قرآن مجید  اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم کتاب ہے جو انسان کی ہدایت، کامیابی اور سکونِ قلب کا مکمل دستورِ حیات ہے۔ یہ وہ نور ہے جو تاریکیوں کو مٹاتا ہے، دلوں کو زندہ کرتا ہے اور انسان کو رب کے قریب لے جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِ جَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِترجمہ کنزالایمان: ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری کہ تم لوگوں کو اندھیریوں سے اجالے میں لاؤ۔

یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ قرآن کا مطالعہ انسان کے دل و دماغ سے جہالت و گمراہی کے اندھیروں کو دور کرتا ہے، اور اسے نورِ ایمان عطا کرتا ہے۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠(۸۹)ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے اور ہدایت اور رحمت اور بشارت مسلمانوں کو۔ (النحل: 89)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن مجید محض تلاوت کے لیے نہیں بلکہ غور و فکر، سمجھنے اور عمل کرنے کے لیے نازل ہوا ہے۔ اس کا مطالعہ انسان کو زندگی کے ہر شعبے میں راہِ راست دکھاتا ہے۔

نبیِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔" (صحیح بخاری، حدیث: 5027)

ایک اور حدیث میں فرمایا:"قرآن پڑھا کرو، کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی شفاعت کرے گا۔"(صحیح مسلم، حدیث: 804)

ان احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مطالعۂ قرآن محض ثواب کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی کا راستہ ہے۔ جو شخص قرآن سے جڑ گیا، وہ کبھی گمراہ نہیں ہوتا۔

قرآن کا مطالعہ ہر مسلمان کے لیے لازمی ہے۔ یہ روح کی غذا، عقل کا نور اور دل کا سکون ہے۔ جو اس کتابِ مقدس کو سمجھ کر پڑھے، اس کی زندگی منور ہو جاتی ہے، اور جو اس سے غافل ہو جائے، وہ اندھیروں میں بھٹکتا رہتا ہے۔

قرآنِ کریم وہ واحد کتاب ہے جو انسان کو خالق سے جوڑتی ہے۔ اس کا مطالعہ ایمان کی مضبوطی، اخلاق کی اصلاح، اور آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ روزانہ قرآن مجید کی تلاوت اور تدبر قرآن کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائے۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


قرآن مجید  اللہ ربّ العزت کا وہ کلام ہے جو انسانیت کے لیے آخری اور کامل رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ یہ کتابِ ہدایت صرف ایک مذہبی صحیفہ نہیں بلکہ ایک ایسا جامع نظامِ حیات ہے جو فرد، معاشرہ، اخلاق، معیشت، سیاست اور روحانیت ہر پہلو پر روشنی ڈالتا ہے۔ مگر افسوس کہ آج مسلمان امت میں قرآن سے تعلق کمزور ہو چکا ہے اس کے مطالعہ، تدبر اور فہم کی حقیقی روح کم ہوتی جا رہی ہے۔ یہی وہ محرومی ہے جس نے امتِ مسلمہ کو فکری، اخلاقی اور عملی زوال کی طرف دھکیل دیا ہے۔

قرآن کے مطالعے کی ضرورت

مطالعۂ قرآن ثواب کے حصول کے ساتھ ساتھ انسان کے ذہن و دل کو بیدار کرنے کا ذریعہ ہے۔ قرآن ہمیں سوچنے، سمجھنے اور اپنی زندگی کو درست سمت میں لے جانے کی دعوت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَؕ- ترجمہ کنز الایمان: تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں۔ (پارہ5، سورہ نساء82)

یہ آیت بتاتی ہے کہ قرآن کا مطالعہ محض زبانی تلاوت نہیں بلکہ غور و فکر کے ساتھ سمجھنا اس کا اصل مقصد ہے۔ جب کوئی مسلمان قرآن کو سمجھ کر پڑھتا ہے تو اسے اپنی زندگی کے مسائل کا حقیقی حل اور قلبی سکون دونوں ملتے ہیں۔

مطالعۂ قرآن کی اہمیت

قرآن وہ کتاب ہے جو انسان کو اس کے خالق سے جوڑتی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ زندگی کا مقصد کیا ہے، کامیابی کس چیز میں ہے، اور نجات کا راستہ کون سا ہے۔ قرآن کے بغیر مسلمان کی زندگی ایسے ہے جیسے چراغ کے بغیر رات۔ قرآن کا مطالعہ انسان کو نہ صرف روحانی روشنی دیتا ہے بلکہ اخلاقی بلندی، فکری وضاحت اور عملی توازن بھی عطا کرتا ہے۔

قرآن کے مطالعہ کی ایک اور بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ امت میں وحدت پیدا کرتا ہے۔ مختلف قومیں، زبانیں اور ثقافتیں رکھنے والے مسلمان جب ایک ہی کتاب سے رہنمائی لیتے ہیں تو وہ ایک نظریے اور ایک مقصد کے تحت متحد ہو جاتے ہیں۔

موجودہ دور میں مطالعۂ قرآن کی افادیت

آج کے دور میں، جب مغربی نظریات، مادہ پرستی اور فکری انتشار عام ہے ، مطالعۂ قرآن کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ قرآن ہمیں جدید مسائل کے حل کے لیے ایک متوازن اور عادلانہ نقطۂ نظر دیتا ہے۔ چاہے معاملہ معاشرتی ہو، اقتصادی یا اخلاقی ہو ، قرآن ہر مسئلے کے اصولی حل فراہم کرتا ہے۔

پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! مطالعۂ قرآن کوئی معمولی عمل نہیں، بلکہ یہ ایمان کی تجدید، علم کی بنیاد اور کردار کی تعمیر کا ذریعہ ہے۔ اگر مسلمان دوبارہ قرآن سے اپنا تعلق زندہ کر لیں ، اسے سمجھ کر پڑھیں، اس پر عمل کریں، اور اسے اپنی زندگیوں کا دستور بنا لیں تو یقیناً ان کی فکری اور عملی زندگی میں انقلاب آ سکتا ہے۔

