سیرت مصطفی ﷺ سے
ہمیں محبت ہی کا درس ملتا ہے۔ حضور علیہ الصلوة و السلام اپنے تمام ہی اصحاب سے
نہایت محبت و شفقت کا معاملہ رکھتے مگر انصار وہ خوش نصیب گروہ صحابہ ہیں، جنہوں
نے محبتِ مصطفی ﷺ سے ایک خاص حصہ پایا ہے۔ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کے متعلق
فرمایا: انصار سے وہی محبت کرے گا جو مومن ہو اور ان سے بغض وہی رکھے گا جو منافق
ہے۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)اس حدیث مبارکہ سے عظمتِ انصار اور نبی کریم ﷺ کی
انصار سے محبت ظاہر ہوتی ہے۔
انصار کے
متعلق اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ
مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ
اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا
الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) (پ
11، التوبۃ: 100) ترجمہ: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے
ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر
رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔
اس آیت مبارکہ
میں انصار صحابہ کرام کی فضیلت بیان ہوئی ہے کہ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے
راضی ہیں۔ قربان جائیے ان کی خوش نصیبی پر کہ ان کی فضیلت قرآن پاک میں بیان کی
گئی اور نبی کریم ﷺ ان سے خاص محبت فرماتے ہیں۔
آئیے نبی کریم
ﷺ کی ان سے محبت کے ضمن میں چند احادیث مبارکہ ملاحظہ ہوں:
ایمان
کی علامت: نبی
کریم ﷺ نے انصار کی محبت کو ایمان کی علامت قرار دیا ہے نیز ان کے بغض کو نفاق کی
علامت قرار دیا ہے چنانچہ آپ کا ارشاد ہے کہ انصار سے محبت کرنا ایمان کی نشانی ہے
اور انصار سے بغض رکھنا منافقت کی نشانی ہے۔(بخاری، 2/555، حدیث: 3784)
میں
انصار سے ہوتا: حضور
اکرم علیہ الصلوة و السلام نے ارشاد فرمایا: اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ہی
ایک فرد ہوتا۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)
انصار
کے لئے دعا: رسول
اللہ ﷺ نے انصار کو دعا دیتے ہوئے بارگاہِ الہی میں عرض کی: اے اللہ! انصار کی
مغفرت فرما، ان کے بیٹوں کی اور ان کے بیٹوں کے بیٹوں کی۔ (مسلم، ص 1044، حدیث:
6414)
سب
سے محبوب: نبی
کریم ﷺ نے کچھ انصاری بچوں اور عورتوں کو ایک شادی سے واپس آتے ہوئے دیکھا، تو
اللہ کے نبی ﷺ (ان کی تعظیم اور محبت میں) سیدھے کھڑے ہو گئے اور فرمایا: اے اللہ!
تو جانتا ہے، اے انصار تم لوگ مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو، اے اللہ! تو جانتا
ہے، اے انصار تم لوگ مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔ (بخاری، 2/ 556، حدیث: 3785)
تمہارے
لئے اللہ کا رسول: فتح مکہ کے دن جب نبی کریم ﷺ نے اموال غنیمت قریش
میں تقسیم کر دیا تو انصار غم زدہ ہو گئے مگر قربان جائیے آقا جان عالم ﷺ کے انداز
دلجوئی اور انصار سے محبت پر، آپ علیہ الصلوة و السلام فرمایا: کیا تم اس بات سے
راضی نہیں کہ لوگ دنیا کے ساتھ جائیں اور تم الله کے رسول کے ساتھ جاؤ۔ تو انصار
نے عرض کی: کیوں نہیں! (ہم راضی ہیں)۔ (بخاری، 2 / 564، حدیث: 4330)
معلوم ہوا کہ
انصار بارگاہ رِسالت میں مقرب اور حبیبِ خدا ﷺ کے بڑے ہی محبوب ہیں۔ اللہ پاک ہمیں
انصار سے محبت اور ان کی تعظیم کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
نبی کریم ﷺ کی
انصارِ مدینہ سے محبت انتہائی گہری، والہانہ اور امت کے لیے ایک معیارِ ایمان تھی۔
آپ ﷺ نے انصار کی قربانیوں، وفاداری اور اولین مدد کے اعتراف میں انہیں ایمان کی
نشانی قرار دیا۔ ان سے محبت ایمان اور بغض کو نفاق (منافقت) کی علامت بتایا گیا۔
صحیح مسلم میں
ہے: انصار سے صرف مومن ہی محبت رکھے گا اور ان سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا۔ جو
شخص ان سے محبت کرے گا، اس سے اللہ محبت کرے گا اور جو اُن سے بغض رکھے گا اس سے
اللہ تعالیٰ ناراض ہوگا۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)
مسند احمد بن
حنبل میں ہے: محبت ابوبکر وعمر کی ایمان سے ہے اوران کا بغض کُفر،اورمحبت انصار کی
ایمان سے ہے اوران کا بغض کفر،اورمحبت عرب کی ایمان سے ہے اوران کا بُغض
کفر،اورمیرے اصحاب کو جو براکہے اس پر الله کی لعنت،اورجو ان کے معاملہ میں میرا
لحاظ رکھے میں روز قیامت اس کا حافظ ونگہبان ہوں گا.
