قرآن کریم  اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، جو خالقِ کائنات کی طرف سے نازل ہوا تاکہ انسانیت کو ہدایت کا راستہ دکھائے۔ یہ کتاب روحانی سکون کا سرچشمہ ہے، یعنی جب انسان اسے پڑھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے تو اس کے دل کو اطمینان حاصل ہوتا ہے، بےچینی ختم ہو جاتی ہے، اور دل اللہ کی یاد سے منور ہو جاتا ہے۔

مزید یہ کہ قرآنِ کریم زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے چاہے وہ عبادات کا معاملہ ہو، اخلاق کا، معاشرت کا، یا معاملاتِ زندگی کا۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کے طور پر ہمیں کس طرح جینا چاہیے، دوسروں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا چاہیے، اور اپنے خالق کے ساتھ کس تعلق کو قائم رکھنا چاہیے۔

اگر انسان قرآن سے دور ہو جائے تو اس کی زندگی ادھوری اور بے سمت ہو جاتی ہے۔ یعنی قرآن کے بغیر انسان کے پاس نہ زندگی کا صحیح مقصد رہتا ہے، نہ کوئی روحانی فیض، اور نہ ہی اخلاقی رہنمائی۔ پس قرآنِ کریم وہ نور ہے جو انسان کے دل، دماغ اور کردار کو منور کر کے اسے کامیابی کے راستے پر گامزن کرتا ہے۔

قرآن میں تدبر و غور و فکر کرو:

قرآنِ کریم ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، کہ تم قرآن میں تدبر و غور و فکر کرو۔ اللہ تعالیٰ انسان کو یہ سوچنے، سمجھنے اور گہرائی سے قرآن کے مضامین پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کو صرف زبانی تلاوت تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس کے الفاظ، معانی اور پیغام پر غور کیا جائے تاکہ انسان اس سے ہدایت حاصل کر سکے۔ جیساکہ سورۃ النساء: 82 میں خالقِ کائنات فرماتا ہے :

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَؕ- وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا(۸۲)

ترجمہ کنز الایمان: تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں اور اگر وہ غیر خدا کے پاس سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے۔ (پارہ5، سورہ نساء82)

یعنی لوگوں کو اس میں غوروفکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ کہ لوگ قرآن کو سنتے اور پڑھتے تو ہیں، مگر اس کے معنی اور پیغام پر غور نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ یہ بھی بیان فرماتا ہے کہ اگر قرآن اللہ کے علاوہ کسی اور کا کلام ہوتا، تو اس میں تضاد اور اختلاف پایا جاتا۔ لیکن چونکہ یہ اللہ کا کلام ہے، لہذا اس کے مضامین، احکام اور بیانات آپس میں مکمل طور پر ملتے جلتے اور متضاد نہیں ہیں۔ اور اس میں کوئی اختلاف، تضاد یا ٹکراؤ نہیں پایا جاتا۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم پر تدبر کرنا نہ صرف ایک علمی عمل ہے بلکہ یہ ایمان کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اس طرح قرآن پر تدبر انسان کے دل کو ایمان، عقل کو بصیرت، اور زندگی کو سمت عطا کرتا ہے۔

ایک اور آیت جو قرآنِ کریم کے مقصدِ نزول کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کتاب مبارک ہے، یعنی خیر و برکت سے بھری ہوئی ہے، جو انسان کی زندگی کو دنیا اور آخرت دونوں میں سنوارنے والی ہے۔ قرآن کو نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انسان اس کی آیات میں تدبر کرے یعنی غور و فکر سے اس کے معنی، پیغام اور ہدایات کو سمجھے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور عطا کیا ہے تاکہ وہ قرآن کے پیغام کو سمجھ کر اپنی زندگی میں اس پر عمل کرے۔ جیساکہ سورۃ ص: 29 میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹)

ترجمہ کنزالایمان: یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقل مند نصیحت مانیں۔ (پ23،ص29)

ان الفاظ سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ قرآن ان لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے جو عقل و بصیرت سے کام لیتے ہیں۔ یعنی جو لوگ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ قرآن سے سچی رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔

یوں ان دونوں آیات سے یہ بات خوب واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن محض تلاوت کے لیے نہیں، بلکہ سمجھنے، غور کرنے اور اس کے احکامات کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ جو شخص قرآن کو سمجھ کر اپنی زندگی میں اپناتا ہے، وہی دراصل اس کے فیوض و برکات سے حقیقی طور پر فائدہ اٹھاتا ہے۔

مطالعہ قرآن کی ضرورت کیوں ہے؟

قرآن دراصل انسانیت کے لیے ایک مکمل رہنمائی کا نظام ہے، جو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ زندگی کو اللہ کی مرضی کے مطابق کیسے گزارنا ہے۔ اس کے ذریعے انسان کو حق و باطل، صحیح و غلط، اچھائی و برائی کا واضح فرق معلوم ہوتا ہے۔ قرآن انسان کے کردار کو سنوارتا ہے، اسے اخلاق، صبر، شکر، دیانت داری اور انصاف جیسی اعلیٰ صفات اپنانا سکھاتا ہے۔

اسی مقصد کو مزید واضح کرنے کے لیے نبی کریم ﷺ کا ارشادِ مبارک بیان کرتا ہوں: حضور جان جاناں ﷺ ارشاد فرماتے ہیں خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ترجمہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ ( صحيح البخاري، المتوفی ٢٥٦ھ، كتاب فضائل القرآن، باب نسيان القرآن، بَابٌ: خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ، ج 6، ص 194، حدیث 5027 )

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا علم حاصل کرنا اور دوسروں تک پہنچانا انسان کے لیے سب سے بڑا شرف اور سعادت ہے۔ جو شخص قرآن کو سمجھ کر اس پر عمل کرتا ہے اور پھر دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دیتا ہے، وہ اللہ کے نزدیک سب سے بہترین انسان قرار پاتا ہے۔

لہٰذا، مطالعۂ قرآن کی ضرورت اس لیے ہے کہ یہ ہمیں زندگی کی راہ دکھاتا ہے، کردار کو نکھارتا ہے، دل کو منور کرتا ہے، اور ہمیں اللہ و رسول کے قریب لے جاتا ہے۔ قرآن کا سچا طالب علم نہ صرف خود ہدایت پاتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی ہدایت کا ذریعہ بنتا ہے۔

قرآن حقیقی کامیابی و نورِ ہدایت

قرآن کریم انسان کی حقیقی کامیابی کا ذریعہ ہے، جو اسے دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو کرتا ہے۔ قرآن کا مطالعہ انسان کو روحانی سکون عطا کرتا ہے، دل کے اضطراب کو ختم کرتا ہے، اور اسے اللہ کی رحمت و قرب حاصل کرنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ جب انسان قرآن کے پیغام کو دل سے سنتا اور سمجھتا ہے تو اس کا دل نرم ہو جاتا ہے اور وہ نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے۔

ہماری زندگی مصروفیات، خواہشات اور دنیاوی دوڑ میں الجھ کر رہ گئی ہے۔ اگر ہم قرآن سے غافل ہو جائیں تو ہماری زندگی ایسی بے سمت کشتی کی طرح بن جائے گی جس کا کوئی رہنما نہیں جو سمندر میں بھٹکتی رہتی ہے اور کسی منزل تک نہیں پہنچ پاتی۔

لہٰذا قرآن ہی وہ نور اور رہنمائی ہے جو انسان کو صحیح سمت دکھاتا ہے، اسے اللہ کی رضا، رحمت اور جنت کے راستے پر گامزن کرتا ہے۔ قرآن سے تعلق قائم رکھنا دراصل کامیاب اور پُرسکون زندگی کا راز ہے۔

مطالعہ قرآن سے دوری کی وجوہات اور اس کا حل

ہم میں سے اکثر لوگ قرآن سے غافل اور دور ہو چکے ہیں۔ ہماری زندگیوں میں دنیاوی مشغولیات، مصروفیات، روزمرہ معمولات، اور خاص طور پر سوشل میڈیا نے ہمیں اس قدر الجھا دیا ہے کہ ہم نے قرآن کو اپنی ترجیحات سے تقریباً نکال دیا ہے۔ ہم وقت تو نکالتے ہیں دنیاوی سرگرمیوں، تفریح اور آرام کے لیے، مگر قرآن کے مطالعے کے لیے وقت نہیں نکالتے، حالانکہ یہ کتاب ہماری اصل کامیابی کا ذریعہ ہے۔

قرآن کے بغیر زندگی ادھوری اور بے سمت ہے۔ اگر ہم واقعی سکون، رہنمائی اور کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں قرآن سے اپنا تعلق دوبارہ مضبوط کرنا ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم روزانہ چند منٹ ہی سہی، مگر قرآن کی تلاوت، اس کے ترجمے اور تفسیر پر غور کرنے کے لیے وقت ضرور نکالیں۔ ایسا معمول ہماری زندگی میں روحانیت، اطمینان اور اللہ و رسول ﷺ سے قرب پیدا کرنے کا ذریعہ بنے گا۔ ان شاءاللہ

قرآنِ کریم دراصل اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمت ہے جو انسان کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت اور نور کے راستے پر لے آتی ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے جو انسان کو علم، فہم، اور روحانی بصیرت عطا کرتی ہے ایسی بصیرت جو کسی اور ذریعے سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ اگر کوئی شخص قرآن کو سمجھ کر پڑھے، اس پر غور کرے اور اس کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں شامل کرے تو وہ نہ صرف دنیا میں سکون و اطمینان پاتا ہے بلکہ آخرت میں بھی کامیابی کا مستحق بنتا ہے۔

آخر میں پیغام یہ ہے کہ قرآن پر عمل ہی کامیابی کا حقیقی زینہ ہے۔ جو شخص یا قوم قرآن سے وابستہ ہو جاتی ہے، وہ سیدھی راہ پر چلتی ہے اور اللہ کی رحمتوں میں ڈھک جاتی ہے۔ لہٰذا ہمیں قرآن کو صرف پڑھنے کی نہیں بلکہ اپنی زندگی کا عملی دستور بنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہی راستہ دنیاوی عزت اور اخروی فلاح دونوں کی ضمانت ہے۔

الله تعالی عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


پیارے اسلامی بھائیو!  قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی کتاب ہے جو تمام انسانیت کے لیے ہدایت، رحمت اور روشنی کا ذریعہ ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں دنیا و آخرت کی کامیابی کے تمام اصول بیان کیے گئے ہیں۔قرآن مجید نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ آپ کے سامنے مطالعہ قرآن کی ضرورت واہمیت پیش کرتا ہوں ۔

آج کا انسان دنیاوی ترقی میں تو بہت آگے بڑھ گیا ہے مگر روحانی سکون سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے قرآن سے دوری اختیار کر لی ہے۔ قرآن مجید انسان کو زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے، عقائد، عبادات، اخلاق، معاملات اور معاشرت سب کے اصول اس میں واضح ہیں۔ قرآن کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ زندگی کا مقصد کیا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں کس امتحان کے لیے پیدا فرمایا ہے۔

(1) ہدایت کا سرچشمہ: قرآن وہ کتاب ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتی ہے۔

(2) روحانی سکون: قرآن کی تلاوت اور تدبر دلوں کو اطمینان بخشتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(۲۸) ترجمہ کنزالایمان؛ سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔ (سورۃ الرعد: 28)

(3) عمل کی راہنمائی: قرآن صرف پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ عمل کرنے کے لیے نازل ہوا ہے۔ اس کے احکام پر عمل ہی نجات کا ذریعہ ہے۔

(4) علم و بصیرت کا خزانہ: جو شخص قرآن کا مطالعہ کرتا ہے، وہ دنیا و آخرت کے بارے میں صحیح فہم حاصل کرتا ہے۔

(5) اخلاقی تربیت: قرآن انسان کے کردار کو سنوارتا ہے اور اسے عدل، رحم، سچائی اور صبر کی تعلیم دیتا ہے۔

