حافظ
محمد عمر نقشبندی(درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی ،لاہور،پاکستان)
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کو اخلاق،
معاملات اور وعدوں کی پابندی کا درس دیتا ہے۔ وعدہ پورا کرنا ایمان کی علامت اور
اعلیٰ اخلاق کی نشانی ہے جبکہ بد عہدی (وعدہ خلافی) کو قرآن مجید نے سخت ناپسند
فرمایا ہے۔ بد عہدی نہ صرف معاشرتی اعتماد کو ختم کرتی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے غضب
کا سبب بھی بنتی ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بد عہدی کرنے والوں کے لیے سخت
وعید بیان کی گئی ہے۔
عہد کا لغوی معنی ہے: وعدہ، امان، ذمہ داری اور پختہ
بات۔ (لسان العرب، ابن منظور، مادہ: (عہد)، جلد 3، صفحہ 313)
عہد کا مطلب ہے کسی چیز کی حفاظت کرنا اور اس کی مسلسل
رعایت کرنا۔(المفردات، امام راغب اصفہانی، صفحہ 561)
بد عہدی سے مراد یہ ہے کہ انسان وعدہ کرنے کے بعد اسے
پورا نہ کرے۔(تفسیر قرطبی، جلد 1، صفحہ 256 )
(1)الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ
مِیْثَاقِهٖ۪-
ترجمۂ کنزالعرفان:وہ لوگ جو
اللہ کے وعدے کو پختہ ہونے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں ۔ (پ1، البقرۃ:27)
وضاحت:اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو نافرمان اور نقصان
اٹھانے والا قرار دیا ہے کیونکہ وہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
(2) اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ
اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓىٕكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ
ترجمۂ کنزالعرفان: بیشک وہ لوگ جو اللہ کے وعدے اور
اپنی قسموں کے بدلے تھوڑی سی قیمت لیتے ہیں ،اِن لوگوں کے لئے آخرت میں کچھ حصہ
نہیں ۔ (پ3، اٰل عمران:77)
وضاحت:دنیاوی فائدے کے لیے وعدہ توڑنے والوں کے لیے آخرت
میں سخت محرومی اور عذاب کی وعید ہے۔
(3) فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى
یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا
یَكْذِبُوْنَ(۷۷)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اللہ نے انجام کے طور پر اس دن
تک کے لئے ان کے دلوں میں منافقت ڈال دی جس دن وہ اس سے ملیں گے کیونکہ انہوں نے
اللہ سے وعدہ کرکے وعدہ خلافی کی اور جھوٹ بولتے رہے۔ (پ10، التوبہ:77)
وضاحت:یہ آیت بتاتی ہے کہ وعدہ خلافی نفاق کی علامت ہے
اور یہ انسان کے ایمان کو نقصان پہنچاتی ہے۔
(4) وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا
عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا
ترجمہ کنز العرفان: اور اللہ کا عہد پورا کرو جب تم کوئی
عہد کرو اور قسموں کو مضبوط کرنے کے بعد نہ توڑو ۔
(پ14، النحل:91)
وضاحت:اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح حکم دیا ہے کہ
وعدہ کرنے کے بعد اسے توڑنا سخت گناہ ہے اور یہ اللہ کے حکم کی نافرمانی ہے۔
(5)
وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)
ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے
میں سوال کیا جائے گا۔ (پ15، الاسراء:34)
وضاحت:قیامت کے دن انسان سے اس کے وعدوں کے بارے میں
سوال ہوگا، اس لیے وعدہ پورا کرنا ضروری ہے۔
ابو
برہان عبدالرحمن عطاری (درجہ رابعہ جامعۃالمدینہ فیضان رضا چوہنگ ملتان روڈ ،لاہور،پاکستان)
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہمیں قول و فعل میں
سچائی کا درس دیتا ہے۔ وعدے کی پاسداری ایمان کی علامت ہے، جبکہ بد عہدی اور وعدہ
خلافی منافقت کی نشانی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے۔ قرآن مجید میں اللہ
تعالیٰ نے عہد توڑنے والوں کے لیے سخت وعیدات بیان فرمائی ہیں۔
(1) عہد کے
بارے میں باز پرس:قیامت کے دن انسان سے اس کے کیے گئے وعدوں کے بارے میں
سوال کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَ
اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال
ہونا ہے۔ (سورۃبنی اسرائیل: 34)
یہ آیت اس بات پر مہر ثبت کرتی ہے کہ وعدہ محض زبان سے
نکلا ہوا ایک جملہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے جس کا حساب دینا ہوگا۔
(2) اللہ کی
لعنت اور دل کی سختی:جو لوگ اللہ سے کیا گیا پختہ عہد توڑ دیتے ہیں، وہ اللہ
کی رحمت سے دور کر دیے جاتے ہیں۔ ارشاد فرمایا:فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ
جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةًۚ-
ترجمہ کنزالایمان: تو اُن کی کیسی بدعہدیوں پر ہم نے
انہیں لعنت کی اور اُن کے دل سخت کردئیے ۔(سورۃ المائدہ: 13)
اس وعید سے معلوم ہوتا ہے کہ بد عہدی کا وبال انسان کے
دل پر پڑتا ہے، جس سے اس کا دل نیکیوں کے لیے سخت ہو جاتا ہے۔
(4) دنیا و
آخرت میں خسارہ:قرآن کریم نے عہد توڑنے والوں کو "خاسر" یعنی
نقصان اٹھانے والا قرار دیا ہے۔ سورۃالبقرہ میں ارشاد فرمایا:الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ
عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ
بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ
الْخٰسِرُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے
ہیں اُس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی
نقصان میں ہیں ۔ (سورۃ البقرہ: 27)
ان تمام وعیدات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بد عہدی صرف ایک
