تواضع یعنی عاجزی ایک ایسا اعلیٰ اخلاق ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے اور بندوں کے دلوں میں محبت پیدا کرتا ہے ۔  جو جتنا بڑا ہوتا ہے، وہ اتنا ہی جھکتا ہے ۔ عاجزی اختیار کرنا اسلام کی بنیادی اخلاقی تعلیمات میں سے ہے ۔ یہ وہ صفت ہے جو انسان کو غرور، تکبر اور خود پسندی سے بچاتی ہے ۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (سورۃ الاسراء: 37)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ مسلمان کا تکبر سے کوئی تعلق نہیں ، کیونکہ انسان کمزور اور محدود ہے ۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ عاجزی کی بہترین مثال تھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا:"وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ" ترجمہ: اور کوئی شخص ( صرف اور صرف ) اللہ کی خاطر تواضع ( انکسار ) اختیار نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ اس کا مقام بلند کر دیتا ہے ۔ (صحیح مسلم حدیث 6592)

آپ ﷺ خود جھاڑو دیتے، جوتے سی لیتے، غلاموں سے نرمی سے بات کرتے، اور عاجزی اختیار فرماتے ۔ قرآن مجید میں ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)

ترجمہ کنزالعرفان:اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ (سورۃ الفرقان: 63)

یعنی اللہ کے خاص بندے وہ ہیں جو زمین پر اترا کے نہیں چلتے عاجزی اور تواضع اختیار کرتے ہیں ۔ تواضع دل کی وہ کیفیت ہے جو انسان کو خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے سے روکتی ہے ۔ ایسا شخص بڑوں کا احترام کرتا ہے، چھوٹوں سے محبت سے پیش آتا ہے اور ہر ایک کو عزت دیتا ہے ۔ قرآن مجید ایک اور جگہ فرمایا گیا:

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)

ترجمہ کنزالعرفان:اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے ۔ (سورۃ لقمان: 18)

تواضع انسان کو اللہ کے قریب لاتی ہے اور معاشرے میں سکون و محبت پھیلاتی ہے ۔ یہ وہ روشنی ہے جو دلوں کو منور کرتی ہے اور انسان کو کامیاب بناتی ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم تواضع کو اپنائیں، دوسروں کو عزت دیں، نرم لہجے میں بات کریں، اور اللہ کے بندوں سے شفقت سے پیش آئیں ۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے ۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سچی عاجزی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

اچھا کردار انسان کو نہ صرف معاشرے میں عزت بخشتا ہے بلکہ اُس کی روحانی ترقی کا زینہ بھی بنتا ہے ۔  جب انسان عاجزی، اور احترام کے ساتھ زندگی گزارتا ہے، تو وہ نہ صرف خود کے لیے سکون اور امن کا ذریعہ بنتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی اس سے ترغیب ملتی ہے ۔ ایسے اعلیٰ کردار کو آپنانا اس لیے ضروری ہے کہ یہ اندرونی پاکیزگی اور سماجی ہم آہنگی دونوں کا ضامن ہے ۔ تواضع یعنی عاجزی و انکساری اس اچھے کردار کا اہم جزء ہے جب ہم آپنے آپ کو حقیر نہیں بلکہ ایک مخلوق سمجھ کر اللہ پاک کے سامنے عاجزی اختیار کریں گے، تو ہمارا باطنی مقام بلند ہوگا اور ہمارے معاملات میں بھی محبت و احترام کی فضا قائم ہوگی ۔

تواضع کے معنی و مفہوم: لغوی طور پر “تواضع” کا مطلب ہے عاجز رہنا، تکبر نہ کرنا، عملی طور پر یہ وہ حالت ہے جس میں انسان اپنی حالت و حیثیت کا مناسب ادراک رکھتا ہے، خود کو بہت بڑا یا افضل تصور نہیں کرتا، دوسروں کا حق اور مقام تسلیم کرتا ہے، اور اپنی کامیابیوں کو خود کی خصوصی برتری کے طور پر نہیں بلکہ اللہ کی عنآیت کے طور پر تسلیم کرتا ہے ۔ اس کا مقابلہ غرور، خودپسندی، اور اپنی برائی ظاہر کرنے کی حالت سے ہے ۔ تواضع انسان کو آپنے رب کے قریب لاتی ہے، اور تکبر اُسے دور کر دیتا ہے ۔

تواضع کی چند اہم نکات یہ ہیں:

• اللہ پاک کے سامنے عاجزی، یہ ظاہر کرتی ہے کہ انسان محدود ہے اور ہر چیز اللہ پاک کے تحت ہے ۔

• مخلوق کے سامنے ، یعنی اپنی کامیابیوں، علم، وسائل وغیرہ کا فخر نہ کرنا، بل کہ ان کو خدا کی عطا سمجھنا ۔

• معاشرتی اندازِ زندگی میں سادگی، فخر سے اجتناب، اچھے اخلاق و معاملات ۔

ذیل میں چند منتخب قرآنی آیات پیش کی جارہی ہیں جن سے تواضع کے موضوع پر اصلاحی اور عملی رہنمائی ملتی ہے ۔

آیت نمبر ۱سورۃ الاسراء (17): 37

وَلَا تَمۡشِ فِي الْاَرۡضِ مَرَحًا إِنَّكَ لَن تَخۡرِقَ الْاَرۡضَ وَلَن تَبۡلُغَ الْجِبَالَ طُولًا

ترجمہ کنزالایمان:اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہرگز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔

تفسیر:اس آیت کا مقصد یہ ہے کہ “اکڑ کر چلنا” یعنی تکبر سے چلنا نامناسب ہے ۔ چال، طرزِ رفتاری، رویہ یہ سب انسان کے باطنی انداز کو ظاھر کرتے ہیں ۔ اگر ہم زمین پر اکڑ کر چلیں گے، اپنی حالت کو بہت بڑا سمجھیں گے، تو یہ تکبر کی نشانی ہے ۔ تفسیر میں بتایا گیا ہے کہ ایسے انداز سے چلنا اللہ تعالیٰ کو نآپسند ہے ۔

عملی مثال:فرض کریں ایک شخص دفتر یا اسکول میں داخل ہوتا ہے، سر اُٹھا کر اکڑ کر چلتا ہے، قدم زور سے مارتا ہے، اپنی طاقت و مرتبہ کا اظہار کرتا ہے ۔ یہ “مرحاً” چلنے کی مثال ہے ۔ اس کی بجائے اگر وہ درمیانی قدم رکھے، باوقار ہو، کم نفسی نہ ہو مگر دوسروں کے سامنے بھی عاجزی دکھائے، تو یہی تواضع ہے ۔

اصلاحی نقطہ: ہمارا چلنا، بیٹھنا، بولنا یہ صرف ظاہری معاملہ نہیں بلکہ ہماری روّیہ و اخلاق کا عکاس ہے ۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ چلتے پھرتے، بات کرتے ہوئے، آپنا وقار رکھیں مگر غرور نہ ہو، دوسروں کو کمتر نہ سمجھیں ۔

دوسری آیت ملاحظہ ہو:

آیت نمبر ۲سورۃ الفرقان (25): 63

وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا

ترجمہ کنزالعرفان:اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستگی اور نرمی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’' سلام ۔

تفسیر:یہ آیت دو اہم وصف بتاتی ہے:وہ لوگ جو ''ہوناً یعنی: وقار اور نرمی کے ساتھ زمین پر چلتے ہیں، یعنی تواضع اور سادگی کے ساتھ ۔

جب جاہل لوگ ان سے مخاطب ہوں، یعنی غلط رویہ اختیار کریں، یا بے وجہ بحث کریں، تو وہ صرف “سلام” کہہ کر معاملہ ختم کر لیتے ہیں، یعنی بدلہ لینے، یا غرور کرنے کے بجائے تحمل و ادب اختیار کرتے ہیں ۔

عملی مثال:مثلاً آپ کسی میٹنگ یا سماجی محفل میں ہیں، ایک شخص آپ کو نادانستہ طور پر کم تر جاننے کی کوشش کرتا ہے، یا طنز کرتا ہے ۔ ایسے وقت میں اگر آپ فوری ردّعمل نہ دیں، نہ برہم ہوں، بلکہ مسکرا کر، وقار کے ساتھ “سلام” کہہ کر بات ختم کر لیں یہ تواضع اور حکمت کا مظہر ہے ۔ اس سے نہ صرف آپ کا اخلاق ظاہر ہوتا ہے بلکہ آپ کی روحانی قوت بھی ظاہر ہوتی ہے ہے ۔

اصلاحی نقطہ: تواضع صرف آپنے باطن کا معاملہ نہیں، بلکہ معاشرے میں بھی ایک عملی روپ دیتی ہے ۔ سادگی، نرمی، تحمل یہ وہ رویے ہیں جو مومن کو “عبادِ رحمٰن” کا حصہ بناتے ہیں ۔

