اللہ تعالی نے ہمیں اس دنیا میں بھیجا اور بھیجنے کا مقصد بھی بیان فرمایا اور ساتھ ہی ساتھ بہت سے احکام اتارے اور کافی کاموں سے منع بھی فرمایا جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانا اور اس معاملے میں کثیر آیات وارد ہوئی ہیں ۔ ان آیات میں سے چند درج ذیل ہیں۔

(1)الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷)

ترجمۂ کنزالایمان:وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے ہیں اس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی نقصان میں ہیں۔ (پ1،سورة البقرة،آیت27)

(2)وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶) ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے بے شک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے ۔(پ8، سورة الاعراف،آیت56)

(3) وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۸۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور اے میری قوم ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو۔ (پ12،سورةهود ،آیت 85)

(4) وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)

ترجمۂ کنزالعرفان: اور جب پیٹھ پھیرکر جاتا ہے توکوشش کرتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور کھیت اور مویشی ہلاک کرے اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ (پ2،سورة البقرة،آیت205)

(5) وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جو اللہ کا عہد اسے پختہ کرنے کے بعد توڑدیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کیلئے لعنت ہی ہے اور اُن کیلئے برا گھر ہے۔ (پ13،سورة رعد،آیت 25)


فساد ایک ایسی بری چیز ہے کہ اس کے برا ہونے کو خود قرآن نے بیان فرمایا اور اس کے نقصانات اور طرح طرح کی خرابیوں پر آگاہ کیا ہے۔ قرآن میں ہے کہ فساد پھیلانا منافقین کی بری صفات میں سے ایک صفت ہے۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)

ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ (پ1، البقرۃ، آیت 11)

فساد کو روکنے کے لیے قرآن کریم میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے:وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو۔ (پ8 ، الاعراف ،آیت 56)

لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک، گناہ اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔

فساد کی ایک ایسی صورت بیان کی گئی کہ جس میں وہ لوگ نیکیاں بھی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ فساد بھی مگر قرآن نے ان کے فساد کو ان کی نیکی پر زیادہ واضح کیا ارشاد قرآنی :

‏ الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ(۱۵۲)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور بناؤ نہیں کرتے۔ (پ،19الشعراء،152)

قرآن کریم میں فساد پھیلانے والوں کی جہاں پر توبیخ کی گئی وہاں پر ان کی سزا کے بارے میں بھی اللہ پاک نے بیان فرمایا اور اس کی ممانعت صریح الفاظ سے فرمائی :

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے ۔(پ6 ،سورۃالمائدۃ، آیت 33)

زمین میں فساد پھیلانے والوں کا ذکر قرآن پاک میں جو آیا اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ فساد پھیلانا منافقین کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ چنانچہ فرمایا:‏ وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا

ترجمۂ کنزالعرفان: اور جب پیٹھ پھیرکر جاتا ہے توکوشش کرتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے۔(پ2 ،سورۃ البقرۃ، آیت 205 )

آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اور تہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔ 


میرے اسلامی بھائیو !جہاں اسلام کے مخالفین کی جانب سے اسلام کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے وہاں ہی کچھ ایسے بدبخت اور دھتکارے ہوئے لوگوں کی جانب سے جو ظاہری طور پر تو مسلمان ہونے کا دعوی کرتے ہیں لیکن پسے پردہ اسلام کے مخالفین کے اتحادی ہیں ان کے حوالے سے قرآن میں اللہ رب العالمین نےکیا وعید ارشاد فرمائی ہے اس پر ہم تھوڑی سی گفتگو کریں گے اور قرآن کی روشنی میں ان کی بدبختی کو ظاہر کرنے کی کوشش کریں گے۔اللہ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)

ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ (پ1، البقرۃ، آیت 11)

فساد کو روکنے کے لیے قرآن کریم میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے:وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو۔ (پ8 ، الاعراف ،آیت 56)

لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک، گناہ اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔

فساد کی ایک ایسی صورت بیان کی گئی کہ جس میں وہ لوگ نیکیاں بھی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ فساد بھی مگر قرآن نے ان کے فساد کو ان کی نیکی پر زیادہ واضح کیا ارشاد قرآنی :

الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ(۱۵۲)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور بناؤ نہیں کرتے۔ (پ19،الشعراء،152)

قرآن کریم میں فساد پھیلانے والوں کی جہاں پر توبیخ کی گئی وہاں پر ان کی سزا کے بارے میں بھی اللہ پاک نے بیان فرمایا اور اس کی ممانعت صریح الفاظ سے فرمائی :

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے ۔(پ6 ،سورۃالمائدۃ، آیت 33)

