محمد
ارسلان سلیم (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،
پاکستان)
یاد رہے کہ زندگی میں قدم قدم پر آزمائشیں
ہیں ، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی مرض سے، کبھی جان و مال کی کمی سے، کبھی
دشمن کے ڈر خوف سے، کبھی کسی نقصان سے، کبھی آفات و بَلِیّات سے اور کبھی نت نئے
فتنوں سے آزماتا ہے اور راہِ دین اور تبلیغِ دین تو خصوصاً وہ راستہ ہے جس میں
قدم قدم پر آزمائشیں ہیں ، اسی سے فرمانبردار و نافرمان، محبت میں سچے اور محبت
کے صرف دعوے کرنے والوں کے درمیان فرق ہوتا ہے۔
(1) وَ الْعَصْرِۙ(۱) اِنَّ الْاِنْسَانَ
لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲) اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ
تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اس زمانۂ محبوب کی قسم ۔ بیشک
آدمی ضرور نقصان میں ہے ۔ مگر
جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو
صبر کی وصیت کی ۔ (پ30،
) العصر:1تا3)
(2) وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ
اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللہ ۚۖ-وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠(۱۰۹)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اس پر چلو جو تم پر وحی
ہوتی ہے اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ حکم فرمائے اور وہ سب سے بہتر حکم فرمانے
والا ہے ۔ (پ11،
یونس:109)
(3) وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ
الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ
الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵)
ترجمۂ
کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور
جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
(4) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)
ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
(5) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ
تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰)
اشتیاق
احمد (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
صبر ایک
عظیم اخلاقی صفت اور اسلامی تعلیمات کا بنیادی ستون ہے۔قرآن مجید میں صبر کو ایمان والوں کی کامیابی
اور اللہ کی قربت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ صبر محض مشکلات پر برداشت ہی کا نام نہیں، بلکہ دین پر ثابت قدمی، طاعت پر
استقامت، گناہوں سے اجتناب اور مصیبتوں میں رضا بالقضا اختیار کرنے کا مجموعہ ہے۔ قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر صبر کی فضیلت کو
بیان کیا گیا ہے۔
آئیے صبر کے متعلق چند آیات ملاحظہ فرمائیے :
(1) کافروں کی باتوں پر صبر : وَ
اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا(۱۰) ترجمۂ کنز الایمان:اور کافروں کی باتوں پر
صبر فرماؤ اور انھیں اچھی طرح چھوڑ دو۔ (پ29، المزمل:10)
(2) صبر کی وصیت :
ثُمَّ
كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا
بِالْمَرْحَمَةِؕ(۱۷) اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ(۱۸)
ترجمۂ
کنز الایمان:پھر ہو ا اُن سے جو ایمان لائے اور انہوں نے آپس میں صبر کی وصیتیں کیں
اور آپس میں مہربانی کی وصیتیں کیں۔ یہ د ہنی طرف والے ہیں ۔ (پ30، البلد:17، 18)
(3) اپنے
رب کے لیے صبر : وَ
لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ(۷) ترجمہ کنزالایمان :اور اپنے رب کے لیے صبر کئے
رہو۔ (پ29،
المدثر:7)
وَ
لِرَبِّكَ فَاصْبِرْ: اور اپنے رب کے لیے ہی صبر کرتے رہو :
یعنی اے حبیب! ﷺ ، آپ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے اس کی اطاعت،اس کے احکامات،اس
کے ممنوعات اور ان ایذاؤں پر صبر کرتے رہیں جو دین کی خاطر آپ کو ( کُفّار کی
طرف سے) برداشت کرنی پڑیں ۔
(4) صابرین
کے لیے اللہ کا وعدہ : فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللہ حَقٌّ وَّ
لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠(۶۰) ترجمۂ کنز الایمان: تو صبر کرو
بے شک الله کا وعدہ سچا ہے اور تمہیں سبک نہ کردیں وہ جو یقین نہیں رکھتے۔ (پ21، الروم:60)
فَاصْبِرْ: تو
صبر کرو :
یعنی اے حبیب! ﷺ ، آپ اِن کفار کی ایذا اور عداوت پر صبر کریں
، بے شک آپ ﷺ کی مدد فرمانے کا اور دین ِاسلام کو تمام دینوں پر غالب کرنے کا اللہ
تعالیٰ نے جو وعدہ فرمایا وہ سچا ہے اور یہ وعدہ ضرور پورا ہوگا ۔
(5) ظلم
پر صبر کرنا : وَ
لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳)
ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور
بخش دیاتو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔ (پ25،الشوریٰ: 43)
ظلم پر
صبر کرنا: ظلم پر
صبر کرنے سے متعلق ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر تم (کسی
کو)سزا دینے لگو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہو اور اگر تم
صبر کرو تو بیشک صبر والوں کیلئے صبر سب سے بہتر ہے۔ (پ14، النحل:126)
اللہ
پاک سے دعا ہے جو کچھ پڑھا اس پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
علی
اکبر مہروی (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
صبر کا
معنی ہے نفس کو اس چیز سے روکنا جو شریعت اور عقل کے تقاضوں کے مطابق نہ ہو ۔ اور مُصَابَرہ کا معنی ہے دوسروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا ۔ صبر کے تحت ا س کی تمام اقسام داخل ہیں جیسے توحید،عدل،نبوت اور حشرو نَشر
کی معرفت حاصل کرنے میں نظر و اِستدلال کی مشقت برداشت کرنے پر صبر کرنا ۔ واجبات اور مُستحَبات کی ادائیگی کی مشقت پر صبر کرنا ۔ ممنوعات سے بچنے کی مشقت پر صبر کرنا ۔ دنیا
کی مصیبتوں اور آفتوں جیسے بیماری ، محتاجی قحط اور خوف وغیرہ پر صبر کرنا اور
مُصَابرہ میں گھر والوں ،پڑوسیوں اور رشتہ داروں کی بد اخلاقی برداشت کرنا اور برا
سلوک کرنے والوں سے بدلہ نہ لینا داخل ہے ، اسی طرح نیکی کا حکم دینا ، برائی سے
منع کرنا اور کفار کے ساتھ جہاد کرنا بھی مُصَابرہ میں داخل ہے۔
آیئے اب ہم قرآنی آیات سے صبر کے متعلق معلومات حاصل کرتے ہے:
(1) مجرم
کو معاف کرنا: وَ
لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳) ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور
بخش دیاتو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔ (پ25،الشوریٰ:
43)
جس نے
اپنے مجرم کے ظلم اور ایذا پر صبر کیا اور اپنے ذاتی معاملات میں بدلہ لینے کی
بجائے اسے معاف کر دیا تویہ ضرور ہمت والے کاموں میں سے ہے۔ (تفسیر صراط الجنان سورت الشوریٰ آیت نمبر 43
جلد نمبر 9)
(2) صبر سے مدد طلب کرنا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ (۱۵۳)
ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
صبر سے
مدد طلب کرنا یہ ہے کہ عبادات کی ادائیگی، گناہوں سے رکنے اور نفسانی خواہشات کو
پورا نہ کرنے پر صبر کیا جائے۔ (تفسیر
صراط الجنان سورت البقرۃ آیت نمبر 153 جلد نمبر 1)
(3) بخشش