پس، مطالعۂ قرآن ہر مسلمان کے لیے نہ صرف ضرورت ہے بلکہ زندگی کا لازمی فریضہ ہے۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!   قرآن پاک کی تفاسیر کے مطالعہ کرنے کے بہت فوائد ہیں اس میں انسان اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں اور اس کی قدرت کے کمالات میں غور وفکر کرتاہے اور اس سے انسان کے عقائد ونظریات بھی درست رہتے ہیں قرآن مجید کی تلاوت کر کے انسان خوش وخرم ہو جاتا ہے ہر ہر اسلامی بھائیو کو چاہیے کہ ہر روز قرآن مجید کی تلاوت کرنا اپنا معمول بنا لے ہر روز قرآن مجید کی تلاوت کرنی چاہیے قرآن مجید میرے اللہ تبارک وتعالیٰ کا پاک کلام ہے اور یہ میرے آقا ﷺ پر نازل کیا گیا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو قرآن مجید کی تلاوت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ

(1) شفاعت کا ذریعہ: قیامت کے دن قرآن اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرے گا۔

(2) علم و فہم کا دروازہ : مطالعہ قرآن انسان کو دنیا و آخرت کی کامیابی کا علم دیتا ہے یہ انسان کو سوچنے ، سمجھنے اور صحیح فیصلہ کرنے کی قوت دیتا ہے

(3) ہدایت کا سر چشمہ: قرآن ہر انسان کو زندگی کے ہر پہلو میں راہ ہدایت دکھاتا ہے عقیدہ،عبادات ،اخلاق معاملات اور معاشرت ہر پہلو پر تربیت کرتا ہے۔

(4) اللہ سے تعلق مضبوط ہوتا ہے: قرآن کو سمجھ کر پڑھنے سے بندے کا اپنے رب سے تعلق مضبوط ہوتا ہے۔

(5) قلب و روح کا سکون: قرآن کریم کی تلاوت اور اس پر غور انسان کے دل کو سکون اور روح کو اطمینان دیتا ہے ۔

قرآن مجید آسمانی کتابوں میں سے ایک کتاب ہے جو حضور ﷺ پر نازل کی گئی ہے قرآن مجید کی تلاوت کرنے کے احادیث مبارکہ اور سلف وصالحین کے اقوال میں بہت سے فوائد ذکر کیے گئے ہیں۔

اللہ پاک ہمیں عمل کرنےکی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


قرآن مجید  اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ آخری آسمانی کتاب ہے، جو بنی نوع انسان کے لیے مکمل رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ مطالعہ قرآن ایک مسلمان کے لیے نہ صرف عبادت کا درجہ رکھتا ہے بلکہ یہ اس کی دنیاوی اور اخروی زندگی میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے۔ آج کے اس پر آشوب دور میں جب کہ انسانیت گمراہی کے اندھیروں میں بھٹک رہی ہے، قرآن مجید کا مطالعہ اور اس پر عمل پیرا ہونا ہماری نجات کا واحد ذریعہ ہے۔

مطالعہ قرآن کی ضرورت:

مطالعہ قرآن کی ضرورت کو درج ذیل نکات سے سمجھا جا سکتا ہے:

ہدایت کی طلب: انسان فطری طور پر ہدایت کا محتاج ہے۔ وہ اپنی زندگی میں راہ راست کی تلاش میں ہے۔ قرآن مجید وہ کامل ہدایت ہے جو انسان کو صراط مستقیم پر چلنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔

علم حاصل کرنا: قرآن مجید علم کا ایک لازوال خزانہ ہے۔ اس میں تاریخ، سائنس، اخلاقیات، قانون اور معاشرتی علوم سمیت زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق رہنمائی موجود ہے۔ یہ کتاب ہمیں حصول علم کی ترغیب دیتی ہے اور غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔

عبادت کا حصہ: قرآن پاک کو پڑھنا، سمجھنا اور اس پر عمل کرنا عبادت ہے۔ یہ ہمارے رب سے تعلق قائم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے" (بخاری)۔

مطالعہ قرآن کی اہمیت

مطالعہ قرآن کی اہمیت کے چند نمایاں پہلو درج ذیل ہیں:

قرآن مجید ہمیں زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ سکھاتا ہے۔ اس میں ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔ یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ کس طرح ایک کامیاب فرد، کامیاب خاندان اور کامیاب معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

قرآن کا مطالعہ ہمارے اخلاق کو سنوارتا ہے۔ یہ ہمیں صبر، شکر، راست بازی، امانت داری، عدل اور دوسروں کے حقوق کا احترام سکھاتا ہے

قرآن پر عمل کرنے سے ہم دنیا میں بھی کامیاب ہوتے ہیں۔ اس میں کاروبار، معاشرت، خاندانی زندگی اور معاشیات کے بارے میں واضح ہدایات موجود ہیں۔ قرآن ہمیں متوازن زندگی گزارنے کا طریقہ سکھاتا ہے۔

قرآن مجید ہمیں آخرت کی تیاری کا موقع دیتا ہے۔ اس پر عمل کرنے والے کے لیے جنت کی بشارت ہے۔

قرآن کا مطالعہ ذہنی سکون و اطمینان کا باعث بنتا ہے۔ قرآن پاک کی تلاوت اور اس کا تدبر انسان کے دل و دماغ پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔

طریقہ مطالعہ:

مطالعہ قرآن کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ:

