حُقُوق العباد
کا معنیٰ و مفہوم: حقوق جمع ہے حق کی، جس کے معنیٰ ہیں:فردیا جماعت کا ضروری
حصہ۔(المعجم الوسیط، ص 188)
جبکہ حقوقُ
العباد کا مطلب یہ ہوگاکہ وہ تمام کام جوبندوں کو ایک دوسرے کے لئے کرنے ضروری
ہیں۔ان کا تعلق چونکہ بندے سے ہے اسی لئے ان کی حق تلفی کی صورت میں اللہ
عَزَّوَجَلَّ نے یہی ضابطہ مقرر فرمایا ہے کہ جب تک وہ بندہ معاف نہ کرے معاف نہ
ہوں گے۔ (فتاویٰ رضویہ،ج 24،ص459تا 460ملخصاً)
حقوق
العباد کی اہمیت: حقوق
اللہ کے ساتھ ساتھ حقوقُ العباد کی ادائیگی درحقیقت راہِ نجات ہے۔اللہ نے کئی
مقامات پر حقوق العباد کی ادائیگی کا حکم فرمایا ہے، ایک جگہ فرمایا: وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى
حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ (پ15،بنی
اسرائیل:26) ترجمۂ کنز الایمان: اور رشتہ داروں کو ان کا حق دے اورمسکین اور
مسافر کو۔
حقوق العباد
ادا کرنا اللہ کے نیک اور صالح بندوں کی صفت ہے۔کامل مسلمان ہمیشہ دوسروں کے حقوق
دبانے یا انہیں تلف کرنے سے بچتا ہے۔تاجدارِ مدینہ ﷺ کافرمان ہے: مسلمان کی سب
چیزیں (دوسرے) مسلمان پرحرام ہیں، اس کا مال،اس کی آبرو اور اس کا خُون۔ (ابوداود،
4/354، حدیث:4882)
حقوق العبادکی
ادائیگی میں غفلت برتنے سے معاشرے کا امن و سکون برباد ہو جاتا ہے۔ ہر کسی کا حق
اِسی دنیا میں ہی ادا کرنا آخرت میں ادا کرنے کی نسبت بہت آسان ہے کیونکہ اگرحقوق
معاف کروائے بغیر اس دنیا سے چلے گئے تو ایک روپیہ دبانے،کسی کو ایک ہی گالی بکنے،
محض ایک بار کے گھورنے،جھڑکنے اور الجھنے کے سبب ساری زندگی کی نیکیوں سے ہاتھ
دھونے پڑ سکتے ہیں۔مزید یہ کہ صاحبِ حق کے گناہ بھی سر ڈالے جاسکتے ہیں جیساکہ
فرمانِ مصطفےٰ ﷺ ہے:جس کے ذِمّے اپنے بھائی کی عزّت یا کسی اور شے کے معاملے میں
ظُلم ہو،اُ سے لازِم ہے کہ( قیامت کا دن آنے سے پہلے) یہیں دنیا میں اس سے معافی
مانگ لے،کیونکہ وہاں (یعنی روزِ محشر اس کے پاس ) نہ دینار ہوں گے اور نہ دِرْہَم،
اگر اس کے پاس کچھ نیکیاں ہوں گی، تو بقَدَر اُس کے حق کے،اِس سے لے کر اُسے دی
جائیں گی، اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں تو اُس(مظلوم ) کے گناہ اِس (ظالم)پررکھے
جائیں گے۔ (بخاری، 2/128، حدیث:2449)
معاشرے کا چین
و سکون، تعمیرو ترقی،فلاح وبہبود اس میں بسنے والے افراد کےاخلاق و کردار کی حفاظت
اور باہمی تعلقات کی مضبوطی کامرہونِ منت ہوتاہے۔اس لئےمختلف تہذیبوں اور معاشروں میں
انسانی حقوق کی حفاظت کے لئے مختلف قوانین رائج ہیں مگر دین ِاسلام کو اِنسانی
حقوق کے تحفظ میں سب پر برتری حاصل ہے کیونکہ اسلام وہ واحد مذہب ہےجس نے نہ صرف
حقوق العباد کی اہمیت پر زور دیا بلکہ ان کی ادائیگی نہ کرنے والے کودنیوی و
اُخروی طور پر نقصان اور سزا کا مستحق بھی قرار دیا۔حقوق العباد کو جس قدر تفصیل و
تاکید سے اسلام نے بیان کیا ہے، یہ اسی کا خاصہ ہے۔ان حقوق میں والدین،
اولاد،زوجین یعنی میاں بیوی، رشتہ دار،یتیم، مسکین، مسافر، ہمسایہ، سیٹھ،نوکر اور
قیدی وغیرہ کےانفرادی حقوق کے ساتھ دیگر اجتماعی و معاشرتی حقوق کا وسیع تصور بھی
شامل ہے۔منقول ہے: حضرتِ عبدُ اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کو سفر پر روانہ ہوتے
وَقْت کسی نے دوسرے کو پہنچانے کے لیے خط پیش کیا، آپ نےفرمایا: اُونٹ کرائے پر
لیا ہے، لہٰذا سُواری والے سے اِجازت لینی ہوگی کیونکہ میں نے اس کو سارا سامان
دِکھا دیا ہے اور یہ خط زائد شے ہے۔ (احیاء العلوم، 1/353 ماخوذاً)
حضرتِ عبدُ
اللہ بن مُبارَک کا حق الْعَبْد کی اَدائیگی کا جذبہ صدکروڑ مرحبا! اُونٹ والے کو سارا
سامان دِکھانے کے بعد معمولی سے کاغذ کا وَزْن رکھنے کیلئے بھی اُونٹ والے سے
اجازت لینے کا ذہن رکھتے ہیں تاکہ اس کی حق تلفی نہ ہو جائے۔حقوق العباد کی اقسام
کو مختلف ذرائع میں مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے، لیکن عام طور پر انہیں دو
بڑی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: قریبی لوگوں کے حقوق اور عام لوگوں کے حقوق۔
حقوق
العباد کی اقسام:
قریبی
لوگوں کے حقوق:
والدین
کے حقوق: ان
کی اطاعت کرنا، ان کی خدمت کرنا، اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔
اولاد
کے حقوق: ان
کی اچھی تربیت کرنا، ان کی ضروریات پوری کرنا، اور ان کے ساتھ شفقت کا سلوک کرنا۔
میاں
بیوی کے حقوق: ایک
دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، ایک دوسرے کی ضروریات کا خیال رکھنا، اور ایک دوسرے
کی عزت کرنا۔
رشتہ
داروں کے حقوق: ان
کے ساتھ صلہ رحمی کرنا، ان کے دکھ درد میں شریک ہونا، اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ
کرنا۔
دوستوں
کے حقوق: ان
کے ساتھ سچائی اور ایمانداری کا سلوک کرنا، ان کی مدد کرنا، اور ان کے ساتھ وفادار
رہنا۔
اساتذہ
اور طلباء کے حقوق: اساتذہ کا احترام کرنا، ان کی بات ماننا، اور طلباء
کو اچھی تعلیم دینا۔
عام
لوگوں کے حقوق:
ملازمین
کے حقوق: ان
کے ساتھ انصاف کا سلوک کرنا، ان کی اجرت وقت پر دینا، اور ان کے ساتھ احترام کا
سلوک کرنا۔
تاجروں
کے حقوق: سچائی
اور ایمانداری سے کاروبار کرنا، ناپ تول میں کمی نہ کرنا، اور صارفین کے ساتھ اچھا
سلوک کرنا۔
مسافروں
کے حقوق: ان
کی مدد کرنا، ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا۔
مخالفین
کے حقوق: ان
کے ساتھ بھی انصاف اور حسن سلوک کا رویہ اپنانا، ان کی غلطیوں کو معاف کرنا، اور
ان کے ساتھ بھی اچھے تعلقات قائم کرنا۔
مزید برآں،
حقوق العباد میں شامل ہیں:
معاف
کرنا: دوسروں
کی غلطیوں کو معاف کرنا اور ان کے ساتھ درگزر کا رویہ اپنانا۔
مدد
کرنا: ضرورت
مندوں کی مدد کرنا اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرنا۔
سچائی
اور ایمانداری: ہمیشہ
سچ بولنا اور دوسروں کے ساتھ ایمانداری کا سلوک کرنا۔
عاجزی
اور انکساری: دوسروں
کے ساتھ عاجزی اور انکساری کا رویہ اپنانا اور تکبر سے بچنا۔
حقوق العباد
کی ادائیگی ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس میں دنیا اور آخرت دونوں میں
کامیابی ہے۔
احادیث
میں حقوق العباد کی اہمیت:
بخاری اور
مسلم میں روایت ہے: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ
اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ (مسلم، ص 42،