معجم الکبیر
میں ہے:
فتاویٰ رضویہ
میں بیہقی کے حوالے سے حدیث پاک نقل کی گئی ہے: جو میری اولاد اور انصار اور عرب
کا حق نہ پہچانے وہ تین علتوں سے خالی نہیں: یا تو منافق ہے یا نطفۂ حرام یا حیضی
بچہ۔ (فتاویٰ رضویہ،22/420)
انصار صحابہ
تاریخ اسلام کی وہ روشن ہستیاں ہیں جنہوں نے اسلام کی مددو نصرت میں نمایاں کام سر
انجام دیے ہیں۔ہجرت کے بعد حضور ﷺ اور مہاجرینِ مکہ کا دل و جان سے استقبال
کیا۔اپنے گھر، جان اور مال سب کچھ اسلام کے لیے پیش کر دیا۔اسی اخلاص اور قربانی
کی وجہ سے حضور ﷺ کو انصار سے بے حد محبت تھی۔
حضور ﷺ نے
بارہا انصار صحابہ سے محبت کا اظہار فرمایا اور ان کی تعریف فرمائی۔کتبِ احادیث
میں انصار صحابہ سے محبت کے بارے میں کئی احادیث وارد ہیں۔جن میں سے چند درج ذیل
ہیں:
حضرت انس بن
مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے
ارشاد فرمایا: انصار سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے بغض رکھنا نفاق
کی نشانی ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)
اس حدیث
مبارکہ سے معلوم ہوا کہ مومن ہی انصار سے محبت رکھتا ہے لہذا جو کامل مومن ہوگا وہ
ہرگز انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا۔ بلکہ ان سے بغض وہی شخص رکھے گا جس کے دل میں
کھوٹ ہو گی۔
اسی طرح ایک
اور حدیث مبارکہ میں فرمایا: انصار سے محبت صرف مومن ہی رکھے گا اور ان سے بغض صرف
منافق ہی رکھے گا جو ان سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے
گا تو اللہ اس سے ناراض ہوگا۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)
ایک مرتبہ نبی
کریم ﷺ نے انصار کی عورتوں اور بچوں کو کسی شادی سے واپس آتے ہوئے دیکھا تو آپ
کھڑے ہو گئے اور فرمایا: اللہ گواہ ہے تم لوگ مجھے سب سے زیادہ عزیز ہو، تین بار آپ
نے ایسا ہی فرمایا۔ (بخاری، 2/ 556، حدیث: 3785)
حضور اکرم ﷺ انصارصحابہ
کے لیے خصوصی دعائیں بھی فرمایا کرتے۔ آپ نے دعا فرمائی: اے اللہ انصار پر رحم
فرما انصار کی اولاد پر رحم فرما اور ان کی اولاد کی اولاد پر رحم فرما۔ (مسلم، ص
1044، حدیث: 6414)
انصار صحابہ
کے مقام و مرتبے کو بیان کرتے ہوئے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: انصار جس وادی میں
جائیں گے تو میں ابھی انہی کی وادی میں جاؤں گا اور اگر میں ہجرت نہ کرتا تو میں
انصار کا ایک فرد ہونا پسند کرتا۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)
اسی طرح حضور ﷺ
نے کئی احادیث میں انصار کے قبائل کی بھی تعریف فرمائی اور ان کے لیے دعائے مغفرت
فرمائی۔ جس سے حضور ﷺ کی انصار سے محبت ظاہر ہوتی ہے جیسا کہ آپ نے ایک اور حدیث
میں اس طرح ارشاد فرمایا: بنو نجار کا گھرانہ انصار میں سے بہتر گھرانہ ہے پھر بنو
عبدالاشہل کا پھر بنو حارث دن حضرت کا پھر بنو ساعدہ بن کعب کا اور انصار کا ہر
گھرانہ عمدہ ہی ہے سعد بن عبادہ نے کہا میرا خیال ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انصار کے
کئی قبیلوں کو ہم پر فضیلت دی ہے۔ (مسلم، ص 1361، حدیث: 2511)
معلوم ہوا
حضور ﷺ انصار صحابہ سے بہت محبت فرماتے تھے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان کے کردار کو اپنائیں
اور اسلام کی خدمت کے لیے اخلاص اور اظہار کا جذبہ پیدا کریں اللہ پاک ہمیں بھی
انصار صحابہ سے بلکہ تمام صحابہ کرام سے محبت رکھنے اور ان کو اچھے الفاظ میں یاد
کرنے کی توفیق عطا فرمائے ان سے بغض رکھنے سے بچائے اور ان کے صدقے ہماری بے حساب
مغفرت فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
صحابی رسول
ہونا اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے۔ ہر صحابی عادل اور جنتی ہے۔ کوئی شخص بھلے کتنی
ہی عبادت کر لے وہ کبھی بھی صحابی نہیں بن سکتا کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہم نے رسول اللہﷺ کی محبت پائی، حضور ﷺ کی تربیت پائی تو وہ انسان کیا فرشتوں
سے بھی بڑھ گئے۔ (مراۃ المناجیح، 8/340)
انصار
سے محبت، ایمان کی نشانی: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: انصار (انصاری
صحابہ)سے محبت ایمان کی علامت اور ان سے بغض نفاق کی علامت ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث:
3784)
نبی کریم ﷺ نے
انصاری صحابہ سے محبت کو ایمان کا معیار قرار دیا، یوں انصار سے سچی محبت ہی ایمان
کی نشانی ہے۔
نبی
کریم ﷺ کی انصار صحابہ کے لیے دعا: مہاجرین و انصار مدینہ شریف کے گرد
خندق کھودنے میں مصروف تھے، تو نبی کریم ﷺ نے یہ دعا مانگی: اے اللہ! بھلائی نہیں
