تمہید ۔   اللہ تعالیٰ تواضع اختیار کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے اور ان کے لیے بہت سے انعامات بھی ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تواضع اختیار کرنے والوں کے لیے خوشخبری ارشاد فرمائی ہے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ بھی اللہ تبارک و تعالی کی رضا کے لیے تواضوں کو اختیار کریں

ارشاد باری تعالیٰ ہے :وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِؕ-فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْاؕ-وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ 34الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِۙ-وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ 35

ترجمۂ کنز الایمان:اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں اس کے دئیے ہوئے بے زبان چوپایوں پر تو تمہارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے حضور گردن رکھو اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو ۔ کہ جب اللہ کا ذکر ہوتا ہے ان کے دل ڈرنے لگتے ہیں اور جو افتاد پڑے اس کے سہنے والے اور نماز برپا رکھنے والے اور ہمارے دئیے سے خرچ کرتے ہیں ۔

تفسیر صراط الجنان:وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی یعنی گزشتہ ایماندار اُمتوں میں سے ہر امت کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک قربانی مقرر فرمائی تا کہ وہ جانوروں کو ذبح کرتے وقت ان پر اللہ تعالیٰ کا نام لیں تو اے لوگو! تمہارا معبود ایک معبود ہے اس لئے ذبح کے وقت صرف اسی کا نام لو اور اسی کے حضور گردن جھکاؤ اور اخلاص کے ساتھ اس کی اطاعت کرو اور اے حبیب ص ﷺ آپ عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں ۔ ( خازن، الحج، تحت الآیۃ: 39، 3 / 309، مدارک، الحج، تحت الآیۃ: 49، ص749 ملتقطاً)

جانور ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام ذکر کرنا شرط ہے: اس آیت میں اس بات پر دلیل ہے کہ جانور ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام ذکر کرنا شرط ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر ایک امت کے لئے مقرر فرما دیا تھا کہ وہ اس کے لئے تَقَرُّب کے طور پر قربانی کریں اور تمام قربانیوں پر صرف اسی کا نام لیا جائے ۔ (مدارک، الحج، تحت الآیۃ: 49، ص749

اَلَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ:وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر ہوتا ہے توان کے دل ڈرنے لگتے ہیں یعنی عاجزی کرنے والے وہ لوگ ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے تو ا س کی ہیبت و جلال سے ان کے دل ڈرنے لگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کا خوف ان کے اَعضا سے ظاہر ہونے لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں جو مصیبت و مشقت پہنچے اس پر صبر کرتے ہیں اور نماز کو ا س کے اوقات میں قائم رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے رزق میں سے صدقہ و خیرات کرتے ہیں ۔ ( مدارک، الحج، تحت الآیۃ: 35، ص790، تفسیرکبیر، الحج، تحت الآیۃ: 35، 7 / 225، ملتقطاً

ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا 35

ترجمۂ کنز الایمان:بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرماں بردار اور فرماں برداریں اور سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔

تفسیر صراط الجنان:اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ: بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں شانِ نزول:حضرت اسماء بنت ِعمیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا جب آپنے شوہرحضرت جعفر بن ابی طالب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ حبشہ سے وآپس آئیں تو ازواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنَّ سے مل کر انہوں نے دریافت کیا کہ کیا عورتوں کے بارے میں بھی کوئی آیت نازل ہوئی ہے ۔ اُنہوں نے فرمایا :نہیں تو حضرت اسماء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے حضور پُر نور ص ﷺ سے عرض کی یا رسولَ اللہ! ص ﷺ عورتیں توبڑے نقصان میں ہیں ۔ ارشادفرمایا کیوں؟عرض کی ان کا ذکر قرآن میں خیر کے ساتھ ہوتا ہی نہیں جیسا کہ مردوں کا ہوتا ہے ۔ اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی اور ان کے دس مراتب مردوں کے ساتھ ذکر کئے گئے اور ان کے ساتھ ان کی مدح فرمائی گئی ۔