اگر مسلمان قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کر لیں، اس کے معنی و مفہوم کو سمجھ کر اپنی زندگی میں نافذ کریں تو دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی ان کا مقدر بن سکتی ہے۔ قرآن صرف پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ سمجھنے اور عمل کرنے کے لیے نازل ہوا ہے۔


قرآن مجید  فرقان حمید الله عز وجل کی وہ آخری اور مکمل کتاب ہے جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب ﷺ پر نازل فرمایا۔ یہ وہ مقدس کتاب ہے جس نے بھٹکی ہوئی انسانیت کو سیدھے راستے کی طرف رہنمائی فرمائی اور بے شمار منکرین خدا اور رسول عَزَّ وَجَلَّ و ﷺ اس کلام مجید کی بدولت اسلام قبول کر کے کائنات کے عظیم رہنما بن گئے۔ یہی وہ صحیفہ آسمانی ہے جس کے کروڑوں انسان حفاظ ہیں۔ قرآن مجید ہی وہ کتاب ہے جو ہر قسم کے تغیر وتبدل تحریف و ترمیم کے بغیر موجود ہے۔ اس کو دیکھنا ، چھونا، پڑھنا عبادت ہے۔ اس پر عمل دونوں جہان میں سعادت مندی و کامیابی کا ذریعہ ہے۔

قرآن مجید میں غور و فکر : كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹) ترجمہ کنزالایمان: یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقل مند نصیحت مانیں۔ (پ23،ص29)

حدیث مبارکہ :

قال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُوْمُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ وَ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ أَنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ

ترجمہ: نبی ﷺ نے فرمایا کہ دو آدمیوں کے سوا کسی پر حسد کرنا جائز نہیں۔ ایک وہ آدمی کہ جسے اللہ تعالی نے قرآن مجید عطا فرمایا ہو اور وہ رات دن اس پر عمل کرنے کے ساتھ اس کی تلاوت کرتا ہو اور (دوسرا) وہ آدمی کہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا ہو اور وہ رات اور دن اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کرتا ہو ۔ (صحیح مسلم شریف جلد اول حدیث نمبر 1894)

جب معانی میں غور و فکر نہیں کریں گے تو اس سے نصیحت کیسے حاصل کریں گے ہمارا حال یہ ہے کہ ہمارے پاس اگر عربی زبان میں کسی کمپنی سے کوئی خط آ جائے تو ہم صرف اس کے الفاظ کی تلاوت کرنے پر قناعت نہیں کرتے بلکہ کسی عربی زبان جاننے والے کو تلاش کرتے ہیں اور جب تک ہمیں اس کا معنی نہ معلوم ہو جائے اس وقت تک ہم چین سے نہیں بیٹھتے تو ہم قرآن مجید کے صرف الفاظ کی تلاوت کر کے اس کا معنی اور مطلب سمجھے بغیر کیوں مطمئن ہو جاتے ہیں؟ کیا ہمارے دلوں میں اللہ تعالی کے کلام اور اس کے پیغام کی اتنی بھی قدرت منزلت نہیں ہے جتنی قدرو منزلت کسی کمپنی سے آئے ہوئے مکتوب کی ہوتی ہے یا کسی عزیز کے بھیجے ہوئے ٹیلی گرام کی ہوتی ہے؟

اللہ پاک ہمیں پیغام الہی کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


یہ وہ مقدس کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ پر نازل فرمایا تاکہ انسانیت کو صحیح راستہ دکھائے اور زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرے۔ قرآن کا مطالعہ صرف ایک عبادت ہی نہیں بلکہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے انسان اپنی روحانی، اخلاقی اور علمی صلاحیتوں کو نکھارتا ہے۔

قرآن کا مطالعہ انسان کے دل و دماغ کو پاکیزہ بناتا ہے، اس کے اندر خدا تعالیٰ کے قریب ہونے کا جذبہ پیدا کرتا ہے اور زندگی میں کامیابی و کامرانی کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آج کے دور میں جب کہ دنیا علم و فہم کے سمندر میں ڈوبی ہوئی ہے، قرآن کا مطالعہ ہمیں اپنی اصل ہستی اور مقصدِ حیات کی پہچان کراتا ہے۔ آیئے اب اس کے بارے چند باتوں کا مطالعہ کرتے ہیں:

(1)ايك حرف کی دس نیکیاں :

قرآن مجید فرقان حمید اللہ ربُّ الا نام عَزَّوَجَلَّ کا مُبارَک کلام ہے، اس کا پڑھنا، پڑھانا اور سننا سنانا سب ثواب کا کام ہے۔ قرآن پاک کا ایک حرف پڑھنے پر 10 نیکیوں کا ثواب ملتا ہے، چنانچہ خاتَمُ الْمُرْسَلین ، شفیع الْمُذْنِبين ، رَحمَۃٌ لِلعالمین ﷺ کا فرمان دلنشین ہے: ” جو شخص کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھے گا، اُس کو ایک نیکی ملے گی جو دس کے برابر ہو گی ۔ میں یہ نہیں کہتا اللہ ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حروف ، لام حرف اور میم ایک حرف ہے۔“ ( سُنَن الترمذى ج 4 ص 418 حديث (2919)

(2)قرآن شفاعت کر کے جنت میں لے جائے گا:

حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم، رحمت عالَم ، نُورِ مُجَسَّم ، شاہِ بنی آدم ، رسولِ مُحتشم ﷺ کا فرمان معظم ہے: جس شخص نے قرآن پاک سیکھا اور سکھایا اور جو کچھ قرآن پاک میں ہے اُس پر عمل کیا، قرآن شریف اس کی شفاعت کریگا اور جنت میں لے جائے گا ۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر ج 41 ص 3 ، المُعْجَمُ الكبير للطبراني10 ص 198 حديث 10450)

(3)ایک آیت سکھانے والے کیلئے قیامت تک ثواب:

ذوالنورین ، جامع القرآن حضرت سید نا عثمان ابن عفان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار مدینہ منورہ ، سلطان مکہ مکرمہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے قرآنِ مبین کی ایک آیت سکھائی اس کے لیے سیکھنے والے سے دُگنا ثواب ہے۔ ایک اور حدیث پاک میں حضرت سید نا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ خاتَمُ الْمُرْسَلین ، شفیع الْمُذْنِبين ، رَحمَةٌ لِلعالمین ﷺ فرماتے ہیں: جس نے قرآن عظیم کی ایک آیت سکھائی جب تک اس آیت کی تلاوت ہوتی رہے گی اس کے لیے ثواب جاری رہے گا ۔ (جمع الجوامع ج 7 ص 282 حديث 22455 - 22456)

(4)الله تعالى قیامت تک اَجر بڑھاتا رہتا : ایک حدیث شریف میں ہے: جس شخص نے کتاب اللہ کی ایک آیت یا علم کا ایک باب سکھا یا الله عَزَّ وَجَلَّ تا قیامت اس کا اجر آخرت تک بڑھاتا رہے گا۔(تاريخ دمشق لابن عساكر ج 59 ص 290)

(5)بہترین شخص : نُورِ مُجَسَّم ، رسولِ اکرم، شہنشاہِ بنی آدم ﷺ کا فرمان معظم ہے : خَيْرُ كُمُ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَه یعنی تم میں بہترین شخص وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور دوسروں کو سکھایا۔ (صحیح البخاری ج 3 ص 410 حدیث (5028)

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین 


آیئے مطالعہ قرآن کی اہمیت و ضرورت کے متعلق  چند آیات مبارکہ اور چند احادیث مبارکہ پڑھتے ہیں:

(1) قرآن پاک الله عَزَّ وَ جَل کی مضبوط رسی ہے:

الله عز و جل ارشاد فرماتا ہے : وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا۪- ترجمہ کنزالایمان: اور اللہ کی رسّی مضبوط تھام لو سب مل کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا (فرقوں میں بٹ نہ جانا)۔ (پ 4 ، آل عمران : 103)

الله عَزَّ وَ جَل کی رسی سے کیا مراد ہے؟ مذکورہ آیت مبارکہ میں ''حبل اللہ'' یعنی الله عَزَّ وَ جَل کی رسی سے مراد یا تو دین اسلام ہے یا قرآن مجید جیسا کہ سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صلی اللہ علی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے کہ الْقُرْآنُ حَبْلُ اللَّهِ الْمَتِينُ یعنی قرآن پاک الله عَزَّ وَ جَل کی مضبوط رسی ہے۔“ (ما خوذ من جامع الترمذى ابواب فضائل القرآن، باب ماجاء في فضل القرآن الحديث : 2906 ، ص 1943)

(2) قرآن مجید ہر بھلائی اور اصلاح کی طرف بلاتا ہے:

الله عزو جل ارشاد فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِۙ۬-وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ(۵۷)

ترجمہ کنزالایمان: اے لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی اور دلوں کی صحت اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لیے۔(پ11 يونس : 57)

وعظ کی تعریف و مفہوم :

حضرت سیدنا امام خازن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (متوفی 741ھ) اس حصہ آیت مَوْعِظَةٌ مِنْ رَّبِّكُمُ یعنی تمہارے رب کی طرف سے نصیحت کے تحت فرماتے ہیں کہ مَوْعِظَةٌ سے مراد قرآن مجید ہے اور وعظ کہتے ہیں ایسی ڈانٹ ڈ پٹ کو جس میں ڈرانا پایا جائے۔ چنانچہ امام خلیل نحوی کہتے ہیں : ” وعظ ، خیر کی ایسی باتیں یاد دلانے کو کہتے ہیں جن سے دل نرم پڑ جائے ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” وعظ ایسی بات کی طرف رہنمائی کرنے کو کہتے ہیں جو بطریقہ رغبت و ڈر اصلاح کی طرف بلائے اور قرآن مجید اسی طریقہ سے ہر بھلائی اور اصلاح کی طرف بلاتا ہے۔(تفسیر الخازن پ11 یونس آیت نمبر 57 جلد 2 صفحہ نمبر 320)

(3) قرآن پاک کے احکام و اعمال کو بجالانا ہے:

الله عز و جل ارشاد فرماتا ہے: وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ(۱۵۵) اور یہ برکت والی کتاب ہم نے اتاری تو اس کی پیروی کرو اور پرہیزگاری کرو کہ تم پر رحم ہو۔ (سورۃ الانعام: 155)

اتباع قرآن کریم کا فائدہ:

حضرت سیدنا امام بیضاوی علیہ رحمۃ اللہ القوی (متوفی685ھ ) لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ “ کی تفسیر میں فرماتے ہیں : قرآن مجید کی پیروی کے واسطے سے تم پر رحم کیا جائے گا اور اس کی پیروی سے مراد قرآن پاک میں موجود احکام و اعمال کو بجالابا ہے۔“ (اصلاح اعمال جلد اول صفحہ نمبر 243)

(4)تم کبھی گمراہ اور ہلاک نہ ہو گے :

حضرت سید نا ابو شریح رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ ایک بار تاجدار مدینہ، قرار قلب وسینہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: کیا تم گواہی نہیں دیتے کہ اللہ عز و جل کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں الله عَزَّ وَ جَل کا رسول ( ﷺ ) ہوں؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے عرض کی : " کیوں نہیں ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ” بے شک اس قرآن پاک کی ایک طرف اللہ عز و جل کے بے مثل ہاتھ میں ہے اور دوسری طرف تمہارے ہاتھوں میں ہے، بس اس کو مضبوطی سے پکڑے رہو تم کبھی گمراہ اور ہلاک نہ ہو گے ۔“ (المعجم الكبير ، الحديث : 491 ، ج 22 ، ص 188)

(5) قرآن مجید شفاعت کرے گا:

حضرت سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤوف رحیم ﷺ کا فرمان عالی شان ہے: " قرآن مجید شفاعت کرے گا اور اس کی شفاعت قبول کی جائے گی اور وہ باعمل قاری ( کی شفاعت ) کے لئے جھگڑا کرے گا اور اس کی تصدیق کی جائے گی تو جس نے اس کو اپنا امام بنالیا (یعنی اس کی اتباع کی ) یہ اُسے جنت لے جائے گا اور جس نے اسے پس پشت ڈال دیا یہ اسے جہنم میں لے جائے گا۔ (الإحسان بترتيب صحيح ابن حبان كتاب العلم ، باب الزجر عن كتبۃ المر الخ، الحديث : 124 ، ج 1 ، ص 167، بدون شافع)