مگر آخرت کی بھلائی میں انصار و مہاجرین میں برکت فرما۔ (بخاری، 2/264، حدیث: 2835)
نبی کریم ﷺ کو
اپنے صحابہ سے اتنی محبت تھی کہ ان کیلئے دل سے دعائیں مانگتے اور جن کیلئے نبی
پاک ﷺ دعا مانگتے ہیں بس ان کا دنیا و آخرت دونوں میں بیڑا پار ہے۔
صحابہ
وہ صحابہ جن کی ہر دن عید ہوتی تھی
خدا
کا قرب حاصل تھا،نبی کی دید ہوتی تھی
نبی کریم ﷺ کی
انصار و مہاجر سے بے حد محبت تھی، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مجھے لوگوں میں سب سے
زیادہ محبوب تم (انصاری صحابہ) ہو، مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ تم (انصاری صحابہ)
پیارے ہو۔(بخاری، 2/556، حدیث: 3786)
ایک اور جگہ
ارشاد فرمایا: اگر لوگ ایک جنگل یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار و مہاجر کے جنگل
یا گھاٹی میں چلوں گا اور انصار اندرونی لباس کی طرح ہیں اور باقی لوگ بیرونی لباس
کی طرح ہیں۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)
ان احادیث سے
معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کو انصار صحابہ سے بہت زیادہ محبت تھی۔ اور پہلی حدیث
میں 2 مرتبہ اظہار محبت اور دوسری حدیث میں انصار صحابہ کو اندرونی لباس سے تشبیہ
دے کر محبت کی دلیل دی ہے۔
شرح
حدیث: مرآت
شریف میں ہے: اگر تمام جہان کی رائے ایک طرف ہو اور انصار کی رائے دوسری ہو تو میں
انصار کی رائے کے موافق رائے دوں گا، تمام کی راؤں پر انصار کی رائے کو ترجیح دوں
گا۔ یہ مطلب نہیں کہ میں انصار کی اتباع کروں گا، بلکہ سارا جہان حضور ﷺ کا متبع
ہے، حضور ﷺ کسی شخص یا کسی قوم کے متبع نہیں۔
اللہ
پاک کی انصار صحابہ سے محبت: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: انصار سے محبت
نہ کرے گا مگر مومن اور ان سے دشمنی نہ کرے گا مگر منافق،تو جس نے ان سے محبت کی
اللہ پاک اس سے محبت کرے گا اور جس نے ان سے بغض رکھا اللہ پاک اس سے ناراض ہو گا۔
(بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)
ایمان
کا حصہ: حضور
اکرم ﷺ کی انصار صحابہ سے والہانہ محبت ایمان کی علامت اور ایمان کا حصہ تھی۔
انصار وہ عظیم لوگ تھے جنہوں نے ہجرت کے مشکل وقت میں رسول اللہ ﷺ اور مہاجرین کو
نہ صرف پناہ دی بلکہ اپنی جان اور مال کی قربانیاں پیش کیں۔
دعائے
مصطفوی: اے
اللہ! انصار کی اور ان کے بیٹوں اور پوتوں کی مغفرت فرما۔ (مسلم، ص 1044، حدیث:
6414)
حضور
کی انصار صحابہ سے محبت از بنت سید امجد علی شاہ،سرائے عالمگیر گجرات
حضور نبی اکرم ﷺ انصار صحابہ کرام سے بے حد محبت فرماتے ان کے ساتھ رہنا
پسند فرماتے فتح مکہ کے بعد بھی انہیں میں رہنا پسند فرمایا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے انہیں
میں وفات کو پسند فرمایا چنانچہ اسی ضمن میں احادیث مبارکہ مندرجہ ذیل ہیں:
اظہار
محبت: روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی ﷺ نے کچھ بچوں عورتوں کو
دیکھا ایک شادی سے آتے ہوئے تو نبی ﷺ کھڑے ہوگئے فرمایا الٰہی تو جانتا ہے اے
انصار تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو الٰہی تو جانتا ہے اے انصار تم
لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو یعنی انصار۔ (بخاری، 2/ 556،
حدیث: 3785)
انصار فرماکر راوی نے یہ بتایا کہ یہ کلام صرف ان لوگوں سے نہیں تھا بلکہ
سارے انصار سے تھا یعنی سارے انصار مجھے بہت پیارے ہیں۔ (مرآۃ المناجیح،8/477)
انصار
شعار ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر ہجرت نہ ہوتی تو ہم انصار میں
سے ایک صاحب ہوتے اور اگر لوگ ایک جنگل میں چلیں اور انصار دوسرے جنگل میں یا دوسری
گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کے جنگل یا انکی گھاٹی میں چلوں اور انصار اندرونی
لباس ہیں اور باقی لوگ بیرونی لباس ہیں۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)
حدیثِ مبارکہ میں الفاظ ہیں الانصار شعار و الناس دثار شعائر بنا ہےشعر سے بمعنی جسم کے بال جو لباس جسم سے بالکل
متصل رہے اسے شعار کہتے ہیں کہ وہ بالوں سے ملا ہوتا ہے اور جو لباس اس شعار کے
اوپر پہنا جاوے وہ دثار کہلاتا ہے، جیسے شعار جسم سے متصل رہتا ہے ایسے ہی انصار
مجھ سے ملے ہوئے ہیں کیونکہ ان کا اخلاص ان کی خدمت دوسرے عام مومنوں سے بہت زیادہ
ہے۔ (مرآۃ المناجیح،8/ 475)
میری
وفات تمہاری موت میں ہے: حضرت ابو
ہریرہ سے روایت ہے کہ ہم رسول الله ﷺ کے ساتھ تھے فتح مکہ کے دن تو فرمایا: جو ابو
سفیان کے گھر میں گھس جاوے اسے امان ہے اور جو ہتھیار کو رکھ دے اسے امان ہے تو
