03260062811

کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے، اس سے غیر شرعی دشمنی وبغض رکھے، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ 53) کسی بھی مسلمان کے متعلق بلا وجہ شرعی اپنے دل میں بغض وکینہ رکھنا ناجائز وگناہ ہے۔ سیِّدُنا عبد الغنی نابلسی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’حق بات بتانے یا عدل و انصاف کرنے والے سے بغض و کینہ رکھنا حرام ہے ۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ 54) مومن کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ دل میں بغض و کینہ نہیں رکھتا بلکہ وہ انہیں دور کرنے کے لیے دل کو ذکر الہیٰ سے تر ، معافی اور در گزر سے کام لیتا ہے ۔ آیئے اب ہم بعض و کینہ کی مذمت حدیث کی روشنی میں ملاحظہ کرتے ہیں :

(1) دین کو تباہ کر دیتا ہے : وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ وَلٰكِنْ تَحْلِقُ الدِّيْنَ ترجمہ : روایت ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے ۔ ( مراة المناجیح شرح مشکوٰۃ شریف ، باب اچھی باتوں کا بیان ، ج : 6 ، حدیث: 5039)

(2) تحفہ لینا اور دینا : وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَهَادَوْا فَإِنَّ الْهَدِيَّةَ تُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ وَلَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ شِقَّ فِرْسِنِ شَاةٍ ترجمہ : روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم ﷺ سے راوی فرمایا آپس میں ہدیے لو دو کہ ہدیہ سینہ کا کینہ دور کرتا ہے کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کو حقیر نہ جانے اگر چہ بکری کی کھری کا ٹکڑا ہی ہو ۔ ( مراة المناجیح شرح مشکوٰۃ شریف ، باب تجارتوں کا بیان ، ج : 4 ، حدیث 3028)

(3) صبح وشام کس طرح گزارے؟ وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا بُنَيَّ إِنْ قَدَرْتَ أَنْ تُصْبِحَ وَتَمْسِيْ وَلَيْسَ فِي قَلْبِكَ غِشٌّ لِأَحَدٍ فَافْعَلْ ترجمہ: روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے میرے بچے اگر تم یہ کرسکو کہ صبح اور شام ایسے گزارو کہ تمہارے دل میں کسی کی طرف سے کھوٹ (کینہ)نہ ہو تو کرو۔ ( مراة المناجیح شرح مشکوٰۃ شریف ، ایمان کا باب ، ج : 1 ، حدیث : 175 )

(4) سلامت دل والا: وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ قَالَ: كُلُّ مَخْمُومِ الْقَلْبِ صَدُوقِ اللِّسَانِ ، قَالُوا: صَدُوقُ اللِّسَانِ نَعْرِفُهُ فَمَا مَخْمُومُ الْقَلْبِ قَالَ: هُوَ النَّقِيُّ التَّقِيُّ لَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَلَا بَغْيَ، وَلَا غِلَّ وَلَا حَسَدَ ترجمہ: روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ سے عرض کیا گیا کہ لوگوں میں سے کون افضل ہے؟ فرمایا ہر سلامت دل والا سچی زبان والا، لوگوں نے عرض کیا کہ سچی زبان والے کو تو ہم جانتے ہیں تو سلامت دل والا کیا ہے ؟ فرمایا وہ ایسا ستھرا ہے جس پر نہ گناہ ہو نہ بغاوت نہ کینہ اور نہ حسد ۔ ( مراة المناجیح شرح مشکوٰۃ شریف ، باب دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان ، ج : 7 ، حدیث: 5221)

بغض و کینہ کے چند علاج :

(1) سلام ومصافحہ کی عادت بنا لیجئےکہ سلام میں پہل کرنا اور ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا یا گلے ملنا آپ کے کینے کو ختم کردیتا ہے، نیز تحفہ دینے سے بھی محبت بڑھتی اور عداوت دور ہوتی ہے۔

(2) ایمان والوں کے کینے سے بچنے کی دعا کیجئے۔ پارہ 28 سورۂ حشر، آیت نمبر 10 کو یاد کرلینا اور وقتاً فوقتاً پڑھتے رہنا بھی بہت مفید ہے۔

(3) مسلمانوں سے اللہ کی رضا کے لیے محبت کیجئے۔ محبت کینے کی ضد ہے لہٰذا اگرہم رضائے الٰہی کے لیے اپنے مسلمان بھائی سے محبت رکھیں گے تو کینے کو دل میں آنے کی جگہ نہیں ملے گی اور دیگر فضائل بھی حاصل ہوں گے۔

(4) سوچئے اور عقلمندی سے کام لیجئے۔ کینے کی بنیاد عموماً دنیاوی چیزیں ہوتی ہیں ، لیکن سوچنے کی بات ہے کہ کیا دنیا کی وجہ سے اپنی آخرت کو برباد کرلینا دانشمندی ہے۔یقیناً نہیں تو پھر اپنے دل میں کینے کو ہرگز جگہ مت دیجئے ۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ 55 ۔ 57)

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کے صدقے ہم سب کو بغض و کینہ اور تمام باطنی بیماریوں سے نجات عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