اور بڑا ثواب : اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا
الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالایمان:مگر جنہوں
نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)
لوگ
جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کئے تو وہ ان کی طرح نہیں ہیں کیونکہ انہیں جب کوئی
مصیبت پہنچی تو انہوں نے صبر سے کام لیا اور کوئی نعمت ملی تو اس پر اللہ
عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کیا، جو ایسے اَوصاف کے حامل ہیں ان کے لئے گناہوں سے
بخشش اور بڑا ثواب یعنی جنت ہے( تفسیر صراط الجنان سورت ھود آیت نمبر 11 جلد نمبر
4)
(4) ملک کی نگہبانی کرو:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا-
وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو صبر کرو اور
صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے
ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل عمران: 200)
(5) متقی لوگ
اَلصّٰبِرِیْنَ
وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ
بِالْاَسْحَارِ(۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان:صبر والے اور سچے اور ادب
والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے پہرسے معافی مانگنے والے۔ (پ3،آل عمران، 17)
متقی
لوگ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرتے ہیں ، نماز پڑھتے ہیں
، توبہ و استغفار کرتے ہیں ، رب تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری اور مناجات کرتے ہیں۔ یاد
رکھیں کہ رات کا آخری پہر نہایت فضیلت والا ہے، یہ وقت خَلْوَت اور دعاؤں کی
قبولیت کا ہے۔ ( تفسیر صراط الجنان سورت العمران آیت نمبر 17 پارہ نمبر 3جلد نمبر 1)
اللہ
عزوجل کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
محمد
مدثر رضوی عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
پیارے سلام بھائیو ! صبر کرنے والوں کی صفات
اللہ عزوجل نے قرآن پاک میں بیان فرمائی اور قرآن پاک میں کئی مرتبہ اس کا ذکر فرمایا اور اکثر درجات اور
بھلائیاں کو اسی کی طرف منسوب کیا اور اس کا پھل قرار دیا۔ اسی
طرح حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی بہت سی احادیث مبارکہ میں صبر کی فضیلت بیان
فرمائی ،صبر کرنے کی تلقین فرمائی پیارے پیارے
اسلام بھائیو !آئیے ہم بھی چند آیات مبارکہ صبر کے بارے میں پڑھتے ہیں:
(1) صبر
میں دشمنوں سے آگے رہو :
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا-
وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰)
ترجمۂ
کنز العرفان : اے ایمان والو!صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواوراسلامی
سرحد کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ا س امید پر کہ تم کامیاب ہوجاؤ ۔ (پ4،
آل عمران: 200)
اِصْبِرُوْا
وَ صَابِرُوْا:صبر
کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو :
صبر کا
معنی ہے نفس کو اس چیز سے روکنا جو شریعت اور عقل کے تقاضوں کے مطابق نہ ہو ۔ اور مُصَابَرہ کا معنی ہے دوسروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا ۔ صبر کے تحت ا س کی تمام اقسام داخل ہیں جیسے توحید،عدل،نبوت اور حشرو نَشر
کی معرفت حاصل کرنے میں نظر و اِستدلال کی مشقت برداشت کرنے پر صبر کرنا ۔ واجبات اور مُستحَبات کی ادائیگی کی مشقت پر صبر کرنا ۔ ممنوعات سے بچنے کی مشقت پر صبر کرنا ۔ دنیا
کی مصیبتوں اور آفتوں جیسے بیماری ، محتاجی قحط اور خوف وغیرہ پر صبر کرنا اور
مُصَابرہ میں گھر والوں ،پڑوسیوں اور رشتہ داروں کی بد اخلاقی برداشت کرنا اور برا
سلوک کرنے والوں سے بدلہ نہ لینا داخل ہے ، اسی طرح نیکی کا حکم دینا ، برائی سے
منع کرنا اور کفار کے ساتھ جہاد کرنا بھی مُصَابرہ میں داخل ہے ۔ ( تفسیر کبیر، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 200،
3 / 473،ً)
(2) اگر تم صبر کرتے رہو :
لَتُبْلَوُنَّ
فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ - وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا
الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًاؕ-وَ
اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ(۱۸۶)
ترجمۂ کنز العرفان: بیشک تمہارے مالوں اور
تمہاری جانوں کے بارے میں تمہیں ضرور آزمایا جائے گا اورتم ضرور ان لوگوں سے جنہیں
تم سے پہلے کتاب دی گئی اور مشرکوں سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنوگے اور اگر تم صبر
کرتے رہو اور پرہیز گاربنو تو یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے ۔ (پ4، آل
عمران: 186)
(3) صبر
کرنا انبیاء کرام علیھم الصلوۃ والسلام کی سنت مبارکہ ہیں
وَ
لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ
اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَاۚ-
ترجمۂ کنز العرفان: اورآپ سے پہلے رسولوں کو
جھٹلایا گیا تو انہوں نے جھٹلائے جانے اور تکلیف دئیے جانے پر صبر کیایہاں تک کہ
ان کے پاس ہماری مدد آگئی۔ (پ7،الانعام:34)
(4) صبر کرو :
قَالَ
مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِ اللہ وَ اصْبِرُوْاۚ-اِنَّ الْاَرْضَ
لِلّٰهِ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖؕ-وَ الْعَاقِبَةُ
لِلْمُتَّقِیْنَ(۱۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان:موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا
اللہ کی مدد چاہو اور صبر کرو بیشک زمین کا مالک اللہ ہے اپنے بندوں میں جسے چاہے
وارث بنائے اور آخر میدان پرہیزگاروں کے ہاتھ ہے۔ (پ9،الاعراف: 128)
(5) دولت صبرکرنے والوں کو ہی ملتی ہے :
وَ
مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْاۚ-وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ
حَظٍّ عَظِیْمٍ(۳۵)
ترجمۂ کنز العرفان: اور یہ دولت صبرکرنے والوں کو ہی ملتی ہے
اوریہ دولت بڑے نصیب والے کو ہی ملتی ہے۔ (پ24، حٰم السجدۃ: 35)
تفسیر
صراط الجنان: وَ مَا
یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا: اور یہ دولت صبرکرنے والوں کو
ہی ملتی ہے :
یعنی برائیوں کو بھلائیوں سے ٹال دینے جیسی عظیم
خصلت کی دولت ان لوگوں کو ہی ملتی ہے جو تکلیفوں اور مصیبتوں وغیرہ پر صبر کرتے ہیں
اور یہ دولت اسے ہی ملتی ہے جو بڑے نصیب والا ہے۔
آج کل
ہمارے معاشرے میں صبر بالکل ہی ختم ہوتا جا رہا ہے جس کی بنا پر ہمارے معاشرے میں
لڑائیاں جھگڑے لا تعلقیاں بڑھتی جا رہی ہیں صبر کرنے میں بہت اجر ہے اس کے بارے میں
اللہ پاک نے اپنے پاک کلام کی کئی آیات میں ارشاد فرمایا اور حضور علیہ الصلوۃ
والسلام نے کئی احادیث مبارکہ میں صبر کے بارے میں ارشاد فرمایا۔ اور اسی طرح باقی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام نے بھی اپنی قوموں کو
صبر کرنے کی تلقین فرمائی۔ کئی
بزرگان دین کے اقوال صبر کے بارے میں ملتے ہیں کہ آپ نے اپنے متبعین کو اپنے پیروکاروں
کو صبر کی تلقین فرمائی۔
اللہ تعالی سے دعا ہے اللہ تعالی ہم سب کو صبر
کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
