وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ
مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ
اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا
الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) (پ
11، التوبۃ: 100) ترجمہ: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے
ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر
رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔
انصار
صحابہ سے مراد: انصار
سے مراد وہ صحابہ ہیں جو مدینہ میں رہائش پذیر تھے اور مدینہ میں مہاجر صحابہ کی
مدد کی اور انہیں گھر بار دیا تھا وہ انصاری (مدد گار) صحابہ کہلاتے ہیں۔
حضور
ﷺ کی انصار سے محبت: نبی کریم ﷺ کو انصار صحابہ سے بہت محبت تھی۔ آپ ان
حضرات کے گھر تشریف لے جاتے۔ ان کے مال، اولاد، جان میں خیر و برکت کی دعائیں کرتے
اور ان کی دل جوئی بھی فرماتے۔ چنانچہ
روایت ہے حضرت
براء سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله ﷺ کو فرماتے سنا کہ انصار سے محبت نہ کرے گا
مگر مؤمن اور ان سے عداوت نہ کرے گا مگر منافق تو جس نے ان سے محبت کی الله اس سے
محبت کرے،جس نے ان سے بغض رکھا الله اس سے ناراض ہو۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)
سبحان الله
انصار سے محبت کو کامل ایمان کی نشانی قرار دیا گیا اور بغض وعداوت کو منافقت کی
علامت، یاد رہے کہ حضور ﷺ نے جو ایک بار ارشاد فرما دیا قیامت تک اس کا حکم باقی
رہے گا لہذا یہاں ان لوگوں کے لیے مقام عبرت ہے جو صحابہ کے بارے بدگوئی کرتے ان
پر طعن کرتے۔(معاذ الله) حضور نے بغض رکھنے والوں کے لیے دعائے ضرر کی کہ اللہ ان
سے ناراض ہو۔ معلوم ہوا جس سے حضور ﷺ ناراض اس سے اللہ بھی ناراض۔ (الامان والحفیظ)
خدا
کی رضا چاہتے ہیں دو عالم خدا
چاہتا ہے رضائے محمد
روایت ہے حضرت
انس سے کہ نبی کریم ﷺ نے کچھ بچوں عورتوں کو دیکھا ایک شادی سے آتے ہوئے تو آپ کھڑے
ہوگئے فرمایا: الٰہی تو جانتا ہے اے انصار تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے
ہو الٰہی تو جانتا ہے اے انصار تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو یعنی
انصار۔ (بخاری، 2/ 556، حدیث: 3785)
دیکھا آپ نے
حضور کی انصارسے محبت، حضور ﷺ کو انصار اتنے پیارے ہیں کہ پہلے اللہ کو گواہ بنایا
پھر انصار سے خطاب فرمایا۔ یہ کلام صرف انہی لوگوں کے ساتھ خاص نہیں بلکہ تمام
انصار سے تھا یعنی مجھے سارے انصار بہت پیارے ہیں۔
روایت ہے حضرت
زید ابن ارقم سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے: الٰہی انصار کو انصار کی
اولادکو انصار کی اولاد کی اولاد کو بخش دے۔(مسلم، ص 1044، حدیث: 6414)
سبحان الله!
کیا شان ہے انصار صحابہ کی کہ حضور ﷺ نے خود ان کی بخشش کی دعا فرمائی اس فرمان
عالی سے مراد انصاری صحابہ، تابعین، تبع تابعین یا تا قیامت ساری اولادِ انصار
مراد ہے۔ انصار کی عظمت کے کیا کہنے کہ رسول الله ﷺ نے صرف اپنے زمانہ کے انصار
کیلئے دعا نہیں فرمائی بلکہ ان کی اولاد اور اولاد کی اولاد کیلئے بھی بخشش کی دعا
فرمائی۔
اللہ پاک
انصار کی محبت ہمیں عطا فرمائے تمام صحابہ جنتی ہیں۔ جو صحابہ کا ہے وہ حضور ﷺ کا
ہے اور حضور ﷺ اس کے ہیں۔
اہلسنت
کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور
نجم
ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی
حضور کی
انصار صحابہ سے محبت از ام ہانی،فیضان عائشہ صدیقہ نندپور سیالکوٹ
مدینہ منورہ
کے وہ مسلمان جنہوں نے ہجرت کے بعد رسول اللہ ﷺ اور مکہ سے آنے والے مسلمان
مہاجرین کی مدد کی انصار کہلاتے ہیں۔ انصار و مہاجرین کا ذکر قرآن میں آیا ہے اور
لوگوں کو ان کے اتباع کی تلقین کی گئی ہے۔
قرآن مجید میں
جہاں مہاجرین و انصار کا ذکر آیا ہے وہاں انصار سے مراد انصار مدینہ ہیں جو نبی
کریم ﷺ کی نصرت کی بدولت اس لقب سے سرفراز کیے گئے۔ مدنی زندگی میں اگرچہ مسلمانوں
کی یہ دو تقسیمیں تھیں۔ مگر رسول اللہ نے ابتدا ہی سے ان میں بھائی چارہ کرا دیا
تھا۔ غزوہ بدر سے پہلے جب حضور نے صحابہ کرام کو مشورے کے لے جمع کیا تو مہاجرین
نے جان نثارانہ تقریریں کیں۔ اس کے بعد حضور نے انصار کی طرف دیکھا۔ کیونکہ ان سے
معاہدہ تھا کہ وہ صرف اس وقت تلواریں اٹھائیں گے جب دشمن مدینہ پر چڑھ آئیں گے۔
سعد بن عبادہ سردار بنو خزرج نے کہا کہ آپ فرمائیں تو ہم سمندر میں کود پڑیں۔