03246535883

اللہ پاک نے ہمیں اس دنیا میں بھیجا ہے تاکہ ہم اس کے حکم کی پیروی کریں یعنی اسکی عبادت کریں اور اسکے ساتھ ساتھ گناہوں سے بچیں ۔ اب کچھ گناہ ظاہری ہوتے ہیں جیسے شراب پینا ،زنا کرنا وغیرہ اور کچھ باطنی گناہ ہوتے ہیں جیسے حسد اور خود پسندی وغیرہ بغض وکینہ بھی باطنی امراض میں سے ہے جن کی احادیث مبارکہ میں بھی شدید مذمت آئی ہے ۔ ذیل میں چند احادیث بیان کی گئی ہیں جس میں بغض وکینہ سے بچنے کا فرمایا گیا ہے:

(1) عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’لَاتَحَاسَدُوْا وَلَاتَنَاجَشُوْا وَلَاتَبَاغَضُوْا ترجمہ:حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، صرف قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ، آپس میں بغض نہ رکھو۔(مسلم، كتاب البر والصلۃ والاٰداب، باب تحريم ظلم المسلم وخذلہ واحتقاره الخ، ص1064، حدیث:6541)

(2) عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رضی اللہ عنہ مَا عَنِ النَّبيّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ قَالَ فِی الْاَنْصَارِ : لَا يُحِبُّهُمْ اِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُهُمْ اِلاَّ مُنَافِقٌ مَنْ اَحَبَّهُمْ اَحَبَّهُ اللهُ وَمَنْ اَبْغَضَهُمْ اَبْغَضَهُ اللهُ ترجمہ:حضرت سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے مَروی ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رَبِّ اکبر ﷺ نے انصارکے بارے میں ارشادفرمایا : ’’ان سے مؤمن ہی محبت رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور جو اِن سے محبت کرےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے محبت فرماتا ہے اور جو ان سے بغض رکھےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ناپسند فرماتاہے ۔ ‘‘(فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:380)

(3) وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ وَلٰكِنْ تَحْلِقُ الدِّيْنَ ترجمہ:روایت ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے والی ہے، میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5039)

(4) وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللهَ تَعَالٰى لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهٖ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاھِنٍ ترجمہ:روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے وہ رسول الله ﷺ سے راوی کہ آپ نے فرمایا : الله تعالٰی پندرھویں شعبان کی شب میں توجہ کرم فرماتا ہے تو کافر یا کینہ والے کے سوا اپنی سب مخلوق کو بخش دیتا ہے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 ، حدیث نمبر:1306)

اللہ پاک ہمیں بغض وکینہ سمیت تمام باطنی و ظاہری گناہوں سے نجات عطا فرمائے۔ آمین 


فون نمبر 03228448638

اللہ پاک کی رضا حصول جنت دنیا و آخرت میں فلاح و کامیابی کے لیے جس طرح نیک اعمال کی ادائیگی ضروری ہے اسی طرح ہر طرح کے گناہوں سے بچنا بھی ضروری ہے پھر کچھ گناہوں کا تعلق ظاہر سے ہوتا ہے جیسے کہ قتل غیبت رشوت وغیرہ اور کچھ کا باطن سے جیسے بغض و کینہ وغیرہ

بغض و کینہ انتہائی مہلک ( ہلاک کرنے والی ) اور خطرناک باطنی بیماری ہے جس کا ارتکاب اللہ پاک کی ناراضگی دخول جہنم اور دنیا و آخرت میں خسارے کا سبب ہے ۔

بغض و کینہ کی تعریف : انسان دل میں کسی کو بوجھ جانے اس سے دشمنی رکھے نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ باقی رہے تو اسے کینہ کہتے ہیں۔ ( احیاء العلوم کتاب ذم الغضب والحقد والحسد ج 3 صفحہ 223 )

قرآن پاک میں متعدد مقامات پر بغض و کینہ کی مذمت کو بیان کیا گیا ہے اللہ پاک قرآن پاک میں بغض و کینہ کے وبال اور نتائج کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے : وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللہ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱) ترجمہ کنز الایمان: اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔ (پ 7 المائدہ 91)

کثیر احادیث میں بھی بغض و کینہ کی مذمت کو بیان کیا گیا ہے چنانچہ آپ بھی پانچ احادیث ملاحظہ کیجیے:

(1) دین کی تباہی: بعض و کینہ ایسی بیماریاں ہیں جو مسلمان کے دین و ایمان کو جڑ سے ختم کر دیتی جیسا کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم میں پچھلی امتوں کی بیماری حسد اور بغض سرایت کر گئی یہ مونڈ( تباہ کر) دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ یہ بال مونڈتی ہیں بلکہ یہ دین کو مونڈ دیتی ہیں۔ (سنن الترمذی کتاب صفت القیامہ ج 4 ص 228 الحدیث 2518)

(2) پچھلی امتوں کی بیماری: حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے: عنقریب میری امت کو پچھلی امتوں کی بیماری لاحق ہو گی، صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی : پچھلی امتوں کی بیماری کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا تکبر کرنا، اترانا، ایک دوسرے کی غیبت کرنا اور دنیا میں ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش کرنا نیز آپس میں بغض رکھنا ،بخل کرنا یہاں تک کہ وہ ظلم میں تبدیل ہو جائے اور پھر فتنہ و فساد بن جائے۔ (المعجم الاوسط باب المیم ، من اسمہ مقدام ج6 ص 348 الحدیث 9016)

