بچوں
کی موبائل سے جان کیسے چھڑائیں ؟ از بنتِ محمد خان نائچ، فاطمۃ الزہرا گرلز،ڈیرہ نواب صاحب
اللہ
پاک نے اس کائنات میں کئی طرح کی مخلوقات کو وجود بخشا ہے۔ان تمام مخلوقات میں
انسان ہی وہ سب سے اعلیٰ مخلوق ہےجسے اللہ پاک نے اشرف المخلوقات کا درجہ عطا فرمایا
اور اس کی عظمت و وقار کو بلند کیا ہے۔اگر انسان کا موازنہ دیگر مخلوقات سے کیا
جائے تو دیگر مخلوقات کے مقابلے میں انسان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت زیادہ ہے۔
انسان میں روز بروز ترقی کرنے کی خواہش اور آرزو بھی زیادہ ہے۔انسان اپنی فکر اور
شعور کے ذریعے کائنات کی تسخیر میں مسلسل لگا ہوا ہے اور نئی نئی چیزوں کی ایجاد میں
زندگی صرف کر رہا ہے۔کسی نے سچ کہا ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔
دورِ
جدید میں اسی ایجاد کا ایک حصہ موبائل فون بھی ہے جس نے موجودہ دور کے انسانوں کو ہر
طرح سے اپنے جال میں جکڑ رکھا ہے۔نوجوان،بچے اور بوڑھے ہی کیوں نہ ہوں آج کل ہر
کوئی اسمارٹ فون استعمال کرنے کا عادی ہے اور یہ عادت انسان کی زندگی کو بری طرح
متاثر کر رہی ہے۔
اسمارٹ
فون کا ضرورت سے زیادہ استعمال کرنا ہمیں آنکھوں اور سر درد کے مسائل سمیت مختلف بیماریوں
کی طرف لے جاتا ہے۔
1-چھوٹے بچوں پر موبائل فون کے برے اثرات:
آج ایسا
کوئی گھر نہیں بچا جہاں ایک سال سے اوپر کے
بچے موبائل فون کے عادی نہ بنے ہوں۔ایک دور ہوا کرتا تھا کہ گھروں سے صبح و شام بچے سیر
کے لیے جایا کرتے تھے اور دادا،دادی کے
ساتھ وقت گزارتے تھے جو انہیں کہانیاں سنایا کرتے تھے لیکن آج انہی مکانوں سے
موبائل کی آوازیں گونجتی ہیں اور بچے گھنٹوں گھنٹوں اس میں مصروف ہیں۔آج کے دور میں
ایسا کوئی گھر نہیں ہوگا جس گھر کے بچے موبائل دیکھے بغیر کھانا کھاتے ہوں۔ادھر ویڈیوز
جاری ہے اور ماں لقمے پر لقمہ بچے کر منہ میں دے رہی ہے حالانکہ ماہرِ نفسیات کا
کہنا ہے کہ اس طرح کا کھانا،کھانا یعنی موبائل کو دیکھتے ہوئے کھانا مینڈلس ایٹنگ(Mindless eating) کہلاتا ہے،بچے کو احساس ہی نہیں ہوتا میں کیا
کھا رہا ہوں،کھانے کا ذائقہ کیسا ہے،کتنا کھا لیا،مجھے اور کتنا کھانا ہے،بس مسلسل
وہ لقمے کو نگلتا رہتا ہے اور موبائل کی اسکرین کو دیکھتا رہتا ہے۔اس طرح چھوٹے
بچوں کے کثرتِ موبائل کے استعمال سے طرح طرح کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔
2:موبائل فون کے مضر اثرات سے آگاہی:
یہ بہت
ضروری ہے کہ گھر میں موجود بچوں کو موبائل فون کے استعمال کے مضر اثرات کے بارے میں
بات چیت کر کے انہیں آگاہ کیا جائے تاکہ کوئی بھی موبائل فون کا زائد استعمال کرنے
سے پہلے ایک بار اس کے نقصانات کے بارے میں ضرور سوچے۔
بچوں
کو موبائل فون کی عادت سے چھٹکارا دلوانے کے لیے چند تجاویز پیش ِخدمت ہیں جن پر
عمل کر کے آپ کافی حد تک اس عادت پر قابو پا نے میں کامیاب ہو سکتی ہیں:
1-بستر پر لیٹنے سے پہلے موبائل فون دور رکھ دیجیے:
اپنے
گھر میں یہ اصول تمام افراد کے لیے مقرر کر دیں کہ رات میں بستر پر لیٹتےوقت ٹی وی
اور موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی کیونکہ ہم سب سے زیادہ بستر پر
سوتے وقت لیٹ کر موبائل فون استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ ہماری عادت بن جاتی
ہے جو صحت کے لیے بے حد نقصان دہ ہے۔
2-پڑھنے کی عادت ڈالیے:
بچوں
کو موبائل فون سے دور رکھنے کے لیے انہیں پڑھنے کی عادت ڈالیے۔اب پڑھنے کے بھی چند
اصول ہیں۔اپنے بچوں کو دنیا جہان کی کتابیں اٹھا کر مت دیجیے بلکہ تقریری مہارتوں
پر مبنی منطقی سوچ کے حوالے سے کتابیں مؤثر ثابت رہیں گی اور جب موقع ملے تو بچوں
کو اچھی کہانیاں پڑھ کر سنائیے اور دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول میں ڈھالنے کی کوشش
کیجیے۔
3-کھیلوں کی ترغیب دیجیے:
بچے
اگر کھیلیں گے تو ان کی دماغی نشوونما میں اضافہ ہو گا۔ کوشش کیجیے کہ بچوں کو
باہر لے جائیے،ان کے ساتھ ٹائم اسپینڈ کیجیے،ان کے ساتھ کھیلیے تاکہ ان کے ساتھ
اچھے تعلقات بن سکیں ۔یہ سرگرمی بھی بچوں کو موبائل فون سے دور رکھے گی۔
4-گھر کے کام میں مدد کیجیے:
گھر کے
کاموں میں مدد کرنا بھی بچوں کو موبائل سے دور رکھ سکتا ہے اور جب وہ کام کریں گے
تو ان کا وقت بھی اچھا گزرے گا اور کام میں مدد بھی ہو جائے گی۔اس طرح آپ وقت بھی
بچا سکیں گی اور بچے کے اندر ذمہ داری کا احساس بھی پیدا ہوگا۔
5-تمام موبائل فونز بچوں کے کمروں سے باہر رکھیے:
موبائل
فونز بچوں کے کمروں سے باہر رکھیے،رات کی نیند بچوں کی دماغی اور جسمانی صحت کے لیے
بہت ضروری ہے۔تحقیق کے مطابق رات کو سونے کے دوران موبائل فون قریب ہونے سے بچوں کی
نیند متاثر ہو سکتی ہے۔
6-موبائل فون استعمال کرنے کا وقت متعین کیجیے:
Dawateislami