عملی رہنمائی اور تخلیقی فکرروزمرّہ زندگی میں: لباس، چال، بولنے کا انداز، بیٹھنے کی عادت یہ چھوٹے چھوٹے امور ہیں جہاں تواضع کا عملی اظہار ممکن ہے ۔ مثلاً کوئی حصہ دار ہو، کامیابی ملے ہو، تو اپنی کامیابی کو زبانیِ مبالغے میں نہ لائیں، بلکہ اس کیلئے شکر ادا کریں ۔ دوسروں کے ساتھ تعلقات: جب آپ کے پاس علم، تجربہ یا وسائل ہوں، تو دوسروں کے ساتھ اس برتری کے احساس سے نہ پیش آئیں بلکہ ان کے سوالات صبر و تحمل سے سنیں، عاجزی سے جواب دیں ۔

خود کا جائزہ: کبھی سوچیں: کیا میں روزمرّہ آپنے کامیابیوں، پوزیشن، امتیاز سے خود میں غرور پیدا کر رہا ہوں؟ یا مجھے یہ احساس ہے کہ یہ سب اللہ کی عنایت ہے؟

ایک استاد، لیڈر یا بڑے عمر والے شخص کی مثال لیتے ہیں جو اپنی جگہ بڑے ہوں مگر چلنے، بیٹھنے، بولنے میں سادہ اور وفادار ہوں ۔ انہی مثالوں سے سورۃ الفرقان کی آیت میں بیان کردہ “ہوناً” چال کا مفہوم واضح ہوتا ہے ۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں تکبر اور دیگر باطنی گناہوں سے بچنے کی توفیق دے ۔ آمین 

انسانی معاشرے کی خوبصورتی اخلاقِ حسنہ سے ہے، اور ان اخلاق میں تواضع یعنی عاجزی کو ایک بلند مقام حاصل ہے ۔  یہ ایک ایسی خوبی ہے جو انسان کو غرور، تکبر، اور خودپسندی جیسے مہلک امراض سے محفوظ رکھتی ہے ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بار بار بندگانِ مؤمن کو تواضع اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ہے ۔ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ بھی عاجزی کا کامل نمونہ ہے، جو ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ بلندی وہی ہے جو جھکنے سے حاصل ہو ۔

(1)وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ (بنی اسرائیل ،37)

صراط الجنان: یاد رہے کہ فخر و تکبر کی چال اور متکبرین کی سی بیٹھک وغیرہ سب ممنوع ہیں ، ہمارے چلنے پھرنے بیٹھنے اٹھنے میں تواضع اور اِنکساری ہونی چاہیے، گفتگو نرم ہو اور چلنا آہستگی اور وقار کے ساتھ ہو ۔ متکبرانہ اور اَوباشوں اور لفنگوں والی چال اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ناپسند ہے ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اسلام ہمیں صرف عقائد و عبادات ہی کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ ہماری معاشرت اور رہن سہن کے طریقے بھی ہمیں بتاتا ہے ۔ مسلمان کی زندگی کے ہر پہلو سے اسلامی پہلو کی جھلک نظر آنی چاہیے ۔ ان مسلمانوں پر افسوس ہے جنہیں کفار کے طریقوں پر عمل کرنے میں تو فخر محسوس ہوتا ہے اور اسلامی طریقے اپنانے میں شرم محسوس ہوتی ہے ۔ آیت میں فرمایا گیا کہ زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ معنی یہ ہیں کہ تکبر و خود نمائی سے کچھ فائدہ نہیں البتہ کئی صورتوں میں گناہ لازم ہو جاتا ہے لہٰذا اترانا چھوڑو اور عاجزی و انکساری قبول کرو ۔

(2)لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَؕ- اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: حقیقت یہ ہے کہ اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں ، بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔ (النحل،23)

صراط الجنان :عاجزی اختیار کرنا اور مسکین کے ساتھ بیٹھنا: چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے، رسولِ کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’عاجزی اختیار کرو اور مسکینوں کے ساتھ بیٹھا کرو، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہارا مرتبہ بلند ہو جائے گا اور تکبر سے بھی بری ہو جاؤ گے ۔ (کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، ۲ / ۴۹، الحدیث: ۵۷۲۲، الجزء الثالث)

(3) وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)

ترجمہ کنز الایمان:اور کسی سے بات کرنے میں اپنا رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل بےشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا فخر کرتا ۔

صراط الجنان:وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر: یہاں سے حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ۔ ( مدارک، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۸، ص۹۱۹، خازن، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۸، ۳ / ۴۷۱، ملتقطاً)

تواضع صرف ایک اخلاقی خوبی ہی نہیں بلکہ ایک مومن کی پہچان ہے ۔ قرآن مجید اور سنتِ نبوی ﷺ میں بارہا اس کی ترغیب دی گئی ہے ۔ عاجزی انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے، لوگوں کے دلوں میں جگہ بناتی ہے اور معاشرے میں امن و محبت کو فروغ دیتی ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم تواضع کو اپنا شعار بنائیں، تکبر سے بچیں اور ہر حال میں اپنی ذات کو اللہ کی مخلوق کے سامنے جھکانے کے قابل رکھیں، کیونکہ عزت صرف اللہ تعالیٰ دیتا ہے، اور وہی عاجزی کرنے والوں کو بلندی عطا کرتا ہے ۔ 

لوگوں کی طبیعتوں اور ان کے مقام ومرتبے کے اعتبار سے ان کے لیے نرمی کا پہلو اختیار کرنا اور اپنے آپ کو حقیر وکمتر اور چھوٹا خیال کرنا عاجزی وانکسار کہلاتا ہے ۔ (فیض القدیر، حرف الھمزۃ،  ۱ / ۵۹۹، تحت الحدیث: ۹۲۵ماخوذا، دار الکتب العلمیہ)

اس وصف کو قرآن پاک میں جس انداز میں بیان کیا گیا ہے اس کا خلاصہ ملاحظہ کیجیے ، چنانچہ اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں اِرشاد فرمایا: وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (پ19، الفرقان: 63)

ایک اور مقام پر اِرشاد فرمایا: وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴)

ترجمہ کنزالعرفان: اور عاجزی کرنے والوں کیلئے خوشخبری سنادو ۔ (پ17، الحج: 34، 35)

اِن آیاتِ مبارکہ میں اللہ پاک نے اپنے کامل الایمان بندوں کے ایک خاص وَصف ”عاجزی و اِنکسار“ کا بھی ذِکر فرمایا کہ وہ زمین پر اِطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے چلتے ہیں اور پھر ان تواضع کرنے والوں کو خوشی کا مژدۂ جانفزا سنایا گیا ۔ معلوم ہوا کہ عاجزی و اِنکساری اِختیار کرنا اور عاجزانہ چال چلنا اللہ پاک کے نیک بندوں کا طریقہ ہے جبکہ متکبرانہ طور پر جوتے کھٹکھٹاتے،پاؤں زور سے مارتے اور اِتراتے ہوئے چلنا متکبرین کا طریقہ ہے جس سے اللہ پاک نے منع فرمایا ہے چنانچہ اللہ پاک اِرشاد فرماتا ہے:وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (بنی اسرائیل،37)

یاد رَکھیے! اپنے آپ کو بڑا سمجھنے،غرور و تکبر کرنے اور اِترا کر چلنے سے اِنسان کی شان بلند نہیں ہو جاتی اور نہ ہی مال و اَولاد کی کثرت اور قوم قبیلے کے زیادہ ہونے سے عزت و عظمت اور شان و شوکت میں اِضافہ ہوتا ہے ۔ عزت و عظمت،شان و شوکت اور بلندی اُسے ملتی ہے جسے اللہ پاک عطا فرماتا ہے اور اللہ پاک اُسے عطا فرماتا ہے جو عاجزی و اِنکساری کرتا ہے جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے: مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰہِ رَفَعَہُ اللہ ُ یعنی جو اللہ پاک کے لئے عاجزی کرتا ہے اللہ پاک اُسے بلندی عطا فرماتا ہے ۔ (مسلم، کتاب البر والصلۃ ۔ ۔ ۔ الخ ، باب استحباب العفووالتواضع ، ص‏۱۳۹۷، حدیث: ۲۵۸۸، دار المغنی)

عاجزی کی ضد تکبر ہے اور تکبُّرخُود کو افضل، دوسروں کو حقیر جاننے کا نام ہے ۔ تکبر کی مذمت میں 2 فرامینِ خداوندی ملاحظہ ہوں:اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔ (پ14، النحل:23)

ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے: كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ(۳۵) ترجمہ کنز العرفان: اللہ ہرمتکبر سرکش کے دل پراسی طرح مہر لگا دیتا ہے ۔ (پ24، المؤمن:35)


تمہید ۔   اللہ تعالیٰ تواضع اختیار کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے اور ان کے لیے بہت سے انعامات بھی ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تواضع اختیار کرنے والوں کے لیے خوشخبری ارشاد فرمائی ہے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ بھی اللہ تبارک و تعالی کی رضا کے لیے تواضوں کو اختیار کریں