انصار بولے کہ ان محبوب کو اپنے کنبہ سے محبت اور اپنے وطن کی رغبت ہوگئی رسول
الله ﷺ پر وحی نازل ہوگئی فرمایا: کیا تم نے یہ کہا ہے کہ ان محبوب کو اپنے کنبہ
سے محبت اپنے وطن کی رغبت ہوگئی ایسا ہرگز نہیں ہے میں الله کا بندہ اور اس کا
رسول ہوں،میں نے الله کی اور تمہاری طرف ہجرت کرلی ہے اب میری زندگی تمہاری زندگی
میں ہے اور میری وفات تمہاری موت میں ہے۔ (مسلم، ص 760، حدیث:4622)
یعنی خاطر جمع رکھو اب میں اپنی زندگی اور موت میں تم کو نہیں چھوڑوں گا ہم
تم ہی میں جئیں گے اور تم میں وفات پائیں گے۔ (مرآۃ المناجیح،8/ 476)
اللہ کریم ہمیں بھی آقا علیہ الصلوۃ و السلام کی صحابہ کرام سے محبت کی سنت
پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔
انصار مدد
کرنے والوں کو کہا جاتا ہے مدینہ منورہ میں موجود مسلمان جنہوں نے مہاجرین کی مدد
کی تھی انہیں انصار کا خطاب ملا، آقا جان سید دو عالم محمد مصطفی ﷺ کی انصارِ
مدینہ سے محبت بے مثال تھی آپ نے انصار کی محبت کو ایمان کی نشانی قرار دیا ہے
اللہ نے قرآن مجید میں انکی عظمت کا ذکر فرمایا ہے: وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ
وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا
یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى
اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ
فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ(۹) (پ 28، الحشر: 9) ترجمہ: اوروہ جنہوں
نے ان (مہاجرین) سے پہلے اس شہر کواور ایمان کو ٹھکانہ بنالیا وہ اپنی طرف ہجرت
کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور وہ اپنے دلوں میں اس کے متعلق کوئی حسد نہیں پاتے
جو ان کو دیا گیا اور وہ اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں خود حاجت ہو
اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچالیا گیا تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔
آیت مبارکہ
میں انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی انتہائی مدح وثنا کی گئی ہے چنانچہ اس آیت
کا خلاصہ یہ ہے کہ جنہوں نے مہاجرین سے پہلے یا ان کی ہجرت سے پہلے بلکہ نبی کریم
ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے اس شہر مدینہ کو اپنا وطن اور ایمان کا ٹھکانہ بنا لیا
اسلام لائے اور حضور اقدس ﷺ کہ یہ تشریف آوری سے دو سال پہلے مسجدیں بنائیں ان کا
حال یہ ہے کہ وہ اپنی طرف ہجرت کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں (اور اس کا عملی ثبوت
دیتے ہوئے) اپنے گھروں میں انہیں ٹھہراتے اور اپنے مالوں میں نصف کا انہیں شریک
کرتے ہیں اور وہ اپنے دلوں میں اس مال کے بارے میں کوئی خواہش اور طلب نہیں پاتے
جو ان مہاجرین کو دیا گیا اور وہ اپنے اموال اور گھر ایثار کر کے مہاجرین کو اپنی
جانوں پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں خود مال کی حاجت ہو اور جس کے نفس کو لالچ سے
پاک کیا گیا تو وہی کامیاب ہے۔
انصار
کے اوصاف حمیدہ:
علامہ ابو
زکریا یحیی بن شرف نووی علیہ الرحمہ نے انصار سے محبت کے متعلق حدیث کی جو شرح
فرمائی ہے اس کا خلاصہ پیش خدمت ہے: انصار صحابہ کرام بہت سی خوبیوں کے حامل ہیں
مثلا انصار نے دین اسلام کی مدد و نصرت کی دین اسلام کی اشاعت کی خاطر خوب کوشش کی
مہاجرین صحابہ کرام علیہم الرضوان کو اپنے پاس عزت و احترام سے ٹھہرایا اسلام کی
حاطر جانی اور مالی قربانی دی انصار حضور ﷺ سے والہانہ محبت کرتے تھے اپ بھی ان سے
محبت فرمایا کرتے تھے انصار بارگاہ رسالت میں اپنے اموال اور قیمتی جانور پیش کیا
کرتے تھے انصار نے اسلام کی خاطر سب سے دشمنی مول لی وغیرہ وغیرہ ان تمام اوصاف
حمیدہ کی بدولت انہیں یہ مقام ملا کہ ان کی محبت کو ایمان کی علامت اور ان سے بغض
کو منافقت کی علامت قرار دیا گیا۔
انصار
کی محبت پر احادیث مبارکہ:
نبی کریم ﷺ نے
ارشاد فرمایا: انصار سے محبت رکھنا ایمان کی علامت ہے اور انصار سے بغض رکھنا نفاق
کی علامت ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)
فرمایا: اور
بے شک انصار میرے رازدار اور میرے خاص لوگ ہیں لہذا ان کے نیک لوگوں کا اکرام کرو
اور ان کے خطا کاروں سے درگزر فرماؤ۔ (بخاری، 2/ 560، حدیث: 3799)
انصار
کی نمایاں خصوصیات:
1: جو انصار
صحابہ سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کرتا ہے اور جو ان سے بغض رکھے اللہ عزوجل اسے
ناپسند کرتا ہے۔
2: آقا جان ﷺ نے
انصار کو اپنا رازدار فرمایا۔
3: حضور ﷺ نے
انصار صحابہ کی عزت اور اکرام کرنے کا درس دیا۔
4: اپنے جان