مقداد نے کہا کہ ہم حضرت موسی کی قوم کی طرح یہ نہیں کہیں گے آپ اور آپ کا خدا
لڑیں۔ ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ ہم تو آپ کے داہنے سے، بائیں سے، سامنے سے اور پیچھے سے
لڑیں گے۔ انصار کا تعلق ازد کے دو اہم قبائل بنو خزرج اور بنو اوس سے تھا۔
حضرت براء بن عازب
سے مَروی ہے کہ حضور ﷺ نے انصار کے بارے میں ارشاد فرمایا: ان سے مؤمن ہی محبت
رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور جو ان سے محبت کرے اللہ اس سے محبت فرماتا
ہے اور جو ان سے بغض رکھے اللہ اسے ناپسند فرماتا ہے۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)
اس حدیث پاک
میں صحابہ کرام کی محبت کو اِیمان کی نشانی اور علامت فرمایا گیا ہے اور اُن کی
محبت کی ترغیب دلائی گئی ہے۔
اللہ پاک نے
ان کی فضیلت، ان سب سے اپنی رضامندی اور اعلیٰ انعام واکرام کو اپنے پاک کلام
قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں خود بیان فرمایا ہے: وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ
مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ
اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا
الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) (پ
11، التوبۃ: 100) ترجمہ: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے
ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر
رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔
حضور نبی اکرم
ﷺ کو انصار سے بہت محبت تھی۔ آپ ان کی خوشی پر خوش ہوتے، لوگوں کے سامنے ان سے
محبت کا اظہار فرماتے، ان کے ساتھ رہنا پسند فرماتے تھے۔ اس ضمن میں کچھ احادیثِ
مبارکہ ملاحظہ کیجئے:
ایک مرتبہ
سرکار ﷺ نے کچھ بچوں اور عورتوں کوایک شادی سے آتے ہوئے دیکھا تو کھڑے ہوگئے اور
فرمایا: الٰہی تو جانتا ہے، اے انصار! تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو۔
الٰہی تو جانتا ہے، اے انصار! تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو۔ (بخاری، 2/556،
حدیث: 3785)
ارشاد فرمایا:
اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں اَنصار کا ایک فرد ہوتا، اگر لوگ ایک جنگل میں چلیں اور
انصار دوسرے جنگل میں یا دوسری گھاٹی میں تو میں انصار کے جنگل یا ان کی گھاٹی میں
چلوں گا اور انصار اندرونی لباس ہیں اور باقی لوگ بیرونی لباس ہیں۔ (بخاری، 3/116،
حدیث: 4330)
حضور ﷺ نے
ارشاد فرمایا: ایمان کی نشانی انصار سے محبت ہے اور منافقت کی نشانی انصار سے بغض
ہے۔ (بخاری، 1/17، حدیث: 17)
حدیثِ
مذکورمیں انصار کی محبت کو ایمان کی علامت اور ان سے بغض کو نفاق کی علامت قرار
دیا گیا ہے۔ اللہ ان سے محبت کرنے والوں کو پسند فرماتا اور اُن کے معاندین کو
ناپسند فرماتا ہے۔ انصار صحابہ کرام سے وہی محبت کرے گا جو کامل مؤمن ہوگا اور ان
سے بغض و ہی رکھے گا جو اعتقادی یا عملی منافق ہوگا۔
اللہ ہمیں
تمام صحابہ کرام کی سچی محبت عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
حضور
کی انصار صحابہ سے محبت از بنت عبدالواحد،فیضان عطار گہوگا سیالکوٹ
ہجرت مدینہ کے
بعد انصارِ نے نبی کریم ﷺ کا جس محبت، احترام اور خلوص سے استقبال کیا، وہ اسلامی
تاریخ کا روشن باب ہے۔ انہوں نے ہر مشکل وقت میں حضور ﷺ کا ساتھ دیا اور اسلام کی
سربلندی کے لیے اپنی ہر چیز قربان کر دی۔ رسول اللہ ﷺ بھی انصار سے بے پناہ محبت
کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ انصار سے محبت ایمان کی نشانی ہے۔ یہی تعلق ہمیں
اخوت، محبت اور وفاداری کا درس دیتا ہے۔
انصار کا معنی
ہے مددگار دوست۔ انصارِ مدینہ سے مراد مدینہ کے وہ مسلمان ہیں جنہوں نے حضور اکرم ﷺ
کی اور مکہ مکرمہ سے آنے والے مہاجرین کی مدد کی۔
اللہ تعالیٰ
نے ارشاد فرمایا: لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَؕ-اُولٰٓىٕكَ
اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْاؕ-وَ كُلًّا
وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠(۱۰) (پ 27،
الحدید:10) ترجمہ کنز العرفان: تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح مکہ سے قبل خرچ
اور جہاد کیا وہ مرتبے میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا
اور ان سب سے اللہ جنت کا وعدہ فرما چکا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔یہ
آیت مبارکہ انصار صحابہ کے حق میں نازل ہوئی۔
حدیث مبارکہ