حدیث: 45)
جو شخص کسی
مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے
گا۔
احادیث میں
حقوق العباد کی ادائیگی پر بہت زور دیا گیا ہے اور اس کی خلاف ورزی سے سختی سے منع
کیا گیا ہے۔ حقوق العباد کی ادائیگی سے دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہوتی ہے اور
اس کی خلاف ورزی سے دنیا و آخرت میں نقصان ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ
نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے عقل و شعور عطا کیا تاکہ وہ عدل، انصاف
اور حسنِ سلوک کے ساتھ زندگی گزارے۔ لیکن جب انسان ان اصولوں کو چھوڑ کر دوسروں کے
حقوق کو پامال کرتا ہے تو وہ حق تلفی کا مرتکب ہوتا ہے۔
حق
تلفی کی تعریف: حق
تلفی کا مطلب ہے کسی کے جائز حق کو دبانا، غصب کرنا، یا ادا نہ کرنا۔ چاہے وہ مالی
ہو، اخلاقی ہو، یا سماجی، ہر قسم کی حق تلفی شریعت میں ناجائز اور حرام قرار دی
گئی ہے۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو ہر انسان کے حقوق کو محفوظ بناتا ہے، خواہ وہ
مسلمان ہو یا غیر مسلم۔
قرآن
مجید میں حق تلفی کی مذمت: اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جگہ جگہ
عدل و انصاف کا حکم دیا ہے اور ظلم و زیادتی سے منع فرمایا ہے، جو کہ حق تلفی کی
اعلیٰ ترین شکل ہے۔
فَاَوْفُوا
الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ (پ 8، الاعراف: 85) ترجمہ: اور ناپ اور
تول میں کمی نہ کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ دو۔
یہ آیت ان
لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو دوسروں کو ان کا حق کم دیتے تھے، اور یہ عمل اللہ
کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہے۔
احادیثِ
مبارکہ میں حق تلفی کی مذمت: رسول اللہ ﷺ نے بھی حق تلفی کو ایک بہت
بڑا گناہ قرار دیا ہے: جس نے کسی کی زمین کا ایک بالشت بھی ظلم سے لے لیا، قیامت
کے دن وہ سات زمینوں تک اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالی جائے گی۔ (بخاری، 2/129، حدیث:
2453)
ایک اور مقام
پر فرمایا: مزدور کو اس کی مزدوری دو، قبل اس کے کہ اس کا پسینہ خشک ہو۔ (ابن
ماجہ، 3/162، حدیث: 2443)
یہ حدیث
مزدوروں اور ملازمین کے حقوق کو فوراً ادا کرنے کی تلقین کرتی ہے، اور تاخیر یا حق
تلفی سے منع کرتی ہے۔
حق
تلفی کے نقصانات: حق
تلفی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور عذاب کا باعث ہے۔ مظلوم کی بددعا سے اللہ پردہ
نہیں ڈالتا، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ مظلوم کی دعا مستجاب ہوتی ہے۔ جب حقوق تلف ہوں
تو معاشرہ ظلم، نفرت، اور فساد کا شکار ہو جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت
کے دن ضرور حقوق ان کے اہل تک پہنچا دیے جائیں گے۔ (مسلم، ص 1070، حدیث: 6580)
حق
تلفی سے بچنے کے طریقے:
1۔
تقویٰ اختیار کرنا: اللہ کا خوف دل میں ہو تو انسان کسی کا حق نہیں
مارتا۔
2۔
حق پہچاننا اور ادا کرنا: ہر انسان کو چاہیے کہ دوسروں کے حقوق
پہچانے اور انہیں ادا کرے۔
3۔
معاملات میں شفافیت: مالی، ذاتی یا سماجی معاملات میں وضاحت اور سچائی
ہونی چاہیے۔
4۔
مظلوم سے معافی مانگنا: اگر کسی کا حق دب گیا ہے تو دنیا میں ہی اس سے
معافی مانگ لینی چاہیے۔
5۔
نبی ﷺ کی سنت کو اپنانا: نبی کریم ﷺ نے ہر ایک کو اس کا حق دیا،
خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم۔ ہمیں بھی اسی طرزِ عمل کو اپنانا چاہیے۔
حق تلفی نہ
صرف ایک شرعی جرم ہے بلکہ ایک اخلاقی پستی بھی ہے جو معاشرے کو تباہی کی طرف لے
جاتی ہے۔ ایک مؤمن کا شیوہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ ہر حال میں دوسروں کا حق ادا کرے،
عدل و انصاف پر قائم رہے، اور اپنے نفس کو ظلم سے پاک رکھے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان
ہے: ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب بنے گا۔ (بخاری، 2/127،
حدیث: 2447)
انسانی معاشرہ
اس وقت خوبصورت اور پُرامن بنتا ہے جب ہر فرد دوسرے کا حق پہچان کر ادا کرے۔ اگر
کوئی اپنے فرائض کو بھول جائے اور دوسروں کے حقوق ادا نہ کرے تو معاشرے میں ظلم،
فساد، ناانصافی اور نفرت جنم لیتی ہے۔ اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جس نے انسانی
زندگی کے ہر پہلو کے لیے اصول وضع کیے ہیں۔ قرآن و سنت میں ہر شخص کے حقوق بیان کر
دیے گئے ہیں۔ ان کی ادائیگی کو ایمان اور دینداری کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے
برخلاف حقوق غصب کرنا، وعدہ توڑنا، ظلم کرنا اور کسی کے ساتھ ناانصافی کرنا حق
تلفی ہے جو گناہ کبیرہ ہے۔
قرآن
مجید میں حق تلفی کی مذمت: اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار
اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ کی جائے اور ہر ایک کا حق پورا
دیا جائے۔
1۔
ناپ تول میں کمی کرنے والے ہلاک ہیں: وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ(۱) الَّذِیْنَ
اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ(۲) وَ
اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ(۳) اَلَا
یَظُنُّ اُولٰٓىٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ(۴) لِیَوْمٍ
عَظِیْمٍۙ(۵) یَّوْمَ
یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ(۶) (پ 30، المطففین: 1 تا 6 ) ترجمہ: کم تولنے
والوں کی خرابی ہے وہ کہ جب اوروں سے ماپ لیں پورا لیں۔اور جب انہیں ماپ یا تول
کردیں کم کردیں کیا ان لوگوں کو گمان نہیں کہ انہیں اٹھنا ہے ایک عظمت والے دن کے
لیے جس دن سب لوگ رَبُّ الْعَالَمِیْن کے حضور کھڑے ہوں گے۔
یتیموں
کے مال میں خیانت:
اِنَّ الَّذِیْنَ
یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا
اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ
نَارًاؕ-وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠(۱۰) (پ 4، النساء:
10) ترجمہ: جو لوگ یتیموں کا مال ظلم سے کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں
اور عنقریب بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے۔
عہد
و وعدہ پورا کرنے کا حکم: وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ
مَسْـٴُـوْلًا (۳۴) (پ 15، بنی اسرائیل: 34) ترجمہ: اور وعدہ پورا کرو،