عامر
فرید ( درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فیضان
فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
صبر کا
مطلب لغوی طور پر برداشت کرنا اور روکنا ہے۔ شرعی اصطلاح میں، صبر کا مطلب ہے مشکلات، مصیبتوں اور آزمائشوں کے وقت اللہ کی رضا کے ساتھ ثابت قدم رہنا اور بے صبری سے بچنا۔ صبر کی تین اہم اقسام ہیں: اللہ کی اطاعت پر
صبر، اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے رکنے پر صبر، اور مصائب و تکالیف پر صبر کرنا ۔
(ا)اچھے
کام کا اجر: اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا
وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ
كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالایمان:مگر
جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)
تفسیر
صراط الجنان:
اس آیت کا معنی یہ ہے ’’لیکن وہ لوگ جنہوں نے
صبر کیا اور اچھے کام کئے تو وہ ان کی طرح نہیں ہیں کیونکہ انہیں جب کوئی مصیبت
پہنچی تو انہوں نے صبر سے کام لیا اور کوئی نعمت ملی تو اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ
کا شکر ادا کیا، جو ایسے اَوصاف کے حامل ہیں ان کے لئے گناہوں سے بخشش اور بڑا
ثواب یعنی جنت ہے۔
(2)اپنے
وطن سے جدا ہونے کا صبر: الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ
یَتَوَكَّلُوْنَ(۴۲) ترجمہ کنز الایمان : وہ جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب ہی
پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ (پ14، النحل: 42)
تفسیر صراط الجنان
جنہوں
نے صبر کیا : یعنی
عظیم ثواب کے حقدار وہ ہیں جنہوں نے اپنے اس وطن مکہ مکرمہ سے جدا ہونے پر صبر کیا
حالانکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حرم ہے اور ہر ایک کے دل میں اس کی محبت بسی ہوئی ہے۔
(3)اپنے
مجرم کے ظلم پر صبر: وَ
لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳) ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور
بخش دیاتو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔ (پ25،الشوریٰ: 43)
تفسیر
صراط الجنان:وَ
لَمَنْ صَبَرَ: اور
بیشک جس نے صبر کیا :
یعنی جس نے اپنے مجرم کے ظلم اور ایذا پر صبر کیا
اور اپنے ذاتی معاملات میں بدلہ لینے کی بجائے اسے معاف کر دیا تویہ ضرور ہمت والے
کاموں میں سے ہے کہ اس میں نفس سے مقابلہ ہے کیونکہ اپنے مجرم سے بدلہ لینے کا نفس
تقاضا کرتاہے لہٰذا اسے مغلوب کرنا بہادری ہے۔
(4)صبر
کا معنی: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا-
وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰) ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو صبر کرو اور
صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے
ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل عمران: 200)
تفسیر صراط الجنان: صبر کا معنی ہے نفس کو اس چیز
سے روکنا جو شریعت اور عقل کے تقاضوں کے مطابق نہ ہو ۔
(5)صبر
والے لوگ: اَلصّٰبِرِیْنَ وَ
الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ
بِالْاَسْحَارِ(۱۷) ترجمۂ کنز الایمان:صبر
والے اور سچے اور ادب والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے پہرسے معافی
مانگنے والے۔ (پ3،آل
عمران، 17)
تفسیر
صراط الجنان: متقی لوگ طاعتوں اور مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں نیز
گناہوں سے بچنے پر ڈٹے رہتے ہیں۔
قرآن
کریم نے صبر کو ایک اعلیٰ اور پسندیدہ صفت قرار دیا ہے۔ ہر
مسلمان کو چاہیے کہ وہ صبر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔ دنیا
میں مصیبتیں آئیں گی ناپسندیدہ حالات ہوں گے، مگر جو شخص صبر کرے گا، وہ دنیا میں
بھی کامیاب ہوگا اور آخرت میں بھی اللہ کے انعامات کا مستحق بنے گا۔
اللہ
تعالیٰ ہمیں صبر کرنے والوں میں شامل فرمائے، آمین
زین
العابدین (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،
پاکستان)
صبر
کرنا ایک بہت ہی اچھا عمل ہے اللہ تبارک و تعالی نے قرآن پاک میں جگہ جگہ صبر کرنے
کا حکم دیا ہے اور اللہ تبارک و تعالی صبر کرنے والوں کو دوست اور محبوب رکھتا ہے۔
اب آیئے ہم صبر کے متعلق آیات مبارکہ پڑھنے کی سعادت حاصل کریں :
(1) مدد
حاصل کرنا : وَ
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى
الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) ترجمۂ
کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر
جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ (پ1،
البقرۃ:45)
(2)
کفار کی باتوں پر صبر کرنا : وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ
اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا(۱۰) ترجمۂ کنز الایمان:اور کافروں کی باتوں پر
صبر فرماؤ اور انھیں اچھی طرح چھوڑ دو۔ (پ29، المزمل:10)
(3) صبر
کی تلقین کرنا: ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِؕ(۱۷)
اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ(۱۸) ترجمۂ کنز الایمان:پھر ہو ا
اُن سے جو ایمان لائے اور انہوں نے آپس میں صبر کی وصیتیں کیں اور آپس میں مہربانی
کی وصیتیں کیں۔ یہ د ہنی طرف والے ہیں ۔ (پ30، البلد:17، 18)
(4)
فرشتوں کی مدد کا وعدہ : بَلٰۤىۙ-اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا
وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ
مِّنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ مُسَوِّمِیْنَ(۱۲۵) ترجمہ
کنزالایمان: ہاں کیوں نہیں اگر تم صبر و تقویٰ کرو اور کافر اسی دم تم پر آپڑیں تو
تمہارا رب تمہاری مدد کو پانچ ہزار فرشتے نشان والے بھیجے گا ۔ (پ4،آل
عمران:125)
(5)
نقصان سے محفوظ ہونے والے : وَ الْعَصْرِۙ(۱) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲)
اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ
تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳) ترجمۂ کنز الایمان:اس زمانۂ محبوب کی قسم بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے مگر جو ایمان لائے
اور اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی
۔ (پ30، ) العصر:1تا3)
اللہ
تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں بھی صبر کرنے والا اور دوسروں کو صبر کی تلقین کرنے والا
بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی
الامین ﷺ
عبدالمنان
عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،
پاکستان)
صبر کا
معنی ہے نفس کو اس چیز سے روکنا جو شریعت اور عقل کے تقاضوں کے مطابق نہ ہو ۔ اور مُصَابَرہ کا معنی ہے دوسروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا ۔ صبر کے تحت ا س کی تمام اقسام داخل ہیں جیسے توحید،عدل،نبوت اور حشرو نَشر
کی معرفت حاصل کرنے میں نظر و اِستدلال کی مشقت برداشت کرنے پر صبر کرنا ۔ واجبات اور مُستحَبات کی ادائیگی کی مشقت پر صبر کرنا ۔ ممنوعات سے بچنے کی مشقت پر صبر کرنا ۔ دنیا
کی مصیبتوں اور آفتوں جیسے بیماری ، محتاجی قحط اور خوف وغیرہ پر صبر کرنا اور