روزانہ باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے

ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ پڑھا جائے

غور و فکر سے پڑھا جائے

سمجھے ہوئے احکامات پر عمل کیا جائے

حقیقت یہ ہے کہ مطالعہ قرآن ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ ہمیں چاہیے کہ نہ صرف قرآن پڑھیں بلکہ اسے سمجھیں، اس پر غور کریں اور اس پر عمل کریں۔ روزانہ قرآن کا مطالعہ ہماری زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے اور ہمیں دونوں جہانوں کی کامیابی سے ہمکنار کر سکتا ہے۔ آئیے! ہم عہد کریں کہ قرآن کو اپنی زندگی کا مرکز بنائیں گے اور اس کی تعلیمات کو اپنے عمل سے زندہ کریں گے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن پاک کو سمجھ کر پڑھنے، اس پر غور و فکر کرنے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


قرآن پاک بندوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے ایک بہترین ذریعہ ہے جو بندہ  قرآن پاک پڑھنے میں کثرت کرتا ہے اس کا دل گناہوں سے محفوظ رہتا ہے۔

آئیے قرآن پاک کی اہمیت کے متعلق کچھ پڑھنے کے سعادت حاصل کرتے ہیں :

(1) قرآن وہ نور ہے جو دنیا میں ہدایت دیتا ہے اور آخرت میں شفاعت فرماتا ہے۔ قرآن کا مطالعہ کرنے والا دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہے۔ (فتاویٰ رضویہ' جلد 9' باب' فضائلِ قرآنِ کریم' فصل' شفاعتِ قرآن' صفحہ 341' حدیث نمبر 3)

(2)قرآن کریم پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا بھی چاہیے کہ ربّ العالمین کا کلام ہےجو شخص قرآن کا مطالعہ کرتا ہے وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہوتا ہے۔ (کیمیائے سعادت 'جلد 2' باب'فی تلاوت القرآن' فصل' آدابِ قاری'صفحہ 215)

(3) قرآن نازل ہی اس لیے ہوا کہ انسان اس سے ہدایت حاصل کرے اور اپنے عمل کی راہ درست کرے۔ بغیر مطالعہ و فہم کے قرآن سے ہدایت کا فیض نہیں ملتا۔ (احیاء العلوم' جلد 1' باب' فضائلِ تلاوتِ قرآن' فصل'فوائدِ مطالعہ قرآن' صفحہ64)

(4)قرآنِ کریم دلوں کی زندگی ہے اور اس کا مطالعہ دلوں کی صفائی اور باطنی نورانیت کا سبب بنتا ہے۔(فتاویٰ رضویہ' جلد 23'باب' فضائلِ قرآن' فصل' تلاوت و تدبر' صفحہ 118)

(5) قرآنِ کریم ایمان والوں کے لیے کتابِ ہدایت ہےجو بندہ قرآن کا مطالعہ سمجھ کر کرتا ہے اُس کے ایمان میں مضبوطی اور یقین میں استحکام پیدا ہوتا ہے۔ (احکامِ شریعت' جلد 1' باب ایمان و عقائد'فصل تعظیمِ قرآن مجید ' صفحہ 102)

اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی ہمیں قرآن پاک پڑھنے اس پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


انسان طبعی طور پر مل جل کر رہنے والاہے اور ہر انسان کو اپنی زندگی گزارنے کےلیے خوراک، کپڑوں اور مکان کی جبکہ افزائش نسل کےلیے کسی کی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اللہ پاک پوری انسانیت کی ہدایت و فلاح کے لیے یہ قانون  قرآن مجید کی صورت میں عطا فرمایا جس کی تفسیر اس امت کے علماء نے احادیث رسول و اقوال صحابہ کی روشنی سے ہمارے لیے مزید اس کو سمجھنا آسان بنا دیا۔

(1) نہ جاننے والوں کی مثال :

حضرت اِیاس بن معاویہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: جو لوگ قرآن مجید پڑھتے ہیں اور وہ اس کی تفسیر نہیں جانتے ان کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہے؟ اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی تفسیر جانتاہے اس کی مثال اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط میں لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہوگیا کہ خط میں کیا لکھاہے۔ ( تفسیر قرطبی ، باب ما جاء فی فضل تفسیر القرآن و اھلہ ، جلد نمبر : 1 ، صفحہ نمبر : 41 ، الجزء الاول ، ملخصاً )

(2) غور و فکر کرو :

حضرت عبیدہ ملیکی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع امت ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے قرآن والو ! قرآن کو تکیہ نہ بناؤ ( یعنی سستی اور غفلت نہ برتو) اور رات اور دن میں اس کی تلاوت کرو جیسا تلاوت کرنے کا حق ہے اور جو کچھ اس میں ہے اس پر غور کرو تاکہ تمہیں فلاح ملے، اس کے ثواب میں جلدی نہ کرو کیونکہ اس کا ثواب بہت بڑا ہے۔ ( شعب الايمان التاسع عشر من شعب الايمان --- الخ ، فصل فی ادمان تلاوتہ ، جلد نمبر : 2 ، صفحہ نمبر : 351 ، حدیث نمبر : 2007 ، 2009 ) ( کتاب : قرآن سیکھیں اور سکھائیں ، حصہ اول ، صفحہ نمبر : 6 ، مکتبۃ المدینہ )

(3) تاج پوشی ہوگی :

بروزِ قیامت حافظ کے والدین کو تاج پہنایا جائے گا۔ حضرت سیِّدُنا معاذ جہنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار ﷺ نے فرمایا: جس نے قرآن پڑھا اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کیا، اس کے والدین کو قیامت کے دن ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی اس سورج سے اچھی ہو گی جو دنیا میں تمہارے گھروں کے اندر چمکتا ہے تو خود اس عمل کرنے والے کے متعلق تمہارا کیا گمان ہے۔ ( ابوداود، کتاب الوتر، باب فیِ ثواب قراءۃالقران، جلدنمبر : 2 ، صفحہ نمبر : 100، حدیث: 1453 )