اللہ پاک سے دعا ہے اللہ پاک ہمیں قرآن پاک پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ امین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


اللہ تعالی نے اپنی عبادت کے لیے انسانوں کو پیدا فرمایا پھر انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا پھر کچھ انبیاء کرام پر صحیفے اور آسمانی کتابیں نازل فرمائیں ۔ چار آسمانی کتابیں نازل فرمائیں  جن میں قرآن مجید چوتھی آسمانی اور آخری کتاب ہے اس کے بعد کوئی آسمانی کتاب نازل نہ ہوئی قرآن مجید میں اللہ تعالی نے ہر چیز کا ذکر فرمایا ، اللہ تعالی نے قرآن مجید کو انسانوں کی رہنمائی ہدایت کے لیے نازل فرمایا، قرآن مجید مسلمان کے ایمان کا لازمی جزو ہے جو اس کا انکار کرے وہ کافر ہے کیونکہ قرآن مجید ہی واحد ایسی کتاب ہے جس سے ہمیں اللہ تعالی کا قرب اور معرفت حاصل ہو سکتی ہے آج ہم مطالعہ قرآن کی اہمیت ضرورت کے بارے میں پڑھتے ہیں:

قرآن پاک غور و فکر کے لیے نازل ہوا: كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹) ترجمہ کنزالایمان: یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقل مند نصیحت مانیں۔ (پ23،ص29)

قران کا مطالعہ انسانوں کے لیےہدایت کا راستہ: ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْهِ ۚۛ-هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ(۲) ترجمہ کنزالایمان: وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو ۔ (سورۃ البقرہ: 2)

‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ قَالَ:‏‏‏‏ وَأَقْرَأَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي إِمْرَةِ عُثْمَانَ حَتَّى كَانَ الْحَجَّاجُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَذَاكَ الَّذِي أَقْعَدَنِي مَقْعَدِي هَذَا

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے۔ سعد بن عبیدہ نے بیان کیا کہ ابوعبدالرحمٰن سلمی نے لوگوں کو عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت سے حجاج بن یوسف کے عراق کے گورنر ہونے تک قرآن مجید کی تعلیم دی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ یہی حدیث ہے جس نے مجھے اس جگہ ( قرآن مجید پڑھانے کے لیے) بٹھا رکھا ہے۔(صحیح بخاری، کتاب: فضائل قرآن، باب: اس شخص کا سب سے بہتر ہونے کا بیان جو قرآن کریم سیکھے یا کسی کو سکھائے، حدیث نمبر: 5027،حدیث نمبر: 5027 )

يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ :‏‏‏‏ مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، ‏‏‏‏‏‏لَا أَقُولُ الم حَرْفٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ

ترجمہ: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا اسے اس کے بدلے ایک نیکی ملے گی، اور ایک نیکی دس گنا بڑھا دی جائے گی، میں نہیں کہتا الم ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے ۔ (جامع ترمذی، کتاب: فضائل قرآن کا بیان، باب: قرآن میں سے ایک حرف پڑھنے کا اجر، حدیث نمبر: 2910،حدیث نمبر: 2910 )

بیان کردہ قرآنی آیت سے قرآن مطالعہ کی اہمیت واضح ہوئی کہ قرآن مجید میں کوئی شک کی جگہ نہیں اور یہ پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے جب کہ حدیث پاک میں اس کے بے شمار فضائل بیان ہوئے ہیں کہ بہترین شخص وہ ہے جو قران کا مطالعہ کرے سمجھے اور دوسروں کو سمجھائے بلکہ قرآنی مطالعہ ایک جگہ یہاں تک فرمایا گیا کہ جو قرآن مجید کا ایک حرف پڑھے اس کے لیے دس نیکیاں ہیں ۔

لہذا ہمیں قرآن مجید کا مطالعہ پورے ذوق و شوق سے کرنا چاہیے تاکہ ہم اسے سمجھیں عمل کریں دوسروں کو عمل کروائیں اس میں ہمارا دنیا اور آخرت دونوں کا فائدہ ہے۔ دنیا میں ہم اللہ تعالی کی عبادت کر سکتے ہیں حرام اور حلال کی پہچان کر سکتے ہیں اور آخرت میں قرآن مجید ہماری شفاعت کا ذریعہ بنے گی اور ہمیں جنت میں لے جائے گی اللہ تعالی ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

قرآن کریم رب تعالیٰ کا کلام ہے جو کہ اس نے اپنے بندے خاص حضور  آخری نبی محمد عربی ﷺ پر نازل کیا قرآن کریم کا ہر ہر حرف علم و حکمت رہنمائی اور سر چشمہ ہدایت ہی ہدایت ہے لیکن قرآن سے اسی وقت ہدایت لی جا سکتی ہے کہ جب اسے پڑھا جائے اور اس کی آیات میں غور و فکر کیا جائے جس طرح رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹)

ترجمہ کنزالایمان: یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقل مند نصیحت مانیں۔ (پ23،ص29)

اس آیت کے تحت مفتی محمد قاسم صاحب لکھتے ہیں: قرآنِ پاک کی آیات سے دینی اَحکام نکالنا ہر ایک کاکام نہیں : قرآنِ پاک کی آیات سے نصیحت تو ہر ایک حاصل کرسکتا ہے لیکن اس سے دینی اَحکام نکالنااور اس کی باریکیوں تک رسائی حاصل کرنا ہر ایک کاکام نہیں بلکہ صرف ان کا کام ہے جو اعلیٰ درجے کی دینی عقل رکھتے ہیں یعنی ماہرعلماء اور خاص طور پر مُجتہدین ا س منصب کے اہل ہیں ، عوام کو چاہیے کہ قرآنِ پاک سے دینی مسائل نکالنے کی بجائے علماء سے مسائل سیکھیں تاکہ غلطیوں سے بچ سکیں۔

بہترین شخص کون ہے :