مُصَابرہ میں گھر والوں ،پڑوسیوں اور رشتہ داروں کی بد اخلاقی برداشت کرنا اور برا
سلوک کرنے والوں سے بدلہ نہ لینا داخل ہے ، اسی طرح نیکی کا حکم دینا ، برائی سے
منع کرنا اور کفار کے ساتھ جہاد کرنا بھی مُصَابرہ میں داخل ہے ۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 200، 1 /
340، تفسیر کبیر، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 200، 3 / 483، ملتقطاً)
(1) صبر
اور بخشش : وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ
اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳) ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور
بخش دیاتو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔ (پ25،الشوریٰ: 43)
تفسیر
صراط الجنان:
یعنی
جس نے اپنے مجرم کے ظلم اور ایذا پر صبر کیا اور اپنے ذاتی معاملات میں بدلہ لینے
کی بجائے اسے معاف کر دیا تویہ ضرور ہمت والے کاموں میں سے ہے کہ اس میں نفس سے
مقابلہ ہے کیونکہ اپنے مجرم سے بدلہ لینے کا نفس تقاضا کرتاہے لہٰذا اسے مغلوب
کرنا بہادری ہے۔
(2)نماز
سے مدد چاہنا اور صبر کرنا : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
اس سے
پہلی آیات میں ذکر اور شکر کا بیان ہوا اور اس آیت میں صبر اور نماز کا ذکر کیا
جا رہا ہے کیونکہ نماز ، ذکراللہ اور صبر و شکر پر ہی مسلمان کی زندگی کامل ہوتی
ہے ۔ اس آیت میں فرمایا گیا کہ صبر اور نماز سے
مدد مانگو ۔ صبر سے مدد طلب کرنا یہ ہے کہ عبادات کی ادائیگی،
گناہوں سے رکنے اور نفسانی خواہشات کو پورا نہ کرنے پر صبر کیا جائے اور نماز
چونکہ تمام عبادات کی اصل اوراہل ایمان کی معراج ہے اور صبر کرنے میں بہترین معاون
ہے اس لئے اس سے بھی مدد طلب کرنے کا حکم دیاگیا اور ان دونوں کا بطور خاص اس لئے
ذکر کیاگیا کہ بدن پر باطنی اعمال میں سب سے سخت صبر اور ظاہری اعمال میں سب سے
مشکل نمازہے ۔ (روح
البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: 153، 1 / 257، ملخصاً)
(3) مال
سے آزمائش اور صبر: وَ
لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ
الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ
کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور
جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
وَ
لَنَبْلُوَنَّكُمْ: اور ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے :
آزمائش
سے فرمانبردار اور نافرمان کے حال کا ظاہر کرنا مراد ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول خوف سے اللہ تعالیٰ کا ڈر، بھوک سے
رمضان کے روزے، مالوں کی کمی سے زکوٰۃ و صدقات دینا ،جانوں کی کمی سے امراض کے ذریعہ
اموات ہونا، پھلوں کی کمی سے اولاد کی موت مراد ہے کیونکہ اولاد دل کا پھل ہوتی
ہے،جیساکہ حدیث شریف میں ہے،سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ جب کسی بندے کا
بچہ مرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے:’’ تم نے میرے بندے کے بچے کی روح
قبض کی ۔ وہ
عرض کرتے ہیں کہ ’’ہاں ، یارب! عَزَّوَجَلَّ، پھر فرماتا ہے:’’ تم نے اس کے دل کا
پھل لے لیا ۔ وہ
عرض کرتے ہیں :ہاں ، یارب! عَزَّ وَجَلَّ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اس پر میرے بندے
نے کیا کہا؟ فرشتے عرض کرتے ہیں : اس نے تیری حمد کی اور ’’اِنَّا
لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ‘‘ پڑھا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’ اس کے لیے
جنت میں مکان بناؤ اور اس کا نام بیتُ الحمد رکھو۔ ‘‘ (ترمذی، کتاب الجنائز، باب فضل المصیبۃ
اذا احتسب، 2 / 313، الحدیث: 1023)
(4)
اللہ تَعَالٰی پر بھروسہ کرنا : الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ
یَتَوَكَّلُوْنَ(۴۲) ترجمہ کنز الایمان : وہ جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب ہی
پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ (پ14، النحل: 42)
تفسیر
صراط الجنان : اَلَّذِیْنَ صَبَرُوْا:جنہوں
نے صبر کیا :
یعنی
عظیم ثواب کے حقدار وہ ہیں جنہوں نے اپنے اس وطن مکہ مکرمہ سے جدا ہونے پر صبر کیا
حالانکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حرم ہے اور ہر ایک کے دل میں اس کی محبت بسی ہوئی
ہے۔ یونہی
کفار کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر اور جان ومال خرچ کرنے پر صبر کیا اور وہ
اپنے رب عَزَّوَجَلَّ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس کے دین کی وجہ سے جو پیش آئے
اس پر راضی ہیں اور مخلوق سے رشتہ منقطع کرکے بالکل حق کی طرف متوجہ ہیں اور سالک
کے لئے یہ انتہائے سلوک کا مقام ہے۔ (تفسیرکبیر، النحل، تحت الآیۃ: 42، 7 / 210، روح البیان، النحل، تحت الآیۃ:
42، 5/ 36، ملتقطاً)
(5)سب
سے بہترین حکم: وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى
یَحْكُمَ اللہ ۚۖ-وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠(۱۰۹) ترجمۂ کنز الایمان: اور اس پر چلو جو تم پر وحی
ہوتی ہے اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ حکم فرمائے اور وہ سب سے بہتر حکم فرمانے
والا ہے ۔ (پ11،
یونس:109)
یعنی
اے حبیب! ﷺ ، اللہ تعالیٰ آپ کی طرف جو وحی فرماتا ہے آپ اسی کی پیروی کر یں اور
آپ کی قوم کے کفار کی طرف سے آپ کو جو اَذِیَّت پہنچتی ہے اس پر صبر کرتے رہیں
حتّٰی کہ اللہ تعالیٰ آپ کے دین کو غلبہ عطا فرما کر ان کے خلاف آپ کی مدد کا فیصلہ
فرمائے ،اللہ عَزَّوَجَلَّ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: 109، 2 / 338)
محمد
جمیل عطاری ( درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
صبر کی
تعریف : صبر کا معنی ہے نفس کو ا س چیز پر روکنا
جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے
رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو۔ (مفردات امام راغب، حرف الصاد، ص474)
قرآن مجید اور آحادیث کثیرہ میں مختلف مقامات پر
صبر کی تلقین کی گئی ہے۔ آیئے چند آیات ملاحظہ فرمائیں :
صبر پر جنت : وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا
جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ(۱۲) ترجمہ
کنزالایمان:اور ان کے صبر پر انہیں جنت اور ریشمی کپڑے صِلہ میں دئیے ۔ (پ29، الدھر:12)
حدیث
میں ہے : صبر کرنے والوں کی جزا دیکھ کر قیامت کے دن لوگ حسرت کریں گے۔ (معجم الکبیر، 12 / 141، الحدیث: 12829)
رب کے لیے صبر : وَ
لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ(۷) ترجمہ کنزالایمان :اور اپنے رب کے لیے صبر کئے
رہو۔ (پ29، المدثر:7)
صبر کرنے والے اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں:
وَ اللہ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶) ترجمہ کنز العرفان : اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت
فرماتا ہے۔ ( پ 4 ، آل عمران : 146 )
صبر ہمت کا کام : وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ
اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳) ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور
بخش دیاتو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔ (پ25،الشوریٰ: 43)
وَ
لَمَنْ صَبَرَ: اور
بیشک جس نے صبر کیا : یعنی جس نے اپنے مجرم کے ظلم اور ایذا پر صبر کیا
اور اپنے ذاتی معاملات میں بدلہ لینے کی بجائے اسے معاف کر دیا تویہ ضرور ہمت والے
کاموں میں سے ہے کہ اس میں نفس سے مقابلہ ہے کیونکہ اپنے مجرم سے بدلہ لینے کا نفس
تقاضا کرتاہے لہٰذا اسے مغلوب کرنا بہادری ہے۔(تفسیر صراط الجنان تحت الآیۃ۔)
نصف ایمان :
حضرت
عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ۔ نبی
اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’صبر نصف ایمان ہے اور یقین پورا ایمان ہے۔ (معجم الکبیر، خطبۃ ابن مسعود ومن کلامہ، 9 / 104، الحدیث: 8544)
ظلم پر
صبر کرنے سے متعلق ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ
اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖؕ-وَ لَىٕنْ
صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ(۱۲۶)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور اگر تم (کسی کو)سزا دینے لگو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف
پہنچائی گئی ہو اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر والوں کیلئے صبر سب سے بہتر ہے۔ (پ14،
النحل:126)
اللہ
تعالیٰ ہمیں ظالموں کے ظلم اور شریروں کے شر سے محفوظ فرمائے،اور ظلم ہونے کی صورت
میں صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین
محمد
ابوبکر عطاری (درجہ ثالثہ مرکزی جامعۃالمدینہ
فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
مصیبت
میں صبرایک ایساہتھیار ہےجس کےذریعے بندہ اللہ پاک کی رضاحاصل کرتا ہےاور اللہ پاک
کے یہاں مؤمن بلند رتبہ پا لیتا ہے۔ مومن مصیبت پر اجر اس وقت پاتا ہے جب مصیبت
کےوقت صبر کرے۔ ورنہ
کبھی نہ کبھی بعد میں تو صبر آ ہی جاتا ہے،اور مصیبت کے وقت صبر کی بجائے بے صبری
کا مظاہرہ کرنے سے وہ کھوئی ہوئی نعمت
واپس تو نہیں آ جاتی بلکہ اللہ پاک کی ناراضی
کی صورت میں بندہ اپنے اوپر مزیدنعمتوں کے دروازے بند کر لیتا
ہے۔
صبر کی
تعریف : صبر کا
معنی ہے نفس کو ا س چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا
نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو۔ (مفردات امام راغب، حرف الصاد، ص474)
صبر کی
اقسام: بنیادی
طور پر صبر کی دو قسمیں ہیں : (1) بدنی صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اور
ان پر ثابت قدم رہنا (2) طبعی خواہشات اور خواہش کے تقاضوں سے صبر
کرنا۔ پہلی قسم کا صبر جب شریعت کے موافق ہو توقابل تعریف ہوتا ہے لیکن مکمل طور
پر تعریف کے قابل صبر کی دوسری قسم ہے۔ (احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، بیان الاسامی التی تتجدد للصبر۔ ۔ ۔ الخ، 4 / 82 ۔ )
صبر ایسا
بہترین وصف ہے جس کا حکم ہمارے رب عزوجل نے ہمیں دیا،اللہ پاک کا فرمانِ عالیشان
ہے :
(1) وَ
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى
الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ
اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠(۴۶)
ترجمۂ
کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر
جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ جنہیں یقین
ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا۔ (پ1، البقرۃ:45، 46)
تفسیر
صراط الجنان:
اس آیت
کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اس سے پہلی آیات میں بنی اسرائیل کوسید المرسَلین ﷺ پر ایمان
لانے ،ان کی شریعت پر عمل کرنے ،سرداری ترک کرنے اور منصب و مال کی محبت دل سے
نکال دینے کا حکم دیا گیا اور ا س آیت میں ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے بنی
اسرائیل! اپنے نفس کو لذتوں سے روکنے کے لئے صبر سے مدد چاہو اور اگر صبر کے ساتھ
ساتھ نماز سے بھی مدد حاصل کرو تو سرداری اورمنصب و مال کی محبت دل سے نکالنا
تمہارے لئے آسان ہو جائے گا، بیشک نماز ضرور بھاری ہے البتہ ان لوگوں پر بھاری نہیں
جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔
(2) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)
ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
تفسیر
صراط الجنان:
اس سے
پہلی آیات میں ذکر اور شکر کا بیان ہوا اور اس آیت میں صبر اور نماز کا ذکر کیا
جا رہا ہے کیونکہ نماز ، ذکراللہ اور صبر و شکر پر ہی مسلمان کی زندگی کامل ہوتی
ہے ۔ اس آیت میں فرمایا گیا کہ صبر اور نماز سے
مدد مانگو ۔ صبر سے مدد طلب کرنا یہ ہے کہ عبادات کی ادائیگی،
گناہوں سے رکنے اور نفسانی خواہشات کو پورا نہ کرنے پر صبر کیا جائے اور نماز
چونکہ تمام عبادات کی اصل اوراہل ایمان کی معراج ہے اور صبر کرنے میں بہترین معاون
ہے اس لئے اس سے بھی مدد طلب کرنے کا حکم دیاگیا اور ان دونوں کا بطور خاص اس لئے
ذکر کیاگیا کہ بدن پر باطنی اعمال میں سب سے سخت صبر اور ظاہری اعمال میں سب سے
مشکل نمازہے ۔ (روح
البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: 153، 1 / 257، ملخصاً)
حضورسید المرسلین ﷺ بھی نماز سے مدد چاہتے تھے جیساکہ حضرت حذیفہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :’’ نبی کریم ﷺ کو جب کوئی سخت مہم پیش آتی تو آپ ﷺ نماز میں مشغول ہوجاتے ۔ ( ابو داؤد، کتاب التطوع، باب وقت قیام
النبی ﷺ من اللیل، 2 / 52، الحدیث: 1319)
اسی طرح نماز اِستِسقا اور نمازِحاجت بھی نماز
سے مدد چاہنے ہی کی صورتیں ہیں۔
(3) اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ
الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ(۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان:صبر والے اور سچے اور ادب
والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے پہرسے معافی مانگنے والے۔ (پ3،آل عمران، 17)
تفسیر
صراط الجنان:دنیا کے طالبوں کا ذکر کرنے کے بعد مولیٰ عَزَّوَجَلَّ کی طلب رکھنے
والے مُتَّقین کا بیان کیا گیا تھا۔ یہاں
ان کے کچھ اوصاف بیان کئے جارہے ہیں۔
(1)
متقی لوگ عبادت و ریاضت کے باوجود اپنی اطاعت پر ناز نہیں کرتے بلکہ اپنے مولیٰ
عَزَّوَجَلَّ سے گناہوں کی مغفرت اورعذاب ِ جہنم سے نجات کا سوال کرتے ہیں۔
(2)
متقی لوگ طاعتوں اور مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں نیز گناہوں سے بچنے پر ڈٹے رہتے ہیں۔
(3)
متقی لوگوں کے قول ،ارادے اورنیّتیں سب سچی ہوتی ہیں۔
(4)
متقی لوگ اللہ تعالیٰ کے سچے فرمانبردار ہوتے ہیں۔
(5)
متقی لوگ راہِ خدا میں مال خرچ کرنے والے ہوتے ہیں۔
(6)
متقی لوگ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرتے ہیں ، نماز
پڑھتے ہیں ، توبہ و استغفار کرتے ہیں ، رب تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری اور مناجات
کرتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ رات کا آخری پہر نہایت فضیلت
