جن صحابہ کرام علیہم الرضوان نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تھی ان کو مہاجر صحابہ کہا جاتا ہے۔ ہجرت کرنے والے صحابۂ کرام بڑی فضیلت والے ہیں کہ ان کے لئے بڑے اجر کا وعدہ ہے حضور ﷺ نے ان کو بےحساب جنت کی خوشخبری دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: کیا تم میری امت کے اس گروہ کو جانتے ہو جوسب سے پہلے جنت میں داخل ہو گا؟ میں نے عرض کی:اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن مہاجرین جنت کے دروازے کے پاس آ کر اسے کھلوانا چاہیں گے تو جنت کے خازن ان سے کہیں گے: کیا آپ سے حساب لے لیا گیا ہے؟ وہ کہیں گے:ہم سے کس چیز کا حساب لیا جائے گا حالانکہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہماری تلواریں ہمارے کندھوں پر تھیں حتّٰی کہ اسی حال میں ہمارا انتقال ہو گیا۔ حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں کہ ان کے لئے (جنت کا دروازہ) کھول دیاجائے گا تو وہ دوسرے لوگوں کے جنت میں داخل ہونے سے پہلے 40 سال تک جنت میں قیلولہ کریں گے۔ (مستدرک، 2/387، حدیث: 2436) سبحان اللہ

معلوم ہوا مہاجر صحابہ کرام چالیس سال پہلے بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہونگے

پیارے آقا ﷺ نے پیارے مہاجر صحابہ کو ایک اور جگہ جنت کی خوشخبری سنائی فرمایا: اے تنگدست مہاجرین کے گروہ!تمہیں بشارت ہو،قیامت کے دن تم مکمل نور کے ساتھ امیر لوگوں سے نصف دن پہلے جنت میں داخل ہو گے اور یہ نصف دن پانچ سو برس کے برابر ہے۔ (ابوداود، 3/452، حديث: 3000)

ان کی شان میں خود اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُۚ-ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ(۱۹۵) (پ 4، اٰل عمران: 195) ترجمہ: جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں انہیں ستایا گیا اورانہوں نے جہاد کیا اور قتل کردیے گئے تو میں ضرور ان کے سب گناہ ان سے مٹا دوں گا اور ضرور انہیں ایسے باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں (یہ) اللہ کی بارگاہ سے اجر ہے اور اللہ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے۔

اللہ مہاجرین کے صدقے ہماری بھی بے حساب مغفرت فرمائے۔ آمین