اخلاقی عیب نہیں بلکہ ایک سنگین گناہ ہے جو انسان کو اللہ کی رحمت سے محروم کر
دیتا ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو اپنی زبان کا پاسبان ہو اور ہر حال میں اپنے عہد
کو پورا کرے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں وعدوں کی پاسداری کرنے اور بد عہدی کی
نحوست سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
آصف شوکت علی (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھو کی ،لاہور،پاکستان)
(1)فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا
قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةًۚ-یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖۙ-وَ نَسُوْا
حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖۚ-وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآىٕنَةٍ
مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا
ترجمۂ کنز
الایمان:تو ان کی کیسی بدعہدیوں کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور اس لئے کہ وہ
آیاتِ الٰہی کے منکر ہوئے اور انبیاء کو ناحق شہید کرتے اور ان کے اس کہنے پر کہ
ہمارے دلوں پر غلاف ہیں بلکہ اللہ نے ان کے کفر کے سبب ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے
تو ایمان نہیں لاتے مگر تھوڑے۔(سورۃ النساء پارہ4 آیت نمبر 155 )
(2)
لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ
رُسُلًاؕ-كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى
اَنْفُسُهُمْۙ-فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ(۷۰)
ترجمۂ کنز الایمان:بیشک ہم
نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان کی طرف رسول بھیجے، جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول
وہ بات لے کر آیا جو ان کے نفس کی خواہش نہ تھی ایک گروہ کو جھٹلایا اور ایک گروہ
کو شہید کرتے ہیں۔(سورۃ المائدہ، پارہ5، آیت نمبر 70)
(3) اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ
یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ(۵۶)
ترجمۂ کنز الایمان:وہ جن سے تم
نے معاہدہ کیا تھا پھر ہر با ر اپنا عہد توڑ دیتے ہیں اور ڈرتے نہیں۔ (سورۃالانفال،
پارہ8 ،آیت نمبر 56)
(4) وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ
بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَىٕمَّةَ
الْكُفْرِۙ-اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ(۱۲)
ترجمۂ کنز
الایمان:اور اگر عہد کرکے اپنی قسمیں توڑیں اور تمہارے دین پر منہ آئیں تو کفر کے
سرغنوں سے لڑو بیشک ان کی قسمیں کچھ نہیں اس امید پر کہ شاید وہ باز آئیں۔( سورۃ
التوبہ پارہ9 آیت نمبر 12)
(5)
وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ
یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی
الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)
حسن
رضا عطّاری(درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ عطار منزل آفندی ٹاون، حیدرآباد،پاکستان)
مہلکات میں سے ایک مہلک بدعہدی (یعنی عہد شکنی ، وعدہ
پورا نہ کرنا )ہے، اور یہ خطرناک مہلک ہے جس کو کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے
والا کام ہے جبکہ اس کا برعکس یعنی وعدہ پورا کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔ قرآن
کریم اور احادیث مبارکہ میں بدعہدی کی مذمت بیان کی گئی ہے۔
بدعہدی کی تعریف:معاہدہ کرنے کے بعد اس
کی خلاف ورزی کرناغدر یعنی بدعہدی کہلاتاہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۱۷۰)
(1) فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ
یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا
یَكْذِبُوْنَ(۷۷)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اللہ نے انجام کے طور پر اس دن
تک کے لئے ان کے دلوں میں منافقت ڈال دی جس دن وہ اس سے ملیں گے کیونکہ انہوں نے
اللہ سے وعدہ کرکے وعدہ خلافی کی اور جھوٹ بولتے رہے۔ (پارہ 10 ، سورۃ توبہ ،
آیت:77)
امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ عہد شکنی اور
وعدہ خلافی سے نفاق پیدا ہوتا ہے تو مسلمان پر لازم ہے کہ ان باتوں سے اِحتراز
کرے اور عہد پورا کرنے اور وعدہ وفا کرنے میں پوری کوشش کرے۔(تفسیرکبیر، التوبۃ،
تحت الآیۃ: ۷۷، ۶/ ۱۰۸-۱۰۹)
(2) اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ
یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ(۵۶)
ترجمہ کنز الایمان : وہ جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا پھر ہر بار
اپنا عہد توڑ دیتے ہیں اور ڈرتے نہیں۔(پارہ 10 ، سورۃ انفال ، آیت:۵۶)
صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین
مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی ’’خزائن العرفان‘‘
میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں :وہ نہ
خدا سے ڈرتے ہیں نہ عہد شکنی کے خراب نتیجے سے اور نہ اس سے شرماتے ہیں حالانکہ
عہد شکنی ہر عقلمند کے نزدیک شرمناک جرم ہے اور عہد شکنی کرنے والا سب کے نزدیک
بے اعتبار ہوجاتا ہے جب ان کی بے غیرتی اس درجہ تک پہنچ گئی تو یقیناً وہ جانوروں
سے بدتر ہیں۔
(3)
وَ
اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى
سَوَآءٍؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنز العرفان : اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی
کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر
ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(پارہ 10 ، سورۃ انفال ، آیت:۵۸)
اس آیت سے واضح ہو اکہ دینِ اسلام میں عہد سے متعلق
دی گئی تعلیم انتہائی شاندار ہے اور کفار سے کئے ہوئے عہد کا بھی اسلام میں بہت
لحاظ رکھا گیا ہے۔(صراط الجنان، جلد : 4، صفحہ : 10)
قارئین کرام! دیکھا آپ نے کہ بدعہدی سے نفاق پیدا ہوتا
ہے اور یہ ہر عقلمند کے نزدیک بھی شرمناک جرم ہے ۔ اور ان کے علاوہ بھی یہ اور کئی
بری چیزوں کے لیے سبب ہے۔ اللہ پاک ہمیں ایسی مہلک بیماری سے بچنے کی توفیق عطا
فرمائے اور اس سے ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین
عبداللہ ریاض (درجہ خاصہ جامعۃ المدینہ فیضانِ
فاروق اعظم سادھوکی ،لاہور،پاکستان)
اسلام میں عہد وعدہ پورا کرنا نہایت اہم اخلاقی اور
ایمانی صفت ہے، جبکہ بدعہدی (وعدہ خلافی) کو سخت ناپسند کیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید
میں متعدد مقامات پر وعدہ پورا کرنے کا حکم اور بدعہدی پر سخت وعید بیان کی گئی
ہے۔
عہد کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہوگا:اللہ
پاک ارشاد فرماتا ہے :
وَ
اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال
ہونا ہے۔ (سورۃ الاسراء: 34)
اس آیت میں واضح فرمایا گیا کہ وعدہ کوئی معمولی بات نہیں
بلکہ قیامت کے دن اس کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔
بدعہدی منافقوں کی صفت ہے:اللہ
پاک فرماتا ہے: وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَىٕنْ اٰتٰىنَا مِنْ
فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ ترجمہ کنز الایمان: اور ان میں کوئی وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے
عہد کیا تھا کہ اگر ہمیں اپنے فضل سے دےگا تو ہم ضرور خیرات کریں گے۔(سورۃ
التوبہ: 75)
اور آگے فرمایا:فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ ترجمہ
کنزالایمان:پھر اس کی سزا یہ ہوئی کہ ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا گیا۔(سورۃ
التوبہ: 77)
یہ آیات بتاتی ہیں کہ وعدہ توڑنا دل میں نفاق پیدا کر
دیتا ہے۔
اللہ کے عہد کو توڑنے والوں پر لعنت:اللہ
پاک فرماتا ہے:
الَّذِیْنَ
یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪
ترجمہ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے
ہیں ۔(سورۃ البقرہ: 27)
آگے فرمایا:-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: وہی نقصان میں ہیں ۔ (سورۃ
البقرہ: 27)
ایسے لوگ دنیا و آخرت میں خسارے میں رہتے ہیں۔
قرآنِ کریم واضح طور پر بتاتا ہے کہ بدعہدی:اللہ پاک کی
ناراضی کا سبب ہے،دل میں نفاق پیدا کرتی ہے،قیامت کے دن سخت حساب کا باعث بنے گی،دنیا
و آخرت کے خسارے کا سبب ہے۔
اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ وعدہ کرتے وقت سوچ سمجھ
کر کرے اور جب وعدہ کرے تو اسے ضرور پورا کرے۔اللہ پاک ہمیں سچا، امانت دار اور
وعدہ وفا کرنے والا مسلمان بنائے اور بدعہدی جیسی بری عادت سے محفوظ رکھے۔
اسرار احمد (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ
عثمان غنی، کراچی،پاکستان)
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو سچائی، دیانت
اور وعدہ نبھانے کی تعلیم دیتا ہے۔ وعدہ پورا کرنا ایمان دار کی شان اور اللہ پاک
کے نیک بندوں کی پہچان ہے جبکہ وعدہ خلافی اور بد عہدی منافقانہ اوصاف میں شمار ہوتی
ہے۔ قرآنِ کریم نے بارہا وعدہ پورا کرنے کا حکم دیا اور بد عہدی کرنے والوں کے لئے
سخت وعیدیں بیان فرمائی ہیں۔ بد عہدی معاشرے میں بداعتمادی، فساد اور نفرت کو جنم
دیتی ہے۔ اسی لئے اسلام نے اس برائی سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔
قرآنِ کریم میں ایفائے عہد:اللہ
تعالیٰ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ
اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال
ہونا ہے۔ (پارہ 15، بنی اسرائیل، آیت 34)
اس آیتِ کریمہ میں واضح طور پر حکم دیا گیا ہے کہ وعدہ
پورا کیا جائے کیونکہ قیامت کے دن ہر وعدے کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اس سے معلوم
ہوا کہ بد عہدی معمولی بات نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کا سبب بننے
والا عمل ہے۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنے قول(عہد) پورے
کرو۔ (پارہ 6، المائدہ، آیت 1)
اس آیت میں ایمان والوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے تمام
وعدوں اور معاہدوں کو پورا کریں۔ اس سے معلوم ہوا کہ وعدہ پورا کرنا مومن کی
بنیادی صفت ہے۔
بد عہدی کرنے والوں پر وعید:قرآنِ
کریم میں بد عہدی کرنے والوں کے بارے میں سخت حکم نازل ہوا۔ ارشادِ باری تعالیٰ
ہے:
الَّذِیْنَ
یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ
اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ
هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے
ہیں اُس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی
نقصان میں ہیں ۔ (پارہ 1، البقرہ، آیت 27)
یہ آیت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ عہد توڑنے والے لوگ
دراصل دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑنے والے ہیں۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
وَ
الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ
مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ
لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)
ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اللہ کا عہد اس کے پکے
ہونے کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں
فساد پھیلاتے ہیں ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور ان کا نصیبہ برا گھر۔ (پارہ 13، الرعد،
آیت 25)
اس آیت میں بد عہد لوگوں کے لئے اللہ کی لعنت اور آخرت
میں برے انجام کی وعید سنائی گئی ہے۔
احادیثِ مبارکہ میں بد عہدی کی مذمت:نبی
کریم ﷺ نے بھی وعدہ خلافی کو منافق کی علامت قرار دیا ہے۔ چنانچہ
حدیث شریف میں ہے:
قال رسول الله ﷺ: آيَةُ الْمُنَافِقِ
ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب
وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب امانت دی جائے تو خیانت کرے۔(بخاری، کتاب الایمان)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ وعدہ خلافی ایک ایسا عیب ہے جو
انسان کو منافقوں کے اوصاف کے قریب کر دیتا ہے۔قرآن و حدیث کی تعلیمات سے معلوم
ہوتا ہے کہ وعدہ پورا کرنا ایمان دار کی شان اور اسلامی اخلاق کا اہم حصہ ہے جبکہ
بد عہدی سخت گناہ اور اللہ کی ناراضی کا سبب ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے وعدوں،
معاہدوں اور ذمہ داریوں کو پورا کریں تاکہ دنیا میں اعتماد قائم ہو اور آخرت میں
کامیابی نصیب ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچائی اور وعدہ نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔
وعدہ خلافی کی تعریف: وعدہ کرتے وقت ہی نیت یہ ہو کہ جو
کہہ رہا ہوں وہ نہیں کروں گا تو یہ وعدہ خلافی ہے، معاہدہ کرنے کے بعد اس کی خلاف
ورزی کرنا بد عہدی کہلاتا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ ترجمہ
کنز العرفان:اے ایمان والو!تمام عہد پورے کیا کرو۔ (پ 6، المائدۃ: 1)
وَ
اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴) ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال
ہونا ہے۔ (پ 15،
بنی اسرائیل: 34)
اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ
الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ(۵۵) اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ
مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا
یَتَّقُوْنَ(۵۶)
ترجمہ کنز الایمان: بے شک سب جانوروں میں بدتر اللہ کے
نزدیک وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور ایمان نہیں لاتے وہ جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا
پھر ہر بار اپنا عہد توڑ دیتے ہیں اور ڈرتے نہیں۔ (پ 10، الانفال: 55،56)
(1)جو مسلمان
عہد شکنی اور وعدہ خلافی کرے اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت اور
اس کا نہ کوئی فرض قبول ہوگا نہ نفل۔(بخاری، 2/370، حدیث: 3179)
(2) وعدہ قرض کی مثل ہے بلکہ اس سے بھی سخت تر ہے۔
(موسوعۃ ابن ابی الدنیا، 7/267، حدیث: 457)
اللہ پاک نے
اپنی کتاب عزیز میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: -اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ
الْوَعْدِ ترجمہ کنز العرفان: بے شک وہ وعدے کا سچا تھا۔(مریم: 54)
(3) تین عادتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں ہوں وہ منافق ہے
اگرچہ روزہ رکھے، نماز پڑھے اور یہ گمان کرے کہ وہ مسلمان ہے: بات کرے تو جھوٹ بولے،
وعدہ کرے تو پورا نہ کرے، امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرے۔(الاحسان بترتیب صحیح
ابن حبان، 1/237، حدیث: 257)
بد عہدی کا حکم: عہد کی پاسداری کرنا ہر
مسلمان پر لازم ہے اور غدر یعنی بد عہدی کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام
ہے۔
وعدہ خلافی کے نقصانات: وعدہ خلافی
کی بہت سی وعیدیں اوپر احادیث اور آیات مبارکہ میں بیان کی گئی ہیں، جیسا کہ آیت
مبارکہ میں بھی بیان کیا گیا کہ جو شخص وعدہ خلافی کرتا ہے یعنی وعدہ کرنے کے بعد
اسے توڑ دیتا ہے تو وہ شخص سب جانوروں سے بد تر ہے اور یہ ظاہر و باطن مرض (وعدہ
خلافی) ہمارے معاشرے میں بھی بہت پھیلا ہوا ہے اور اخروی نقصانات کے ساتھ ساتھ اس
کے دنیوی بھی بہت نقصانات ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں: لوگ وعدہ خلافی کرنے والے شخص
کی بات پر اعتماد نہیں کرتے، جو شخص وعدہ خلافی کرتا ہے لوگوں میں اپنی عزت و وقار
کھو بیٹھتا ہے، وعدہ خلافی کرنے والے شخص کے مال میں برکت زائل ہوتی چلی جاتی ہے۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہم سب مسلمانوں کو بد عہدی جیسے
موذی مرض سے نجات عطا فرمائے اور کبھی بھی کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کے ساتھ
بد عہدی نہ کرے اور ہمارے دل و دماغ اور ذہنوں سے دنیا اور اس کے ساز و سامان کی
محبت کو نکال دے۔ آمین
محمد
رمضان عطاری(درجہ خامسہ جامعۃالمدینہ فیضانِ عطار ،سرگودھا،پاکستان)
انسان اس دنیا میں اکیلا زندگی نہیں گزار سکتا اس کو
لوگوں کے ساتھ رہتے ہوئے زندگی گزارنی ہوتی ہے جب انسان ایک معاشرے میں رہتا ہے تو
اس پر کچھ چیزیں لازم ہوتی ہیں۔ جس سے معاشرے کا توازن برقرار رہتا ہے۔اللہ پاک نے
مسلمانوں کو بہتر زندگی گزارنے کے لئے جن بلند مقام چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ان کا
حکم دیا ہے اور جو چیزیں معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتی ہیں ان سے منع فرمایا ہے۔ دین