والا ہے، یہ وقت خَلْوَت اور دعاؤں کی قبولیت کا ہے۔ حضرت لقمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے فرزند سے فرمایا تھا کہ’’
مرغ سے کم نہ رہنا کہ وہ تو سَحری کے وقت ندا کرے اور تم سوتے رہو۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 16، 1 / 236)
صبر کے
فضائل:
قرآن و حدیث اور بزرگان دین کے اقوال میں صبر
کے بے پناہ فضائل بیان کئے گئے ہیں ،ترغیب کے لئے ان میں سے 10فضائل کا خلاصہ درج
ذیل ہے:
(1)
اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (پ
10،
الانفال: 46)
(2)
صبر کرنے والے کو اس کے عمل سے اچھا اجر ملے گا۔ (پ14، النحل: 96)
(3)
صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر ملے گا۔ (پ23،
الزمر: 10)
(4)
صبر کرنے والوں کی جزا دیکھ کر قیامت کے دن لوگ حسرت کریں گے۔ (معجم الکبیر، 12 / 141، الحدیث: 12829)
(5)
صبر کرنے والے رب کریم عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے درودو ہدایت اور رحمت پاتے ہیں۔ (پ2،
البقرۃ: 157)
(6)
صبر کرنے والے اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں۔ (پ4، آل عمران: 146)
(7)
صبر آدھا ایمان ہے۔
(مستدرک، کتاب التفسیر، الصبر نصف الایمان، 3 / 237، الحدیث: 3718)
(8)
صبر جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ (احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، بیان فضیلۃ الصبر، 4 / 76)
(9)
صبر کرنے والے کی خطائیں مٹا دی جاتی ہیں۔ (ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الصبر
علی البلاء، 4 / 179، الحدیث:
2407)
(10)
صبر ہر بھلائی کی کنجی ہے۔ (شعب الایمان، السبعون من شعب الایمان، فصل
فی ذکر ما فی الاوجاع۔ ۔ ۔ الخ، 7 / 201، رقم:
9996)
لہٰذا
ہمیں بھی مصیبت میں بےصبری کا مظاہرہ کرکے اللہ پاک کی ناراضی کمانےاور اپنے اوپر
مزیدنعمتوں کےدروازےبندکر نےکی بجائےصبرکا دامن تھام کر اللہ پاک کی رضا حاصل کرنے
اوراس کی مقدّس بارگاہ سے اجر حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ دنیا و آخرت میں
کامیابی ہمارا مقدّر بنے۔
اللہ پاک ہمیں عمل
کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
صبر ایک
بہت بڑی نعمت ہے جس کی توفیق رب تعالیٰ کے خاص بندوں کو ہی ملتی ہے، یہ مومنین کی
صفات میں سے ایک اہم صفت ہے اور کی بہت زیادہ فضیلت قرآن و احادیث میں آئی ہے۔ آج
ہم صبر کے متعلق معلومات حاصل کریں گے۔
صبر و
نماز سے مدد چاہو: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
اس آیت
کے تحت تفسیر صراط الجنان میں صبر کی اقسام بیان کی گئی ہیں:
بنیادی
طور پر صبر کی دو قسمیں ہیں : (1) بدنی صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اور
ان پر ثابت قدم رہنا (2) طبعی خواہشات اور خواہش کے تقاضوں سے صبر
کرنا۔ پہلی قسم کا صبر جب شریعت کے موافق ہو توقابل تعریف ہوتا ہے لیکن مکمل طور
پر تعریف کے قابل صبر کی دوسری قسم ہے۔ (احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، بیان الاسامی التی تتجدد للصبر۔ ۔ ۔ الخ، 4 / 82)
خوشخبری
ہے صبر کرنے والوں کے لیے:
وَ
لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ
الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵)
ترجمۂ
کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور
جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
ہمیں
بھی چاہیے کہ رب العالمین کی جانب سے آنے والی مصیبتوں پر صبر کرے کہ ایک روایت میں
ہے کہ حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، حضور
اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’مسلمان کو جو
تکلیف ،رنج، ملال اور اَذِیَّت و غم پہنچے، یہاں تک کہ ا س کے پیر میں کوئی کانٹا
ہی چبھے تو اللہ تعالیٰ ان کے سبب اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔ (بخاری، کتاب المرضی، باب ما جاء فی کفارۃ المرض، 4 / 3، الحدیث: 5641)
اللہ
عزوجل سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مصیبتوں اور پریشانیوں پر صبر کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین یارب العالمین
سید
بلال (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
صبر کی
تعریف: صبر کا
معنی ہے کہ نفس کو اس چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا
نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا شریعت اور عقل تقاضا کر رہی ہو۔ (مفردات امام راغب،حرف الصاد،ص 474)
صبر کا
تعلق خاص طور پر انسان کے ساتھ ہوتا ہے نہ کہ جانوروں سے، قرآن پاک میں بھی بہت سی آیات میں صبر کا تذکرہ
موجود ہے،آئیے ان آیات میں سے چند کا مطالعہ کرتے ہیں:
(1)صبر
سب سے اچھا: وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ
فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖؕ-وَ لَىٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ
لِّلصّٰبِرِیْنَ(۱۲۶) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر تم (کسی
کو)سزا دینے لگو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہو اور اگر تم
صبر کرو تو بیشک صبر والوں کیلئے صبر سب سے بہتر ہے۔ (پ14،
النحل:126)
(2)اچھی
طرح صبر کرو: فَاصْبِرْ صَبْرًا
جَمِیْلًا(۵) ترجمہ
کنزالایمان : تو تم اچھی طرح صبر کرو۔ (پ29،
المعارج: 5)
(3)بڑے
نصیب والا: وَ
مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْاۚ-وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ
حَظٍّ عَظِیْمٍ(۳۵) ترجمۂ کنز العرفان: اور یہ
دولت صبرکرنے والوں کو ہی ملتی ہے اوریہ دولت بڑے نصیب والے کو ہی ملتی ہے۔ (پ24، حٰم السجدۃ: 35)
(4)صبر
کا بدلہ: اُولٰٓىٕكَ
یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا ترجمہ کنز الایمان : ان کو ان کا اجر دوبالا
دیا جائے گا بدلہ ان کے صبر کا۔ (پ 20،
القصص: 54)
(5)صابر
ہمیشہ جنت میں: اُولٰٓىٕكَ
یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ
سَلٰمًاۙ (۷۵)خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا(۷۶)
ترجمہ کنزالایمان : ان کو جنت کا سب سے
اونچا بالاخانہ انعام ملے گا بدلہ ان کے صبر کا اور وہاں مجرے(دعا وآداب) اور
سلام کے ساتھ اُن کی پیشوائی ہوگی۔ ہمیشہ اس میں رہیں گے کیا ہی اچھی ٹھہرنے اور
بسنے کی جگہ۔ (پ19،
الفرقان:75، 76)
اللہ
پاک ہمیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد
آصف قادری رضوی (درجہ خامسہ جامعۃ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
آج پر
فتن دور ہے طرح طرح کے فتنے اور
آزمائشیں ہماری زندگی میں آتی ہیں
اور انسان پر جو بھی چھوٹی سی آزمائش اللہ
کی طرف سے آتی ہے تو بہت سے لوگوں کو دیکھا
گیا ہے کہ وہ اس پر صبر نہیں کرتے معاذ اللہ مختلف الفاظ معاشرے میں سننے کو ملتے
ہیں چھوٹی سی تکلیف پر بھی شکوہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
ہمارے مالک نے ہمیں اپنی پیاری کتاب میں اس پر بھی رہنمائی فرمائی ہے کہ میرے بندے میرے
پیارے کلام کو پڑھ کر اس پر عمل کریں اور اس کے مطابق زندگی گزاریں کہ اگر کوئی
