پیارے آقاومولاحضرت محمد مصطفی ﷺ کی مہاجرین سے محبت بے مثال تھی۔آپ ﷺ نے مکہ سے ہجرت کر کے آنے والے بے گھر اور مظلوم صحابہ کرام کو مدینہ میں اپنایا۔ ان کے زخموں پر مرہم رکھا انہیں اپنے اہل خانہ جیسا پیار دیا اور معاشی استحکام کے لیے انصار کے ساتھ ان کا بھائی چارہ کروایا۔ آپ ﷺ کی مہاجرین سے محبت کے چند نمایاں پہلو درج ذیل ہیں:

رشتہ اخوت کا قیام: ہجرت کے بعد مدینہ پہنچ کر آپ ﷺ نے انصار مہاجرین کے درمیان (مواخات) بھائی چارہ قائم کی۔ہر مہاجر کو اپنے انصار کا بھائی بنایا جنہوں نے اپنی جائیداد اور دولت میں انہیں برابر کا شریک کیا۔

مالی اور جذباتی کفالت: مہاجرین اپنا سب کچھ مکہ چھوڑ آئے تھے آپ ﷺ نے ان کی بہترین نگہداشت فرمائی اور مختلف غزوات میں غنیمت کا مال سب سے پہلے مہاجرین کے ضروریات پوری کرنے کے لیے مختص فرمایا۔

خصوصی دعائیں اور فضائل: حضور ﷺ مہاجرین کی قربانیوں کی بےحد قدر فرماتے تھے اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں فرماتے تھے۔

مقام قربت: مدینے میں آپ ﷺ نے مہاجرین کو اپنے سب سے زیادہ قریب رکھا کیونکہ انہوں نے دین کی خاطر اپنا گھر کاروبار اور شہر سب کچھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے لیے قربان کر دیا تھا۔

قرآن مجید میں مہاجرین سے حضور ﷺ کی شفقت محبت اور ان کی قربانیوں کے اعتراف کو مختلف مقامات پر بیان کیا گیا ہے نیز اللہ پاک نے انصار مدینہ کو بھی حکم دیا کہ وہ مہاجرین سے محبت کریں۔

حضور ﷺ کی مہاجروں سے محبت اور ان کی تکریم کو واضح کرنے والی آیت درج ذیل ہے:

لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ(۸) (پ 28، الحشر:8 ) ترجمہ کنز الایمان: ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے وہی سچّے ہیں۔

یعنی مال غنیمت میں جیسا کہ اوپر ذکر کیے ہوئے لوگوں کا حق ہے ایسا ہی یہ مال ان فقیر مہاجروں کے لیے بھی ہے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے اور ان کے گھروں اور مالوں پر کفار مکہ نے قبضہ کر لیا اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کا فضل یعنی آخرت کاثواب اور اس کی رضا چاہتے ہیں اور اپنی جان و مال سے دین کی حمایت میں اللہ تعالی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں وہی ایمان اور اخلاص میں سچے ہیں۔ (خازن، 4/248)

حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان مہاجرین نے گھر مال اور کنبے اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ کی محبت میں چھوڑ اور اسلام کو قبول کیا اور ان تمام شدتوں اور سختیوں کو گوارا کیا جو اسلام قبول کرنے کی وجہ سے انہیں پیش آئیں۔ان کی حالتیں یہاں تک پہنچی کہ بھوک کی شدت سے پیٹ پر پتھر باندھتے تھے اور سردیوں میں کپڑا نہ ہونے کی باعث گڑھوں اور غاروں میں گزارا کرتے تھے۔ (خازن، 4/248)

اسی طرح بہت سی حدیث مبارکہ سے بھی حضور ﷺ کی مہاجرین سے محبت ظاہر ہوتی ہے، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:فقراء مہاجرین مالداروں سے 40 سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ (مسلم، ص 1217، حدیث: 7463)

دوسری حدیث میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور پرنور ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے تنگدست مہاجرین کے گروہ تمہیں بشارت ہو قیامت کے دن تم مکمل نور کے ساتھ امیر لوگوں سے نصف دن پہلے جنت میں داخل ہو گے اور یہ نصف دن 500 برس کے برابر ہے۔ (ابوداود، 3/452، حدیث: 3000)

