انسان طبعی طور پر مل جل کر رہنے والاہے اور ہر انسان کو اپنی زندگی گزارنے کےلیے خوراک، کپڑوں اور مکان کی جبکہ افزائش نسل کےلیے کسی کی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اللہ پاک پوری انسانیت کی ہدایت و فلاح کے لیے یہ قانون  قرآن مجید کی صورت میں عطا فرمایا جس کی تفسیر اس امت کے علماء نے احادیث رسول و اقوال صحابہ کی روشنی سے ہمارے لیے مزید اس کو سمجھنا آسان بنا دیا۔

(1) نہ جاننے والوں کی مثال :

حضرت اِیاس بن معاویہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: جو لوگ قرآن مجید پڑھتے ہیں اور وہ اس کی تفسیر نہیں جانتے ان کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہے؟ اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی تفسیر جانتاہے اس کی مثال اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط میں لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہوگیا کہ خط میں کیا لکھاہے۔ ( تفسیر قرطبی ، باب ما جاء فی فضل تفسیر القرآن و اھلہ ، جلد نمبر : 1 ، صفحہ نمبر : 41 ، الجزء الاول ، ملخصاً )

(2) غور و فکر کرو :

حضرت عبیدہ ملیکی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع امت ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے قرآن والو ! قرآن کو تکیہ نہ بناؤ ( یعنی سستی اور غفلت نہ برتو) اور رات اور دن میں اس کی تلاوت کرو جیسا تلاوت کرنے کا حق ہے اور جو کچھ اس میں ہے اس پر غور کرو تاکہ تمہیں فلاح ملے، اس کے ثواب میں جلدی نہ کرو کیونکہ اس کا ثواب بہت بڑا ہے۔ ( شعب الايمان التاسع عشر من شعب الايمان --- الخ ، فصل فی ادمان تلاوتہ ، جلد نمبر : 2 ، صفحہ نمبر : 351 ، حدیث نمبر : 2007 ، 2009 ) ( کتاب : قرآن سیکھیں اور سکھائیں ، حصہ اول ، صفحہ نمبر : 6 ، مکتبۃ المدینہ )

(3) تاج پوشی ہوگی :

بروزِ قیامت حافظ کے والدین کو تاج پہنایا جائے گا۔ حضرت سیِّدُنا معاذ جہنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار ﷺ نے فرمایا: جس نے قرآن پڑھا اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کیا، اس کے والدین کو قیامت کے دن ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی اس سورج سے اچھی ہو گی جو دنیا میں تمہارے گھروں کے اندر چمکتا ہے تو خود اس عمل کرنے والے کے متعلق تمہارا کیا گمان ہے۔ ( ابوداود، کتاب الوتر، باب فیِ ثواب قراءۃالقران، جلدنمبر : 2 ، صفحہ نمبر : 100، حدیث: 1453 )

(4) اللہ پاک کا پاکیزہ کلام :

قرآن مجید ، فرقان حمید اللہ رب الانام کا مبارک کلام ہے ، اس کا پڑھنا، پڑھانا اور سننا سنانا سب ثواب کا کام ہے ۔ قرآن پاک کا ایک حرف پڑھنے پر 10 نیکیوں کا ثواب ملتا ہے، چنانچہ اللہ پاک کے آخری نبی ، مکی مدنی ، محمد عربی ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے : جو شخص کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھے گا، اُس کو ایک نیکی ملے گی جو دس نیکیوں کے برابر ہو گی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اللہ ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ، لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے۔ (جامع ترمذی شریف ، جلد نمبر : 4 ، صفحہ نمبر : 417 ، حدیث: 2919) (رسالہ : قرآنی سورتوں کے فضائل ، صفحہ نمبر : 3 ، مکتبۃ المدینہ )

( 5 ) رحمت کا نزول :

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص سورۂ کہف کی تلاوت کر رہا تھا، ان کے گھر میں ایک جانور بندھا ہوا تھا اچانک وہ جانور حرکت کرنے لگا۔ اس شخص نے دیکھا کہ ایک بادل نے اس کو ڈھانپا ہوا ہے اس شخص نے حضور اکرم ﷺ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے فلاں ! تلاوت کیا کرو، کہ یہ سکینہ ہے جو تلاوت قرآن کرتے وقت نازل ہوتا ہے ۔ ( کتاب مسلم شریف ، صفحہ نمبر : 311 ، حدیث نمبر : 1857 ) (رسالہ : قرآنی سورتوں کے فضائل ، صفحہ نمبر : 6 ، مکتبۃ المدینہ )

اللہ پاک ہمیں قرآن کریم کو صحیح طور پر سیکھنے اس پر عمل کرنے اور قرآن پاک کو سمجھ کر پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