زندگی میں آزمائش آئے تو اس پر صبر کریں اور اس پر اجر کیا دوں گا؟ وہ خود ہی مالک نے اپنے پیارے کلام میں ارشاد
فرما دیا۔آئیں اور سنتے ہیں کہ ہماری اللہ تبارک و تعالی نے کیا تربیت فرمائی ہے
اور ہمیں کیا حکم دیا کہ ہم کیسے زندگی گزاریں اور اگر آزمائش ہے تو اس پر صبر کیسے
کریں ؟
ارشاد
باری تعالیٰ ہے:
وَ
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى
الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ
اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠(۴۶)
ترجمۂ
کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر
جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ جنہیں یقین
ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا۔ (پ1، البقرۃ:45، 46)
تفسیر
صراط الجنان: وَاسْتَعِیْنُوْابِالصَّبْرِوَالصَّلٰوةِ:اورصبراورنماز
سے مدد حاصل کرو:
اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اس سے پہلی آیات
میں بنی اسرائیل کوسید المرسَلین ﷺ پر ایمان لانے ،ان کی شریعت پر عمل کرنے ،سرداری
ترک کرنے اور منصب و مال کی محبت دل سے نکال دینے کا حکم دیا گیا اور ا س آیت میں
ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے بنی اسرائیل! اپنے نفس کو لذتوں سے روکنے کے لئے صبر
سے مدد چاہو اور اگر صبر کے ساتھ ساتھ نماز سے بھی مدد حاصل کرو تو سرداری اورمنصب
و مال کی محبت دل سے نکالنا تمہارے لئے آسان ہو جائے گا، بیشک نماز ضرور بھاری ہے
البتہ ان لوگوں پر بھاری نہیں جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے مسلمانو! تم رضائے الٰہی کے حصول اور اپنی حاجتوں
کی تکمیل میں صبر اور نماز سے مدد چاہو۔
سبحان اللہ! کیا پاکیزہ تعلیم ہے۔ صبر کی وجہ سے قلبی قوت میں اضافہ ہے اور نماز کی برکت سے اللہ تعالیٰ سے
تعلق مضبوط ہوتا ہے اور یہ دونوں چیزیں پریشانیوں کو برداشت کرنے اور انہیں دور
کرنے میں سب سے بڑی معاون ہیں۔
اِنَّهَا
لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَ: بیشک نماز ضرور بھاری ہے مگر
ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں:
آیت کے اس حصے اور اس کے بعد والی آیت کاخلاصہ
یہ ہے کہ گناہوں اور خواہشات سے بھرے ہوئے دلوں پر نماز بہت بوجھل ہوتی ہے اور عشق
و محبت ِ الہٰی سے لبریز اور خوفِ خدا سے جھکے ہوئے دلوں پر نماز بوجھ نہیں بلکہ
نماز ان کیلئے لذت و سرور اور روحانی و قلبی معراج کا سبب بنتی ہے اور یہ وہ لوگ ہیں
جو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے ملاقات پر یقین رکھتے ہیں اور اُس مولیٰ کریم کے دیدار
کی تڑپ رکھتے ہیں۔
اس میں بشارت ہے کہ آخرت میں مؤمنین کو دیدار
الٰہی کی نعمت نصیب ہو گی،نیزاللہ تعالیٰ سے ملاقات اور اس کی طرف رجوع میں ترغیب
و ترہیب دونوں ہیں اور ان دونوں کو پیشِ نظر رکھنا نماز میں خشوع پیدا ہونے کا ذریعہ
ہے، گویا نماز میں خشوع و خضوع قائم رکھنے کا حکم بھی دیا اور اس کے حصول کا طریقہ
بھی بتادیا۔
ارشاد
باری تعالیٰ ہے:
وَ
لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ
وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵)
ترجمۂ
کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور
جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
تفسیر صراط الجنان: وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ: اور
ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے :
آزمائش سے فرمانبردار اور نافرمان کے حال کا
ظاہر کرنا مراد ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول: خوف سے اللہ تعالیٰ کا ڈر، بھوک سے رمضان کے
روزے مالوں کی کمی سے زکوٰۃ و صدقات دینا ،جانوں کی کمی سے امراض کے ذریعہ اموات
ہونا پھلوں کی کمی سے اولاد کی موت مراد ہے کیونکہ اولاد دل کا پھل ہوتی ہے جیساکہ
حدیث شریف میں ہے سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کسی بندے کا بچہ مرتا ہے تو
اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے:’’ تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کی وہ عرض
کرتے ہیں کہ ہاں یارب عَزَّوَجَلَّ، پھر فرماتا ہے تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا
وہ عرض کرتے ہیں: ہاں یارب عَزَّ وَجَلَّ
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس پر میرے بندے نے کیا کہا فرشتے عرض کرتے ہیں اس نے تیری
حمد کی اور اِنَّا
لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ پڑھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کے لیے جنت
میں مکان بناؤ اور اس کا نام بیتُ الحمد رکھو۔( ترمذی، کتاب الجنائز، باب فضل المصیبۃ اذا
احتسب، 2 / 313، الحدیث: 1023)
آزمائشیں
اور صبر: یاد رہے کہ زندگی میں قدم قدم پر آزمائشیں
ہیں ، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی مرض سے، کبھی جان و مال کی کمی سے، کبھی
دشمن کے ڈر خوف سے، کبھی کسی نقصان سے، کبھی آفات و بَلِیّات سے اور کبھی نت نئے
فتنوں سے آزماتا ہے اور راہِ دین اور تبلیغِ دین تو خصوصاً وہ راستہ ہے جس میں
قدم قدم پر آزمائشیں ہیں ، اسی سے فرمانبردار و نافرمان محبت میں سچے اور محبت کے
صرف دعوے کرنے والوں کے درمیان فرق ہوتا ہے حضرت نوح علیہ السلام پر اکثرقوم کا ایمان
نہ لانا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا آگ
میں ڈالا جانا فرزند کو قربان کرنا، حضرت ایوب علیہ السلام کو بیماری میں مبتلا کیا
جانا ،ان کی اولاد اور اموال کو ختم کر دیا جانا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مصرسے مدین جانا، مصر سے ہجرت کرنا، حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کا ستایا جانا اور انبیاء
کرام علیہ السلام کا شہید کیا جانا یہ سب
آزمائشوں اور صبر ہی کی مثالیں ہیں اور ان مقدس ہستیوں کی آزمائشیں اور صبر ہر
مسلمان کے لئے ایک نمونے کی حیثیت رکھتی ہیں لہٰذا ہر مسلمان کوچاہئے کہ اسے جب بھی
کوئی مصیبت آئے اوروہ کسی تکلیف یا اَذِیَّت میں مبتلا ہو تو صبر کرے اور اللہ
تعالیٰ کی رضا پر راضی رہے اور بے صبری کا مظاہرہ نہ کرے۔
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ
فرماتے ہیں بہت موٹی سی بات ہے جو ہر شخص جانتا ہے کہ کوئی کتنا ہی غافل ہو مگر جب
اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا وہ کسی مصیبت اور مرض میں مبتلا ہوتا ہے تو کس قدر
خداکو یاد کرتا اور توبہ و استغفار کرتا ہے اور یہ تو بڑے رتبہ والوں کی شان ہے کہ
وہ تکلیف کا بھی اسی طرح استقبال کرتے ہیں جیسے راحت کا استقبال کرتے ہیں مگر ہم جیسے
کم سے کم اتنا تو کریں کہ جب کوئی مصیبت یا تکلیف آئے تو صبر و استقلال سے کام لیں
اور جَزع و فَزع یعنی رونا پیٹنا کرکے آتے ہوئے ثواب کو ہاتھ سے نہ جانے دیں اور
اتنا تو ہر شخص جانتا ہے کہ بے صبری سے آئی ہو ئی مصیبت جاتی نہ رہے گی پھر اس
بڑے ثواب جو احادیث میں بیان کیاگیا ہے سے محرومی دوہری مصیبت ہے۔ (بہار شریعت، کتاب الجنائز، بیماری کا بیان،
11/ 799)
اور کثیر