اللہ پاک ہمیں بھی مہاجرین سے محبت کرنے کی توفیق عطا اور ہمیں اخلاص کے ساتھ دین کی خاطر قربانیاں دینے والوں میں سے بنائیں۔ آمین

ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی صحابہ سے محبت بے مثال تھی بالخصوص مہاجرین سے محبت بے مثال تھی آپ ﷺ صحابہ کے ساتھ دلجوئی فرماتے تھے آپ مہاجرین کے ساتھ شفقت فرماتے اور ان کی مدد بھی فرماتے تھے آپ ﷺ مہاجرین کے ساتھ ہر طرح کا تعاون فرماتے جب مہاجرین ہجرت کرکے مکہ سے مدینہ کی طرف آئے تو ان کے پاس مال و دولت نہ تھا اور آپ نے اس وقت ان کی مالی مدد بھی فرمائی آپ ﷺ نے انصار و مہاجرین کو آپس میں بھائی بھائی بنایا۔

تو انصار نے آدھی دولت اور جائیداد مہاجرین کے حوالے کردی آپ مہاجرین کے گھروں میں تشریف لے جاتے اور ان کی خبر گیری فرماتے تھے آپ نے مہاجرین کے مصائب وآلام پر انہیں صبر اور شکر کی تلقین فرمائی اور ان کے لیے خصوصی دعائیں کیں آپ ﷺ مہاجرین کو مجلس میں اپنا قرب عطا کرتے تھے اور ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آیا کرتے تھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت و شان اور ان کے اوصاف بیان کرنا اللہ تعالی کی سنت ہے تمام مہاجرین صحابہ سے محبت کرنا کمال ایمان کی نشانی ہے آپ ﷺ نے انصار صحابہ کرام کو مہاجرین صحابہ کرام کے ساتھ اخوت، محبت ایثار کا مظاہرہ کرنے کا حکم دیا مہاجر صحابہ کرام اپنا سارا مال و دولت چھوڑ کر حضور ﷺ کی مدد کے لیے آئے تھے اور حضور ﷺ کی مدد کرنا اللہ کے دین کی مدد کرنا ہے۔ اور ان کے اس عمل سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہمیں بھی دین کی خدمت کرنی چاہیے۔

اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ(۸) (پ 28، الحشر:8 ) ترجمہ کنز الایمان: ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے وہی سچّے ہیں۔

حضرت عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: فقرا مہاجرین مالداروں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ (مسلم، ص 1217، حدیث: 7463)

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے حضور پر نور ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے تنگدست مہاجرین کے گروہ تمہیں بشارت ہو قیامت کے دن تم مکمل نور کے ساتھ امیر لوگوں سے نصف دن پہلے جنت میں داخل ہو گے اور یہ نصف دن پانچ سو برس کے برابر ہے۔ (ابوداود، 3/452، حدیث: 3000)

اس سے ہمیں سیکھنے کو یہ سبق ملا ہے کہ ہمیں آپس میں مل جل کر رہنا چاہیے اور مصیبت میں دوسروں کی مدد کرنی چاہیے جس طرح انصار و مہاجریں آپس میں مل جل کر رہتے تھے اور وہ ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے تھے اور دین پر عمل پیرا ہوتے والے تھے سب کچھ اللہ و رسول پر فدا کرنے والے تھے۔

اللہ پاک ہمارے لیے بھی آسانیاں پیدا فرمائیں اور اصحاب کے طریقے کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائیں۔

حضور اکرم ﷺ کی محبت کا عالم تو کیا ہے ہر ذی شعور فرد سمجھ سکتا ہے۔تو پھر جو خوش نصیب آپکے سایہ اقدس میں زندگی گزارتے ہونگے ان کے ساتھ محبت کا عالم کیا ہوگا صحابہ تو وہ خوش نصیب ہستیاں ہیں۔جو ایمان کی حالت میں آپ کے دیدار سے مشرف ہوئے تو اس سلسلے میں مہاجرین کے ساتھ محبت کی چند جھلکیاں پیش کی گئی ہیں۔