(3) مغفرت سے محروم : نبی اکرم ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: اللہ عزوجل ماہ شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر اپنی قدرت کے شایان شان تجلی فرماتا ہے، مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور ہم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے جبکہ بغض( کینہ ) رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔ ( شعب الایمان ، باب فی الصیام ، ما جاء فی لیلتہ النصف من شعبان ج 3 ص 382 الحدیث 3835)

(4) جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا : حضور نبی کریم روف الرحیم ﷺ کا فرمان عبرت نشان ہے : جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ کینہ پرور ہے تو وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھ سکے گا ۔ ( حلیتہ الاولیاء ج 8 ص 105 الحدیث 11536)

(5) جہنم میں داخلہ: حضور نبی اکرم ﷺ میں فرمایا: بے شک چغل خوری اور کینہ پروری جہنم میں ہے، یہ دونوں کسی مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔ ( المعجم الاوسط باب العین من اسمہ عبدالرحمن ج3 ص 301 الحدیث 4653)

پیارے اسلامی بھائیو! یاد رہے کسی مسلمان سے بلا وجہ شرعی کینہ و بغض رکھنا حرام ہے۔( فتاویٰ رضویہ ج 6 ص 526 ) مسلمانوں کیلئے دل ہی دل میں پلنے والا بغض و کینہ اللہ رسول کی ناراضگی ، دنیا و آخرت میں رسوارئی اور جہنم میں داخلہ کا سبب بن سکتا ہے لہذا اس مہلک بیماری سے بچنا بے حد ضروری ہے ۔

چند طریقوں پر عمل کر کے بغض و کینہ جیسی بیماری سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے :

کینے کے اسباب (غصہ ،بدگمانی، شراب نوشی، جوا وغیرہ)دور کرنا، سلام مصافحہ کی عادت بنانا، مسلمانوں سے اللہ کی رضا کے لیے محبت کرنا، کینے کے نقصانات پر غور کرنا کہ کینہ اللہ و رسول کی ناراضگی، دوزخ میں داخلے، بخشش سے محرومی اور بھی بہت سے گناہوں کا سبب بن سکتا ہے ۔

اللہ پاک ہمیں بغض و کینہ جیسی مذموم بیماری سے بچ کر اپنی رضا کے لیے مسلمان بھائیو سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


واٹس ایپ نمبر : 03237160866

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو نہ صرف عبادات بلکہ انسانی اخلاق، معاملات اور باہمی تعلقات کو بھی منظم کرتا ہے۔ دین اسلام محبت، اخوت، رواداری، اور دلوں کی صفائی کا درس دیتا ہے، جبکہ بغض (دشمنی) اور کینہ (دل میں نفرت یا حسد رکھنا) کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی احادیث میں بغض و کینہ کو نہ صرف گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے بلکہ اسے ایمان کے منافی بھی قرار دیا گیا ہے۔ اس مضمون میں ہم احادیث کی روشنی میں بغض و کینہ کی مذمت اور اس کے نقصانات پر روشنی ڈالیں گے۔

بغض و کینہ کی تعریف: بغض کا مطلب ہے دل میں کسی کے خلاف دشمنی اور نفرت رکھنا، جبکہ کینہ اس نفرت کو دل میں دبائے رکھنا اور اس کا بدلہ لینے کی نیت رکھنا ہے۔ یہ دونوں صفات انسان کو نہ صرف روحانی طور پر تباہ کرتی ہیں بلکہ معاشرتی بگاڑ کا بھی سبب بنتی ہیں۔

احادیث میں بغض و کینہ کی مذمت:

(1) ایمان کی نفی: ہمارے پیارے نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو ایک دوسرے سے محبت رکھنے کی نصیحت کی ہے ، چنانچہ فرمایا : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ‏‏‏‏‏‏لَاتَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا ‏‏‏‏‏‏وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا یعنی قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے : تم جنت میں اس وقت تک نہیں جاؤ گے جب تک ایمان نہ لے آؤ ، اور تم ( کامل ) مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو۔ " (ابن ماجہ ، 4/200 ، حدیث : 3692)

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ ایمان کی تکمیل آپس کی محبت کے بغیر ممکن نہیں، اور بغض و کینہ محبت کی ضد ہیں۔

(2) اعمال کی قبولیت کا انکار: نبی ﷺ نے فرمایا: صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ باب النھی عن الشحناء والتھا جر کے تحت سید نا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ہر جمعرات اور سوموار کو تمام اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو اس دن اللہ تعالیٰ ہر اس آدمی کو بخش دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کرتا سوائے اس آدمی کے کہ جس کے درمیان اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت ہو۔ کہا جاتا ہے ان دونوں کو چھوڑ دیجئے۔ یہاں تک کہ صلح کر لیں۔‘‘(صحیح مسلم 2/317)

اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ بغض و کینہ رکھنے والوں کے اعمال بھی لٹکے رہتے ہیں اور مغفرت نہیں ہوتی جب تک وہ آپس میں صلح نہ کریں۔

