وہ خوش نصیب مسلمان جنہوں نے مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے مہاجرین مسلمانوں کی مدد کی انہیں انصار کہا جاتا ہے ہمارے پیارے مکی مدنی مصطفی ﷺ انصار صحابہ کرام علیہم الرضوان سے سے بہت زیادہ محبت فرماتے تھے نبی کریم ﷺ نہ صرف خودانصار صحابہ کرام سے محبت فرماتے بلکہ اپنی امت کو بھی ان سے محبت کرنے کی تلقین فرماتے۔

آئیے اسی محبت پر چند احادیث ملاحظہ فرماتے ہیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: انصار سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے کینہ رکھنا نفاق کی نشانی ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)

اس حدیث پاک سے ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ انصار صحابہ کرام سے کس قدر محبت فرماتے ہیں کہ ان کی محبت کو ایمان کی علامت قرار دے رہے ہیں چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ اس کی بات سننے کے لیے علیحدہ ہوگئے اور تین مرتبہ ارشاد فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے،تم لوگ میرے نزدیک محبوب ترین لوگوں میں سے ہو۔(بخاری، 2/556، حدیث: 3786)

قربان جاؤں اپنے آقا کے انداز پر میرے آقا کے محبت کرنے کا انداز کس قدر خوبصورت ہے کہ انصار صحابہ سے محبت کا اظہار قسم کے ساتھ ارشاد فرمارہے ہیں اے کاش اے کاش کہ ہمیں بھی نبی کریم ﷺ کی ایسی نظر محبت نصیب ہو جائے،نبی کریم ﷺ نہ صرف انصار صحابہ سے محبت کا اظہار فرماتے بلکہ ان کی محبت میں ان کے لیے دعا بھی فرماتے چنانچہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ اے اللہ انصار اور انصار کے بیٹوں اور انصار کے پوتوں کی مغفرت فرما۔ (مسلم، ص 1044، حدیث: 6414)

انصار صحابہ کرام کی شان کے تو کیا ہی کہنے ہیں کہ جن کے حق میں خود نبی کریم ﷺ مغفرت کی دعا فرمارہے ہیں ان احادیث مبارکہ سے یہ صاف صاف جھلک رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ صحابہ کرام سے بہت زیادہ محبت فرماتے تھے۔

آخر میں اللہ رب العزت سے یہ دعا ہے کہ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے انصار صحابہ سے محبت کرنے اور ان کا خوب خوب فیضان لوٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