تواضع کی تعریف:تواضع سے مراد نرمی انکساری اور عاجزی ہے یہ ایک ایسی خصلت ہے جس میں انسان تکبر غرور اور برتری کہ احساس کو چھوڑ کر دوسروں کے ساتھ حسن اخلاق احترام اور ملنساری کے ساتھ پیش آتا ہے ۔

(1)قیامت کے دن سب عاجزی کرے گے:وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ(۸۷) ترجمۂ کنز الایمان:اور جس دن پھونکا جائے گا صُور تو گھبرائے جائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں مگر جسے خدا چاہے اور سب اس کے حضور حاضر ہوئے عاجزی کرتے ۔ ( پارہ20 ، النمل آیت نمبر 87)

تفسیر صراط الجنان:یعنی قیامت کے دن سب لوگ موت کے بعد زندہ کئے جائیں گے اور حساب کی جگہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کرتے ہوئے حاضر ہوں گے ۔

(2)والدین کے لیے عاجری کا اجر:وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴) ترجمۂ کنز الایمان:اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔ ( پارہ15 ، بنی اسرائیل آیت نمبر 24)

تفسیر صراط الجنان: والدین کے ساتھ نرمی اور عاجزی کے ساتھ پیش آؤ اور ہر حال میں ان کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ کرو کیونکہ اُنہوں نے تیری مجبوری کے وقت تجھے محبت سے پرورش کیا تھا اور جو چیز اُنہیں درکار ہو وہ اُن پر خرچ کرنے میں دریغ نہ کرو ۔

(3)تواضع والا اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے :وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِؕ-فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْاؕ-وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴)

ترجمۂ کنز الایمان:اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں اس کے دئیے ہوئے بے زبان چوپایوں پر تو تمہارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے حضور گردن رکھو اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو ۔ (پارہ 17سورحج آیت نمبر 34)

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


پیارے اسلامی بھائیو! دین اسلام جس طرح ہمیں نماز اور روزے کا حکم دیتا ہے اسی طرح ہمیں اچھے اخلاق اپنانے کا بھی درس دیتا ہے اچھے اخلاق میں سے ایک خوبی عاجزی تواضع اختیار کرنا بھی ہے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر تواضع کا بیان موجود ہے آئیے ہم بھی اس کا قرآنی بیان پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔  

1:بخشش کا ذریعہ : عاجزی اختیار کرنا ہے بخشش کا سبب ہے :اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)

ترجمہ کنزالایمان: بےشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرمان بردار اور فرمان برداریں اور سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ (پ 22 احزاب 35)

2: ہر شے عاجزی کرتی ہے :عاجزی ایک ایسی صفت ہے کہ زمین و آسمان میں ہر شے اللہ پاک کے لیے عاجزی کر رہی ہے :اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآىٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ(۴۸) ترجمۂ کنزالایمان: اور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ جو چیز اللہ نے بنائی ہے اس کی پرچھائیاں داہنے اور بائیں جھکتی ہیں اللہ کو سجدہ کرتی اور وہ اس کے حضور ذلیل ہیں ۔ (پ 14 النحل 48)

3:والدین کیلئے عاجزی :قرآن پاک میں والدین کے لیے بھی عاجزی کرنے کا حکم دیا گیا ہے جیسا کہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴) ترجمۂ کنزالایمان: اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔ (پ 15 بنی اسرائیل 24)

4:خاص خوشخبری: -وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمہ کنز الایمان:اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو ۔ (پ 17 الحج 34)

5:عاجزی نہ کرنے کا وبال : عاجزی اختیار نہ کرنے والوں کے لیے جہنم کا سخت عذاب ہے:وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ(۷۶) ترجمہ کنز الایمان: اور بےشک ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تو نہ وہ اپنے رب کے حضور میں جھکے اور نہ گِڑگِڑاتے ہیں ۔ (پ18 المؤمنون 76)

اللہ پاک ہمیں بھی عاجز اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ 


اسلام میں عاجزی کو مومن کا زیور اور ایمان کی علامت قرار دیا گیا ہے ۔  قرآن پاک میں بے شمار مقامات پر اللہ تعالیٰ نے آپنے بندوں کو تکبر سے بچنے اور عاجزی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ ( سورۃ الفرقان: 63)

(1)ماں باپ کے لیے عاجزی:وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴) ترجمۂ کنز الایمان:اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔ ( بنی اسرائیل پارہ 15،آیت24)

(2)تواضع کر نے والے کی بخشش:اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)

ترجمۂ کنز الایمان:بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرماں بردار اور فرماں برداریں اور سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ (سورۃالاحزاب آیت35 پارہ 22)

(3)سب چیزیں عاجزی کرتی ہے:اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآىٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ(۴۸) ترجمۂ کنز العرفان:اور کیا انہوں نے اس طرف نہ دیکھا کہ اللہ نے جوچیز بھی پیدا فرمائی ہے اس کے سائے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے دائیں اور بائیں جھکتے ہیں اور وہ سائے عاجزی کررہے ہیں ۔ (سورۃالنحل آیت 48پارہ14)

(4)عاجزی کرنے والوں کے لیے خوش خبری: وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمہ کنزالایمان: اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو ۔ (سوۃالحج آیت34-35پارہ17)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں ان آیات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی حفظ و امان میں رکھے اللہ پاک ہمیں پرہیزگار متقی اور اپنا فرمانبرداربندہ بنائے ۔ آمین 