قرآن پاک پڑھنے کی ترغیب تو ہمیں خود رسول اللہ ﷺ نے دلائی ہے جس طرح حدیث مبارکہ میں ہے: عَنْ عُثْمَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہ ﷺ خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہُ‘‘۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ تم میں بہترین شخص وہ ہے جس نے قرآن کو سیکھا اور دوسروں کو سکھایا۔(انوار الحديث، حدیث نمبر : 48 )

قرآن پڑھنے سے کیا ملتا ہے :

1: قرآن پڑھنا اعمال میں اضافے کا سبب ہے کہ ہر ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں اعمال نامے میں لکھی جاتی ہیں۔

2: قرآن پڑھنے سے اللہ رسول عزوجل و ﷺ کا قرب ملتا ہے ۔ قرآن کلام ہے رب تعالیٰ کا اور جب بندہ قرآن پڑھتا ہے تو گویا کہ وہ رب تعالیٰ سے ہم کلام ہوتا ہے ۔

3: قرآن پڑھنے سے روح کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے : اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(۲۸) ترجمہ کنزالایمان؛ سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔ (سورۃ الرعد: 28)

تو جتنا قرآن پڑھا جائے گا اتنا ہی دل نرم ہوتا جائے گا۔

مطالعہ قرآن نہ کرنے کے نقصانات

1: دین کی تعلیمات سے دوری پیدا کرتا ہے جس وجہ سے

2: آخرت میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

3: بے سکونی و بے قراری پیدا کرتا ہے

4: دل کی سختی اور راہ حق سے دوری کا سبب بنتا ہے

5: اخلاقی زوال کی بوچھاڑ کا باعث بنتا ہے

6: نیکیوں میں کمی، اور برکت کے اٹھ جانے کا باعث بنتا ہے

8: موت میں تنگی اور ایمان کے کمزور ہونے کا سبب بنتا ہے

9: سب سے بڑھ کر یہ کے بندے کے لیے رب کی رحمت سے دوری ہو جاتی ہے اور پھر آفات اور اندھیرے اسے گھیر لیتے ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ اللہ سے لو لگائے رکھیں جس کا ایک طریقہ بکثرت قرآن پاک کی تلاوت بھی ہے، اللہ تعالی ہمیں قرآن پڑھنے اور کی تعلیمات کو سیکھ کر عمل کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ


قرآن مجید ، اللہ تعالیٰ کا وہ عظیم اور بابرکت کلام ہے جو پوری انسانیت کے لیے ہدایت، علم، حکمت اور روشنی کا سر چشمہ ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو انسان کو خالقِ کائنات سے جوڑتی ہے اور اسے مقصدِ زندگی سے آگاہ کرتی ہے۔ مطالعۂ قرآن دراصل بندگیِ خداوندی کا پہلا زینہ ہے۔ کیونکہ جب بندہ قرآن کو سمجھنے اور اس پر غور کرنے لگتا ہے تو اس کے دل میں ایمان کی روشنی پیدا ہوتی ہے، اور وہ اللہ کے قریب ہو جاتا ہے۔

قرآن، علم و ہدایت کا منبع:

قرآن کا مطالعہ محض دینی فریضہ نہیں بلکہ ایک فکری اور روحانی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے بارے میں فرمایا:

هٰذَا بَصَآىٕرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ(۲۰)ترجمہ کنزالایمان: یہ لوگوں کی آنکھیں کھولنا ہے اور ایمان والوں کے لیے ہدایت و رحمت ۔(سورۃ الجاثیہ: 20)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ قرآن کا مطالعہ زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ چاہے وہ اخلاق ہو یا سیاست، معیشت ہو یا معاشرت، قرآن ہر میدان میں توازن اور عدل کی تعلیم دیتا ہے۔

مطالعہ قرآن کا انسان کی شخصیت پر اثر:

جو شخص قرآن کو سمجھ کر پڑھتا ہے، اس کی سوچ پاکیزہ ہو جاتی ہے، اخلاق سنور جاتے ہیں، اور زندگی کے فیصلوں میں بصیرت پیدا ہوتی ہے۔ مطالعۂ قرآن دل سے تکبر، حسد، لالچ، اور نفرت جیسے امراض کو ختم کر دیتا ہے، اور انسان کو عاجزی، صبر، محبت اور تقویٰ کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اللہ ربّ العزت کا وہ عظیم کلام ہے جو انسانیت کے لیے ہدایت، رحمت اور نجات کا سرچشمہ ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ مطالعۂ قرآن کا مقصد محض الفاظ کی تلاوت نہیں، بلکہ ان کے معانی و مفاہیم پر غور و تدبّر کرنا، اور انہیں اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا ہے۔ یہی مطالعہ دراصل انسان کے دل و دماغ کو منور کرتا ہے اور روحانی سکون کا باعث بنتا ہے۔

قرآن کے مطالعہ کی دینی فضیلت:

اللہ پاک نے قرآن مجید فرقان حمید کے اندر ارشاد فرمایا:ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ ﶈ فِیْهِ ۚۛ-هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ (۲) ترجمہ کنزالایمان: وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو ۔ (سورۃ البقرہ: 2)

قرآن مجید کی تلاوت اور اس پر غور و فکر کرنے والے بندے اللہ کے خاص قرب کے حقدار بنتے ہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے بہترین وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔" (بخاری شریف)

قرآن کے الفاظ کی تلاوت پر ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں ملتی ہیں، اور جو شخص قرآن کو سمجھ کر پڑھتا ہے، اس کے دل میں ایمان کی جڑیں مضبوط ہو جاتی ہیں۔ یہ کتاب انسان کو شرک، جہالت، ظلم، حسد اور گناہوں کی تاریکی سے نکال کر ایمان، علم، عدل اور نیکی کی روشنی میں لے جاتی ہے۔

قرآن کے مطالعہ کے دنیاوی فوائد:

مطالعۂ قرآن صرف آخرت کی نجات کا ذریعہ نہیں بلکہ دنیاوی زندگی کو کامیاب بنانے کا بھی بہترین نسخہ ہے۔ قرآن انسان کو تحمل، انصاف، ایمانداری، صبر، شکر اور اخوت کی تعلیم دیتا ہے۔ جو شخص قرآن کے احکامات پر عمل کرتا ہے، اس کی شخصیت سنور جاتی ہے، اس کا کردار مضبوط ہوتا ہے، اور اس کے معاملات میں برکت پیدا ہوتی ہے۔

