حضور اکرم ﷺ کے آخری نبی ہونے کا عقیدہ اسلام کے بنیادی عقائدمیں سے ہے، اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ آقا کریم ﷺ کی حیات ظاہری کے آخری زمانہ میں ایک بدبخت طلیحہ اسدی نے جب نبوت کا دعوی کیا اور ہزارہا لوگ اسکے گرد جمع ہوگئے اور آقا علیہ السلام کے پاس اس نے اپنے ایک قاصد کو بھیج کر اپنی نبوت منوانے کی دعوت دی۔

چنانچہ آقا علیہ السلام نے تحفظ ختمِ نبوت کی پہلی جنگ کے لیے پہلے سپہ سالار کے طور پر اپنے ایک صحابی حضرت ضرار بن ازرو رضی اللہ عنہ کو منتخب فرمایا۔‎آقا علیہ السلام کی نبوت کا صریح انکار یا کوئی تاویل کرنا کفر ہے۔ جھوٹے لوگوں نے نبی ہونے کا دعوی بھی کیا جب کہ آقا علیہ السلام نے فرمادیا ہوا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔(مسلم، ص 1006، حدیث : 6218)

برصغیر پاک وہند میں مرزا غلام احمد قادیانی پیدا ہوا اس بدبخت نے نبوت کا دعوی کیا، علمائے اہلسنت نے اسکی حقیقت لوگوں کے سامنے پیش کردی،‎علمائے اہلسنت نے تحفظ ختمِ نبوت میں جو کردار ادا کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ ایک بہت وسیع موضوع ہے، ان شاءاللہ اس تحریر میں چند علمائے کرام کے اس عظیم کام کے متعلق کاوش کی جھلک پیش کی جائے گی۔

چند اکابر علمائے اہلسنت کے نام مبارک پیشِ خدمت ہیں جنہوں نے اپنا کردار ادا کیا:‎امام احمد رضا خان فاضل بریلوی،‎پیر سید مہر علی شاہ، مولانا حامد رضا بریلوی، مولانا غلام دستگیر قصوری،‎حضرت پیر جماعت علی شاہ، مولانا شیخ محمد، مولانا ابوالحسنات رحمۃ اللہ علیہم۔

اعلی حضرت کا کردار: مجدد دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے زندگی بھر رسول کریم ﷺ کے گستاخوں کے خلاف علم جہاد بلند کیا عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ میں 1899ء میں جزاء اللہ عدوہ باباہ ختم النّبوۃ ، 1902ء میں السّوٓ ء والعقاب علی المسیح الکذّاب ، 1905ء میں قہر الدّیّان علی مرتدٍّ بقادیان ، 1908ء میں المبین ختم النّبیّین اور 1921ء میں اپنی زندگی کی آخری کتاب الجراز الدّیّانی علی المرتد القادیانی تحریر فرما کر قادیانی فتنے کی جڑیں کاٹ کر رکھ دیں۔ یہ پانچوں رسائل فتاویٰ رضویہ (رضا فاؤنڈیشن لاہور) کی 14 اور 15 والی جلد میں ہیں۔

پیر مہر علی گولڑوی کا کردار:‎راست بیانی برشکست کیانی قادیانی یہ کتاب آپکے اور مرزا قادیانی کے درمیان ختمِ نبوت کی بعض مباحث پر مشتمل دلچسپ کتاب ہے۔ مرزا نے آپ علیہ الرحمہ کو خود ہی مناظرے کی دعوت دی اور خود ہی فرار ہوگیا۔

پیر جماعت علی شاہ و محدث علی پوری: ‎مرزا غلام احمد قادیانی سیالکوٹ پہنچا اور اپنے باطل عقائد کی تبلیغ کرنے لگا حضرت پیر جماعت علی شاہ اور محدث علی پوری نے باوجود علالت ایک ماہ سیالکوٹ میں قیام فرمایا۔ جگہ جگہ اسکا رد فرمایا اور علما کو بلواکر مرزائیت کے خلاف تقریریں کروائی۔

حضرت علّامہ ابوالحسنات سیّد محمد احمد قادری رحمۃ اللہ علیہ نے اکرام الحق کی کھلی چٹھی کا جواب، کرشن قادیانی کے بیانات ہذیانی اور قادیانی مسیح کی نادانی اس کے خلیفہ کی زبانی لکھ کر قادیانیوں کے مکر و فریب اور باطل دعووں کا رد فرمایا۔

امیر اہلسنت نے بہت پیارے نعرے عطافرمائے ہیں

‎محمد مصطفی ؛ سب سے آخری نبی

‎احمد مجتبی ؛ سب سے آخری نبی

اللہ پاک ہمیں درست عقائد پر استقامت سے نوازے۔ آمین


تحفظ ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک اہم عقیدہ ہے، کیونکہ مسلمانوں کا ایمان ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ قرآن پاک میں ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ- (پ 22، الاحزاب: 40) ترجمہ کنز الایمان: محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔

اور متعدد احادیث مبارکہ وارد ہیں کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں۔ اس عقیدے کے تحفظ اور اس کی اشاعت میں علمائے اہل سنت نے ہر دور میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس عقیدے پر تمام صحابہ و تابعین، تبع تابعین، سلف صالحین، علمائے کاملین اور مسلمین کا اجماع و اتفاق ہے۔ علمائے کرام نے ہر دور میں اس عقیدے کی اشاعت کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اہل سنت کے علما نے ختمِ نبوت کے موضوع پر بے شمار کتابیں، رسائل اور مقالات تحریر کیے۔ ان تصانیف میں عقلی اور نقلی دلائل کے ذریعے منکرین ختمِ نبوت کے شبہات کا جواب دیا گیا۔ بر صغیر کے متعدد اکابر علمائے اہل سنت جن میں خصوصا امام احمد رضا خان، علامہ شاہ احمد نورانی، مفتی اعظم ہند مصطفی رضا خان کا تذکرہ ملتا ہے۔

عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتاہے کہ حضور اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ ہی میں ایسے بدبخت سامنے آگئے تھے جنہوں نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور حضور ﷺ نے ان کے قتل کا حکم دیا۔ مختلف ادوار میں جھوٹے مدعیان نبوت کا یہ سلسلہ چلتا رہا اور ان کی سرکوبی بھی کی جاتی رہی ہے۔ علمائے اہل سنت نے دینی پروگراموں، کانفرنسوں اور جلسوں کے ذریعے عوام میں عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ کا شعور پیدا کیا۔ اس کے علاوہ دینی مدارس اور مساجد میں بھی اس عقیدے کی تعلیم کو عام کیا۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ علمائے اہل سنت نے عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے ہر دور میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے اپنی تصانیف، خطابات اور علمی کاوشوں کے ذریعے اس عقیدے کی حقانیت کو واضح کیا اور امت مسلمہ کو اس پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کی۔ ان کی یہ خدمات رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔


حضور ﷺ کا آخری نبی ہونا قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور اس پر تمام صحابہ و تابعین، تبع تابعین، سلف و صالحین، علمائے کاملین و مسلمین کا اجماع و اتفاق ہے اگر کوئی حضور ﷺ کو آخری نبی نہ مانے یا پیارے آقا ﷺ کے آخری نبی ہونے میں ذرہ برابر بھی شک کرے تو وہ کافر و مرتد ہو کر دائرۂ اسلام سے نکل جاتا ہے، عقیدۂ ختمِ نبوت پر ایمان ہر مسلمان پر لازم ہے لہٰذا علمائے اہلسنّت نے تحفظ ختمِ نبوت کو صرف مسئلہ نہیں بلکہ ایمان کا مسئلہ سمجھ کر اپنایا، اپنے قلم، زبان، مناظرہ، تحریک، پارلیمنٹ اور قربانی، ہر میدان میں ان کا کردار تاریخ کا روشن باب رہا ہے۔

آج بھی یہ طبقہ نوجوان نسل کو عقیدۂ ختمِ نبوت سے جوڑنے میں مصروف عمل ہے کیونکہ ان کے نزدیک ختمِ نبوت کا تحفظ دراصل ناموس رسالت کا تحفظ ہے، برصغیر میں جب جب اس عقیدے کو چھیڑا گیا علمائے اہلسنت ہر دور میں سب سے آگے کھڑے نظر آئے اور سب نے صف اول میں رہ کر اپنا کردار ادا کیا جیسا کہ مرزا قادیانی نے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو سب سے پہلا وار قلم سے ہوا جو سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ نے کتابیں لکھ کر کیا کہ یہ دعویٰ جھوٹا ہے، پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے تو مرزا کو مباہلے کے لئے للکارا لیکن وہ فرار ہوا، اسی طرح قیامِ پاکستان کے بعد جب قادیانیوں نے بڑے زور و شور سے اپنے باطل مذہب کی ترویج و اشاعت شروع کی تو 1953ء میں غیرت مند و باشعور مسلمانان پاکستان نے علّامہ ابوالحسنات سیّد محمد احمد قادری علیہ الرحمہ کی قیادت میں تحفظ عقیدۂ ختمِ نبوت کا پرچم بلند کیا، قادیانیوں کی شرانگیزی سے کئی علمائے کرام کو سزائیں ہوئیں جبکہ 10ہزار کے قریب مسلمان شہید ہوئے۔

