تحفظ
عقیدۂ ختمِ نبوت میں علمائے اہلسنت کا کردار از بنت سکندر خاور،لطیف آباد
اسلام کی بنیاد
کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ کے دو حرفی عہد پر رکھی گئی ہے۔ اللہ
کریم کے سوا کسی مدعی الوہیت کا وجود ناقابل برداشت ہے۔ اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ
کے بعد مدعی نبوت کی بساط نبوت پر قدم رکھنے کی گستاخی بھی لائق تحمل نہیں۔ یہی
عقیدہ ختمِ نبوت کا عقیدہ کہلاتا ہے۔ عقیدہ ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی اوراہم
عقائد میں سے ہے بلکہ یہ عقیدہ ضروریات دین میں ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں
آئے گا نہ ہوگا نہ ہوسکتا ہے۔
یہ عقیدہ
صحابہ کرام تابعین اور تمام امت مسلمہ کا پختہ اور متفق عقیدہ رہا ہے اس کا انکار
کرنے والے یا ذرہ برابر شک کرنے والا کافر و مرتد ہوکر دائرہ اسلام سے نکل جاتا
ہے۔ اسی فریضہ کا نام تحفظ ختمِ نبوت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ امت مسلمہ نے کسی دور
میں اس فریضہ سے تغافل نہیں برتا۔
ختمِ
نبوت کی اہمیت: اللہ
کریم نے ارشاد فرمایا: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ
وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ- (پ 22، الاحزاب:
40) ترجمہ کنز الایمان: محمد تمہارے مردوں
میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔
یہ آیت مبارکہ
حضور اکرم ﷺ کے آخری نبی ہونے پر یقین قطعی ہے کہ حضور ﷺ خاتم النبیین ہیں۔
رسول کریم ﷺ
کے آخری نبی ہونے کا ذکر کئی روایات میں آیا۔ ایک حدیث مبارکہ میں ہے: بے شک رسالت
اور نبوت ختم ہوچکی میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا نہ کوئی نبی۔ (ترمذی، 4/12، حدیث: 2279)
عقیدہ ختمِ
نبوت کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جائے کہ نبی کریم ﷺ کے مبارک دور میں ایسے
بدبخت سامنے آئے جنہوں نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور صحابہ کرام نے اس کا خوب تحفظ
فرمایا۔ آج بھی جب کبھی کسی فتنے نے سراٹھایا بالخصوص فتنۂ مرزا قادیانی نے تو علمائے
اہل سنت اس کے مقابلے اور ختمِ نبوت کے عقیدے کے تحفظ کے لیے میدان میں آئے اور
قرآن و حدیث کے دلائل خطبات اور کتابوں، دروس تصانیف اور فتویٰ کے ذریعے عقیدہ ختمِ
نبوت کا مضبوط دفاع کیا۔ علمائے اہلسنت نے ہر دور میں عقیدہ ختمِ نبوت کی حفاظت کو
اپنی ذمہ داری سمجھا تاکہ مسلمان اس عقیدے کی اہمیت سمجھیں اور اس کی حفاظت کریں۔
علمائے
اہلسنت کا کردار:
1۔
امام احمد رضا خان: اس عقیدہ کی حفاظت میں اولین شخصیت مجدد دین ملت
امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔آپ نے فتنہ قادیانیت کے ابتدائی
دور میں مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر و گمراہی کو واضح فرمایا، آپ نے اس کے رد میں
کتابیں اور فتاویٰ تحریر فرمائے جن میں؛ حسام الحرمین، فتاویٰ رضویہ، المعتقد المنتقد،
تمہید الایمان وغیرہ شامل ہیں۔
2۔
علامہ شاہ احمد نورانی: آپ نے تحریک ختمِ نبوت میں عظیم کردار ادا کیا۔ آپ نے
1947 کی تحریک میں حصّہ لیا قومی اسمبلی میں
قادیانیوں کے خلاف موثر آواز اور عالمی سطح پر ختمِ نبوت کا پیغام پہچایا۔
3۔
حضرت پیر علی شاہ:
آپ نے اس سلسلے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ آپ نے برصغیر میں ختمِ نبوت کے تحفظ کے
لیےعلمی و روحانی جدوجہد کی۔ آپ نے تحفظ ختمِ نبوت اور قادیانیت کے رد میں کتابیں
تحریر فرمائیں۔ جن میں؛ سیف چشتیائی، شمس الہد ایۃ، تحقیق الحق فی کلمۃ الحق شامل
ہیں۔
4۔
مفتی محمد شیخ: آپ
نے قرآن و حدیث کی روشنی میں ختمِ نبوت پر مدلل بیانات اور تحریریں پیش کی۔ اس موضوع
پر کتاب (ختم نبوت) تحریر فرمائی آپ نے اپنے فتاویٰ کے ذریعے بھی اس عقیدے کی
اہمیت سے آگاہ کیا۔
5۔
مفتی اعظم ہند: آپ
نے اپنے والد امام احمد رضا خان کے مشن کو آگے بڑھایا ختمِ نبوت کے تحفظ پر فتاویٰ
جاری کیے علما کو متحد کیا اور عشق رسول ﷺ کے ذریعے عقیدہ مضبوط کیا۔
6۔
تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان: آپ نے عالمی سطح پر اہل سنت کے عقائد
کا دفاع کیا ختمِ نبوت پرمضبوط مؤقف بیان فرمایا آپ نے 1893 میں
ایک عربی رسالہ قادیانیوں کے رد میں تحریر فرمایا۔
7۔
حضرت شاہ احمد نورانی صدیقی: آپ اہلسنت کے بڑے رہنما، خطیب اور مدبر
تھے۔ خصوصاً 1947ء کی تحریک ختم بنوت میں آپ کا کردار
تاریخ ساز مانا جاتا ہے۔ آپ پارلیمنٹ کے رکن تھے۔ اسمبلی میں ختمِ نبوت کے عقیدہ
پر مضبوط دلائل دیئے۔ اسی کے نتیجے میں 7 ستمبر
کو قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دیا گیا۔
پاکستان میں 1947 میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے
میں علمائے اہل سنت نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ ایک تاریخی کامیابی تھی جس میں مختلف
مکاتب فکر کے علما متحد تھے۔ علمائے اہلسنت نے ہر دور میں تحفظ عقیدہ ختمِ نبوت کے
لیے عظیم قربانیاں دیں۔ انہوں نے فتاوی مناظروں تصنیفات کے ذریعے امّت مسلمہ کے
ایمان کی حفاظت کی۔ ان کی خدمات امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ ہیں۔ آج بھی مسلمانوں
پر لازم ہے کہ وہ قرآن و سنت علمائے اہلسنت کی تعلیمات کے پیش نظر عقیدہ ختمِ نبوت
مضبوطی سے تھامے رکھیں اور اس کی حفاظت کریں۔
Dawateislami