ابو
ثوبان عبدالرحمن مدنی عطاری (درجہ تخصص فی اللغۃ العربیۃ فیضان مدینہ کاہنہ نو،
لاہور،پاکستان)
خود پسندی ایک باطنی بیماری ہے۔ انسان جب اپنے علم،
عبادت، مال یا حسب نسب پر فخر کرنے لگے اور دوسروں کو حقیر سمجھے تو یہ خود پسندی
ہے۔ یہ صفت دل کو سخت کرتی ہے اور بندے کو اللہ تعالیٰ عزوجل سے دور کر دیتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے اپنی تعلیمات میں اس برائی سے سختی کے ساتھ روکا ہے۔ ذیل میں چند
احادیث مبارکہ مع ترجمہ اور مختصر وضاحت پیش کی جاتی ہیں۔
ہلاک کرنے والی چیزیں: وَعَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
ثَلَاثٌ مُنْجِيَاتٌ وَثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ فَأَمَّا الْمُنْجِيَاتُ فَتَقْوَى اللَّهِ فِي السِّرِّ والعلانيةِ والقولُ بالحقِّ فِي الرضى وَالسُّخْطِ وَالْقَصْدُ فِي الْغِنَى وَالْفَقْرِ وَأَمَّا الْمُهْلِكَاتُ:
فَهَوًى مُتَّبَعٌ وَشُحٌّ مُطَاعٌ وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ وَهِيَ أَشَدُّهُنَّ۔
ترجمہ: تین
چیزیں نجات دینے والی ہیں اور تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں نجات دینے والی یہ
ہیں: پوشیدہ اور ظاہر ہر حال میں اللہ عزوجل سے ڈرنا، خوشی اور غصہ دونوں حالتوں
میں سچی بات کہنا، اور مال داری اور تنگ دستی دونوں میں میانہ روی اختیار
کرنا۔اور ہلاک کرنے والی یہ ہیں: ایسی خواہش جس کی پیروی کی جائے، ایسا بخل جس کی
اطاعت کی جائے، اور آدمی کا اپنے آپ کو پسند کرنا، اور ان میں سب سے زیادہ سخت
خود پسندی ہے۔(مشكوة المصابيح،كتاب الآداب،حدیث: 5122)
یہ حدیث صاف بتاتی ہے کہ خود پسندی ہلاکت کا سبب ہے۔ جب
انسان اپنے عمل پر اتنا خوش ہو جائے کہ اسے اپنی اصلاح کی ضرورت محسوس نہ ہو تو وہ
آگے بڑھنا چھوڑ دیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ کافی ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ کمزور
ہوتا ہے۔
ہر شخص کا اپنی رائے کو اچھا سمجھنا: حَدَّثَنِي
أَبُو أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، فَقُلْتُ:
يَا أَبَا ثَعْلَبَةَ، كَيْفَ تَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ:
{عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ}
[المائدة:
105]قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْهَا خَبِيرًا، سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:بَلِ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ، حَتَّى إِذَا رَأَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا، وَهَوًى مُتَّبَعًا، وَدُنْيَا مُؤْثَرَةً، وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْيِهِ،
فَعَلَيْكَ - يَعْنِي بِنَفْسِكَ، وَدَعْ عَنْكَ الْعَوَامَّ، فَإِنَّ مِنْ
وَرَائِكُمْ أَيَّامَ الصَّبْرِ، الصَّبْرُ فِيهِ مِثْلُ قَبْضٍ عَلَى الْجَمْرِ،
لِلْعَامِلِ فِيهِمْ مِثْلُ أَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلًا يَعْمَلُونَ مِثْلَ عَمَلِهِ، وَزَادَنِي غَيْرُهُ قَالَ:
يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْهُمْ
قَالَ: أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْكُمْ۔
ترجمہ: حضرت
ابو اُمیہ الشعبانی کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوثعلبہ الخشنی رضی اللہ عنہ کی خدمت
میں حاضر ہوا اور عرض کیا: سورۃ المائدہ کی آیت عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ کے
بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟انہوں نے فرمایا: تم نے ایک جاننے والے سے سوال کیا
ہے۔ میں نے یہی سوال رسول اللہ ﷺ سے کیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:"نہیں،
تم نیکی کا حکم دیتے رہو اور برائی سے روکتے رہو، یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ بخل
کی پیروی کی جا رہی ہے، خواہش نفس کو اختیار کیا جا رہا ہے، دنیا کو ترجیح دی جا
رہی ہے اور ہر صاحبِ رائے اپنی رائے کو اچھا سمجھ رہا ہے، تو اس وقت تم اپنی فکر
کرو اور عام لوگوں کو چھوڑ دو۔ اس لیے کہ تمہارے بعد صبر کے دن آئیں گے۔ ان دنوں
میں صبر کرنا ایسے ہوگا جیسے انگارے کو ہاتھ میں پکڑنا۔ اس زمانے میں عمل کرنے
والے کو پچاس آدمیوں کے برابر اجر ملے گا۔"عرض کیا گیا: یا رسول اللہ ﷺ کیا ان میں سے پچاس
کا؟فرمایا: "بلکہ تم میں سے پچاس کا"۔(سنن ابی داود،كتاب الملاحم ،حدیث:
4341)
اس حدیث میں خود پسندی کی ایک واضح شکل بیان ہوئی ہے، اعجاب
کل ذی رأی برأیہ یعنی ہر شخص کا اپنی رائے کو سب سے بہتر سمجھنا۔یہ
کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان اپنی عقل اور سوچ کو حرف آخر سمجھ لے۔ وہ نہ
نصیحت قبول کرتا ہے اور نہ اصلاح۔ یہی خود پسندی معاشرے میں اختلاف، ضد اور
گمراہی کو بڑھاتی ہے۔
یہ حدیث ہمیں دو باتیں سکھاتی ہے:
(1) جب تک حالات سازگار ہوں، امر بالمعروف
اور نہی عن المنکر جاری رکھو۔
(2)جب لوگ اپنی رائے کے اس قدر اسیر ہو جائیں
کہ حق سننے کو تیار نہ ہوں، تو اپنے ایمان اور اصلاح کی فکر کرو۔
خود پسندی ایک خطرناک اور ہلاک کرنے والی بیماری ہے۔ یہ
انسان کو محاسبہ سے دور کرتی ہے، نصیحت سے محروم کرتی ہے اور آہستہ آہستہ دل کو
سخت بنا دیتی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہر نیکی کے بعد اللہ تعالیٰ عزوجل کا شکر
ادا کریں اور قبولیت کی دعا کریں۔ اپنی کمزوریوں کو یاد رکھیں۔ دوسروں کی رائے
سنیں۔ اگر دل میں یہ خیال آئے کہ میں بہتر ہوں تو فوراً استغفار کریں۔
Dawateislami