زمین میں فساد پھیلانے والوں کا ذکر قرآن پاک میں جو آیا اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ فساد پھیلانا منافقین کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ چنانچہ فرمایا: وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا

ترجمۂ کنزالعرفان: اور جب پیٹھ پھیرکر جاتا ہے توکوشش کرتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے۔(پ2 ،سورۃ البقرۃ، آیت 205 )

آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اور تہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔


فساد فی الارض انتہائی مذموم چیز ہے ،جس کی وجہ سے انسان دنیا میں بھی خسارہ اٹھاتا ہے اور آخرت میں بھی خسارہ اٹھاتا ہے ، اللہ پاک نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر فساد فی الارض کی مذمت بیان فرمائی ، اور انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے جن مقاصد کیلئے دنیا میں مبعوث فرمایا ان میں سے ایک مقصد فساد فی الارض کو ختم کرنا بھی تھا ، چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن کریم میں اس سے منع کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے :

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕاِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے بے شک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے۔(سورۃ الاعراف:56)

صراط الجنان:یعنی اے لوگو! انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے تشریف لانے ، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان فرمانے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک، گناہ،اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔اس تفسیر سے معلوم ہوا کہ فساد فی الارض کا ایک فرد ظلم کرنا بھی ہے لہذٰا ظلم کے متعلق اس کی تعریف ایک آیۃ کریمہ اور احادیث مبارکہ پیش کی جاتی ہیں۔

ظلم کی تعریف:حضرت امام شریف جرجانی علیہ الرحمہ ظلم کا معنی بیان کرتے ہیں کہ کسی چیز کو اس کی جگہ کے علاوہ کہیں اور رکھنا ظلم کہلاتا ہے ۔(التعریفات ، باب الظاء، ص 102)

البتہ شریعت میں ظلم سے مراد ہے کسی کا حق مارنا ، کسی چیز کو غیر محل میں خرچ کرنا ، کسی کو بغیر قصور کے سزا دینا وغیرہ ظلم کہلاتا ہے ۔(مرآۃ المناجیح، ج 6، ص 669)

ظلم کی مذمت قرآن مجید سے:

وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ۬ؕ اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ

کنزالایمان:اور ہرگز اللہ کو بے خبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے انہیں ڈھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لیے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔(پارہ 13، سورۂ ابراہیم، آیۃ 42)

اس آیت کریمہ میں گویا کہ ہر مظلوم کو تسلی اور ہر ظالم کو وعید سنائی گئی ہے، گویا اس مقولے کی طرف اشارہ بھی ہے کہ خدا کے ہاں دیر تو ہے اندھیر نہیں ۔

ایک طرح سے دیکھا جائے تو اس آیت کے قارئین کو سمجھایا جارہا ہے کہ !تم یہ نہ سمجھنا کہ اللّٰہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو سزا نہیں دے گا، اور نہ ہی ان سے عذاب مؤخر ہونے کی وجہ سے غمزدہ ہونا کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ انہیں بغیر عذاب کے صرف ایک ایسے دن کیلئے ڈھیل دے رہا ہے جس میں دہشت کے مارے آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔

ظلم کی مذمت احادیث کریمہ سے:حضرت سیِّدُناابُوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سےروایت ہے نبیِ کریم،رؤفٌ رَّحیم ﷺ نے فرمایا:بےشک اللہ پاک ظالم کو مُہلَت دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو اپنی پکڑ میں لیتا ہے تو پھر اس کونہیں چھوڑتا ۔( بخاری، ۳/۲۴۷، الحدیث: ۴۶۸۶)

نبی کریم،رؤفٌ رَّحیم ﷺ نے فرمایا:ظلم اور قطع رحمی(یعنی رِشتے داری ختم کرنا) کے علاوہ کوئی گناہ ایسا نہیں، جس کے مُرْتَکِب (یعنی کرنے والے) کو اللہ پاک آخرت میں سزا دینے کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی سزا دینے میں جلدی کرتا ہو۔(سنن الترمذی ، ۴/۲۲۹، الحدیث:۲۵۱۹)

لہذا اس مضمون کے ہر قاری و سامع لازم ہے کہ خود بھی فساد فی الارض خصوصاً ظلم کرنے سے بچے اور اس کیلئے سد باب کی سعی کامل کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں فساد فی الارض سے بچنے اور عدل و انصاف پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔


بحمد اللہ ہم مسلمان ہیں اور اسلام ہمیں امن ،محبت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے اور اس کی ضد یعنی فساد سے روکتا ہے ۔ فساد فی الارض کی مذمت قرآن و حدیث میں باربار وارد ہوئی۔

