ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے حصے کی زندگی گزار کر جہان  آخرت کی طرف روانہ ہو جانا ہے اور آخرت میں ہمیں مختلف مراحل سے گزرنا ہے یعنی پل صراط قبر و حشر وغیرہ سے اور ان سب نازک ترین لمحات میں کامیاب وہی ہوگا جس نے دنیا میں اچھے اور نیک اعمال کیے ہوئے ہوں گے اب دنیا میں کیے جانے والے اعمال بعض ظاہری طور پر اچھے ہوتے ہیں جیسے نماز و روزہ اور بعض باطنی طور پر نیک ہوتے ہیں جیسے اخلاص ۔اب دوسری طرف دیکھیں تو بعض کام ظاہری طور پر اچھے نہیں ہوتے ان پر گناہ ہوتا ہے جیسے نماز نہ پڑھنا جھوٹ بولنا اور بعض کام باطنی طور پر برے ہوتے ہیں جیسے بغض و کینہ وغیرہ۔

بغض و کینہ کی تعریف:

کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے اس سے غیر شرعی دشمنی و بغض رکھے نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔

قرآن پاک میں بغض و کینہ کی مذمت: اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔

‏اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱)

ترجمہ کنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔ (پ7، المائدۃ:91)

صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ خزائن العرفان میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: اس آیت میں شراب اور جوئے کے نتائج اور وبال بیان فرمائے گئے کہ شراب خوری اور جوئے بازی کا ایک وبال تو یہ ہے کہ اس سے آپس میں بغض اور عداوتیں پیدا ہوتی ہیں اور جو ان بدیوں میں مبتلا ہو وہ ذکر الہی اور نماز کے اوقات کی پابندی سے محروم ہو جاتا ہے۔

احادیث مبارکہ میں بغض و کینہ کی مذمت :

اللہ کے محبوب دانائے غیوب منزہ عن العیوب عزوجل و ﷺ کا فرمان عالی شان ہے: اللہ عزوجل ماہ شعبان کی پندرھویں رات اپنے بندوں پر اپنی قدرت کے شایان شان تجلی فرماتا ہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے جب کہ کینہ رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے ۔(شعب الایمان باب فی الصیام حدیث3835)

ایک اور جگہ پر ارشاد فرماتا ہے: بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بغض دین کو مونڈ لیتا ہے یعنی تباہ کر دیتا ہے ۔ (کنزالعمال کتاب الاخلاق حدیث ٥٤٨٦)

حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: آپس میں حسد نہ کرو نہ بغض کرو نہ پیٹھ پیچھے برائی کرو اور اللہ عزوجل کے بندے بھائی بھائی ہو کر رہو ۔ (صحیح بخاری کتاب الادب حدیث٦٠٦٦)

حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : حسد اور چغلی اور کہانت نہ مجھ سے ہیں اور نہ میں ان سے ہوں یعنی مسلمان کا ان چیزوں سے بالکل تعلق نہ ہونا چاہیے۔ (مجمع الزوائد کتاب الادب حدیث١٣١٢٦)

حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حسد ایمان کو ایسے بگاڑتا ہے جس طرح ایلوا(یعنی ایک کڑوے درخت کا جما ہوا رس) شہد کو بگاڑ دیتا ہے ۔ (الجامع الصغیر للسیوطی حرف الحاء حدیث ٣٨١٩)

حضرت انس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : حسد نیکیوں کو اس طرح کھاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھاتی ہے اور صدقہ خطا کو بجھاتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے ۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الزہد باب الحسد حدیث ٤٢١)

اللہ تعالی ہمیں تمام باطنی امراض سے اور تمام باطنی گناہوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔ 

