ابو
برہان عبدالرحمن عطاری (درجہ رابعہ جامعۃالمدینہ فیضان رضا ،لاہور،پاکستان)
اسلام ایک
امن پسند دین ہے جو زمین پر فتنہ و فساد، خونریزی اور ناانصافی کی سختی سے نفی
کرتا ہے۔ قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر "فساد فی الارض" (زمین میں
بگاڑ پیدا کرنے) کی مذمت کی گئی ہے اور اسے اللہ کی نافرمانی اور انسانیت کے خلاف
جرم قرار دیا گیا ہے۔
(1)فساد کی ممانعت اور اصلاح کا حکم:اللہ تعالیٰ
نے زمین کو ایک متوازن نظام کے تحت پیدا کیا ہے، لہٰذا اس میں بگاڑ پیدا کرنا اللہ
کی ناراضگی کا باعث ہے۔
وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا
ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد۔(سورۃ
الاعراف، آیت: 56)
(2) فساد پھیلانے والوں سے اللہ کی
ناپسندیدگی:اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا، چاہے وہ کسی بھی صورت میں
ہو۔
وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۶۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا۔ (سورۃ
المائدۃ، آیت: 64)
(3) فسادیوں کی پہچان: دعویٰ اصلاح اور
حقیقتِ فساد:بعض لوگ معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں لیکن خود کو "اصلاح پسند"
ظاہر کرتے ہیں۔ قرآن نے ان کی اس منافقت کو بے نقاب کیا ہے۔
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز
الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو
کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃ
البقرۃ، آیت: 11،12)
(4)زمین پر فساد اور نسل کشی کی مذمت:قرآن نے
ان حکمرانوں اور طاقتور گروہوں کی بھی مذمت کی ہے جو اقتدار ملتے ہی کھیتیوں (معیشت)
اور انسانی نسل کو تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ
فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد
ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔ (سورۃ
البقرۃ، آیت: 205)
(5) فساد فی الارض کی دنیاوی سزا:زمین میں
دہشت گردی، قتل و غارت اور بدامنی پھیلانے والوں کے لیے قرآن نے سخت وعید اور سزا
مقرر کی ہے۔
اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ
اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا
اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ
اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ۔
ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد
کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں
یا اُن کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور
کردئیے جائیں۔ (سورۃالمائدۃ، آیت: 33)
مذکورہ
بالا آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں امن و امان کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ اللہ
تعالیٰ نے زمین کی اصلاح کے بعد اس میں کسی بھی قسم کے بگاڑ، ناانصافی اور ظلم کو
"فساد" قرار دے کر اس کی سخت مذمت فرمائی ہے اور ایسے لوگوں کو دنیا و
آخرت میں خسارے کی نوید سنائی ہے۔
Dawateislami