انکساری  و عاجزی کا نام تواضع ہے۔

پیارے اسلامی بھائیو! جو شاخ جتنے زیادہ پھلوں والی ہوتی ہے ‏اس میں اتنا ہی زیادہ جھکاؤ ہوتا ہے ،اسی طرح جو بارگاہ الہی میں جتنا زیادہ مقبول ہو اس میں اتنی ہی ‏زیادہ عاجزی و انکساری ہوتی ہے عاجزی و انکساری میں ہی دنیا و آخرت کی کامیابی ہے اس کا تقاضہ یہ ‏ہے کہ وہ بارگاہ الہی میں تواضع اختیار کرے اور ان کے سامنے بھی جن کے لئے خود اللہ پاک نے تواضع کا ‏حکم دیا جیسے انیبا ء کرام ،حاکم ،عالم اور والد نیز مسلمانوں کے ساتھ عاجزی اختیار کرنا مستحب ہے ‏ ۔

آئیے ہم قرآن پاک سے تواضع کے بارے میں قرآن پاک سے وضاحت ملاحظہ کیجئے :‏

تواضع اختیار کرنے کا حکم : اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمہ کنزالعرفان :اور مسلمانوں کے لئے اپنے بازو ‏بچھادو ۔ (سورۃ الحجر آیت نمبر88)‏

یعنی ا ے حبیب! ﷺ ، آپ مسلمانوں پر رحمت اور شفقت کرتے ہوئے ان کے ‏سامنے تواضع فرمائیں اور ان پر ا س طرح رحم فرمائیں جس طرح پرندہ اپنے بچوں پر اپنے پروں کو بچھا دیتا ہے ۔ (صاوی، ‏الحجر، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳ / ۱۰۵۱)‏

تواضع پیدا کرنے کا طریقہ :‏وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت آپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ‏ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے ۔ ( لقمان، آیت نمبر18)‏

اس آیت کریمہ میں حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو کی ہوئی نصیحت کو ذکر کیا گیا ہے ،فرمایا اے میرے بیٹے جب تو کسی ‏آدمی سے بات کرے تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے رخ پھیر لینے والا طریقہ اختیارنہ کرنا ‏بلکہ مال دار اور فقیر سب کے ساتھ عاجزی اور انکساری کے ساتھ پیش آنا ۔

کامل مومن کی نشانی :‏وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ترجمہ کنز العرفان : ‏اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ ( فرقان، آیت نمبر63)‏

امام مجاھد رحمتہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ،اس آیت سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کی اطاعت میں تواضع اختیار کرتے ‏ہوئے چلتے ہیں ‏ ۔ (تفسیر بغوی ،فرقان،تحت الآیہ 63)‏

اس آیت میں بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ‏ساتھ عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ‏ ۔

متواضعین کی اعلی مثال :‏قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ترجمہ کنز العرفان: تم فرماؤ: میں ( ظاہراً) تمہاری طرح ایک ‏بشر ہوں ۔ (سورہ کہف آیت 110)

یعنی کہ مجھ پر بشری اعراض اور امراض طاری ہوتے ہیں اور سورت خاصہ میں کوئی بھی آپ کا مثل نہیں ہے ، اللہ تعالی ‏نے آپ کو حسن و صورت میں سب سے اعلی کیا ہے ، اور حقیقت و روح اور باطن کے اعتبار سے تمام انبیاء اوصاف بشر ‏سے آپ سب اعلی ہیں ۔ ‏(تفسیر خزائن العرفان ،سورہ کہف،آیت 110)‏

تواضع اختیار کرنے کی جزاء:‏وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمہ کنز العرفان، اور عاجزی کرنے والوں کے لئے ‏خوشخبری سنا دو ۔ (سورۃ الحج آیت 34)

تفسیر قرطبی میں ہے کہ ان کو بڑے ثواب کی خوشخبری سنادو (یعنی) ‏اگر تم اللہ کی رضا کی خاطر عاجزی و انکساری پیدا کرو گے اور اپنے آپ کو ‏جکاؤ گے تو اللہ پاک تمہیں بڑا ثواب عطا کرے گا ‏ ۔ ہمیں بھی اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لئے تواضع اختیار کرنا چاہیئے تو ان شا اللہ الکریم دنیا وآخرت ‏میں کامیابی حاصل ہوگی ۔ 


اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو اخلاقِ حسنہ، عجز و انکساری، عدل و انصاف، اور انسانیت کی بھلائی کی تعلیم دیتا ہے ۔  ان اعلیٰ اخلاق میں سے ایک خُلق تواضع (عاجزی و انکساری) ہے، جو ایمان کی علامت اور تقویٰ کی پہچان ہے ۔ قرآن مجید نے متعدد مقامات پر تواضع کی فضیلت بیان کی اور تکبر و غرور کی مذمت کی ہے ۔ درحقیقت تواضع وہ صفت ہے جو انسان کو اپنے خالق کے سامنے جھکنے اور مخلوق کے ساتھ محبت و احترام سے پیش آنے کا درس دیتی ہے ۔