محمد مومن خان  

Mon, 13 Apr , 2026
19 days ago

اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو ظاہری اور باطنی دونوں اعتبار سے پاکیزگی کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن و سنت میں انسان کے دل و دماغ کی اصلاح پر خاص زور دیا گیا ہے، کیونکہ دل ہی تمام اعمال کا مرکز ہے۔ اگر دل صاف اور خالص ہو تو انسان کے تمام اعمال نیک بن جاتے ہیں، اور اگر دل میں بغض، حسد اور کینہ گھر کر لے تو انسان کی نیکیوں کی روشنی بجھ جاتی ہے۔

بغض و کینہ ایسی روحانی بیماریاں ہیں جو انسان کے اخلاق، عبادت اور تعلقات کو تباہ کر دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو بارہا ان سے بچنے کی تاکید فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان بھائیوں کے درمیان محبت، خیرخواہی اور اتحاد پیدا کرو، کیونکہ بغض و کینہ نہ صرف ایمان کو کمزور کرتے ہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

اسلام کی یہ تعلیمات ہمیں اس طرف متوجہ کرتی ہیں کہ دلوں کی صفائی، عفو و درگزر، اور باہمی محبت ہی ایک سچے مومن کی پہچان ہے۔

آئیے بغض و کینہ کی مذمت حدیث پاک کی روشنی میں ملاحظہ کیجئے:

حضرت سیدنا ابن عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی خدمت میں کچھ لوگ گھبراہٹ کے عالم میں حاضر ہوئے اور عرض کی:ہم حج کی سعادت پانے کے لیے نکلے تھے،ہمارے ساتھ ایک آدمی بھی تھا جب ہم ذات الصفاح کے مقام پر پہنچےتو وہ انتقال کر گیا۔ہم نے اس کے غسل کفن کا انتظام کیا پھر اس کے لیے قبر کھودی اور اسے دفن کرنے لگے تو دیکھا کہ اس کہ قبر کالے کالےسانپوں سے بھری ہوئی ہے۔ہم نے وہ جگہ چھوڑ کر دوسری قبر کھودی تو دیکھتے ہی دیکھتے وہ بھی کالے سانپوں سے باہر گئی،چنانچہ ہم نے اسے وہاں بھی نہیں دفنایا اور آپ کے پاس حاضر ہو گئے ہیں۔حضرت سیدنا عبّاس نے فرمایا:يہ اس کا کینہ ہے جو وہ اپنے دل میں رکھتا تھا،جاؤ!اور اسے وہیں دفن کر دو۔ (مو سوعۃ ابن ابی دنيا،كتاب القبور،٦/٨٣)

دافع رنج و ملال ، صاحب جو دونو ال ﷺ کا فرمان با کمال ہے : عنقریب میری امت کو پچھلی امتوں کی بیماری لاحق ہوگی ۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی : پچھلی اُمتوں کی بیماری کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تکبر کرنا ، اترانا، ایک دوسرے کی غیبت کرنا اور دُنیا میں ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش کرنا نیز آپس میں بغض رکھنا ۔۔ (المعجم الاوسط، باب الميم من اسمہ مقدام ٣٤٨/٦٠ الحديث : ٩٠١٦)

سرکار عالی وقار، مدینے کے تاجدار ﷺ نے فرمایا: إِنَّ النَّمِيمَةَ وَالْحِقْدَ فِي النَّارِ لَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ مُسْلِمٍ بے شک چغل خوری اور کینہ پروری جہنم میں ہیں، یہ دونوں کسی مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے ۔

اللہ پاک ہمیں احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


فون نمبر: 03062334546

پیارے اسلامی بھائیو!ْ بہت سارے باطنی گناہوں میں سے ایک گناہ بغض و کینہ بھی ہے اس کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لیے ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ کینہ کسے کہتے ہیں۔

کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے اس سے دشمنی بغض رکھے نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔ کینے کے بہت سارے نقصانات ہیں :" دوزخ میں داخلہ٫ شب برات میں بھی محروم رہنا ، جو کینہ رکھتا ہے جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا ، ایمان برباد ہونے کا خطرہ ہے دعا قبول نہیں ہوتی دیگر گناہوں کا دروازہ کھل جاتا ہے۔