بے شک وعدے کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
یہ آیات بتاتی
ہیں کہ کسی بھی صورت میں دوسرے کے حقوق مارنا اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینا ہے۔
احادیث
مبارکہ میں حق تلفی کی مذمت: رسول اللہ ﷺ نے انسانوں کے حقوق کی
پاسداری پر زور دیا اور حق تلفی سے سختی سے روکا ہے۔
1۔
مزدور کا حق: ترجمہ:
مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔ (ابن ماجہ، 3/162، حدیث:
2443)
2۔
خیانت اور دھوکہ حرام ہے: آپ ﷺ نے فرمایا: جو ہمیں دھوکہ دے وہ
ہم میں سے نہیں۔ (مسلم، ص 695، حدیث: 283)
3۔
ظلم سے بچنے کی تاکید: آپ ﷺ نے فرمایا: ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن
اندھیروں کی صورت میں ہوگا۔ (بخاری، 2/127، حدیث: 2447)
4۔
لوگوں کے حقوق کی ادائیگی ایمان کا حصہ: آپ ﷺ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے
جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/15، حدیث:10)
حق
تلفی کی صورتیں: حق
تلفی مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے، جیسے:
خاندانی
حق تلفی: والدین
کی نافرمانی، بہن بھائیوں کے حقوق مارنا، وراثت میں کمی کرنا۔
معاشرتی
حق تلفی: ہمسایوں
کے حقوق نہ دینا، کاروبار میں دھوکہ دینا۔
معاشی
حق تلفی: مزدور
کی اجرت نہ دینا، ملازمین کے ساتھ زیادتی کرنا۔
سیاسی
و اجتماعی حق تلفی: عوام کے حقوق غصب کرنا، کرپشن اور ناانصافی کرنا۔
حق
تلفی کے نقصانات:
1۔
دنیاوی نقصانات: معاشرے
میں انتشار، جھگڑے، حسد، بےاعتمادی اور نفرتیں پھیلتی ہیں۔
2۔
اخروی نقصانات: آخرت
میں سخت پکڑ اور عذاب۔ حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے حقوق العباد کا حساب
ہوگا۔
3۔
روحانی نقصان: دل
کی سختی، برکت کا اٹھ جانا اور زندگی میں بے سکونی۔
موجودہ
معاشرے میں حق تلفی:
آج کا دور حق
تلفی سے بھرا ہوا ہے۔ وراثت میں بہنوں کو حق نہیں دیا جاتا، ملازمین کی تنخواہیں
روکی جاتی ہیں، کاروبار میں دھوکہ عام ہے، عدالتوں میں انصاف نہیں ملتا۔ یہ سب
قرآن و سنت کی کھلی نافرمانی اور حق تلفی کی بدترین مثالیں ہیں۔
اسلام ہمیں
عدل و انصاف، رحم دلی اور حقوق کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے۔ ہر شخص کو چاہیے کہ
اپنے والدین، بیوی، بچوں، بہن بھائیوں، پڑوسیوں، مزدوروں اور ملازمین کے حقوق ادا
کرے۔ اگر ہم یہ ذمہ داری پوری کریں تو ہمارا معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن جائے
گا۔
حق تلفی سے
مراد ہے کسی شخص کے جائز اور قانونی حق کو سلب کر لینا یا اس سے محروم کر دینا
چاہے یہ محرومی جان بوجھ کر ہو یا لاپرواہی سے۔ یعنی جب کسی فرد کا وہ حق جو اسے
قانون، شریعت یا معاہدے کے مطابق حاصل ہے کسی دوسرے کے عمل یا رویے کی وجہ سے پورا
نہ ہو یا چھین لیا جائے تو اسے حق تلفی کہا جاتا ہے۔
حق
تلفی کی مذمت پر احادیث: حق تلفی کے بارے میں کئی احادیث مبارکہ
ملتی ہیں جو کسی کا حق ناحق روکنے یا چھیننے سے سختی سے منع کرتی ہیں۔ ان میں سے
ایک مشہور حدیث یہ ہے:
رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا: جس شخص نے کسی کی ایک بالشت زمین بھی ناحق لے لی تو قیامت کے دن اسے
سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ (بخاری، 2/129، حدیث: 2453)
یہ حدیث اس
بات کی واضح دلیل ہے کہ کسی کا حق چاہے معمولی ہی کیوں نہ ہو ناحق لینا یا روکنا
بہت بڑا گناہ ہے۔
مزدور
کی حق تلفی: رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔ (ابن
ماجہ، 3/162، حدیث: 2443)مزدور کا حق فوراً ادا کرنا لازم ہے، تاخیر یا روکنا حق
تلفی ہے۔
کسی
کا مال ناحق لینا: جو شخص کسی مسلمان کا مال ظلم سے لے گا، وہ اللہ کے
غضب میں ہو گا۔
کمزور
کا حق نہ دینا: آپ
ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن ظلم کی تاریکیاں ہوں گی۔ (بخاری، 2/127، حدیث: 2447)
حق تلفی بھی
ظلم کی ایک شکل ہے جو آخرت میں سخت انجام کا باعث بنے گی۔
زمین
کا حق چھیننا: جو
شخص ناحق ایک بالشت زمین بھی لے گا قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے
گا۔ (بخاری، 2/129، حدیث: 2453)
امانت
میں خیانت: جس
نے خیانت کی قیامت کے دن وہ چیز لے کر آئے گا جس میں خیانت کی تھی۔
آیات
مبارکہ:
حق
تلفی اور ظلم کی ممانعت: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 5، النساء: 29) ترجمہ: اے ایمان والو! ایک دوسرے کے
مال ناحق نا کھاؤ۔
ناپ
تول میں کمی (معاشی حق تلفی): وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ(۱) الَّذِیْنَ
اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ(۲) وَ
اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ(۳) اَلَا
یَظُنُّ اُولٰٓىٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ(۴) لِیَوْمٍ
عَظِیْمٍۙ(۵) یَّوْمَ
یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ(۶) (پ 30، المطففین: 1 تا 6 ) ترجمہ: کم
تولنے والوں کی خرابی ہے وہ کہ جب اوروں سے ماپ لیں پورا لیں۔اور جب انہیں ماپ یا
تول کردیں کم کردیں کیا ان لوگوں کو گمان نہیں کہ انہیں اٹھنا ہے ایک عظمت والے دن
کے لیے جس دن سب لوگ رَبُّ الْعَالَمِیْن کے حضور کھڑے ہوں گے۔
وراثت
میں حق نہ دینا:
اِنَّ الَّذِیْنَ
یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا
اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ
نَارًاؕ-وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠(۱۰) (پ 4، النساء:
10) ترجمہ: جو لوگ یتیموں کا مال ظلم سے کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں
اور عنقریب بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے۔
دوسروں
کا مال ناجائز طریقے سے لینا: فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ
الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ (پ 8، الاعراف: 85) ترجمہ: اور ناپ اور تول میں کمی نہ
کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ دو۔
حق تلفی صرف
مال تک محدود نہیں بلکہ عزت، وقت مزدوری،وراثت وعده اور امانت میں کوتاہی بھی اس
میں شامل ہے۔ یہ دنیا میں فساد اور آخرت میں عذاب کا سبب بنتی ہے، اس لیے ہر
مسلمان پر لازم ہے کہ دوسروں کے حقوق پوری دیانت سے ادا کرے۔
حق تلفی کا