(4) اللہ پاک کا پاکیزہ کلام :

قرآن مجید ، فرقان حمید اللہ رب الانام کا مبارک کلام ہے ، اس کا پڑھنا، پڑھانا اور سننا سنانا سب ثواب کا کام ہے ۔ قرآن پاک کا ایک حرف پڑھنے پر 10 نیکیوں کا ثواب ملتا ہے، چنانچہ اللہ پاک کے آخری نبی ، مکی مدنی ، محمد عربی ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے : جو شخص کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھے گا، اُس کو ایک نیکی ملے گی جو دس نیکیوں کے برابر ہو گی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اللہ ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ، لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے۔ (جامع ترمذی شریف ، جلد نمبر : 4 ، صفحہ نمبر : 417 ، حدیث: 2919) (رسالہ : قرآنی سورتوں کے فضائل ، صفحہ نمبر : 3 ، مکتبۃ المدینہ )

( 5 ) رحمت کا نزول :

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص سورۂ کہف کی تلاوت کر رہا تھا، ان کے گھر میں ایک جانور بندھا ہوا تھا اچانک وہ جانور حرکت کرنے لگا۔ اس شخص نے دیکھا کہ ایک بادل نے اس کو ڈھانپا ہوا ہے اس شخص نے حضور اکرم ﷺ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے فلاں ! تلاوت کیا کرو، کہ یہ سکینہ ہے جو تلاوت قرآن کرتے وقت نازل ہوتا ہے ۔ ( کتاب مسلم شریف ، صفحہ نمبر : 311 ، حدیث نمبر : 1857 ) (رسالہ : قرآنی سورتوں کے فضائل ، صفحہ نمبر : 6 ، مکتبۃ المدینہ )

اللہ پاک ہمیں قرآن کریم کو صحیح طور پر سیکھنے اس پر عمل کرنے اور قرآن پاک کو سمجھ کر پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ 


قرآن مجید  اللہ پاک کا کلام اور اس کی آخری کتاب ہے اللہ پاک نے قرآن مجید کو انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے اپنے پیارے حبیب ﷺ پر نازل فرمایا قرآن مجید دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ قرآن مجید کا مطالعہ محض تلاوت تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ انسان کو چاہیے کہ وہ اس میں غور و فکر تدبر کر کے اس کے احکامات پر عمل پیرا ہو۔ قرآن پاک میں غور و فکر کرنا اعلی درجے کی عبادت ہے۔

چنانچہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے۔ اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَؕ- ترجمہ کنز الایمان: تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں۔ (پارہ5، سورہ نساء82)

اس آیت کریمہ میں قرآن کی عظمت کا بیان ہے اور لوگوں کو اس میں غوروفکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ قرآنِ حکیم میں غور نہیں کرتے اور اس کے عُلوم اور حکمتوں کو نہیں دیکھتے ۔ امام غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ احیاء العُلوم میں فرماتے ہیں کہ ایک آیت سمجھ کر اور غور و فکر کر کے پڑھنا بغیر غور و فکر کئے پورا قرآن پڑھنے سے بہتر ہے ۔(صراط الجنان ج2، ص258)

عقلمند اور سمجھدار لوگ وہ ہیں جو قرآن کا مطالعہ محض تلاوت کے طور پر نہیں کرتے بلکہ اس میں غور و فکر کرتے ہیں زمین آسمان اور دیگر چیزوں میں اللہ کی قدرت کے نظارے تلاش کرتے ہیں۔ جب انسان اللہ کی عجائبات اور اس کی قدرت کے نظاروں میں غور و فکر کرتا ہے تو پھر اللہ تعالی کی عظمت انسان کے دل میں آشکار ہو جاتی ہے پھر انسان اللہ کی بارگاہ میں اس کی رحمت کا سوال کرتا ہے اور دوزخ سے پناہ مانگتا ہے۔

کائنات میں غور و فکر کرنے کا حکم اللہ تعالی نے خود قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:

وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًاۚ-سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ(۱۹۱)

ترجمہ کنزالایمان: اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں اے رب ہمارے تو نے یہ بیکار نہ بنایا پاکی ہے تجھے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔ (پ4، آل عمران : 191)

اس آیت کریمہ میں اللہ پاک انسان کو اپنی تخلیق میں غور و فکر کرنے کا حکم ارشاد فرما رہا ہے۔

ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ قرآنِ مجید کو سمجھ کر اور اس میں بیان کیے گئے احکام، عبرت انگیز واقعات،موت کے وقت کی آفات، گناہگاروں اور کافروں پر ہونے والے جہنم کے عذابات اور نیک مسلمانوں کو ملنے والے جنت کے انعامات وغیرہ میں غورو فکر کرتے ہوئے اس کی تلاوت کرے تاکہ اسے قرآن کریم کی برکتیں حاصل ہوں اور اس کے دل پر اگر گناہوں کی سیاہی غالب آ چکی ہو تو وہ بھی صاف ہو جائے ۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مَا سے روایت ہے، رسولُ اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: ان دلوں میں بھی زنگ لگ جاتا ہے، جس طرح لوہے میں پانی لگنے سے زنگ لگتا ہے۔ عرض کی گئی، یا رسولَ اللہ ! ﷺ ،اس کی جِلا(یعنی صفائی) کس چیز سے ہوگی؟ ارشاد فرمایا ’’کثرت سے موت کو یادکرنے اور تلاوتِ قرآن سے۔ حضرت ابراہیم خواص رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :دل کی دوا پانچ چیزیں ہیں ۔ (1) غورو فکر کرتے ہوئے قرآنِ مجید کی تلاوت کرنا، (2) بھوکا رہنا، (3) رات میں نوافل ادا کرنا، (4) سَحری کے وقت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گریہ وزاری کرنا، (5) نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا۔ (صراط الجنان ج5، ص325)