حضرت محمد ﷺ اپنے صحابہ خصوصاً مہاجرین سے محبت اور ان کا باہمی تعلق اسلامی تاریخ میں ایک انتہائی اہم اور روشن باب ہے۔ مہاجرین وہ عظیم ہستیاں تھیں جنہوں نے اسلام کی خاطر اپنا گھر، مال سب کچھ چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت کی۔

حضور اکرم ﷺ مہاجرین سے بے پناہ محبت فرماتے تھے۔ اس محبت کا اندازہ آیات کریمہ اور احادیث نبوی ﷺ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید میں مہاجرین کی فضیلت کو اس طرح بیان فرماتا ہے: لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ(۸) (پ 28، الحشر:8 ) ترجمہ کنز الایمان: ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے وہی سچّے ہیں۔

ان کی فضیلت کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فقرا مہاجرین مالداروں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ (مسلم، ص 1217، حدیث: 7463)

دوسری حدیث میں حضور نے فرمایا: اے تنگدست مہاجرین کے گروہ تمہیں بشارت ہو قیامت کے دن تم مکمل نور کے ساتھ امیر لوگوں سے نصف دن پہلے جنت میں داخل ہو گے اور یہ نصف دن پانچ سو برس کے برابر ہے۔ (ابوداود، 3/452، حديث: 3000)

ان احادیث و آیات سے تو مہاجرین کی فضیلت معلوم ہوگئی۔اب دیگر واقعات بھی پڑھتے ہیں۔

1)مواخات مدینہ: مدینہ ہجرت کے بعد نبی کریم ﷺ نے مہاجرین وانصار کے درمیان ایک مثالی رشتہ قائم کیا۔ ہر مہاجر صحابی کو ایک انصاری صحابی کا دینی بھائی بنادیا۔

اس محبت کی انتہا یہ تھی کہ انصار نے اپنے گھر اور جائیدادیں مہاجرین کے ساتھ خوشی خوشی بانٹ لیے۔

2)بے مثال قدر دانی: حضور اکرم ﷺ مہاجرین کی قربانیوں کو بہت سراہتے تھے۔ آپ نے فرمایا: اسلام میں ہجرت کا ثواب اپنی جگہ بہت بلند ہے اور آپ اکثر ان کی تکالیف پر تسلی اور حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔

3)خاص تعلق اور قربت: آپ کی مجلس میں مہاجرین صحابہ کو ایک خاص قربت اور خاص مقام حاصل تھا۔ آپ ﷺ ان سے انتہائی شفقت اورمحبت کا معاملہ فرماتے تھے۔

4)خصوصی دعائیں: حضور ﷺ نے مختلف مقامات پر ان کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔

ان تمام واقعات کو پڑھ کر یہ معلوم ہوا کہ حضور جان عالم ﷺ نے مہاجرین سے کس قدر محبت فرمائی۔ ساتھ ہی ان کی فضیلت میں احادیث ارشاد فرمائیں۔یہاں تک کہ قرآن مجید فرقان حمید میں مہاجرین کے فضائل ارشاد فرما دئیے گئے۔

اللہ سے دعا ہے کہ ہمارے دل میں صحابہ کرام کی محبت میں اضافہ فرمائے۔ آمین

جن صحابہ کرام علیہم الرضوان نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تھی ان کو مہاجر صحابہ کہا جاتا ہے۔ ہجرت کرنے والے صحابۂ کرام بڑی فضیلت والے ہیں کہ ان کے لئے بڑے اجر کا وعدہ ہے حضور ﷺ نے ان کو بےحساب جنت کی خوشخبری دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: کیا تم میری امت کے اس گروہ کو جانتے ہو جوسب سے پہلے جنت میں داخل ہو گا؟ میں نے عرض کی:اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن مہاجرین جنت کے دروازے کے پاس آ کر اسے کھلوانا چاہیں گے تو جنت کے خازن ان سے کہیں گے: کیا آپ سے حساب لے لیا گیا ہے؟ وہ کہیں گے:ہم سے کس چیز کا حساب لیا جائے گا حالانکہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہماری تلواریں ہمارے کندھوں پر تھیں حتّٰی کہ اسی حال میں ہمارا انتقال ہو گیا۔ حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں کہ ان کے لئے (جنت کا دروازہ) کھول دیاجائے گا تو وہ دوسرے لوگوں کے جنت میں داخل ہونے سے پہلے 40 سال تک جنت میں قیلولہ کریں گے۔ (مستدرک، 2/387، حدیث: 2436) سبحان اللہ

