میرے آقاﷺ جن و انس،شجر و حجر،چرند و پرند،الغرض کائنات کی ہر مخلوق کے لئے نہایت شفیق اور مہربان ہیں۔لیکن آپ نے فرشتوں کو بھی اپنی محبت،قرب، خدمت، جود و کرم اور رحمت سے محروم نہیں فرمایا۔چنانچہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوا: وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷) 17،الانبیاء:107)ترجمہ: اورہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ۔

تفسیر صراط الجنان:تاجدارِ رسالت ﷺ نبیوں،رسولوں اور فرشتوں کے لئے رحمت ہیں،دین و دنیا میں رحمت ہیں،جنات اور انسانوں کے لئے رحمت ہیں،مومن و کافر کے لئے رحمت ہیں،حیوانات،نباتات اور جمادات کے لئے رحمت ہیں۔ الغرض عالَم میں جتنی چیزیں داخل ہیں،سیّدُ المرسلین ﷺان سب کے لئے رحمت ہیں۔(تفسیر صراط الجنان، 6/378)

حضور جانِ رحمتﷺ نے کئی مواقع پر فرشتوں کو بھی قربِ خاص سے نوازا،جیسا کہ اب بھی صبح و شام ستر ہزار فرشتے بارگاہِ نبوی میں حاضری دیتے ہیں جو ایک بار آجائے وہ دوبارہ کبھی حاضر نہیں ہوگا اور جب آپ کی قبرِ مبارک کھلے گی تو آپ ستر ہزار ملائکہ کے ساتھ باہر تشریف لائیں گے۔(دارمی،1/57،حدیث:94) اِسی طرح حضورﷺ کا حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ قرآنِ کریم کا دور فرمانا(بخاری،2/384 ،حدیث : 3220)بھی حضرت جبرائیل علیہ السلام سے کمال اندازِ محبت تھا۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:حضورﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک نے چار وزراء سے میری تائید اور مدد فرمائی،دو آسمان والوں سے ہیں جبرائیل و میکائیل اور دو زمین والوں میں سے ہیں ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما۔ایک دوسری روایت میں ارشاد فرمایا: جبرائیل علیہ السلام میرے آسمانی وزیر ہیں ۔(تفسیر در منثور،1/94)

سرکارِ مدینہ ﷺصحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان سے فرمایا کرتے تھے:خَلُّوْا ظَهْرِيْ لِلْمَلَائِكَةِ یعنی میری پیٹھ پیچھے کی جگہ فرشتوں کے لئے چھوڑ دو۔(مسند احمد،5/216 ، حدیث:15281)

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،حضور پُر نور ﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک نے مجھے تین سوال عطا فرمائے،میں نے دو بار تو دنیا میں عرض کر لی:( اے اللہ!میری امت کی مغفرت فرما،اے اللہ!میری امت کی مغفرت فرما) اور تیسری عرض اُس دن کے لئے باقی رکھی جس میں مخلوقِ الٰہی میری طرف نیاز مند ہو گی یہاں تک کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی میرے نیاز مند ہوں گے۔(مسلم،ص318،حدیث: 1904)

امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ اِسی حدیثِ پاک کے تحت اپنی کتاب فرشتوں کے حالات و واقعات میں فرماتے ہیں کہ تمام مخلوق میں فرشتے بھی داخل ہیں،لہٰذا حضور فرشتوں کی بھی شفاعت فرمائیں گے۔سرکارِ دو عالَم ﷺ کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جہاں کہیں تشریف لے جاتے نگہبانی اور خدمت کے لئے فرشتے بھی ساتھ جاتے جو آپ کے پیچھے پیچھے چلتے تھے۔ (سرور القلوب ،ص222)

سبحان اللہ الکریم!حضور کی حیاتِ ظاہری میں بعض فرشتوں کو قربِ خاص اور خدمت کا موقع ملا ،آج بھی کئی فرشتے بطورِ خادم دربارِ رسالت میں کئی امور پر مامور ہیں جیسے بعض فرشتے درود شریف پڑھنے والوں کا درود نام مع ولدیت سرکارﷺ کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں۔اللہ کریم ہمیں بھی حضورِ جانِ رحمتﷺ کی سچی محبت اور آپ کی توجہِ خاص نصیب فرمائے ۔آمین


ملائکہ پر فضیلت:فرشتے نوری مخلوق ہیں۔(دس عقیدے،ص60)ان کی تعداد وہی جانے جس نے ان کو پیدا کیا ہے اور اُس کے بتائے سے اُس کا رسول۔چار فرشتے بہت مشہور ہیں:جبرائیل،میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل علیہم السلام اور یہ سب ملائکہ پر فضیلت رکھتے ہیں۔(بہارِ شریعت،1/ 94 ،حصہ:1)

ملائکہ کا بیان:فرشتے اجسام نوری ہیں،اللہ پاک نے ان کو طاقت دی ہے کہ جو شکل چاہیں بن جائیں کبھی وہ انسان کی شکل میں ظاھر ہوتے ہیں اور کبھی دوسری شکل میں۔وہ وہی کرتے ہیں جو حکمِ الٰہی ہے،خدا کے حکم کے خلاف کچھ نہیں کرتے، نہ قصداً نہ سہواً نہ خطاً وہ اللہ پاک کے معصوم بندے ہیں،ہر قسم کے صفائر و کبائر سے پاک ہیں۔(بہار شریعت، 1/90، حصہ:1 )

حضور ﷺ کی فرشتوں سے محبت:جس طرح حضور ﷺکو صحابہ کرام و اہلِ بیت سے محبت تھی،اسی طرح آپ کو فرشتوں سے بھی محبت تھی۔اللہ پاک نے اپنے حبیبﷺ کے بارے میں ارشاد فرمایا :وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷) 17،الانبیاء: 107)ترجمہ: اورہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ۔

چونکہ عالمین میں فرشتے بھی داخل ہیں،اس لیے رسول کریم ﷺ فرشتوں کے لیے بھی رحمت مطلق ہیں تو یقیناً ان سے افضل بھی ہیں ۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا :میرے دو وزیر آسمان میں ہیں اور دو وزیر زمین میں ہیں۔آسمان میں میرے دو وزیر جبرائیل اور میکائیل ہیں اور زمین میں میرے دو وزیر ابو بکر اور عمر ہیں۔(مستدرک،2/ 654،653، حدیث:3101-3100)

حضور ﷺ کی فرشتوں سے محبت آپ کی عظیم صفت ہے جو آپ کی شفقت،عظمت اور اللہ پاک سے قربت کی علامت ہے۔دعوتِ اسلامی اس محبت کو صحابہ کے ساتھ محبت کی طرح بیان کرتی ہے جس میں فرشتوں کی اطاعت،ان کے ساتھ تعلق اور ان کو اونچا مقام دینا وغیرہ کا درس ہے۔یہ محبت در اصل اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہُ علیہ و اٰلہٖ و سلم کی محبت کا حصہ ہے جس سے فرشتے اللہ پاک کے حکم سے حضور ﷺ کے کاموں میں مدد کرتے ہیں اور آپ کی اتباع کرتے ہیں ۔

نور سے تخلیق: فرشتے نور سے پیدا ہوئے ہیں اور حضور بھی نور ہیں۔اس نورانی رشتے کی وجہ سے بھی حضور کا فرشتوں سے خاص تعلق ہے۔