کا مفہومِ ہے: ایمان کی نشانی انصار سے محبت ہے اور منافقت کی نشانی انصار سے بغض
ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)
انصار حضور ﷺ اور
مہاجرین کے ایسے انوکھے میزبان ہیں کہ کوئی مثال نہیں ملتی حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:
سب کے احسانات کے بدلے ہم نے ادا کر دیے مگر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دوسری
روایت میں ہے کہ انصار کے احسانات کا بدلہ نہیں ہو سکاقیامت میں رب سے دلوایا جائے
گا لہذا اس سے ثابت ہوا کہ انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے احسانات کو یاد رکھا
جائے اور ان سے محبت کی جائے کہ وہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے محسن ہیں۔
ایک اور حدیث
مبارکہ میں آیا ہے کہ انصار سے محبت نہ کرے گا مگر مومن اور ان سے عداوت نہ کرےگا
مگر منافق تو جس نے ان سے محبت کی اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرے جس نے ان سے بغض
رکھا اللہ اس سے ناراض ہو۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)
انصار سے وہی
محبت کرے گا جو کامل مومن ہوگا اور انصار سے بغض وہی رکھے گا جو اعتقادی یا عملی
منافق ہو گا۔
یہ کلمات دعا
اور بد دعا دونوں کو شامل ہیں یہاں دینی محبت وعداوت مراد ہے حضور اکرم ﷺ نے ان
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا نام انصار رکھا اللہ نے بھی انہیں اسی نام سے یاد
فرمایا۔
بخاری شریف کی
ایک حدیث مبارکہ میں یوں فرمایا گیا کہ اگر ہجرت نہ ہوتی تو ہم انصار میں سے ایک
صاحب ہوتے اور اگر لوگ ایک جنگل میں چلیں اور انصار دوسرے جنگل میں یا دوسری گھاٹی
میں چلیں تو میں انصار کے جنگل یا انکی گھاٹی میں چلوں اور انصار اندرونی لباس ہیں
اور باقی لوگ بیرونی لباس ہیں۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)
خلاصہ کلام یہ
ہوا کہ حضور اکرم ﷺ صحابہ کرام میں انصار صحابہ سے زیادہ محبت فرمایا کرتے تھے
ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی حضور ﷺ کی اس مبارک ادا کو اپنائے اللہ ہمیں صحابہ کی
سچی محبت عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
حضور
کی انصار صحابہ سے محبت از ہمشیرہ محمد ذوہیب،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
جن خوش نصیب
نے ایمان کی حالت میں آقا علیہ السلام سے ملاقات کی اور ایمان کی حالت میں ہی دنیا
سے تشریف لے گئے ان کو صحابی کہتے ہیں آقا علیہ السلام صحابہ سے بےحد محبت فرمایا
کرتے تھے انصار وہ صحابہ کرام ہیں جنہوں نے ہجرت کے بعد نبی کریم ﷺ کی اور مہاجرین
کی مدد کی۔آقا علیہ السلام کی ان سے شفقت بے مثال تھی۔
انصار
پر شفقت کی وجہ ان کا ایثار تھا: انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے
مہاجرین کو اپنے گھروں، مالوں اور دلوں میں جگہ دی جس کے بدلے میں آقا علیہ السلام
نے ان سے خصوصی محبت کا اظہار فرمایا۔
آئیے حدیث پاک
کی روشنی میں آقا علیہ السلام کی محبت کے چند واقعات پڑھتے ہیں:
انصار
سے محبت ایمان کی نشانی ہے: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: انصار سے صرف
مومن ہی محبت رکھے گا اور ان سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا پس جو شخص ان سے محبت
کرے اس سے اللہ محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا اسے اللہ ناپسند فرمائے گا۔ (بخاری،
2/555، حدیث: 3783)
معلوم ہوا کہ
انصار سے محبت ایمان کی نشانی ہے اور ان سے دشمنی رکھنا بے ایمان لوگوں کا کام ہے۔
تم
لوگ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان
کیا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کی عورتوں اور بچوں کو میرے گمان کے مطابق
کسی شادی سے واپس آتے ہوئے دیکھا تو آپ کھڑے ہوگئے اور فرمایا: اللہ گواہ ہے کہ تم
لوگ مجھے سب سے زیادہ عزیز ہو تین مرتبہ آپ نے یہی فرمایا۔(بخاری، 2/ 556، حدیث: 3785)
اگر
میں ہجرت نہ کرتا تو انصار کا ایک فرد ہوتا: رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: انصار جس وادی یا گھاٹی میں جائیں تو میں بھی انہی کی وادی میں جاؤں گا
اور اگر میں ہجرت نہ کرتا تو انصار کا ایک فرد ہونا پسند کرتا۔(بخاری، 3/116، حدیث:
4330)
مغفرت
کی دعا: حضرت
سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم خندق کھود
رہے تھے اور اپنے کندھوں پر مٹی اٹھا رہے تھے اس وقت آپ نے یہ دعا فرمائی: اے اللہ!