(3) دل کی صفائی کی ترغیب: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ عنہ فرماتے ہیں : پیارے آقا ، نور والے مصطفےٰ ﷺ کی پاک بارگاہ میں عرض کیا گیا : اَیُّ النَّاسِ اَفْضَلُ یا رسولَ اللہ ﷺ ! لوگوں میں اَفْضَل کون ہے؟ فرمایا : کُلُّ مَخْمُوْمِ الْقَلْبِ ، صُدُوقُ اللِّسَانِ ہر وہ بندہ جو مَخْمُوْمُ الْقَلْب ہے اور سچّی زبان والا ہے۔ صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضْوَان نے عرض کیا : یا رسولَ اللہ ؤ ! صُدُوْقُ اللِّسَان (یعنی سچّی زبان والا) کسے کہتے ہیں ، یہ تو ہم جانتے ہیں ، مَخْمُوْمُ الْقَلْب کون ہے؟ فرمایا : وہ متقی شخص جس پر کوئی گُنَاہ نہ ہو ، اس کے دِل میں نہ سرکشی ہو ، نہ کینہ ہو ، نہ ہی حسد ہو۔ (ابنِ ماجہ ، کتابُ الزُّہد ، جلد : 4 ، صفحہ : 475 ، حدیث : 4216)

یہ حدیث ایک مؤمن کے اعلیٰ اخلاق کی نشاندہی کرتی ہے، جو کہ بغض و کینہ سے پاک دل رکھتا ہے۔

بغض و کینہ کے نقصانات

(1) دل میں بغض و کینہ رکھنے والا انسان ہمیشہ بے سکون رہتا ہے، اس کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں، اور وہ اللہ کی رحمت سے دور ہو جاتا ہے۔

(2) بغض و کینہ معاشرتی رشتوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ بھائی بھائی سے، دوست دوست سے دور ہو جاتے ہیں، جس سے معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔

(3) جیسا کہ حدیث میں آیا کہ بغض رکھنے والے کے اعمال معلق ہو جاتے ہیں، اور ان کی قبولیت رُک جاتی ہے، جو کہ ایک مؤمن کے لیے بڑا نقصان ہے۔

(4) مسلسل بغض رکھنے سے انسان کا ذہن منفی سوچ کا شکار ہو جاتا ہے، وہ خوشی محسوس نہیں کر پاتا، اور حسد کی آگ میں جلتا رہتا ہے۔

بغض و کینہ سے بچنے کے طریقے:

(1) : اس بات کو یاد کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بار بار معاف فرمانے والا ہے، اور اس نے ہمیں بھی معاف کرنے کا حکم دیا ہے۔

(2) نبی ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! میرے دل کو نفاق سے اور میرے عمل کو ریا سے پاک فرما۔ ۔۔الخ(مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2501)

(3) سلام آپسی محبت پیدا کرتا ہے اور دلوں کی دوری کو ختم کرتا ہے۔

(4) یہ مجاہدہ (نفس کے خلاف جنگ) کرنا ضروری ہے، اور قرآن کی تلاوت، ذکر، اور صحبت صالحین سے اس میں مدد ملتی ہے۔

اسلام ہمیں ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے کا حکم دیتا ہے جو محبت، رواداری، اور باہمی احترام پر قائم ہو۔ بغض و کینہ ایسی بیماریاں ہیں جو نہ صرف فرد کی روحانیت کو تباہ کرتی ہیں بلکہ پورے معاشرے کو بھی زہر آلود کر دیتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات ہمیں اس بات کی دعوت دیتی ہیں کہ ہم دلوں کو صاف رکھیں، ایک دوسرے کو معاف کریں، اور محبت و اخوت کے ساتھ زندگی گزاریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو بغض و کینہ سے پاک کر کے ان اخلاقِ حسنہ کو اپنائیں جن کی تعلیم نبی کریم ﷺ نے دی، تاکہ ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین 


فون نمر۔03270075368

بعض گناہوں کا تعلق ظاہر سے ہوتا ہے جیسا کہ قتل کرنا، حرام کھانا، جھوٹ بولنا وغیرہ اور بعض گناہ ایسے ہیں کہ جن کا تعلق باطن سے ہوتا ہے اور ان میں سے ایک گناہ بغض و کینہ بھی ہے کہ اپنے کسی مسلمان بھائی کے لیے دل میں نفرت رکھنا۔ آئیے بغض و کینہ کی مذمت میں چند احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں:

(1) حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ ﷺ نے ارشادفرمایا : ’’ایک دوسرےسے حسد نہ کرو ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اورقطع تعلقی نہ کرو۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:235)

( 2) صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: آپس میں نہ حسد کرو، نہ بغض کرو، نہ پیٹھ پیچھے برائی کرو اور اﷲ (عزوجل) کے بندے بھائی بھائی ہو کر رہو۔ ( صحیح البخاری ‘‘ ،کتاب الأدب، باب یایھا الذین اٰمنوا اجتنبوا ۔۔۔ إلخ ،الحدیث: 6066 ،ج 4 ،ص 117۔2)

(3 ) حضرت زبیر سے مروی ہے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے: تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے والی ہے، میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5039)

( 4) حضرت ابو موسیٰ اشعری سے وہ رسول الله ﷺ سے راوی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالٰی پندرھویں شعبان کی شب میں توجہ کرم فرماتا ہے تو کافر یا کینہ والے کے سوا سب مخلوق کو بخش دیتا ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 ، حدیث نمبر:1306)

