محروم کرنے کی مذمت از ہمشیرہ حنظلہ صابر، فیضان ام عطار
شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اللہ نے انسان
کو عقل، شعور اور اختیار دے کر آزمائش کے میدان میں اتارا۔ اس نے عدل، رحم اور
خیرخواہی کو پسند فرمایا اور ظلم، حسد اور محرومی کے دروازے بند کر دیئے۔ مگر
افسوس! آج کے دور میں انسان اپنے ہی بھائی کو اس کے حق، مقام اور نعمت سے محروم کر
کے خوش سمجھتا ہے۔ یہی رویہ معاشرتی زوال، روحانی اندھیروں اور اخروی بربادی کا
سبب بنتا جا رہا ہے۔
محروم
کرنا کیا ہے؟ کسی
کو اس کے حق سے روک لینا، چاہے وہ مال میں ہو، محبت میں، علم میں، یا موقع میں یہی
محروم کرنا ہے۔
جب کسی کا حصہ
دبا لیا جائے، کسی کا حق چھین لیا جائے، یا کسی کو حسد و بغض کی وجہ سے خیر سے روک
دیا جائے، تو دراصل یہ محروم کرنا ہے، اور یہ عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک سخت
ناپسندیدہ ہے۔
ارشاد باری
تعالیٰ ہے: وَ لَا تَبْخَسُوا
النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ (پ 8، الاعراف: 85) ترجمہ: اور لوگوں
کی چیزوں میں کمی نہ کرو۔
یہ آیت صرف
ناپ تول کی کمی پر نہیں، بلکہ ہر اس محرومی پر صادق آتی ہے جو کسی کے حق کو دبانے
سے پیدا ہو۔ جس نے کسی کو حق سے محروم کیا، اس نے دراصل زمین میں فساد کی بنیاد
رکھی۔
فرمانِ مصطفیٰ
ﷺ ہے: ظلم سے بچو، بے شک ظلم قیامت کے دن اندھیروں میں ہوگا۔ (بخاری، 2/127، حدیث: 1447)
محروم کرنا بھی ظلم ہی کی ایک شکل ہے۔ جو کسی کو موقع، عزت یا حق سے محروم کرتا
ہے، وہ خود اپنی قبر کے لیے اندھیروں کا سامان کر رہا ہوتا ہے۔
بزرگان
دین کی نصیحت: حضرت
عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب کسی بندے سے ایک حق چھن جاتا ہے،
تو اس کے بدلے اللہ تعالیٰ ظالم سے کئی نعمتیں چھین لیتا ہے۔ (تاریخ الخلفاء، ص
208)
یعنی جو
دوسروں کو محروم کرتا ہے، دراصل خود محرومی کا شکار ہوتا ہے، کبھی رزق میں، کبھی
سکون میں، کبھی عزت میں۔
محرومی
کے نقصانات:
1۔
روحانی زوال: دل
سے برکت اٹھ جاتی ہے۔
2۔
معاشرتی فساد: تعلقات
میں نفرت اور دوریاں بڑھتی ہیں۔
3۔
دعائیں رد ہوتی ہیں: کیونکہ ظالم کی دعا قبول نہیں ہوتی۔
4۔
اللہ کا غضب: محروم
کرنے والا دراصل اللہ کی نعمتوں سے خود محروم ہو جاتا ہے۔
بچنے
کے طریقے: نیت
کو درست رکھیں، ہمیشہ خیر چاہیں۔ حسد، تکبر اور لالچ سے دل کو پاک کریں۔ ہر کام
میں انصاف اور عدل کو مقدم رکھیں۔ اگر کسی کا حق دب گیا ہو، فوراً ادا کر دیں۔ دل
میں یہ سوچ رکھیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے، یہی احساس انسان کو عدل کی راہ پر رکھتا ہے۔
یاد رکھیے!
محروم کرنا صرف دوسروں کے ساتھ زیادتی نہیں بلکہ اپنے ایمان پر ضرب ہے۔ جو بندہ
دوسروں کو نعمت سے روکتا ہے، وہ دراصل اللہ کی رحمت کے دروازے اپنے لیے بند کر
دیتا ہے۔
حضرت حسن بصری
رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو بندہ لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اس کے دل سے ایمان کی
لذت چھن جاتی ہے۔ (حلیۃ الاولیاء، 2/131)
اے اللہ! ہمیں
عدل و انصاف والا دل عطا فرما۔ اے کریم! ہمیں کسی کے حق سے محروم کرنے والا نہ
بنا، بلکہ دوسروں کو عطا کرنے والا بنا۔ ہمیں حسد، ظلم، اور خود غرضی سے محفوظ
فرما اور ہمیں اپنی رحمتوں سے کبھی محروم نہ فرما۔
Dawateislami