معلوم ہوا مہاجر صحابہ کرام چالیس سال پہلے بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہونگے

پیارے آقا ﷺ نے پیارے مہاجر صحابہ کو ایک اور جگہ جنت کی خوشخبری سنائی فرمایا: اے تنگدست مہاجرین کے گروہ!تمہیں بشارت ہو،قیامت کے دن تم مکمل نور کے ساتھ امیر لوگوں سے نصف دن پہلے جنت میں داخل ہو گے اور یہ نصف دن پانچ سو برس کے برابر ہے۔ (ابوداود، 3/452، حديث: 3000)

ان کی شان میں خود اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُۚ-ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ(۱۹۵) (پ 4، اٰل عمران: 195) ترجمہ: جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں انہیں ستایا گیا اورانہوں نے جہاد کیا اور قتل کردیے گئے تو میں ضرور ان کے سب گناہ ان سے مٹا دوں گا اور ضرور انہیں ایسے باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں (یہ) اللہ کی بارگاہ سے اجر ہے اور اللہ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے۔

اللہ مہاجرین کے صدقے ہماری بھی بے حساب مغفرت فرمائے۔ آمین

ہمارےپیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی صحابہ کرام علیہم الرضوان سے محبت بےمثال تھی بالخصوص مہاجرین سے محبت بے مثال تھی۔

مہاجرین صحابہ کرام کون ہیں؟ مہاجرین صحابہ کرام وہ پاک ہستیاں ہیں جنہوں نے کلمہ طیبہ پڑھنے اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ مکرمہ میں ظلم ستم برداشت کیا اور پھر اللہ و رسول کے حکم سے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کر گئے۔ یوں وہ اپنے گھر، مال، جائیدادیں اور اپنے خاندان کو بھی اللہ و رسول کی رضا کے لئے چھو ڑ گئے۔ اسلام کے لئے ایسی ایسی قربانیاں پیش کیں جس کی نظیر نہیں ملتی۔

آقا حضور جان عالم ﷺ کی اپنے ان صحابہ کرم سے محبت کا انداز بھی نرالہ ہے، حضور سید عالم ﷺ مہاجرین کے ساتھ شفقت فرماتے اور ان کی مدد بھی فرماتے۔ جب مہاجرین ہجرت کرکے مکہ پاک سے مدینہ طیبہ کی طرف آئے تو ان کے پاس مال و دولت نہ تھا اور آپ ﷺ نے انصار و مہاجرین کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا۔

انصاری صحابہ کرم نے بھی قربانی و ایثار کی ایسی مثال قائم کی کہ تاریخ انسانی میں کہیں ایسی مثال نہیں ملتی جیسا کہ انصار صحابہ کرم نے آدھی دولت اور جائیداد مہاجرین کے حوالے کردیں یہاں تک کہ اگر کسی انصاری صحابی کے نکاح میں دو بیویاں تھی تو ان نے ایک کو طلاق دی کہ اس کے مہاجر صحابی بھائی سے نکاح کر سکے اور اس کا گھر آباد ہو۔

آپ ﷺ مہاجرین کے گھروں میں تشریف لے جاتے اور ان کی خبر گیری فرماتے تھے آپ ﷺ نے مہاجرین کو مصائب و مشکلات پر صبر و شکر کرنے کی تلقین فرمائی اور ان کے لیے خصوصی دعائیں فرماتے۔

صحابہ کرام کی عظمت و شان اور ان کے اوصاف بیان کرنا اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی سنت ہے۔ مہاجر صحابہ کرام کے بارے میں اللہ پاک قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے: لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ(۸) (پ 28، الحشر:8 ) ترجمہ کنز الایمان: ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے وہی سچّے ہیں۔