اگر دیکھا جائے تو فساد فی الارض ایک وسیع ترین موضوع ہے ، جس کے ضمن میں کئی جزئیات آتی ہیں مثلاً ، ظلم ،چوری ڈاکا زنی جھگڑا وغیرہ ۔اگر فساد فی الارض کی ان تمام جزئیات پر لکھا جائے تو یہ مضمون نہایت ہی طویل ہو جائے گا ۔لہذا اسی چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے فساد فی الارض کے صرف ایک جزء ظلم کی مذمت بیان کی جاتی ہے ۔

ظلم کی تعریف:حضرت امام شریف جرجانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب "التعریفات"میں ظلم کا معنی بیان کرتے ہیں کہ کسی چیز کو اس کی جگہ کے علاوہ کہیں اور رکھنا ظلم کہلاتا ہے ۔(التعریفات ، باب الظاء، ص 102)

البتہ شریعت میں ظلم سے مراد ہے کسی کا حق مارنا ، کسی چیز کو غیر محل میں خرچ کرنا ، کسی کو بغیر قصور کے سزا دینا وغیرہ ظلم کہلاتا ہے ۔(مرآۃ المناجیح، ج 6، ص 669)

ظلم کی مذمت قرآن مجید سے:وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ۬ؕ -اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ(۴۲)ترجمۂ کنزالایمان:اور ہرگزاللہ کو بے خبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے انہیں ڈھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لئے جس میں آنکھیں کُھلی کی کُھلی رہ جائیں گی۔ (پارہ 13، سورۃ ابراہیم، آیت 42)

اس آیت کریمہ میں گویا کہ ہر مظلوم کو تسلی اور ہر ظالم کو وعید سنائی گئی ہے، گویا اس مقولے کی طرف اشارہ بھی ہے کہ خدا کے ہاں دیر تو ہے اندھیر نہیں ۔

ایک طرح سے دیکھا جائے تو اس آیت کے قارئین کو سمجھایا جارہا ہے کہ تم یہ نہ سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو سزا نہیں دے گا، اور نہ ہی ان سے عذاب موخر ہونے کی وجہ سے غمزدہ ہونا کیونکہ اللہ تعالیٰ انہیں بغیر عذاب کے صرف ایک ایسے دن کیلئے ڈھیل دے رہا ہے جس میں دہشت کے مارے آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔

ظلم کی مذمت احادیث کریمہ سے:حضرت سیِّدُناابُوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سےروایت ہے نبیِ کریم رؤفٌ رَّحیم ﷺ نے فرمایا:بےشک اللہ پاک ظالم کو مُہلَت دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو اپنی پکڑ میں لیتا ہے تو پھر اس کونہیں چھوڑتا ۔( بخاری، ۳/۲۴۷، الحدیث: ۴۶۸۶)

نبی کریم رؤفٌ رَّحیم ﷺ نے فرمایا:ظلم اور قطع رحمی(یعنی رِشتے داری ختم کرنا) کے علاوہ کوئی گناہ ایسا نہیں، جس کے مُرْتَکِب (یعنی کرنے والے) کو اللہ پاک آخرت میں سزا دینے کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی سزا دینے میں جلدی کرتا ہو۔(سنن الترمذی ، ۴/۲۲۹، الحدیث:۲۵۱۹)

خلاصہ یہ کہ فساد فی الارض ایک نہایت ہی قبیح اور سنگین عمل ہے جو نہ صرف معاشرے کا امن تباہ کرتا ہے بلکہ حقوقِ مومنین کی پامالی کا سبب بنتا ہے ۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں بار بار اس کی مذمت بیان کی گئی ہے تاکہ انسان اس سے بچ سکیں۔ اب ہم پر لازم ہے کہ ہم ظلم اور فساد فی الارض کی دیگر جزئیات سے خود کو دور رکھیں اور دوسرے مسلمان بھائیوں کو بھی وعظ و نصیحت کرتے رہیں۔ کیونکہ ایک پرامن اور خوشحال معاشرہ اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب ہم امن، محبت اور بھائی چارے کو اپنائیں ۔

اللہ تعالیٰ ہمیں فساد فی الارض سے بچنے اور عدل و انصاف پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔


فساد فی الارض ایک نہایت اہم موضوع ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین میں بگاڑ اور خرابی پھیلانے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو اوراللہ سے دعا کرو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے۔ بیشک اللہ کی رحمت نیک لوگوں کے قریب ہے۔ (سورۃ الاعراف: 56)

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵) ترجمۂ کنزالعرفان: اور جب پیٹھ پھیرکر جاتا ہے توکوشش کرتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور کھیت اور مویشی ہلاک کرے اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ البقرۃ: 205)