ارشاد باری تعالیٰ ہے :وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِؕ-فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْاؕ-وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ 34الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِۙ-وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ 35

ترجمۂ کنز الایمان:اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں اس کے دئیے ہوئے بے زبان چوپایوں پر تو تمہارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے حضور گردن رکھو اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو ۔ کہ جب اللہ کا ذکر ہوتا ہے ان کے دل ڈرنے لگتے ہیں اور جو افتاد پڑے اس کے سہنے والے اور نماز برپا رکھنے والے اور ہمارے دئیے سے خرچ کرتے ہیں ۔

تفسیر صراط الجنان:وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی یعنی گزشتہ ایماندار اُمتوں میں سے ہر امت کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک قربانی مقرر فرمائی تا کہ وہ جانوروں کو ذبح کرتے وقت ان پر اللہ تعالیٰ کا نام لیں تو اے لوگو! تمہارا معبود ایک معبود ہے اس لئے ذبح کے وقت صرف اسی کا نام لو اور اسی کے حضور گردن جھکاؤ اور اخلاص کے ساتھ اس کی اطاعت کرو اور اے حبیب ص ﷺ آپ عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں ۔ ( خازن، الحج، تحت الآیۃ: 39، 3 / 309، مدارک، الحج، تحت الآیۃ: 49، ص749 ملتقطاً)

جانور ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام ذکر کرنا شرط ہے: اس آیت میں اس بات پر دلیل ہے کہ جانور ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام ذکر کرنا شرط ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر ایک امت کے لئے مقرر فرما دیا تھا کہ وہ اس کے لئے تَقَرُّب کے طور پر قربانی کریں اور تمام قربانیوں پر صرف اسی کا نام لیا جائے ۔ (مدارک، الحج، تحت الآیۃ: 49، ص749

اَلَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ:وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر ہوتا ہے توان کے دل ڈرنے لگتے ہیں یعنی عاجزی کرنے والے وہ لوگ ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے تو ا س کی ہیبت و جلال سے ان کے دل ڈرنے لگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کا خوف ان کے اَعضا سے ظاہر ہونے لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں جو مصیبت و مشقت پہنچے اس پر صبر کرتے ہیں اور نماز کو ا س کے اوقات میں قائم رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے رزق میں سے صدقہ و خیرات کرتے ہیں ۔ ( مدارک، الحج، تحت الآیۃ: 35، ص790، تفسیرکبیر، الحج، تحت الآیۃ: 35، 7 / 225، ملتقطاً

ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا 35

ترجمۂ کنز الایمان:بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرماں بردار اور فرماں برداریں اور سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔

تفسیر صراط الجنان:اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ: بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں شانِ نزول:حضرت اسماء بنت ِعمیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا جب آپنے شوہرحضرت جعفر بن ابی طالب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ حبشہ سے وآپس آئیں تو ازواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنَّ سے مل کر انہوں نے دریافت کیا کہ کیا عورتوں کے بارے میں بھی کوئی آیت نازل ہوئی ہے ۔ اُنہوں نے فرمایا :نہیں تو حضرت اسماء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے حضور پُر نور ص ﷺ سے عرض کی یا رسولَ اللہ! ص ﷺ عورتیں توبڑے نقصان میں ہیں ۔ ارشادفرمایا کیوں؟عرض کی ان کا ذکر قرآن میں خیر کے ساتھ ہوتا ہی نہیں جیسا کہ مردوں کا ہوتا ہے ۔ اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی اور ان کے دس مراتب مردوں کے ساتھ ذکر کئے گئے اور ان کے ساتھ ان کی مدح فرمائی گئی ۔

مردوں کے ساتھ عورتوں کے دس مراتب:اس آیت میں مردوں کے ساتھ عورتوں کے جو دس مراتب بیان ہوئے ان کی تفصیل درج ذیل ہے:

(1)وہ مرد اور عورتیں جو کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کی اور ان احکام کے سامنے سرِ تسلیم خم کردیا ۔

(2)وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی کریم ص ﷺ کی رسالت کی تصدیق کی اور تمام ضروریاتِ دین کو مانا ۔

(3)وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے عبادات پر مُداوَمَت اختیار کی اور انہیں ان کی حدود اور شرائط کے ساتھ قائم کیا ۔

(4)وہ مرد اور عورتیں جو اپنی نیت قول اور فعل میں سچے ہیں ۔

(5)وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے نفس پر انتہائی دشوار ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے طاعتوں کی پابندی کی، ممنوعات سے بچتے رہے اور مَصائب و آلام میں بے قراری اور شکآیت کا مظاہرہ نہ کیا ۔

(6)وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے طاعتوں اور عبادتوں میں آپنے دل اور اعضاء کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کی ۔

(7)وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے عطا کئے ہوئے مال میں سے اس کی راہ میں فرض اور نفلی صدقات دئیے ۔

(8)وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے فرض روزے رکھے اور نفلی روزے بھی رکھے ۔ منقول ہے کہ جس نے ہر ہفتہ ایک درہم صدقہ کیا وہ خیرات کرنے والوں میں اور جس نے ہر مہینے اَیّامِ بِیض (یعنی قمری مہینے کی 13، 14، 15 تاریخ کے تین روزے رکھے وہ روزے رکھنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔

(9)وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے اپنی عفت اور پارسائی کو محفوظ رکھا اور جو حلال نہیں ہے اس سے بچے ۔

10 وہ مرد اور عورتیں جو آپنے دل اور زبان کے ساتھ کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ۔ کہا گیا ہے کہ بندہ کثرت سے ذکر کرنے والوں میں اس وقت شمار ہوتا ہے جب کہ وہ کھڑے بیٹھے ،لیٹے ہر حال میںاللہ تعالیٰ کا ذکر کرے ۔

خلاصہ یہ ہے کہ جو عورتیں اسلام ایمان اورطاعت میں قول اور فعل کے سچا ہونے میں صبر عاجزی و انکساری اور صدقہ و خیرات کرنے میں ،روزہ رکھنے اور اپنی عفت و پارسائی کی حفاظت کرنے میں اور کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے میں مردوں کے ساتھ ہیں توایسے مردوں اور عورتوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کی جزا کے طور پر بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ ابو سعود ، الاحزاب ، تحت الآیۃ : 35 ، 4 / 361 ، مدارک، الاحزاب ، تحت الآیۃ: 35، ص841، خازن، الاحزاب، تحت الآیۃ: 35، 3/ 500، ملتقطاً)

اللہ تعالیٰ کا ذکر اور ا س کی کثرت سے متعلق دو باتیں :

اس آیت میں مردوں اور عورتوں کے 10مراتب ایک ساتھ بیان ہوئے جن کا بیان اوپر ہو چکا، یہاں دسویں مرتبے اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت کے بارے میں دو باتیں ملاحظہ ہوں :

1 ذکر میں تسبیح پڑھنا اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنا کلمہ طیبہ کا ورد کرنا اللہ اَکْبَر کہنا،قرآن مجید کی تلاوت کرنا دین کا علم پڑھنا اور پڑھانا نمازادا کرنا وعظ و نصیحت کرنا میلاد شریف اور نعت شریف پڑھنا سب داخل ہیں ۔

2ذکر کی کثرت کی صورتیں مختلف لوگوں کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہیں اور ا س کی سب سے کم صورت یہ ہے کہ اَصحابِ بدر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی تعداد کے برابر یعنی313مرتبہ تسبیح وغیرہ پڑھ لینا کثرت میں شمار ہوتا ہے ۔

کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے تین فضائل:

یہاں اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت کے ساتھ کرنے کے فضائل پر مشتمل3اَحادیث ملاحظہ ہوں ۔

1 حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں رسولِ کریم ص ﷺ مکہ کے راستہ میں جارہے تھے کہ ایک پہاڑ کے قریب سے گزرے جسے جُمْدَان کہا جاتا ہے اس وقت صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے ارشاد فرمایا چلو یہ جُمْدَان ہے سبقت لے گئے جدا رہنے والے ۔ صحابہ ٔ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی یا رسولَ اللہ! ص ﷺ الگ رہنے والے کون لوگ ہیں ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کی بہت یاد کرنے والے مرد اور عورتیں ۔ مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار، باب الحث علی ذکر اللہ تعالٰی، ص1439، الحدیث:4 2676

2 حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روآیت ہے ،حضورِ اقدس ص ﷺ نے ارشاد فرمایا جدا رہنے والے سب سے آگے بڑھ گئے ۔ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی جدا رہنے والے کون ہیں ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مُستَغرق لوگ ۔ ذکر نے ان کے بوجھ ان سے اتار دئیے پس وہ قیامت کے دن ہلکے پھلکے آئیں گے ۔ ( ترمذی، احادیث شتی، باب فی العفو والعافیۃ، 5 / 342، الحدیث:3607