افسوس صد افسوس آج انسان نے قرآن مجید میں غور و فکر کرنا چھوڑ دیا حتی کہ انسان دنیا کی رنگینیوں میں اس قدر ڈوب چکا ہے کہ غور و فکر کرنا تو دور کی بات وہ تو محض تلاوت کی غرض سے بھی قرآن نہیں کھولتا۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوں تو ہمیں اللہ پاک کی کتاب کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا اور اس میں غور و فکر کرنا ہوگا تاکہ ہم دنیا آخرت کی کامیابی حاصل کر سکیں ۔

اللہ پاک ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


قرآن مجید  اللہ تعالیٰ کی وہ آخری کتاب ہے جو حضور اکرم ﷺ پر نازل ہوئی۔ یہ کتاب انسانیت کے لیے ہدایت کا کامل سرچشمہ ہے۔ ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ دنیا اور آخرت کی کامیابی قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنے ہی میں ہے۔ اسی لیے قرآن پاک کا مطالعہ ہر دور میں مسلمانوں کی سب سے بڑی ضرورت رہا ہے۔

قرآن پاک کے مطالعہ کی سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کے مقصد کا پتا چلتا ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ ہم دنیا میں کھیل تماشے کے لیے نہیں آئے بلکہ ایک بڑی ذمہ داری کے ساتھ بھیجے گئے ہیں۔ یہ کتاب ہمیں نیک و بد میں فرق کرنا سکھاتی ہے، اور یہ سمجھاتی ہے کہ کون سا راستہ ہمیں کامیابی کی طرف لے جائے گا اور کون سا ناکامی کی طرف۔

قرآن کریم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ محض مذہبی کتاب نہیں بلکہ مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اس میں عقائد سے لے کر عبادات تک، اور معاشرت سے لے کر معیشت تک ہر پہلو پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اگر ہم اس کتاب کا مطالعہ کریں تو ہمیں اپنی ذاتی زندگی، خاندان، اور ریاست کے لیے بہترین اصول ملتے ہیں۔

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: خَيْرُكُمْ مَن تَعَلَّمَ القُرْآنَ وعَلَّمَهُ ترجمہ:تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ (صحيح البخاری: 5027 )

اس حدیثِ پاک سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ قرآن پڑھنا اور پڑھانا دونوں ہی اعلیٰ درجے کے اعمال ہیں۔ لیکن صرف تلاوت کافی نہیں بلکہ اس کے معانی اور پیغام کو سمجھنا بھی لازمی ہے۔ قرآن پاک کا مطالعہ کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم اسے سمجھیں اور اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں۔

قرآن پاک کا مطالعہ کرنے کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ یہ انسان کے دل کو سکون بخشتا ہے۔ اور جب دنیا کے مسائل اور پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں تو انسان قرآن پاک پڑھتا ہے تو اسے یقین ،اطمینان ، حوصلہ اور زندگی کے مسائل کا حل ملتا ہے ۔

لہٰذا ضروری ہے کہ ہم قرآن پاک کو ترجمے اور تفسیر کے ساتھ پڑھیں، اس پر غور کریں، اپنی اور دوسروں کی اصلاح کریں۔ یہ کتاب محض عربوں یا کسی خاص قوم کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا نور ہے۔

چنانچہ قرآن پاک کا مطالعہ ہر مسلمان کی بنیادی ضرورت اور سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ روزانہ وقت نکال کر قرآن پاک کی تلاوت اور مطالعہ کریں، اسے سمجھیں اور اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یہی ہماری نجات اور کامیابی کا اصل راستہ ہے۔

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن پاک کا صحیح معنوں سے مطالعہ کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین 

قرآن کریم  اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، جو خالقِ کائنات کی طرف سے نازل ہوا تاکہ انسانیت کو ہدایت کا راستہ دکھائے۔ یہ کتاب روحانی سکون کا سرچشمہ ہے، یعنی جب انسان اسے پڑھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے تو اس کے دل کو اطمینان حاصل ہوتا ہے، بےچینی ختم ہو جاتی ہے، اور دل اللہ کی یاد سے منور ہو جاتا ہے۔

مزید یہ کہ قرآنِ کریم زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے چاہے وہ عبادات کا معاملہ ہو، اخلاق کا، معاشرت کا، یا معاملاتِ زندگی کا۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کے طور پر ہمیں کس طرح جینا چاہیے، دوسروں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا چاہیے، اور اپنے خالق کے ساتھ کس تعلق کو قائم رکھنا چاہیے۔

اگر انسان قرآن سے دور ہو جائے تو اس کی زندگی ادھوری اور بے سمت ہو جاتی ہے۔ یعنی قرآن کے بغیر انسان کے پاس نہ زندگی کا صحیح مقصد رہتا ہے، نہ کوئی روحانی فیض، اور نہ ہی اخلاقی رہنمائی۔ پس قرآنِ کریم وہ نور ہے جو انسان کے دل، دماغ اور کردار کو منور کر کے اسے کامیابی کے راستے پر گامزن کرتا ہے۔

قرآن میں تدبر و غور و فکر کرو:

قرآنِ کریم ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، کہ تم قرآن میں تدبر و غور و فکر کرو۔ اللہ تعالیٰ انسان کو یہ سوچنے، سمجھنے اور گہرائی سے قرآن کے مضامین پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کو صرف زبانی تلاوت تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس کے الفاظ، معانی اور پیغام پر غور کیا جائے تاکہ انسان اس سے ہدایت حاصل کر سکے۔ جیساکہ سورۃ النساء: 82 میں خالقِ کائنات فرماتا ہے :

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَؕ- وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا(۸۲)

ترجمہ کنز الایمان: تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں اور اگر وہ غیر خدا کے پاس سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے۔ (پارہ5، سورہ نساء82)