مزید قرآن مجید میں ارشاد ہے:ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(۴۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیاان برائیوں کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تاکہ الله انہیں ان کے بعض کاموں کا مزہ چکھائے تاکہ وہ باز آجائیں ۔ ( سورۃ الروم: 41)

یعنی شرک اور گناہوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد جیسے قحط سالی ، بارش کا رک جانا، پیداوار کی قلت ، کھیتیوں کی خرابی ، تجارتوں کے نقصان ، آدمیوں اور جانوروں میں موت ، آتش زدگی کی کثرت ، غرق اور ہر شے میں بے برکتی ، طرح طرح کی بیماریاں ، بے سکونی، وغیرہ ظاہر ہو گئی اور ان پریشانیوں میں مبتلا ہونا اس لئے ہے تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں آخرت سے پہلے دنیا میں ہی ان کے بعض برے کاموں کا مزہ چکھائے تاکہ وہ کفر اور گناہوں سے باز آجائیں اوران سے توبہ کر لیں ۔ ( جلالین، الروم، تحت الآیۃ: ۴۱، ص۳۴۴)

اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا : وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)

ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃ البقرۃ: 11،12)

قرآن مجید نے فساد فی الارض کو نہایت سنگین جرم قرار دیا ہے۔ چنانچہ سورۃ المائدۃ میں ارشاد ہے:

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے یا انہیں سولی دیدی جائے یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں یا (ملک کی سر) زمین سے (جلا وطن کر کے) دور کردئیے جائیں۔ یہ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ (سورۃ المائدۃ:33)

مفسرین فرماتے ہیں کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ فساد ایسا جرم ہے جو پورے معاشرے کے امن کو تباہ کر دیتا ہے، اس لیے شریعت نے اس کے خاتمے کے لیے سخت احکام بیان فرمائے ہیں۔

خلاصہ یہ کہ قرآن و تفاسیر کی روشنی میں فساد فی الارض کا مطلب ہر وہ عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف ہو اور انسانوں کے لیے نقصان دہ ہو، جیسے ظلم، ناانصافی، قتل و غارت اور دین سے دوری۔ اسلام ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم زمین میں لوگوں کی اصلاح کریں، عدل و انصاف کو فروغ دیں اور ہر قسم کے فساد سے بچیں، کیونکہ یہی کامیاب اور پرامن معاشرے کی بنیاد ہے۔


اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن کریم فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے :

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃالبقرۃ:11،12)

تفسیر صراط الجنان:لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔ منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶)

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے بے شک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے۔(سورۃالاعراف:56)

تفسیر صراط الجنان: وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ یعنی اے لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک ، گناہ اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًاؕ-قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَاؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ(۸۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور مدین کی طرف ان کی برادری سے شعیب کو بھیجا کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آئی تو ناپ اور تول پوری کرو اور لوگوں کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں انتظام کے بعد فساد نہ پھیلاؤ یہ تمہارا بھلا ہے اگر ایمان لاؤ۔ (سورۃ الاعراف:85)

فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ: تو ناپ اور تول پورا پورا کرو۔حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم میں شرک کے علاوہ بھی جو گناہ عام تھے ان میں سے ایک ناپ تول میں کمی کرنا اور دوسرا لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے دینا اور تیسرا لوگوں کو حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے دور کرنے کی کوششیں کرنا تھا۔ حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو ناپ تول میں کمی کرنے اور لوگوں کو ان کی اشیاء گھٹا کر دینے سے منع کیا اور زمین میں فساد کرنے سے روکا کیونکہ ا س بستی میں اللہ تعالیٰ کے نبی تشریف لے آئے اور انہوں نے نبوت کے احکام بیان فرما دئیے تو یہ بستی کی اصلاح کا سب سے قوی ذریعہ ہے لہٰذا اب تم کفر و گناہ کر کے فساد برپا نہ کرو۔