تواضع کی تعریف:لفظ "تواضع" عربی مادہ وضع سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں "جھکنا" یا "نیچا ہونا" ۔ اصطلاحی طور پر تواضع سے مراد ہے کہ انسان خود کو دوسروں سے بہتر نہ سمجھے، بڑائی و فخر سے پرہیز کرے، اور اپنی حیثیت کے باوجود دوسروں کے ساتھ نرمی، احترام اور حسنِ سلوک سے پیش آئے ۔ اسلام میں تواضع محض ظاہری نرمی نہیں بلکہ دل کی کیفیت ہے، جو انسان کو غرور، خود پسندی اور تکبر سے پاک کرتی ہے ۔

1، مومنین کی صفت کے طور پر تواضع:اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں یعنی "عبادُ الرَّحمٰن" کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)ترجمہ کنز العرفان:اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ (سورۃ الفرقان: 63)

یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حقیقی بندگی کا تقاضا تواضع ہے ۔ "عاجزی کے ساتھ چلنا" سے مراد صرف چلنے کا انداز نہیں بلکہ زندگی کے ہر معاملے میں نرم خوئی، وقار، اور انکساری اختیار کرنا ہے ۔ مومن اپنی طاقت، علم یا دولت پر فخر نہیں کرتا بلکہ خالق کے سامنے عاجز رہتا ہے ۔

2، تکبر کی مذمت اور تواضع کی ترغیب:قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بارہا تکبر کو ناپسندیدہ عمل قرار دیا اور متواضع بندوں کی تعریف فرمائی:وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمہ کنز العرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (سورۃ الاسراء: 37)

یہ آیت انسان کو اس کی حقیقت یاد دلاتی ہے کہ غرور بے معنی ہے ۔ انسان مٹی سے بنا ہے، اس کی طاقت محدود ہے، اس لیے اسے ہر حال میں عاجزی اختیار کرنی چاہیے ۔ اسی طرح سورۃ لقمان میں حضرت لقمان رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸) ترجمہ کنز العرفان : اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے ۔ (سورۃ لقمان: 18)

یہ تعلیم ایک اخلاقی ضابطہ ہے کہ انسان دوسروں سے برتر ہونے کا احساس نہ کرے ۔

3، اہلِ ایمان کے باہمی تعلق میں تواضع:قرآن مجید مومنوں کو آپس میں محبت اور انکساری اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے:وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)ترجمہ کنز العرفان: ان کا کچھ غم نہ کھاؤ اور مسلمانوں کیلئے آپنے بازو بچھا دو ۔ (سورۃ الحجر: 88)

یہ آیت نبی اکرم ﷺ کو خطاب کے ساتھ تمام مسلمانوں کے لیے مثال ہے کہ دوسروں سے برتاؤ میں نرمی اور تواضع آپناؤ ۔ "بازو جھکانا" بطور استعارہ استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے کہ دوسروں پر رعب نہ جماؤ بلکہ ان کے ساتھ محبت، شفقت اور احترام کا برتاؤ کرو ۔

انبیائے کرام کی تواضع کے قرآنی نمونے:قرآن کریم میں انبیائے کرام علیہم السلام کے کردار میں تواضع کی بے شمار مثالیں موجود ہیں:

حضرت محمد ﷺ:اللہ کے محبوب ﷺ کی پوری زندگی تواضع کا عملی مظہر تھی ۔ قرآن نے آپ کو حکم دیا: وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ(۲۱۵) ترجمہ کنز العرفان: اور اپنے پیروکار مسلمانوں کے لیے اپنی رحمت کا بازو بچھاؤ ۔ (سورۃ الشعراء: 215)نبی کریم ﷺ صحابہ میں بیٹھتے تو کوئی پہچان نہ پاتا کہ کون سردار ہے ۔ آپ نہ کبھی غرور کرتے، نہ امتیاز برتتے ۔ یہی قرآن کے حکم کی عملی تفسیر تھی ۔

تواضع کے معاشرتی فوائد:تواضع فرد اور معاشرے دونوں کے لیے رحمت ہے ۔

1، محبت و بھائی چارہ: عاجز انسان دوسروں کے دل جیت لیتا ہے، جس سے معاشرتی رشتے مضبوط ہوتے ہیں ۔

2، عدل و انصاف: متواضع شخص دوسروں کے حقوق تسلیم کرتا ہے، جس سے ظلم اور ناانصافی ختم ہوتی ہے ۔

3، علم میں برکت: جو طالبِ علم یا عالم تواضع اختیار کرتا ہے، وہ ہمیشہ سیکھنے والا رہتا ہے ۔

4، اللہ کی قربت: قرآن و سنت کے مطابق عاجزی اللہ کی رضا کا سبب اور تکبر اس کے غضب کا باعث ہے ۔

عصرِ حاضر میں تواضع کی ضرورت:آج کے دور میں مادیت، خود پسندی اور انا پرستی نے انسان سے سکون چھین لیا ہے ۔ ہر شخص برتری کی دوڑ میں ہے ۔ ایسے ماحول میں قرآن کی تواضع پر مبنی تعلیمات انسانیت کو دوبارہ توازن اور محبت کا درس دیتی ہیں ۔ اگر افراد اور قیادتیں تواضع آپنائیں تو معاشرتی نفرتیں ختم ہو جائیں اور امن و انصاف کا دور قائم ہو سکتا ہے ۔ قرآن کریم کے نزدیک تواضع ایمان کا زیور، اخلاقِ حسنہ کی بنیاد، اور روحانی بلندی کا ذریعہ ہے ۔ یہ انسان کو خالق کے قریب اور مخلوق کے دلوں میں محبوب بناتی ہے ۔ تکبر زوال کا سبب اور عاجزی ترقی کا ذریعہ ہے ۔ لہٰذا ہمیں قرآن کے اس پیغام کو حرزِ جان بنانا چاہیے کہ

لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: حقیقت یہ ہے کہ اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں ، بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔ (سورۃ النحل: 23)

اور یاد رکھنا چاہیے کہ جو اللہ کے لیے جھکے گا، اللہ اسے بلند کرے گا ۔ پس تواضع ایمان کی علامت اور اخلاق کی معراج ہے ۔ یہی قرآن کا پیغام اور نجات کا راستہ ہے ۔ اللہ عزوجل ہمیں تواضع و انکسار اپنانے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبین ﷺ


پیارے اسلامی بھائیو! دین اسلام جس طرح ہمیں نماز اور روزے کا حکم دیتا ہے اسی طرح ہمیں اچھے اخلاق اپنانے کا بھی درس دیتا ہے اچھے اخلاق میں سے ایک خوبی عاجزی تواضع اختیار کرنا بھی ہے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر تواضع کا بیان موجود ہے آئیے ہم بھی اس کا قرآنی بیان پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔

1:بخشش کا ذریعہ : عاجزی اختیار کرنا ہے بخشش کا سبب ہے :اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)

ترجمہ کنزالایمان: بےشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرمان بردار اور فرمان برداریں اور سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ (پ 22 احزاب 35)

2: ہر شے عاجزی کرتی ہے :عاجزی ایک ایسی صفت ہے کہ زمین و آسمان میں ہر شے اللہ پاک کے لیے عاجزی کر رہی ہے :اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآىٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ(۴۸) ترجمۂ کنزالایمان: اور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ جو چیز اللہ نے بنائی ہے اس کی پرچھائیاں داہنے اور بائیں جھکتی ہیں اللہ کو سجدہ کرتی اور وہ اس کے حضور ذلیل ہیں ۔ (پ 14 النحل 48)

3:والدین کیلئے عاجزی :قرآن پاک میں والدین کے لیے بھی عاجزی کرنے کا حکم دیا گیا ہے جیسا کہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴) ترجمۂ کنزالایمان: اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔ (پ 15 بنی اسرائیل 24)

4:خاص خوشخبری: وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو ۔ (پ 17 الحج 34)

5:عاجزی نہ کرنے کا وبال : عاجزی اختیار نہ کرنے والوں کے لیے جہنم کا سخت عذاب ہے:وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ(۷۶) ترجمہ کنز الایمان: اور بےشک ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تو نہ وہ اپنے رب کے حضور میں جھکے اور نہ گِڑگِڑاتے ہیں ۔ (پ18 المؤمنون 76)

اللہ پاک ہمیں بھی عاجزی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین 


اسلام کا نظامِ حیات اعلیٰ اخلاقی اقدار پر مبنی ہے، جن میں تواضع  کو نمایاں مقام حاصل ہے ۔ تواضع کا مطلب ہے: اپنے آپ کو بڑا نہ سمجھنا، غرور و تکبر سے بچنا، اور دوسروں سے حسنِ سلوک اور عاجزی سے پیش آنا ۔ قرآن مجید میں تواضع کو مومن کی خوبی اور تکبر کو ہلاکت کی نشانی قرار دیا گیا ۔

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)

ترجمہ کنز الایمان: اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ ( الفرقان ،آیت63)

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا(۳۸)ترجمہ کنز الایمان:اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ یہ جو کچھ گزرا ان میں کی بُری بات تیرے رب کو ناپسند ہے ۔ ( بنی اسرائیل،آیت37،38)

تواضع یعنی انکساری ایک عظیم صفت ہے جسے قرآن کریم میں نہایت پسندیدہ قرار دیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے متکبرین کو ناپسند فرمایا اور عاجز بندوں کی مدح کی ۔ جو شخص تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ اسے بلند مرتبہ عطا فرماتا ہے ۔ تواضع نہ صرف فرد کی اصلاح کا ذریعہ ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی، محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیتی ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن کی روشنی میں غرور و تکبر سے بچتے ہوئے انکساری اور نرمی کو اپنائیں تاکہ ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہوں ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔ 


تواضع کا لغوی معنی:‎‎‎تواضع" عربی لفظ وَضَعَ سے بنا ہے، جس کے معنی ہیں جھکنا، نیچا ہونا، نرم ہونا یا خود کو کم ظاہر کرنا ۔

تواضع کا اصطلاحی معنی:‏علماءِ اخلاق اور صوفیاءِ کرام کے نزدیک تواضع سے مراد ہے:‎‎انسان کا اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر نہ سمجھنا، حق کو قبول کر لینا، اور اللہ و مخلوق کے سامنے عاجزی اختیار کرنا ۔

‎ ‎امام غزالی رحمہ اللہ نے فرمایا:نفس کو کمتر اور حقیر جاننے کے خیال کو تو اضع کہتے ہیں کہ اس سے عاجزی و انکساری پیدا ہوتی ہے ۔ (منہاج العابدین: صفحہ نمبر 176 ۔ مکتبۃ المدینہ)‏

انسان کے مادے میں ہمیشہ دو چیزیں پائی جاتی ہیں:‏اول :عاجزی و انکساری ۔ دوم: تکبر و بڑھائی ‏