3 حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روآیت ہے کہ رسولِ اکرم ص ﷺ سے دریافت کیا گیا کون سے بندے اللہ تعالیٰ کے نزدیک افضل اور قیامت کے دن بلند درجے والے ہیں ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کا بہت ذکر کرنے والے مرد اور بہت ذکر کرنے والی عورتیں عرض کی گئی یا رسولَ اللہ ص ﷺ ان کا درجہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں سے بھی زیادہ ہو گا؟ارشاد فرمایا اگر کوئی شخص مشرکین اور کفار پر اتنی تلوار چلائے کہ تلوار ٹوٹ جائے اور خون میں رنگ جائے تب بھی کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا اس سے درجے میں زیادہ ہوگا ۔ (مشکاۃ المصابیح، کتاب الدعوات، باب ذکر اللہ عزوجل والتقرب الیہ، الفصل الثالث، 1/ 928، الحدیث: 2280

اللہ تعالیٰ مسلمان مردوں اور عورتوں کو کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اٰمین ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةًؕ-وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُؕ-وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُ جُ مِنْهُ الْمَآءُؕ-وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِؕ-وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ 74

ترجمۂ کنز الایمان:پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے تو وہ پتھروں کی مثل ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ حب کَرّے اور پتھروں میں تو کچھ وہ ہیں جن سے ندیاں بہہ نکلتی ہیں اور کچھ وہ ہیں جو پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکلتا ہے اور کچھ وہ ہیں کہ اللہ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں اور اللہ تمہارےکوتکوں سے بے خبر نہیں ۔

تفسیر صراط الجنان:ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ پھر تمہارے دل سخت ہوگئے اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے زمانے میں موجود یہودیوں کو مخاطب کر کے فرمایا گیا کہ آپنے آباؤ اجداد کے عبرت انگیز واقعات سننے کے بعد تمہارے دل حق بات کو قبول کرنے کے معاملے میں سخت ہوگئے اور وہ شدت و سختی میں پتھروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت ہیں کیونکہ پتھر بھی اثر قبول کرتے ہیں کہ کچھ پتھروں سے ندیاں بہہ نکلتی ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ جب پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکلتا ہے اور کچھ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ڈر سے اوپر سے نیچے گر پڑتے ہیں جبکہ تمہارے دل اطاعت کے لئے جھکتے ہیں نہ نرم ہوتے ہیں نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی وہ کام کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے ہرگز بے خبر نہیں بلکہ وہ تمہیں ایک خاص وقت تک کے لئے مہلت دے رہا ہے ۔ (روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: 79، 1/ 159-159، جلالین، البقرۃ، تحت الآیۃ: 79، ص14، ملتقطاً

دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس آیت میں بنی اسرائیل کے وہ لوگ مراد ہیں جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے میں موجود تھے ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ بڑی بڑی نشانیاں اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزات دیکھ کر بھی انہوں نے عبرت حاصل نہ کی ان کے دل پتھروں کی طرح ہوگئے بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت کیونکہ پتھر بھی اثر قبول کرتے ہیں کہ ان میں کسی سے ندیاں بہہ نکلتی ہیں کوئی پتھرپھٹ جاتا ہے تو اس سے پانی بہتا ہے اور کوئی خوف ِ الہٰی سے گرجاتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا ہے لیکن انسان جسے بے پناہ اِدراک و شعور دیا گیا ہے حواس قوی ہیں عقل کامل ہے، دلائل ظاہر ہیں عبرت و نصیحت کے مواقع موجود ہیں لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی کی طرف نہیں آتا ۔

دل کی سختی کا انجام:اس سے معلوم ہو اکہ دل کی سختی بہت خطرناک ہے ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖؕ-فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِؕ-اُولٰٓىٕكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ

ترجمۂ کنزالعرفان تو کیا وہ جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا تو وہ آپنے رب کی طرف سے نور پر ہے اس جیسا ہوجائے گا جو سنگدل ہے تو خرابی ہے ان کیلئے جن کے دل اللہ کے ذکر کی طرف سے سخت ہوگئے ہیں ۔ وہ کھلی گمراہی میں ہیں ۔ (زمر: 22‏)

حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا اللہ تعالیٰ کے ذکر کے علاوہ زیادہ کلام نہ کیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے علاوہ کلام کی کثرت دل کو سخت کر دیتی ہے اور لوگوں میں اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ دور وہ شخص ہوتا ہے جس کا دل سخت ہو ۔ (ترمذی، کتاب الزہد،6-باب منہ، 9 / 189، الحدیث: 2429)

احادیث کی روشنی میں:نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مَعَاذِ بْنِ اَنَسٍ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ تَرَكَ اللِّبَاسَ تَوَاضُعًا لِلهِ، وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهِ، دَعَاهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُؤُوْسِ الْخَلَا ئِقِ حَتّٰی يُخَيِّرَهُ مِنْ اَيِّ حُلَلِ اْلاِيْمَانِ شَاءَ يَلْبَسُهَا،

ترجمہ احادیث حضرت سَیِّدُنا معاذ بن انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہےکہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا جس نےرضائے الٰہی کےلئے تواضع اختیارکرتے ہوئے عمدہ لباس ترک کیا حالانکہ وہ اس پر قادرتھا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ بروزِقیامت اسے تمام مخلوق کے سامنے بلا کر اختیار دےگا کہ ایمان کا جو جوڑا چاہے پہن لے ۔

تشریح ۔ پُرانا اور پیوند والا لباس افضل ہے: عَلَّامَہ عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِی فرماتے ہیں جس نے قدرت ہوتے ہوئے بھی زیادہ قیمت والا خوبصورت کپڑا فقط اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خاطر تواضع کی وجہ سے ترک کردیا نہ کہ اس لئے کہ لوگ اسے متواضع یا زاہد کہیں گے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے تمام مخلوق کے سامنے بلائے گا تاکہ لوگوں کے درمیان اسے شہرت عطا فرمائے اور اسے اختیار دےگا کہ ایمان کا جو جوڑا چاہے پہن لے یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اون کا لباس پہنا اور بکریاں باندھی، اسی سے علامہ سہروردی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی نے یہ بات اخذ کی ہے کہ پُرانا اور پیوند لگاہوا کپڑا پہننا افضل ہے عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں مذکورہ فضیلت صرف اس کے لیے ہے جس نےباوجودِ قدرت عمدہ لباس بطورِ تواضع چھوڑاہو اور دنیا کی زیب و زینت ترک کردی ہو، اورجو اس لئے عمدہ لباس نہ پہنے کہ اس کےپاس ہے ہی نہیں تواسے یہ فضیلت حاصل نہ ہوگی ۔ ہاں !اگر کوئی شخص یہ ارادہ کرے کہ اگر اسے اچھا لباس پہننے پر قدرت حاصل ہوئی تب بھی وہ تواضع کرتے ہوئے عمدہ لباس نہیں پہنے گا تو اسےاچھی نیت پر ثواب دیا جائے گا کیونکہ حدیث پاک میں ہے نِيَّةُ الْمُؤْمِنِ خَيْرٌ مِنْ عَمَلِهِ یعنی مسلمان کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے سادہ لباس کے بارے میں بزرگانِ دِین کے پانچ اَقوال: 1حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن شُبْرُمہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں میرا بہترین لباس وہ ہے جو میری خدمت کرے اور میرا بدترین لباس وہ ہے جس کی میں خدمت کروں 2 ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں ایسا لباس پہنو کہ تم بازار میں موجود عام لوگوں کی طرح نظر آؤ ایسا لباس مت پہنو جو تمہیں مشہور کردے اورلوگوں کی نظریں تمہاری طرف اٹھیں 3 امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کُھردرا لبا س زیب تن فرمایا کرتے تھے کسی نے اس بارے میں عرض کی، تو فرمایا ایسا لباس تواضُع کے زیادہ قریب ہے اور اس لائق ہے کہ مسلمان اس کی پیروی کریں 4 امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعُمَرفارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کُھردرااورموٹالباس پہنو اور عجمیوں یعنی قیصروکسریٰ کے لباس سے بچو 5حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں عرض کی گئی آپ عمدہ لباس کیوں نہیں پہنتے فرمایا بھلا غلام کو عمدہ لباس پہننے کی کیا ضرورت ہے ،البتہ جب یہ دوزخ کی آگ سے آزادی پالےگا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم پھر اسے ایسا لباس حاصل ہوگا جو کبھی بوسیدہ نہ ہوگا ۔

مدنی گلدستہ ’’تواضع‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول ۔

1جو شخص قدرت کے باوجود اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خاطر تواضع کرتے ہوئے عمدہ لباس ترک کردے تو قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے مخلوقات کے سامنے اختیار دے گا کہ ایمان کا جو جوڑا چاہے پہن لے ۔

2 جو شخص اس لیے سادہ لباس پہنے کے لوگ اسے زاہد و متواضع کہیں تو ایسے شخص کو مذکورہ حدیث پاک میں بیان کردہ فضیلت حاصل نہیں ہوگی ۔