(5) رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: الْمُؤْمِنُ لَيسَ بِحقُود یعنی مومن کینہ پرور نہیں ہوتا۔ (الزواجر عن اقتراف الكبائر، الكبيرة الثالثۃ الغضب بالباطل الخ ، 1/ 124)

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہمیں اپنے مسلمان بھائی سے محبت کرنے اور اپنے دل میں کسی کا بغض و کینہ نہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن ﷺ 


فون نمبر:03044479208

اللہ پاک،قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

‏اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللہ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱) ترجمہ کنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔ (پ7، المائدۃ:91)

کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے، اس سے غیر شرعی دشمنی وبغض رکھے، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ53)

انسانی معاشرت کا حسن، باہمی محبت، الفت اور خیر خواہی میں مضمر ہے۔ جب یہ خوبصورت رشتے بغض و کینہ کی بدصورتی کا شکار ہوتے ہیں تو نہ صرف معاشرہ بلکہ انفرادی زندگی بھی تاریک ہو جاتی ہے۔ بغض و کینہ درحقیقت ایک ایسی روحانی بیماری ہے جو دلوں کو زہر آلود کر دیتی ہے، رشتوں میں دراڑیں ڈال دیتی ہے اور انسان کو نیکیوں سے دور کر دیتی ہے۔ یہ وہ منفی جذبات ہیں جو شیطان کے ہتھکنڈوں میں سے ہیں، جن کا مقصد انسان کو تباہی کی طرف دھکیلنا ہے۔ اسلام نے ان مہلک بیماریوں سے بچنے کی پرزور تلقین کی ہے اور ان کے نقصانات کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔ آئیے بغض و کینہ کے متعلق چند احادیث مبارکہ پڑھیے:

دل کی پاکیزگی ایمان کا درجہ: عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ:لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ(صحيح البخاري،كتاب الأدب،باب الھجرہ،حدیث: 6077)ترجمہ: حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ اپنے کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ کے لیے ملاقات چھوڑے، اس طرح کہ جب دونوں کا سامنا ہو جائے تو یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام قطع تعلق کو پسند نہیں کرتا۔ سلام میں پہل کرنا بغض کے زہر کا علاج ہے۔ جو شخص پہل کرتا ہے، وہ دراصل دل کی صفائی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

باہمی تعلقات کی خرابی: عَنْ اَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ ﷺ، قَالَ: لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَقَاطَعُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا (صحيح مسلم،كتاب البر والصلۃ والآداب،حدیث: 6530) ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا:ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو اور اللہ کے بندے (ایک دوسرے کے) بھائی بن کر رہو۔

اس حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے واضح طور پر بغض، حسد اور قطع تعلق سے منع فرمایا ہے اور مسلمانوں کو اخوت و بھائی چارے کی تلقین کی ہے۔ بغض کی وجہ سے ہی حسد اور روٹھنے جیسے منفی رویے جنم لیتے ہیں جو معاشرتی تعلقات کو تباہ کر دیتے ہیں۔

بہترین انسان کون؟: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ قَالَ:كُلُّ مَخْمُومِ الْقَلْبِ صَدُوقِ اللِّسَانِ،قَالُوا: صَدُوقُ اللِّسَانِ نَعْرِفُهُ ، فَمَا مَخْمُومُ الْقَلْبِ ، قَالَ هُوَ التَّقِيُّ النَّقِيُّ ، لَا إِثْمَ فِيهِ ، وَلَا بَغْيَ ، وَلَا غِلَّ، وَلَا حَسَدَ (سنن ابن ماجہ،كتاب الزهد،حدیث: 4216)

ترجمہ:عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟ ﷺ نے فرمایا: ” مخموم القلب اور زبان کا سچا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: زبان کے سچے کو تو ہم سمجھتے ہیں، مخموم القلب کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پرہیزگار، صاف دل جس میں کوئی گناہ نہ ہو، نہ بغاوت، نہ کینہ اور نہ حسد۔

کینہ رکھنے کی ممانعت: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، قَالَ: تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا(صحيح مسلم،كتاب البر والصلۃ والآداب،حدیث: 6544)

ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا، اس بندے کے سوا جس کا اپنے بھائی کے ساتھ بغض ہو، چنانچہ کہا جاتا ہے: ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ صلح کر لیں، ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ صلح کر لیں، ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ صلح کر لیں۔

دل کی صفائی ایمان کی علامت اور جنت کی کنجی ہے۔ جو شخص اپنے بھائی کے لیے خیر چاہتا ہے، اللہ اس کے لیے خیر کے دروازے کھول دیتا ہے۔ بغض و کینہ چھوڑ کر محبت، معافی اور خیر خواہی اختیار کرنا ہی ایمان کی روح ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دلوں کو نفرت سے پاک رکھنے، دوسروں کو معاف کرنے، اور محبت و اخوت کا پیکر بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔


بغض یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے ، اس سے غیر شرعی دشمنی رکھے ،نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ باقی رہے۔(احیاء العلوم، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، القول فی معنی الحقد   الخ، 3/ 223)

قرآن وحدیث میں بغض کی شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:

‏اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللہ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱) ترجمہ کنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔ (پ7، المائدۃ:91)