اور مال پر اپنے دینی بھائیوں کو ترجیح دینی چاہیے۔
5: حضور جان
عالم ﷺ انصار صحابہ سے والہانہ محبت فرماتے تھے۔
6:انصار صحابہ
نے دین کو پھیلانے میں حضور ﷺ کا بہت ساتھ دیا۔
اللہ پاک ہمیں
انصار صحابہ سے محبت کرنے اور ان کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
حضور
کی انصار صحابہ سے محبت از بنت محمد طالب عطاری، بھینس کالونی لانڈھی کراچی
صحابہ
کسے کہتے ہیں؟ جنہوں
نے اللہ کے پیارے حبیب ﷺ کی زیارت ایمان کی حالت میں کی اور ایمان کی ہی حالت میں
انہوں نے وفات پائی ہو انہیں صحابی کہا جاتا ہے۔
پیارے آقا ﷺ نے
اپنے پیارے صحابہ کے بارے میں ارشاد فرمایا: میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ان
میں سے جس کی بھی تم پیروی کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔
صحابہ کرام
علیہم الرضوان میں سے کچھ صحابہ مہاجر اور کچھ انصار بھی تھے۔
مہاجر
کسے کہتے ہیں؟ کفار
مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر جن مسلمانوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی انہیں
مہاجرین کہا جاتا ہے۔
انصار
کسے کہتے ہیں؟ مدینہ
منورہ میں رہنے والے وہ مسلمان جنہوں نے ان مہاجرین مسلمانوں کی مدد کی انہیں
انصار کہا جاتا ہے پیارے آقا جان ﷺ کو یوں تو اپنے تمام صحابہ کرام ہی سے بہت محبت
تھی مگر آپ کو انصار سے بھی والہانہ محبت تھی، چنانچہ
فضیلتِ
انصار بزبانِ سرکار: انصار کی فضیلت بیان کرتے ہوئے خود اللہ پاک کے نور
والے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر میں ہجرت نہ کرتا تو انصار میں سے ہوتا اور اگر
ایک وادی اور گھاٹی میں دیگر لوگ ہوں اور دوسری میں انصار ہوں تو میں انصار کی
وادی اور گھاٹی میں جاؤں گا اور انصار میرے نزدیک ان حقیقی کپڑوں کی مانند ہیں جو
جسم کے ساتھ ملے ہوئے ہیں جبکہ دیگر لوگ ان کپڑوں کے اوپر پہنے جانے والے اضافی
کپڑوں کی طرح ہیں۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)
حضرت عبداللہ
بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اپنے اس مرض میں جس میں آپ
کی وفات ہوئی باہر تشریف لائے منبر پر تشریف فرما ہوئے اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر
فرمایا: حمد و ثنا کے بعد، لوگو! سنو، لوگ تو بڑھتے جائیں گے اور انصار کم ہوتے
جائیں گے یہاں تک کہ لوگوں میں ان کی حیثیت ایسی ہو جائے گی جیسے کھانے میں نمک کی
ہوتی ہے، پس تم میں سے جو شخص کسی ایسے معاملے کا والی بنے جس میں وہ کسی کو نقصان
یا فائدہ پہنچا سکتا ہو تو چاہیے کہ وہ انصار کے نیک لوگوں کی نیکی قبول کرے اور
ان کے خطا کاروں سے درگزر کرے۔ (بخاری، 2/ 560، حدیث: 3800)
حضرت زید بن
ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا کی: اے اللہ! انصار کی مغفرت
فرما، اور انصار کے بیٹوں کی مغفرت فرما، اور انصار کے پوتوں کی بھی مغفرت فرما اور
ایک روایت میں اضافہ بھی ہے اور انصار کی غلاموں /آزاد کردہ لوگوں کی بھی مغفرت
فرما۔ (مسلم، ص 1044، حدیث: 6414)
انصار
سے والہانہ محبت: حضرت
عامر بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد گرامی حضرت سیدنا سعد بن
ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے عرض کی: ابا جان!
آپ نے انصار کے محلے میں گھر بنایا ہے، اس کی کوئی خاص وجہ؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے
جواب دینے کے بجائے مجھ سے پوچھ لیا کہ کیا تمہارے دل میں کوئی شبہ ہے! میں نے عرض
کی: نہیں،بلکہ میں تو ویسے ہی پوچھ رہا تھاتو آپ انصار کے فضائل بیان کرتے ہوئے
ارشاد فرمانے لگے: میں نے خود محسن کائنات فخر موجودات ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے
سنا ہے کہ انصار سے وہی محبت رکھے گا جو مومن ہے اور ان سے وہی بغض رکھے گا جو
منافق ہے۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)
کفار مکہ کے
ظلم وستم سے تنگ آکر جن مسلمانوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی انہیں مہاجرین کہا جاتا ہے اور مدینہ منورہ میں رہنے والے وہ
مسلمان جنہوں نے ان مہاجرین مسلمانوں کی مدد کی انہیں انصار کہا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ
نے ان کی فضیلت، ان سب سے اپنی رضامندی اور اعلیٰ انعام واکرام کو اپنے پاک کلام
قرآنِ مجید میں خود بیان فرمایا ہے: وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ
الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ
اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا
الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) (پ