اسلامی سزاؤں کی حکمت: اسلا م نے ہر جرم کی سزا اس کی نوعیت کے اعتبار سے مختلف رکھی ہے، چھوٹے جرم کی سزا ہلکی اور بڑے کی اس کی حیثیت کے مطابق سخت سزا نافذ کی ہے تاکہ زمین میں امن قائم ہو اور لوگ بے خوف ہوکر سکون اور چین کی زندگی بسر کرسکیں۔ ا س کے علاوہ اور بھی بے شمار حکمتیں ہیں۔ ایک اس ڈاکہ زنی کی سزا ہی کو لے لیجئے کہ جب تک اس پر عمل رہا تو تجارتی قافلے اپنے قیمتی سازو سامان کے ساتھ بے خوف و خطر سفر کرتے تھے جس کی وجہ سے تجارت کو بے حد فروغ ملا اور لوگ معاشی اعتبار سے بہت مضبوط ہو گئے اور جب سے اس سزا پر عمل نہیں ہو رہا تب سے تجارتی سر گرمیاں سب کے سامنے ہیں ، جس ملک میں تجارتی ساز و سامان کی نَقل و حَمل کی حفاظت کا خاطر خواہ انتظام نہیں وہاں کی بَرآمدات اور دَرآمدات انتہائی کم ہیں جس کی وجہ سے ان کی معیشت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ اب تو حالات اتنے نازک ہو چکے ہیں کہ بینک سے کوئی پیسے لے کر نکلا تو راستے میں لٹ جاتا ہے، کوئی پیدل جا رہا ہے تو اس کی نقدی اور موبائل چھن جاتا ہے، کوئی بس کا مسافر ہے تو وہاں بھی محفوظ نہیں ،کوئی اپنی سواری پر ہے تو وہ خود کو زیادہ خطرے میں محسوس کرتا ہے، سرکاری اور غیر سرکاری اَملاک ڈاکوؤں کی دست بُرد سے محفوظ نہیں۔ اگر ڈاکہ زنی کی بیان کردہ سزا پر صحیح طریقے سے عمل ہو تو ان سب کا دماغ چند دنوں میں ٹھکانے پر آ جائے گا اور ہر انسان پر امن ماحول میں زندگی بسر کرنا شروع کر دے گا۔اس سے معلوم ہوا یہ چند قسموں کے گناہ کرنے والے لوگ زمین میں فساد پھیلانے والوں میں سے ہیں۔


رب تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور نہیں۔ (پارہ 1، سورۃ البقرۃ، آیت 11،12)

تفسیر صراط الجنان:اس آیتِ مبارکہ میں منافقین کے کردار کو بیان کیا گیا ہے کہ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ تو وہ اپنے آپ کو مصلح ظاہر کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہی فساد کرنے والے ہوتے ہیں۔ ان کے دلوں میں ایمان نہیں ہوتا مگر زبان سے اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ سب سے خطرناک وہ لوگ ہیں جو فساد کریں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو آزادی کے نام پر بے حیائی، ترقی کے نام پر گمراہی، تہذیب کے نام پر بے دینی اور روشن خیالی کے نام پر اسلامی تعلیمات پر اعتراضات کرتے ہیں۔ یہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔

قرآنِ مجید میں فساد فی الارض کی مذمت:اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر فساد فی الارض سے منع فرمایا ہے:

(1) مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-

ترجمہ کنز الایمان: جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا ۔(سورۃ المائدۃ، آیت 32)

(2) وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد ۔(سورۃ الاعراف، آیت 56)

(3) وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ چاہ بے شک الله فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔ ( سورۃ القصص، آیت 77)

(4) ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ

ترجمۂ کنزالایمان: چمکی خرابی خشکی اور تری میں ان برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں ۔ (سورۃ الروم، آیت 41)

(5) اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ

ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں یا اُن کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردئیے جائیں ۔(سورۃ المائدۃ، آیت 33)

موجودہ دور میں فساد کی صورتیں:قتل و غارت،چوری، ڈکیتی،رشوت اور دھوکہ دہی،بے حیائی پھیلانا، منشیات فروشی،فرقہ واریت ،دینی احکام کا مذاق اڑانا،ماحولیات کو نقصان پہنچانا۔

قرآنِ مجید نے فساد فی الارض کی سخت مذمت فرمائی ہے۔ مسلمان کا فرض ہے کہ وہ امن، عدل، محبت اور اصلاح کو عام کرے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے قول و فعل سے معاشرے میں خیر پھیلائیں اور ہر قسم کے فساد سے بچیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نیک اعمال کرنے اور فساد سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


فساد فی الارض سے مراد زمین میں فساد کرنا ہے اور فساد یہ بری صفت ہے اور شیطانی صفت ہے جس سے ہر ایک کو بچنا ضروری ہے تاکہ شیطان کی پیروی سے بچا جا سکے شیطانی صفت سے موصوف ہونے سے بچا جا سکے زمین میں فساد کرنے والا اللہ اور رسول کی نافرمانی کرتا ہے اور مفسد شخص کامیاب نہیں ہو پاتا ۔

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ-وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۳۰)

ترجمۂ کنزالعرفان:اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا: میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں تو انہوں نے عرض کیا : کیا تو زمین میں اسے نائب بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گاحالانکہ ہم تیری حمد کرتے ہوئے تیری تسبیح کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ فرمایا:بیشک میں وہ جانتاہوں جو تم نہیں جانتے۔ (پارہ1،سورۃ البقرۃ،آیت نمبر 30)