بغض وکینہ کا حکم: کسی بھی مسلمان کے متعلق بلا وجہ شرعی اپنے دل میں بغض وکینہ رکھنا ناجائز وگناہ ہے۔ حضرت سیِّدُنا علامہ عبد الغنی نابلسی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’حق بات بتانے یا عدل و اِنصاف کرنے والے سے بغض و کینہ رکھنا حرام ہے۔ ‘‘

(1) مغفرت سے محروم : امُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث شریف میں ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ پاک شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر (اپنی قدرت کے شایان شان) تجلّی فرماتا ہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرما دیتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتاہے، جبکہ بغض و کینہ رکھنے والوں کو اُن کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔‘‘(شعب الایمان، باب فی الصیام، ماجاء فی لیلۃ الخ،383/3، حدیث:3835 )

(2) دین کو تباہ کر دیتا ہے : حضرت سیِّدُنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بغض دِین کو مُونڈ ڈالتا (یعنی تباہ کردیتا) ہے۔‘‘( موسوعۃ ابن ابی الدنیا، کتاب مدارة الناس، 545/7، حدیث:149)

(3) بخشش سے محروم : حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’لوگوں کے اعمال ہر ہفتہ میں دو مرتبہ پیر اور جمعرات کے دن پیش کئے جاتے ہیں اور ہر مسلمان بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے سوائے اس بندے کے جو اپنے بھائی کے ساتھ کینہ رکھتا ہو۔ کہا جاتا ہے ’’اسے چھوڑ دو یا مہلت دو حتّٰی کہ یہ رجوع کر لیں۔ (مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب النہی عن الشحناء والتہاجر، ص1387، الحدیث: 36(2565)

(4) جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ کینہ پرور ہے تو وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھ سکے گا ۔ ( حلیۃ الاولیاء ، 108/8 ، الحدیث: 11536)

(5) بھائی بھائی ہو جاؤ: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: آپس میں حسد نہ کرو ، آپس میں بغض و عداوت نہ رکھو ، پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی بیان نہ کرو اور اے اللہ کے بندو ! بھائی بھائی ہو جاؤ ۔ ( صحیح البخاری ، کتاب الادب ، 117/4، الحدیث : 6066)

اللہ تعالی ہمیں اس بیماری سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے، اس سے غیر شرعی دشمنی وبغض رکھے، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔

(1): اسی حال میں چھوڑ دیتا ہے: اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ و ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے:’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ (ماہ)شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر (اپنی قدرت کے شایانِ شان) تجلّی فرماتاہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتاہے جبکہ کینہ رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔‘‘ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بغض دین کو مونڈ ڈالتا (یعنی تباہ کردیتا ) ہے۔‘‘(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ54)

(2): یہ میری سنت ہے: حضرت انس فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے میرے بچے اگر تم یہ کرسکو کہ صبح اور شام ایسے گزارو کہ تمہارے دل میں کسی کی طرف سے کھوٹ (کینہ)نہ ہو تو کرو پھر فرمایا کہ اے میرے بچے یہ میری سنت ہے اور جو میری سنت سے محبت کرے اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:175)

(3): منافق ہی بعض رکھے گا: حضرت سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ اسے مَروی ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رب اکبر ﷺ نے انصارکے بارے میں ارشادفرمایا : ’’ان سے مؤمن ہی محبت رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور جو اِن سے محبت کرےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے محبت فرماتا ہے اور جو ان سے بغض رکھےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ناپسند فرماتاہے ۔ ( فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:380)

(4): بھائی بھائی ہوجاؤ: فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے اور نہ تو عیب جوئی کرو نہ کسی کی باتیں خفیہ سنو اور نہ نجش کرو اور نہ ایک دوسرے سے حسد و بغض کرو نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو اور اے الله کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5028)

(5): بغض نہ رکھنا: حضرت سلمان فارسی سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے بغض نہ رکھنا ورنہ اپنا دین چھوڑ بیٹھو گے ، میں نے عرض کیا : یارسول الله میں آپ سے کیسے بغض رکھ سکتاہو ں آپ کے ذریعہ تو الله نے ہم کو ہدایت دی، فرمایا کہ تم عرب سے بغض رکھو تو مجھ سے ہی رکھو گے۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:5998)


اللہ تبارک و تعالی نے انسان کو اپنی کامل حکمت سے پیدا فرمایا اور انسان کی طبیعت میں مختلف طرح کے اوصاف رکھے اچھے بھی اور برے بھی اچھوں کی بنا پر انسان مدح و ستائش کا مستحق ہوتا ہے اور کچھ ایسے اخلاق ذمیمہ بھی ہیں جو انسان کے دنیاوی و اُخروی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں جن میں سے ایک بغض و کینہ بھی ہے، جو مومن کی صفات میں سے نہیں جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:المؤمن ليس بحقود ( احياء العلوم ،مترجم :پرو گریسو بکس مکتبہ :ص / 406) ترجمہ: مومن کینہ پرور نہیں ہوتا۔

کینہ، غصے کا نتیجہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں آٹھ باتیں سامنے آتی ہیں:

1: حسد: یعنی تمہارا کینہ تمہیں اس بات پر مجبور کرے کہ تم اس سے زوال نعمت کی تمنا کرو اور اگر اسے نعمت ملے تم اس پر غمگین ہو جاؤ اور اگر کسی گناہ کا مرتکب ہو تو تمہیں خوشی حاصل ہو یہ منافقین کا کام ہے۔