یہاں پر ایک غور طلب بات ہے کہ ان مہاجر صحابہ کرام میں ہمارے خلفائے راشدین بھی ہیں اللہ پاک نے تو ان کی شان میں فرما یا کہ میرے محبوب کے یہ غلام اللہ پاک کا فضل چاہنے والے اور سچے ہیں۔ پتا یہ چلا جو ان نفوس قدسیہ کے بارے میں اپنی زبانوں کو دراز کرتے ہیں وہ اپنے ایمان کی خیر فرمائیں کیونکہ یہ تو قرآن پاک کی مخالفت کر رہے ہیں۔

حضرت عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: فقرا مہا جرین مالداروں سےچالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ (مسلم، ص 1217، حدیث: 7463)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ہوتا۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)

ایک مقام پر ارشاد فرمایا: اے میرے تنگدست مہاجرین کے گروہ تمہیں بشارت ہو قیامت کے دن تم مکمل نور کے ساتھ امیر لوگوں سے نصف دن پہلے جنت میں داخل ہو گے اور یہ نصف دن پانچ سو برس کے برابر ہے۔ (ابوداود، 3/452، حديث: 3000)

حضرت جابر سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس مسلمان کو آگ نہ چھوئے گی جس نے مجھے دیکھایا میرے دیکھنے والے کو دیکھا۔ (ترمذی، 5/461، حدیث: 3884)

ان سارے واقعات سےپتا چلتا ہے اور ہمیں سیکھنے کو یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں آپس میں مل جل کر رہنا چاہیے اور مسلمانوں میں ایک دوسروں کی مدد کرنی چاہیے جس طرح انصار و مہاجریں آپس میں مل جل کر رہتے تھے اور وہ ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے تھے اور دین پر عمل پیرا ہونے والے تھے سب کچھ اللہ و رسول پر فدا کرنے والے تھے۔

اللہ پاک ہمارے لیے بھی آسانیاں پیدا فرمائے اور اصحاب و اہل بیت اطہار کے طریقےو نقشِ قدم پرچلنے، اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

جب مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا ہو گئی تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ اس موقع پر جو مسلمان مکہ چھوڑ کر مدینہ آئے، انہیں مہاجرین کہا جاتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے مہاجرین سے بے پناہ محبت فرمائی اور ان کی ہر ممکن مدد کی۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں اس محبت کی واضح جھلک نظر آتی ہے۔

مہاجرین کا مقام قرآن کی روشنی میں: اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مہاجرین کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے: لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ(۸) (پ 28، الحشر:8 ) ترجمہ کنز الایمان: ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے وہی سچّے ہیں۔

حضور ﷺ کی مہاجرین سے محبت کی جھلکیاں:

نبی کریم ﷺ کو مہاجرین سے گہری محبت تھی۔ آپ ﷺ نے مدینہ پہنچتے ہی سب سے پہلا کام مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنا کیا۔ اس عمل کو مؤاخات کہا جاتا ہے۔

مؤاخات مدینہ: آپ ﷺ نے مہاجرین کو انصار کے ساتھ بھائی بنایا تاکہ وہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوں۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی مثال اس کی بہترین مثال ہے جہاں انصار نے اپنے مال تک مہاجرین کے لیے پیش کر دیئے۔یہ عمل اس بات کی دلیل ہے کہ حضور ﷺ چاہتے تھے کہ مہاجرین کو کبھی تنہائی یا محرومی کا احساس نہ ہو۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کی ہوئی چیزوں کو چھوڑ دے۔ (ابوداود، 3/7، حدیث: 2481)

ایک اور حدیث میں فرمایا: اگر ہجرت (کی فضیلت) نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہونا پسند کرتا، اور اگر انصار کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار ہی کی گھاٹی کو اختیار کروں گا۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)

یہ فرمان جہاں انصار کے ساتھ حضور ﷺ کی محبت کا مظہر ہے وہیں مہاجرین کے لیے خصوصی شفقت بھی واضح کرتا ہے۔

مہاجرین کی کفالت اور مدد: حضور ﷺ مہاجرین کی ضروریات کا خاص خیال رکھتے تھے۔ جو مہاجر غریب ہوتے، آپ ﷺ ان کے لیے بیت المال سے مدد فرماتے۔ اہل صفہ بھی انہی مہاجرین میں سے تھے جن کے پاس نہ گھر تھا نہ مال اور حضور ﷺ خود ان کی خبر گیری فرماتے تھے۔

مہاجرین کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین: آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو بار بار مہاجرین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد (پہاڑ) کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہ ہوگا۔ (ابوداود، 4/283، حدیث: 4658)

یہ تعلیم مہاجرین کے مقام کو مزید واضح کرتی ہے۔

مہاجرین کی قربانیاں: مہاجرین نے اپنے گھربار جائیداد اور رشتہ دار سب کچھ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خاطر چھوڑ دیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قربانیاں تاریخ اسلام کا روشن باب ہیں۔

اللہ ہمیں ان کی سچی پکی محبت عطا فرمائے۔ آمین

مہاجرین کی تعریف: کفار مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آکر آقا ﷺ کے حکم سے جن مسلمانوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی انہیں مہاجرین‘‘ کہا جاتا ہے۔

مہاجرین مسلمانوں کا امتیاز: مہاجرین مسلمانوں کا امتیاز یہ تھا کہ★انہوں نے سب سےپہلے اسلام قبول کیا★ان کی سب سے بڑی سعادت یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے اہل بیت اور دیگر رشتہ دار بھی ان ہی میں تھے★ انہوں نے پیارے آقاﷺ کا اس وقت ساتھ دیا جب کفار ہر طرح سے آپﷺ کے مخالف ہوچکے تھے ★انصار کو بھی ان ہی مہاجرین کے سبب اسلام کی دولت نصیب ہوئی★انصار کو اسلام کی تعلیمات دینے والے بھی یہی مہاجرین تھے★انصار کی آپس کی دشمنیاں ان ہی کے سبب ختم ہوئیں۔

ہجرت کرنے والے چند صحابہ کرام کا ذکر: جن صحابہ کرام علیہم الرضوان نے ہجرت کی ان میں چند مشہور صحابہ کے نام ذکر کیے جا رہے ہیں: مسلمانوں کے پہلے خلیفہ صدیق اکبر، دوسرے خلیفہ حضرت عمر، تیسرے خلیفہ حضرت عثمان اور چوتھے خلیفہ حضرت مولا علی تھے ان کے علاوہ حضرت طلحہ، حضرت عبد الرحمٰن، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے۔

مہاجرین کی فضیلت اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ پاک نے قرآن کریم میں مہاجرین کا ذکر فرمایا، چنانچہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ(۸) (پ 28، الحشر:8 ) ترجمہ کنز الایمان: ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے وہی سچّے ہیں۔

حضور کی مہاجرین سے محبت:

1۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مہاجرین کے لیے قیامت والے دن سونے کے منبر پر ہوں گے، وہ ان پر بیٹھیں گے اور ہر قسم کی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے۔ (صحیح ابن حبان، 9/191، حدیث: 7218)

2۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مہاجرین دنیا و آخرت میں ایک دوسرے کے دوست ہوں گے۔ (معجم کبیر، 2/313، حدیث: 2302)

3۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کیا آپ کو میری امت کی اس جماعت کے بارے میں علم ہے جو سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گی؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: وہ جماعت مہاجرین کی ہے۔ وہ روز قیامت جنت کے دروازے پر آ کر دروازے کھولنے کا مطالبہ کریں گے۔ دربان ان سے پوچھے گا: آیا تمہارا حساب و کتاب ہو چکا ہے؟ وہ کہیں گے: کس موضوع پر ہم سے حساب کتاب لیا جائے؟ اللہ تعالیٰ کے راستے میں مرتے دم تک ہماری تلواریں ہمارے کندھوں پر رہیں، سو وہ ان کے لیے دروازہ کھول دے گا اور وہ (‏‏‏‏داخل ہو کر) عام لوگوں کے داخلے سے پہلے چالیس سال کا قیلولہ بھی کر چکے ہوں گے۔ (مستدرک، 2/387، حدیث: 2436)

سبحان اللہ! صحابہ کرام کی کیا شان ہے اے کاش ہم بھی ان کی سیرت پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے والے بن جائیں۔

اللہ پاک کی صحابہ کرام پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہمارے بے حساب مغفرت ہو۔


اسلام میں ہجرت کا مطلب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا ہے۔

مہاجرین صحابہ ان صحابہ کرام کو کہا جاتا ہے جنہوں نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تھی انہوں نے اسلام کی خاطر اپنا گھر مال دولت اور رشتہ داروں کو چھوڑ دیا اور مدینہ جا کر آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اسلامی معاشرے کی بنیاد مضبوط کی۔

قرآن کریم میں مہاجرین کا ذکر:

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةًؕ-وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُۘ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَۙ(۴۱) (پ 14، النحل: 41) ترجمہ کنز الایمان: اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے گھر بار چھوڑے مظلوم ہو کر ضرور ہم انہیں دنیا میں اچھی جگہ دیں گے اور بیشک آخرت کا ثواب بہت بڑا ہے کسی طرح لوگ جانتے۔

مشہور مہاجرین صحابہ کے چند نام: حضرت ابوبکر صدیق، عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، عبدالرحمن بن عوف، زبیر بن عوام وغیرہ ہیں۔

آقا جان علیہ الصلاۃ والسلام کی مہاجرین سے محبت: آقا جان حضرت محمد ﷺ کو اپنے مہاجر صحابہ کرام سے بہت محبت تھی کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے لیے اپنے گھر مال اور وطن کو چھوڑ دیا تھا۔

ایک موقع پر نبی کریم ﷺ نے مہاجرین کے حق میں دعا فرمائی: اللّهمّ اغفر للمهاجرين اے اللہ! مہاجرین کی مغفرت فرما۔

اسی طرح آپ ﷺ مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم فرماتے تھے اور ان کی عزت و تکریم کا خاص خیال رکھتے تھے۔

مہاجرین کی قربانیوں کو آپ ﷺ بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے، کیونکہ انہوں نے اسلام کی خاطر ہر قسم کی تکلیف برداشت کی۔

فقرا مہاجرین کی جنت میں سبقت: حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فقرا مہاجرین مالدار لوگوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ (مسلم، ص 1217، حدیث: 7463)

مہاجرین کے لیے رسول اللہ ﷺ کی دعا: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی كريم ﷺ دعا فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! مہاجرین کی مغفرت فرما، انصار کی مغفرت فرما۔ (بخاری،1/165، حدیث: 428 ملخصاً)

مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم سے ہمیں یہ مختصر اسباق ملتے ہیں: 1۔ اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت ہر چیز پر مقدم رکھنا 2۔ دین کی خاطر قربانی دینے کے لیے تیار رہنا 3۔ مشکلات میں صبر اور استقامت اختیار کرنا 4۔ بر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا 5۔ مسلمانوں کے ساتھ اخوت، محبت اور تعاون کرنا 6۔ دنیا سے زیادہ آخرت کی کامیابی کو اہم سمجھنا۔

مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم ہمیں ایمان، اخلاص قربانی صبر اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کا درس دیتے ہیں۔

مہاجرین کی تعریف: مہاجر ہجرت سے بنا ہے، اصطلاح میں مہاجرین سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے قریش کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر آقا جان عالم ﷺ کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے اپنا گھر، مال، وطن سب کچھ چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت کی۔

چند مہاجرین کے نام: ہجرت کرنے والے صحابہ کرام علیہم الرضوان میں حضرت صدیق اکبر، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان اور آپ کی زوجہ حضرت رقیہ بنت رسول اللہ، حضرت علی، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم وغیرہ شامل تھے۔