اسلام دین فطرت ہے اس کا ہر ہر حکم فطرت کے مطابق ہے ۔جب معاشرے میں انسان رہتا ہے
تو وہ دوسرے لوگوں سے معاملات کرتا ہے اقوال و اقرار کرتا ہے تو اللہ پاک نے انہیں
پورا کرنے کا حکم دیا ہے۔ایک مسلمان جب کس سے عہد کرےچاہے وہ لوگوں سے عہد کرے یا
اپنے رب کریم سےتو اس کو شریعت نے پورا کرنے کا حکم فرمایا اور عہد شکنی کی مذمّت
فرمائی۔ اللہ پاک نے قرآن کریم میں عہد کو توڑنے والے کیلئے فرمایا:
الَّذِیْنَ
یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ
اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ
الْخٰسِرُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے
ہیں اُس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی
نقصان میں ہیں ۔ (پ1، البقرۃ: 27)
ایک اور مقام پر اللہ پاک نے فرمایا:
وَ
الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ
مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی
الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)
ترجمہ کنزالعرفان: اور وہ جو اللہ کا عہد اسے پختہ کرنے
کے بعد توڑدیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں اور
زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کیلئے لعنت ہی ہے اور اُن کیلئے برا گھر ہے۔(پ13، الرعد: 25)
ان آیات میں عہد توڑنے والوں کو نقصان اٹھانے والے فساد
پھیلانے والے لعنت کے مستحق قرار دیا گیا ہے اور آخرت میں برے گھر والے یعنی جہنمی
فرمایا گیا ہے۔
اللہ پاک نے بنی اسرائیل سے وعدہ لیا تھا جس کا ذکر اس
آیت میں ہے ۔
وَ
لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ-وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ
اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًاؕ-وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْؕ-لَىٕنْ اَقَمْتُمُ
الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ
عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ
عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا
الْاَنْهٰرُۚ-فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ
السَّبِیْلِ(۱۲)
ترجمہ کنز العرفان: اور بیشک اللہ نے بنی اسرائیل
سے عہد لیا اور ہم نے ان میں بارہ سردار قائم کیے اور اللہ نے فرمایا: بیشک میں
تمہارے ساتھ ہوں۔ اگر تم نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور میرے رسولوں پر
ایمان لاؤ اور ان کی تعظیم کرو اور اللہ کو قرض حسن دو توبیشک میں تم سے تمہارے
گناہ مٹا دوں گا اور ضرور تمہیں ان باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری
ہیں تو اس (عہد) کے بعد تم میں سے جس نے کفر کیا تو وہ ضرور سیدھی راہ سے بھٹک
گیا۔(پ6،المائدۃ: 12)
اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے:اللہ تعالیٰ نے
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے وعدہ فرمایا تھا کہ انہیں اور ان
کی قوم کو مقدس سرزمین یعنی شام کا وارث بنائے گا جس میں کنعانی جَبّار رہتے تھے۔
فرعون کے ہلاک ہونے کے بعد حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو حکمِ
الٰہی ہوا کہ بنی اسرائیل کو اَرضِ مُقَدَّسہ (بیتُ المقدس) کی طرف لے جائیں ، میں
نے اس کو تمہارے لئے رہائش بنایا ہے ،تو وہاں جاؤ اور جو دشمن وہاں ہیں اُن سے
جہاد کرو، میں تمہاری مدد فرماؤں گا اور اے موسیٰ! تم اپنی قوم کے ہرہر گروہ میں
سے ایک ایک سردار بناؤ، اس طرح بارہ سردار مقرر کرو جن میں سے ہر ایک اپنی قوم کے
حکم ماننے اور عہد پورا کرنے کا ذمہ دار ہو۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام بارہ سردار منتخب کرکے بنی اسرائیل کو لے کر روانہ ہوئے۔ جب اَرِیحاء
کے قریب پہنچے تو ان نقیبوں (سرداروں ) کو دشمن کے حالات معلوم کرنے کے لئے بھیجا،
وہاں انہوں نے دیکھا کہ وہ لوگ بہت عظیمُ الْجُثَّہ(عظیم جسامت والے)، نہایت قوی و
توانا اور صاحب ِہیبت و شوکت ہیں ، یہ ان سے ہیبت زدہ ہو کر واپس آئے اور آکر
انہوں نے اپنی قوم سے سب حال بیان کردیا حالانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا لیکن
سب نے عہد شکنی کی سوائے دو آدمیوں کے ایک:کالب بن یوقنا اور دوسرے یوشع بن نون۔
یہ دونوں عہد پر قائم رہے۔ تو اللہ پاک نے ان کی بد عہدی کے سبب ان پر لعنت فرمائی
اور ان کے دل سخت ہو گئے۔
مبشر عبد الرزاق عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،پاکستان)
دین اسلام وہ عظیم دین ہے جس میں انسانوں کے باہمی حقوق
اور معاشرتی آداب کو خاص اہمیت دی گئی ہےاور ان چیزوں کا خصوصی لحاظ رکھا گیا۔ اسی
لئے جو چیز انسانی حقوق کو ضائع کرنے کا سبب بنتی ہے اور جو چیز معاشرتی آداب کے
بر خلاف ہے اس سے دینِ اسلام نے منع فرمایا اور اس سے بچنے کا تاکید کے ساتھ حکم
دیا ، ان اشیاء میں سے ایک چیز" بد عہدی “ ہے جو کہ انسانی حقوق کی پامالی کا
بہت بڑا سبب اور معاشرتی آداب کے انتہائی بر خلاف ہے، جس سے دینِ اسلام نے خاص طور
پر روکا اور اس کی مذمت و وعیدات کو بیان کیا ۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
:خلف وعدہ جس کی تین صورتیں ہیں:
(1) اگر وعدہ سرے سے صرف زبانی بطور دنیا سازی کیا اور
اسی وقت دل میں تھا کہ وفا نہ کریں گے تو بے ضرورت شرعی و حالت مجبوری سخت گناہ و
حرام ہے ایسے ہی خلاف وعدہ کو حدیث میں علامات نفاق سے شمار کیا ۔
(2)اور اگر وعدہ سچے دل سے کیا پھر کوئی عذر مقبول و سبب
