ا خوت رسول اللہ: حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کی بہت سی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ آپ سرکار اقدس ﷺ کے داماد اور چچا زاد بھائی ہونے کے ساتھ، عقد مواخاۃ، میں بھی آپ کے بھائی ہیں جیسا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ کرایا تو علی آئے ان کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں عرض کیا کہ آپ نے اپنے صحابہ میں بھائی چارہ کرا دیا مجھے کسی کا بھائی نہ بنایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم دین و دنیا میں میرے بھائی ہو۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3741)

علی کا مقام خاص: روایت ہے حضرت سعد بن ابی وقاص سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جناب علی سے فرمایا کہ تم مجھ سے اس درجے میں ہو جو ہارون کو موسی سے تھا بجز اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (بخاری، 3/144، حدیث: 4416)

محبتِ رسول اللہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں جس کا مولا ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں یا اللہ جو شخص علی سے محبت رکھے تو بھی اسے محبت رکھ اور جو شخص علی سے عداوت رکھے تو بھی اس سے عداوت رکھ۔ (مسند امام احمد، 1/250، حدیث: 950)

عطائے رسول اللہ: روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ میں جب رسول اللہ ﷺ سے مانگتا تھا تو آپ مجھے عطا فرماتے تھے اور جب میں خاموش ہوتا تو آپ مجھ سے کلام کی ابتدا فرماتے۔ (ترمذی، 5/402، حدیث: 3743)

علی علم کا دروازہ:نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ (مستدرک، 4/96، حدیث: 4693)

قرب بے مثال: روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ سے وہ قرب و منزلت تھی جو مخلوق میں کسی کو نہ تھی۔

جس نے آپ کو برا کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے علی کو برا بھلا کہا تو تحقیق اس نے مجھ کو برا بھلا کہا۔ (مسند احمد،10/228،حديث:26810)

علی کا دشمن، اللہ کا دشمن ہے: حضور ﷺ نے فرمایا: جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی اور جس نے علی سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی اور جس نے مجھ سے دشمنی کی اس نے اللہ سے دشمنی کی۔ (تاریخ الخلفاء، ص 135)