مردوں کے ساتھ عورتوں کے دس مراتب:اس آیت میں مردوں کے ساتھ عورتوں کے جو دس مراتب بیان ہوئے ان کی تفصیل درج ذیل ہے:

(1)وہ مرد اور عورتیں جو کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کی اور ان احکام کے سامنے سرِ تسلیم خم کردیا ۔

(2)وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی کریم ص ﷺ کی رسالت کی تصدیق کی اور تمام ضروریاتِ دین کو مانا ۔

(3)وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے عبادات پر مُداوَمَت اختیار کی اور انہیں ان کی حدود اور شرائط کے ساتھ قائم کیا ۔

(4)وہ مرد اور عورتیں جو اپنی نیت قول اور فعل میں سچے ہیں ۔

(5)وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے نفس پر انتہائی دشوار ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے طاعتوں کی پابندی کی، ممنوعات سے بچتے رہے اور مَصائب و آلام میں بے قراری اور شکآیت کا مظاہرہ نہ کیا ۔

(6)وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے طاعتوں اور عبادتوں میں آپنے دل اور اعضاء کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کی ۔

(7)وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے عطا کئے ہوئے مال میں سے اس کی راہ میں فرض اور نفلی صدقات دئیے ۔

(8)وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے فرض روزے رکھے اور نفلی روزے بھی رکھے ۔ منقول ہے کہ جس نے ہر ہفتہ ایک درہم صدقہ کیا وہ خیرات کرنے والوں میں اور جس نے ہر مہینے اَیّامِ بِیض (یعنی قمری مہینے کی 13، 14، 15 تاریخ کے تین روزے رکھے وہ روزے رکھنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔

(9)وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے اپنی عفت اور پارسائی کو محفوظ رکھا اور جو حلال نہیں ہے اس سے بچے ۔

10 وہ مرد اور عورتیں جو آپنے دل اور زبان کے ساتھ کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ۔ کہا گیا ہے کہ بندہ کثرت سے ذکر کرنے والوں میں اس وقت شمار ہوتا ہے جب کہ وہ کھڑے بیٹھے ،لیٹے ہر حال میںاللہ تعالیٰ کا ذکر کرے ۔

خلاصہ یہ ہے کہ جو عورتیں اسلام ایمان اورطاعت میں قول اور فعل کے سچا ہونے میں صبر عاجزی و انکساری اور صدقہ و خیرات کرنے میں ،روزہ رکھنے اور اپنی عفت و پارسائی کی حفاظت کرنے میں اور کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے میں مردوں کے ساتھ ہیں توایسے مردوں اور عورتوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کی جزا کے طور پر بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ ابو سعود ، الاحزاب ، تحت الآیۃ : 35 ، 4 / 361 ، مدارک، الاحزاب ، تحت الآیۃ: 35، ص841، خازن، الاحزاب، تحت الآیۃ: 35، 3/ 500، ملتقطاً)

اللہ تعالیٰ کا ذکر اور ا س کی کثرت سے متعلق دو باتیں :

اس آیت میں مردوں اور عورتوں کے 10مراتب ایک ساتھ بیان ہوئے جن کا بیان اوپر ہو چکا، یہاں دسویں مرتبے اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت کے بارے میں دو باتیں ملاحظہ ہوں :

1 ذکر میں تسبیح پڑھنا اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنا کلمہ طیبہ کا ورد کرنا اللہ اَکْبَر کہنا،قرآن مجید کی تلاوت کرنا دین کا علم پڑھنا اور پڑھانا نمازادا کرنا وعظ و نصیحت کرنا میلاد شریف اور نعت شریف پڑھنا سب داخل ہیں ۔

2ذکر کی کثرت کی صورتیں مختلف لوگوں کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہیں اور ا س کی سب سے کم صورت یہ ہے کہ اَصحابِ بدر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی تعداد کے برابر یعنی313مرتبہ تسبیح وغیرہ پڑھ لینا کثرت میں شمار ہوتا ہے ۔

کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے تین فضائل:

یہاں اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت کے ساتھ کرنے کے فضائل پر مشتمل3اَحادیث ملاحظہ ہوں ۔

1 حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں رسولِ کریم ص ﷺ مکہ کے راستہ میں جارہے تھے کہ ایک پہاڑ کے قریب سے گزرے جسے جُمْدَان کہا جاتا ہے اس وقت صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے ارشاد فرمایا چلو یہ جُمْدَان ہے سبقت لے گئے جدا رہنے والے ۔ صحابہ ٔ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی یا رسولَ اللہ! ص ﷺ الگ رہنے والے کون لوگ ہیں ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کی بہت یاد کرنے والے مرد اور عورتیں ۔ مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار، باب الحث علی ذکر اللہ تعالٰی، ص1439، الحدیث:4 2676

2 حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روآیت ہے ،حضورِ اقدس ص ﷺ نے ارشاد فرمایا جدا رہنے والے سب سے آگے بڑھ گئے ۔ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی جدا رہنے والے کون ہیں ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مُستَغرق لوگ ۔ ذکر نے ان کے بوجھ ان سے اتار دئیے پس وہ قیامت کے دن ہلکے پھلکے آئیں گے ۔ ( ترمذی، احادیث شتی، باب فی العفو والعافیۃ، 5 / 342، الحدیث:3607

3 حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روآیت ہے کہ رسولِ اکرم ص ﷺ سے دریافت کیا گیا کون سے بندے اللہ تعالیٰ کے نزدیک افضل اور قیامت کے دن بلند درجے والے ہیں ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کا بہت ذکر کرنے والے مرد اور بہت ذکر کرنے والی عورتیں عرض کی گئی یا رسولَ اللہ ص ﷺ ان کا درجہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں سے بھی زیادہ ہو گا؟ارشاد فرمایا اگر کوئی شخص مشرکین اور کفار پر اتنی تلوار چلائے کہ تلوار ٹوٹ جائے اور خون میں رنگ جائے تب بھی کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا اس سے درجے میں زیادہ ہوگا ۔ (مشکاۃ المصابیح، کتاب الدعوات، باب ذکر اللہ عزوجل والتقرب الیہ، الفصل الثالث، 1/ 928، الحدیث: 2280

اللہ تعالیٰ مسلمان مردوں اور عورتوں کو کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اٰمین ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةًؕ-وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُؕ-وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُ جُ مِنْهُ الْمَآءُؕ-وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِؕ-وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ 74

ترجمۂ کنز الایمان:پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے تو وہ پتھروں کی مثل ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ حب کَرّے اور پتھروں میں تو کچھ وہ ہیں جن سے ندیاں بہہ نکلتی ہیں اور کچھ وہ ہیں جو پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکلتا ہے اور کچھ وہ ہیں کہ اللہ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں اور اللہ تمہارےکوتکوں سے بے خبر نہیں ۔

تفسیر صراط الجنان:ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ پھر تمہارے دل سخت ہوگئے اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے زمانے میں موجود یہودیوں کو مخاطب کر کے فرمایا گیا کہ آپنے آباؤ اجداد کے عبرت انگیز واقعات سننے کے بعد تمہارے دل حق بات کو قبول کرنے کے معاملے میں سخت ہوگئے اور وہ شدت و سختی میں پتھروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت ہیں کیونکہ پتھر بھی اثر قبول کرتے ہیں کہ کچھ پتھروں سے ندیاں بہہ نکلتی ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ جب پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکلتا ہے اور کچھ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ڈر سے اوپر سے نیچے گر پڑتے ہیں جبکہ تمہارے دل اطاعت کے لئے جھکتے ہیں نہ نرم ہوتے ہیں نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی وہ کام کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے ہرگز بے خبر نہیں بلکہ وہ تمہیں ایک خاص وقت تک کے لئے مہلت دے رہا ہے ۔ (روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: 79، 1/ 159-159، جلالین، البقرۃ، تحت الآیۃ: 79، ص14، ملتقطاً

دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس آیت میں بنی اسرائیل کے وہ لوگ مراد ہیں جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے میں موجود تھے ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ بڑی بڑی نشانیاں اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزات دیکھ کر بھی انہوں نے عبرت حاصل نہ کی ان کے دل پتھروں کی طرح ہوگئے بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت کیونکہ پتھر بھی اثر قبول کرتے ہیں کہ ان میں کسی سے ندیاں بہہ نکلتی ہیں کوئی پتھرپھٹ جاتا ہے تو اس سے پانی بہتا ہے اور کوئی خوف ِ الہٰی سے گرجاتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا ہے لیکن انسان جسے بے پناہ اِدراک و شعور دیا گیا ہے حواس قوی ہیں عقل کامل ہے، دلائل ظاہر ہیں عبرت و نصیحت کے مواقع موجود ہیں لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی کی طرف نہیں آتا ۔

دل کی سختی کا انجام:اس سے معلوم ہو اکہ دل کی سختی بہت خطرناک ہے ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖؕ-فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِؕ-اُولٰٓىٕكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ

ترجمۂ کنزالعرفان تو کیا وہ جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا تو وہ آپنے رب کی طرف سے نور پر ہے اس جیسا ہوجائے گا جو سنگدل ہے تو خرابی ہے ان کیلئے جن کے دل اللہ کے ذکر کی طرف سے سخت ہوگئے ہیں ۔ وہ کھلی گمراہی میں ہیں ۔ (زمر: 22‏)

حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا اللہ تعالیٰ کے ذکر کے علاوہ زیادہ کلام نہ کیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے علاوہ کلام کی کثرت دل کو سخت کر دیتی ہے اور لوگوں میں اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ دور وہ شخص ہوتا ہے جس کا دل سخت ہو ۔ (ترمذی، کتاب الزہد،6-باب منہ، 9 / 189، الحدیث: 2429)

احادیث کی روشنی میں:نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مَعَاذِ بْنِ اَنَسٍ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ تَرَكَ اللِّبَاسَ تَوَاضُعًا لِلهِ، وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهِ، دَعَاهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُؤُوْسِ الْخَلَا ئِقِ حَتّٰی يُخَيِّرَهُ مِنْ اَيِّ حُلَلِ اْلاِيْمَانِ شَاءَ يَلْبَسُهَا،

ترجمہ احادیث حضرت سَیِّدُنا معاذ بن انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہےکہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا جس نےرضائے الٰہی کےلئے تواضع اختیارکرتے ہوئے عمدہ لباس ترک کیا حالانکہ وہ اس پر قادرتھا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ بروزِقیامت اسے تمام مخلوق کے سامنے بلا کر اختیار دےگا کہ ایمان کا جو جوڑا چاہے پہن لے ۔