آخرت کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی حقیقی زندگی نہیں پس انصار اور مہاجرین کی تو
مغفرت فرما۔ (بخاری، 2/264، حدیث: 2835)
نبی
کریم ﷺ سے ملاقات : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے
انصار سے فرمایا: میرے بعد تم دیکھو گے کہ تم پر دوسروں کو فوقیت دی جائے گی پس تم
صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آملو اور میری تم سے ملاقات حوض پر ہوگی۔ (بخاری، 2/558،
حدیث: 3793)
انصار
کے نیک لوگوں کی نیکیوں کو قبول کرو اور غلط کاروں سے درگزر کرو: رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انصار میرے جسم وجان ہیں ایک دور آئے گا کہ دوسرے لوگ تو بہت
ہو جائیں گے لیکن انصار کم رہ جائیں گے اس لیے ان کے نیکوکاروں کی پذیرائی کیا
کرنا اور خطا کاروں سے درگزر کیا کرنا۔ (بخاری، 2/ 560، حدیث: 3801)
ایمان
کی نشانی اور نفاق کی نشانی: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ایمان کی نشانی
انصار سے محبت رکھنا ہے اور نفاق کی نشانی انصار سے بغض رکھنا ہے۔(بخاری، 2/555، حدیث:
3784)
انصار کے لیے
خصوصی دعا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
انہوں نے انصاری صحابہ کے خاندانوں پر ہونے والے مظالم کے بعد تسلی کے لیے لکھااور
کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اے اللہ! انصار پر، انصار کی
اولاد پر اور انصار کی اولاد کی اولاد پر رحم فرما۔ (مسلم، ص 1044، حدیث: 6414)
ان تمام احادیث
پاک سے حضور اکرم ﷺ کی انصار صحابہ سے محبت کا پتہ چلا کہ کس قدر ان سے محبت تھی
اس میں انصار سے محبت کو ایمان کی نشانی قرار دیا گیا ہے اللہ ہمیں اس طرح انصار
سے محبت رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
حضور
کی انصار صحابہ سے محبت از بنت غلام حیدر،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
پیارے نبی
حضرت محمد ﷺ کی انصارِ صحابہ سے محبت بے مثال اور گہری تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: انصار
سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے۔ یہ
محبت صرف کلامی نہ تھی، بلکہ آپ ﷺ نے ان کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں
اپنی حیاتِ طیبہ میں نمایاں مقام دیا۔
وہ عظیم
ہستیاں ہیں جنہوں نے اسلام کی ابتدائی اور کٹھن ترین گھڑی میں نبی ﷺ اور مہاجرین
کا ساتھ دیا، انہیں پناہ دی اور اپنے خون سے اسلام کے شجر کو سینچا۔
قرآن مجید میں
انصار کی بےمثال قربانیوں کی توصیف کی گئی ہے۔ سورۃ الحشر میں اللہ رب العزت نے ان
کا یہ جذبۂ ایثار بیان فرمایا ہے: وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ
یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً
مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ
خَصَاصَةٌ ﳴ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ(۹) (پ 28، الحشر:
9) ترجمہ: اوروہ جنہوں نے ان (مہاجرین) سے پہلے اس شہر کواور ایمان کو ٹھکانہ
بنالیا وہ اپنی طرف ہجرت کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور وہ اپنے دلوں میں اس کے
متعلق کوئی حسد نہیں پاتے جو ان کو دیا گیا اور وہ اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں
اگرچہ انہیں خود حاجت ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچالیا گیا تو وہی لوگ کامیاب
ہیں۔
احادیث
کی روشنی میں فضیلت: احادیث مبارکہ میں انصار صحابہ کی محبت کو عین
ایمان اور ان کی دشمنی کو نفاق کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: انصار سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے اور ان سے بغض رکھنا نفاق کی علامت
ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)
جذبۂ
وفاداری: نبی
ﷺ نے انصار کے بارے میں فرمایا: اگر لوگ ایک وادی (راستے) پر چلیں اور انصار دوسری
وادی پر، تو میں انصار کی وادی پر چلوں گا۔(بخاری، 3/116، حدیث: 4330)
محبوب
ترین قوم: آپ
ﷺ نے انصار کے حق میں دعا فرمائی: اے اللہ! انصار کی مغفرت فرما، انصار کے بیٹوں
کی مغفرت فرما اور انصار کے پوتوں (نواسوں) کی بھی مغفرت فرما۔ (مسلم، ص 1044،
حدیث: 6414)
سورۂ انفال
میں ربِّ کریم کا ارشادِ حقیقت بنیاد ہے: وَ الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ
اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ
وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ(۷۴) (پ 10، الانفال: 74) ترجمہ کنز العرفان: اور وہ جو
ایمان لائے اور مہاجر بنے اور اللہ کی راہ میں لڑے اور جنہوں نے انہیں پناہ دی اور
مدد کی وہی سچے ایمان والے ہیں انکے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔
بیان کردہ
آیتِ کریمہ کے تحت تفسیرِ صراط الجنان میں لکھا ہے: اس آیت میں ان دونوں کے ایمان
کی تصدیق اور ان کے رحمتِ الٰہی کے مستحق ہونے کا ذکر ہے۔ اس آیت سے مہاجرین اور
انصار کی عظمت و شان بیان کرنا مقصود ہے کہ مہاجرین نے اسلا م کی خاطر اپنے آبائی
وطن کو چھوڑ دیا، اپنے عزیز، رشتہ داروں سے جدائی گوارا کی، مال و دولت، مکانات ا
ور باغات کو خاطر میں نہ لائے۔ اسی طرح انصار نے بھی مہاجرین کو مدینۂ پاک میں اس
طرح ٹھہرایا کہ اپنے گھر اور مال و مَتاع میں برابر کا شریک کر لیا، یہ سچے اور
کامل مومن ہیں، ان کے لئے گناہوں سے بخشش اور جنت میں عزت کی روزی ہے۔ (تفسیر صراط
الجنان، 4/ 54)
حضور
کی انصار صحابہ سے محبت از بنت رضوان،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
انصار وہ خوش