مطلب ہے کسی کے حقوق کو غلط طریقے سے لینا یا ان کا استحصال کرنا۔
یا پھر یہ بھی
کہا جا سکتا ہے کہ حق تلفی کا مطلب ہے کسی کے ساتھ ظلم کرنا یا ان کے حقوق کو
پامال کرنا۔
حق
تلفی کی اقسام: جائیدادی
حقوق کی پامالی، ذاتی حقوق کی پامالی، سیاسی حقوق کی پامالی،
سماجی حقوق کی
پامالی وغیرہ۔
حق
تلفی پر احادیث مبارکہ:
جو شخص کسی کے
ساتھ ظلم کرتا ہے، تو وہ قیامت کے دن اس ظلم کا بدلہ دے گا۔ ارشاد فرمایا: ظلم سے
بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکیوں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ (بخاری، 2/127، حدیث:
2447)
ظلم کرنے والا
شخص قیامت کے دن اللہ کی ناراضگی کا سامنا کرے گا۔ حق تلفی کرنا کبیرہ گناہ ہے۔
اور ظلم نہ
کرو، کیونکہ ظلم کرنے والے قیامت کے دن عذاب کا سامنا کریں گے۔
اللہ تعالیٰ
کا ارشاد ہے: وَ سَیَعْلَمُ
الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠(۲۲۷) (پ
19، الشعراء:227) ترجمہ: ظلم کرنے والوں کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس طرح پھرتے
ہیں۔
اللہ تعالیٰ
کا ارشاد ہے: وَ الَّذِیْنَ
ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیْبُهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْاۙ- (پ 24،
الزمر: 51)ترجمہ: جو لوگ ظلم کرتے ہیں، وہ قیامت کے دن اپنے ظلم کا بدلہ دیں گے۔
حق تلفی کے مظاہر: کسی کی
جائیداد پر قبضہ کرنا، کسی کی مرضی کے خلاف کام کرنا، کسی کی عزت و آبرو کو نقصان
پہنچانا، جبر و ظلم، استحصال، حقوق کی پامالی وغیرہ۔
اللہ پاک ہمیں
حق تلفی جیسے مرض سے محفوظ رکھے۔ آمین
انسان کو اللہ
تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اسے عقل، شعور اور ضمیر عطا فرمایا تاکہ وہ
عدل و انصاف کے راستے پر چلے۔ ہر شخص کے کچھ حقوق ہوتے ہیں، جنہیں ادا کرنا دوسروں
پر لازم ہے۔ جب یہ حقوق چھین لیے جاتے ہیں یا ادا نہیں کیے جاتے تو اس ظلم کو حق
تلفی کہا جاتا ہے۔ حق تلفی ایک ایسی لعنت ہے جو معاشرے کے سکون کو تباہ کر دیتی
ہے۔ یہ دلوں میں نفرت، بداعتمادی اور دشمنی کو جنم دیتی ہے اور انسانیت کی بنیادوں
کو ہلا دیتی ہے۔
حق
تلفی کی عام مثالیں: حق تلفی کئی صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے:
کسی مزدور سے
پورا کام لے کر اس کی اجرت کم دینا یا روک لینا۔ یتیم بچوں کی وراثت ہڑپ کرنا۔ بہنوں
یا کمزور رشتہ داروں کو جائیداد میں حصہ نہ دینا۔ جھوٹ اور دھوکے سے دوسروں کا مال
یا حق لینا۔ کسی طالب علم کی محنت کو پہچان نہ دینا یا اس کی کامیابی کا حق مارنا۔
یہ سب وہ گناہ ہیں جن پر دنیا میں بھی بددعا اور آخرت میں سخت عذاب ہے۔
اسلام
کی نظر میں حق تلفی: اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو عدل و انصاف کو
سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر دوسروں
کے حقوق ادا کرنے اور ظلم سے بچنے کا حکم دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ
ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا
اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 5، النساء: 29) ترجمہ: اے ایمان والو! ایک دوسرے کے مال
ناحق نا کھاؤ۔
اسی طرح ایک
اور جگہ فرمایا: فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا
تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ (پ 8، الاعراف: 85) ترجمہ: اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو اور لوگوں کو ان
کی چیزیں کم کر کے نہ دو۔
نبی کریم ﷺ نے
بھی فرمایا: جس نے کسی کا حق مارا، وہ قیامت کے دن ظلم کی تاریکیوں میں ہوگا۔ (بخاری،
2/127، حدیث: 2447)
ایک اور حدیث
میں فرمایا گیا: مزدور کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔ (ابن ماجہ، 3/162،
حدیث: 2443)
یہ احادیث اور
آیات ہمیں واضح پیغام دیتی ہیں کہ حق تلفی سے بچنا ایمان کا حصہ ہے اور دوسروں کا
حق ادا کرنا نیکی کا کام ہے۔
حق
تلفی کے نتائج: حق
تلفی کے اثرات نہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ دنیا میں یہ
معاشرتی بگاڑ، دشمنی اور ظلم کو بڑھاتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے پر اعتماد کھو بیٹھتے
ہیں۔ معاشرہ انصاف سے خالی ہو جاتا ہے۔ آخرت میں اللہ تعالیٰ حق تلفی کرنے والے کو
سخت عذاب دے گا اور مظلوم کو اس کا حق ضرور واپس ملے گا۔
ہمیں چاہیے کہ
دوسروں کے حقوق کی حفاظت کریں۔ کبھی کسی کا حق نہ ماریں، چاہے وہ معمولی سی چیز
کیوں نہ ہو۔ امانت داری اور انصاف کو اپنی زندگی کا اصول بنائیں۔ کمزوروں، یتیموں
اور مستحقین کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ یاد رکھیں! کسی کا حق مارنا اللہ تعالیٰ کے
نزدیک بڑا گناہ ہے۔
آئیے عہد کریں
کہ ہم ہمیشہ عدل و انصاف پر چلیں گے، دوسروں کا حق ادا کریں گے، کسی پر ظلم نہیں
کریں گے اور حق تلفی سے ہمیشہ دور رہیں گے۔ یہی ایمان، تقویٰ اور انسانیت کا حقیقی
معیار ہے۔
حق تلفی سے
بچنا ہی کامیابی کا راستہ ہے، کیونکہ دنیا فانی ہے مگر اللہ کا انصاف ابدی اور
لازوال ہے۔
آخر میں اللہ
پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں دوسروں کی حق تلفی کرنے سے محفوظ رکھے۔ آمین
الحمدلله الله
کریم کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک نعمت ہمیں رشتوں کی شکل میں عطا ہوئی ہے اور ان
رشتوں میں محبت،حسن سلوک اور خوبصورتی کو برقرار رکھنے کےلئے حقوق کی ادائیگی کو
ہم پر لازم فرمایا واضح رہے کہ انسانی حقوق سے مراد وہ حقوق ہیں جو انسانوں کے آپس
میں ایک دوسرے پر ہیں،جیسےمیاں بیوی،والدین اور اولاد،استاد،شاگرد،ایک پڑوسی کے
دوسرے پڑوسی پر،ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر،ایک طالب علم پر دوسرے طالب علم کے
آپس میں حقوق وغیرہ ان حقوق کی ادائیگی سے باہم محبت اور حسن اتفاق پیدا ہوتا مگر
اس دور نازک میں ان سب حقوق کو کئی حد تک فراموش کردیا گیا ہے ان رشتوں کے حقوق کی
ادائیگی کرنا تو دور کی بات الٹا حق تلفیوں پہ اتر آئے ہیں اور حالات اتنی نازک
ہوچکے ہیں کہ ہم کب چھوٹی چھوٹی بات پہ حق تلفی کرجاتے ہیں ہمیں اندازہ ہی نہیں
ہوتا اور جسکی حق تلفی ہوتی ہے وہ بیچارہ مایوسی کا شکار ہوجاتا۔آئیے پیاری اسلامی
بہنوں حق تلفی جیسے سنگین جرم کے بارے میں ملاحظہ فرماتی ہیں اور غورو فکر کرنے کی