اس آیت مبارکہ سے ثابت ہو رہا ہے کہ وہ شخص کسی طرح خلافت کا حقدار نہیں ہے جو مفسد فی الارض یعنی زمین میں فساد پھیلانے والا ہو ۔لفظ خلیفہ سے کئی مدنی پھول لیے جا سکتے ہیں :

(1) گھر کا بڑا یعنی سربراہ اگر گھر میں فساد برپا کرنے والا ہے وہ گھر کا سربراہ بننے کا حقدار نہیں ۔

(2) جو قاضی شریعت کے موافق و مطابق فیصلہ نہ کرے اور شہر میں فساد برپا کرے وہ قاضی بننے کا حقدار نہیں۔

(3)اسی طرح جو بادشاہ یا سلطان اپنے ملک کی حفاظت نہ کرے اور لوگوں پر ظلم و ستم کر کے انکو انکا حق نہ دے اور فساد برپا کرے تو وہ بھی بادشاہت اور سلطان بننے کا مستحق نہ ہو گا۔

شریعت کی رو سے اگر لوگوں میں دیکھا جائے تو فساد کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں جن میں سے مندرجہ ذیل دو صورتیں بھی ہیں۔

(1)فسادفی العقائد:اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص لوگوں میں ایسے عقائد کی ترویج واشاعت کرے جس کا اسلام میں کوئی ثبوت نہیں اور وہ سراسر اسلام کے خلاف اور جہالت پر مشتمل ہوں جیسے خدا تعالی کا جسمیت سے پاک ہونا ثابت ہے لیکن لوگوں میں یہ ظاہر کرنا کہ خدا تعالی بھی جسم والاہے جیسے ہم جسم والے ہیں اسی طرح صحابہ کرام علیہم الرضوان کے بارے میں ایسا کلام کرنا جس سے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی شان میں گستاخی کا ثبوت ہو حالانکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان تو وہ ہستیاں ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىترجمہ کنز الایمان: اور اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرمایا۔(سورۃ النساء آیت نمبر 95)

اس کی شان میں گستاخی کرنا کیسے جائز ہو سکتا ہے جس کی پیروی کا حکم دیا جا رہا ہے اسی طرح محبت اہل بیت کا دعوی کر کے اتنا محبت میں غلو کرنا کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے حق میں گستاخی ہو جائے ایسے ہی صحابہ کرام علیہم الرضوان کی عظمت و شان کا اقرار کر کے اہل بیت کرام علیہم رضوان کی شان و عظمت کو گھٹانا وغیرہ اس کی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں اور ایسے کرنے والے سارے کے سارے مفسدین فی الارض کہلائیں گے اور ان وعیدوں کے حقدار قرار پائیں گے جو قرآن و حدیث میں مفسدین کے حق میں وارد ہوئیں ۔

(2)فساد فی الاعمال: اس سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کے اعمال میں فساد برپا کرنا مثلا کوئی شخص نماز پڑھتا ہے اس کو نماز کے وقت کسی فضول اور برے کام میں مصروف کر دینا، کوئی روزے رکھتا ہے تو اسے کہہ دینا کہ روزے نہ رکھو کمزور ہو جاؤ گے، نیکی کی دعوت دینے والوں میں غیبت کی عادت ڈالنا ،چغلی کی عادت ڈالنا، کوئی درود شریف پڑھتا ہے تو اسے فضول باتوں میں لگا دینا یعنی ایسے کام کروانا جس سے کسی کے نیک اعمال میں ایسا فساد ہو جائے کہ اعمال سے توجہ ہٹ جائےاور نیک اعمال نہ کر پائے وغیرہ ایسے تمام فسادات پیدا کرنے والا شیطانی صفت کو اپنانے والا ہے اور خدا و ررسول کے حکم سے اعراض یعنی منہ پھیرنے والا ہے ۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے یا انہیں سولی دیدی جائے یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں یا (ملک کی سر) زمین سے (جلا وطن کر کے) دور کردئیے جائیں۔ یہ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔(سورۃ المائدۃ : آیت نمبر 33)

فساد فی الارض کے اسباب:زمین میں فساد کرنے کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں سب سے بڑا سبب شیطان کا دھوکہ ہے وہ شیطان جس کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :

وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۱۶۸) ترجمۂ کنز العرفان:اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔(سورۃ البقرۃ آیت نمبر168)

جس سے انسان اس کے دھوکے میں آ کر اعمال ،افعال ،عقائد اور اقوال میں فساد ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اور مفسدین کی فہرست میں شامل ہو جاتا ہے اس طرح اگر شیطان کے وارسے انسان بچ بھی جائے تو انسان کے اندر موجود نفس امارہ موجود ہے جس کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :

اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ ترجمۂ کنز العرفان: ا بیشک نفس تو برائی کا بڑا حکم دینے والا ہے ۔(سورۃیوسف آیت نمبر53)

اس نفس امارہ کی وجہ سے انسان فساد فی الارض کو اپناتا ہے اور وعیدوں کا حقدار قرار پاتا ہے لہذا انسان کو چاہیے کہ قرآن و حدیث پر عمل کرتے ہوئے انبیاء و صلحا اور ملائکہ کی صفت یعنی اصلاح کو اپنائے نہ کہ فساد کو اپنائے اور جو بھی مفسد ہو اس کی اصلاح کی کوشش کرے اور آقا کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرتے ہوئے امت کی اصلاح کرتے ہوئے زندگی گزار دے ۔خدا تعالی تمام انسانوں کو فساد فی الارض سے محفوظ فرمائے اور اصلاح و نیکی کی دعوت کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔


دین اسلام امن و سلامتی والا اور دین فطرت ہے جو معاشرے کو امن و سلامتی اور پرسکون بنانے کے اصول مہیا کرتا ہے اور زمین میں فساد پھیلانے سے روکتا ہے اور اس کی مذمت بیان کرتا ہے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر زمین میں فساد پھیلانے کی مذمت کو بیان کیا گیا ہے آئیے ہم بھی اس کے متعلق چند آیات پڑھتے ہیں اور معاشرے کو پرسکون اور امن والا بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

(‎‎1)منافقوں کا طرزِ عمل: وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور نہیں۔ (پارہ 1، سورۃالبقرۃ:11،12)

تفسیر صراط الجنان:لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔(تفسیر صراط الجنان)

(2) اللہ عزوجل فسادکو پسند نہیں کرتا :وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵) ترجمۂ کنزالعرفان: اور جب پیٹھ پھیرکر جاتا ہے توکوشش کرتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور کھیت اور مویشی ہلاک کرے اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔(پارہ 2، سورۃالبقرۃ : 205)

یہاں آیت مبارکہ میں اگرچہ ایک خاص منافق کا تذکرہ ہے لیکن یہ آیت بہت سے لوگوں کو سمجھانے کیلئے کافی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی زبان بڑی میٹھی ہے، گفتگو بڑی نرمی سے کرتے ہیں ،بڑی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں لیکن در پردہ دین کے مسائل میں یا لوگوں میں یا خاندانوں میں فساد برپا کرتے ہیں اور ہلاکت و بربادی کا ذریعہ بنتے ہیں۔(تفسیر صراط الجنان )

(‎‎3) اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلانا:وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶) ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو اوراللہ سے دعا کرو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے۔ بیشک اللہ کی رحمت نیک لوگوں کے قریب ہے۔ (پارہ 8، سورۃالاعراف : 56)

تفسیر صراط الجنان: وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ یعنی اے لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد  تم کفر و شرک ، گناہ اور ظلم و ستم  کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔(تفسیر صراط الجنان)

(‎‎4)مدد الٰہی سے محرومی : فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِۙ-السِّحْرُؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ(۸۱)‎‎ترجمہ کنزالایمان : پھر جب انہوں نے ڈالا موسیٰ نے کہا یہ جو تم لائے یہ جادو ہے اب اللہ اسے باطل کردے گا اللہ مفسدوں کا کام نہیں بناتا۔ (پارہ11،سورۃ یونس ،آیت81)

(5) فسادیوں کے لیے لعنت :وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جو اللہ کا عہد اسے پختہ کرنے کے بعد توڑدیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کیلئے لعنت ہی ہے اور اُن کیلئے برا گھر ہے۔ (پارہ 13،سورۃالرعد،آیت25)


قرآن کریم میں جابجا زمین میں فساد کرنے والوں کی مذمت بیان کی گئی ہے کہ فساد پھیلانے والا شخص جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم ہوسکتا ہے اور بسا اوقات فساد پھیلانے والے مختلف طرح کے لوگ ہوتے جیسے کچھ تو توحید کی آڑ میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں گستاخی کرتے اور کچھ تو قرآن کی آڑ میں حدیث کا انکار کرتے ہیں اور ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کہ نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدتریں کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں ۔ آزادی کے نام پر بے حیائی ،فن کے نام پر حرام افعال ،انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا ، ارو تہذیب کا نام لے کر اسلام اعتراض کرنا انکا کام ہوتا ہے ۔

اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے :

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور نہیں۔ (سورۃ البقرہ ، آیت نمبر11،12)