تشریح ۔ پُرانا اور پیوند والا لباس افضل ہے: عَلَّامَہ عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِی فرماتے ہیں جس نے قدرت ہوتے ہوئے بھی زیادہ قیمت والا خوبصورت کپڑا فقط اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خاطر تواضع کی وجہ سے ترک کردیا نہ کہ اس لئے کہ لوگ اسے متواضع یا زاہد کہیں گے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے تمام مخلوق کے سامنے بلائے گا تاکہ لوگوں کے درمیان اسے شہرت عطا فرمائے اور اسے اختیار دےگا کہ ایمان کا جو جوڑا چاہے پہن لے یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اون کا لباس پہنا اور بکریاں باندھی، اسی سے علامہ سہروردی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی نے یہ بات اخذ کی ہے کہ پُرانا اور پیوند لگاہوا کپڑا پہننا افضل ہے عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں مذکورہ فضیلت صرف اس کے لیے ہے جس نےباوجودِ قدرت عمدہ لباس بطورِ تواضع چھوڑاہو اور دنیا کی زیب و زینت ترک کردی ہو، اورجو اس لئے عمدہ لباس نہ پہنے کہ اس کےپاس ہے ہی نہیں تواسے یہ فضیلت حاصل نہ ہوگی ۔ ہاں !اگر کوئی شخص یہ ارادہ کرے کہ اگر اسے اچھا لباس پہننے پر قدرت حاصل ہوئی تب بھی وہ تواضع کرتے ہوئے عمدہ لباس نہیں پہنے گا تو اسےاچھی نیت پر ثواب دیا جائے گا کیونکہ حدیث پاک میں ہے نِيَّةُ الْمُؤْمِنِ خَيْرٌ مِنْ عَمَلِهِ یعنی مسلمان کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے سادہ لباس کے بارے میں بزرگانِ دِین کے پانچ اَقوال: 1حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن شُبْرُمہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں میرا بہترین لباس وہ ہے جو میری خدمت کرے اور میرا بدترین لباس وہ ہے جس کی میں خدمت کروں 2 ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں ایسا لباس پہنو کہ تم بازار میں موجود عام لوگوں کی طرح نظر آؤ ایسا لباس مت پہنو جو تمہیں مشہور کردے اورلوگوں کی نظریں تمہاری طرف اٹھیں 3 امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کُھردرا لبا س زیب تن فرمایا کرتے تھے کسی نے اس بارے میں عرض کی، تو فرمایا ایسا لباس تواضُع کے زیادہ قریب ہے اور اس لائق ہے کہ مسلمان اس کی پیروی کریں 4 امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعُمَرفارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کُھردرااورموٹالباس پہنو اور عجمیوں یعنی قیصروکسریٰ کے لباس سے بچو 5حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں عرض کی گئی آپ عمدہ لباس کیوں نہیں پہنتے فرمایا بھلا غلام کو عمدہ لباس پہننے کی کیا ضرورت ہے ،البتہ جب یہ دوزخ کی آگ سے آزادی پالےگا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم پھر اسے ایسا لباس حاصل ہوگا جو کبھی بوسیدہ نہ ہوگا ۔

مدنی گلدستہ ’’تواضع‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول ۔

1جو شخص قدرت کے باوجود اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خاطر تواضع کرتے ہوئے عمدہ لباس ترک کردے تو قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے مخلوقات کے سامنے اختیار دے گا کہ ایمان کا جو جوڑا چاہے پہن لے ۔

2 جو شخص اس لیے سادہ لباس پہنے کے لوگ اسے زاہد و متواضع کہیں تو ایسے شخص کو مذکورہ حدیث پاک میں بیان کردہ فضیلت حاصل نہیں ہوگی ۔

3 عمدہ لباس کے مقابلے میں تواضع کرتے ہوئے پُرانا اور پیوند لگا ہوالباس پہننا افضل ہے ۔

4 جویہ عزم کرے کہ اگر مجھے عمدہ لباس پہننے پر قدرت حاصل ہوئی تو میں تواضع کرتے ہوئے عمدہ لباس نہیں پہنوں گا تو اسے اچھی نیت پر ثواب دیا جائے گا ۔

5 صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناور بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِیْن سادہ اور کُھردرا لباس پہننا پسند فرماتے تھے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی رضا کی خاطر تواضع کرتے ہوئے سادہ لباس پہننے کی توفیق عطا فرمائےاوردِین ودنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے ۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ( فیضان ریاض الصالحین جلد:6 ، حدیث نمبر:802)

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فِي الِاسْتِسْقَاءِ مُتَبَذِّلًا مُتَوَاضِعًا مُتَخَشِّعًا مُتَضَرِّعًا، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

ترجمہ ۔ روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے دعائے بارش کےلیئے سادہ کپڑے زیب تن کیے عاجزی کر تے تواضع اور زاری کرتے تشریف لے گئے

تشریح ۔ یعنی استسقاء کےلیئے دولت خانہ شریف سے نکلتے وقت یہ حال تھا کہ لباس عاجزانہ تھا زبان پرالفاظ انکسار کے تھے یعنی متواضع دل میں خشوع خضوع تھا ذکر الٰہی میں مشغول تھے،آنکھیں تر تھیں اب بھی صفت یہی ہے کہ استسقاء کےلیئے جاتے وقت امیربھی فقیرانہ لباس پہن کر جائیں کہ بھکاریوں کی وردی یہی ہے،راستہ میں یہ سارے کام کرتے ہوئے جائیںاِنْ شَاءَاللّٰهُ دعا ضرور قبول ہوگی ۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 ، حدیث نمبر:1505)