معقول پیدا ہوا تو وفا نہ کرنے میں کچھ حرج کیا ، ادنی کراہت بھی نہیں جبکہ اس عذر
و مصلحت کو اس وفائے وعدہ کی خوبی و فضیلت پر ترجیح ہو۔
(3) اور اگر کوئی عذر و مصلحت نہیں بلاوجہ نسبت چھڑائی
جاتی ہے تو یہ صورت مکروہ تنزیہی ہے ۔
یہ بات اس تقدیر
پر بے جا و خلاف مروت ہے ، مگر حرام و گناہ نہیں، حضور سید العالمین صلی اللہ
تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں : وعدہ خلافی یہ نہیں کہ مرد وعدہ کرے در انحالیکہ اس کی
نیّت وعدہ کو پورا کرنے کی ہو، لیکن وعدہ خلافی یہ ہے کہ مردوعدہ کرے درانحالیکہ
اس کی نیت اس وعدہ کو پورا نہ کرنے کی ہو۔ (ملخص
از فتاوی رضویہ ، جلد 12، صفحۃ 281 تا 283، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
قرآن پاک میں متعدد مقامات پر بد عہدی کی مذمت و وعیدات
کو بیان کیا گیا ہے آئیے ہم بھی بد عہدی کی قرآنی وعیدات پڑھتے ہیں ۔
(1)دل کی سختی:وعدہ خلافی سخت قابلِ
مذمت گناہ ہے اور گناہوں کا ارتکاب اللہ پاک کی ناراضگی ،دل کی سختی اور بارگاہ
الہٰی سے دوری کا سبب ہے اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :
فَبِمَا
نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةًۚ-
ترجمہ کنز
العرفان: ان کے عہد توڑنے کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دل سخت کردئیے ۔
( پ 6، المائدہ، 13)
(2) یہود کی عادت:وعدہ خلافی ایک سنگین
جرم اور یہود کی عادت ہے جیسے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُمافرماتے ہیں :جب حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ
نے یہودیوں کو اللہ تعالیٰ کے وہ عہد یاد دلائے جو حضوراقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے کے متعلق تھے تو مالک بن صیف نے کہا:خدا
کی قسم !آپ کے بارے میں ہم سے کوئی عہد نہیں لیا گیا تو اللہ پاک نے یہ آیت نازل
فرمائی :
اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا
نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْؕ-بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۱۰۰)
ترجمہ کنز العرفان : اور جب کبھی انہوں نے کوئی عہدکیا
تو ان میں سے ایک گروہ نے اس عہد کو پھینک دیا بلکہ ان میں سے اکثر مانتے ہی نہیں
۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: 100، 1 / 72)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر قسم کے عہد کو پورا کرنا
ضروری ہے خواہ اللہ پاک سے کیا ہو یا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا عام
مسلمانوں سے اللہ پاک ہمیں عہد کی پاسداری عطا فرمائے ۔
(3) نفاق کی علامت :امام
فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: کہ عہد شکنی اور
وعدہ خلافی سے نفاق پیدا ہوتا ہے تو مسلمان پر لازم ہے کہ ان باتوں سے اِحتراز کرے
اور عہد پورا کرنے اور وعدہ وفا کرنے میں پوری کوشش کرے۔جیسے کہ اللہ پاک فرماتا
ہے :
فَاَعْقَبَهُمْ
نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ
مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ(۷۷)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اللہ نے انجام کے طور پر اس دن
تک کے لئے ان کے دلوں میں منافقت ڈال دی جس دن وہ اس سے ملیں گے کیونکہ انہوں نے
اللہ سے وعدہ کرکے وعدہ خلافی کی اور جھوٹ بولتے رہے۔ (تفسیرکبیر، التوبۃ، تحت
الآیۃ: 77، ج 6 ص108)
(4)رسوائی کا باعث :وعدے
کا پورا کرنا اجر عظیم اور بندے کی عزّت و وقار میں اضافے جبکہ قول و اقرار سے
رُوگردانی اور عہد ( وعدہ ) کی خلاف ورز ی دنیا و آخرت میں رسوائی اور بروز قیامت
شدید پکڑ کا سبب ہے۔ جیسے کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے :
فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى
نَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا
عَظِیْمًا۠(۱۰)
ترجمہ کنز العرفان:جس نے عہد توڑا تو وہ اپنی جان کے خلاف
ہی عہد توڑتا ہے اور جس نے اللہ سے کئے ہوئے اپنے عہد کو پورا کیا تو بہت جلد اللہ
اسے عظیم ثواب دے گا۔( پ 26 الفتح 10)
(5) برا گھر یعنی جہنم :جو لوگ
صاحب ایمان ہو کے بھی بد عہدی اور گناہوں کا ارتکاب کر کے زمین میں فساد پھیلاتے
ہیں ان کے لئے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری ہے اور اُن کیلئے برا گھر
یعنی جہنم ہے۔ جیسے کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :
وَ
الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ
مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ
لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)
ترجمہ کنزالعرفان: اور وہ جو اللہ کا عہد اسے پختہ کرنے
کے بعد توڑدیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں اور
زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کیلئے لعنت ہی ہے اور اُن کیلئے برا گھر ہے۔(پ13، الرعد: 25)
پیارے اسلامی بھائیو! یاد رہے بدعہدی گناہ کبیرہ، حرام
اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔
عتیق الرحمن (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ
شیرانوالہ گیٹ، لاہور،پاکستان)
دین اسلام میں عہد پورا کرنے کی اہمیت کو
بیان کیا گیا ہے۔ اور عہد پورا کرنے کو بہت اہمیت دی گئی ہے ۔اور وعدہ خلافی کی
مذمت کی گئی ہے ،اور اس کو منافقت کی علامت قراردیا گیا ہے ۔اور ساتھ ہی قرآن پاک
میں یہ بھی بتا دیا گیا جو لوگ عہد توڑتے ہیں وہ دنیا میں بھی اور آ خر ت میں بھی