آئیے کچھ احادیث مبارکہ سنتے ہیں جن میں پیارے آقا ﷺ نے کینہ کے بارےمیں مذمت فرمائی:

(1) بخشش نہیں ہوتی:

پیارے پیارے آقا ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: ہر پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں پھر بغض و کینہ رکھنے والے دو بھائیوں کے علاوہ ہر مومن کو بخش دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے ان دونوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اس بغض سے واپس پلٹ آئیں"( صحیح مسلم٫ کتاب البرو الصلتہ٫ باب النہی عنہ الشحناء٫ صفحہ نمبر: 1388 حدیث نمبر: 2565)

2) چغل خوری اور کینہ پروری دوزخ میں لے جائیں گے : سرکار علی وقار مدینے کے تاجدار ﷺ نے فرمایا : بے شک چغل خور اور کینہ پروری جہنم میں ہے یہ دونوں کسی مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے ۔ (المعجم الاوسط،با ب العین ،من اسمہ عبدالرحمن،جلد:3 صفحہ نمبر: 301، حدیث نمبر: 4653)

(3) رحمت و مغفرت سے محرومی:

اللہ عزوجل کے محبوب ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: اللہ عزوجل ماہ شعبان کی پندرھویں رات اپنے بندوں پر اپنی قدرت کے شایان شان تجلی فرماتا ہے، مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے جبکہ کینہ رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔ (شعب الایمان، باب فی الصیام، ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان،جلد نمبر: 3 ص: 382 ح:3835)

(4) جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا :

پیارے آقا مدینے والے مصطفی ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ کینہ پرور ہے تو وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھ سکے گا۔ (حیات الاولیاء، جلد نمبر: 8 صفحہ نمبر: 108، حدیث نمبر: 1153)

(5) پچھلی امتوں کی بیماری:

اللہ پاک کے پیارے حبیب ﷺ کا فرمان عبرت نشان ہے: تم میں پچھلی امتوں کی بیماری حسد اور بغض سرایت کر گئی یہ مونڈ دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ یہ بال مونڈتی ہے بلکہ یہ دین کو مونڈتی ہے ۔ (سنن ترمذی، کتاب صفاتہ القیامتہ،جلد نمبر: 3 صفحہ نمبر: 228، حدیث نمبر: 2518)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دل ہی دل میں پلنے والے کینہ کے بارے میں کچھ علاج سنتے ہیں کہ کیسے اس گناہ سے باز رہا جائے:

1: ایمان والوں کے کینے سے بچنے کی دعا کیجئے

2: کینے کے اسباب مثلا غصہ، بدگمانی، شراب نوشی، جوا وغیرہ دور کیجیے

3: السلام و مصافحہ کی عادت بنا لیجئے

4: بے جا سوچنا چھوڑ دیجئے

5: دنیاوی چیزوں کی وجہ سے بغض و کینہ رکھنے کے نقصانات پر غور کیجئے۔

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ ہمیں اس بغض و کینہ جیسی بیماری سے بچتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


جس طرح مختلف امراض صحت کے لیے مہلک ہیں اسی طرح باطنی امراض ایک مسلمان کی آخرت اور روحانی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ ان بیماریوں میں سے بغض و کینہ بھی ہے، اس سے مراد کسی دوسرے مومن کے بارے میں دل میں بلا وجہ دشمنی رکھنا ہے اور کسی مسلمان سے بلا وجہ شرعی دشمنی رکھنا ناجائز و گناہ ہے۔ آئیں اس سے متعلق قرآن و حدیث سے روشنی حاصل کرتے ہیں۔

شیطان کی چاہت : اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے

‏اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱)

ترجمہ کنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔ (پ7، المائدۃ:91)