3 عمدہ لباس کے مقابلے میں تواضع کرتے ہوئے پُرانا اور پیوند لگا ہوالباس پہننا افضل ہے ۔

4 جویہ عزم کرے کہ اگر مجھے عمدہ لباس پہننے پر قدرت حاصل ہوئی تو میں تواضع کرتے ہوئے عمدہ لباس نہیں پہنوں گا تو اسے اچھی نیت پر ثواب دیا جائے گا ۔

5 صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناور بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِیْن سادہ اور کُھردرا لباس پہننا پسند فرماتے تھے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی رضا کی خاطر تواضع کرتے ہوئے سادہ لباس پہننے کی توفیق عطا فرمائےاوردِین ودنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے ۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ( فیضان ریاض الصالحین جلد:6 ، حدیث نمبر:802)

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فِي الِاسْتِسْقَاءِ مُتَبَذِّلًا مُتَوَاضِعًا مُتَخَشِّعًا مُتَضَرِّعًا، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

ترجمہ ۔ روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے دعائے بارش کےلیئے سادہ کپڑے زیب تن کیے عاجزی کر تے تواضع اور زاری کرتے تشریف لے گئے

تشریح ۔ یعنی استسقاء کےلیئے دولت خانہ شریف سے نکلتے وقت یہ حال تھا کہ لباس عاجزانہ تھا زبان پرالفاظ انکسار کے تھے یعنی متواضع دل میں خشوع خضوع تھا ذکر الٰہی میں مشغول تھے،آنکھیں تر تھیں اب بھی صفت یہی ہے کہ استسقاء کےلیئے جاتے وقت امیربھی فقیرانہ لباس پہن کر جائیں کہ بھکاریوں کی وردی یہی ہے،راستہ میں یہ سارے کام کرتے ہوئے جائیںاِنْ شَاءَاللّٰهُ دعا ضرور قبول ہوگی ۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 ، حدیث نمبر:1505)

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا عَنْ اَبِیْ ھُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ اِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلّٰہِ اِلَّا رَفَعَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ،

ترجمہ ۔ حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روآیت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور کسی کو معاف کردینے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کی عزت ہی بڑھاتا ہے اور جو اللہ عَزَّ وَجَلّ َکی خاطر تواضع اختیار کرتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُسے بلندی ہی عطا فرماتا ہے

تشریح ۔ خیرات مال بڑھاتی ہے:مذکورہ حدیثِ پاک میں صدقہ کرنے معاف کرنے اور تواضع اختیار کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ مذکورہ حدیثِ پاک کے تین جزء ہیں پہلے جزء میں بیان ہوا کہ صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا ۔ بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں جو خیرات کی جائے وہ مال کم نہیں کرتی بلکہ مال بڑھاتی ہے زکوٰۃ دینے والے کی زکوٰۃ ہر سال بڑھتی ہی رہتی ہے ۔ تجربہ ہے جو کسان کھیت میں بیج پھینک آتا ہے وہ بظاہر بوریاں خالی کرلیتا ہے لیکن حقیقت میں مع اضافہ کے بھر لیتا ہے، گھر کی رکھی بوریاں چوہے سُسری وغیرہ آفات سے ہلاک ہوجاتی ہیں یا یہ مطلب ہے کہ جس مال میں سے صدقہ نکلتا رہے اس میں سے خرچ کرتے رہو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ بڑھتا ہی رہے گا، کنوئیں کا پانی بھرےجاؤ تو بڑھے ہی جائے گا ۔ صدقہ دینے سے مال میں کمی نہ ہونے کی دو صورتیں ہیں 1 اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس مال میں برکت عطا فرماتا ہے اور اس سے نقصان کو دور فرمادیتا ہے اور صدقہ کرنے سے اس مال میں ظاہری طورپر جو کمی ہوتی ہے اُس کمی کو پوشیدہ برکت کے ذریعے پوری فرمادیتا ہے 2صدقہ کرنے سے اس مال میں جو کمی ہوتی ہے اُس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ثواب عطا فرما کر اس مال کی کمی کو پورا فرمادیتا ہے اور آخرت میں اُسے کئی گُنا زیادہ عطا فرماکر اس کا بہترین بدل عطا فرمادے گا ۔ معافی سے دِلوں پر قبضے ہوجاتے ہیں حدیثِ پاک کے دوسرے جزء میں بیان ہوا کہ جو معاف کرتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کی عزت بڑھاتا ہے ۔ مرآۃ المناجیح میں ہے یعنی جو بدلہ پر قادر ہو پھر مجرم کو معافی دے دے تو اس سے مجر م کے دل میں اس کی اطاعت اور محبت پیدا ہوجاتی ہے اور اگر بدلہ لیا جائے تو اس کے دل میں بھی انتقام کی آگ بھڑک جاتی ہے ۔ فتحِ مکہ کے دن کی عام معافی سے سارے کفار مسلمان ہوکر حضورِ انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے مطیع فرمان ہوگئے معافی سے دلوں پر قبضے ہوجاتے ہیں مگر معافی آپنے حقوق میں چاہیئے نہ کہ شرعی حقوق میں ۔ قومی ملکی، دِینی مجرموں کو کبھی معاف نہ کرو آپنے مجرم کو معاف کردو ۔ یا عزت بڑھانے سے مراد یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آخرت میں اسے معاف کرنے کا اجر عطا فرمائے گا اور وہاں اس کی عزت بڑھائے گا ۔

تواضع و اِنکساری:حدیثِ پاک کے تیسرے جزء میں بیان ہوا کہ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے بلندی عطا فرماتا ہے ۔ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں اس کی دو صورتیں ہیں 1 اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے دنیا میں بلند مقام عطا فرمادے اور تواضع کرنے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں اس کی قدر و منزلت بیٹھ جائے اوراللہ تعالیٰ اسے لوگوں کے نزدیک رفعت و بزرگی عطا فرما دے 2 اسے آخرت میں اس کا اجر عطا فرمائے اور دنیا میں تواضع کرنے کے سبب اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے آخرت میں رفعت و بلندی سے سرفراز فرمائے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دونوں صورتیں ایک ساتھ پائی جائیں یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے دنیا میں بھی قدر و منزلت سے نوازے اور آخرت میں بھی بلندی و رفعت عطا فرمائے مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں اِنکساری جو خود داری کے ساتھ ہو وہ بڑی بہتر ہے اس کا انجام بلندیٔ درجات ہے مگر بے غیرتی کی اِنکساری اِنکساری نہیں بلکہ اِحساسِ پستی ہے جہاد میں کفار کے مقابل فخر کرنا عبادت ہے، مسلمان بھائی کے سامنے جھکنا ثواب اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ پ35،الفتح:39 ترجمۂ کنزالایمان:کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِی فرماتے ہیں ”انسان میں فطری طورپر مال کی محبت اور طمع ہوتی ہے اورفطری طور پر غصہ انتقام اور تکبرجیسے اَعمال کے ذریعے درندگی بھی ہوتی ہے ۔ اس لیے حضورعَلَیْہِ السَّلَام نے ان بُرائیوں کو ختم کرنے کے لیے پہلے صدقہ کرنے کی ترغیب دی تاکہ انسان میں سخاوت پیدا ہو اور اس کے بعد معاف کرنے اور درگزر کرنے کا حکم دیا تاکہ انتقام لینے کی چاہت ختم ہو اور بندہ حلم و وقار کے ذریعے مُعَزَّ ز ہو جائے اور پھر تواضُع کا حکم دیا تاکہ بندے سے تکبر نکل جائے اور وہ دو جہانوں میں بلند مرتبہ ہو جائےمدنی گلدستہ خیرات کرو‘‘کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول

(1) صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس میں برکت عطا فرماتا ہے ۔

(2) صدقہ سے مال میں جو کمی ہوتی ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ آخرت میں کئی گنا زیادہ بہتر اجر عطا فرماکر اس کمی کو پورا فرمادے گا ۔

(3) جو بدلہ لینے پر قادر ہو پھر بھی معاف کردے تو اس سے مجرم کے دل میں اس کی عزت اور محبت پیدا ہوتی ہے، بدلہ لینے سے مجرم کے دل میں بھی انتقام کی آگ بھڑکتی ہے جبکہ معافی سے دلوں پر قبضے ہو جاتے ہیں ۔

(4) انسان کوچاہیے کہ وہ آپنے حقوق معاف کردے لیکن شرعی اور ملکی مجرم کو معاف نہ کرے ۔

(5) جو اللہ عَزَّ وَجَلّ َکے لیےعاجزی و اِنکساری کرتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ لوگوں کے دلوں میں اس کی قدر و منزلت بٹھا دیتا ہے ۔

(6) جو اللہ عَزَّ وَجَلّ َکے لیے تواضع اختیار کرے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس دنیا و آخرت میں بلندی عطا فرمائے گا ۔

7 جو انکساری خود داری کے ساتھ ہو وہ بہت اچھی ہے لیکن جس اِنکساری میں بے عزتی ہے وہ انکساری نہیں بلکہ احساسِ کمتری ہے ۔ ( کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:5 ، حدیث نمبر:555)