قرآن کا مطالعہ دل کی گھبراہٹ کو سکون میں بدل دیتا ہے۔ آج کی تیز رفتار اور اضطرابی دنیا میں قرآن سے تعلق وہ واحد ذریعہ ہے جو انسان کو ذہنی و روحانی اطمینان بخشتا ہے۔

اسی لیے اللہ پاک ایک اور جگہ قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے: اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ (۲۸) ترجمہ کنزالایمان؛ سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔ (سورۃ الرعد: 28)

مطالعہ قرآن کی افادیت:

قرآن کا مطالعہ صرف زبان تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ ہم اس کے پیغام کو سمجھیں، اپنی زندگی میں نافذ کریں، اور دوسروں تک پہنچائیں۔ اگر مسلمان قرآن کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔

مطالعۂ قرآن انسان کو دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی عطا کرتا ہے۔ یہ کتاب ہر دور کے لیے ہدایت ہے، ہر انسان کے لیے پیغامِ زندگی ہے، اور ہر دل کے لیے سکون کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ قرآن کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کرے، اسے سمجھے، اس پر عمل کرے، اور دوسروں کو بھی اس کی طرف دعوت دے ۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


قرآن مجید  اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم کتاب ہے جو انسانیت کی ہدایت کے لیے نازل کی گئی۔ یہ کتاب نہ صرف مسلمانوں کے لیے ایک ضابطۂ حیات ہے، بلکہ پوری انسانیت کے لیے روشنی اور نجات کا ذریعہ ہے۔ مطالعۂ قرآن کا مقصد صرف اس کی تلاوت کرنا نہیں، بلکہ اسے سمجھنا، اس پر غور کرنا اور اپنی زندگی میں اس کے احکامات کو نافذ کرنا بھی ہے۔

آئیے مطالعہ قران کے بارے اہمیت کے بارے میں پڑھتے ہیں:

(1)قرآن ہدایت ہے : قرآن مجید ہدایت کا سرچشمہ ہے، اور اس کا مطالعہ انسان کو سیدھا راستہ دکھاتا ہے ۔ قرآن کی تعلیمات زندگی کے ہر پہلو کو روشن کرتی ہیں، خواہ وہ عقائد ہوں، عبادات، اخلاقیات، معاشرت یا معاملات۔

هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ ترجمہ کنزالایمان : ہدایت ہے ڈر والوں کو ۔ (سورة بقرہ آیت نمبر 2)

(2)قرآن میں غورفکر کرنا: قرآن صرف عربی زبان میں پڑھنے کے لیے نہیں نازل ہوا، بلکہ اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹)ترجمہ کنزالایمان: یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقل مند نصیحت مانیں۔ (پ23،ص29)

(3)ايک حرف دس نیکیوں کے برابر:

قرآن مجید فرقان حمید اللہ ربُّ الا نام عَزَّوَجَلَّ کا مُبارَک کلام ہے، اس کا پڑھنا، پڑھانا اور سننا سنانا سب ثواب کا کام ہے۔ قرآن پاک کا ایک حرف پڑھنے پر 10 نیکیوں کا ثواب ملتا ہے، چنانچہ خاتَمُ الْمُرْسَلین ، شفیع الْمُذْنِبين ، رَحمَۃ لِلعالمین ﷺ کا فرمان دلنشین ہے: ” جو شخص کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھے گا، اُس کو ایک نیکی ملے گی جو دس کے برابر ہو گی ۔ میں یہ نہیں کہتا اللہ ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حروف ، لام حرف اور میم ایک حرف ہے۔“ ( سُنَن الترمذى ج 4 ص 418 حديث (2919)

(4)قرآن شفاعت کر کے جنت میں لے جائے گا:

حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم، رحمت عالَم ، نُورِ مُجَسَّم ، شاہِ بنی آدم ، رسولِ مُحتشم ﷺ کا فرمان معظم ہے: جس شخص نے قرآن پاک سیکھا اور سکھایا اور جو کچھ قرآن پاک میں ہے اُس پر عمل کیا، قرآن شریف اس کی شفاعت کریگا اور جنت میں لے جائے گا ۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر ج 41 ص 3 ، المُعْجَمُ الكبير للطبراني10 ص 198 حديث 10450)

(5)ایک آیت سکھانے والے کیلئے قیامت تک ثواب:

ذوالنورین ، جامع القرآن حضرت سید نا عثمان ابن عفان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار مدینہ منورہ ، سلطان مکہ مکرمہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے قرآنِ مبین کی ایک آیت سکھائی اس کے لیے سیکھنے والے سے دُگنا ثواب ہے۔ ایک اور حدیث پاک میں حضرت سید نا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ خاتَمُ الْمُرْسَلین ، شفیع الْمُذْنِبين ، رَحمۃ لِلعالمین ﷺ فرماتے ہیں: جس نے قرآن عظیم کی ایک آیت سکھائی جب تک اس آیت کی تلاوت ہوتی رہے گی اس کے لیے ثواب جاری رہے گا ۔ (جمع الجوامع ج 7 ص 282 حديث 22455 - 22456)

پیارے اسلامی بھائیو! تلاوت قرآن کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے معانی، پیغام اور مقصد کو بھی سمجھنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن کو ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ پڑھیں، تاکہ ہم اس کی تعلیمات کو سمجھ سکیں اور اپنی زندگیوں میں نافذ کر سکیں۔اگر ہم دنیا اور آخرت میں کامیابی چاہتے ہیں، تو ہمیں قرآن سے مضبوط تعلق قائم کرنا ہوگا۔ قرآن کو وقت دیں، اسے سمجھیں، اور اس پر عمل کریں، یہی ہماری نجات کا راستہ ہے۔