چند سالوں بعد جب قادیانیوں نے پھر فساد پھیلانا شروع کیا تو 1974ء میں علمائے اہل سنّت نے پھر تحفظ عقیدۂ ختمِ نبوت کی آواز اٹھائی، اس بار بھی کثیر علما و مشائخ نے قید و بند کی تکالیف اٹھائیں، بالآخر قادیانیت کا مسئلہ قومی اسمبلی میں اٹھایا گیا جس پر علمائے اہل سنّت کی کئی مہینوں کی انتھک محنت، کثیر پختہ اور ٹھوس دلائل اور سب سے بڑھ کر عشق رسول ﷺ کی بدولت قادیانیوں کی تخریب کاری، فساد، جھوٹ اور اسلام سے دشمنی قانونی سطح پر بھی واضح ہو گئی، قومی اسمبلی میں متفقہ رائے سے عقیدۂ اسلام کو غلبہ ملا اور آئین پاکستان میں قادیانیوں اور لاہوری گروپ کو کافر و مرتد قرار دیا گیا، نیز قانون طے پا گیا کہ قادیانی نہ تو خود کو مسلمان کہلوا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی بھی اسلامی علامت کا استعمال کر سکتے ہیں، اہل سنت نے اسے مدرسے یا کتاب تک محدود نہیں رکھا بلکہ ہر جمعہ کا خطبہ، ہر میلاد کا جلوس، ہر نعرہ تاجدار ختم نبوت اس عقیدے کو زندہ رکھتا ہے، بچہ بچہ جانتا ہے کہ ہمارے نبی کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا کیوں کے خود ہمارے پیارے آقا ﷺ نے فرما دیا: میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (مسلم، ص 1006، حدیث : 6218)

اس مضمون پر علمائے اہلسنت کا کردار کسی دور میں بھی کم نہ رہا دور حاضر میں دیکھا جائے تو اب سوشل میڈیا پر شکوک پھیلائے جاتے ہیں اور سنی علما یوٹیوب، فیس بک وغیرہ کے ذریعے نوجوانوں کی اصلاح فرما رہے ہوتے ہیں اسی سلسلے میں ہر سال 7 ستمبر کو تحفظ ختمِ نبوت کانفرنس بھی ہوتی ہے، تحفظ ختمِ نبوت کے لئے علمائے اہلسنت کی خدمات تاریخ اسلام کا وہ روشن باب ہیں جس پر امت ہمیشہ نازاں رہے گی۔

الله کریم ہمارے علمائے اہلسنت کا سایہ عافیت کے ساتھ سلامت رکھے۔ آمین


شریعت کی اصطلاح میں ختمِ نبوت سے مراد یہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد قیامت تک نہ کوئی نیا نبی آئے گا۔ نبوت کا سلسلہ آپ ﷺ پر مکمل ہو کر ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔

حضور خاتم النبیّٖن ﷺ کا آخری نبی ہونا قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور اس پر تمام صحابہ و تابعین، تبع تابعین، سلف صالحین اور علمائے کاملین و مسلمین کا اجماع و اتفاق ہے۔ جو شخص نبی اکرم ﷺ کے خاتم النبیّٖن ہونے میں شک کرے یا اس کا انکار کرے اور آپ ﷺ کے بعد کسی اور کو نبی مانے وہ کافر ہو کر دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

قرآن کریم میں ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ- (پ 22، الاحزاب: 40) ترجمہ کنز الایمان: محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔

نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (مسلم، ص 1006، حدیث : 6218)

عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت: عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتاہے کہ حضور اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ ہی میں ایسے بدبخت سامنے آگئے تھے جنہوں نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور حضور ﷺ نے ان کے قتل کا حکم دیا۔مختلف ادوار میں جھوٹے مدعیان نبوت کا یہ سلسلہ چلتا رہا اور ان کی سرکوبی بھی کی جاتی رہی یہاں تک کہ انیسویں صدی کے آخری سالوں میں قادیان (ضلع گورداسپور، ہند) کے رہنے والے کذّاب مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی نبی ہونے کا اعلان کیا، اپنی نبوت ثابت کرنے کے لئے خاتم النّبيّٖن کے معنی و تشریح اپنی مرضی کے مطابق کئے اور اپنے امتی نبی، ظلی نبی، بروزی نبی، مثیل مسیح، مسیح موعود اور رسول ہونے کے دعوے کئے۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کا کردار: مجدد دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات: 1921ء) نے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ میں 1899ء میں جزاء اللہ عدوہ باباہ ختم النبوۃ، 1902ء میں السوء والعقاب علی المسیح الکذاب، 1905ء میں قہر الدیان علی مرتد بقادیان، 1908ء میں المبین ختم النبیین اور 1921ء میں اپنی زندگی کی آخری کتاب الجراز الدیانی علی المرتد القادیانی تحریر فرما کر قادیانی فتنے کی جڑیں کاٹ کر رکھ دیں۔

مفتیان کرام کا کردار: حضرت علّامہ مفتی غلام رسول نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ نے 1893ء میں عربی رسالہ الہام الصحیح فی اثبات حیات المسیح تحریر فرما کر مرزاقادیانی کے باطل عقائد کا دلائل کے ساتھ رد فرمایا۔