اس آیت سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ منافقین جب ایمان والوں سے ملاقات کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ آپ کے ساتھ ہیں یعنی وہ صرف زبان سے ایمان لانے کی باتیں کرتے تھے اور باطن میں مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں تاکہ وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں تو اس لیے اللہ عزوجل نے انکے اس راز کو کھول دیا ہے۔

جنت کا مستحق کون؟ایک اور مقام پر اللہ عزوجل کاارشاد ہے :

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو زمین میں تکبر اور فساد نہیں چاہتے اوراچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے۔ (سورۃ القصص:آیت نمبر83)

اس آیت سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں جانے کے مستحق وہی ہیں جو زمین میں نہ تو ایمان لانے سے تکبر کرتے ہیں اور نہ ایمان لانے والوں پر بڑائی چاہتے ہیں اور نہ گناہ کر کہ فساد چاہتے ہیں اور آخرت کا اچھا انجام پر ہیزگاروں ہی کیلئے ہے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌ(۷۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کافر آ پس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں اگرتم ایسانہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا۔ (سورۃ الانفال: آیت نمبر73)

اس آیت سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ آپس میں اتحاد پیدا کریں ورنہ اس کی وجہ سے فساد کبیر پیدا ہوگا کیونکہ کفار تمام کے تمام آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور وہ مسلمانوں کے عدم اتحاد کی وجہ سے انکے درمیان فساد پھیلائیں گے۔لہذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ شریعت کی پاسداری کرتے ہوئے آپس میں باہمی تعلقات اپنائیں ۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن کریم اور احادیث کو صحیح طور پر سمجھنے کی اور دوسروں تک پہچانے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔


اسلام ایک ایسا دین ہے جو امن، عدل اور اصلاحِ معاشرہ کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں جہاں نیکی، تقویٰ اور بھلائی کی ترغیب دی گئی ہے، وہاں فساد فی الارض یعنی زمین میں بگاڑ پیدا کرنے کی سخت مذمت بھی بیان کی گئی ہے۔ فساد سے مراد ہر وہ عمل ہے جو انسانی زندگی، معاشرتی نظام، اخلاقی اقدار اور امن و سکون کو نقصان پہنچائے۔ یہ ظلم، ناانصافی، قتل و غارت، دھوکہ بازی، بددیانتی اور دیگر برے اعمال کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔(سورۃا لبقرۃ:11،12)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ بعض لوگ اپنے برے اعمال کو بھی اچھائی کا نام دے کر معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔ ایسے افراد نہ صرف خود گمراہ ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ فساد فی الارض کی ایک بڑی شکل ظلم و زیادتی ہے۔فساد فی الارض کی ایک بڑی مثال ہمیں قوم لوط کی بھی ملتی ہے کہ انہوں زمین میں اپنی بد اعمالیوں اور بد کاریوں سے زمین میں فساد پھیلایا تو اللہ تعالٰی نے ان پر عذاب نازل فرمایا قرآن میں ظالموں کے لیے سخت وعید سنائی گئی ہے اور انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے۔ اسی طرح قتلِ ناحق کو بھی بہت بڑا فساد قرار دیا گیا ہے۔ ایک انسان کا ناحق قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر بتایا گیا ہے، جو اس بات کی شدت کو ظاہر کرتا ہے کہ اسلام میں انسانی جان کی کتنی اہمیت ہے۔ معاشی بدعنوانی بھی فساد کی ایک اہم قسم ہے۔ ناپ تول میں کمی کرنا، رشوت لینا، دھوکہ دینا اور حرام ذرائع سے مال کمانا قرآن کی نظر میں سخت ناپسندیدہ اعمال ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو تنبیہ کی ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور دوسروں کے حقوق غصب کرتے ہیں۔ اسی طرح جھوٹ، غیبت اور بہتان بھی معاشرتی فساد کو جنم دیتے ہیں اور لوگوں کے درمیان نفرت اور دشمنی کو بڑھاتے ہیں۔ قرآن مجید ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اصلاحِ معاشرہ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم برائی کو روکیں اور بھلائی کو فروغ دیں۔ اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور نیکی کا راستہ اختیار کرے تو معاشرہ خود بخود فساد سے پاک ہو سکتا ہے۔ اسلام میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا تصور اسی مقصد کے لیے دیا گیا ہے۔ آخر میں یہ کہنا میں مناسب سمجھتا ہوں کہ فساد فی الارض ایک سنگین جرم ہے جس کی قرآن میں بار بار مذمت کی گئی ہے۔ ایک صالح معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں امن، عدل اور انصاف کا بول بالا ہو اور لوگ ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن کی تعلیمات کو اپنائیں اور ہر قسم کے فساد سے بچ کر ایک پرامن اور خوشحال معاشرہ قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