یعنی لوگوں کو اس میں غوروفکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ کہ لوگ قرآن کو سنتے اور پڑھتے تو ہیں، مگر اس کے معنی اور پیغام پر غور نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ یہ بھی بیان فرماتا ہے کہ اگر قرآن اللہ کے علاوہ کسی اور کا کلام ہوتا، تو اس میں تضاد اور اختلاف پایا جاتا۔ لیکن چونکہ یہ اللہ کا کلام ہے، لہذا اس کے مضامین، احکام اور بیانات آپس میں مکمل طور پر ملتے جلتے اور متضاد نہیں ہیں۔ اور اس میں کوئی اختلاف، تضاد یا ٹکراؤ نہیں پایا جاتا۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم پر تدبر کرنا نہ صرف ایک علمی عمل ہے بلکہ یہ ایمان کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اس طرح قرآن پر تدبر انسان کے دل کو ایمان، عقل کو بصیرت، اور زندگی کو سمت عطا کرتا ہے۔

ایک اور آیت جو قرآنِ کریم کے مقصدِ نزول کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کتاب مبارک ہے، یعنی خیر و برکت سے بھری ہوئی ہے، جو انسان کی زندگی کو دنیا اور آخرت دونوں میں سنوارنے والی ہے۔ قرآن کو نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انسان اس کی آیات میں تدبر کرے یعنی غور و فکر سے اس کے معنی، پیغام اور ہدایات کو سمجھے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور عطا کیا ہے تاکہ وہ قرآن کے پیغام کو سمجھ کر اپنی زندگی میں اس پر عمل کرے۔ جیساکہ سورۃ ص: 29 میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹)

ترجمہ کنزالایمان: یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقل مند نصیحت مانیں۔ (پ23،ص29)

ان الفاظ سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ قرآن ان لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے جو عقل و بصیرت سے کام لیتے ہیں۔ یعنی جو لوگ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ قرآن سے سچی رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔

یوں ان دونوں آیات سے یہ بات خوب واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن محض تلاوت کے لیے نہیں، بلکہ سمجھنے، غور کرنے اور اس کے احکامات کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ جو شخص قرآن کو سمجھ کر اپنی زندگی میں اپناتا ہے، وہی دراصل اس کے فیوض و برکات سے حقیقی طور پر فائدہ اٹھاتا ہے۔

مطالعہ قرآن کی ضرورت کیوں ہے؟

قرآن دراصل انسانیت کے لیے ایک مکمل رہنمائی کا نظام ہے، جو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ زندگی کو اللہ کی مرضی کے مطابق کیسے گزارنا ہے۔ اس کے ذریعے انسان کو حق و باطل، صحیح و غلط، اچھائی و برائی کا واضح فرق معلوم ہوتا ہے۔ قرآن انسان کے کردار کو سنوارتا ہے، اسے اخلاق، صبر، شکر، دیانت داری اور انصاف جیسی اعلیٰ صفات اپنانا سکھاتا ہے۔

اسی مقصد کو مزید واضح کرنے کے لیے نبی کریم ﷺ کا ارشادِ مبارک بیان کرتا ہوں: حضور جان جاناں ﷺ ارشاد فرماتے ہیں خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ترجمہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ ( صحيح البخاري، المتوفی ٢٥٦ھ، كتاب فضائل القرآن، باب نسيان القرآن، بَابٌ: خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ، ج 6، ص 194، حدیث 5027 )

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا علم حاصل کرنا اور دوسروں تک پہنچانا انسان کے لیے سب سے بڑا شرف اور سعادت ہے۔ جو شخص قرآن کو سمجھ کر اس پر عمل کرتا ہے اور پھر دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دیتا ہے، وہ اللہ کے نزدیک سب سے بہترین انسان قرار پاتا ہے۔

لہٰذا، مطالعۂ قرآن کی ضرورت اس لیے ہے کہ یہ ہمیں زندگی کی راہ دکھاتا ہے، کردار کو نکھارتا ہے، دل کو منور کرتا ہے، اور ہمیں اللہ و رسول کے قریب لے جاتا ہے۔ قرآن کا سچا طالب علم نہ صرف خود ہدایت پاتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی ہدایت کا ذریعہ بنتا ہے۔

قرآن حقیقی کامیابی و نورِ ہدایت

قرآن کریم انسان کی حقیقی کامیابی کا ذریعہ ہے، جو اسے دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو کرتا ہے۔ قرآن کا مطالعہ انسان کو روحانی سکون عطا کرتا ہے، دل کے اضطراب کو ختم کرتا ہے، اور اسے اللہ کی رحمت و قرب حاصل کرنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ جب انسان قرآن کے پیغام کو دل سے سنتا اور سمجھتا ہے تو اس کا دل نرم ہو جاتا ہے اور وہ نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے۔

ہماری زندگی مصروفیات، خواہشات اور دنیاوی دوڑ میں الجھ کر رہ گئی ہے۔ اگر ہم قرآن سے غافل ہو جائیں تو ہماری زندگی ایسی بے سمت کشتی کی طرح بن جائے گی جس کا کوئی رہنما نہیں جو سمندر میں بھٹکتی رہتی ہے اور کسی منزل تک نہیں پہنچ پاتی۔

لہٰذا قرآن ہی وہ نور اور رہنمائی ہے جو انسان کو صحیح سمت دکھاتا ہے، اسے اللہ کی رضا، رحمت اور جنت کے راستے پر گامزن کرتا ہے۔ قرآن سے تعلق قائم رکھنا دراصل کامیاب اور پُرسکون زندگی کا راز ہے۔