11، التوبۃ: 100) ترجمہ: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے
ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر
رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔
آیت مبارکہ کی
روشنی میں ہم نے انصار کی فضیلت دیکھی اسی طرح احادیثِ پاک میں انصار کے فضائل و
خصائل کی خوشبو جابجا بکھری ہوئی ہے۔ انصار حضور کی چشمِ رحمت میں ستارا بن کر چمکتے
تھے محبت رسول ان پر بارش کی طرح برستی رہی، حضور ﷺ کوانصار سے بہت محبت تھی حضور
ﷺ ان کی خوشی پر خوش ہوتے، لوگوں کے سامنے ان سے محبت کا اظہار فرماتے، ان کے ساتھ
رہنا پسند فرماتے تھے۔
انصار نے آپ ﷺ
کی اس وقت مدد کی تھی، جب آپ ﷺ اور مہاجر صحابہ کرام پر انتہائی سخت حالات تھے حتی
کہ ان کے لیے اپنے وطن میں ٹھہرنا ممکن نہیں رہ گیا تھا اس وقت انصار نے مالی طور
پر بھی مہاجر صحابہ کرام سے ہر ممکن تعاون کیا، پھر کفار سے جنگوں میں مہاجرین کے
شانہ بشانہ جانی اور مالی قربانیاں پیش کیں اس لیے انصار سے محبت دراصل اسلام اور
پیغمبر اسلام سے محبت کا مظہر ہے۔
نبیﷺ نے انصار
کے بارے میں فرمایا: ان سے مومن ہی محبت کرتا ہے، اور ان سے منافق ہی بغض رکھتا
ہے، جو ان سے محبت کرے گا اس سے اللہ محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا اس سے
اللہ بغض رکھے گا۔ (1)
اس طرح ایک
اور مقام پر حضور ﷺ نے کچھ بچوں اور عورتوں کو ایک شادی سے آتے ہوئے دیکھا تو حضور
ﷺ کھڑے ہوگئے اور (دو بار)ارشادفرمایا: اے انصار!تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ
پیارے ہو!اے انصار!تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو۔ (2)
آپ ﷺ نے
فرمایا: اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں اَنصار کا ایک فرد ہوتا، اگر لوگ ایک جنگل میں
چلیں اور اَنصار دوسرے جنگل میں یا دوسری گھاٹی میں تو میں انصار کے جنگل یا ان کی
گھاٹی میں چلوں گا اور انصار اندرونی لباس ہیں اور باقی لوگ بیرونی لباس ہیں۔ (3)
حضرت انس بن
مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ایمان
کی نشانی انصار سے محبت کرنا اور منافقت کی نشانی ان سے بغض رکھنا ہے۔ (4)
معلوم ہوا کہ
انصاری صحابہ سے محبت بھی ایمان کا حصہ ہے۔ کیوں کہ ان لوگوں نے نبی ﷺ کی محبت اور
دین اسلام کی نصرت و حمایت میں اپنی ہر سستی و مہنگی چیز خرچ کر دی، خود تنگ ہوئے
لیکن نبیﷺ اور آپ کے مہاجر ساتھیوں کو سکون پہنچایا۔ اپنے نفسوں پر انہیں ترجیح
دی، کفار کے خلاف جہاد کے سلسلے میں اپنی جانیں اور اپنے مال پیش کر دئیے اور ایسی
شجاعت کا مظاہرہ کیا کہ تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔
پس جو انصار
سے محبت رکھے گا اس نے اسلام کی محبت سے نور ایمان حاصل کرلیا اور جس نے ایسے
بندگان الٰہی سے بغض رکھا اس نے اسلام سے بغض رکھا۔
حوالہ
جات
(1) بخاری، 2/
555، حدیث: 3783
(2) بخاری، 2/
556، حدیث: 3785
(3) بخاری، 3/116،
حدیث: 4330
(4) بخاری، 2/555،
حدیث: 3784
انصار صحابہ
وہ مقدس محترم اور عظمت والے صحابہ کرام ہیں جن کے بارے میں خودنبی کریم ﷺ نے محبت
اور عظمت کے کلمات ارشاد فرمائے اور یہ وہ عظیم صحابہ کرام ہیں جنہوں نے اسلام کی
بھرپور مدد کی اور بڑی قربانیاں دی ان صحابہ کرام نے مہاجرین کی مدد کی اور ان سے
محبت بھی کی۔ یہ وہ لوگ تھے جو مدینہ میں پہلے سے ایمان کے ساتھ رہتے تھے۔ ان
انصار صحابہ کے دل میں بغض و حسد نہ تھا اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ کو ان صحابہ انصار
سے محبت تھی اور آپ نے ان کی عزت اور قدر کو ظاہر بھی کیا۔ ایک حدیث مبارکہ میں
پیارے آقا نے فرمایا: انصار سے محبت صرف مومن ہی رکھتے ہیں اور ان سے بغض صرف
منافقین ہی رکھتے ہیں پس جو شخص ان سے محبت کرے گا اللہ پاک اس سے محبت کرے گا اور
جو ان سے بعض رکھے گا اللہ پاک اسے ناپسند فرمائے گا۔ (1)
معلوم ہوا کہ
انصار صحابہ سے محبت کرنا ہی ایمان کی نشانی ہے ایک مسلمان جو سچا ہے وہ ان انصار
سے محبت کرتا ہے اس بنا پر کہ پیارے آقا بھی ان سے محبت فرماتے ہیں قرآن کریم میں
بھی ان کی عظمت بیان ہوئی جیسا کہ سورہ حشر میں ارشاد ہوتا ہے: وَ الَّذِیْنَ
تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ
اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ
یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ وَ مَنْ
یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ(۹) ترجمہ: اوروہ
جنہوں نے ان (مہاجرین) سے پہلے اس شہر کواور ایمان کو ٹھکانہ بنالیا وہ اپنی طرف
