فرمان امام
زین العابدین: غور و فکر ایک ایسا آئینہ ہے جو مؤمن کو اس کی اچھائیاں اور برائیاں
دکھاتا ہے۔ (تاریخ ابن عساکر، 41/408) انسان کی بےتوجہی کی وجہ سے يا اس کے اخلاق
وغیره کی وجہ سے کئی چیزوں،حقوق، آداب، ذمہ داریوں وغیره سے محروم ہو جاتا ہے۔ آئیے
چند ایک پر غور کرتے ہیں:
ایک
دوسرے کی مدد سے محرومی: اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى
الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪-
وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(۲) (پ 6، المائدۃ:
2) ترجمہ کنز الایمان: اور نیکی اور
پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اور
اللہ سے ڈرتے رہو بےشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔
کسی مسلمان کی
پریشانی دورکرنا،مصیبت اور تکلیف میں اس کی مدد کرنا، دکھیارے کا دکھ بانٹنا،
بھٹکے ہوئے مسلمان کو راستہ بتادیناالغرض کسی بھی نیک اور جائز کام میں مسلمان
بھائی کی مددکرنا نہایت اجر و ثواب کا باعث ہے، چنانچہ سرکار عالی وقار ﷺ نے
فرمایا: تم میں سے جو کوئی اپنے بھائی کو نفع پہنچا سکتا ہو تو اسے نفع پہنچائے۔ (مسلم،
ص 931، حدیث: 5731)
اولاد
کو اپنی محبت و شفقت اور تربیت سے محروم کرنا: اپنی اولاد
اور بچوں کو خوش کرنا جنّت میں داخلے کا سبب بھی ہے۔بچے کی نفسیاتی ضروریات میں سے
یہ بھی ہے کہ اس سے محبت اور شفقت بھرا برتاؤ کیا جائے، وہ بچے جو ماں باپ کی محبت
سے محروم رہتے ہیں، بسا اوقات نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں، اچھے
کھانوں، کپڑوں اور کھلونوں کےبجائے بچے اس بات کے زیادہ محتاج ہوتے ہیں کہ ان کے
والدین ان پر توجہ دیں اور ان سے محبّت کریں۔بعض لوگ اپنے بچّوں کے سامنے مال و
اسباب کے تو ڈھیر جمع کردیتے ہیں،لیکن انہیں اپنی حقیقی توجہ اور پیارمحبت سے
محروم رکھتے ہیں، ان کے پاس اس قدر بھی وقت نہیں ہوتا کہ وہ اپنی اولاد سے محبّت
بھری چند باتیں ہی کرلیں۔ اسی طرح بعض والدین ایسے بھی ہوتے ہیں، جو اپنے بچّوں سے
بے جا سختی کرتے ہیں، حالانکہ جس طرح ایک بچے کی اچّھی صحت کے لیے متوازن غذا
ضروری ہے، اسی طرح بچّوں کی اچھی تربیت کے لیے والدین کا مناسب پیار بھی بہت ضروری
ہے۔
اچھے
اخلاق سے محرومی: اخلاق
ہی ایک ایسی چیز ہے جس میں جنت اور جہنم بھی ہے اگر اخلاق اعلی و حسین اور لوگوں
سے معاملات اور کردار اچھا ئی ہوئی اور اس بارے اللہ پاک کا خوف ہو گا تو یہی خوبی
جنت میں جانے کا باعث بنے گی اور اگر خدا نخواستہ کردار میں اور اخلاق میں برائی
ہوئی تو یہی خصلت (Habit) دوزخ بن جائے گی۔
چنانچہ امام
غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اگر نفس میں موجودہ کیفیت ایسی ہو کہ اس کے باعث
اچھے افعال اس طرح ادا ہوں کہ وہ کہ وہ عقلی اور شرعی طور پر پسندیدہ ہوں تو اسے
حسن اخلاق کہتے ہیں اور اگر اس سے برے افعال اس طرح ادا ہوں کہ وہ عقلی اور شرعی
طور پر ناپسندیدہ ہوں تو اسے بد اخلاقی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ (احیاء العلوم،
3/165)
اللہ کی
بارگاہ میں بداخلاقی کی توبہ قبول نہیں کی جاتی ہے۔ اپنی اصلاح کی کوشش جاری رکھیے
کیونکہ جو خود نیک ہو وہ دوسروں کے بارے میں بھی نیک گمان رکھتا ہے جبکہ جو خود
برا ہو اسے دوسرے بھی برے ہی دکھائی دیتے ہیں۔اگر ہم اپنی دنیوی واخروی زندگی آسان
اور خوشگوار بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں بد اخلاقی و بد کرداری جیسے برے کام سے بچ کر
حسن اخلاق اور بہتر کردار بنانا ہوگا۔
آخر میں اللہ
سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے ناپسندیدہ کاموں اور عادات سے ہمیشہ کے لیے دور رکھے
اور ہمیشہ دعوت اسلامی کا وفادار رکھے۔ آمین
Dawateislami