اللہ عزوجل ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


قراٰنِ کریم ربِّ کائنات کی طرف سے نازل ہونے والا ایسا دستورِ حیات ہے جو انسانیّت کے لیے ہدایت، رَحمت اور ‏روشنی ‏کا سرچشمہ ہے۔ یہ محض ایک مذہبی کتاب نہیں بلکہ عدل و انصاف، اخلاق و کردار اور فلاحِ انسانیّت کا کامل منشور ہے۔ ہماری ‏‏دنیاوی و اُخروی کامیابی اسی کتاب سے مضبوط تعلّق رکھنے میں پوشیدہ ہے۔

قراٰنِ کریم کا مطالعہ صرف الفاظ کی تلاوت نہیں بلکہ روح کی غذا اور دل کے اطمینان کا ذریعہ ہے۔ یہ ہمیں مقصدِ حیات ‏سمجھاتا، ‏کردار سنوارتا اور ظلمتوں میں راہِ ہدایت دکھاتا ہے۔ جب ہم غور و تدبر سے قراٰن کو پڑھتے ہیں تو گویا اپنے خالق سے ‏ہم کلام ہوتے ‏ہیں۔ اس کا نور دل کے اندھیروں کو مٹا دیتا ہے اور ہمیں صحیح راستے پر چلنے کی توفیق بخشتا ہے تاکہ ہم دنیا کی ‏حقیقت سمجھ کر آخرت کی ‏کامیابی کے لیے تیّار ہو سکیں۔

تدبّر کا حکم‏:‏ قراٰنِ کریم خود اپنے مطالعہ کرنے والوں کو صرف تلاوت تک محدود رہنے کا نہیں کہتا، بلکہ گہرے غور و فکر، ‏تدبّر اور تفکّر کی دعوت ‏دیتا ہے۔ ‏ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَؕ﴾ ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا غور نہیں کرتے ‏قرآن میں۔ (پ 5، النسآء: 82)‏

صراطُ الجنان میں ہے:اس سے معلوم ہوا کہ قرآن میں غور و فکر کرنا اعلیٰ درجے کی عِبادت ہے۔ امام ‏غزالی‏ رحمۃُ اللہِ علیہ ‏احیاء العُلوم‎ ‎میں فرماتے ہیں کہ ایک آیت سمجھ کر اور غور و فکر کر کے پڑھنا بغیر غور و فکر کئے پورا قرآن ‏پڑھنے سے بہتر ہے۔ ‏‏(صراط الجنان، 2/258)‏

حضرت اِیاس بن مُعاویہ‎ ‎رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: جو لوگ قرآنِ مجید‎ ‎پڑھتے ہیں اور ‏وہ تفسیر‎ ‎نہیں جانتے ان کی مثال‎ ‎ان ‏لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے ‏پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس ‏خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہے؟ ‏اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس ‏کی تفسیر جانتاہے اس کی مثال اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو ‏انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط ‏میں لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہوگیا کہ خط میں کیا لکھاہے۔‏(صراط الجنان، 1/34) ‏

مطالعۂ قراٰن کی ضَرورت کیوں ہے؟

‏(1) ہدایت کا واحد ذریعہ:ہماری زندَگی میں بے شمار چیلنجز اور سوالات ہوتے ہیں۔ قراٰنِ کریم ہمیں ہر مسئلے میں صحیح راہ ‏دکھاتا ہے، حلال ‏و حرام کی تمیز سکھاتا اور ہمیں زندَگی کے ہر شعبے میں راہنمائی فراہم کرتا ہے۔

‏(2) اخلاقی تربیَت:قراٰنِ پاک بہترین اخلاق کی تعلیم دیتا ہے، جیسے سچّائی، امانت داری، عفو و درگزر، عدل و انصاف اور ‏دوسروں کے ‏ساتھ حسنِ سلوک، مطالعۂ قراٰن سے ہم اپنے اخلاق کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

‏(3) ذہنی سکون اور قلبی اطمینان:‏دنیا کی بے چینیوں اور پریشانیوں کے بیچ، قراٰن کے مطالعہ سے دلوں کو سکون ملتا ہے۔ ‏اللہ تعالیٰ ‏فرماتا ہے:﴿اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(۲۸)﴾ ترجمۂ کنزالایمان: سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔ (پ13، الرعد: ‏‏28)‏

‏(4) تاریخی واقعات اور عبرتیں:قراٰن سابقہ اَقوام کے واقعات بیان کرتا ہے تاکہ ہم ان سے عبرت حاصل کریں اور ‏ان کی غلطیوں سے ‏بچیں۔

‏(5) سائنس اور کائنات کے رازوں کی طرف اشارے: ‏قراٰن میں کائنات، انسان کی تخلیق اور قدرتی مظاہر کے بارے ‏میں ایسے ‏اشارے ملتے ہیں جو سائنسی تحقیقات کی بنیاد بنے۔

‏(6) شیطان کے ہتھکنڈوں سے بچاؤ:قراٰن کا علم ہمیں حق و باطل میں تمیز سکھاتا ہے اور شیطان کے وسوسوں اور فریب ‏سے بچنے میں ‏مدد دیتا ہے۔

آج ضَرورت اس بات کی ہے کہ ہم قراٰن کو صرف بَرکت کے لیے نہ پڑھیں بلکہ سمجھ کر اپنی زندگیوں کا حصّہ بنائیں۔ ‏روزانہ ‏چند آیات پڑھنے اور ان پر غور کرنے کی عادت بنائیں۔ قراٰنِ کریم سے تعلّق ہی دلوں کو زندہ کرتا، معاشرے کو ‏سنوارتا اور ‏اُمّت کو متّحد کرتا ہے۔ اگر ہم نے قراٰن سے دوری ختم نہ کی تو ہم روشنی کے بجائے اندھیروں میں بھٹکتے رہیں ‏گے۔

یاد رکھیں! قراٰن ایک زندہ معجزہ ہے، جو ہماری مُردہ روحوں کو نئی زندگی بخش سکتا ہے۔ اس پر تدبّر کرنا اور اس کے ‏احکامات پر ‏عمل کرنا ہی ہماری دنیا اور آخِرت کی کامیابی کا ضامن ہے۔

اللہ پاک ہمیں قراٰنِ پاک پڑھ کر، سمجھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ‏