علی
بخش عطاری(درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی،پاکستان)
بحمد اللہ
ہم مسلمان ہیں اور اسلام ہمیں امن ،محبت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے اور اس کی
ضد یعنی فساد سے روکتا ہے ۔ فساد فی الارض کی مذمت قرآن و حدیث میں باربار وارد
ہوئی۔
اگر دیکھا
جائے تو فساد فی الارض ایک وسیع ترین موضوع ہے ، جس کے ضمن میں کئی جزئیات آتی ہیں
مثلاً ، ظلم ،چوری ڈاکا زنی جھگڑا وغیرہ ۔اگر فساد فی الارض کی ان تمام جزئیات پر
لکھا جائے تو یہ مضمون نہایت ہی طویل ہو جائے گا ۔لہذا اسی چیز کو مد نظر رکھتے
ہوئے فساد فی الارض کے صرف ایک جزء ظلم کی مذمت بیان کی جاتی ہے ۔
ظلم کی
تعریف:حضرت امام شریف جرجانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب "التعریفات"میں
ظلم کا معنی بیان کرتے ہیں کہ کسی چیز کو اس کی جگہ کے علاوہ کہیں اور رکھنا ظلم
کہلاتا ہے ۔(التعریفات ، باب الظاء، ص 102)
البتہ شریعت
میں ظلم سے مراد ہے کسی کا حق مارنا ، کسی چیز کو غیر محل میں خرچ کرنا ، کسی کو
بغیر قصور کے سزا دینا وغیرہ ظلم کہلاتا ہے ۔(مرآۃ المناجیح، ج 6، ص 669)
ظلم کی مذمت قرآن مجید سے:وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا
یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ۬ؕ -اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ
الْاَبْصَارُۙ(۴۲)ترجمۂ کنزالایمان:اور ہرگزاللہ کو بے خبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے انہیں
ڈھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لئے جس میں آنکھیں کُھلی کی کُھلی رہ جائیں
گی۔ (پارہ 13، سورۃ ابراہیم، آیت 42)
اس آیت
کریمہ میں گویا کہ ہر مظلوم کو تسلی اور ہر ظالم کو وعید سنائی گئی ہے، گویا اس
مقولے کی طرف اشارہ بھی ہے کہ خدا کے ہاں دیر تو ہے اندھیر نہیں ۔
ایک طرح
سے دیکھا جائے تو اس آیت کے قارئین کو سمجھایا جارہا ہے کہ تم یہ نہ سمجھنا کہ
اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو سزا نہیں دے گا، اور نہ ہی ان سے عذاب موخر ہونے کی
وجہ سے غمزدہ ہونا کیونکہ اللہ تعالیٰ انہیں بغیر عذاب کے صرف ایک ایسے دن کیلئے
ڈھیل دے رہا ہے جس میں دہشت کے مارے آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔
ظلم کی مذمت احادیث کریمہ سے:حضرت سیِّدُناابُوموسیٰ
اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سےروایت ہے نبیِ کریم رؤفٌ رَّحیم ﷺ نے فرمایا:بےشک
اللہ پاک ظالم کو مُہلَت دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو اپنی پکڑ میں لیتا ہے تو پھر
اس کونہیں چھوڑتا ۔( بخاری، ۳/۲۴۷، الحدیث:
۴۶۸۶)
نبی کریم رؤفٌ
رَّحیم ﷺ نے فرمایا:ظلم اور قطع رحمی(یعنی رِشتے داری ختم کرنا) کے علاوہ کوئی
گناہ ایسا نہیں، جس کے مُرْتَکِب (یعنی کرنے والے) کو اللہ پاک آخرت میں سزا دینے
کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی سزا دینے میں جلدی کرتا ہو۔(سنن الترمذی ، ۴/۲۲۹، الحدیث:۲۵۱۹)
خلاصہ یہ
کہ فساد فی الارض ایک نہایت ہی قبیح اور سنگین عمل ہے جو نہ صرف معاشرے کا امن
تباہ کرتا ہے بلکہ حقوقِ مومنین کی پامالی کا سبب بنتا ہے ۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ
مبارکہ میں بار بار اس کی مذمت بیان کی گئی ہے تاکہ انسان اس سے بچ سکیں۔ اب ہم پر
لازم ہے کہ ہم ظلم اور فساد فی الارض کی دیگر جزئیات سے خود کو دور رکھیں اور
دوسرے مسلمان بھائیوں کو بھی وعظ و نصیحت کرتے رہیں۔ کیونکہ ایک پرامن اور خوشحال
معاشرہ اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب ہم امن، محبت اور بھائی چارے کو اپنائیں ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں فساد فی الارض سے بچنے اور عدل
و انصاف پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔
Dawateislami