صبر کا مطلب لغوی طور پر برداشت کرنا اور روکنا ہے۔ شرعی اصطلاح میں، صبر کا مطلب ہے مشکلات، مصیبتوں اور آزمائشوں کے وقت اللہ کی رضا کے ساتھ ثابت قدم رہنا اور بے صبری سے بچنا۔ صبر کی تین اہم اقسام ہیں: اللہ کی اطاعت پر صبر، اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے رکنے پر صبر، اور مصائب و تکالیف پر صبر کرنا ۔

(ا)اچھے کام کا اجر: اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالایمان:مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)

تفسیر صراط الجنان:

اس آیت کا معنی یہ ہے ’’لیکن وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کئے تو وہ ان کی طرح نہیں ہیں کیونکہ انہیں جب کوئی مصیبت پہنچی تو انہوں نے صبر سے کام لیا اور کوئی نعمت ملی تو اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کیا، جو ایسے اَوصاف کے حامل ہیں ان کے لئے گناہوں سے بخشش اور بڑا ثواب یعنی جنت ہے۔

(2)اپنے وطن سے جدا ہونے کا صبر: الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ(۴۲) ترجمہ کنز الایمان : وہ جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ (پ14، النحل: 42)

تفسیر صراط الجنان

جنہوں نے صبر کیا : یعنی عظیم ثواب کے حقدار وہ ہیں جنہوں نے اپنے اس وطن مکہ مکرمہ سے جدا ہونے پر صبر کیا حالانکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حرم ہے اور ہر ایک کے دل میں اس کی محبت بسی ہوئی ہے۔

(3)اپنے مجرم کے ظلم پر صبر: وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳) ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور بخش دیاتو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔ (پ25،الشوریٰ: 43)

تفسیر صراط الجنان:وَ لَمَنْ صَبَرَ: اور بیشک جس نے صبر کیا :

یعنی جس نے اپنے مجرم کے ظلم اور ایذا پر صبر کیا اور اپنے ذاتی معاملات میں بدلہ لینے کی بجائے اسے معاف کر دیا تویہ ضرور ہمت والے کاموں میں سے ہے کہ اس میں نفس سے مقابلہ ہے کیونکہ اپنے مجرم سے بدلہ لینے کا نفس تقاضا کرتاہے لہٰذا اسے مغلوب کرنا بہادری ہے۔

(4)صبر کا معنی: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰) ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل عمران: 200)

تفسیر صراط الجنان: صبر کا معنی ہے نفس کو اس چیز سے روکنا جو شریعت اور عقل کے تقاضوں کے مطابق نہ ہو ۔

(5)صبر والے لوگ: اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ(۱۷) ترجمۂ کنز الایمان:صبر والے اور سچے اور ادب والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے پہرسے معافی مانگنے والے۔ (پ3،آل عمران، 17)

تفسیر صراط الجنان: متقی لوگ طاعتوں اور مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں نیز گناہوں سے بچنے پر ڈٹے رہتے ہیں۔

قرآن کریم نے صبر کو ایک اعلیٰ اور پسندیدہ صفت قرار دیا ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ صبر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔ دنیا میں مصیبتیں آئیں گی ناپسندیدہ حالات ہوں گے، مگر جو شخص صبر کرے گا، وہ دنیا میں بھی کامیاب ہوگا اور آخرت میں بھی اللہ کے انعامات کا مستحق بنے گا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صبر کرنے والوں میں شامل فرمائے، آمین