حرص انتقام کی چاہت اور تکبر شیطان کی صفات ہیں اسی لیے حضورعَلَیْہِ السَّلَام کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے سخاوت عفو و درگُزر اور تواضع اختیار کرنا چاہیے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں سخاوت عفو و درگُزر اور عاجزی و اِنکساری اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن ﷺ

اختتام ۔ اللہ رب العزت ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


اسلام کی روشن تعلیمات کا ایک بہت ہی حسین پہلو عاجزی اختیار کرنا ہے ۔  اسلام نے اپنے ماننے والوں کو تواضع اور عاجزی کی تعلیم دی ہے، یہ ایسا وصف ہے کہ جو انسان کو انسانوں اور دیگر جانداروں کا خیال رکھنے، ان کے ساتھ مناسب انداز میں پیش آنے اور ان کے دکھ درد میں شامل ہونے پر ابھارتاہے ۔ اس وصف کو قرآن و حدیث میں جس انداز میں بیان کیا گیا ہے اس کا خلاصہ ملاحظہ کیجیے ، چنانچہ اللہ پاک نے قرآنِ کریم

میں اِرشاد فرمایا:

(1) وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (فرقان،63)

(2) وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو ۔

اِن آیاتِ مقدسہ میں اللہ پاک نے اپنے کامل الایمان بندوں کے ایک خاص وَصف ”عاجزی و اِنکساری“ کا بھی ذِکر فرمایا کہ وہ زمین پر اِطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے چلتے ہیں اور پھر ان تواضع کرنے والوں کو خوشی کا مژدۂ جانفزا سنایا گیا ۔ معلوم ہوا کہ عاجزی و اِنکساری اِختیار کرنا اور عاجزانہ چال چلنا اللہ پاک کے نیک بندوں کا طریقہ ہے جبکہ متکبرانہ طور پر جوتے کھٹکھٹاتے،پاؤں زور سے مارتے اور اِتراتے ہوئے چلنا متکبرین کا طریقہ ہے جس سے اللہ پاک نے منع فرمایا ہے چنانچہ اللہ پاک اِرشاد فرماتا ہے:

(3) وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ (بنی اسرائیل،37)

(4) وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۳۶)

ترجمۂ کنز الایمان: اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان کے مقابل تکبر کیا وہ دوزخی ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا ۔ (الاعراف،36)

اس آیت سے معلوم ہو اکہ تکبر کی بہت بڑی قباحت یہ ہے کہ آدمی جب تکبر کا شکار ہوتا ہے تو نصیحت قبول کرنا اس کیلئے مشکل ہوجاتا ہے ۔

(5) تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)

ترجمہ کنز الایمان: یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے ۔

اس آیت سے معلوم ہواکہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانااتنے برے کام ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و شان والی نعمت پا سکتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے قول اور فعل سے کسی طرح تکبر کا اظہار نہ کرے ،یونہی معاشرے میں گناہ اور ظلم و زیادتی کے ذریعے فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرے ۔ یاد رَکھیے! اپنے آپ کو بڑا سمجھنے،غرور و تکبر کرنے اور اِترا کر چلنے سے اِنسان کی شان بلند نہیں ہو جاتی اور نہ ہی مال و اَولاد کی کثرت اور قوم قبیلے کے زیادہ ہونے سے عزت و عظمت اور شان و شوکت میں اِضافہ ہوتا ہے ۔ عزت و عظمت،شان و شوکت اور بلندی اُسے ملتی ہے جسے اللہ پاک عطا فرماتا ہے اور اللہ پاک اُسے عطا فرماتا ہے جو عاجزی و اِنکساری کرتا ہے۔

اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جو انسان کے ظاہر و باطن،کردارواخلاق اور معاملات کو بھی حسن عطا کرتا ہے ۔

اس دین کامل کی تعلیمات میں سے تواضع یعنی عاجزی و انکساری بھی ہے ۔ سب سے پہلے ہم تواضع کا مطلب سمجھ لیتے ہیں ۔

تواضع کا معنی:تواضع کا معنی ہے اپنے آپ کو بڑا نہ سمجھنا ،تکبر سے بچنا ،دوسروں کے ساتھ نرمی اختیار کرنا ۔

تواضع اختیار کرنے کے فوائد:تواضع یعنی عاجزی نہ صرف معاشرتی حسن کو بڑھاتی ہے بلکہ ساتھ رہنے والوں جن سے بندہ نرمی اختیار کرتا ہے ان کے دلوں میں مقام و مرتبہ بڑھتا ہے ۔ دینی و دنیاوی مقام و مرتبہ رکھنے والا شخص اگر اپنے سے کمتر کے ساتھ نرمی کرتا ہے عاجزی اختیار کرتا ہے تو وہ اللہ پاک کے یہاں مقام و مرتبہ حاصل کرتا ہے ۔ پیارے پیارے اسلامی بھائیو !ہمارے اسلاف کا بھی یہی طریقہ رہا ہے کے وہ اپنے ماتحت افراد کے ساتھ عاجزی و نرمی اختیار کرتے تھے جیسا کے اس دور کے 15 پندرویں صدی کی عظیم علمی و روحانی شخصیت سیدی وسندی شیخ کامل شیخ طریقت امیر اہلسنت محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ ہی کو دیکھ لیں کے آپ اپنے ماتحتوں کے ساتھ کتنی عاجزی و نرمی اختیار فرماتے ہیں ۔

قرآن کریم میں تواضع یعنی عاجزی اختیار کرنے کے بارے میں بیان:اللہ پاک تواضع، عاجزی اختیار کرنے والے بندوں کا قرآن پاک میں تذکرہ فرمایا ہے : وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (الفرقان،63)

صراط الجنان:اس آیت میں بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔ ( مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹، ملخصاً) کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت نے اس سے منع فرمایا ہے ۔

پیارے پیارے اسلامی بھائیو !تواضع یعنی عاجزی میں سے یہ بھی ہے کے جب آپ کسی سے بات کریں یا کوئی اور آپ سے بات کرے تو آپ اس کی طرف پوری توجہ کریں اس کی طرف اپنا چہرہ کریں اس کی پوری بات سنیں ۔ اس کی طرف بھی قرآن کریم نے ہماری رہنمائی فرمائی ہے ۔

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ ۔ ترجمہ کنز الایمان:اور کسی سے بات کرنے میں اپنا رخسارہ کج نہ کر ۔ (لقمان،18)

صراط الجنان: جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کے ساتھ پیش آنا ۔

اسی طرح ہمارے پیارے پیارے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ سے بھی تواضع عاجزی اختیار کرنے کا درس ملتا ہے کے آپ اپنے غلاموں سے کس طرح عاجزی اختیار فرماتے اور عاجزی اختیار کرنے کی رہنمائی فرماتے ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کے اللہ پاک ہمیں بھی تواضع اختیار کرنا نصیب فرمائے ۔

اپنا عاجز بندہ بنائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ 

انسان جب دنیا میں کامیابی کی تلاش کرتا ہے تو اکثر ظاہری اسباب اور مادی وسائل کو اہم سمجھتا ہے، لیکن قرآن مجید ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی کامیابی ان صفات میں ہے جو انسان کے دل کو نرم، فکر کو روشن  بناتی ہیں ۔  ان ہی میں سے ایک صفت تواضع ہے، جس کا ذکر قرآن کریم میں بھی موجود ہے ۔

(1) وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)

ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ ( فرقان، آیت 63)

‎‎ صراط الجنان:اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کی صفت بیان فرمائی ہے کہ وہ زمین پر هَوْنًا یعنی نرمی اور عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں ۔ وہ تکبّر سے دُور رہتے ہیں، کسی پر برتری نہیں جتاتے ۔

(2) وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)

ترجمۂ کنزُالایمان: اور کسی سے بات کرنے میں اپنا رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل بےشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا فخر کرتا ۔ ( لقمان، آیت 18)

‎‎ تواضع کے فوائد:

1، اللہ کی قربت حاصل ہوتی ہے جیسا کہ حدیث میں ہے: جس نے تواضع اختیار کی، اللہ اسے بلند کر دیتا ہے ۔

2، لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے عاجز شخص محبوب ہوتا ہے ۔

3، علم میں برکت آتی ہے کیونکہ متکبر علم نہیں سیکھتا ۔

4، معاشرتی سکون بڑھتا ہے تواضع والے لوگ اختلاف نہیں پھیلاتے ۔

تکبر سے اجتناب:قرآن میں تکبر کو شیطان کی صفت قرار دیا گیا ہے ۔ ابلیس نے جب آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تو کہا: اَنَا خَیْرٌ مِّنْه ۔ ترجمہ کنز الایمان:میں اس سے بہتر ہوں ۔ (الاعراف،12)

‎‎ عملی زندگی میں تواضع:

بڑوں کے سامنے ادب، چھوٹوں پر شفقت ۔

اپنے علم، دولت یا مقام پر فخر نہ کرنا ۔

کسی نادان کے طعن پر صبر و سلام کہنا (جیسا کہ سورۃالفرقان میں حکم ہے) ۔

کامیابی کو اپنی محنت نہیں بلکہ اللہ کی عطا سمجھنا ۔

دوسروں کی رائے سننا اور غلطی مان لینا ۔

قرآن پاک میں "تواضع" یعنی عاجزی، انکساری کو نہایت پسندیدہ وصف کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جبکہ تکبر و غرور کو سختی سے منع فرمایا گیا ہے، کیونکہ تواضع ایسی خوبی ہے کہ جو بندے کو تمام انسانوں بلکہ جانوروں کے ساتھ بھی اچھا برتاؤ کرنے کا طریقہ سکھاتی ہے، معاشرے میں انسان کے احترام اور اس کے وقار کا سبب بن کر باہمی اعتماد اور سکون وراحت کا باعث بنتی ہے ۔  یہ صفت انسان کے اخلاق کو زینت بخشتی ہے اور اچھے تعلقات اور مخلصانہ روابط کو مضبوط کرتی ہے، انسانوں کے حقوق کو تسلیم کرنے اور ہر قسم کی جارحیت اور دوسروں کے حقوق پامال کرنے سے روکتی ہےمختصر یہ کہ عاجزی، انکساری اور تواضع بہت سی انفرادی و اجتماعی، معنوی و اخلاقی برکات کا سرچشمہ ہے ۔ اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ ایک ایسی نیکی ہے کہ جو تواضع اختیار کرتا ہے اس سے لوگ حسد نہیں کرتے ۔ خالق کائنات نے کثیر مقامات پر تواضع کا ذکر فرمایا ہے،آئیے چند آیات ملاحظہ کرتے ہیں :

(1) وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ۔ ترجمہ کنز الایمان : اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (پ19،الفرقان : 63)

اس آیت میں زمین پر وقار، اطمینان اور عاجزانہ شان سے چلنے کو مومنین کی صفت کراردیا گیا ہے کہ اگرچہ دنیا میں تمام انسان ہی عباد الرحمٰن (اللہ کے بندے) ہیں لیکن یہاں تواضع اختیار کرنے والے بندوں کی رحمٰن کی طرف نسبت کرنا، ان بندوں کے شرف کو بیان کرنے کیلئے ہے ۔

ہمارے پیارے آخری نبی ﷺ کا فرمان عالیشان ہے : اَفْضَلُ الْعِبَادَۃِ التَّوَاضُع یعنی افضل عبادت تواضع ہے ۔ ( شعب الایمان، 6/ 278، حدیث:8148)

(2) وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (پ15،بنی اسرائیل:37)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تکبرانہ طریقے سے چلنا اللہ جل جلالہ کو کتنا نا پسند ہے نیز یہ کہ تکبر و غرور سے کچھ فائدہ نہیں البتہ کئی صورتوں میں تو گناہ بھی لازم ہو جاتا ہے ۔ لہٰذا اترانا چھوڑیے اور تواضع(عاجزی و انکساری) اختیار کیجئے ۔

(3) وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمہ کنزالایمان: اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو۔ (پ 17،الحج:34، 35)

اِن آیاتِ مبارکہ میں بھی صفتِ تواضع کا ذکر فرمایا گیا ہے اور اسی صفت کو اختیار کرنے پر قرآن مجید انہیں خوشخبری سنا رہا ہے ۔

(5) وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸) ترجمہ کنز العرفان : اور مسلمانوں کیلئے اپنے بازو بچھا دو ۔ (پ 14،الحجر:88)

یعنی اے حبیب خدا ﷺ، آپ مسلمانوں پر رحمت اور شفقت کرتے ہوئے ان کے سامنے تواضع فرمائیں اور ان پر اس طرح رحم فرمائیں جس طرح پرندہ اپنے بچوں پر اپنے پروں کو بچھا دیتا ہے ۔

(صاوی، الحجر، تحت الآیۃ: 88، 3 / 1051)

حضرت علامہ علی قاری رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں :جو شخص مسلمانوں کے ساتھ جتنا زیادہ عاجزی اور اِنکساری سے پیش آئے گا وہ اتنا ہی زیادہ مقرب بندوں کے اعلیٰ مَراتب پر فائز ہو گا اور جو جتنا زیادہ تکبر اور ظلم کرے گا وہ اتنا ہی زیادہ پَست مقام پر ہو گا ۔ (مرقاۃ المفاتیح،8 / 827، تحت الحدیث : 5106)

حضور ﷺ سب سے بڑھ کر تواضع فرمانے والے ہیں ۔ اللہ پاک انکا صدقہ ہمیں بھی تواضع نصیب فرمائے اور احکامات الٰہیہ کو بجالانے کی توفیق نصیب فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔ 

دینِ اسلام ایک ایسا کامل و پاکیزہ دین ہے جو اپنے ماننے والوں کی زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی فرماتا ہے ۔  خواہ معاملہ شریعت کے احکام کا ہو یا عبادات کا یا اخلاقیات کا ۔ دین اسلام ہر پہلو میں ایسا روشن راستہ دکھاتا ہے جو انسان کو دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی عطا کرتا ہے ۔ اسلام کی انہی پیاری تعلیمات میں سے ایک نہایت خوبصورت وصف تواضع ہے یہ وہ صفت ہے جو انسان کو انسانیت کے اعلیٰ درجے تک پہنچاتی ہے ۔ جوشخص اس وصف کواختیار کرتا ہے وہ اللہ عزوجل کا محبوب اور معاشرے کا بہترین فرد بن جاتا ہے ۔

اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں اپنے خاص و محبوب بندوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا:

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ۔ ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (سورۃ الفرقان، آیت 63)

اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا: وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمۂ کنزُالایمان:اور اے محبوب! خوشی سنا دو ان تواضع کرنے والوں کو۔ (سورۃ الحج، آیت 34 )

ان آیاتِ مبارکہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ پاک اپنے ان بندوں سے محبت فرماتا ہے جو تواضع اور انکساری اختیار کرتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ صرف رب کے محبوب بنتے ہیں بلکہ معاشرے میں بھی عزت و وقار کے ساتھ پہچانے جاتے ہیں ۔ تواضع وہ صفت ہے جو انسان کو تکبر سے بچاتی ہے اور رب کا قرب عطا کرتی ہے ۔ جو شخص عاجزی اختیار کرتا ہے، وہ دراصل اپنے رب کے احکام کو بجا لاتا ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔ (سورۃ بنی اسرائیل، آیت 24)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ پاک اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ تواضع اور عاجزی کو لازم پکڑو، خاص طور پر والدین کے ساتھ نرمی و انکساری سے پیش آؤ یہی طرز عمل انسان کو کامیابی کی منزل تک پہنچاتا ہے ۔

اسی طرح ربِّ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر فرمایا: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ ترجمۂ کنزالعرفان:اور لوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رُخسار ٹیڑھا نہ کر ۔ (سورۃ لقمان، آیت 18)

حضرتِ علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر روح البیان میں لکھتے ہیں کہ سلام و کلام اور ملاقات کے وقت بطورِ تواضع اپنا پورا چہرہ لوگوں کے سامنے رکھو، ان سے چہرہ نہ پھیرنا، کیونکہ متکبرین کی عادت ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، خصوصاً فقراء و مساکین کو ۔ بلکہ تمہارے لیے لازم ہے کہ امیر و غریب، دونوں کے ساتھ حسنِ سلوک میں برابری ہو ۔

(تفسیر روح البیان، پ 21، سورۃ لقمان، تحت الآیۃ: 84/7/18)

تکبر و غرور شیطان کی خصلت ہے جب کہ عاجزی انبیائے کرام اور اولیاء اللہ کی صفت ہے یہی صفت انسان کو اللہ عزوجل کے نزدیک بلند مرتبہ عطا کرتی ہے اور لوگوں کے دلوں میں عزت عطا کرتی ہے ۔ اسی طرح حدیث پاک میں بھی تواضع کے متعلق پیارے آقا ﷺ کا فرمان عالیشان ہے :

حضرت عمر رضی الله عنہ سےروایت ہے آپ نے منبر پر فرمایا اے لوگو انکساری اختیار کرو کیونکہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو الله تعالٰی کے لیے انکسار و عجز کرتا ہے الله اسے اونچا کردیتاہےتو وہ اپنے دل کا چھوٹا ہوتا ہے اور لوگوں کی نگاہ میں بڑااور جوغرورکرتا ہے الله تعالٰی اسے نیچا کردیتا ہے تو وہ لوگوں کی نگاہ میں چھوٹا ہوتا ہے اور اپنے دل میں بڑا حتی کہ وہ لوگوں کے نزدیک کتے اور سؤر سے زیادہ ذلیل ہوتا ہے ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 حدیث نمبر:5119 )

