واٹس ایپ نمبر: 03261447475

قلبی اصلاح اور روحانی کمالات کے لیےمطالعہِ سیرت نفس کی پاکیزگی ، دل کی اصلاح ، روحانی فضائل ، اخلاقی بلندی اور عمدہ اخلاق ، انسان کےلئے اعلیٰ مقاصدِ حیات ہیں اور یہی خدا کے مطلوب انسان کی زندگی کا رَنگ ، ڈھنگ ہے۔ایسی خوب صورت زندگی کے لیے ، سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ”اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ، بہترین نمونہ“ ہے ، جیساکہ قرآن میں ہے : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔ ( پ21 ، الاحزاب : 21 )

ایمان کا مقام دل ہے اور باطنی کیفیات و ظاہری اعمال سے اس کے ثمرات کا ظہور ہوتا ہے۔ ایمان کیسا ہو ؟ کیفیاتِ ایمان کیسی ہوں ؟ قلبی احوال کیا ہوں ؟ خوف و امید ، غنائے قلب ، صبر وشکر ، توکل و تسلیم اور رضا بالقضاء کے مقامات پر فائز ہونے کا مطلب کیا ہے ؟ اسی طرح عبادات میں حسنِ ادا ، معاملات میں اعتدال ، معاشرت میں حسنِ عمل ، اصحاب و احباب پر شفقت ، اہلِ خانہ سے مَوَدَّت ، عامہِ خلق پر رحمت کا طریقہ کیسا ہونا چاہئے ؟

کردار سازی اور اخلاقِ حسنہ کے لیے مطالعہِ سیرت بعثتِ نبوی ﷺ کا ایک عظیم مقصد اعلیٰ اخلاق ، پسندیدہ عادات اور مہذب و باوقار رویوں کی تعلیم و ترویج ہے چنانچہ نبیِّ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاق یعنی مجھے اچھے اَخْلاق کی تکمیل کے لیے مَبعُوث کِیا گیا ہے۔ ( نوادر الاصول ، حدیث : 1425 )

اور نبیِّ کریم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ ، اس قدر عمدہ ، دل نشین ، دلکش ، پسندیدہ اور عظیم تھے کہ اللہ تعالیٰ نے خود آپ ﷺ کے اَخلاق کے عظیم ہونے کی گواہی دی ، چنانچہ فرمایا : وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ ( ۴ ) ترجمہ : اور بیشک تم یقینا ًعظیم اخلاق پر ہو۔ ( پ29 ، القلم : 4 ) حضور نبیِّ کریم ﷺ محاسنِ اَخلاق کی تمام اطراف و جہات کے جامع تھے۔ نبیِّ کریم ﷺ نے حِلم و عَفْو ، رحم و کرم ، عدل و انصاف ، جود و سخا ، ایثار و قربانی ، مہمان نوازی ، ایفائے عہد ، حسنِ معاملہ ، نرم گفتاری ، ملنساری ، مساوات ، غمخواری ، سادگی ، تواضع اور حیاداری ایسے اخلاق و اوصاف کو اپنے عمل اور دوسروں کی تعلیم و تربیت سے مرتبہِ کمال تک پہنچایا۔ یہ تمام اخلاق انسان کے لیے باعثِ شرف ہیں اور ہر شخص کو انہیں اپنانا نہایت ضروری اور مفید ہے کہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حسن ان اخلاق کے اپنانے ہی پر من فہمِ دین اور اطاعت و اتباعِ رسول ﷺ کے حکم پر عمل مطالعہِ سیرت پر موقوف قرآنِ حکیم میں ہے : اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ ترجمہ : آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا۔ ( پ6 ، المآئدۃ : 3 ) دینِ کامل کی اتباعِ کامِل کے لیے یقیناً کسی ہستیِ کامل کی حاجت تھی ، جس کی اَکمل و اَجمل ، اَرْفَع و اَنوَر ، اَزکٰی و اَطہر سیرت ، دینِ کامل کی کامل ترین تصویر پیش کرے تاکہ اسے آئیڈیل بنا کر دینِ کامل کو پوری طرح سمجھا اور اس پر عمل کیا جاسکے۔ یقیناً ایسی عظیم و کامل ہستی ، سید الاولین و الآخرین ، خاتم النبیٖن ، محمد مصطفیٰ ﷺ ہی کی ہے ، جن کی زندگی کو خالقِ کائنات نے خود ”اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ، بہترین نمونہ“ قرار دیا اور جن کے اخلاقِ حسنہ کو خود ”خُلُقِ عظیم“ کی سند عطا فرمائی۔ اس کے ساتھ قرآنِ مجید کا واضح حکم ہے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ترجمہ کنزالایمان : اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔ ( پ5 ، النسآء : 59 )

اور فرمایا : قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ ترجمہ کنزالایمان : اے حبیب ! فرما دو کہ اے لوگو ! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبردار بن جاؤ۔ ( پ3 ، اٰلِ عمرٰن : 31 )