خسارے میں ہے ۔اللہ تعالی نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا: الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ
مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ
یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے
ہیں اُس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی
نقصان میں ہیں ۔ ) سورۃالبقرۃ ،آیت نمبر 27)
اب اس آیت میں
یہ بتایا گیا کہ اللہ کے ساتھ وعدہ کرکے توڑنے والا فاسق ہے۔ مزید ایک جگہ اللہ
تعالی نے ارشاد فرمایا: فَبِمَا نَقْضِهِمْ
مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةًۚ-یُحَرِّفُوْنَ
الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖۙ-وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖۚ-وَ لَا
تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآىٕنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ
عَنْهُمْ وَ اصْفَحْؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ(۱۳)
ترجمہ کنزالایمان:تو اُن کی کیسی بدعہدیوں پر ہم نے
انہیں لعنت کی اور اُن کے دل سخت کردئیے اللہ کی باتوں کو ان کے ٹھکانوں سے بدلتے
ہیں اور بھلا بیٹھے بڑا حصہ اُن نصیحتوں کا جو انہیں دی گئیں اور تم ہمیشہ ان کی ایک نہ ایک دغا پر مطلع ہوتے رہو گے
سوا تھوڑوں کے تو انہیں معاف کردو اور اُن سے درگزرو بے شک احسان والے اللہ کو
محبوب ہیں ۔( سورۃ المائدۃ ،آیت نمبر 13 )
ا ب اس آیت مبارکہ میں بد عہدی کرنے والوں پر لعنت کی
گئی ہے ۔قرآن مجید میں یہ بھی بتایا گیا کہ جو دنیا کہ تھوڑے دام کے بدلے عہد
توڑتے ہیں وہ آخرت میں خسارے میں ہوگے۔
ارشاد فرمایا:اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ
ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓىٕكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا
یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا
یُزَكِّیْهِمْ۪-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۷۷)
ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد اوراپنی قسموں کے
بدلے ذلیل دام لیتے ہیں آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے نہ
ان کی طرف نظر فرمائے قیامت کے دن اور نہ انہیں پاک کرے اور ان کے لیے دردناک عذاب
ہے ۔(سورۃ اٰل عمران ، آیت نمبر 77 )
وعدہ خلافی سے نفاق پیدا ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے
ارشاد فرمایا: فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى
یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا
یَكْذِبُوْنَ(۷۷)
ترجمۂ کنزالایمان: تو اس کے پیچھے اللہ نے ان کے دلوں
میں نفاق رکھ دیا اس دن تک کہ اس سے ملیں گے بدلہ اس کا کہ انہوں نے اللہ سے وعدہ
جھوٹا کیا اور بدلہ اس کا کہ جھوٹ بولتے تھے۔ ( سورۃ التوبۃ ،آیت نمبر 77 )
وعدہ خلافی کو منافقت کی علامت بتایا گیا ہے جیسا کہ
حدیث مبارکہ میں ہے : عن ابی ھریرۃ ، عن
النبی ﷺ ،قال آیۃ المنا فق ثلاث ، اذا حدث کذب ، و اذا وعد اخلف ، و اذ ا اؤتمن
خان۔
ترجمہ: حضر ت
ابو ہر یر ہ سے روایت ہے فرماتے ہیں، کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ منافق کی تین
نشانیاں ہیں ۔جب بات کرے جھوٹ بولے ،جب وعدہ کرے وعدہ خلافی کرے ، جب اس کے پاس
امانت رکھوائی جائےتو اس میں میں خیانت کرتا ہے۔(الجامع المسند الصحیح المختصر من
امور رسول اللہ ﷺ و سننہ و ایامہ کتاب ا لشھادات باب من امر بانجاز الوعد ،صفحہ
نمبر 471 ،حدیث نمبر 2682)
عہد شکنی کے نقصانات:اللہ و
رسول کی نافرمانی سےمعاشرے میں بگاڑ پیدا ہو گا۔ رشتے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگے
۔انسان کا کردار کمزور ہوجائے گا۔قرآن مجید میں واضح طور پر بتایا گیا ہے جو اللہ
تعالی کے وعدے کو توڑے گا اس پر مختلف طرح کے عذاب آئے گے۔اور اس کے دل میں نفاق
پیدا ہوگا ۔ہمیں چاہیے کہ جب بھی وعدہ کرے تو اس کو پوڑا کرے ، اللہ تعالی سے دعا
ہے کہ ہمیں عہد شکنی کے عذاب سے محفوظ فرمائے آمین۔
محمد
اسماعیل(درجہ خامسہ جامعۃ المدينہ نيو سول لائن ،فیصل آباد ،پاکستان)
بدعہدی کا مطلب ہے وعدہ خلافی، معاہدہ توڑنا وغیرہ یعنی
کسی شخص سے کسی کام كا وعدہ کرنا اور بعد میں وہ کام نہ کرنا۔ بدعہدی کے بیشمار
دینی اور دنیاوی نقصان ہیں۔ دنیاوی نقصان تو یہ ہیں کہ کوئی شخص بھی کسی بدعہدی
کرنے والے شخص سے نہ دوستی کرنا پسند کرتا ہے، نہ رشتہ داری رکھنا پسند کرتا ہے
اور نہ تجارت کرنا پسند کرتا ہے۔ یہاں تک کہ جب ایسا شخص سخت مصیبت اور پریشانی
میں ہو تب بھی لوگ اس کی سابقہ وعدہ خلافیوں کو دیکھ کر اس وقت اس کی مدد کرنے سے
گھبراتے ہیں اور دینی اور اخروی نقصان دیکھیں تو سب سے بڑا نقصان یہی ہے کہ بدعہدی
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو سخت ناپسند ہے اور یہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا
کام ہے۔
(1)
وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)
ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے
میں سوال کیا جائے گا۔ (سورۃ بنی اسرائیل آیت 34)
صراط الجنان:اس آیت میں عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے
خواہ وہ اللہ کا ہو یا بندوں کا اللہ عزوجل سے عہد اس کی بندگی اور اطاعت کا ہے
اور بندوں سے عہد میں ہر جائز عہد داخل ہے۔
(2)
وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ
یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی
الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)
ترجمہ کنزالعرفان: اور وہ جو اللہ کا عہد اسے پختہ کرنے
کے بعد توڑدیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں اور
زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کیلئے لعنت ہی ہے اور اُن کیلئے برا گھر ہے۔ (سورۃ الرعد
آیت 25)
صراط الجنان:اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ اللہ
تعالیٰ پر ایمان لانے کا اعتراف کر کے اور ایمان لانے کا عہد قبول کر کے اللہ
تعالیٰ کے اس حکم کی مخالفت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو صلہ رحمی کرنے اور
رشتہ داری جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے توڑتے ہیں، کفر اور گناہوں کا ارتکاب کر کے
زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کے لئے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت سے
دوری ہے اور اُن کیلئے برا گھر یعنی جہنم ہے۔
(3) فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ
یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا
یَكْذِبُوْنَ(۷۷)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اللہ نے انجام کے طور پر اس دن
تک کے لئے ان کے دلوں میں منافقت ڈال دی جس دن وہ اس سے ملیں گے کیونکہ انہوں نے
اللہ سے وعدہ کرکے وعدہ خلافی کی اور جھوٹ بولتے رہے۔ (سورۃ توبہ آیت 77)
اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ بدعہدی سے انسان کے اندر نفاق
پیدا ہوتا ہے۔ اور حدیث میں بدعہدی کو منافق کی نشانی فرمایا گیا ہے: حضرت ابو
ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: "منافق کی تین نشانیاں ہیں (1)
جب بات کرے جھوٹ بولے۔ (2) جب وعدہ کرے خلاف کرے۔ (3) جب اس کے پاس امانت رکھی
جائے خیانت کرے۔" (بخاری،کتاب الایمان، باب علامۃ المنافق، ۱ / ۲۴،الحدیث: ۳۳)
اور حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ ﷺ نے (اپنے خطبوں میں) ایسا کم ہی خطاب کیا ہوگا ،جس میں یہ نہ فرمایا
ہو: "اس شخص میں ایمان نہیں، جس میں امانت داری نہیں اور وہ شخص بے دین ہے،
جو عہد کا پابند نہیں۔" (مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الایمان، حدیث 30، جلد 1،
صفحہ 15)
اللہ پاک ہمیں بدعہدی سے محفوظ رکھے اور ہمیں اپنے اور
بندوں کے عہد پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
ابو
صَفی محمد علی(درجہ سابعہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ،کراچی،پاکستان)
بد عہدی وہ سنگین اخلاقی جرم ہے جو انسان کے کردار کو
کھوکھلا اور معاشرے کے اعتماد کو تباہ کر دیتا ہے۔ اسلام نے عہد و پیمان کو نہایت
مقدس حیثیت دی ہے، کیونکہ اسی کے ذریعے معاملات میں استحکام اور تعلقات میں مضبوطی
پیدا ہوتی ہے۔ جو شخص وعدہ کر کے توڑ دیتا ہے وہ نہ صرف لوگوں کی نظر میں گرتا ہے
بلکہ اللہ کی بارگاہ میں بھی سخت مواخذے کا مستحق بنتا ہے۔ قرآنِ کریم نے بد عہدی
کی مذمت ایسے انداز میں فرمائی ہے کہ دل لرز اٹھتا ہے اور انسان اپنے ہر قول و
قرار پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
عہد کی پاسداری کا حکم اور بد عہدی کی وعید:
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ
مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال
ہونا ہے۔ (سورۃ بنی اسرائیل: 34)
اس آیت میں صاف
طور پر بیان کیا گیا کہ ہر عہد کے بارے میں قیامت کے دن باز پرس ہوگی، لہٰذا بد
عہدی محض دنیاوی نقصان نہیں بلکہ اخروی پکڑ کا سبب ہے۔
اللہ کے عہد کو توڑنے والوں کا انجام:
الَّذِیْنَ
یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ
اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ
هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے ہیں
اُس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی
نقصان میں ہیں ۔ (پ1، البقرۃ: 27)
اس آیت میں بد
عہدی کو فساد اور خسارے کے ساتھ جوڑ کر اس کے برے انجام کو واضح کیا گیا ہے۔
بد عہدی اور لعنتِ الٰہی:
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: فَبِمَا نَقْضِهِمْ
مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ ترجمۂ کنزالایمان: تو ان
کی کیسی بدعہدیوں کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی ۔ (سورۃ النساء: 155)
یہ آیت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ عہد شکنی اللہ کی
رحمت سے دوری اور اس کی لعنت کا باعث بنتی ہے، جو کسی بھی مومن کے لیے نہایت
خوفناک انجام ہے۔
وعدہ بیچنے والوں کے لیے سخت وعید:
اِنَّ
الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا
اُولٰٓىٕكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ
لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ۪-وَ لَهُمْ
عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۷۷)
ترجمۂ کنزالایمان:
وہ جو اللہ کے عہد اوراپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں آخرت میں ان کا کچھ
حصہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے نہ ان کی طرف نظر فرمائے قیامت کے دن اور نہ
انہیں پاک کرے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ۔(پ3،اٰل عمران:77)
اس آیت میں بد عہدی کے نتیجے میں محرومی، بے توجہی اور
عذاب کی وعید انتہائی شدت کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔
Dawateislami