حضرت علّامہ قاضی فضل احمد نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ نے 1896ء میں کتاب کلمہ فضل رحمانی بجواب اوہام غلام قادیانی سمیت 4 کتابیں لکھ کر مرزا قادیانی کے باطل الہامات کا پردہ چاک کیا۔

حجۃ الاسلام حامد رضا خان کا کردار: حجۃ الاسلام حضرت علّامہ مفتی محمد حامد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے 1898ء میں رسالہ الصارم الربانی علی اسراف القادیانی لکھ کر مرزا قادیانی اور اس کے خلیفہ کے مکر و فریب کھول کر رکھ دئیے۔

مفتی اعظم ہند مصطفےٰ رضا خان کا کردار: مفتی اعظم ہند حضرت علّامہ مفتی محمد مصطفےٰ رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے رسالہ تصحیح الیقین بر ختم النبیین لکھ کر خاتم النبیین کے معنی و مفہوم میں تبدیلی کرنے والے مرزاقادیانی اور اس کے پیروکاروں کا قلع قمع کیا۔

قرآن و حدیث سے آقا جان ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ثابت ہے اور چونکہ یہ دلیل قطعی (قرآن پاک) سے ثابت ہے تو اس میں ذرہ بھی شک کرنے والا مرتد اور کافر ہو کر دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ علمائے کرام نے اس سلسلے میں قادیانیوں کا بہت ہی خوب ردّ کیا کہ گویا قادیانی معاذاللہ حضور کو خاتم النبیین نہیں مانتے بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے تھے۔

اللہ پاک ہمیں قادیانیوں و بدمذہبوں کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین


ختمِ نبوت کا مطلب ہے کہ نبوت کا سلسلہ اللہ پاک نے اپنے محبوب نبی کریم حضرت محمد مصطفی ﷺ پر ختم فرما دیا ہے آپ کے بعد اب قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ- (پ 22، الاحزاب: 40) ترجمہ کنز الایمان: محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔

پیارے آقا ﷺ کو جو خاتم النبیین نہ مانے یا اس میں شک کرے یا کسی طرح کے بہانے بنا کر کسی اور کے نبی ہونے کو مانے تو وہ شخص کافر و مرتد ہے(دائرہ اسلام سے نکل جاتا ہے)۔

پیارے آقا ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں پہلے ہی فرمادیا تھا کہ اس امت میں نبوت کے جھوٹے دعویدار ہوں گے۔

یہ ظاہر ہو کر رہا اور آقا ﷺ کی ظاہری حیات طیبہ میں بھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا ظاہر ہوا پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی مسیلمہ کذاب نبوت کے جھوٹے دعویدار سے جنگ ہوئی۔

انیسویں صدی کے آخری سالوں میں مرزا غلام احمد قادیانی نے نبی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کردیا اپنی نبوت ثابت کرنے کے لیے اس نے تشریعی ظلی بروزی نبی،مسیح موعود اور رسول ہونے کے دعوے کیے۔

علمائے اہلِ سنت نے اس بدبخت کے رد میں تقریر و تحریر،اور درس و تدریس کے ذریعے عقلی و نقلی دلائل دے کر اس کا کافر و مرتد ہونا ثابت کیا۔

1۔ ان علماء کرام میں سب سے پہلے فتویٰ دینے والے مناظر اسلام حضرت علامہ مفتی غلام دستگیر نقشبندی حنفی قصوری ہیں انہوں نے مرزا قادیانی کی کتاب براہین احمدیہ کے رد پر 1883 میں تحقیقات دستگیریہ فی رد ھفوات براہین تحریر کی اور اسکے علاؤہ بھی کتب اور اشتہارات میں اسکے جوابات دے کر اسے اسلام سے خارج قرار دیا۔

2۔ اسی طرح امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے 1899 میں جزاء اللہ عدوہ باباہ ختم النبوۃ، 1902 میں السوء و العقاب علی المسیح الکذاب لکھی۔ 1908میں المبین ختم النبیین اور 1921 میں اپنی زندگی کی آخری کتاب الجراز الدیانی علی المرتد القادیانی تحریر فرما کر اس فتنے کا قلعہ قمع فرمایا۔

3۔ مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مفتی محمد مصطفی رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے رسالہ تصحیح یقین برختم النبیین لکھ کر خاتم النبیین کے معنی و مفہوم میں تبدیلی کرنے والے مرزا قادیانی اور اسکے پیرو کاروں کے فتنے کی جڑیں کاٹیں۔ اسکے علاوہ بھی دیگر علمائے حق نے اس کے لیے بہت سی کوششیں کیں اور کئی کتب، رسائل اور فتاویٰ کے ذریعے قادیانیت کا جواب دیا اور اسکے باطل نظریے کا رد کیا جیسے حضرت علامہ مفتی غلام رسول نقشبندی،حضرت علامہ مفتی محمد حامد رضا خان، شیخ الاسلام مولانا محمد انوار اللہ فاروقی، حضرت علامہ شاہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی و دیگر علمائے کرام جن کا ذکر کتاب عقیدہ ختمِ نبوت میں موجود ہے وہاں اس کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔

4۔ فاتح قادیانیت حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی مرزا کی فارسی کی کتاب ایام الصلح کے جواب میں 1899 میں ہدایہ الرسول فارسی میں لکھی اسی طرح مختلف کتب لکھیں ان میں سے ایک سیف چشتیائی بھی ہے۔

5۔ شاہین عقیدہ ختمِ نبوت حضرت مفتی محمد امین قادری انہوں نے تقریباً سوا صدی کے علمائے کرام کی تحریرات کو جمع کیا اور انکی از سرنو ترتیب وتدوین کی اس کا نام عقیدہ ختم نبوت رکھا آپکی حیات میں اس کی 6 جلدیں شائع ہوئیں اب تک 16 جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں۔

پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد قادیانیت نے خوب زور کیا تو اہل سنت کے علمائے کرام نے 1953 میں حضرت علامہ ابو الحسنات سید محمد احمد قادری کی قیادت میں عقیدہ تحفظ ختمِ نبوت کا پرچم بلند کیا پھر 1974 میں بھی اس سلسلے میں علمائے اہل سنت کو سزائیں بھی ہوئیں اور ہزاروں شہید بھی ہوئے۔

بالآخر یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش ہوا تو علمائے اہل سنت کے ٹھوس عقلی و نقلی دلائل اور عشق رسول ﷺ کے سچے جذبہ کی بدولت قادیانیوں کو غیر مسلم مرتد و کافر قرار دے دیا گیا۔ نیز یہ قرار پایا کہ نہ یہ خود کو مسلمان کہلا سکتے ہیں نہ ہی کوئی اسلامی علامت استعمال کر سکتے ہیں۔ اسی کی یاد میں الحمدللہ ہر سال 6 ستمبر کو یوم تحفظ عقیدہ ختمِ نبوت ﷺکے سلسلے میں منایا جاتا ہے۔

اللہ پاک ہمیں قادیانی اور دیگر بد مذہبوں کے شر سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور اپنے محبوب ﷺ کے دامنِ کرم سے ہمیشہ وابستہ رکھے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ


عقیدہ کا معنی: عقیدہ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں: ایسا فیصلہ یا نظریہ جس کے ماننے والوں کیلئے اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہ ہو۔ اصطلاحی اعتبار سے عقیدہ ان دینی امور کا نام ہے جن پر دل بغیر کسی شک و شبہ کے پختہ ہوجائے۔ (دس اسلامی عقیدے، ص 7)

علمائے اہلِ سنت کا عقیدۂ ختمِ نبوت پر ورک: ختمِ نبوت کا یہ عقیدہ درخشاں آفتاب کی طرح واضح ہے اور اس پر ایمان ہر مسلمان رکھتا ہے۔لیکن بہت سے بد قسمت و بد بخت لوگ جنہوں نے ختمِ نبوت کے بارے میں برے عقائد و فتنے اٹھائے۔

ایسے لوگوں کا شروع سے ہی علمائے اہل سنت اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے رد فرماتے آئے ہیں۔ایسے ہی حال ہی میں جب ختمِ نبوت کے حوالے سے فتنوں نے سر اٹھایا تو دیگر علمائے کرام کے ساتھ ساتھ شیخ طریقت امیر اہلسنت بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی (دامت برکاتہم العالیہ)نے بھی مختلف طریقوں سے فتنوں کی روک تھام فرمائی۔آپ نے

محمدِ مصطفی سب سے آخری نبی

کے نعرے امت کو عطا فرمائے جو ملک و بیرون ملک میں اتنے مشہور ہوئے کہ ہر فرد کی زبان پر یہ نعرہ گونجنے لگا۔ آپ نے آخری نبی کے نام پر کئی مساجد بھی تعمیر کروائیں جو کہ تاقیامت ان شاءاللہ الکریم قائم رہیں گی اور عقیدہ ختمِ نبوت کو پختہ کریں اور اس عقیدے پر شاہد رہیں گی۔

اس کے ساتھ ساتھ 7ستمبر کو تمام دعوت اسلامی والے یومِ تحفظِ عقیدہ ختمِ نبوت مناتے ہیں۔ اسی طرح مرشد کامل،شیخ طریقت (دامت برکاتہم العالیہ)نے اپنے تحریر وتصنیف کے ذریعے بھی عقیدہ ختمِ نبوت واضح فرمایا اور یہ رسائل تحریر فرمائے: سب سے آخری نبی، آخری نبی کی شان بزبان قرآن۔