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا عَنْ اَبِیْ ھُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ اِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلّٰہِ اِلَّا رَفَعَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ،

ترجمہ ۔ حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روآیت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور کسی کو معاف کردینے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کی عزت ہی بڑھاتا ہے اور جو اللہ عَزَّ وَجَلّ َکی خاطر تواضع اختیار کرتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُسے بلندی ہی عطا فرماتا ہے

تشریح ۔ خیرات مال بڑھاتی ہے:مذکورہ حدیثِ پاک میں صدقہ کرنے معاف کرنے اور تواضع اختیار کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ مذکورہ حدیثِ پاک کے تین جزء ہیں پہلے جزء میں بیان ہوا کہ صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا ۔ بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں جو خیرات کی جائے وہ مال کم نہیں کرتی بلکہ مال بڑھاتی ہے زکوٰۃ دینے والے کی زکوٰۃ ہر سال بڑھتی ہی رہتی ہے ۔ تجربہ ہے جو کسان کھیت میں بیج پھینک آتا ہے وہ بظاہر بوریاں خالی کرلیتا ہے لیکن حقیقت میں مع اضافہ کے بھر لیتا ہے، گھر کی رکھی بوریاں چوہے سُسری وغیرہ آفات سے ہلاک ہوجاتی ہیں یا یہ مطلب ہے کہ جس مال میں سے صدقہ نکلتا رہے اس میں سے خرچ کرتے رہو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ بڑھتا ہی رہے گا، کنوئیں کا پانی بھرےجاؤ تو بڑھے ہی جائے گا ۔ صدقہ دینے سے مال میں کمی نہ ہونے کی دو صورتیں ہیں 1 اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس مال میں برکت عطا فرماتا ہے اور اس سے نقصان کو دور فرمادیتا ہے اور صدقہ کرنے سے اس مال میں ظاہری طورپر جو کمی ہوتی ہے اُس کمی کو پوشیدہ برکت کے ذریعے پوری فرمادیتا ہے 2صدقہ کرنے سے اس مال میں جو کمی ہوتی ہے اُس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ثواب عطا فرما کر اس مال کی کمی کو پورا فرمادیتا ہے اور آخرت میں اُسے کئی گُنا زیادہ عطا فرماکر اس کا بہترین بدل عطا فرمادے گا ۔ معافی سے دِلوں پر قبضے ہوجاتے ہیں حدیثِ پاک کے دوسرے جزء میں بیان ہوا کہ جو معاف کرتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کی عزت بڑھاتا ہے ۔ مرآۃ المناجیح میں ہے یعنی جو بدلہ پر قادر ہو پھر مجرم کو معافی دے دے تو اس سے مجر م کے دل میں اس کی اطاعت اور محبت پیدا ہوجاتی ہے اور اگر بدلہ لیا جائے تو اس کے دل میں بھی انتقام کی آگ بھڑک جاتی ہے ۔ فتحِ مکہ کے دن کی عام معافی سے سارے کفار مسلمان ہوکر حضورِ انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے مطیع فرمان ہوگئے معافی سے دلوں پر قبضے ہوجاتے ہیں مگر معافی آپنے حقوق میں چاہیئے نہ کہ شرعی حقوق میں ۔ قومی ملکی، دِینی مجرموں کو کبھی معاف نہ کرو آپنے مجرم کو معاف کردو ۔ یا عزت بڑھانے سے مراد یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آخرت میں اسے معاف کرنے کا اجر عطا فرمائے گا اور وہاں اس کی عزت بڑھائے گا ۔