مہاجرین کی بیماری پر نبی ﷺ کا دعا کرنا: مہاجرین ہجرتِ مدینہ کے بعد بیمار ہو گئے کیونکہ وہ مکّہ کی آب و ہوا کے عادی تھے تو مدینہ کا ماحول ان کے لئے بالکل نیا تھا اور حضرت ابوبکر اور حضرت بلال رضی اللہ عنہما شدید بیمار ہو گئے تو نبی ﷺ اپنے صحابہ کی یہ حالت دیکھ کر تڑپ اٹھے اور ان کے لئے دعا کی: اے اللہ! ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت اسی طرح پیدا کر دے جیسے مکہ کی محبت ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ اور مدینہ کی آب و ہوا کو صحت بخش بنا دے۔ (بخاری، 1/621، حدیث: 1889)

اللہ پاک قرآن پاک میں مہاجرین کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ(۸) (پ 28، الحشر:8 ) ترجمہ کنز الایمان: ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے وہی سچّے ہیں۔

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ (پ 11، التوبۃ:100)ترجمہ کنز العرفان: اور بیشک مہاجرین اور انصار میں سے سابقین اولین اور دوسرے وہ جو بھلائی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والے ہیں ان سب سے اللہ راضی ہوا اور یہ اللہ سے راضی ہیں۔

انصار و مہاجرین میں رشتۂ اخوّت: حضور اکرمﷺ نے خیال فرمایا کہ انصار و مہاجرین میں بھائی چارہ قائم کرکے ان کو بھائی بھائی بنا دیا جائے تا کہ مہاجرین کے دلوں سے اپنی تنہائی اور بے کسی کا احساس دور ہوجائے اور ایک دوسرے کے مددگار بن جانے سے مہاجرین کے ذریعۂ معاش کا مسئلہ بھی حل ہو جائے۔ چنانچہ مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد ایک دن حضور پاک ﷺ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے مکان میں انصار و مہاجرین کو جمع فرمایا، اس وقت تک مہاجرین کی تعداد 45 یا 50 تھی۔ حضور نبی کریم ﷺ نے انصار کو مخاطب کرکے فرمایا: یہ مہاجرین تمہارے بھائی ہیں۔ پھر مہاجرین و انصار میں سے دو دو کو بلا کر فرماتے گئے: یہ اور تم بھائی بھائی ہو۔ حضور انور ﷺ کے ارشاد فرماتے ہی یہ بھائی چارہ بالکل حقیقی بھائی جیسا رشتہ بن گیا۔

چنانچہ انصار نے مہاجرین کو ساتھ لے جا کر اپنے گھر کی ایک ایک چیز سامنے لا کر رکھ دی اور کہہ دیا کہ آپ ہمارے بھائی ہیں! اس لئے ان سب سامانوں میں آدھا آپ کا اور آدھا ہمارا ہے۔ حضرت سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کی اس مخلصانہ پیشکش کو سن کر حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے شکریہ کے ساتھ کہا: اللہ یہ سب مال و متاع آپ کو مبارک فرمائے! مجھے تو آپ صرف بازار کا راستہ بتا دیجئے! انہوں نے مدینہ کے مشہور بازار قینقاع کا راستہ بتا دیا۔ چنانچہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بازار گئے، کچھ گھی اور پنیر خرید کر شام تک بیچتے رہے۔ اسی طرح ہر روز وہ بازار جاتے رہے یہاں تک کہ تھوڑے ہی عرصے میں کافی مالدار ہوگئے۔ (بخاری، 2/ 554، حدیث: 3780)

فقرا مہاجرین کے لئے خوشخبری: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: فقرا مہاجرین، ان کے مالداروں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ (ابوداود، 3/452، حديث: 3000)

قربان جائیے! پیارے مکی مدنی آقا ﷺ کا مہاجرین و انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنا تاکہ ان کے لئے ذریعہ معاش کا مسئلہ حل ہو اور آقا جان ﷺ کا فقرا مہاجرین کو تسلی دینا، خود بہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ آقا ﷺ مہاجرین سے کس قدر محبت فرماتے تھے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن و احادیث کی روشنی سے آقا جان ﷺ کی مہاجرین سے محبت کا ثبوت ملتا ہے اور حضور کے ان کے لئے بھائی چارہ قائم کرنے اور ان مہاجرین کے لیے اپنے رب کی بارگاہ میں دعا کرنے سے بھی آپ ﷺ کی اپنے مہاجرین سے محبّت کا اظہار ہوتا ہے۔