اللہ تعالیٰ
نے انسان کو اپنی پہچان اور عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔دین اسلام میں کسی بھی عمل
کے قبول ہونے کے لیے سب سے ضروری چیز صحیح عقیدہ کا ہونا ہے ۔ اگر عقیدہ صحیح نہ
ہو تو اعمال کی کوئی خاص حیثیت نہیں رہتی۔ جیسے ایک درخت اپنی جڑوں کے بغیر نہیں
کھڑا رہ سکتا، اسی طرح اعمال بھی عقیدے کے بغیر مضبوط نہیں ہوتے۔ اس لیے عقیدہ ہی
اصل ہے اور عمل اس کی شاخیں ہیں۔
عقیدے کی اہمیت قرآن کی روشنی میں:قرآن پاک
میں ایمان کی درستی پر بہت زور دیا گیا ہے۔
ارشادِ
باری تعالیٰ ہے:اٰمَنَ الرَّسُوْلُ
بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ
ترجمہ کنز
الایمان: رسول ایمان
لایا اس پر جو اس کے رب کے پاس سے اس پر اُترا اور ایمان والے سب نے مانا۔(سورۃالبقرۃ:285)
اس آیت سے
ہمیں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ باتوں پر ایمان رکھنا ضروری
ہے اور یہی سچے مومن کی پہچان ہے۔
مطالعہ عقائد کیوں ضروری ہے؟آج کل کے
دور میں بہت سے نئے نظریات اور غلط باتیں پھیل رہی ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کے
ذہنوں میں شک پیدا ہو جاتا ہے۔ ایسے وقت میں عقائد کا علم حاصل کرنا بہت ضروری ہے:
ایمان کی حفاظت: اس سے
انسان کے دل میں آنے والے شکوک ختم ہوتے ہیں۔
باطل کی پہچان: جب تک صحیح
بات کا علم نہ ہو، غلط کو پہچاننا مشکل ہوتا ہے۔
اعمال کی درستگی: اس علم
سے پتا چلتا ہے کہ کون سی بات درست ہے اور کون سی غلط، تاکہ ہم اپنا ایمان بچا سکیں۔
ہمیں چاہیے
کہ ہم مستند ذرائع سے عقائد سیکھیں، خاص طور پر "بہارِ شریعت" کا مطالعہ
کریں۔ اس سے ہمارا ایمان پختہ ہوگا اور ہم غلط نظریات سے بچ سکیں گے۔
اللہ تعالیٰ
ہمیں صحیح عقیدہ نصیب فرمائے اور خاتمہ ایمان بالخیر فرمائے۔ آمین۔
Dawateislami