نصیب ہستی ہیں جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کی اس وقت مدد کی جب ہر کوئی ان کا
دشمن تھا۔
رسول
اللہ ﷺ کی انصار سے محبت:
انصار
سے محبت ایمان کی نشانی: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: انصار سے محبت
ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے بغض رکھنا نفاق کی نشانی ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث:
3784)
انصار
کی بخشش کی دعا: حضرت
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا فرمائی:اے
اللہ! انصار کو، اور انصار کے بیٹوں کو اور انصار کے پوتوں کو بخش دے۔ (مسلم، ص
1044، حدیث: 6414)
انصار
کے ساتھ جینے اور مرنے کی خواہش: غزوہ حنین کے موقع پر جب مالِ غنیمت کی
تقسیم میں انصار کو کچھ نہیں ملا اور ان کے دلوں میں ایک خفیف سا ملال پیدا ہوا،
تو آپ ﷺ نے انصار کو جمع فرمایا اور ان کا دل جیتتے ہوئے ارشاد فرمایا:کیا تم اس
پر راضی نہیں ہو کہ لوگ بکریاں اور اونٹ لے کر اپنے گھروں کو جائیں اور تم رسول
اللہ ﷺ کو اپنے گھر لے کر واپس چلو؟ اے اللہ! انصار پر، انصار کی اولاد پر اور
انصار کی اولاد کی اولاد پر رحم فرما۔ (مسلم، ص 1044، حدیث: 6414)
حضرت عبداللہ
بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں
انصار میں سے ایک فرد ہوتا، اور اگر لوگ ایک وادی (یا گھاٹی) میں چلیں اور انصار
دوسری وادی میں چلیں، تو میں انصار کی وادی میں چلوں گا۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)
امت
کو انصار کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت: رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات سے قبل امت
کو انصار کے ساتھ بھلائی کرنے اور ان کی خطاؤں سے درگزر کرنے کی وصیت فرمائی۔ حضرت
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:انصار میرے راز دار اور میرے خاص
لوگ ہیں، لوگوں نے تو نیکی کرنی ہے لیکن انصار نے اپنی نیکی پوری کر لی۔ سو تم ان
کے محسنوں سے نیکی قبول کرو اور ان کے برے لوگوں سے درگزر کرو۔ (بخاری، 2/ 560،
حدیث: 3799)
انصار کی اسی
قربانی اور وفاداری کی وجہ سے انہیں اسلام میں ہمیشہ انتہائی بلند اور قابلِ فخر
مقام حاصل رہا۔
اللہ پاک
ہمارے دلوں میں زیادہ سے زیادہ انصار کی محبت عطا فرمائے۔ آمین
حضور
کی انصار صحابہ سے محبت از بنت ایاز خان،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
وہ خوش نصیب
مسلمان جنہوں نے مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے مہاجرین مسلمانوں کی مدد کی انہیں
انصار کہا جاتا ہے ہمارے پیارے مکی مدنی مصطفی ﷺ انصار صحابہ کرام علیہم الرضوان
سے سے بہت زیادہ محبت فرماتے تھے نبی کریم ﷺ نہ صرف خودانصار صحابہ کرام سے محبت
فرماتے بلکہ اپنی امت کو بھی ان سے محبت کرنے کی تلقین فرماتے۔
آئیے اسی محبت
پر چند احادیث ملاحظہ فرماتے ہیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: انصار سے محبت رکھنا ایمان کی
نشانی ہے اور انصار سے کینہ رکھنا نفاق کی نشانی ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)
اس حدیث پاک
سے ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ انصار صحابہ کرام سے کس قدر محبت
فرماتے ہیں کہ ان کی محبت کو ایمان کی علامت قرار دے رہے ہیں چنانچہ حضرت انس رضی
اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ
اس کی بات سننے کے لیے علیحدہ ہوگئے اور تین مرتبہ ارشاد فرمایا قسم ہے اس ذات کی
جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے،تم لوگ میرے نزدیک محبوب ترین لوگوں میں سے ہو۔(بخاری،
2/556، حدیث: 3786)
قربان جاؤں
اپنے آقا کے انداز پر میرے آقا کے محبت کرنے کا انداز کس قدر خوبصورت ہے کہ انصار
صحابہ سے محبت کا اظہار قسم کے ساتھ ارشاد فرمارہے ہیں اے کاش اے کاش کہ ہمیں بھی
نبی کریم ﷺ کی ایسی نظر محبت نصیب ہو جائے،نبی کریم ﷺ نہ صرف انصار صحابہ سے محبت
کا اظہار فرماتے بلکہ ان کی محبت میں ان کے لیے دعا بھی فرماتے چنانچہ حضرت زید بن
ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ اے اللہ انصار
اور انصار کے بیٹوں اور انصار کے پوتوں کی مغفرت فرما۔ (مسلم، ص 1044، حدیث: 6414)
انصار صحابہ
کرام کی شان کے تو کیا ہی کہنے ہیں کہ جن کے حق میں خود نبی کریم ﷺ مغفرت کی دعا
فرمارہے ہیں ان احادیث مبارکہ سے یہ صاف صاف جھلک رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ صحابہ کرام
سے بہت زیادہ محبت فرماتے تھے۔
آخر میں اللہ
رب العزت سے یہ دعا ہے کہ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے انصار صحابہ سے
محبت کرنے اور ان کا خوب خوب فیضان لوٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔
حضور
کی انصارِ صحابہ سے محبت از بنت امجد،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
اللہ کے آخری
نبی ﷺ کو اپنے تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے بے حد محبت تھی، لیکن آپ انصارِ
مدینہ سے خصوصی محبت فرماتے تھے۔ انصار وہ خوش نصیب صحابہ ہیں جنہوں نے ہجرت کے
بعد حضور نبیِّ کریم ﷺ اور مہاجرینِ کرام کا دل و جان سے استقبال کیا، ان کی مدد
کی اور اسلام کی خاطر ہر قربانی پیش بھی کی۔ اسی وجہ سے حضور اکرم ﷺ نے انصار سے
اپنی محبت کا اظہار فرمایا اور امت کو بھی ان سے محبت کرنے کی تعلیم دی۔
اللہ تعالیٰ
نے قرآن پاک میں انصار کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ
وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا
یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى
اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ
فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ(۹) (پ 28، الحشر: 9) ترجمہ: اوروہ جنہوں
نے ان (مہاجرین) سے پہلے اس شہر کواور ایمان کو ٹھکانہ بنالیا وہ اپنی طرف ہجرت
کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور وہ اپنے دلوں میں اس کے متعلق کوئی حسد نہیں پاتے
جو ان کو دیا گیا اور وہ اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں خود حاجت ہو
اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچالیا گیا تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔
نبیِّ پاک ﷺ انصار
سے بے حد محبت فرماتے تھے۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور
نبیِّ کریم ﷺ نے فرمایا: انصار سے محبت ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے بغض رکھنا
منافقت کی نشانی ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)
ایک اور مقام
پر حضور اکرم ﷺ نے انصار کے بارے میں فرمایا: اے اللہ! انصار، ان کی اولاد اور ان
کی اولاد کی اولاد کو بخش دے۔ (مسلم، 2 / 322، حدیث: 2501)
حضور نبیِّ
کریم ﷺ انصار کے ساتھ نہایت شفقت اور محبت کا معاملہ فرماتے تھے۔ غزوۂ حنین کے
موقع پر جب کچھ لوگوں نے مالِ غنیمت کی تقسیم کے بارے میں باتیں کیں تو آپ ﷺ نے
انصار کو جمع فرمایا اور ارشاد فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ لوگ بکریاں
اور اونٹ لے جائیں اور تم رسولُ اللہ ﷺ کو اپنے گھروں میں لے کر جاؤ؟ (بخاری، 2 /
564، حدیث: 4330)
یہ سن کر
انصارِ کرام رضی اللہ عنہم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور انہوں نے عرض کیا: ہم
رسولُ اللہ ﷺ پر ہی راضی ہیں۔
حضور اکرم ﷺ نے
انصار کی وفاداری اور قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے کہ نبیِّ پاک ﷺ نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں
چلیں تو میں انصار کی وادی میں چلوں گا۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)
یہ حضور نبیِّ
کریم ﷺ کی انصار سے بے مثال محبت کا اظہار ہے۔
حضرت عائشہ
صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم ﷺ انصار کے لیے دعا فرمایا کرتے تھے
اور ان کی عزت و محبت کا خاص خیال رکھتے تھے۔
انصارِ کرام
رضی اللہ عنہم نے بھی حضور نبیِّ کریم ﷺ سے بے مثال محبت کی۔ انہوں نے اپنے مال، گھر،
زمینیں بلکہ اپنی جانیں بھی اسلام کے لیے قربان کردیں۔ یہی وجہ ہے کہ قیامت تک آنے
والے مسلمان انصارِ کرام رضی اللہ عنہم کا ادب و احترام کرتے رہیں گے۔
حضور نبیِّ
کریم ﷺ نے امت کو انصار کے حقوق ادا کرنے اور ان سے محبت رکھنے کی تعلیم دی۔
چنانچہ ارشاد فرمایا: انصار کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت قبول کرو۔ (بخاری، 2 /
566، حدیث: 3799)
ان تمام
احادیث اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور نبیِّ کریم ﷺ کو انصارِ صحابہ رضی
اللہ عنہم سے بے حد محبت تھی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم تمام صحابۂ کرام خصوصاً انصارِ
کرام رضی اللہ عنہم سے محبت رکھیں، ان کا ادب کریں اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی
کوشش کریں۔
اللہ تعالیٰ
ہمیں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور انصارِ مدینہ سے سچی محبت عطا فرمائے اور ان کے
ادب و احترام کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
حضور
کی انصار صحابہ سے محبت از بنت محمد رشید،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
انصارِ مدینہ
وہ خوش نصیب جماعت ہے جنہوں نے حضور اقدس ﷺ کی ہجرت کے بعد نہ صرف آپ ﷺ کا پُرجوش
استقبال کیا بلکہ ہر مشکل گھڑی میں آپ ﷺ کا ساتھ دے کر اسلام کی بنیادوں کو مضبوط
کیا۔ حضور نبی کریم ﷺ کو انصار سے بے حد محبت تھی، کیونکہ انہوں نے اپنے مال، جان
اور گھر بار سب کچھ دینِ اسلام کے لیے قربان کر دیا۔ قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ
میں بھی انصار کے فضائل اور ان سے محبت کی بڑی تاکید آئی ہے۔ حضور ﷺ ان کے اخلاص،
وفاداری اور قربانیوں کو ہمیشہ یاد فرماتے اور ان کے حق میں دعائیں کرتے تھے۔
انصار سے محبت دراصل حضور ﷺ کی سنت اور ایمان کی علامت ہے۔
مدینہ منورہ
میں رہنے والے وہ مسلمان جنہوں نے مہاجرین مسلمانوں کی مدد کی انہیں انصار کہا
جاتا ہے۔
اللہ پاک قرآن
کریم میں ارشاد فرماتا ہے: وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ
وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ
وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ
فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) (پ 11، التوبۃ:
100) ترجمہ: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے
پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں
باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔
حضور
کی انصار مدینہ سے محبت احادیث کی روشنی میں:
علامہ ابو
زکریا یحییٰ بن شرف نووی علیہ رحمۃ الله القوی نے انصار سے محبت کے متعلق جو شرح
فرمائی اس کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے:
انصار صحابہ
کرام بہت سی خوبیوں کے حامل ہیں مثلاً انصار نے دین اسلام کی مددو نصرت کی دین
اسلام کی اشاعت کی خاطر خوب کوشش کی، مہاجرین صحابہ کرام کو اپنے پاس عزت و احترام
سے ٹھہرایا اسلام کی خاطر جانی و مالی قربانی دی انصار حضور نبی کریم ﷺ سے والہانہ
محبت کرتے تھے اور آپ بھی ان سے محبت فرمایا کرتے تھے انصار بارگاہِ رسالت میں