سب سے آخری نبی رسالے میں آپ نے تحفظ عقیدہ ختمِ نبوت کےلئے 40ایسی احادیث مبارکہ نقل فرمائی ہیں جو ختمِ نبوت پر دال ہیں۔

بزرگان دین کی خدمات: جب جب عقیدۂ ختمِ نبوت کے حوالے سے فتنے برپا کیے گئے تب تب ہمارے بزرگان دین نے ان فتنوں کا سر کاٹنے کیلئے یا تو قلم اٹھایا یا پھر تقاریر کیں۔

دور اعلیٰ حضرت: جب دور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ میں ان فتنوں نے سر بلند کیا تو انکے رد میں میرے آقا اعلیٰ حضرت نے اس موضوع پر قلم اٹھایا۔تو آپ نے 2 رسالے بنام ”المبین ختم النبیین (یعنی حضور کے خاتم النبیین ہونے کے واضح دلائل)“ اور ”جزاء اللہ عدوہ بابائہ ختم النبوۃ (یعنی دشمن خدا کے ختمِ نبوت کا انکار کرنے پر خدائی جزاء)“ تحریر فرمائے۔

اللہ پاک علمائے اہلسنت کا سایہ عوام اہلسنت پر دراز فرمائے۔

ہمیں عقیدہ ختمِ نبوت کا انکار کرنے والوں کے شر سے بچا کر عقیدہ ختمِ نبوت کی حفاظت کرنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ


مسلمانوں کا واضح اور مسلمہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ پاک کے آخری نبی ہیں، آپ کے زمانے میں یا آپ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔حضور خاتم النبیین ﷺ کا آخری نبی ہونا قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور اس پر تمام صحابہ و تابعین، تبع تابعین، سلف صالحین، علمائے کاملین و مسلمین کا اجماع و اتفاق ہے۔اگر کوئی حضور کو آخری نبی نہ مانے یا آپ کے آخری نبی ہونے میں ذرہ برابر بھی شک کرے یا طرح طرح کے بہانے بناکر حضور کے بعد کسی اور کو بھی نبی مانے تو وہ کافر و مرتد ہوکر دائرۂ اسلام سے نکل جاتا ہے۔

عقیدہ ختمِ نبوت کی اہمیت: عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتاہے کہ حضور اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ ہی میں ایسے بدبخت سامنے آگئے تھے جنہوں نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور حضور ﷺ نے ان کے قتل کا حکم دیا۔مختلف ادوار میں جھوٹے مدعیان نبوت کا یہ سلسلہ چلتا رہا اور ان کی سرکوبی بھی کی جاتی رہی یہاں تک کہ انیسویں صدی کے آخری سالوں میں قادیان کے رہنے والے کذّاب مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی نبی ہونے کا اعلان کیا، اپنی نبوت ثابت کرنے کے لئے خاتم النّبيّٖن کے معنی و تشریح اپنی مرضی کے مطابق کئے اور اپنے امتی نبی، ظلی نبی، بروزی نبی، مثیل مسیح، مسیح موعود اور رسول ہونے کے دعوے کئے۔

علمائے حق اہلِ سنّت نے اس بدبخت کا تحریر و تقریر، درس و تدریس، نظم و نثر ہر انداز سے رد کیا اور عقلی و نقلی دلائل کی روشنی میں اس کا کافر و مرتد اور بدترین جھوٹا ہونا ثابت کیا۔

مرزا غلام احمد قادیانی یہ وہ بدبخت تھا جس نے نبوت کا دعوی کیا کہ میں نبی ہوں۔ تو اس پر بے شمار علمائے کرام نے اس کا عقلی و نقلی دونوں طرح سے انکار کیا۔جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

1۔ مرزا قادیانی کے رد میں فتویٰ دینے والے اولین مناظر اسلام حضرت علّامہ مفتی غلام دستگیر نقشبندی حنفی قصوری رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ آپ نے مرزا قادیانی کی کتاب براہین احمدیہ کے رد پر میں تحقیقات دستگیریہ فی ردّ ہفوات براہینیہ، رجم الشّیاطین بردّ اغلوطات البراھین لکھیں۔ مرزا قادیانی کے ایک اشتہار کے جواب میں فتح رحمانی بہ دفع کید قادیانی لکھ کر مرزا قادیانی کے کفریات عوام و خواص کے سامنے بیان کئے اور مرزا قادیانی کو اسلام سے خارج قرار دیا۔

2۔ مجدد دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ میں ”جزاء اللہ عدوہ باباہ ختم النّبوۃ“، ”قہر الدّیّان علی مرتدٍّ بقادیان“، المبین ختم النّبیّین“ اور اپنی زندگی کی آخری کتاب ”الجراز الدیانی علی المرتد القادیانی“ تحریر فرما کر قادیانی فتنے کی جڑیں کاٹ کر رکھ دیں۔

اور ان تمام چیزوں سے بڑھ کر ایک ایسی حسین نعتیہ کلام کی کتاب حدائق بخشش لکھی جس میں ایسے ایسے شعر لکھ ڈالے عقیدے سے متعلق کہ لوگوں کو اس کو پڑھ کر سمجھ کر عقل دنگ رہ گئی۔جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

فتحِ بابِ نبوّت پہ بے حد درود ختمِ دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام

بجھ گئیں جس کے آگے سبھی مشعلیں شمع وہ لے کر آیا ہمارا نبی

بزمِ آخر کا شمع فروزاں ہوا نورِ اوّل کا جلوہ ہمارا نبی

خلق سے اولیا، اولیا سے رسل اور رسولوں سے اعلیٰ ہمارا نبی

3۔ حجۃ الاسلام حضرت علامہ مفتی محمد حامد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے الصارم الربانی علی اسراف القادیانی لکھ کر مرزا قادیانی اور اس کے خلیفہ کے مکر و فریب کھول کر رکھ دئیے، یہ رسالہ فتاویٰ حامدیہ میں موجود ہے۔

ان کے علاوہ مفتی اعظم ہند حضرت علّامہ مفتی محمد مصطفےٰ رضا خان، فاتحِ قادیانیت حضرت پیر سیّد مہر علی شاہ گولڑوی، شیخ الاسلام مولانا محمد انوار اللہ فاروقی، حضرت علامہ قاضی فضل احمد نقشبندی رحمۃ اللہ علیہم ان تمام علمائے کرام نے بہت ہی اچھے انداز سے قادیانی فرقے کا رد فرمایا۔

اسی طرح بے شمار علمائے کرام موجود ہیں جنہوں نے یہ بات ثابت کر دی کہ مرزا غلام قادیانی ایک بد بخت کافر تھا جس نے نبوت کا جھوٹا دعوی کیا۔

چندسالوں بعد جب قادیانیوں نے پھر فساد پھیلانا شروع کیا تو 1974ء میں علمائے اہل سنّت نے پھر تحفظ عقیدۂ ختمِ نبوت کی آواز اٹھائی، اس بار بھی کثیر علما و مشائخ نے قید و بند کی تکالیف اٹھائیں، بالآخر قادیانیت کا مسئلہ قومی اسمبلی میں اٹھایا گیا جس پر علمائے اہل سنّت کی کئی مہینوں کی انتھک محنت، کثیر، پختہ اور ٹھوس دلائل اور سب سے بڑھ کر عشق رسول کریم ﷺ کی بدولت قادیانیوں کے، فساد، جھوٹ اور اسلام قانونی سطح پر بھی واضح ہوگئی، قومی اسمبلی میں متفقہ رائے سے عقیدۂ اسلام کو غلبہ ملا اور آئین پاکستان میں قادیانیوں اور لاہوری گروپ کو کافر و مرتد قرار دیا گیا۔ نیز قانون طے پا گیا کہ قادیانی نہ تو خود کو مسلمان کہلوا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی بھی اسلامی علامت کا استعمال کرسکتے ہیں۔

اللہ کریم ہمیں قادیانی فرقے سے دور رکھے، اور ہمیں تحفظ ختمِ نبوت میں حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے۔


اسلام کی بنیاد کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ کے دو حرفی عہد پر رکھی گئی ہے۔ اللہ کریم کے سوا کسی مدعی الوہیت کا وجود ناقابل برداشت ہے۔ اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد مدعی نبوت کی بساط نبوت پر قدم رکھنے کی گستاخی بھی لائق تحمل نہیں۔ یہی عقیدہ ختمِ نبوت کا عقیدہ کہلاتا ہے۔ عقیدہ ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی اوراہم عقائد میں سے ہے بلکہ یہ عقیدہ ضروریات دین میں ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا نہ ہوگا نہ ہوسکتا ہے۔

یہ عقیدہ صحابہ کرام تابعین اور تمام امت مسلمہ کا پختہ اور متفق عقیدہ رہا ہے اس کا انکار کرنے والے یا ذرہ برابر شک کرنے والا کافر و مرتد ہوکر دائرہ اسلام سے نکل جاتا ہے۔ اسی فریضہ کا نام تحفظ ختمِ نبوت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ امت مسلمہ نے کسی دور میں اس فریضہ سے تغافل نہیں برتا۔

ختمِ نبوت کی اہمیت: اللہ کریم نے ارشاد فرمایا: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ- (پ 22، الاحزاب: 40) ترجمہ کنز الایمان: محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔

یہ آیت مبارکہ حضور اکرم ﷺ کے آخری نبی ہونے پر یقین قطعی ہے کہ حضور ﷺ خاتم النبیین ہیں۔

رسول کریم ﷺ کے آخری نبی ہونے کا ذکر کئی روایات میں آیا۔ ایک حدیث مبارکہ میں ہے: بے شک رسالت اور نبوت ختم ہوچکی میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا نہ کوئی نبی۔ (ترمذی، 4/12، حدیث: 2279)

عقیدہ ختمِ نبوت کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جائے کہ نبی کریم ﷺ کے مبارک دور میں ایسے بدبخت سامنے آئے جنہوں نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور صحابہ کرام نے اس کا خوب تحفظ فرمایا۔ آج بھی جب کبھی کسی فتنے نے سراٹھایا بالخصوص فتنۂ مرزا قادیانی نے تو علمائے اہل سنت اس کے مقابلے اور ختمِ نبوت کے عقیدے کے تحفظ کے لیے میدان میں آئے اور قرآن و حدیث کے دلائل خطبات اور کتابوں، دروس تصانیف اور فتویٰ کے ذریعے عقیدہ ختمِ نبوت کا مضبوط دفاع کیا۔ علمائے اہلسنت نے ہر دور میں عقیدہ ختمِ نبوت کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھا تاکہ مسلمان اس عقیدے کی اہمیت سمجھیں اور اس کی حفاظت کریں۔

علمائے اہلسنت کا کردار:

1۔ امام احمد رضا خان: اس عقیدہ کی حفاظت میں اولین شخصیت مجدد دین ملت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔آپ نے فتنہ قادیانیت کے ابتدائی دور میں مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر و گمراہی کو واضح فرمایا، آپ نے اس کے رد میں کتابیں اور فتاویٰ تحریر فرمائے جن میں؛ حسام الحرمین، فتاویٰ رضویہ، المعتقد المنتقد، تمہید الایمان وغیرہ شامل ہیں۔

2۔ علامہ شاہ احمد نورانی: آپ نے تحریک ختمِ نبوت میں عظیم کردار ادا کیا۔ آپ نے 1947 کی تحریک میں حصّہ لیا قومی اسمبلی میں قادیانیوں کے خلاف موثر آواز اور عالمی سطح پر ختمِ نبوت کا پیغام پہچایا۔

3۔ حضرت پیر علی شاہ: آپ نے اس سلسلے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ آپ نے برصغیر میں ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیےعلمی و روحانی جدوجہد کی۔ آپ نے تحفظ ختمِ نبوت اور قادیانیت کے رد میں کتابیں تحریر فرمائیں۔ جن میں؛ سیف چشتیائی، شمس الہد ایۃ، تحقیق الحق فی کلمۃ الحق شامل ہیں۔

4۔ مفتی محمد شیخ: آپ نے قرآن و حدیث کی روشنی میں ختمِ نبوت پر مدلل بیانات اور تحریریں پیش کی۔ اس موضوع پر کتاب (ختم نبوت) تحریر فرمائی آپ نے اپنے فتاویٰ کے ذریعے بھی اس عقیدے کی اہمیت سے آگاہ کیا۔

5۔ مفتی اعظم ہند: آپ نے اپنے والد امام احمد رضا خان کے مشن کو آگے بڑھایا ختمِ نبوت کے تحفظ پر فتاویٰ جاری کیے علما کو متحد کیا اور عشق رسول ﷺ کے ذریعے عقیدہ مضبوط کیا۔

6۔ تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان: آپ نے عالمی سطح پر اہل سنت کے عقائد کا دفاع کیا ختمِ نبوت پرمضبوط مؤقف بیان فرمایا آپ نے 1893 میں ایک عربی رسالہ قادیانیوں کے رد میں تحریر فرمایا۔

7۔ حضرت شاہ احمد نورانی صدیقی: آپ اہلسنت کے بڑے رہنما، خطیب اور مدبر تھے۔ خصوصاً 1947ء کی تحریک ختم بنوت میں آپ کا کردار تاریخ ساز مانا جاتا ہے۔ آپ پارلیمنٹ کے رکن تھے۔ اسمبلی میں ختمِ نبوت کے عقیدہ پر مضبوط دلائل دیئے۔ اسی کے نتیجے میں 7 ستمبر کو قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دیا گیا۔

پاکستان میں 1947 میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے میں علمائے اہل سنت نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ ایک تاریخی کامیابی تھی جس میں مختلف مکاتب فکر کے علما متحد تھے۔ علمائے اہلسنت نے ہر دور میں تحفظ عقیدہ ختمِ نبوت کے لیے عظیم قربانیاں دیں۔ انہوں نے فتاوی مناظروں تصنیفات کے ذریعے امّت مسلمہ کے ایمان کی حفاظت کی۔ ان کی خدمات امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ ہیں۔ آج بھی مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ قرآن و سنت علمائے اہلسنت کی تعلیمات کے پیش نظر عقیدہ ختمِ نبوت مضبوطی سے تھامے رکھیں اور اس کی حفاظت کریں۔