اگر انسان رحمٰن عزوجل کی مان کر تواضع و انکساری کرے گا تو جنت کا مصداق بنے گا ۔ وگرنہ شیطان لعین کی مان کر تکبر میں پڑ کر کہی عذاب نار کا مستحق نہ ہو جائے ۔ (العیاذ باللہ)‏‏

حضور ﷺ کا فرمان عالیشان ہے کہ جس کہ دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہوا وہ جنت میں نہ جائےگا ۔ (صحیح مسلم ،کتاب ایمان کا بیان ،باب :تکبر کے حرام ہونے کا بیان ،حدیث نمبر 91)‏

اور اس تواضع و انکساری جیسی اعلیٰ صفت کو رب تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی مقامات پر ذکر فرمایا ہے جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

اللہ کے بندے زمین پر نرمی کے ساتھ چلتے ہیں :‏وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ترجمۂ کنزالایمان: اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ (پارہ نمبر 19 سورۃ الفرقان،آیت نمبر 63)‏

اس آیت میں بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر ‏جوتےکھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔ ( مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹، ملخصاً)

تکبر سے پرہیز کرو:‏وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)‏ ترجمۂ کنز الایمان :اور کسی سے بات کرنے میں اپنا رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل بیشک الله کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا فخر کرتا ۔ (لقمان ،18)

اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص امیر ہو یا غریب اسے حقیر نہیں جاننا چاہئے بلکہ جس سے بھی ملاقات ہو تواس کے ساتھ محبت سے پیش آنا چاہئے اور اچھے انداز میں اس سے بات چیت کرنی ‏چاہئے ۔ غریبوں کو حقیر جان کر ان سے منہ موڑنا اور ان سے بات چیت کے دوران ایسا انداز اختیار کرنا جس میں حقارت کا پہلو نمایا ں ہو اسی طرح امیر لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا سب تکبر ‏کی علامات ہیں ،ان سے ہر ایک کو بچنا چاہئے ۔

اکڑ کر چلنے کی مذمت:‏اس آیت میں اکڑ کر چلنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے،اسی مناسبت سے یہاں اکڑ کر چلنے کی مذمت پر مشتمل دو اَحادیث ملاحظہ ہوں :‏

‏(1) حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضور اقدس ص ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو آدمی اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے اور اکڑکر چلتا ہے،وہ اللہ تعالیٰ سے ‏اس طرح ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا ۔ ( مسند امام احمد، مسند عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما، ۲ / ۴۶۱، الحدیث: ۶۰۰۲)‏

‏(2) حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضور اکرم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جب میری امت اکڑ کر چلنے لگے گی اور ایران و روم کے بادشاہوں کے ‏بیٹے ان کی خدمت کرنے لگیں گے تو اس وقت شریر لوگ اچھے لوگوں پر مُسَلَّط کر دئیے جائیں گے ۔ ( ترمذی، کتاب الفتن، باب-۷۴، ۴ / ۱۱۵، الحدیث: ۲۲۶۸)‏

اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کواس مذموم فعل سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین ۔

مسلمانوں کے ساتھ نرمی اختیار کرو:‏لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)ترجمہ: کنز الایمان: اپنی آنکھ اٹھاکر اس چیز کو نہ دیکھو جو ہم نے ان کے کچھ جوڑوں کو برتنے کو دی اور ان کا کچھ غم نہ کھاؤ اور مسلمانوں کو اپنی رحمت کے پروں میں لے لو ۔ (پارہ نمبر 14 سورۃالحجر،آیت نمبر 88)‏

اس آ یت کریمہ کہ اس حصے وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ میں اللہ رب العالمین آپ ﷺ کے ذریعہ سے امت کو یہ سیکھا رہا ہے کہ مسلمانوں کے لیے آپنے ہاتھوں کو ‏پھیلاؤ اگر تم ان سے بڑے ہو تو نرمی سے پیش آؤ اگر تم حکمران ہو تو عدل سے پیش آؤ کہ تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہے (صحیح مسلم ،کتاب :حسن سلوک و صلح رحمی ،حدیث نمبر 2586 )‏

اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ ہمیں آپ کے صدقے تواضع و انکساری کو اپنا نے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ

اسلام میں تواضع مومن کیلئے ایک ضروری صفت ہے ۔  قرآن کریم میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو تکبر سے بچنے اور تواضع اختیار کرنے کا حکم دیا ہے ۔ تواضع کا معنی ہے کہ عاجزی و انکساری ہے اور اس سے مراد ہے کہ، لوگوں کی طبیعتوں اور ان کے مقام ومرتبے کے اعتبار سے ان کے لیے نرمی کا پہلو اختیار کرنا اور اپنے آپ کو حقیر وکمتر اور چھوٹا خیال کرنا عاجزی وانکساری کہلاتا ہے ۔ (نجات دلانےوالے اعمال کی معلومات،صفحہ۸۱)

قرآن پاک میں تواضع(عاجزی) کا بیان:

1:عاجزی کرنے والوں اور عاجزی کرنے والیوں کیلیے اللہ پاک نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ چنانچہ اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ:اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)

ترجمۂ کنز العرفان:بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں اور سچے مرداور سچی عورتیں اور صبرکرنے والے اور صبر کرنے والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے رکھنے والے اورروزے رکھنے والیاں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کرنے والے اور حفاظت کرنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ (پ22، الاحزاب، آیت 35)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ عاجزی کرنے والوں اور عاجزی کرنے والیوں کیلیے اللہ پاک نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔

2: تکبر سے منع، عاجزی کا حکم:چنانچہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے کہ:وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا ترجمۂ کنز العرفان:اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل ۔ (پ15، بنی اسرائیل، آیت 37)

صراط الجنان میں ہے کہ:یاد رہے کہ فخر و تکبر کی چال اور متکبرین کی سی بیٹھک وغیرہ سب ممنوع ہیں ، ہمارے چلنے پھرنے بیٹھنے اٹھنے میں تواضع اور اِنکساری ہونی چاہیے، گفتگو نرم ہو اور چلنا آہستگی اور وقار کے ساتھ ہو ۔ متکبرانہ اور اَوباشوں اور لفنگوں والی چال اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ناپسند ہے ۔

3:عزت عاجزی میں ہے، تکبر میں نہیں:چنانچہ اللہ پاک کا فرمان ہے کہ:تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)

ترجمۂ کنز العرفان:یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو زمین میں تکبر اور فساد نہیں چاہتے اوراچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے ۔ (پ 28، القصص، آیت 83)

صراط الجنان میں ہے کہ:اس آیت سے معلوم ہواکہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانااتنے برے کام ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و شان والی نعمت پا سکتا ہے ۔

4: رب العالمین کی طرف سے حضور ﷺ کو بھی مسلمانوں کے ساتھ عاجزی کا حکم:چنانچہ اللہ پاک کا ارشاد ہے کہ:وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸) ترجمۂ کنز العرفان: اور مسلمانوں کیلئے اپنے بازو بچھا دو ۔ (پ 15، الحجر، آیت 88)

صراط الجنان میں ہے کہ:یعنی ا ے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ مسلمانوں پر رحمت اور شفقت کرتے ہوئے ان کے سامنے تواضع فرمائیں اور ان پر ا س طرح رحم فرمائیں جس طرح پرندہ اپنے بچوں پر اپنے پروں کو بچھا دیتا ہے ۔

5: رحمٰن عزوجل کے بندوں کی خصوصیات:چنانچہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے کہ:وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ترجمۂ کنز العرفان: اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ (پ 25، الفرقان، آیت 63)

صراط الجنان میں ہے کہ:کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔

قرآن کے مطابق عاجزی مومن کیلئے ایک اچھا وصف ہے ۔ انسان کو اللہ کا مقرب بناتی ہے ۔ جنت تک پہنچاتی ہے ۔ دلوں میں محبت پیدا کرتی ہے ۔ تکبر سے بچاتی ہے جو شیطان کی صفت ہے ۔ دنیا میں بھی عزت اور آخرت میں بھی بلندی کا ذریعہ ہے ۔ پیارے اسلامی بھائیو!ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی زندگی میں رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعلیمات کے مطابق عاجزی و اِنکساری پیدا کریں اور تکبّر کی نَحُوست سے دُور رہیں ۔

تُو چھوڑ دے تکبر ہو بھائی میرے عاجز چھائی ہے اس پہ رحمت کرتا ہے جو تواضُع ۔

اللہ پاک عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین 


اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے جو اوصاف و خصائل پسند فرمائے ہیں، ان میں سے ایک نہایت عظیم اور دلوں کو منور کرنے والی صفت تواضع ہے ۔  جب انسان کے اندر عاجزی پیدا ہو جاتی ہے تو اس کے معاملات سنور جاتے ہیں، اس کی گفتگو میں نرمی آ جاتی ہے، رویّوں میں محبت اور دل میں سکون اتر آتا ہے ۔ عاجزی ایسا نورانی وصف ہے جو انسان کو اللہ کے قریب اور لوگوں کی نظروں میں محبوب بنا دیتا ہے ۔

تواضع (عاجزی) کی تعریف:لوگوں کے مقام و مرتبے کا لحاظ رکھتے ہوئے ان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنا، اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کے بجائے خود کو کمزور و محتاجِ خدا ماننا تواضع کہلاتا ہے ۔ (نجات دلانے والے اعمال، ص 81)

1 ۔ مؤمن کی شان: آہستگی، وقار اور نرمی:اللہ پاک فرماتا ہے:وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ترجمہ کنز العرفان: اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ (پارہ 19، سورۃ الفرقان 63)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کی ایک علامت یہ بیان کی کہ وہ زمین پر اکڑ کر، شور مچاتے یا غرور کے انداز میں نہیں چلتے، بلکہ ان کا طرزِ عمل سکون، وقار اور عاجزی سے بھرپور ہوتا ہے ۔ (صراط الجنان، ج7، ص49)

2 ۔ حضرت لقمان رضی اللہ عنہ کی نصیحت:وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے ۔ (پارہ 21، سورۃ لقمان 18)

اس آیت مبارکہ میں حضرت لقمان رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے کو یہ باطنی تربیت دے رہے ہیں کہ گفتگو میں تکبر کا انداز نہ اپنایا جائے، کسی کو حقیر نہ سمجھا جائے اور چلنے کے انداز میں بھی غرور داخل نہ ہونے پائے ۔ (صراط الجنان، ج7، ص496)

3 ۔ نبی کریم ﷺ کی تواضع:وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)ترجمہ کنز العرفان:اور مسلمانوں کیلئے اپنے بازو بچھا دو ۔ (پارہ 14، سورۃ الحجر 88)