اپنے اموال اور قیمتی جانور پیش کیا کرتے تھے انصار نے اسلام کی خاطر سب سے دشمنی
مول لی وغیرہ وغیرہ۔ ان تمام اوصاف حمیدہ کی بدولت انہیں یہ مقام ملا کہ ان سے
محبت کو ایمان کی علامت اور ان کے بغض کو منافقت کی علامت قرار دیا گیا۔(بخاری، 2/
555، حدیث: 3783)
حضرت انس رضی
الله عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع امت ﷺ نے کچھ بچوں اور عورتوں کو ایک
شادی سے آتے ہوئے دیکھا تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا: الہی تو جانتا ہےاے انصار! تم
لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو۔ الہی تو جانتا ہے اے انصار! تم لوگ مجھے
تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو۔ (بخاری، 2/556، حدیث: 3785)
دوجہاں کے
تاجور ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا اگر لوگ ایک جنگل میں چلیں اور انصار دوسرے
جنگل میں یا دوسری گھاٹی میں تو میں انصار کے جنگل یا انکی گھاٹی میں چلوں گا اور
انصار اندرونی لباس ہیں اور باقی لوگ بیرونی لباس ہیں۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)
حضرت انس رضی
الله عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہ مدینہ ﷺ ارشاد فرمایا: ایمان کی نشانی انصار سے
محبت ہے اور منافقت کی نشانی انصار سے بغض ہے۔ (بخاری، 1/17، حدیث: 17)
حضور ﷺ نے
ارشاد فرمایا: میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو۔ میرے صحابہ رضی
الله عنہم کے بارے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو۔ میرے بعد انہیں نشانہ نہ بنانا
کیونکہ جس نے ان سے محبت کی تو ا س نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس
نے ان سے بغض رکھا تو اس نے میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا اور جس نے انہیں
ستایا اس نے مجھے ستایا اور جس نے مجھے ستایا اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے
اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللہ اس کی پکڑ فرما لے۔ (ترمذی، 5/463، حدیث: 3888)
اس سے ہمیں یہ
سبق ملتا ہے کہ ہمیں بھی انصارِ کرام رضی اللہ عنہم کی طرح دینِ اسلام سے محبت،
ایثار، اخلاص اور بھائی چارے کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرنا چاہیے۔ حضور نبی کریم ﷺ
کی سنت پر عمل کرتے ہوئے مسلمانوں سے محبت اور ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے،
کیونکہ یہی کامیاب اور بہترین معاشرے کی پہچان ہے۔
حضور
کی انصار صحابہ سے محبت از اخت فیصل خان،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
پیارے آقا،
مکی مدنی مصطفی ﷺ انصار صحابہ کرام سے بہت محبت فرماتے ان سے محبت کا اظہار بھی
فرماتے انکی خوشی پر خوش ہوتے لوگوں کے سامنے ان سے محبت کا اظہار فرماتے یہاں تک
کہ پیارے آقا ﷺ انصار صحابہ کرام کے ساتھ رہنے کو پسند فرماتے۔
پیارے آقا ﷺ نہ
صرف خود ان سے محبت فرماتے بلکہ اپنی امت کو بھی تلقین فرمائی چنانچہ حضرت براء بن
عازب سے مروی ہے کہ آقا ﷺ نے انصار کے بارے میں ارشاد فرمایا : ان سے مومن ہی محبت
کرے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور جو ان سے محبت کرے اللہ اس سے محبت فرماتا
اور جو ان سے بغض رکھے اللہ اسے ناپسند فرماتا ہے۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)
حضرت انس سے
مروی ہے کہ پیارے آقا ﷺ نے کچھ بچوں اور عورتوں کو ایک شادی سے آتے دیکھا تو کھڑے
ہو گئے اور فرمایا: الہی تو جانتا ہے، اے انصار تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ
پیارے ہو، الہی تو جانتا ہے، اے انصار تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو۔(بخاری،
2/ 556، حدیث: 3785)
سبحان اللہ
سبحان اللہ اس حدیث پاک میں پیارے آقا ﷺ کس قدر خوبصورت انداز میں انصار سے محبت
کا اظہار فرما رہے ہیں اس حدیث پاک میں آپ ﷺ کی انصار صحابہ کرام سے محبت کی انتہا
چھلک رہی ہے۔
نہ صرف یہ
بلکہ پیارے آقا ﷺ ہر حال میں ان کے ساتھ رہنے اور انکے ساتھ چلنے کا اعلان فرما
رہے ہیں چنانچہ اسی ضمن میں حدیث پاک ملاحظہ فرمائیں کہ پیارے آقا ﷺ نے فرمایا:
اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا اگر لوگ ایک جنگل میں چلے اور
انصار دوسرے جنگل میں یا دوسری گھاٹی میں تو میں انصار کے جنگل یا انکی گھاٹی میں
چلوں گا اور انصار اندرونی لباس ہے اور باقی لوگ بیرونی لباس ہے۔ (بخاری، 3/116، حدیث:
4330)
قربان جائیں
انصار کی قسمت پر! ان احادیث سے صاف صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ پیارے آقا ﷺ انصار
صحابہ کرام سے کس قدر محبت فرماتے پیارے آقا ﷺ انصار صحابہ کرام سے والہانہ محبت
فرماتے۔
اللہ کریم
ہمیں انصار صحابہ کرام کا خوب خوب فیضان عطا فرمائے اور ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے۔
آمین
حضورِ
کی انصار صحابہ سے محبت از بنت رمضان،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
آپ ﷺ کی حیات
مبارکہ کا ہر پہلو ہی نہایت شاندار اور قابل محبت و احترام ہے آپ ﷺ کی سیرت طیبہ
میں ہر ہر باب اپنی مثال آپ ہے جن میں سے ایک روشن و پر کیف باب انصار صحابہ کرام
سے محبت ہے یہ باب آپ ﷺ کی انصار صحابہ کرام سے محبت اور انصار صحابہ کرام کے مقام
مرتبہ کو بھی خوب واضح کررہا ہے۔جی ہاں آپ ﷺ کی انصار صحابہ کرام سے محبت ایک ایسا
روشن اور دلکش پہلو جو ہمیں بھی یہ درس دیتی ہے کہ ہمیں بھی اپنے باہنی تعلقات کو
کیسی خوشگوار بنانا ہے۔
آئیے پہلے