ان تفاسیر ،آیات اور حدیث پاک سے روز روشن کی طرح واضح ہوتا ہے کہ دین اسلام اپنے ماننے والوں کو ہر موقع پر یہ رہنمائی دیتا ہے کہ جب بھی کسی سے ملاقات یا گفتگو کرو تو عاجزانہ انداز میں کرو نہ کہ متکبرانہ رویہ اختیار کرو ۔ چاہے وہ امیر ہو یا غریب فقیر ہو یا مسکین ، سب کے ساتھ تواضع اور نرمی سے پیش آؤ کیونکہ یہی وصف انسان کو رب کا محبوب اور معاشرے کا بہترین فرد بناتا ہے ۔ 


الحمد للہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا دین اسلام ہماری ہر اعتبار سے رہنمائی فرماتا ہے چاہے اس کا تعلق ہمارے اعمال ظاہرہ سے ہو یا باطنہ سے ہو اور اعمال باطنہ میں سے ایک عمل تواضع یعنی خاکساری ،عاجزی بھی ہے یہ ہمارے دین میں مطلوب و محمود ہے اور اس کا خلاف یعنی تکبر مذموم ہے اور اس تکبر کو چھوڑ دینا مطلوب ہے ۔

آخرت کا گھر: اللہ تعالیٰ نے عاجزی کرنے والوں کے لیے قرآن پاک میں کیا ہی پیاری بشارت ارشاد فرمائی:

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)

ترجمہ کنز الایمان: یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے ۔ (پارہ 20 ،قصص،آیت نمبر 83)

اس آیت کے تحت صراط الجنان میں ہے:اس آیت سے معلوم ہوا کہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانا اتنے برے کام ہیں  کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں  امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں  کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و شان والی نعمت پا سکتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ آپنے قول اور فعل سے کسی طرح تکبر کا اظہار نہ کرے ۔

مؤمنین عاجزی کرنے والے ہوتے ہیں: اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جہاں ایمان والے اور والیوں کے  اوصاف  حمیدہ بیان فرمائے تو اس میں ایک یہ بھی وصف بیان فرمایا: وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ

ترجمہ کنز الایمان: اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں ۔

اور پھر ان کے لیے آگے انعام بھی کیا خوب ارشاد فرمایا:-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)ترجمہ کنز الایمان: ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ ( پارہ 22 ، احزاب آیت نمبر 33)

بلکہ اللہ عزوجل نے اپنے بندوں کی ادائیں عاجزانہ بھی بیان فرمائی:وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ۔ ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔

(پارہ 19 ،فرقان آیت نمبر 63)

اس آیت کے تحت تفسیر مدارک التنزیل میں ہے : اَیْ یَمْشُونَ بِسَکِیْنَۃٍ وَ وَقَارٍ وَ تَوَاضُعٍ دُوْنَ مَرَحٍ وَ اِخْتِیَالٍ وَ تَکَبُّرٍ ۔ ترجمہ: یعنی رحمٰن کے بندہ اطمینان وقار اور تواضع کے ساتھ چلتے ہیں نہ کہ اکڑتے ہوئے اتراتے ہوئے اور تکبر کرتے ہوئے چلتے ہیں ۔

کوئی کسی پر فخر نہ کریں:حضرت عیاض بن حمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی فرمائی (میں  تم لوگوں  کو حکم دوں ) کہ اِنکساری کرو حتّٰی کہ تم میں  سے کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر ظلم کرے" ۔ (مسلم ،کتاب الجنّۃ و صفۃ نعیمہا و اہلہا ، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنّۃ الخ صفحہ 2198 حدیث 2865 دار الاحیاء التراث العربی)

حضور ﷺ کا تواضع: حضور ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ  ہےاور حضور ﷺ کی پیروی کو ہمارے لیے بہترین قرار دیا گیا اس لیے ہمارے آقا علیہ الصلاۃ والسلام نے نہ صرف عاجزی کا حکم دیا بلکہ ہمیں عاجزی کرکے بھی دیکھائی ۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں :حضور ﷺ نے ایک جزام زدہ شخص کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ اس کے ہاتھ کو پیالہ میں داخل کردیا اور فرمایا کھاؤ اللہ ہی پر بھروسہ اور توکل ۔

(سنن ابن ماجہ کتاب المرض باب الجزام  صفحہ1172 حدیث نمبر 3542 دار احیاء الکتب العربیہ)

اسلاف کا طرزِ عمل اور اقوال: اور ہمارے اسلاف بزرگان دین اور وہ انعام یافتہ لوگ جن کے راستہ کو اللہ عزوجل نے صراط مستقیم کا نام دیا اب ان کا طرز عمل اور تواضع کے متعلق اقوال ملاحظہ ہو جس کے ذریعے ہمارے لیے مزید واضح ہو جائے کہ تواضع کیا ہے ۔ حضرت سیدنا حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کیا تم جانتے کہ عاجزی کیا ہے؟ عاجزی یہ کہ تم اپنے گھر سے نکلو تو جس مسلمان کو دیکھو اسے اپنے سے افضل گمان کرو ۔ (احیاء العلوم جلد 3 صفحہ1005مکتبۃ المدینہ)

حضرت مالک بن دینار (رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہے اگر کوئی مسجد کے دروازے پر کھڑا ہو کر اعلان کرے کہ تم میں سے جو  برا ہے وہ باہر نکلے تو اللہ عزوجل کی قسم مجھ سے پہلے کوئی نہیں نکلے گا مگر یہ کہ کوئی اپنی طاقت کے بل بوتے پر یا دوڑ میں مجھ سے سبقت کر جائے ۔ (احیاء العلوم جلد 3 صفحہ1006مکتبۃ المدینہ)

مال داروں کے سامنے عاجزی کرنا : حضرت یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں مال کے ذریعے تکبر کرنے والوں پر تکبر کرنا عاجزی ہے ۔ (احیاء العلوم جلد 3 صفحہ 1008مکتبۃ المدینہ)

یہ حکم اس لیے کہ وہ اپنے اس قبیح فعل سے باز آئے ۔ بلکہ حضرت ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے تو عاجزی کی تعریف ہی یہ کی "مال داروں سے تکبر کرنا اور فقیروں سے انکساری کرنا تواضع ہے" ۔ (رسالہ قشیریہ(مترجم) صفحہ 344 )


تواضع ایک نہایت اعلیٰ خُلق ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب اور بندوں کے دلوں میں محبوب بناتا ہے ۔  تواضع کا مطلب ہے عاجزی، انکساری اور اپنے آپ کو کسی سے بہتر نہ سمجھنا ۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کو تکبر سے بچنے اور عاجزی اختیار کرنے کا حکم فرمایا ہے ۔

قرآن کریم میں تواضع کا ذکر: وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (سورۃ الفرقان: 63)

یہ آیت کریمہ بندگانِ خاصِ رحمٰن کی ایک نمایاں صفت بیان کرتی ہے ۔ کہ وہ نرم خُلق، باادب، اور متواضع ہوتے ہیں ۔ ان کا چلنا، بولنا اور برتاؤ سب میں وقار اور انکساری جھلکتی ہے ۔

تکبر کی مذمت:اللہ تعالیٰ نے تکبر کو ناپسند فرمایا: وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمۂ کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ (سورۃ الاسراء: 37)

یعنی انسان اگر تکبر کرے تو بھی وہ اللہ کی قدرت کے مقابل کچھ نہیں ۔ اس لیے غرور کی کوئی گنجائش نہیں ۔

انبیاءِ کرام کی تواضع:اللہ کے برگزیدہ نبیوں نے ہمیشہ عاجزی اختیار کی ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا قرآن میں یوں آئی: رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ(۲۴) ترجمۂ کنز الایمان: عرض کی اے میرے رب میں اس کھانے کا جو تو میرے لیے اُتارے محتاج ہوں ۔ (سورۃ القصص: 24)

یہ انکساری کی بہترین مثال ہے کہ ایک جلیل القدر نبی اپنی محتاجی کا اعتراف اپنے رب کے سامنے کر رہا ہے ۔

آپ ﷺ نہایت سادہ زندگی گزارتے، اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھتے، غریبوں سے محبت فرماتے، اور کبھی کسی پر فخر نہ کرتے ۔ یہی قرآن حکیم کے پیغامِ تواضع کی عملی تفسیر ہے ۔

تواضع ایمان والوں کی زینت ہے اور تکبر ایمان کو زائل کر دیتا ہے ۔ قرآن مجید ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جو بندہ عاجز بنتا ہے، اللہ اسے عزت و رفعت عطا فرماتا ہے ۔ اسی لیے مؤمن کی پہچان انکساری، نرمی اور خُلقِ حسنہ ہے ۔ تواضع ایمان کی نشانی ہے ۔ تکبر شیطان کی عادت ہے ۔ اللہ کے مقرب بندے نرم گفتار اور عاجز ہوتے ہیں ۔ نبی ﷺ کی پوری سیرت تواضع کی روشن مثال ہے ۔ جو اللہ کے لیے جھکتا ہے، اللہ اسے بلند کرتا ہے ۔