عقیدہ ختمِ نبوت سے مراد ہے کہ نبوت کا سلسلہ نبی کریم ﷺ پر ختم ہو گیا ہے آپ اللہ کے آخری نبی ہیں،آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا جو یہ سمجھے کہ آپ کے بعد کوئی نبی ہوگا وہ کافر ہے یہ عقیدہ اسلام کا بنیادی اصول ہے اور ضروریات دین میں سے ہے۔

احادیث مبارکہ میں یہ عقیدہ تواتر اور نہایت وضاحت سے بیان ہوا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ (مسلم، ص 1006، حدیث : 6218)

قرآن مجید میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ- (پ 22، الاحزاب: 40) ترجمہ کنز الایمان: محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔

علمائے کرام کا کردار:

مفتی غلام دستگیر قصوری: جب 19ویں صدی کے آخر میں ضلع گورداسپور ہند کے رہنے والے کذاب مرزا غلام احمد قادیانی نے نبی ہونے کا اعلان کیا اور اسے ثابت کرنے کے لیے خاتم النبیین کے معنی اپنی مرضی سے کیے تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو رد کرتے ہوئے اس کی کتاب براہین احمدیہ کے رد میں 1883 میں اپنی ایک کتاب تحقیقات دستگیریہ فی رد ہفوات براہینیہ تحریر فرمائی۔ 1886 میں رجم الشیاطین برد اغلوطات البراہین تحریر کی۔ 1896 میں مرزا قادیانی کافر کے ایک اشتہار کے جواب میں فتح رحمانی بہ دفع کید قادیانی لکھ کر مرزا کے کفریات عوام و خواص کے سامنے بیان کیے اور مرزا قادیانی کافر کو اسلام سے خارج قرار دیا۔

امام احمد رضا خان: آپ رحمۃ اللہ علیہ نے عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ میں 1899ء میں جزاء اللہ عدوہ باباہ ختم النبوۃ، 1902ء میں السوء و العقاب علی المسیح الکذاب اور 1905 ء میں قہرالدیانی علی مرتد بقادیانی اور 1908 ء میں المبین ختم النبیین تحریر فرمائی اور 1921 میں اپنی زندگی کی آخری کتاب الجراز الدیانی علی مرتد القادیانی تحریر فرمائی یہ رسائل فتاوی رضویہ جلد 14 اور 15 میں ہیں۔

علامہ خادم حسین رضوی: آپ رحمۃ اللہ علیہ نے عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ اور اس کے پرچار کے حوالے سے نہایت اہم کردار ادا کیا آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی خطابت اور تقاریر کے ذریعے عوام میں ختمِ نبوت کی اہمیت کو اجاگر کیا اور عوام کو اس بنیادی عقیدے کی دفاع کے لیے منظم اور متحرک کیا آپ نے ایک ایسی تحریک کی بنیاد رکھی جس کا بنیادی مقصد نظامِ مصطفیٰ ﷺ کا نفاذ اور عقیدہ ختمِ نبوت کا تحفظ تھا انہوں نے عوام میں تاجدار ختمِ نبوت کا نعرہ عام کیا۔

مولانا محمد الیاس عطار قادری:آپ دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے بیانات اور مدنی مذاکروں میں واضح اور دو ٹوک الفاظ میں فرمایا کہ عقیدہ ختمِ نبوت دین کی اساس ہے اس کا انکار کفر ہے اور اس کے منکر دائرہ اسلام سے خارج ہیں آپ کی تنظیم دعوتِ اسلامی دنیا بھر میں عقیدہ ختمِ نبوت پر شعور و آگاہی فراہم کررہی ہے تاکہ نوجوان نسل اس سے جڑی رہے،

ان تمام واقعات سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہمیں بھی رسول اللہ ﷺ کی ختمِ نبوت پر پہرہ دینا چاہیے اور اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں بھی علمائے کرام کا فیض نصیب فرمائے اور رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کو تمام لوگوں میں عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں سیدھے راستے پہ چلائے اور ایمان کی حالت میں موت نصیب فرمائے اور ہماری ہمارے والدین اساتذہ کرام پیر و مرشد سب کی بے حساب بخشش و مغفرت فرمائے۔ آمین