اللہ تعالیٰ نے حصولِ جنت ، محبتِ خداوندی اور قرب و رضائے الٰہی کو حضور پُرنور ﷺ کی اطاعت و اتباع کے ساتھ جوڑ دیا ، لہٰذا جو دنیاوی کامیابی اور اُخروی فلاح کا طلب گار ہے ، اُسے رسولِ خدا ﷺ کی اطاعت و اتباع کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے اور اس کے لئے احکامِ نبوی اور سنتِ مصطفوی کا علم ضروری ہے جس کا ذریعہ سیرت کا مطالعہ ہے۔

چنانچہ نبیِّ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاق یعنی مجھے اچھے اَخْلاق کی تکمیل کے لیے مَبعُوث کِیا گیا ہے۔ ( نوادر الاصول ، حدیث : 1425 )

نبیِّ کریم ﷺ نے حِلم و عَفْو ، رحم و کرم ، عدل و انصاف ، جود و سخا ، ایثار و قربانی ، مہمان نوازی ، ایفائے عہد ، حسنِ معاملہ ، نرم گفتاری ، ملنساری ، مساوات ، غمخواری ، سادگی ، تواضع اور حیاداری ایسے اخلاق و اوصاف کو اپنے عمل اور دوسروں کی تعلیم و تربیت سے مرتبہِ کمال تک پہنچایا۔ یہ تمام اخلاق انسان کے لیے باعثِ شرف ہیں اور ہر شخص کو انہیں اپنانا نہایت ضروری اور مفید ہے کہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حسن ان اخلاق کے اپنانے ہی پر منحصر ہے اور یہ بات واضح ہے کہ عمل کے لیے علم چاہیے اور علم کےلیے مفصل ، جامع اور عملی تعلیمات چاہئیں ، جن کے لیے رسولِ کریم ﷺ کی پاکیزہ سیرت و فرمودات سے زیادہ رہنمائی کہیں نہیں مل سکتی۔

اسلام کا تصور ذاتِ مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا۔ قرآن کے نزول میں بھی سیرت ہی کے واقعات ہیں اور خود قرآن کی تفسیر بھی سیرت ہی کی روشنی میں سمجھ آتی ہے اور اسلام کی تعلیمات بھی سیرت ہی کے گِرد گھومتی ہیں اور اسلام کا حسن بھی سیرت کے حسن ہی سے آشکار ہوتا ہے ، نیز انسانوں کے دل بھی مجرد تعلیمات سے زیادہ ، تعلیمات پیش کرنے والی ہستی اور اس کے کردار کی طرف جھکتے ہیں۔

نبیِّ کریم ﷺ کی پاکیزہ زندگی کے عمدہ واقعات ، حکمت بھرے حالات ، روشن کردار ، لاجواب قیادت اور اعلیٰ کارناموں کا بیان غیروں کو اَپنا بنانے میں سب سے بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے عالمی سطح پر تبلیغِ اسلام کے لیے بہترین ذریعہ سیرت طیبہ کا بیان ہے۔

سیرتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اہمیت ہر مسلمان پر واضح ہے۔ قرآنِ کریم کے بعد مسلمانوں کیلئے سب سے اہم ترین ماخذ و مصدر پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے فرمودات، اعمال اور سیرتِ طیبہ ہے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی حیاتِ طیبہ تمام انسانوں کیلئے عملی نمونہ ہے جسے قرآن ”اسوۂ حسنہ“ سے تعبیر کرتا ہے۔ اگر یوں کہا جائے تو بیجا نہیں کہ قرآن پیدائش سے وفات تک زندگی گزارنے کے احکامات کا مجموعہ ہے اور سیرتِ نبوی اس مجموعہ کی عملی تعبیر اور تصویر کا نام ہے۔اسلامی عقائد، اعمال، اخلاق، معاشرتی مسائل، انفرادی معاملات، اجتماعی مسائل، بین الاقوامی تعلقات، روابطِ عامہ، امن کے تقاضے، جنگی قوانین وغیرہ وغیرہ یہ سب سیرتِ طیّبہ کے موضوعات ہیں اور سیرتِ طیبہ میں ان تمام موضوعات کا حل موجود ہے۔ اسی وسعت اور ہمہ گیریت کی وجہ سے سیرت کو اسوۂ حسنہ قرار دیا گیا ہے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہوئے انسان اپنے سامنے انسانیتِ کاملہ کی ایسی اعلیٰ مثال دیکھتا ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں کامل و مکمل نظرآتی ہے یوں مہد سے لحد تک زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ سامنے آتا ہے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مقدس حیات کااعجاز ہے کہ انسانی زندگی کے جس بھی پہلو کو سامنے رکھ کر سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو ہر پہلو سے انسانی زندگی کا کمال رَسُولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مبارک زندگی میں نظر آتا ہے۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں خوب سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ،شوق سے پڑھنے اور اس پر عمل کرتے ہوئے اس کو اپنی زندگی میں نافز کرنے کی سعادت نصیب فرمائے آمین۔