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو حکم دیا کہ آپ مومنین کے لیے انتہائی شفقت اور تواضع کے ساتھ پیش آئیں، بالکل ایسے جیسے پرندہ اپنے بچوں پر اپنے پر بچھا کر انہیں آسرا دیتا ہے ۔ یہ آیت نبی ﷺ کی عاجزی اور امت کے لیے محبت کا عظیم درس ہے ۔ (صراط الجنان، ج5، ص266)

تواضع کے فوائد اور اس کی ضرورت:ان آیات کریمہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان کے لیے تواضع صرف اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایمان کی علامت ہے ۔ جو دل عاجزی سے خالی ہو، وہ تکبر، غرور اور ریا جیسے امراض میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ اور جو دل تواضع سے بھر جائے، اللہ تعالیٰ اس کے درجات بلند فرما دیتا ہے ۔ کیوں ضروری ہے کہ ہم عاجزی اختیار کریں؟کیونکہ اللہ کے نزدیک محبوب وہی ہے جو جھکتا ہے ۔ غرور انسان کو ہلاک کر دیتا ہے، جبکہ عاجزی دل کو پاک کرتی ہے ۔ عاجزی اختیار کرنے سے انسان کے اندر اخلاص، تحمل، اور برداشت بڑھتی ہے ۔ معاشرے میں محبت اور احترام کا ماحول قائم ہوتا ہے ۔

تواضع پیدا کیسے ہو؟

· قرآن پاک کا تدبر کے ساتھ مطالعہ ۔

· احادیثِ مبارکہ اور سیرتِ مصطفی ﷺ کے واقعات پڑھنا ۔

· غرور کے نقصانات اور عاجزی کے فضائل پر غور کرنا ۔

· اپنے آپ کو اللہ کے سامنے ہمیشہ محتاج سمجھنا ۔

· ان شاء اللہ، یہ چیزیں ہمارے دلوں میں تواضع کی خوشبو بکھیر دیں گی ۔ 


تواضع کا مطلب ہے: عاجزی اور انکساری  ۔ لوگوں کی طبیعتوں اور ان کے مقام ومرتبہ کے اعتبار سے ان کے لیے نرمی کا پہلو اختیار کرنا اور اپنے آپ کو حقیر وکمتر اور چھوٹا خیال کرنا عاجزی وانکساری کہلاتا ہے ۔ (نجات دلانےوالے اعمال کی معلومات،صفحہ۸۱)

تواضع کے عمل سے انسان کے اندر موجود تکبرو غرور کی سرکشی اور باغی صفت دم توڑتی ہے ۔ تواضع انسان کی معاشرتی زندگی میں ایک لطافت پیدا کرتی ہے اور انسان کو خاکسار بناتی ہے اور اپنی چال ڈھال میں عاجزی کو فروغ دیتی اور انسان دوسروں کو قابل احترام و اکرام جانتا ہے ۔ آئیے اب ہم تواضع کا بیان قرآن مجید فرقان حمیدسے ملاحظہ کرتے ہیں:

(1) اتراتے ہوئے نہ چلنا: وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا(۳۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ ان تمام کاموں میں سے جو برے کام ہیں وہ تمہارے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں ۔ ( پ 15بنی اسرائیل 17، آیات 37،38 )

(2) اچھا انجام پرہیز گاروں کے لیے : تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) ترجمہ کنز العرفان: یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو زمین میں تکبر اور فساد نہیں چاہتے اوراچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے ۔ (پ20 ، القصص 28 ، آیت 83 )

(4) آہستہ چلنا: وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا (۶۳) ترجمہ کنز العرفان: اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ ( پ19 ، الفرقان 25 ، آیت 63)

(5) حسن اخلاق سے پیش آنا :وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ(۲۱۵)ترجمہ کنز العرفان: اور اپنے پیروکار مسلمانوں کے لیے اپنی رحمت کابازو بچھاؤ ۔ ( پ 19 ، الشعراء 26 ، آیت 215)

عاجزی کا ذہن بنانے اور اپنانے کے چند طریقے:

(1) عاجزی کے فضائل کا مطالعہ کیجئے ۔

(2) عاجزی سے متعلق بزرگانِ دِین کے فرامین کا مطالعہ کیجئے ۔

(3) عاجزی نہ کرنے کے نقصانات پر غور کیجئے ۔

(4) تکبر کے اَسباب وعلاج کی معرفت حاصل کیجئے ۔

(5) تکبر کی علامات سے خود کو بچائیے ۔

اللہ تعالیٰ عاجزی اختیار کرنے والوں کو پسند اور بلند مقام عطا کرتا ہے ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عاجزی کی دولت سے سرفراز فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔ 


تواضح"خوش اخلاقی سے پیش آنے "کا نام ہے ۔ (فیروز اللغات،ت و،ص:387)یعنی نرمی اختیار کرنا، دوسروں کو حقیر نہ جاننا، اپنی ذات کو بڑائی سے پاک رکھنا، اور ہر حال میں حقیقت پسند رہنا ۔ انسان کی کامیابی صرف علم اور طاقت میں نہیں، بلکہ اس کردار میں ہے جو اسے دوسروں کے لیے سہارا بناتاہے ۔ خوبصورت اخلاق انسان کو وہ مقام عطا کرتے ہیں جو مال و دولت نہیں دے سکتے ۔ آج کے خود غرض ماحول میں وہی دل روشن ہوتا ہے جو تکبر سے پاک ہو اور تواضع یعنی عاجزی سے آراستہ ہو ۔ قرآن کریم نے بارہا بتایا کہ اللہ کا قرب انہی کو ملتا ہے جو جھکنا جانتے ہیں، اکڑنا نہیں ۔ لہٰذا اعلیٰ انسانیت کے لیے تواضع ایک بنیادی وصف ہے ۔ آئیے چند آیات کو ترجمہ اور مختصر وضاحت کے ساتھ دیکھتے ہیں:

تواضع کا عملی معیار: حق قبول کرنا:فَبِمَا  رَحْمَةٍ  مِّنَ  اللّٰهِ  لِنْتَ  لَهُمْۚ وَ  لَوْ  كُنْتَ  فَظًّا  غَلِیْظَ  الْقَلْبِ  لَا  نْفَضُّوْا  مِنْ  حَوْلِكَ۪-  فَاعْفُ  عَنْهُمْ  وَ  اسْتَغْفِرْ  لَهُمْ  وَ  شَاوِرْهُمْ  فِی  الْاَمْرِ-فَاِذَا  عَزَمْتَ  فَتَوَكَّلْ  عَلَى  اللّٰهِؕ-اِنَّ  اللّٰهَ  یُحِبُّ  الْمُتَوَكِّلِیْنَ(۱۵۹)

ترجمہ کنزالایمان:تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئے اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے تو تم انہیں معاف فرماؤ اور ان کی شفاعت کرو اور کاموں میں ان سے مشورہ لو اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو بے شک توکل والے اللہ کو پیارے ہیں ۔ (سورۃ آل عمران: 159)

معلوم ہوا کہ نرم طبیعت انسان کے لیے اللہ کی خاص رحمت ہے ۔ جو شخص ہر حال میں اپنے لہجے اور فیصلوں میں نرمی رکھے، وہی اللہ کا مقرب بندہ بنتا ہے ۔

بندگانِ رحمان کی پہچان : نرمی اور انکساری:ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًاترجمہ کنزالایمان: اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (سورۃ الفرقان: 63)

بندگانِ خدا کی پہلی علامت : ان کی چال میں بھی تکبر نہیں ہوتا ۔ مومن کو آہستہ،سکون و اطمینان اور وقار کے ساتھ چلنا چاہئے ۔ حدیث پاک میں ہے کہ: ’’تیز چلنا ایمان والوں  کی ہیبت ختم کر دیتا ہے ۔

(حلیۃ الاولیاء، ذکر جماعۃ من العارفین العراقیین، محمد بن یعقوب، ۱۰ / ۳۰۸، الحدیث۱۵۳۰۹)

تکبر اللہ کو ناپسند ہے، عاجزی محبوب:وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا(۳۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ ان تمام کاموں میں سے جو برے کام ہیں وہ تمہارے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں ۔ (سورۃ بنی اسرائیل: 37،38)

تفسیر جلالین میں ہے کہ یعنی تکبر و خود نمائی سے نہ چل ۔ (جلالین، الاسراء، تحت الآیۃ۳۷، ص۲۳۳)

قرآن واضح طور پر غرور سے منع کرتا ہے ۔ اکڑ کر چلنا صرف چال تک محدود نہیں، بلکہ ہر وہ انداز جس میں انسان خود کو بڑا اور دوسروں کو چھوٹا سمجھے ۔

نیکی کا حسن: بے تکلف رویہ:وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)ترجمہ کنزالعرفان: اور مسلمانوں کیلئے اپنے بازو بچھا دو ۔ (سورۃ حجر:88)

یعنی نرم، پیار بھرا اور عاجزانہ رویہ اختیار کرنا ۔ یہ آیت نبیِ کریم ﷺ کو خطاب ہے مگر اس میں امت کے لیے بھی تعلیم ہے کہ عزت بڑھے تو رویہ مزید نرم ہو ۔ اس لیے اپنے ماتحت، شاگرد یا کمزور افراد کے ساتھ ایسا برتاؤ کریں کہ وہ آپ کے قریب آکر سکون محسوس کریں بڑائی اللہ کے لیے، عاجزی انسان کے لیے:

اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) ترجمہ کنزالعرفان:بےشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔ (سورۃ النحل: 23)

یہ قرآن کی صریح ہدایت ہے ۔ جس دل میں تکبر ہو، اس میں خیر کم ہوتا جاتا ہے ۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’تکبر حق بات کو جھٹلانے اور دوسروں  کو حقیر سمجھنے کا نام ہے ۔ (مسلم،کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ، ص۶۰، الحدیث۱۴۷(۹۱)

تواضع وہ صفت ہے جو انسان کو لوگوں کے دلوں میں جگہ دیتی ہے اور اللہ کے قریب کر دیتی ہے ۔ قرآن کریم نے اسے بندگانِ رحمان کا بنیادی وصف قرار دیا ۔ جو انسان خود کو بڑا سمجھتا ہے، وہ دراصل اللہ کی ناراضی کو دعوت دیتا ہے، اور جو جھک کر زندگی گزارے وہ اللہ کی رحمت کا مستحق بنتا ہے ۔ ہم سب کو چاہیے کہ اپنی گفتگو، چال ڈھال، رویے، فیصلوں، اور تعلقات میں تواضع پیدا کریں کیونکہ عاجزی وہ وصف ہے جس سے انسان کی دنیا بھی سنورتی ہے اور آخرت بھی روشن ہوتی ہے ۔