2: دل میں حسد کو چھپانا کہ اس کو پہنچنے والی مصیبت پر خوشی ہو۔

3: اگر وہ شخص تمہیں بلائے اور تمہاری طرف ائے تو تم اس سے تعلق توڑدو۔

4: اس کو تم ذلیل و رسوا سمجھو۔

5: اس کے بارے میں ایسی گفتگو کرنا جو جا ئز نہیں مثلا جھوٹ غیبت راز فاش کرنا اس کے پردہ دری کرنا وغیرہ۔

6: اس کی بات تمسخر کے انداز میں نقل کرنا ۔

7: اسے مارنا یا کسی اور انداز میں جسمانی تکلیف پہنچا نا۔

8: اس کا حق ادا نہ کرنا قرض کی ادائیگی نہ کرنا صلہ رحمی سے پیش نہ آنا اور اس کا حق مارنا کینہ کا سب سے کم درجہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا آٹھ آفات سے بچو اور کینہ کی وجہ سے اللہ تعالی کی نافرمانی کے مرتکب نہ ہو جاؤ۔

نیز رسولُ اللہ ﷺ کے فرامین میں اس کی مذمت موجود ہے ، آئیے رسولِ کریم ﷺ کے فرامین سے اپنے دلوں کو اس مہلک بیماری سے پاک کرتے ہیں:

15 شعبان کو مغفرت سے محرومی:

(1) اللہ کے محبوب دانائے و غیوب عزوجل ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: اللہ عزوجل ماہ شعبان کی پندرھویں رات اپنے بندوں پر یعنی اپنی قدرت کی شیان شان تجلی فرماتا ہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے جب کہ کینہ رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔(شعب الايمان، باب فی الصيام، ماجاء فی لیلہ النصف من شعبان،الحديث: ٣٨٣٥،ج٣،ص٣٨٣)

پیر اور جمعرات میں مغفرت سے محرومی: (2) دافع رنج وملال صاحب جود و نوال ﷺ کا فرمان عالیشان ہے : ہر ہفتے ، پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں پھر بغض وکینہ رکھنے والے دو بھائیوں کے علاوہ ہر مومن کو بخش دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے ان دونوں کو لمبے عرصے تک چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اس بغض سے واپس پلٹ آئیں۔ (الصحيح مسلم،كتاب البروصلۃ،باب النهي عن الشحناء،الحديث: ٦٥٤٧،ص١١٢٧)

جمعرات اور جمعہ کے دن مغفرت سے محرومی:

(3) سید المبلغین رحمت اللعالمین ﷺ کا فرمان عالی شان ہے: جمعرات اور جمعہ کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں تو مشرک کے علاوہ ہر شخص کی مغفرت کر دی جاتی ہے مگر دو شخصوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں آپس میں صلح کر لینے تک مؤخر کر دو۔ (جامع الاحادیث جلد 3 صفحہ 12 حدیث نمبر 6975)

احادیث مبارکہ کی روشنی سے معلوم ہوا کہ بغض و کینہ ایسی مہلک بیماریاں ہیں جو انسان کے اعمال کو برباد کرتی ہیں اور انسان کو بڑے عظمت والے دنوں میں بھی مغفرت سے محروم کر دیتی ہیں۔

اللہ تعالی ہر مسلمان کے دل کو ایسی مہلک بیماریوں سے دائمی شفا نصیب فرمائے۔


بغض و کینہ کے بارے میں حضور نبی کریم ﷺ نے کئی مقامات پر اصلاح فرمائی ہے کہ بغض و کینہ گناہ ہے ، آئیے بغض و کینہ کے بارے میں چند احادیث ملاحظہ کیجیے:

(1) عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رضی اللہ عنہ مَا عَنِ النَّبيّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ قَالَ فِی الْاَنْصَارِ : لَا يُحِبُّهُمْ اِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُهُمْ اِلاَّ مُنَافِقٌ مَنْ اَحَبَّهُمْ اَحَبَّهُ اللهُ وَمَنْ اَبْغَضَهُمْ اَبْغَضَهُ اللهُ ترجمہ : حضرت سیدنا براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہماسے مَروی ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رَبِّ اکبر ﷺ نے انصارکے بارے میں ارشادفرمایا : ’’ان سے مؤمن ہی محبت رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور جو اِن سے محبت کرےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے محبت فرماتا ہے اور جو ان سے بغض رکھےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ناپسند فرماتاہے۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:380)

(2) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللہ إِخْوَانًا وَفِي رِوَايَة: وَلَا تَنَافَسُوْا (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے اور نہ تو عیب جوئی کرو نہ کسی کی باتیں خفیہ سنو اور نہ نجش کرو اور نہ ایک دوسرے سے حسد و بغض کرو نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو اور اے الله کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ اور ایک روایت میں ہے اور نہ نفسانیت کرو ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5028)

(3) روایت ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے ۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5039)

(4) روایت ہے حضرت سلمان فارسی سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے بغض نہ رکھنا ورنہ اپنا دین چھوڑ بیٹھو گے میں نے عرض کیا : یارسول الله میں آپ سے کیسے بغض رکھ سکتاہو ں آپ کے ذریعہ تو الله نے ہم کو ہدایت دی فرمایا کہ تم عرب سے بغض رکھو تو مجھ سے ہی رکھو گے۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ،حدیث نمبر:5998)