احادیث میں مسلمان پر مصیبت آنے کا جو ثواب بیان کیا گیا ہے ان میں سے چند احادیث
یہ ہیں ،چنانچہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے،رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ
تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے تکالیف میں مبتلا کرتا ہے۔ (بخاری، کتاب المرضی، باب شدۃ المرض، 4 /
4، الحدیث: 5646)
حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی
اللہ عنہما سے مروی ہے، حضور اقدس ﷺ نے
ارشاد فرمایا: ’’مسلمان کو جو تکلیف ،رنج، ملال اور اَذِیَّت و غم پہنچے، یہاں تک
کہ ا س کے پیر میں کوئی کانٹا ہی چبھے تو اللہ تعالیٰ ان کے سبب اس کے گناہ مٹا دیتا
ہے۔( بخاری، کتاب المرضی، باب ما جاء فی کفارۃ
المرض، 4 / 3، الحدیث: 5641)
حضرت ابوہریرہرضی اللہ عنہ سے روایت
ہے،رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’
مسلمان مرد و عورت کے جان و مال اور اولاد میں ہمیشہ مصیبت رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ
اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملتا ہےکہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔( ترمذی ، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الصبر علی
البلاء، 4 / 179، الحدیث: 6407)
حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے
روایت ہے،حضور پر نور ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’قیامت
کے دن جب مصیبت زدہ لوگوں کو ثواب دیا جائے گا تو آرام و سکون والے تمنا کریں گے
،کاش! دنیا میں ان کی کھالیں قینچیوں سے کاٹ دی گئی ہوتیں۔( ترمذی ، کتاب الزہد، 4 / 180، الحدیث: 6410)
ارشاد
باری تعالیٰ ہے:
ترجمۂ کنز الایمان: کیا اس گمان میں ہو کہ جنت
میں چلے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا اور نہ صبر والوں
کی آزمائش کی۔ (پ3،
آل عمران :142)
تفسیر
صراط الجنان: اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ
تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ کیا تم اس گمان میں ہو کہ تم جنت میں داخل
ہوجاؤ گے:
یہاں مسلمان پر آنے والی آزمائشوں کی حکمت کا
بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اگر تمہیں آزمائشیں آتی ہیں تو اس پر بے قرار
اور حیرت زدہ ہونے کی ضرورت نہیں کہ ہم تو مسلمان ہیں ، ہمیں اللہ تعالیٰ کیوں تکلیفوں
میں مبتلا فرما رہا ہے؟یاد رکھو کہ تمہارا امتحان کیا جائے گا تمہیں ایمان کی کسوٹی
پر پرکھا جائے گا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے کیسے زخم کھاتے اور تکلیف
اُٹھاتے ہو اور کتنا ثابت قدم رہتے ہو تھوڑی سی تکلیف پر چِلّا اٹھنا اور دہائی دینا
شروع کردینا ایمان والوں کا شیوہ نہیں۔ جنت
میں داخلہ مطلوب ہے تو ان آزمائشوں پر پورا اترنا پڑے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی
راہ میں قربانی دینا پڑے گی اور ہر حال میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔
زباں پہ شکوہِ رنج و اَلَم لایا نہیں کرتے
نبی کے نام لیوا غم سے گھبرایا نہیں کرتے
اِس میں اُن لوگوں کو سرزنش تنبیہ ہے جو
اُحد کے دن کفار کے مقابلہ سے بھی آگے تھے۔ نیز اس آیت کو سامنے رکھ کر ہمیں اپنے
اعمال اور اپنی حالت پر بھی غور کرنا چاہیے کہ اگر ہمیں راہِ خدا میں اپنا مال یا
وقت دینا پڑے تو ہم اس میں کتنا پورا اترتے ہیں افسوس کہ ہماری حالت کچھ اچھی نہیں
فضولیات میں خرچ کرنے کیلئے پیسہ بھی ہے اور وقت بھی لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ کی
راہ میں خرچ کرتے وقت نہ پیسہ باقی رہتا ہے اور نہ وقت۔
تنبیہ: آیت میں علم کا لفظ ہے یہاں اس سے
مراد آزمائش کرنا ہے۔
ارشاد
باری تعالیٰ ہے:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا-
وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو صبر کرو اور
صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے
ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل عمران: 200)
تفسیر
صراط الجنان:اِصْبِرُوْا
وَ صَابِرُوْاصبر
کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو:
صبر کا
معنی ہے نفس کو اس چیز سے روکنا جو شریعت اور عقل کے تقاضوں کے مطابق نہ ہو اور
مُصَابَرہ کا معنی ہے دوسروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا صبر کے تحت ا س کی تمام
اقسام داخل ہیں جیسے توحید،عدل،نبوت اور حشرو نَشر کی معرفت حاصل کرنے میں نظر و
اِستدلال کی مشقت برداشت کرنے پر صبر کرنا ۔ واجبات اور مُستحَبات کی ادائیگی کی مشقت پر صبر کرنا ۔ ممنوعات سے بچنے کی مشقت پر صبر کرنا دنیا کی مصیبتوں اور آفتوں جیسے بیماری
محتاجی قحط اور خوف وغیرہ پر صبر کرنا اور مُصَابرہ میں گھر والوں ،پڑوسیوں اور
رشتہ داروں کی بد اخلاقی برداشت کرنا اور برا سلوک کرنے والوں سے بدلہ نہ لینا
داخل ہے اسی طرح نیکی کا حکم دینا برائی سے منع کرنا اور کفار کے ساتھ جہاد کرنا
بھی مُصَابرہ میں داخل ہے
وَ رَابِطُوْا اور
اسلامی سرحد کی نگہبانی کرو اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں: 1۔ سرحد پر اپنے جسموں اور گھوڑوں کو کفار
سے جہاد کے لئے تیار رکھو ۔ 2 ۔اللہ
تعالیٰ کی اطاعت پر کمر بستہ رہو ۔
اسلامی
سرحد کی نگہبانی کرنے کے فضائل:
ارشاد
باری تعالیٰ ہے:
قَالَ
مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللہ وَ اصْبِرُوْاۚ-اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ
یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۱۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان:موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا
اللہ کی مدد چاہو اور صبر کرو بیشک زمین کا مالک اللہ ہے اپنے بندوں میں جسے چاہے
وارث بنائے اور آخر میدان پرہیزگاروں کے ہاتھ ہے۔ (پ9،الاعراف: 128)
تفسیر
صراط الجنان: قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ:موسیٰ
نے اپنی قوم سے فرمایا :
فرعون
کے اس قول کہ ہم بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کریں گے کی وجہ سے بنی اسرائیل میں
کچھ پریشانی پیدا ہوگئی اور اُنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اس کی شکایت کی،
اس کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا:
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے مدد طلب کرو، وہ تمہیں کافی ہے اور آنے والی مصیبتوں اور
بلاؤں سے گھبراؤ نہیں بلکہ ان پرصبر کرو، بیشک زمین کا مالک اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے
اور زمینِ مصر بھی اس میں داخل ہے، وہ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے وارث بنادیتا
ہے۔ یہ
فرما کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو تَوَقُّع دلائی کہ فرعون اور اس
کی قوم ہلاک ہوگی اور بنی اسرائیل اُن کی زمینوں اور شہروں کے مالک ہوں گے اور انہیں
بشارت دیتے ہوئے فرمایا : اچھا انجام پرہیزگاروں کیلئے ہی ہے۔
اللہ
رب العزت ہمیں اپنے پیارے کلام کو سن کر اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین
Dawateislami