کوشش کرتی ہیں کہ ہم کس کس طرح سے حق تلفی کرجاتی ہیں اور انکے نقصانات بھی ملاحظہ
فرمائیے:
حق
تلفی کی تعریف: حق
تلفی کا مطلب ہے کسی کا جائز حق چھین لینا یا اسے اس کے حق سے محروم کرنا۔ یہ ایک
ایسا عمل ہے جس میں کسی شخص کو اس کا وہ حق نہیں دیا جاتا جو اسے ملنا چاہیے، خواہ
وہ حق کسی بھی شکل میں ہو، جیسے کہ مالی حق، سماجی حق، یا کوئی اور جائز حق۔
حق تلفی ایک
اخلاقی اور قانونی مسئلہ ہے۔ اس میں کسی بھی شخص کو اس کے جائز حق سے محروم کرنا
شامل ہے، جس کی وجہ سے اسے نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو معاشرے
میں ناانصافی اور عدم مساوات کا باعث بنتا ہے۔
مثالیں:
1:کسی کی زمین
پر قبضہ کرنا۔
2:کسی کی
تنخواہ یا اجرت روک لینا۔
3:کسی کے ساتھ
امتیازی سلوک کرنا۔
4:کسی کو اس
کے حقوق سے آگاہ نہ کرنا۔
5:کسی کی عزت
نفس کو مجروح کرنا۔
نتائج:
حق
تلفی کے بہت سے منفی نتائج ہو سکتے ہیں، جن میں شامل ہیں: معاشرتی عدم استحکام، نا
انصافی اور عدم مساوات، متاثرہ شخص کو ذہنی اور جسمانی تکلیف، قانونی مسائل اور
تنازعات۔
لہذا حق تلفی
ایک ایسا عمل ہے جس سے بچنا چاہیے اور ہر شخص کو اس کے جائز حقوق ملنے چاہئیں۔
حق
تلفی سے متاثر ہونے والے اہم رشتے: پیاری اسلامی بہنو! ہمارے کچھ عزیز
رشتے ایسے بھی ہیں جن سے زندگی بھر واسطہ پڑتا ہی رہتا یہاں تک کہ قبر میں اترنے
تک ہمیں ان کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہم ان کی بھی حق تلفی کسی نہ کسی صورت میں کر
جاتے ہیں جیسے:
والدین کی حق
تلفی ان کی حق تلفی سے مراد وہ رویہ ہے جس میں اولاد اپنے والدین کے حقوق کی
پاسداری نہیں کرتی۔ یہ ایک سنگین اخلاقی اور مذہبی گناہ ہے، اور اس سے والدین کی
دل آزاری ہوتی ہے۔ اسلام میں والدین کے حقوق کی بہت تاکید کی گئی ہے اور ان کی
نافرمانی کو بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔
مثالیں:
والدین
کی بات نہ سننا، ان کی نصیحتوں کو نظر انداز کرنا ان کی رائے کو اہمیت نہ دینا حق
تلفی ہے، ان کی خدمت نہ کرنا، ان کی توہین کرنا، ان کی ضروریات کو پورا نہ کرنا، ان
کے ساتھ بدسلوکی کرنا، والدین کی ناراضگی مول لینا، ان کی دعائیں نہ لینا بھی حق
تلفی ہے۔
اساتذہ
کی حق تلفی: اس
سے مراد اساتذہ کے حقوق کی پامالی ہے، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔
مثالیں:
اس
میں اساتذہ کو ان کے جائز حقوق سے محروم کرنا،ان کے ساتھ بدسلوکی کرنا، ان کی عزت
نفس کو مجروح کرنا، طلبہ اور والدین کا اساتذہ کے ساتھ بدتمیزی کرنا۔ استاد کی حق
تلفی سےتعلیمی معیار پر منفی اثرات ظاہر ہوتے ہیں مثلاجب اساتذہ اپنے حقوق سے
محروم ہوتے ہیں، تو ان کی کارکردگی متاثر ہوتی اور ملازمت چھوڑنے کی شرح میں اضافہ
ہوتاہے
اساتذہ کی حق
تلفی ایک سنگین مسئلہ ہے جس کے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اساتذہ کے
حقوق کا تحفظ ضروری ہے تاکہ وہ اپنے فرائض کو بہتر طریقے سے انجام دے سکیں اور ایک
خوشحال معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
ہمسایوں
کی حق تلفی: ہمسایوں
کی حق تلفی کا مطلب ہے اپنے پڑوسیوں کے حقوق کی پامالی کرنا یا ان کے ساتھ ناروا
سلوک کرنا۔ اسلام میں ہمسایوں کے حقوق بہت اہمیت رکھتے ہیں اور ان کی خلاف ورزی
ایک سنگین گناہ ہے۔ ہمسایوں کے حقوق میں ان کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کرنا، ان
کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، ان کی مدد کرنا اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا شامل ہے۔
بہن
بھائیوں کی حق تلفی: بہن بھائیوں کی حق تلفی کا مطلب ہے کہ کسی بھائی یا
بہن کو اس کے جائز حق سے محروم کرنا۔ یہ مسئلہ کئی طرح سے سامنے آ سکتا ہے، جیسے
وراثت میں حصہ نہ دینا، توجہ اور محبت میں فرق کرنا، یا کسی خاص بھائی یا بہن کو
زیادہ اہمیت دینا۔ اس طرح کی ناانصافی خاندان میں ناخوشی اور ناراضگی کا باعث بن
سکتی ہے۔
قرآن وحدیث کی
روشنی میں حق تلفی کی وعید:
الله فرماتا
ہے: قُلْ یٰقَوْمِ
اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌۚ-فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ-مَنْ
تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِؕ-اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ(۱۳۵) (پ 8،
الانعام:135) آپ یہ فرما دیجئے اے میری قوم! تم اپنی حالت پر عمل کرتے رہو میں بھی
عمل کر رہا ہوں سو اب جلد ہی تم کو معلوم ہوا جاتا ہے کہ اس عالم کا انجام کار کس
کے لئے نافع ہوگا یہ یقینی بات ہے کہ حق تلفی کرنے والوں کو کبھی فلاح نہ ہوگی۔
مسلمان
کی حق تلفی کی سزا: رسول الله ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنی قسم کے ذریعے
کسی مسلمان کا حق مارا اللہ نے اس کے لیےآگ واجب کر دی اور اس پر جنت حرام
ٹھہرائی، ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہﷺ اگرچہ وہ معمولی سی چیز ہو آپ نے فرمایا:
چاہے وہ پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہو۔ مسلم،
ص 701، حدیث:353
ابو ہریرہ رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کی عزت یا کسی
اور شے میں حق تلفی کر رکھی ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ آج ہی اس سے بری الذمہ ہو
جائے، اس سے پہلے کہ (وہ دن آئے) جب نہ دینار ہوں اور نہ درہم۔ اگر اس کی کچھ
نیکیاں ہوں گی تو جتنی اس نے حق تلفی کی ہو گی، اس قدر اس کی نیکیاں لے لی جائیں
گی اور اگر اس کی نیکیاں نہیں ہوں گی، تو اس کے بھائی کی برائیوں کو لے کر اس کے
کھاتے میں ڈال دیا جائےگا۔ (بخاری، 2/128، حدیث:2449)
حاصل کلام یہ
ہے کہ زندگی میں جس جس کی بھی حق تلفی کی خواہ ہاتھ،زبان مال الغرض جیسے بھی کی ہے
فورا اسکی معافی طلب کیجئے اور الله سے ڈرتے ہوئے حقوق کی ادائیگی کا خیال رکھئے
کہ اس میں دارین کی فلاح ونجات ہے۔
اعلیٰ حضرت
رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حقوق العباد معاف ہونے کی دوصورتیں ہیں:(1) جوقابلِ
اداہے اداکرنا ورنہ ان سے معافی چاہنا (2)دوسرا طریقہ یہ ہے کہ صاحبِ حق بلامعاوضہ
معاف کردے۔ (فتاوی رضویہ،24/373، 374)
اللہ ہمیں
حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بھی ادا کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور
حق تلفی جیسے سگین جرم کے ارتکاب سے محفوظ فرمائے۔ آمین
اسلام ایک
ایسا دین ہے جو عدل، انصاف اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کا درس دیتا ہے۔ کسی کا
حق مارنا یا اسے اس کے جائز حق سے محروم کرنا حق تلفی کہلاتا ہے۔ یہ ایسا گناہ ہے
جس کی سزا نہ صرف دنیا میں ملتی ہے بلکہ آخرت میں بھی سخت عذاب کا سبب بنتی ہے۔
قرآن مجید میں
ارشاد ہے: فَاَوْفُوا الْكَیْلَ
وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ (پ 8، الاعراف:
85) ترجمہ: اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ
دو۔
اس سے واضح
ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو دوسرے کے حقوق پورے کرنے کا حکم دیا ہے۔
حق تلفی کی
کئی صورتیں ہیں: والدین کے حق مارنا، ان کی نافرمانی اور خدمت میں کوتاہی کرنا بھی
حق تلفی ہے۔ اسی طرح بچوں کو تعلیم، اچھی تربیت اور ضروریات زندگی فراہم نہ کرنا
یا اولاد میں ناانصافی کرنا بھی حق تلفی ہے۔ میاں بیوی کے درمیان اگر شوہر بیوی کو
نان و نفقہ نہ دے یا بیوی شوہر کی عزت اور اطاعت نہ کرے تو یہ بھی ایک طرح کی حق
تلفی ہے۔
وراثت میں حق
تلفی سب سے عام اور بڑا ظلم ہے۔ جب بہنوں یا بیٹیوں کو ان کا حصہ نہ دیا جائے یا
جائیداد پر ناجائز قبضہ کر لیا جائے تو یہ قرآن و سنت کی صریح نافرمانی ہے۔ اسی
طرح ملازمین اور مزدوروں سے کام لے کر ان کی مزدوری روک لینا یا تنخواہ وقت پر نہ
دینا بھی سخت گناہ ہے۔
کاروبار اور
تجارت میں بھی حق تلفی عام ہے۔ ناپ تول میں کمی کرنا، مال کی حقیقت چھپا کر بیچنا
اور جھوٹی قسمیں کھا کر دھوکہ دینا وہ اعمال ہیں جو آخرت میں نقصان کا باعث ہیں۔
اس کے علاوہ عام معاشرتی حقوق جیسے راستہ نہ روکنا، وعدہ پورا کرنا اور دوسروں کو
تکلیف نہ دینا بھی لازم ہیں۔
حق تلفی کے
نتائج دنیا اور آخرت دونوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔ دنیا میں بے سکونی، دشمنی اور رزق
میں بے برکتی جبکہ آخرت میں سخت حساب اور عذاب۔
رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا: جس نے کسی کا ایک بالشت زمین بھی ناحق لے لیا تو قیامت کے دن وہ زمین
سات زمینوں تک اس کے گلے میں طوق بنا دی جائے گی۔ (بخاری، 2/129، حدیث: 2453)
مزدوروں کے
حقوق میں حق تلفی کام لینے کے بعد مزدوری نہ دینا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مزدور
کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کرو۔ (ابن ماجہ، 3/162، حدیث: 2443)
کاروبار
میں حق تلفی: ناپ
تول میں کمی کرنا، مال کی حقیقت چھپا کر بیچنا یا جھوٹی قسمیں کھانا۔
عام
معاشرتی حقوق میں حق تلفی: راستہ روکنا، وعدہ خلافی کرنا اور
دوسروں کو تکلیف دینا۔
حق
تلفی کے نتائج: رزق
میں بے برکتی، دل کی بے سکونی، معاشرتی جھگڑے اور فساد، سخت حساب، جہنم کا عذاب۔
رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا: مظلوم کی بددعا سے بچو کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں
ہوتا۔ (بخاری، 2/128، حدیث: 2448)
حق
تلفی سے بچنے کے طریقے: اللہ کا خوف دل میں رکھنا۔ والدین کی خدمت کرنا۔ بچوں
اور بیوی کے حقوق پورے کرنا۔ وراثت شریعت کے مطابق تقسیم کرنا۔ ملازمین کے ساتھ
انصاف کرنا۔ تجارت میں ایمانداری کرنا۔ عام لوگوں کو تکلیف نہ دینا۔
اسلام میں حق
تلفی کو ظلم قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایسا گناہ ہے جو دنیا میں فساد اور آخرت میں عذاب
کا سبب بنتا ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو دوسروں کے حقوق پورے کرے تاکہ دنیا میں
سکون اور آخرت میں نجات حاصل کرے۔
اسلام ایک
ایسا دین ہے جو عدل، انصاف اور حقوق کی حفاظت کا درس دیتا ہے۔ قرآن مجید میں بار
بار تاکید کی گئی ہے کہ کسی کا حق نہ کھاؤ اور نہ ہی ظلم کرو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا
ہے: وَ
لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ
مُفْسِدِیْنَ(۸۵) (پ 13،ہود: 85) ترجمہ کنز العرفان: لوگوں کو ان کی چیزیں
گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔
حق تلفی کا
مطلب ہے کسی کے حق کو جان بوجھ کر کم کرنا یا چھین لینا، چاہے وہ مالی حق ہو، عزت
کا حق ہو یا محبت و توجہ کا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک
کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے
پسند کرتا ہے۔ (مسلم، ص 42، حدیث: 45)
اسلام میں حق
تلفی صرف دنیا میں گناہ نہیں بلکہ آخرت میں بھی سخت پکڑ کا سبب ہے۔ قیامت کے دن
مظلوم کا حق ظالم سے لے کر اسے دیا جائے گا، چاہے بدلے میں نیکیاں ہی کیوں نہ دینی
پڑیں۔
ہمیں چاہیے کہ
دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں، چاہے وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، اور ہر معاملے میں انصاف
کو ترجیح دیں۔ اگر ہم نے کسی کا حق مارا ہے تو دنیا میں ہی اس کی تلافی کر لیں،
ورنہ آخرت میں نیکیاں دے کر یا گناہ لے کر حساب برابر کرنا پڑے گا۔
جیساکہ فرمانِ
مصطفےٰ ﷺ ہے:جس کے ذِمّے اپنے بھائی کی عزّت یا کسی اور شے کے معاملے میں ظُلم
ہو،اُ سے لازِم ہے کہ( قیامت کا دن آنے سے پہلے) یہیں دنیا میں اس سے معافی مانگ
لے،کیونکہ وہاں (یعنی روزِ محشر اس کے پاس ) نہ دینار ہوں گے اور نہ دِرْہَم، اگر
اس کے پاس کچھ نیکیاں ہوں گی، تو بقَدَر اُس کے حق کے،اِس سے لے کر اُسے دی جائیں
گی، اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں تو اُس(مظلوم ) کے گناہ اِس (ظالم)پررکھے جائیں
گے۔ (بخاری، 2/128، حدیث:2449)
آئیے حق تلفی
سے بچنے میں امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کا فعل مبارک دیکھتے ہیں: شیخ
طریقت، امیر اہلسنت، بانیِ دعوت ِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس
عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ نے 1400 ہجری میں
حرمین طیبین کی زیارت کا ارادہ کیا اور اپنا پاسپورٹ ویزا لگوانے کے لئے جمع کروا
دیا۔ ویزا لگ جانے پر جب آپ اپنا پاسپورٹ لینے کے لئے متعلقہ ایمبیسی پہنچے تو
ویزا لینے والوں کی ایک طویل قطار لگی ہوئی تھی۔ آپ بھی قطار ہی میں کھڑے ہوگئے۔
کسی جاننے والے ٹریول ایجنٹ (TRAVEL AGENT) کی نظر آپ پر پڑی کہ اتنے اعلیٰ مرتبے کے
حامل ہونے کے باوُجود قطار میں کھڑے ہوئے ہیں تو اس نے بعد ِ سلام عرض کی: حضور!
قطار بہت طویل ہے، آپ کو کئی گھنٹوں تک دھوپ میں انتظار کرنا پڑے گا،آئیے میں آپ
کو (اپنے تعلقات کی بنا پر)کھڑکی کے قریب پہنچا دیتا ہوں۔ مگر آپ نے بڑی نرمی سے
منع فرمادیا،جس کی وجہ یہ تھی کہ اگر آپ اس کی پیش کش قبول فرماکر آگے تشریف لے
جاتے تو پہلے سے قطار میں کھڑے ہونے والوں کی حق تلفی ہوجاتی۔
حق
تلفی کے اسباب:
1۔
خوف خدا کی کمی کی وجہ سے: جب خوفِ خدا نہ ہو تو انسان مختلف
گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
2۔
حقوق العباد کا لحاظ نہ رکھنا: جب حقوق العباد کا علم نہ ہو، ان کا
لحاظ نہ ہو تو پھر حق تلفی، دھوکہ، غیبت، وعدہ خلافی جیسے گناہ عام ہو جاتے ہیں۔
3۔
لالچ: دنیا
کا فائدہ پانے کے لیے آخرت کا نقصان مول لینا۔
4۔
حسد:
دوسروں کی کامیابی برداشت نہ کرنا۔
بچنے
کے طریقے:
اپنے اندر خوف
خدا پیدا کریں اور یہ خیال اپنے ذہن میں پیدا کریں کہ اللہ دیکھ رہا ہے، حقوق
العباد کا علم حاصل کریں اور بندوں کے حقوق ادا نہ کرنے کی وعیدات کا مطالعہ کریں،
حق تلفی کے نقصانات، وعیدات کا مطالعہ کریں تاکہ حق تلفی سے بچنے کا ذہن پیدا ہو۔
حق تلفی سے
مراد کسی شخص کے جائز حقوق کو نظر انداز کرنا یا انہیں پورا نہ کرنا ہے۔ اس میں
کسی کے حق پر ڈاکہ ڈالنا، اسے اس کے حقوق سے محروم کرنا یا اس کے حقوق میں مداخلت
کرنا شامل ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو اخلاقی اور قانونی دونوں لحاظ سے غلط ہے۔
حکم:
ناحق
کسی کا مال کھانا ناجائز اور حرام ہے، ناحق مال کھانے والے پر قرآن و حدیث میں بہت
سخت وعیدات وارد ہوئی ہیں،ایسے لوگ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں،بلکہ بعض کتبِ فقہ
میں منقول ہے کہ ناحق مال کھانے والے سے ایک دانق (جو درہم کا چھٹا حصہ ہوتا ہے) کے
بدلے میں اس کی سات سو مقبول نمازیں،حق دار کو دے دی جائیں گی۔
آپ ﷺ نے ارشاد
فرمایا: مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن آئے اوراس نے نمازیں بھی پڑھی ہوں، اور روزے
بھی رکھے ہوں،اور زکوٰۃ بھی دیتا رہا ہو، مگر اس کے ساتھ اس نے کسی کو گالی دی
تھی، کسی پر تہمت لگائی تھی، کسی کا ناحق مال کھایا تھا، ناحق خون بہایا تھا، کسی
کو مارا تھا،اب قیامت میں ایک اس کی یہ نیکی لے گیا اور دوسرا دوسری نیکی لے
گیا،یہاں تک کہ اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں،لیکن پھر بھی حق دار بچ گئے، تو پھر باقی
حق داروں کے گناہ اس پر لاد دیے جائیں گے، یہاں تک کہ وہ گناہوں میں ڈوب کر جہنم
میں پھینک دیا جائے گا، یہ ہے حقیقی مفلس۔ (مسلم، ص 1069، حدیث: 6579)
ارشادِ باری
تعالیٰ: وَ
لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ
مُفْسِدِیْنَ(۸۵) بَقِیَّتُ
اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ﳛ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ
بِحَفِیْظٍ(۸۶) (پ 13،ہود: 85، 86) ترجمہ کنز العرفان: لوگوں کو ان کی
چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔ اللہ کا دیا ہوا جو بچ
جائے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تمہیں یقین ہو اور میں تم پر کوئی نگہبان نہیں۔
صراط الجنان: اس آیت اور اس کے
بعد والی3 آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ ناپ تول میں کمی کرنا،لوگوں کو ان کی چیزیں کم
کر کے دینا،رہزنی اور لوٹ مار کرکے اور کھیتیاں تباہ کرکے زمین میں فساد پھیلانا
ان لوگوں کی عادت تھی اس لئے حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں ان کاموں سے منع
فرمایا اور ناپ تول پورا کرنے کا حکم دیا اور اس کے بعدساری مخلوق کو پیدا کرنے
والے رب تعالی کے عذاب سے ڈرایا۔
مسلمان
کی حق تلفی کی سزا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنی قسم کے ذریعے سے
کسی مسلمان کا حق مارا، اللہ نے اس کے لیے آگ واجب کر دی اور اس پر جنت حرام
ٹھہرائی۔ ایک شخص نے آپ ﷺ سے عرض کی: اگرچہ وہ معمولی سی چیز ہو، اے اللہ کے رسول!
آپ نے فرمایا: چاہے وہ پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہو۔ مسلم، ص 701، حدیث:353
حق تلفی ایک
سنگین گناہ ہے ہر مسلمان کو بچنا ضروری ہے قران و حدیث میں اس کی ممانعت بیان کی
گئی ہے اور اس سے بچنے کی تاکید کی گئی۔
حق
تلفی کی تعریف: حق
تلفی سے مراد کسی کا حق مارنا اس کے حقوق میں کمی کرنا۔ یہ حق مالی بھی ہو سکتا ہے
اور غیر مالی بھی جیسے کسی کی عزت جان مال وغیرہ۔
قرآن
و حدیث کی روشنی میں:
قرآن مجید میں
اللہ پاک نے متعدد مقامات پر حق تلفی سے منع فرمایا ہے سورہ نساء میں ارشاد ہوتا
ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 5،
النساء: 29) ترجمہ: اے ایمان والو! ایک دوسرے کے مال ناحق نا کھاؤ۔ اس طرح سورہ
بقرہ میں بھی حق تلفی سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے
آقا کریم ﷺ نے
فرمایا: جو کسی مسلمان کا حق مارے گا اللہ پاک اس پر جنت حرام کر دے گا۔ (معجم اوسط، 6/ 403، حدیث: 9219)
حضور نے
فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔ (بخاری، 1/15،
حدیث:10)
حق
تلفی کی اقسام: تلفی
کی کئی اقسام ہیں جن میں چند درج ذیل ہیں:
مالی
حق تلف: کسی
کا مال ناجائز طریقے سے ہڑپ کر لینا قرض نہ دینا یا کسی اور طریقے سے مال نہ دینا۔
جانی
حق تلفی:
کسی کی جان لینا اسے نقصان پہنچانا یا اس کی زندگی کو خطرے میں ڈالنا۔
شخصی
حق تلفی: کسی
کی عزت کو اچھالنا اس کی غیبت کرنا اسے ذلیل کرنا۔
معاشی
حق تلفی: کسی
کو اس کا جائز معاوضہ نہ دینا اس کا حق مارنا۔
سماجی
حق تلفی: کسی
کو اس کے معاشرتی حقوق سے محروم کرنا جیسے اسے تعلیم صحت کی سہولتوں سے محروم کرنا۔
حق
تلفی سے بچنے کے طریقے: حق تلفی سے بچنے کے لیے ضروری ہیں کہ ہم درج ذیل
باتوں پر عمل کریں:
اللہ پاک اور
اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کریں، ہر مسلمان کو اس کا حق دیں، کسی کا حق مارنے سے گریز
کریں، دوسروں کے ساتھ ہمدردی اور محبت والا سلوک کریں،اللہ پاک سے دعا کریں کہ وہ
ہمیں حق تلفی سے محفوظ رکھے۔
حق تلفی ایک
ایسا عمل ہے جو انسان کو نہ صرف دنیا میں رسوا کرتا ہے بلکہ آخرت میں بھی دردناک
عذاب کا باعث بنتا ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ حق تلفی سے خود بھی بچیں اور دوسرے
مسلمانوں کو بھی بچنے کی تلقین کریں۔
محترم قارئینِ
کرام! ہم سے دو طرح کے حقوق متعلق ہیں:1۔ حقوق اللہ 2۔ حقوق العباد۔
یہاں حق تلفی
کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔ آئیے اولاً ہم اس کے معنیٰ و مفہوم کو سمجھتے ہیں کہ
حق تلفی کہتے کسے ہیں؟ پھر آیات مبارکہ اور احادیث مبارکہ کے ذریعے اس کے نقصان کو
سمجھیں گے اور اس کے مختصر اسباب و علاج بھی جانیں گے۔ ان شاءاللہ تعالیٰ
حق
تلفی کا مطلب: اس
کا مطلب یہ ہے کہ کسی کا حق چھین لینا یا اسے اس کے جائز حق سے محروم کر دینا۔
مثال کے طور
پہ کسی کو اس کی جائز تنخواہ نہ دی جائے تو یہ حق تلفی ہے اسی طرح کسی کی زمین اس
سے زبردستی چھین لی تو یہ بھی حق تلفی ہے مزید یہ کہ ناپ تول میں کمی کرکے لوگوں
کے مال کھا جانا، لوگوں کو دھوکہ دینا، مال غصب کر لینا اور کسی کی کوئی چیز چوری
کر لینا کسی کی جگہ پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھ جانا، کلاس روم میں اس کے مالک سے
پوچھے بغیر ہی اس کی چیز میں تصرف کر دینا، کسی پر راستہ تنگ کر دینا، کسی کے گھر
کے آگے کوڑا کرکٹ پھینک دینا، گاڑھی وغیرہ کھڑی کر دینا یہ سب حق تلفی کی صورتیں
ہیں اور اس کی مثالوں میں شامل ہیں۔
آئیے جانتے
ہیں کہ ہمارا رب اس وصفِ قبیح کے متعلق کیا فرماتا ہے:
حق
تلفی کی مذمت میں آیات مبارکہ:
اللہ رب
العالمین ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا
اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 5، النساء: 29) ترجمہ: اے
ایمان والو! ایک دوسرے کے مال ناحق نا کھاؤ۔
اس آیت میں
باطل ( یعنی ناحق) طریقے سے مراد (ہر) وہ طریقہ ہے جس سے مال حاصل کرنا شریعت نے
حرام قرار دیا ہے۔
اسی طرح ایک
اور جگہ اللہ پاک حق تلفی کی مذمت میں ارشاد فرماتا ہے: وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ(۱)
الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ(۲) وَ اِذَا
كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ(۳) اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓىٕكَ اَنَّهُمْ
مَّبْعُوْثُوْنَۙ(۴) لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ(۵) یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ
الْعٰلَمِیْنَؕ(۶) (پ 30، المطففین: 1 تا 6 ) ترجمہ: کم تولنے والوں
کی خرابی ہے وہ کہ جب اوروں سے ماپ لیں پورا لیں۔اور جب انہیں ماپ یا تول کردیں کم
کردیں کیا ان لوگوں کو گمان نہیں کہ انہیں اٹھنا ہے ایک عظمت والے دن کے لیے جس دن
سب لوگ رَبُّ الْعَالَمِیْن کے حضور کھڑے ہوں گے۔
حق
تلفی کی مذمت میں احادیث مبارکہ:
حضور پُرنور ﷺ
کا فرمانِ عبرت نشان ہے: جو شخص پرایا مال لے لے گا وہ قیامت کے دن اللہ پاک سے
کوڑھی ( یعنی برص کا مریض) ہو کر ملے گا۔ (معجم کبیر، 1/179، حدیث: 636)
مزید ارشاد
فرمایا: یتیم کا مال ناحق کھانے والا قیامت کے روز اس طرح اٹھے گا کہ اس کے منہ،
کان، ناک اور آنکھوں سے آگ کا شعلہ نکلتا ہوگا جو اسے دیکھے گا پہچان لے گا کہ یہ
یتیم کا مال ناحق کھانے والا ہے۔ ( تفسیرِ طبری، 3/615، حدیث: 8724)
حق
تلفی کے اسباب و علاج:
1۔ علمِ دین
سے دوری۔ 2۔ مال کی حرص 3۔ بری صحبت 4۔ دوسروں کو تکلیف پہنچا کر خوش ہونا 5۔ اچھی
تربیت نہ ہونا وغیرہ۔
اس کے علاج
کیلئے علمِ دین حاصل کیجیے بری صحبت سے خود بھی بچیں اور اپنے بچوں کو بھی بچائیں،
اپنی اولاد کی اچھی تربیت کریں اور حق تلفی سے متعلق آیات مبارکہ اور احادیث
مبارکہ میں جو مذمت بیان ہوئی ہے اسے پڑھنے اور اپنے بارے میں غور وفکر کرنے سے
بھی بہت فائدہ حاصل ہوگا۔ ان شاءاللہ
اللہ رب
العالمین ہمیں اس مذموم فعل سمیت تمام ظاہری و باطنی گناہوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین
ثم آمین بجاہ النبی الامین
Dawateislami