تواضع و اِنکساری:حدیثِ پاک کے تیسرے جزء میں بیان ہوا کہ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے بلندی عطا فرماتا ہے ۔ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں اس کی دو صورتیں ہیں 1 اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے دنیا میں بلند مقام عطا فرمادے اور تواضع کرنے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں اس کی قدر و منزلت بیٹھ جائے اوراللہ تعالیٰ اسے لوگوں کے نزدیک رفعت و بزرگی عطا فرما دے 2 اسے آخرت میں اس کا اجر عطا فرمائے اور دنیا میں تواضع کرنے کے سبب اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے آخرت میں رفعت و بلندی سے سرفراز فرمائے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دونوں صورتیں ایک ساتھ پائی جائیں یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے دنیا میں بھی قدر و منزلت سے نوازے اور آخرت میں بھی بلندی و رفعت عطا فرمائے مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں اِنکساری جو خود داری کے ساتھ ہو وہ بڑی بہتر ہے اس کا انجام بلندیٔ درجات ہے مگر بے غیرتی کی اِنکساری اِنکساری نہیں بلکہ اِحساسِ پستی ہے جہاد میں کفار کے مقابل فخر کرنا عبادت ہے، مسلمان بھائی کے سامنے جھکنا ثواب اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ پ35،الفتح:39 ترجمۂ کنزالایمان:کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِی فرماتے ہیں ”انسان میں فطری طورپر مال کی محبت اور طمع ہوتی ہے اورفطری طور پر غصہ انتقام اور تکبرجیسے اَعمال کے ذریعے درندگی بھی ہوتی ہے ۔ اس لیے حضورعَلَیْہِ السَّلَام نے ان بُرائیوں کو ختم کرنے کے لیے پہلے صدقہ کرنے کی ترغیب دی تاکہ انسان میں سخاوت پیدا ہو اور اس کے بعد معاف کرنے اور درگزر کرنے کا حکم دیا تاکہ انتقام لینے کی چاہت ختم ہو اور بندہ حلم و وقار کے ذریعے مُعَزَّ ز ہو جائے اور پھر تواضُع کا حکم دیا تاکہ بندے سے تکبر نکل جائے اور وہ دو جہانوں میں بلند مرتبہ ہو جائےمدنی گلدستہ خیرات کرو‘‘کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول

(1) صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس میں برکت عطا فرماتا ہے ۔

(2) صدقہ سے مال میں جو کمی ہوتی ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ آخرت میں کئی گنا زیادہ بہتر اجر عطا فرماکر اس کمی کو پورا فرمادے گا ۔

(3) جو بدلہ لینے پر قادر ہو پھر بھی معاف کردے تو اس سے مجرم کے دل میں اس کی عزت اور محبت پیدا ہوتی ہے، بدلہ لینے سے مجرم کے دل میں بھی انتقام کی آگ بھڑکتی ہے جبکہ معافی سے دلوں پر قبضے ہو جاتے ہیں ۔

(4) انسان کوچاہیے کہ وہ آپنے حقوق معاف کردے لیکن شرعی اور ملکی مجرم کو معاف نہ کرے ۔

(5) جو اللہ عَزَّ وَجَلّ َکے لیےعاجزی و اِنکساری کرتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ لوگوں کے دلوں میں اس کی قدر و منزلت بٹھا دیتا ہے ۔

(6) جو اللہ عَزَّ وَجَلّ َکے لیے تواضع اختیار کرے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس دنیا و آخرت میں بلندی عطا فرمائے گا ۔

7 جو انکساری خود داری کے ساتھ ہو وہ بہت اچھی ہے لیکن جس اِنکساری میں بے عزتی ہے وہ انکساری نہیں بلکہ احساسِ کمتری ہے ۔ ( کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:5 ، حدیث نمبر:555)

حرص انتقام کی چاہت اور تکبر شیطان کی صفات ہیں اسی لیے حضورعَلَیْہِ السَّلَام کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے سخاوت عفو و درگُزر اور تواضع اختیار کرنا چاہیے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں سخاوت عفو و درگُزر اور عاجزی و اِنکساری اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن ﷺ

اختتام ۔ اللہ رب العزت ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