انصار صحابہ کرام کون تھے؟اس بارے میں جانتی ہیں۔
انصار صحابہ
کرام وہ خوش نصیب صحابہ کرام ہیں جنہوں نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر نے والے
صحابہ کرام کو پناہ دی، انہیں اپنے گھر بار میں سے بھی حصہ دیا،ان کی مالی مدد کی
اور ہر مشکل گھڑی میں حضور ﷺ کا ساتھ دیا۔یہی وجہ تھی کی آپ ﷺ کو انصار صحابہ کرام
سے بے پناہ محبت تھی۔آپ ﷺ کو انصار صحابہ کرام سے قلبی لگاؤ تھا۔
آئیے اب چند
ایسی احادیث ملاحظہ فرما لیتے ہیں جن میں آپ ﷺ کی انصار صحابہ کرام سے محبت نمایاں
ہوتی ہے۔
انصار
سے محبت ایمان کی نشانی: حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں
کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: انصار سے محبت ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے بغض نفاق
کی نشانی ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)
حضرت براء بن
عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: انصار سے صرف مومن محبت کرتا
ہے اور صرف منافق بغض رکھتا ہے، پس جو ان سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کرتا ہے اور
جو ان سے بغض رکھے اللہ اس سے ناراض ہوگا۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)
انصار
میرے اپنے لوگ ہیں: حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ
ﷺ نے فرمایا: انصار میرے رازدار اور خاص ساتھی ہیں۔ لوگ بڑھ جائیں گے مگر انصار کم
ہوتے جائیں گے، لہٰذا ان کے نیک لوگوں کی قدر کرو اور ان کی لغزشوں سے درگزر کرو۔ (بخاری،
2/ 560، حدیث: 3799)
انصار
کی اولاد کے لیے دعا: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی
کریم ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! انصار کو بخش دے، ان کی اولاد کو بخش دے اور ان کی
نسلوں کو بخش دے۔ (مسلم، ص 1044، حدیث: 6414)
اگر
لوگ ایک وادی میں چلیں: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے
فرمایا: اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں خود انصار میں سے ایک فرد ہوتا، اور اگر لوگ کسی
وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی میں چلوں گا۔ (بخاری، 3/116،
حدیث: 4330)
انصار
میرے بعد صبر کریں گے: حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میرے بعد حق تلفی دیکھو گے، پس صبر کرنا یہاں تک کہ
حوضِ کوثر پر مجھ سے ملو۔ (بخاری، 2/558، حدیث: 3793)
یہ وہ احادیث
ہیں جو ظاہر کررہی ہیں کہ آپ ﷺ کو انصار صحابہ کرام سے کس قدر محبت تھی۔آپ ﷺ کا
انصار صحابہ کرام کے لئے دعا کرنا محبت کی واضح دلیل ہے۔آپ ﷺ کی انصار صحابہ کرام
سے محبت اہل ایمان والوں کے دلوں کو روشن اور ایمان کو تازگی کرتی ہے۔
اللہ کریم
ہمیں بھی انصار صحابہ کرام کا فیضان عطا فرمائے۔ ان کی محبت نصیب فرمائے۔
کفار مکہ کے
ظلم وستم سے تنگ آکر جن مسلمانوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی انہیں مہاجرین کہا
جاتا ہے اور مدینہ منورہ میں رہنے والے وہ مسلمان جنہوں نے ان مہاجرین مسلمانوں کی
مدد کی انہیں انصار کہا جاتا ہے۔ اللہ پاک
نے ان کی فضیلت، ان سب سے اپنی رضامندی اور اعلیٰ انعام واکرام کو اپنے پاک کلام
قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں خود بیان فرمایا ہے: وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ
مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ
اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا
الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) (پ
11، التوبۃ: 100) ترجمہ: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے
ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر
رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔
انصار
صحابہ کرام کے اوصاف: انصار صحابہ کرام بہت سی خوبیوں کے حامل ہیں مثلا
انصار نے دین اسلام کی مدد اور نصرت کی دین اسلام کی اشاعت کی خاطر خوب کوشش کی
مہاجرین صحابہ کرام علیہم الرضوان کو اپنے پاس ٹھہرایا اسلام کی خاطر جانی اور مالی
قربانی دی، انصار حضور نبی کریم ﷺ سے والہانہ محبت کرتے تھے اور آپ ﷺ بھی ان سے
محبت فرمایا کرتے تھے انصار نے اسلام کی خاطر سب سے دشمنی مول لی وغیرہ وغیرہ۔
ان تمام اوصاف
حمیدہ کی بدولت انہیں یہ مقام ملا کہ ان سے محبت کو ایمان کی علامت اور ان سے بغض کو
منافقت کی علامت قرار دیا گیا۔
انصار
صحابہ کے فضائل پر احادیث مبارکہ:
دو جہاں کے
تاجدار سلطان بحرو بر ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک
فرد ہوتا اگر لوگ ایک جنگل میں چلیں اور انصار دوسرے جنگل میں یا دوسری گھاٹی میں
تو میں انصار کے جنگل یا ان کی گھاٹی میں چلوں گا اور انصار اندرون لباس ہے اور
باقی لوگ بیرونی لباس ہیں۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)
سارے
صحابہ سے محبت کی فضیلت: حضرت برا بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی
ہے کہ حسن اخلاق کے پیکر ﷺ نے انصار کے بارے میں ارشاد فرمایا: ان سے مومن ہی محبت
رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور جو ان سے محبت کرے اللہ اس سے محبت فرماتا
ہے اور جو ان سے بغض رکھے اللہ اسے ناپسند فرماتا ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3783)
انصار
سے محبت ایمان کی نشانی: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ایمان کی نشانی انصار سے محبت ہے اور منافقت کی نشانی انصار
سے بغض ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)
Dawateislami