اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو نہایت خوبصورتی اور توازن
کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ انسان کو اس زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا گیا تاکہ وہ
عدل، انصاف اور بھلائی کو فروغ دے۔ مگر جب انسان اپنی ذمہ داریوں کو بھول جاتا ہے
اور ظلم، ناانصافی، اور برائی کو اختیار کرتا ہے تو زمین میں فساد پھیلتا ہے۔
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر"فساد فی الارض" کی مذمت
فرمائی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا
ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد۔(الاعراف:56)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ زمین کو اللہ تعالیٰ نے درست
نظام کے ساتھ بنایا، لیکن انسان کے غلط اعمال اس نظام کو بگاڑ دیتے ہیں۔ فساد فی
الارض کا مطلب صرف جنگ و جدل نہیں بلکہ ہر وہ عمل ہے جو معاشرے، ماحول یا انسانیت
کے لیے نقصان دہ ہو۔
فساد کی
کئی صورتیں ہیں: مثلاً ظلم و زیادتی، رشوت، دھوکہ دہی، ناانصافی،
قتل و غارت، اور حقوق العباد کی پامالی یہ فساد کی اقسام میں شامل ہیں۔ اسی طرح
ماحول کو نقصان پہنچانا، درخت کاٹنا، پانی کو آلودہ کرنا بھی جدید دور کے فساد میں
شمار ہوتا ہے۔
قرآنِ پاک میں ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)
ترجمہ کنز الایمان: بے شک اللہ فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔ (القصص:77)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ فساد اللہ تعالیٰ کو سخت
ناپسند ہے۔ جو لوگ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہ اللہ کی رحمت سے دور ہو جاتے ہیں۔
اس کے برعکس جو لوگ اصلاح کرتے ہیں، انصاف قائم کرتے ہیں اور لوگوں کے درمیان
بھلائی پھیلاتے ہیں، وہ اللہ کے پسندیدہ بندے ہوتے ہیں۔
آج کے دور میں فساد کی شکلیں مزید پیچیدہ ہو چکی ہیں۔
سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلانا، لوگوں کی عزت اچھالنا، نفرت انگیز باتیں کرنا بھی
فساد کی جدید صورتیں ہیں۔ اسی طرح معاشی بدعنوانی، ذخیرہ اندوزی، اور غریبوں کا حق
مارنا بھی معاشرتی فساد ہے۔اسلام ہمیں فساد سے بچنے اور اصلاح کی تعلیم دیتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم سچ بولیں، انصاف کریں، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں، اور معاشرے
میں امن و محبت کو فروغ دیں۔ اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے تو معاشرہ خود
بخود بہتر ہو سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ فساد فی الارض ایک سنگین گناہ
ہے جس کے نتائج دنیا اور آخرت دونوں میں نقصان دہ ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآنِ پاک
کی تعلیمات پر عمل کریں اور زمین پر امن، عدل اور بھلائی قائم کرنے کی کوشش کریں۔
Dawateislami