(5) روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ تم میں حضرت عیسیٰ کی مثال ہے جن سے یہود نے بغض رکھا حتی کہ ان کی ماں کو تہمت لگائی اور ان سے عیسائیوں نے محبت کی حتی کہ انہیں اس درجہ میں پہنچا دیا جو ان کا نہ تھا پھر فرمایا: میرے بارے میں دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے: محبت میں افراط کرنے والے مجھے ان صفات سے بڑھائیں گے جو مجھ میں نہیں ہیں اور بغض کرنے والے جن کا بغض اس پر ابھارے گا مجھے بہتان لگائیں گے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:، حدیث نمبر:6102)

اللہ پاک ہمیں احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


قرآن و حدیث میں بغض و کینہ کی مذمت کی گئی ہے آئیے چند احادیث مبارکہ بغض و کینہ کی مذمت کے متعلق پڑھیے:

(1) حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، صرف قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ، آپس میں بغض نہ رکھو، قطع تعلقی نہ کرو، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے کہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے رسواکرتا ہے، نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتا ہے۔آپ ﷺ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ ارشاد فرمایا:تقوی یہاں ہے،کسی شخص کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔( شرح اربعین نوویہ(اردو)، حدیث نمبر:35 ،اسلامی بھائی چارہ اور مسلمان کی صفات)

(2) حضرت سیدنا براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہماسے مَروی ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رَبِّ اکبر ﷺ نے انصارکے بارے میں ارشادفرمایا : ’’ان سے مؤمن ہی محبت رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور جو اِن سے محبت کرےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے محبت فرماتا ہے اور جو ان سے بغض رکھےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ناپسند فرماتاہے ۔ ‘‘ ( فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:380 )

(3) روایت ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5039 )

(4) روایت ہے حضرت سلمان فارسی سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے بغض نہ رکھنا ورنہ اپنا دین چھوڑ بیٹھو گے میں نے عرض کیا یارسول الله میں آپ سے کیسے بغض رکھ سکتاہو ں آپ کے ذریعہ تو الله نے ہم کو ہدایت دی فرمایا کہ تم عرب سے بغض رکھو تو مجھ سے ہی رکھو گے۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:5998 )

اللہ پاک ہمیں بغض و کینہ اور دیگر باطنی بیماریوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


نمبر:03274848212

اللہ پاک نے انسان کو عقل و تعمیز اور تصرف کے اختیارات عطا فرمائے اب انسان کو فلاح و کامیابی کے لیے نیک اعمال کی بجا آوری اور ہر طرح کے ظاہری گناہوں اور باطنی گناہوں سے بچنا ضروری ہے۔ باطنی گناہوں میں سے ایک مضموم بیماری بغض و کینہ بھی ہے جس کی کثیر احادیث میں مذمت بیان کی گئی ہے آئیے ہم بھی بغض و کینہ کی مذمت میں پانچ احادیث پڑھتے ہیں اور عمل کی نیت کرتے ہیں:

(1) بغض رکھنے والوں سے بچو : اللہ کے محبوب، دانائے غیوب ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: الله عز جل (ماہ شعبان کی پندرہویں رات کو اپنے بندوں پر (اپنی قدرت کے شایانِ شان ) تجلی فرماتا ہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے جبکہ کینہ رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔ (شعب الایمان، باب فی الصیام، ماجاء فى ليلۃ ۔ ۔ ۔ الخ، ج 3 ص 383، حدیث: 3835 )

(2)بغض دین کو مونڈ دیتا ہے : اللہ کے محبوب دانائے غیوب منزہ عن العیوب عزوجل ﷺ نے ارشادفرمایا: بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بعض دین کو مونڈ ڈالتا یعنی تباہ کر دیتا ہے ۔ (كنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال ، الجزء : 3ج 2، ص 28 حدیث: 5486)

(3)کینہ پروری مسلمان کے دل میں نہیں ہے: حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : چغل خوری اور کینہ پروری جہنم میں ہے یہ دونوں کسی مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہو سکتی۔(معجم اوسط 3/301حدیث،4653)

(4)حسد اور بغض دین کو مونڈ دیتی ہے : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں پچھلی امتوں کی بیماری حسد اور بغض سرایت کر گئی ، یہ مونڈ دینے والی ہے، میں نہیں کہتا کہ یہ بال مونڈتی ہے بلکہ یہ دین کو مونڈ دیتی ہے۔ (سنن الترمذی ، كتاب صفۃ القيمۃ ، 4/ 228 ، الحديث 2518)

(5)تم لوگ بھائی بھائی بن کر رہو مدینے کے سلطان ، رحمتِ عالمیان ، سرورِ ذیشان ﷺ نے ارشاد فرمایا: لَا تُحَاسِدُوا وَلَا تُبَاغِضُوا وَلَا تُدَابِرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا یعنی آپس میں حسد نہ کرو، آپس میں بغض وعداوت نہ رکھو، پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی بیان نہ کرو اور اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندو بھائی بھائی ہو جاؤ۔(صحيح البخاری، كتاب الادب، 4 / 117 ، الحديث : 6066)

اللہ پاک ہمیں احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین