انصار عربی لفظ نَصَرَ سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں مدد کرنے والے۔ جب مکہ مکرمہ میں کفار نے مسلمانوں پر ظلم بڑھا دیا تو رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے حکم سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ مدینہ کے مسلمانوں نے نہ صرف آپ ﷺ کا استقبال کیا بلکہ اپنے گھر، مال، باغات اور کاروبار تک مہاجرین کے ساتھ بانٹ دیے۔ اسی وجہ سے وہ انصار کہلائے، ان کی مدد، وفاداری، اسلام کی خاطر قربانی اور اخلاص کی وجہ سے نبی کریم ﷺ انصار سے بے حد محبت فرماتے تھے۔

آپ ﷺ انصار کے بچوں سے بھی شفقت و محبت فرماتے، آپ ان کے گھروں میں تشریف لے جاتے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک فرماتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کی محبت صرف انصار کے بڑوں تک محدود نہ تھی بلکہ ان کے خاندانوں تک پھیلی ہوئی تھی۔

انصار سے محبت ایمان کی نشانی: رسول اللہ ﷺ نے قیامت تک آنے والے مسلمانوں کو یہ تعلیم دی کہ انصار سے محبت رکھو، کیونکہ ان سے محبت دراصل رسول اللہ ﷺ سے محبت کی علامت ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: انصار سے محبت ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے بغض منافقت کی نشانی ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)

حضرت زید بن ارقم بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! انصار کی مغفرت فرما، انصار کے بیٹوں کی مغفرت فرما، انصار کے پوتوں کی مغفرت فرما۔ (مسلم، ص 1044، حدیث: 6414)

قرآن پاک میں بھی انصار صحابہ کی فضیلت کو بیان کیا گیا: وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ(۹) (پ 28، الحشر: 9) ترجمہ: اوروہ جنہوں نے ان (مہاجرین) سے پہلے اس شہر کواور ایمان کو ٹھکانہ بنالیا وہ اپنی طرف ہجرت کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور وہ اپنے دلوں میں اس کے متعلق کوئی حسد نہیں پاتے جو ان کو دیا گیا اور وہ اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں خود حاجت ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچالیا گیا تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔

ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) (پ 11، التوبۃ: 100) ترجمہ: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔


انصار کا مطلب مدد گار ہے، انصار مدینہ کے وہ مسلمان ہیں جنہوں نے مہاجرین کو اپنے شہر میں ٹھکانہ دیا اور نبی کریم ﷺ کی مدد کی۔

حضور ﷺ کو انصار صحابہ سے محبت تھی آپ ان کی خوشی میں خوش ہوتے اور لوگوں کے سامنے ان کی محبت کا اظہار فرماتے ان کے ساتھ رہنا پسند فرماتے تھے۔

حضور کا انصار صحابہ سے پیار: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے کچھ بچوں اور عورتوں کو ایک شادی سے آتے ہوئے دیکھا تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا: الٰہی تو جانتا ہے اے انصار تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو الہی تو جانتا ہے اے انسان تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو۔ (بخاری، 2/ 556، حدیث: 3785)

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا اگر لوگ ایک جنگل میں چلے اور انصار دوسرے جنگل میں یا دوسری گھاٹی میں تو میں انصار کے جنگل یا گھاٹی میں چلوں گا اور انسان اندرونی لباس ہے اور باقی لوگ بیرونی لباس۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)

انصار سے محبت کی فضیلت: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایمان کی نشانی انصار سے محبت ہے اور منافقت کی نشانی انصار سے بغض ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)

نبی کریم ﷺ کی صفات سے ایک صفت محبت ہے جو ایک عظیم صفت ہے۔ آقا علیہ الصلوۃ والسلام بچوں اور صحابہ سے محبت فرماتے تھے، آئیے آقا کے صحابہ سے محبت کا واقعہ پڑھتے ہیں حضرت عبداللہ بن مغل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: صحابہ کے متعلق اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے بعد انہیں نشانہ نہ بناؤ کیونکہ جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا اور جس نے انہیں ستایا اس نے مجھے ستایا اس نے اللہ پاک کو تکلیف دی اور جس نے اللہ کو تقلید دی تو قریب ہے اللہ پاک اسے پکڑے۔


