محدود آمدنی اور گھر کا بجٹ از بنت محمد اشرف، جامعۃ
المدینہ معراج کے سیالکوٹ
دینِ اسلام کی
بے شمار خصوصیات ہیں ان میں سے ایک خصوصیت میانہ روی (اعتدال) بھی ہے خرچ میں
میانہ روی کرنے کو کفایت شعاری کہا جاتا ہے دین اسلام ہمیں ہر چیز میں میانہ روی اختیار
کرنے کا درس دیتا ہے چاہے اس کا تعلق کمانے سے ہو یہاں کھانے سے یا لباس پہننے
نوافل ادا کرنے یا عبادات کرنے میں بھی میانہ روی کا درس دیتا ہے۔
فرمان مصطفی ﷺ
ہیں: جو شخص میانہ روی اختیار کرتا ہے اللہ پاک اسے مالدار بنا دیتا ہے اور جو
فضول خرچی کرتا ہے اللہ پاک اس سے محتاج کر دیتا ہے۔ (مسند بزار،3/161، حدیث: 946)
اخراجات:
ہمیں
اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے نہ تو فضول خرچی میں ہمیں اپنی آمدنی خرچ کرنی
چاہیے اور نہ ہمیں جس جگہ پر خرچ کرنے کا حق ہے وہاں خرچ نہ کر کے کنجوسی کرنی
چاہیے، بلکہ ہمیں میانہ روی کو اپنانا چاہیے اور سادگی اور صبر سے کام لینا چاہیے۔
اللہ پاک سورہ
بنی اسرائیل کی آیت نمبر 29 میں ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ
مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ
مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا(۲۹) (پ 15، الاسراء: 29) ترجمہ: اور اپنا
ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ ہی اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دے، کہ بعد
میں ملامت زدہ اور حسرت زدہ بیٹھا رہ جائے۔
اس آیت کے تحت
مفتی قاسم صاحب اپنی تفسیر صراط الجنان میں لکھتے ہیں: خرچ میں اعتدال کو ملحوظ
رکھنے کا کہا گیا ہے اور اسے ایک مثال سے سمجھایا گیا ہے کہ نہ تو اپنا ہاتھ اس
طرح روک لو کہ خرچ ہی نہ کرو، اور نہ ہی اپنا ہاتھ اس طرح کھلا چھوڑ دو کہ اپنی
ضروریات کے لیے کچھ نہ بچے۔
نبی کریم ﷺ نے
کم آمدنی میں گھریلو اخراجات کے حوالے سے کئی ارشادات فرمائے ہیں ان میں سے ایک
مشہور حدیث یہ ہے: خرچ میں میانہ روی نصف زندگی ہے۔
لازمی
اخراجات:
جب آپ کو تنخواہ یا مہینے کا خرچ موصول ہو تو سب سے پہلے 50 فیصد ان چیزوں کے لیے
مختص کریں جو اپ کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ مثلا گھر کا کرایہ، بجلی کا بل،گیس کا
بل،وغیرہ۔ان کا شمار اہم کاموں میں ہوتا ہے۔اس کے علاوہ گھر کا راشن آفس آنے جانے
کا کرایا بچوں کی فیس بھی گھر کے ضروری اخراجات میں شامل ہیں۔ان تمام اہم کاموں کا
حساب لگائیں اور دیکھیں کیا آپ کی آمدنی کا 50 فیصد ان ضروری اخراجات میں جا رہا
ہے یا نہیں۔اگر آپ کے لیے اخراجات 50 فیصد سے زیادہ ہیں تو اس بات کا جائزہ لیں کہ
کہاں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔
مثلاً اگر آپ کے
راشن میں بہت زیادہ مشروبات اور غیر ضروری چیزیں شامل ہیں تو آپ انہیں کم کر سکتی
ہیں اگر دفتر آنے جانے میں رکشا کا کرایا زیادہ ہے تو ہفتے میں تین سے چار بار بس
کا استعمال کریں۔اسی طرح چند تبدیلیاں کر کے اپنے لازمی اخراجات کو پورا کریں۔
آمدنی کے بجٹ
کے اصول کی ایک مثال: فرض کیجیے ٹیکس کے بعد آپ کی تنخواہ یا آمدنی بیس ہزار روپے
ہے تو آپ اگر 20، 30، 50 کا اصول استعمال کر کے خرچ کریں گے تو آپ کو
بیس ہزار کا 50 فیصد یعنی دس ہزار روپے ضروری اخراجات کے لیے مختص کرنے ہوں گے اس
کے علاوہ 30 فیصد یعنی 12 ہزار روپے اپنے ان اخراجات کے لیے مختص کرنے ہوں گے جو آپ
کے لیے بہت ضروری نہیں ہے مگر آپ کے لطف اور مزے کے لیے ضروری ہیں اور 30 فیصد
یعنی 8 ہزار قرض کی ادائیگی یا بچت کے لیے مختص کرنے ہوں گے خواتین اس اصول کو
یقینی بنا کر پریشانی سے نجات حاصل کر سکتی ہیں۔
اس کا مطلب یہ
ہے کہ یعنی خوشحال وہی شخص رہتا ہے جسے کمانے کے ساتھ خرچ کرنے کا بھی طریقہ آتا
ہو کیونکہ کمانا تو سب کو آتا ہے لیکن خرچ کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ (مراۃ
المناجیح، 6/634)
پیاری پیاری
اسلامی بہنو! ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اخراجات کا جائزہ لیں اور جو فضول یا زائد چیز
نظر آئے تو اسے اپنے اخراجات سے نکال دیں اور جو صحیح معلوم ہو اسے باقی رکھیں پھر
ہمیں اپنے سے اوپر والوں کو نہیں دیکھنا چاہیے کہ اس کے پاس تو گاڑی ہے اور میرے
پاس موٹر سائیکل بھی نہیں اس کے پاس تو اپنا ذاتی گھر ہے اور میرے پاس تو ذاتی گھر
بھی نہیں ہمیں ایسی سوچ نہیں رکھنی بلکہ ہمیں اپنے سے نیچے والوں کو دیکھ کر اللہ
کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ کتنے لوگ ایسے بھی ہیں جن کے پاس کھانے کو عزت نہیں اور
نہ ہی پہننے کو کپڑے ہیں۔
ان شاءاللہ
ایسا کرنے سے میانہ روی کرنے،جو ہے اسی پر صبر کرنے کا جذبہ ملے گا اور ہمیں چاہیے
کہ ہم جس حال میں بھی ہیں اللہ پاک کا شکر ادا کریں۔
فرمان مصطفی ﷺ
ہے :جو شخص میانہ روی اختیار کرتا ہے اللہ پاک اسے مالدار بنا دیتا ہے اور جو فضول
خرچی کرتا ہے اللہ پاک اسے محتاج کر دیتا ہے۔ (مسند بزار، 3/161، حدیث: 946)
Dawateislami