محروم کرنا ایک ایسا عمل ہے جو کسی کو بھی کسی چیز سے محروم کر دیتا ہے، چاہے وہ چیز کچھ بھی ہو جیسے کہ کھانا، لباس،گھر یا کسی بھی ضروری شے سے محروم کرنا۔

قران پاک میں ارشاد ہوتا ہے: وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُۙ-قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ ﳓ (پ 23، یٰسٓ: 47) ترجمہ: اور جب ان سے فرمایا جائے اللہ کے دئیے میں سے کچھ اس کی راہ میں خرچ کرو تو کافر مسلمانوں کے لیے کہتے ہیں کہ کیا ہم اسے کھلائیں جسے اللہ چاہتا تو کھلادیتا۔

محروم کرنے کی وجہ سے انسان کے دل پر کیا اثر پڑتا ہے؟ محروم کرنے کی وجہ سے انسان کے دل پر بہت سارے برے اثرات پڑھتے ہیں جیسے کہ:

دل میں کڑواہٹ پیدا ہوتی ہے۔ نسان کی نیت خراب ہوتی ہے۔ انسان کا دل سخت ہوتا ہے۔ انسان میں حسد پیدا ہوتا ہے۔ انسان کا ایمان کمزور ہوتا ہے۔ یہ سب برے اثرات انسان کو اللہ کی نافرمانی کی طرف لے جاتے ہیں۔

یہاں کچھ احادیث پیش ہیں جو کسی کو ناحق محروم کرنے، حق نہ دینے یا ظلم کی مذمت کرتی ہیں:

حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کا حق جھوٹی قسم کھا کر چھین لے، تو اللہ اس کے لیے جہنم واجب کر دیتا ہے، اور جنت اس پر حرام کر دیتا ہے۔ (مسلم، ص 82، حدیث: 137)

ارشاد فرمایا: مزدور کو اس کی مزدوری دو اس سے پہلے کہ اس کا پسینہ خشک ہو۔(ابن ماجہ، 3/162، حدیث: 2443)

بارگاہِ الٰہی میں حضور نے عرض کی: اے اللہ! جو میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار ہو اور انہیں تنگ کرے، تو اسے بھی تنگی میں ڈال۔ اور جو ان پر نرمی کرے، تو اس پر نرمی فرما۔ (مسلم، ص 783، حدیث: 4722)

مظلوم کی بددعا سے بچو، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں۔ (بخاری، 2/128، حدیث: 2448)

جو کسی کو محروم کرے، وہ مظلوم کی بددعا کا نشانہ بن سکتا ہے۔

اسلام میں کسی کا حق ناحق روکنا یا کسی کو محروم کرنا ظلم ہے، اور ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی شکل میں ظاہر ہوگا۔ جو شخص دوسروں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کرتا ہے، وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ناراضی کا مستحق بنتا ہے۔