین و سکون، تعمیرو ترقی،فلاح وبہبود اس میں بسنے والے افراد کےاخلاق و کردار کی حفاظت اور باہمی تعلقات کی مضبوطی کامرہونِ منت ہوتاہے۔اس لئےمختلف تہذیبوں اور معاشروں میں انسانی حقوق کی حفاظت کے لئے مختلف قوانین رائج ہیں مگر دین ِاسلام کو اِنسانی حقوق کے تحفظ میں سب پر برتری حاصل ہے کیونکہ اسلام وہ واحد مذہب ہےجس نے نہ صرف حقوق العباد کی اہمیت پر زور دیا بلکہ ان کی ادائیگی نہ کرنے والے کودنیوی و اُخروی طور پر نقصان اور سزا کا مستحق بھی قرار دیا۔حقوق العباد کو جس قدر تفصیل و تاکید سے اسلام نے بیان کیا ہے، یہ اسی کا خاصہ ہے۔ان حقوق میں والدین، اولاد،زوجین یعنی میاں بیوی، رشتہ دار،یتیم، مسکین، مسافر، ہمسایہ، سیٹھ،نوکر اور قیدی وغیرہ کےانفرادی حقوق کے ساتھ دیگر اجتماعی و معاشرتی حقوق کا وسیع تصور بھی شامل ہے۔

حُقُوق العباد کا معنیٰ و مفہوم:حقوق جمع ہے حق کی، جس کے معنیٰ ہیں:فردیا جماعت کا ضروری حصہ۔ (المعجم الوسیط، ص 188) جبکہ حقوقُ العباد کا مطلب یہ ہوگاکہ وہ تمام کام جوبندوں کو ایک دوسرے کے لئے کرنے ضروری ہیں۔ان کا تعلق چونکہ بندے سے ہے اسی لئے ان کی حق تلفی کی صورت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے یہی ضابطہ مقرر فرمایا ہے کہ جب تک وہ بندہ معاف نہ کرے معاف نہ ہوں گے۔ (فتاویٰ رضویہ، 24/459تا 460 ملخصاً)

اللہ پاک کا خوف رکھنے والے اس کے نیک بندے حُقُوقُ الْعِبادکے بظاہِر معمولی نظر آنے والے مُعامَلات میں بھی ایسی اِحتیاط کرتے ہیں کہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں، چنانچہ

منقول ہے: حضرتِ عبدُ اللہ بن مبارک کو سفر پر روانہ ہوتے وَقْت کسی نے دوسرے کو پہنچانے کے لیے خط پیش کیا، آپ نےفرمایا: اُونٹ کرائے پر لیا ہے، لہٰذا سُواری والے سے اِجازت لینی ہوگی کیونکہ میں نے اس کو سارا سامان دِکھا دیا ہے اور یہ خط زائد شے ہے۔ (احیاء العلوم، 1/353 ماخوذاً)

حضرتِ عبدُ اللہ بن مُبارَک کا حَقُّ الْعَبْد کی اَدائیگی کا جذبہ صدکروڑ مرحبا! اُونٹ والے کو سارا سامان دِکھانے کے بعد معمولی سے کاغذ کا وَزْن رکھنے کیلئے بھی اُونٹ والے سے اجازت لینے کا ذہن رکھتے ہیں تاکہ اس کی حق تلفی نہ ہو جائے۔حالانکہ قراٰن و احادیث میں اس کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے۔ جیسا کہ اللہ پاک قراٰنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 5، النساء: 29) ترجمہ: اے ایمان والو! ایک دوسرے کے مال ناحق نا کھاؤ۔

صراط الجنان میں ہے: اس آیت میں باطل طور پر کسی کا مال کھانا حرام فرمایا گیا خواہ لوٹ کرہو یا چھین کر،چوری سے یا جوئے سے یا حرام تماشوں یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یا رشوت یا جھوٹی گواہی سے یہ سب ممنوع و حرام ہے۔ (احکام القرآن، 1/ 304) اور ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اس آیت سے مراد وہ چیزیں ہیں جو انسان ناحق حاصل کر لیتا ہے۔ (مکاشفۃ القلوب مترجم، ص 473)

نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو آدمی کسی ایسی قوم میں ہو جس میں گناہ کے کام کئے جاتے ہوں اور وہ اسے روکنے پر قدرت بھی رکھتا ہو مگر نہ روکے تو اللہ سبحانہ و تعالی مرنے سے پہلے اسے (کسی نہ کسی ) عذاب میں ضرور مبتلا فرما دیتا ہے۔ (ابوداود، 4/164، حدیث: 4339)

لوگوں کے حقوق دبا لینا بہت بڑا جرم ہے اور یوں یہ جرم نیکی کی قبولیت میں رکاوٹ بن جاتا ہے ایسا شخص جو حقوق العباد لوٹائے یا معاف کرائے بغیر مر گیا تو قیامت کے روز نہ صرف اپنی نیکیوں سے محروم ہو گا بلکہ نیکیاں ختم ہونے پر حق داروں کے گناہ بھی اپنے سر اُٹھائے گا اور یوں مفلس ہو کر جہنم رسید ہو گا۔ (مسلم، ص 1069، حدیث: 6579)

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہیں قیامت کے دن حق داروں کو اُن کے حقوق ادا کرنے ہوں گے، یہاں تک کہ بے سینگ بکری کو بھی سینگ والی بکری سے بدلہ دلایا جائے گا۔ (مسلم، ص 1394، حدیث: 2582)

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بیشک اللہ پاک اس قوم کو گناہوں سے پاک صاف کر کے عظمت و بلندی عطا نہیں فرماتا جو اپنے میں سے کمزور لوگوں کو ان کا حق ادا نہیں کرتے۔ (معجم كبیر، 10/222، حدیث: 10534)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنی قسم کے ذریعے سے کسی مسلمان کا حق مارا، اللہ نے اس کے لیے آگ واجب کر دی اور اس پر جنت حرام ٹھہرائی۔ ایک شخص نے آپ مسی یا ہم سے عرض کی: اگر چہ وہ معمولی سی چیز ہو، اسے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: چاہے وہ پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہو۔ مسلم، ص 701، حدیث:353

ارشاد فرمایا: جس شخص نے اپنے کسی بھائی پر اس کی عزت و آبرو یا کسی اور حوالے سے ظلم کیا ہو تو وہ آج ہی اس ظلم کو معاف کر والے، قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جب نہ دینار کام آئے اور نہ درہم۔ اگر اس شخص کے نامہ اعمال میں کوئی نیکی ہوئی تو ظلم کے بقد ر وہ نیکی چھین لی جائے گی ( اور مظلوم کو دے دی جائی گی )، اور اگر اس کے نامہ اعمال میں کوئی نیکی نہ ہو تو پھر مظلوم کی برائیاں اس ( ظالم) کے نامہ اعمال میں ڈال دی جائیں گے۔ (بخاری، 2/128، حدیث:2449)

ہمیں چاہئے کہ حقوق العباد سے متعلق اسلام کی عطاکردہ روشن تعلیمات پر عمل پیرا ہوں اور حق تلفی کی اس دیمک کا خاتمہ کریں جو ہمارے معاشرے کی بنیادوں کو بوسیدہ کررہی ہے اللہ پاک ہمیں اس شر سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین