اصحاب بیعت
رضوان ان خوش نصیب صحابہ کرام کو کہا جاتا ہے جنہوں نے بیعت رضوان کے موقع پر حضرت
محمد ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی۔
بیعت
رضوان کا پس منظر: یہ واقعہ 6 ہجری میں حدیبیہ کے مقام پر پیش آیا جب
نبی کریم ﷺ اور صحابہ عمرہ کی نیت سے مکہ گئے تو کفار قریش نے انہیں روک دیا اسی
دوران یہ خبر پھیلی کہ سفیر رسول حضرت عثمان بن عفان کو شہید کر دیا گیا ہے یہ سن
کر حضور نے تمام صحابہ سے یہ عہد لیا کہ وہ اس معاملے میں پیچھے نہیں ہٹیں گے چاہے
جان ہی نہ دینی پڑے۔
بیعت
کا منظر: صحابہ
کرام نے ایک درخت کے نیچے حضور ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی اس موقع پر تقریبا 1400 صحابہ
موجود تھے اس بیت کو اللہ تعالی نے قران مجید میں خاص طور پر سراہا
لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ
الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ (پ26،
الفتح:18) ترجمۂ کنز الایمان: بیشک اللہ راضی ہوا مسلمانوں سے جب وہ اس درخت کے
نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے۔
اصحاب
بیت رضوان کی فضیلت:
اللہ تعالیٰ
نے خود ان سے اپنی رضا کا اعلان فرمایا یہ صحابہ غیر معمولی وفاداری اور قربانی کے
جذبے کے حامل تھے ان کے بارے میں احادیث میں بھی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
چند
نمایاں اصحاب بیعت رضوان: حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق،
حضرت عثمان غنی، حضرت علی رضی اللہ عنہم۔
حضرت عثمان اس
وقت مکہ میں تھے مگر حضور ﷺ نے ان کی طرف سے بھی اپنے ہاتھ پر بیعت فرمائی۔
اصحاب بیعت
رضوان کی فضیلت کے بارے میں بخاری میں متعدد احادیث آئی ہیں ان میں سے ایک مشہور
حدیث یہ ہے کہ وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا جس نے درخت کے نیچے بیعت کی۔(ترمذی،
5/462، حديث: 3886)
حضرت جابر بن
عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: تم بیعت
رضوان والے اس وقت زمین والوں میں سب سے بہتر ہو۔
تمام اصحاب بیعت
رضوان کی عصمت واضح ہے اور حضرت محمد ﷺ نے بھی ان کے لیے خیر کی بشارت فرمائی۔
اہل
حدیبیہ کی مغفرت: حضرت
عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو بدر
اور حدیبیہ میں شریک ہوا وہ جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔ (ترمذی، 5/462، حديث: 3886)
حضرت سلمہ بن الاکوع
رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی ﷺ سے درخت کے نیچے بیعت کی اور یہ بیعت موت
پر تھی یعنی جان قربان کرنے کا عہد۔
جب حضرت عثمان
بن عفان رضی اللہ عنہ مکہ میں تھے اور بیعت میں موجود نہ تھے تو نبی کریم ﷺ نے
اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر فرمایا: یہ عثمان کی طرف سے ہے۔ (ترمذی،
5/395، حدیث: 3726) یہ عمل اس بات کی علامت ہے کہ حضور ﷺ اپنے ہر صحابی کا کتنا
خیال رکھتے تھے اور انہیں بیعت کی فضیلت سے محروم نہیں رکھا، بیعت رضوان کے موقع
پر اللہ تعالیٰ نے ان صحابہ سے اپنی رضا کا اعلان کیا اور نبی کریم ﷺ بھی ان سے
انتہائی خوش تھے آپ ﷺ ان کے لیے دعائیں فرماتے اور ان کی وفاداری کو سراہتے تھے۔
حضور ﷺ نے ان
صحابہ پر مکمل اعتماد کیا جب بیعت لی تو یہ دراصل ان کی وفاداری اور قربانی پر
اعتماد کا اظہار تھا آپ ﷺ نے انہیں اپنے سب سے قریبی اور مخلص ساتھیوں میں شمار
کیا۔
اصحاب بیعت
رضوان کے ساتھ حضور ﷺ کی محبت خصوصی بشارتوں میں ظاہر ہوئی، ہر صحابی کے خیال
رکھنے میں نظر آئی، دعا اعتماد اور عزت کی شکل میں سامنے آئی، یہ تعلق محبت وفاداری
اور ایمان کا ایک کامل نمونہ ہے جو اسلامی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
Dawateislami