صحابہ کرام کتنے خوش ہیں کہ انہوں نے کئی مرتبہ دنیا میں پیارے آقا ﷺ کی زیارت کی آپ اپنے ہر امتی سے محبت کرتے ہیں لیکن بات کی جائے صحابہ کی اور پھر ان میں بھی انصار صحابہ کی تو آپ ان سے محبت کرتے ہیں اور صحابہ کرام بھی آپ سے محبت کرتے ہیں۔

اگر خوش قسمتی سے کبھی صحابہ کرام کو رسول اللہ کی ضیافت و مہربانی کا شرف حاصل ہو جاتا تو وہ نہایت عزت و محبت اور ادب و احترام کے ساتھ اس شرف کو بجا لاتے تھے۔ ایک بار ایک انصاری نے خدمت مبارک میں گزارش کی کہ میں نہایت لحیم و شہیم آدمی ہوں آپ کے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہو سکتا آپ میرے مکان پر تشریف لا کر نماز ادا فرمائیں تاکہ میں اس طرح نماز پڑھا کروں،انہوں نے پہلے کھانا بھی تیار کر رکھا تھا چنانچہ آپ تشریف لائے اور دو رکعت نماز ادا فرمائی۔

آپ حضرت عمر اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہما کے ساتھ حضرت ابو ہیثم بن تیہان الانصاری رضی اللہ عنہ کے مکان پر تشریف لے گئے وہ باہر گئے ہوئے تھے آئے تو آپ سے لپٹ گئے اور قربان ہونے لگے پھر سب کو باغ میں لے گئے فرش بچھایا اور کھجوریں توڑ کر آپ کے سامنے رکھ دیں خود دست مبارک سے چن چن کر تناول فرمائی اس کے بعد اٹھے اور بکری ذبح کی اور سب نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا۔ (ترمذی، 4/163، حدیث: 3276)

انصار صحابہ سے محبت ایمان کی علامت اور ان سے بغض نفاق کی علامت ہے انصار سے محبت نہ کرے گا مگر مومن اور ان سے دشمنی نہ کرے گا مگر منافق تو جس نے ان سے محبت کی اللہ پاک اس سے محبت کرے اور جس نے ان سے بغض رکھا اللہ پاک اس سے ناراض ہو۔(بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)

مہاجرین وہ انصار مدینے شریف کے گرد خندق کھود نے میں مصروف تھے تو نبی کریم ﷺ نے یہ دعا مانگی: اے اللہ بھلائی نہیں مگر آخرت کی بھلائی پس انصار و مہاجرین میں برکت فرما۔ (بخاری، 2/264، حدیث: 2835)

ایک بار آپ ﷺ نے فرمایا: انصار کے خاندانوں میں سب سے افضل بنو نجار ہے، پھر بنو عبدالا شہل،پھر بنو حارث بن اہرج،پھر بنو ساعدہ ان کے علاوہ انصار کے تمام خاندان اچھے ہیں۔حضرت سعد بن عبادہ قبیلہ بنو ساعدہ سے تھے ان کو جب معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے ان کے قبیلے کو چوتھے نمبر پر رکھا ہے تو ان کو کسی قدر ناگوار ہوا بولے میرے گدھے پر زین کسو میں خود رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق گفتگو کروں گا،لیکن ان کے بھتیجے حضرت ساحل رضی اللہ عنہ نے کہا کیا آپ رسول اللہ کی تردید کے لیے جاتے ہیں؟ حالانکہ حضور ﷺ وجوہ فضیلت کے سب سے زیادہ عالم ہیں یہ کیا کم ہے کہ آپ کا چوتھا نمبر ہے۔ (مسلم، ص 1361، حدیث: 2511)

اللہ پاک ہمیں پیارے آقا ﷺ اور آپ کے اصحاب اور آپ کے اہل بیت کی حقیقی محبت عطا فرمائے۔