ہجرت کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور وہ اپنے دلوں میں اس کے متعلق کوئی حسد نہیں
پاتے جو ان کو دیا گیا اور وہ اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں خود حاجت
ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچالیا گیا تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔ (2)
اس آیت سے
انصار حابہ کی عظمت و شان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ نبی کریم اور مہاجرین
سے محبت کرتے ہیں حضرت انس نے بیان کیا چنانچہ ایک مرتبہ پیارے آقا ﷺ نے انصار کی
عورتوں اور بچوں کو میرے گمان کے مطابق کسی شادی سے واپسی پر دیکھا تو آپ کھڑے ہو
گئے اور فرمایا اللہ گواہ ہے تم لوگ یعنی انصار مجھے سب سے عزیز ہو تین بار اسی
طرح فرمایا۔ (3)
یہ انصار کے
ساتھ آپ کی گہری محبت اور عظمت کی نشانی ہے اسلام کی تاریخ میں انصار صحابہ کا
مقام و مرتبہ پیارے آقا کے ان سے محبت کرنے سے اور بلند ہو جاتا ہے انہوں نے مدینہ
میں پیارے آقا کا بے انتہا شاندار استقبال بھی کیا تھا اور اسلام کی تبلیغ میں بھی
آپکا ساتھ دیا۔
اس طرح حضور ﷺ
نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں، تو میں انصار کی
وادی کو اختیار کروں گا۔ اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ایک آدمی ہوتا۔
(4)
اس سے معلوم
ہوا کہ آپ انصار صحابہ سے بے انتہا محبت فرماتے ہیں اور انکو پسند فرماتے ہیں۔
اسی طرح آپکا
ایک اور فرمان ہے جو آپ کی انصار سے محبت کو ظاہر کرتا ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اگر
میں نے کسی کو اپنا خلیل بنانا ہوتا تو میں انصار میں سے کسی کو بناتا لیکن اسلام
کا رشتہ ہی سب سے افضل ہے۔
اس حدیث سے
بھی آپکی انصار صحابہ سے محبت کو اظہار ہو رہا ہے کہ آپ ان کو کس قدر چاہتے ہیں
اور محبت فرماتے ہیں۔
مختصر یہ کہ ان
تمام حدیثوں سے آقا علیہ السلام کی انصار صحابہ سے محبت کو واضح سمجھا جاسکتا ہے
کہ پیارے آقا بھی انصار صحابہ سے بے پناہ محبت فرماتے ہیں لہذا ہمیں بھی ان انصار
صحابہ سے محبت کرنی چاہیے تاکہ اللہ پاک ہم سے محبت کرے۔
حوالہ
جات:
(1) بخاری، 2/
555، حدیث: 3783
(2) پ 28، الحشر:
9
(3) بخاری، 2/
556، حدیث: 3785
حضور خاتم
النبیین ﷺ انصار صحابہ سے بے پناہ محبت فرماتے ۔جب آپ علیہ السلام نے اپنے
جانثاروں کے ساتھ مکہ مکرمہ سے ہجرت فرمائی تو انصار صحابہ کرام نے اپنے اہل وعیال
سمیت آپ علیہ السلام اور تمام مہاجرین کی نہایت پُر جوش و پُر وقار ضیافت و مہمان
نوازی فرمائی اور جب چند دنوں بعد آقا علیہ السلام نے حضرت انس بن مالک کے مکان
میں تمام مہاجرین و انصار کے درمیان رشتۂ اخوت قائم فرمایا تو آپ کے فرمانِ
عالیشان کے جاری ہوتے ہی تمام انصار صحابہ اپنے مہاجر بھائیوں کو اپنے گھروں میں
لے گئے اور تمام سامان ان کے سامنے رکھا اور کہا کہ اب اس سامان میں آپ بھی حصہ دار
ہیں۔انصار صحابہ کرام نے آقا علیہ السلام کی بارگاہ میں جان و مال کے نذرانے پیش
کرنے سے بالکل بھی کنارہ نہ کیا ان ہی قربانیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے؛براء بن عازب
رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے انصار سے محبت کی اس
سے اللہ نے محبت کی، اور جس شخص نے انصار سے دشمنی کی اس سے اللہ پاک ناراض ہوا۔ (بخاری،
2/ 555، حدیث: 3783)
انصار صحابہ
کرام سے میرے آقا علیہ السلام کی محبت کا یہ عالم ہے کہ اپنے جانثاروں کی محبت کو
محبتِ ربِ کائنات اور انصار صحابہ کی دشمنی کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی قرار دے دیا
اور قیامت تک کے لئے ایک قانون نافذ فرمادیا گیا کہ اب جس نے صحابۂ انصار سے محبت
کی گویا کہ اس نے اللہ سے محبت کی اور جس نے صحابۂ انصار سے دشمنی کی گویا کہ اس
نے ربِ آقائے کائنات سے دشمنی کی اسی ضمن میں میرے آقا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ انصار
سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے کینہ رکھنا نفاق کی نشانی ہے۔ (بخاری،
2/555، حدیث: 3784)
قربان جائیں
اپنے محبوب علیہ السلام کی صحابۂ انصار سے محبت پر کہ آپ خود اپنے انصار جانثاروں
سے محبت فرماتے ہی ہیں لیکن قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے بھی صحابۂ
انصار کی محبت کو علامتِ ایمان قرار فرمادیا اور ان کے بغض کو علامتِ نفاق۔
حضرت حسان بن
ثابت جو کہ آقا علیہ السلام کے مقبول درباری شاعر تھے آپ بھی انصاری صحابہ میں سے
ہیں۔آپ نے آقا علیہ السلام کی تمام امت کو قیامت تک کے لئے یہ سبق عطا فرمایا کہ!
