گناہوں میں سےجس طرح بعض گناہ ظاہری ہوتے ہیں جیسے قتل ،چوری وغیرہ بالکل اسی طرح بعض گناہ باطنی بھی ہوتے ہیں۔اس پر فتن دور میں اول تو گناہوں سے بچنے کا ذہن بہت ہی کم ہے اور جو خوش نصیب اسلامی بھائی گناہوں کے علاج کی کوششیں کرتے بھی ہیں تو ان کی زیادہ تر توجہ ظاہری گناہوں سے بچنے پر ہوتی ہے۔ ایسے میں باطنی گناہوں کا علاج نہیں ہو پاتا حالانکہ یہ ظاہری گناہوں کی نسبت زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ ایک باطنی گناہ بے شمار ظاہری گناہوں کا سبب بن سکتا ہے۔ مثلا قتل، ظلم ، غیبت، چغلی ، عیب دری جیسے گناہوں کے پیچھے کینے اور کینے کے پیچھے غصے کا ہاتھ ہونا ممکن ہے۔ انہی باطنی گناہوں میں سے ایک گناہ خود پسندی بھی ہے۔

خود پسندی کی تعریف :اپنے کمال ( مثلاً علم یا عمل یا مال ) کو اپنی طرف نسبت کرنا اور اس بات کا خوف نہ ہونا کہ یہ چھن جائے گا۔ گو یا خود پسند شخص نعمت کو منعم حقیقی ( یعنی اللہ عزوجل ) کی طرف منسوب کرنا ہی بھول جاتا ہے۔ (یعنی ملی ہوئی نعمت مثال صحت یا حسن و جمال یا دولت یا ذہانت یا خوش الحانی یا منصب وغیرہ کو اپنا کارنامہ سمجھ بیٹھنا اور یہ بھول جانا کہ سب رب العزت ہی کی عنایت ہے۔ (احیاء العلوم، ج 3، ص 252، شیطان کے بعض ہتھیار 17)

آئیے احادیث مبارکہ کی روشنی میں خود پسندی کی مذمت کے بارے میں پڑھتے ہیں۔

(1)تین ہلاک کرنے والی چیزیں:دوجہاں کے سرور، مدینے کے تاجور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:تین چیزیں ہلاک کرنےوالی ہیں:بخل جس کی اطاعت کی جائے، خواہِشِ نفس جس کی پیروی کی جائے اور انسان کا خود کو اچھا جاننا۔(شعب الایمان،باب فی الخوف من اللہ 1/475،حدیث:745۔معجم اوسط،4/ 129،حدیث:5442)

(2)بد صورت شکل :ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا سے روایت ہے حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: خود پسندی اگر کسی مرد کی صورت میں ہوتی تو وہ انتہائی بدصورت مرد ہوتا۔(الفردوس بماثور الخطاب، باب اللام، 2/ 193، الحدیث: 5064)

(4)خود پسندی کا نقصان:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے: گناہوں پر نادِم ہونے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت کا مُنْتَظِرہوتا ہے جبکہ خود پسند ی کرنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضگی کامُنْتَظِرہوتا ہے ۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ38)

(5)دین کو نقصان پہنچانے والے:حضرت کعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :دو بھوکے بھیڑئیے بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دئیے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور مرتبے کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لئے نقصان دِہ ہے ۔(ترمذی، کتاب الزہد، 43-باب، 4 / 166، الحدیث: 2383)

(6)اعمال کو برباد کر دینا:حضرت حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہےنبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :خود پسند ی 70سال کے عمل کو برباد کر دیتی ہے۔ (کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، حرف العین، 2 / 205، الجزء الثالث، الحدیث: 7666)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہر اسلامی بھائی پر ظاہری گناہوں کے ساتھ ساتھ باطنی گناہوں کے علاج پر بھی بھر پور توجہ دینا لازم ہے تا کہ ہم اپنے دار آخرت کو ان کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھ سکیں ۔ باطنی گناہوں کا علم حاصل کرنا بھی فرض ہے۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت مولانا امام احمد رضا خان علیہ رَحمَۃ الرَّحمن فتاویٰ رضویہ جلد 23، صفحہ 624 پر ارشاد فرماتے ہیں: مُحَرَّمَاتِ بَاطِنِيَّه (یعنی باطنی ممنوعات مثلاً ) تکبر ور یا وعجب ( یعنی غرور ) وحسد وغیر ہا اور ان کے مُعالجات (یعنی علاج ) کہ ان کا علم بھی ہر مسلمان پر اہم فرائض سے ہے۔

لہذا جب خود پسندی کی علامات ظاہر ہونے لگیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے احسانات کو یاد کرنا فرض ہے جبکہ تمام عام اوقات میں ایسا کرنا مستحب ہے۔عمل میں خود پسندی کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اگر خود پسندی میں مبتلا شخص موت سے قبل توبہ کر لے تو اس کا عمل بچ جاتا ہے اور توبہ نہ کرے تو عمل ضائع ہو جاتا ہے۔اللہ عزوجل علم وعمل کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبینﷺ۔