مطالعہ قرآن سے دوری کی وجوہات اور اس کا حل

ہم میں سے اکثر لوگ قرآن سے غافل اور دور ہو چکے ہیں۔ ہماری زندگیوں میں دنیاوی مشغولیات، مصروفیات، روزمرہ معمولات، اور خاص طور پر سوشل میڈیا نے ہمیں اس قدر الجھا دیا ہے کہ ہم نے قرآن کو اپنی ترجیحات سے تقریباً نکال دیا ہے۔ ہم وقت تو نکالتے ہیں دنیاوی سرگرمیوں، تفریح اور آرام کے لیے، مگر قرآن کے مطالعے کے لیے وقت نہیں نکالتے، حالانکہ یہ کتاب ہماری اصل کامیابی کا ذریعہ ہے۔

قرآن کے بغیر زندگی ادھوری اور بے سمت ہے۔ اگر ہم واقعی سکون، رہنمائی اور کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں قرآن سے اپنا تعلق دوبارہ مضبوط کرنا ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم روزانہ چند منٹ ہی سہی، مگر قرآن کی تلاوت، اس کے ترجمے اور تفسیر پر غور کرنے کے لیے وقت ضرور نکالیں۔ ایسا معمول ہماری زندگی میں روحانیت، اطمینان اور اللہ و رسول ﷺ سے قرب پیدا کرنے کا ذریعہ بنے گا۔ ان شاءاللہ

قرآنِ کریم دراصل اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمت ہے جو انسان کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت اور نور کے راستے پر لے آتی ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے جو انسان کو علم، فہم، اور روحانی بصیرت عطا کرتی ہے ایسی بصیرت جو کسی اور ذریعے سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ اگر کوئی شخص قرآن کو سمجھ کر پڑھے، اس پر غور کرے اور اس کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں شامل کرے تو وہ نہ صرف دنیا میں سکون و اطمینان پاتا ہے بلکہ آخرت میں بھی کامیابی کا مستحق بنتا ہے۔

آخر میں پیغام یہ ہے کہ قرآن پر عمل ہی کامیابی کا حقیقی زینہ ہے۔ جو شخص یا قوم قرآن سے وابستہ ہو جاتی ہے، وہ سیدھی راہ پر چلتی ہے اور اللہ کی رحمتوں میں ڈھک جاتی ہے۔ لہٰذا ہمیں قرآن کو صرف پڑھنے کی نہیں بلکہ اپنی زندگی کا عملی دستور بنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہی راستہ دنیاوی عزت اور اخروی فلاح دونوں کی ضمانت ہے۔

الله تعالی عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


پیارے اسلامی بھائیو!  قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی کتاب ہے جو تمام انسانیت کے لیے ہدایت، رحمت اور روشنی کا ذریعہ ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں دنیا و آخرت کی کامیابی کے تمام اصول بیان کیے گئے ہیں۔قرآن مجید نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ آپ کے سامنے مطالعہ قرآن کی ضرورت واہمیت پیش کرتا ہوں ۔

آج کا انسان دنیاوی ترقی میں تو بہت آگے بڑھ گیا ہے مگر روحانی سکون سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے قرآن سے دوری اختیار کر لی ہے۔ قرآن مجید انسان کو زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے، عقائد، عبادات، اخلاق، معاملات اور معاشرت سب کے اصول اس میں واضح ہیں۔ قرآن کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ زندگی کا مقصد کیا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں کس امتحان کے لیے پیدا فرمایا ہے۔

(1) ہدایت کا سرچشمہ: قرآن وہ کتاب ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتی ہے۔

(2) روحانی سکون: قرآن کی تلاوت اور تدبر دلوں کو اطمینان بخشتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(۲۸) ترجمہ کنزالایمان؛ سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔ (سورۃ الرعد: 28)

(3) عمل کی راہنمائی: قرآن صرف پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ عمل کرنے کے لیے نازل ہوا ہے۔ اس کے احکام پر عمل ہی نجات کا ذریعہ ہے۔

(4) علم و بصیرت کا خزانہ: جو شخص قرآن کا مطالعہ کرتا ہے، وہ دنیا و آخرت کے بارے میں صحیح فہم حاصل کرتا ہے۔

(5) اخلاقی تربیت: قرآن انسان کے کردار کو سنوارتا ہے اور اسے عدل، رحم، سچائی اور صبر کی تعلیم دیتا ہے۔

اگر مسلمان قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کر لیں، اس کے معنی و مفہوم کو سمجھ کر اپنی زندگی میں نافذ کریں تو دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی ان کا مقدر بن سکتی ہے۔ قرآن صرف پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ سمجھنے اور عمل کرنے کے لیے نازل ہوا ہے۔


قرآن مجید  فرقان حمید الله عز وجل کی وہ آخری اور مکمل کتاب ہے جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب ﷺ پر نازل فرمایا۔ یہ وہ مقدس کتاب ہے جس نے بھٹکی ہوئی انسانیت کو سیدھے راستے کی طرف رہنمائی فرمائی اور بے شمار منکرین خدا اور رسول عَزَّ وَجَلَّ و ﷺ اس کلام مجید کی بدولت اسلام قبول کر کے کائنات کے عظیم رہنما بن گئے۔ یہی وہ صحیفہ آسمانی ہے جس کے کروڑوں انسان حفاظ ہیں۔ قرآن مجید ہی وہ کتاب ہے جو ہر قسم کے تغیر وتبدل تحریف و ترمیم کے بغیر موجود ہے۔ اس کو دیکھنا ، چھونا، پڑھنا عبادت ہے۔ اس پر عمل دونوں جہان میں سعادت مندی و کامیابی کا ذریعہ ہے۔

قرآن مجید میں غور و فکر : كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹) ترجمہ کنزالایمان: یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقل مند نصیحت مانیں۔ (پ23،ص29)

حدیث مبارکہ :

قال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُوْمُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ وَ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ أَنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ

ترجمہ: نبی ﷺ نے فرمایا کہ دو آدمیوں کے سوا کسی پر حسد کرنا جائز نہیں۔ ایک وہ آدمی کہ جسے اللہ تعالی نے قرآن مجید عطا فرمایا ہو اور وہ رات دن اس پر عمل کرنے کے ساتھ اس کی تلاوت کرتا ہو اور (دوسرا) وہ آدمی کہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا ہو اور وہ رات اور دن اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کرتا ہو ۔ (صحیح مسلم شریف جلد اول حدیث نمبر 1894)

جب معانی میں غور و فکر نہیں کریں گے تو اس سے نصیحت کیسے حاصل کریں گے ہمارا حال یہ ہے کہ ہمارے پاس اگر عربی زبان میں کسی کمپنی سے کوئی خط آ جائے تو ہم صرف اس کے الفاظ کی تلاوت کرنے پر قناعت نہیں کرتے بلکہ کسی عربی زبان جاننے والے کو تلاش کرتے ہیں اور جب تک ہمیں اس کا معنی نہ معلوم ہو جائے اس وقت تک ہم چین سے نہیں بیٹھتے تو ہم قرآن مجید کے صرف الفاظ کی تلاوت کر کے اس کا معنی اور مطلب سمجھے بغیر کیوں مطمئن ہو جاتے ہیں؟ کیا ہمارے دلوں میں اللہ تعالی کے کلام اور اس کے پیغام کی اتنی بھی قدرت منزلت نہیں ہے جتنی قدرو منزلت کسی کمپنی سے آئے ہوئے مکتوب کی ہوتی ہے یا کسی عزیز کے بھیجے ہوئے ٹیلی گرام کی ہوتی ہے؟

اللہ پاک ہمیں پیغام الہی کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


یہ وہ مقدس کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ پر نازل فرمایا تاکہ انسانیت کو صحیح راستہ دکھائے اور زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرے۔ قرآن کا مطالعہ صرف ایک عبادت ہی نہیں بلکہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے انسان اپنی روحانی، اخلاقی اور علمی صلاحیتوں کو نکھارتا ہے۔

قرآن کا مطالعہ انسان کے دل و دماغ کو پاکیزہ بناتا ہے، اس کے اندر خدا تعالیٰ کے قریب ہونے کا جذبہ پیدا کرتا ہے اور زندگی میں کامیابی و کامرانی کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آج کے دور میں جب کہ دنیا علم و فہم کے سمندر میں ڈوبی ہوئی ہے، قرآن کا مطالعہ ہمیں اپنی اصل ہستی اور مقصدِ حیات کی پہچان کراتا ہے۔ آیئے اب اس کے بارے چند باتوں کا مطالعہ کرتے ہیں:

(1)ايك حرف کی دس نیکیاں :

قرآن مجید فرقان حمید اللہ ربُّ الا نام عَزَّوَجَلَّ کا مُبارَک کلام ہے، اس کا پڑھنا، پڑھانا اور سننا سنانا سب ثواب کا کام ہے۔ قرآن پاک کا ایک حرف پڑھنے پر 10 نیکیوں کا ثواب ملتا ہے، چنانچہ خاتَمُ الْمُرْسَلین ، شفیع الْمُذْنِبين ، رَحمَۃٌ لِلعالمین ﷺ کا فرمان دلنشین ہے: ” جو شخص کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھے گا، اُس کو ایک نیکی ملے گی جو دس کے برابر ہو گی ۔ میں یہ نہیں کہتا اللہ ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حروف ، لام حرف اور میم ایک حرف ہے۔“ ( سُنَن الترمذى ج 4 ص 418 حديث (2919)

(2)قرآن شفاعت کر کے جنت میں لے جائے گا:

حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم، رحمت عالَم ، نُورِ مُجَسَّم ، شاہِ بنی آدم ، رسولِ مُحتشم ﷺ کا فرمان معظم ہے: جس شخص نے قرآن پاک سیکھا اور سکھایا اور جو کچھ قرآن پاک میں ہے اُس پر عمل کیا، قرآن شریف اس کی شفاعت کریگا اور جنت میں لے جائے گا ۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر ج 41 ص 3 ، المُعْجَمُ الكبير للطبراني10 ص 198 حديث 10450)

(3)ایک آیت سکھانے والے کیلئے قیامت تک ثواب:

ذوالنورین ، جامع القرآن حضرت سید نا عثمان ابن عفان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار مدینہ منورہ ، سلطان مکہ مکرمہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے قرآنِ مبین کی ایک آیت سکھائی اس کے لیے سیکھنے والے سے دُگنا ثواب ہے۔ ایک اور حدیث پاک میں حضرت سید نا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ خاتَمُ الْمُرْسَلین ، شفیع الْمُذْنِبين ، رَحمَةٌ لِلعالمین ﷺ فرماتے ہیں: جس نے قرآن عظیم کی ایک آیت سکھائی جب تک اس آیت کی تلاوت ہوتی رہے گی اس کے لیے ثواب جاری رہے گا ۔ (جمع الجوامع ج 7 ص 282 حديث 22455 - 22456)

(4)الله تعالى قیامت تک اَجر بڑھاتا رہتا : ایک حدیث شریف میں ہے: جس شخص نے کتاب اللہ کی ایک آیت یا علم کا ایک باب سکھا یا الله عَزَّ وَجَلَّ تا قیامت اس کا اجر آخرت تک بڑھاتا رہے گا۔(تاريخ دمشق لابن عساكر ج 59 ص 290)

(5)بہترین شخص : نُورِ مُجَسَّم ، رسولِ اکرم، شہنشاہِ بنی آدم ﷺ کا فرمان معظم ہے : خَيْرُ كُمُ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَه یعنی تم میں بہترین شخص وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور دوسروں کو سکھایا۔ (صحیح البخاری ج 3 ص 410 حدیث (5028)

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین