حق تلفی سے
مراد کسی شخص کے جائز حقوق کو نظر انداز کرنا یا انہیں پورا نہ کرنا ہے۔ اس میں
کسی کے حق پر ڈاکہ ڈالنا، اسے اس کے حقوق سے محروم کرنا یا اس کے حقوق میں مداخلت
کرنا شامل ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو اخلاقی اور قانونی دونوں لحاظ سے غلط ہے۔
حکم:
ناحق
کسی کا مال کھانا ناجائز اور حرام ہے، ناحق مال کھانے والے پر قرآن و حدیث میں بہت
سخت وعیدات وارد ہوئی ہیں،ایسے لوگ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں،بلکہ بعض کتبِ فقہ
میں منقول ہے کہ ناحق مال کھانے والے سے ایک دانق (جو درہم کا چھٹا حصہ ہوتا ہے) کے
بدلے میں اس کی سات سو مقبول نمازیں،حق دار کو دے دی جائیں گی۔
آپ ﷺ نے ارشاد
فرمایا: مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن آئے اوراس نے نمازیں بھی پڑھی ہوں، اور روزے
بھی رکھے ہوں،اور زکوٰۃ بھی دیتا رہا ہو، مگر اس کے ساتھ اس نے کسی کو گالی دی
تھی، کسی پر تہمت لگائی تھی، کسی کا ناحق مال کھایا تھا، ناحق خون بہایا تھا، کسی
کو مارا تھا،اب قیامت میں ایک اس کی یہ نیکی لے گیا اور دوسرا دوسری نیکی لے
گیا،یہاں تک کہ اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں،لیکن پھر بھی حق دار بچ گئے، تو پھر باقی
حق داروں کے گناہ اس پر لاد دیے جائیں گے، یہاں تک کہ وہ گناہوں میں ڈوب کر جہنم
میں پھینک دیا جائے گا، یہ ہے حقیقی مفلس۔ (مسلم، ص 1069، حدیث: 6579)
ارشادِ باری
تعالیٰ: وَ
لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ
مُفْسِدِیْنَ(۸۵) بَقِیَّتُ
اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ﳛ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ
بِحَفِیْظٍ(۸۶) (پ 13،ہود: 85، 86) ترجمہ کنز العرفان: لوگوں کو ان کی
چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔ اللہ کا دیا ہوا جو بچ
جائے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تمہیں یقین ہو اور میں تم پر کوئی نگہبان نہیں۔
صراط الجنان: اس آیت اور اس کے
بعد والی3 آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ ناپ تول میں کمی کرنا،لوگوں کو ان کی چیزیں کم
کر کے دینا،رہزنی اور لوٹ مار کرکے اور کھیتیاں تباہ کرکے زمین میں فساد پھیلانا
ان لوگوں کی عادت تھی اس لئے حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں ان کاموں سے منع
فرمایا اور ناپ تول پورا کرنے کا حکم دیا اور اس کے بعدساری مخلوق کو پیدا کرنے
والے رب تعالی کے عذاب سے ڈرایا۔
مسلمان
کی حق تلفی کی سزا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنی قسم کے ذریعے سے
کسی مسلمان کا حق مارا، اللہ نے اس کے لیے آگ واجب کر دی اور اس پر جنت حرام
ٹھہرائی۔ ایک شخص نے آپ ﷺ سے عرض کی: اگرچہ وہ معمولی سی چیز ہو، اے اللہ کے رسول!
آپ نے فرمایا: چاہے وہ پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہو۔ مسلم، ص 701، حدیث:353
Dawateislami