فإنّ أبي ووالد
وعرضي لعرض محمدٍﷺ منكم وقاءُ حضرتِ حسان کے اس عشق سے لبریز قول کا
مفہوم یہی ہے کہ قیامت تک اب عزت اسی کی ہوگی جو اپنے ماں،باپ،عزت آبرو،جان و مال
آقا علیہ السلام پر وار دے گا، اللہ عزتیں اسے ہی عطا فرمائے گا جو حضور علیہ
السلام کی عزت و ناموس کی پہرہ داری کرے گا۔
حضور علیہ
السلام اور آپ ﷺ کے جانثار صحابہ کرام کا تذکرہ ہو اور میرے امام اعلیٰ حضرت امام
احمد رضا خان بریلوی کا کلکِ رضا متحرک نہ ہو! ایسا ہو ہی نہیں سکتا تو اعلیٰ حضرت
فرماتے ہیں:
اہل
سنت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور نجم
ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی
اللہ پاک ہمیں
بھی حقیقی عشقِ مصطفیٰ و عشقِ صحابہ کرام و اہلِ بیت عطا فرمائے۔ آمین
ہم
لوگ صحابہ کے قصیدوں کے گویے ہم
سے تو کسی ایک کا انکار نہ ہووے
حضور
کی انصار صحابہ سے محبت از بنت غلام سرور، سیکٹر ایل اورنگی ٹاؤن کراچی
حضور نبی کریم
ﷺ کی انصار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت اسلامی تاریخ کا ایک روشن
باب ہے۔ انصارِ مدینہ وہ سعادت مند نفوس تھے جنہوں نے سرورِ کونین ﷺ اور مہاجر
صحابہ کرام علیہم الرضوان کو اپنے دلوں اور گھروں میں جگہ دی اور ہر مشکل گھڑی میں
ان کا ساتھ دیا۔ انہوں نے اسلام کی نصرت کے لیے بے مثال قربانیاں دیں اور ایثار و
محبت کی عظیم مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔
انصار صحابہ
کرام ایسے خوش بخت ہیں کہ ان کا ذکر قرآن مجید فرقان حمید میں بھی آیا ہے۔ چنانچہ
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ
قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ
صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ
لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ(۹) (پ 28، الحشر:
9) ترجمہ: اوروہ جنہوں نے ان (مہاجرین) سے پہلے اس شہر کواور ایمان کو ٹھکانہ
بنالیا وہ اپنی طرف ہجرت کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور وہ اپنے دلوں میں اس کے
متعلق کوئی حسد نہیں پاتے جو ان کو دیا گیا اور وہ اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں
اگرچہ انہیں خود حاجت ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچالیا گیا تو وہی لوگ کامیاب
ہیں۔
اس آیتِ
مبارکہ میں انصار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایثار، محبت اور مہاجر
صحابہ کرام سے حسنِ سلوک کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ اپنی ضرورت کے باوجود مہاجر
صحابہ کرام کو اپنے اوپر ترجیح دیتے تھے۔ وہ ان کی مدد کرتے، انہیں اپنے گھروں میں
ٹھہراتے اور ان کے ساتھ مکمل اخلاص و بھائی چارے کا مظاہرہ کرتے تھے۔
انصار صحابہ
کرام کی عظمت صرف قرآن مجید سے ہی ثابت نہیں بلکہ خود حضور نبی کریم ﷺ نے بھی
متعدد مواقع پر ان سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ
عنہ سے مروی ہے کہ ابو القاسم ﷺ نے فرمایا: اگر انصار کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں
تو میں بھی انصار کی وادی میں چلوں گا اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک
فرد ہوتا۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)
اسی طرح حضرت
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری عورت اپنے بچے کو لے کر رسولِ
اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں
میری جان ہے! تم مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔ (بخاری، 2/556، حدیث: 3786)
ان تمام
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انصارصحابہ کرام کو بارگاہِ رسالت میں خاص مقام حاصل
تھا۔ انہوں نے ہر مشکل وقت میں حضور ﷺ کا ساتھ دیا، اپنی جان و مال قربان کیا اور
دینِ اسلام کی خدمت میں بے مثال کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے
بارہا ان سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا۔
اللہ تعالیٰ
ہمیں بھی صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سچی محبت نصیب فرمائے اور ان کے
نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
حضور
کی انصار صحابہ سے محبت از بنت لیاقت علی، فیض پور 30 چک فیصل اباد
پیارے آقا جان
ﷺ کی انصار صحابہ کے ساتھ محبت پر اللہ نے ان کی فضیلت ان سب سے اپنی رضامندی اور انعام
واکرام کو اپنے کلام میں پاک میں خود بیان فرمایا: وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ
مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ
اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا
الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) (پ
11، التوبۃ: 100) ترجمہ: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے
ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر
رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔
مدینہ منورہ
میں رہنے والے وہ مسلمان جنہوں نے مہاجرین مسلمانوں کی مدد کی انہیں انصار کہا
جاتا ہے۔
حضور ﷺ کی
انصار مدینہ سے محبت بے پناہ تھی انصار اُن عظیم ہستیوں کا وہ گروہ ہے جنہوں نے
اسلام اور پیارے آقا ﷺ کی ہر مشکل گھڑی میں بے دریغ مدد کی۔
انصار سے محبت
پر فرمان مصطفی: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے
کچھ بچوں اور عورتوں کو شادی سے آتے ہوئے دیکھا تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا: الہی
تو جانتا ہے اے انصار تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو الہی تو جانتا ہے
اے انصار تم لوگ مجھے سب سے زیادہ پیارے ہو۔ (بخاری، 2/556، حدیث: 3785)
آپ ﷺ نے انصار
کی قربانیوں کا ایسا اعتراف فرمایا کہ ان سے محبت کو ایمان کی نشانی اور بغض کو
نفاق قرار دیا۔
حضرت براء بن
عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حسن اخلاق کے پیکر ﷺ انصار کے بارے میں فرمایا: ان
سے مومن ہی محبت رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا جو ان سے محبت کرے اللہ اس سے
محبت فرماتا ہے اور جو ان سے بغض رکھے اللہ اسے نا پسند فرماتا ہے۔ (بخاری، 2/ 555،
حدیث: 3783)
دو جہاں کے تا
جور سلطان بحر و بر محمد مصطفی ﷺ کو انصار سے محبت ہی اتنی زیادہ تھی کہ ان سے
محبت کرنا ایمان کا حصّہ قرار دے دیا، ارشاد فرمایا: انصار کی محبت ایمان کا حصہ
ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)
انصار صحابہ
کو بھی پیارے آقا سے والہانہ عشق تھا حضور علیہ الصلوۃ والسلام بھی انصار صحابہ
رضی اللہ عنہم کے ساتھ بہت زیادہ محبت فرماتے تھے ان کی خوشی پر خوش ہوتے تھے اور
ان کا لوگوں کے سامنے محبت کا اظہار فرماتے ان کے ساتھ رہنا پسند فرماتے۔
ارشاد فرمایا:
اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا اگر لوگ جنگل میں چلیں اور انصار
دوسرے جنگل میں یا دوسری گھاٹی میں تو میں انصار کے جنگل یا ان کی گھاٹی میں چلوں
گا اور انصار اندرونی لباس ہیں اور باقی لوگ بیرونی لباس ہیں۔ (بخاری، 3/116، حدیث:
4330)
Dawateislami