سیدی و مرشدی صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمہ اللہ تعالیٰ ’’خزائن العرفان‘‘ میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’اس آیت میں شراب اور جوئے کے نتائج اور وبال بیان فرمائے گئے کہ شراب خواری اور جوئے بازی کا ایک وبال تو یہ ہے کہ اس سے آپس میں بُغض اور عداوتیں پیدا ہوتی ہیں اور جو ان بدیوں میں مبتلا ہو وہ ذکرِ الٰہی اور نماز کے اوقات کی پابندی سے محروم ہو جاتا ہے ۔‘‘(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ53،54)

بغض دین کو مونڈ ڈالتا ہے:

حضور جان عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بغض دین کو مونڈ ڈالتا (یعنی تباہ کردیتا ) ہے۔(شعب الایمان، باب فی الصیام، ماجاء فی لیلۃ ۔۔۔الخ، ج3، ص383، حدیث: 3835 )

اس حدیث مبارکہ میں بغض رکھنے والے سے بچنے کا حکم دیا کیونکہ بغض رکھنے والے کا ایمان تباہ ہو جاتا ہے۔

ان تمام سے معلوم ہوا کہ کسی مسلمان سے بغض و کینہ رکھنا شرعاً درست نہیں اس کے بہت سے نقصانات ہے جیسے گناہوں میں اضافہ،بے سکونی،ایمان کی کمزوری، دعاؤں کی عدم قبولیت وغیرہا۔

اللہ پاک ہمیں تمام باطنی بیماریوں سے محفوظ رکھے۔ آمین


بغض یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے ، اس سے غیر شرعی دشمنی رکھے ،نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ باقی رہے۔(احیاء العلوم، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، القول فی معنی الحقد   الخ، 3/ 223)

(1) عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’لَاتَحَاسَدُوْا وَلَاتَنَاجَشُوْا وَلَاتَبَاغَضُوْا وَلَاتَدَابَرُوْا وَلَايَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُوْنُوْا عِبَادَ اللهِ اِخْوَانًا، اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِـمِ، لَايَظْلِمُهٗ وَلَايَخْذُلُهٗ وَلَايَكْذِبُهٗ وَلَايَحْقِرُهٗ، اَلتَّقْوٰى هٰهُنَا ‘‘ وَيُشِيْرُ اِلٰى صَدْرِهٖ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ’’بِحَسْبِ امْرِئٍ مِّنَ الشَّرِ اَن يَّحْقِرَ اَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِـمِ عَلَى الْمُسْلِـمِ حَرَامٌ دَمُهٗ وَمَالُهٗ وَعِرْضُهٗ ‘‘(رَوَاهُ مُسْلِم)

ترجمہ حدیث: حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، صرف قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ، آپس میں بغض نہ رکھو، قطع تعلقی نہ کرو، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے کہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے رسواکرتا ہے، نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتا ہے۔آپ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ ارشاد فرمایا:تقوی یہاں ہے،کسی شخص کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔(مسلم، كتاب البر والصلۃ والاٰداب، باب تحريم ظلم المسلم وخذلہ واحتقاره الخ، ص1064، حدیث:6541)

(2) وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ وَلٰكِنْ تَحْلِقُ الدِّيْنَ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ

ترجمہ حدیث: روایت ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے ۔ (احمد،ترمذی) (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5039 )

(3) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللہ إِخْوَانًا وَفِي رِوَايَة: وَلَا تَنَافَسُوْا (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

ترجمہ حدیث:روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے اور نہ تو عیب جوئی کرو نہ کسی کی باتیں خفیہ سنو اور نہ نجش کرو اور نہ ایک دوسرے سے حسد و بغض کرو نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو اور اے الله کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ اور ایک روایت میں ہے اور نہ نفسانیت کرو (مسلم،بخاری)(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5028 )

(4) وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا بُنَيَّ إِنْ قَدَرْتَ أَنْ تُصْبِحَ وَتَمْسِيْ وَلَيْسَ فِي قَلْبِكَ غِشٌّ لِأَحَدٍ فَافْعَلْ ثُمَّ قَالَ: يَا بُنَيَّ وَذٰلِكَ مِنْ سُنَّتِيْ وَمَنْ أَحْيَا سُنَّتِيْ فَقَدْ أَحَبَّنِيْ وَمَنْ أَحَبَّنِيْ كَانَ مَعِيَ فِي الْجَنَّةِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

ترجمہ حدیث: روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے میرے بچے اگر تم یہ کرسکو کہ صبح اور شام ایسے گزارو کہ تمہارے دل میں کسی کی طرف سے کھوٹ (کینہ)نہ ہو تو کرو پھر فرمایا کہ اے میرے بچے یہ میری سنت ہے اور جو میری سنت سے محبت کرے اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ (ترمذی)

(5) وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللهَ تَعَالٰى لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهٖ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاھِنٍ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

ترجمہ حدیث: روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے وہ رسول الله ﷺ سے راوی کہ آپ نے فرمایا الله تعالٰی پندرھویں شعبان کی شب میں توجہ کرم فرماتا ہے تو کافر یا کینہ والے کے سوا اپنی سب مخلوق کو بخش دیتا ہے۔(ابن ماجہ) (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 )


بغض وکینہ کی تعریف: کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے، اس سے غیر شرعی دشمنی وبغض رکھے، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،ص53)

بغض و کینہ ایک بہت بری بیماری ہے اس کی مذمّت کے بارے میں کچھ جانتے ہیں اور اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

(1) بغض رکھنے والوں کی مغفرت نہیں :

اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ و ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے:’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ماہ شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر (اپنی قدرت کے شایانِ شان) تجلّی فرماتاہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتاہے جبکہ کینہ رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،ص54)

(2) دین مونڈ دیتا ہے :

حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہے فرماتے ہیں رسول الله ﷺ نے فرمایا : تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5039 )

(3) منافقت کی نشانی : حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایمان کی نشانی انصار سے محبت ہے اور منافقت کی نشانی انصار سے بغض ہے ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:6215 )

(4) اللہ کی ناراضگی : حضرت براء سےروایت ہے فرماتے ہیں میں نے رسول الله ﷺ کو فرماتے سنا کہ انصار سے محبت نہ کرے گا مگر مؤمن اور ان سے عداوت نہ کرے گا مگر منافق تو جس نے ان سے محبت کی الله اس سے محبت کرے،جس نے ان سے بغض رکھا الله اس سے ناراض ہو گا۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:6216)

(5) بغض رکھنے سے دین چھوڑ بیٹھو گے :

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہے فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے بغض نہ رکھنا ورنہ اپنا دین چھوڑ بیٹھو گے میں نے عرض کیا یارسول الله میں آپ سے کیسے بغض رکھ سکتاہو ں آپ کے ذریعہ تو الله نے ہم کو ہدایت دی فرمایا کہ تم عرب سے بغض رکھو تو مجھ سے ہی رکھو گے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:5998 )

پیارے اسلامی بھائیو! سنا آپ نے بغض کتنی خطرناک بیماری ہے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین


آج کل معاشرے میں لوگ ایک دوسرے سے بغض رکھتے ہیں یہ بیماری بہت تیزی سے پھیل رہی ہے اگر ہم بطور مسلمان یہ غور کریں کہ ہمارے پیارے اسلام نے ہماری کیا تربیت فرمائی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ کیسے رہیں ایک دوسرے کے بارے میں کیسے سوچیں اور ایک دوسرے کا کیسا خیال کریں ہمارے نبی نے ہماری اس بات پر بھی تربیت فرمائی ہے۔  اس کے بارے میں کچھ حضور کے فرمان سنتے ہیں:

فرمان آخری نبیﷺ: عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ’’لَاتَحَاسَدُوْا وَلَاتَنَاجَشُوْا وَلَاتَبَاغَضُوْا وَلَاتَدَابَرُوْا وَلَايَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُوْنُوْا عِبَادَ اللهِ اِخْوَانًا، اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِـمِ، لَايَظْلِمُهٗ وَلَايَخْذُلُهٗ وَلَايَكْذِبُهٗ وَلَايَحْقِرُهٗ، اَلتَّقْوٰى هٰهُنَا وَيُشِيْرُ اِلٰى صَدْرِهٖ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ’’بِحَسْبِ امْرِئٍ مِّنَ الشَّرِ اَن يَّحْقِرَ اَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِـمِ عَلَى الْمُسْلِـمِ حَرَامٌ دَمُهٗ وَمَالُهٗ وَعِرْضُهٗ

حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، صرف قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ آپس میں بغض نہ رکھو، قطع تعلقی نہ کرو تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے کہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے رسواکرتا ہے نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتا ہے۔آپ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ ارشاد فرمایا:تقوی یہاں ہے،کسی شخص کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔ (مسلم، كتاب البر والصلۃ والاٰداب، باب تحريم ظلم المسلم وخذلہ واحتقاره الخ، ص1064، حدیث6541(

مذکورہ حدیث پاک میں بعض ظاہری وباطنی بیماریوں سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ چنانچہ سب سے پہلے ایک مہلک مرض حسد سے بچنے کا حکم ارشاد ہوا کہ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو.

بغض کی تعریف اور اُس کی مذمت:

بغض یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے اس سے غیر شرعی دشمنی رکھے نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ باقی رہے۔(احیاء العلوم، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، القول فی معنی الحقد الخ، 3/ 223

قرآن وحدیث میں بغض کی شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:

‏اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱)

ترجمہ کنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔ (پ7، المائدۃ:91)

امُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث شریف میں ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر اپنی قدرت کے شایان شان تجلّی فرماتاہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرما دیتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتاہے جبکہ بغض و کینہ رکھنے والوں کو اُن کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔‘‘(شعب الایمان، باب فی الصیام، ماجاء فی لیلة الخ،حدیث:3835

حضرت سیِّدُنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بغض دِین کو مُونڈ ڈالتا یعنی تباہ کردیتا ہے۔(موسوعۃ ابن ابی الدنیا، کتاب مدارة الناس، حدیث:149)

بغض وکینہ کا حکم:

کسی بھی مسلمان کے متعلق بلا وجہ شرعی اپنے دل میں بغض وکینہ رکھنا ناجائز وگناہ ہے۔ حضرت سیِّدُنا علامہ عبد الغنی نابلسی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حق بات بتانے یا عدل و اِنصاف کرنے والے سے بغض و کینہ رکھنا حرام ہے۔ (حدیقہ ندیہ، السادس العاشر من الاخلاق الستین المذمومۃ، 1/ 629)

بلا وجہ شرعی مسلمانوں سے بغض وکینہ رکھنے والوں کی کل بروزِقیامت بہت سخت پکڑ ہوگی، بلکہ بسا اوقات تو دنیا میں ہی لوگوں کو مسلمانوں سےبغض وکینہ رکھنے والوں کا عبرت ناک انجام دکھادیا جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں کچھ لوگ گھبرائے ہوئے حاضر ہوئے اور عرض کی: ہم حج کی سعادت پانے کے لئے نکلےتھے،ہمارے ساتھ ایک آدمی تھا،جب ہم ذَا الصِّفَاحْ کے مقام پر پہنچے تو اُس کا انتقال ہو گیا۔ ہم نے اُس کے غسل و کفن کا انتظام کیاپھر اُس کے لئےقبر کھودی اور اُسے دفن کرنے لگے تو دیکھا کہ اچانک اس کی قبر کالے سانپوں سے بھر گئی ہے۔ہم نے وہ جگہ چھوڑکر دوسری قبر کھودی تو دیکھتے ہی دیکھتے وہ بھی کالے سانپوں سے بھر گئی، بالآخر ہم اسے وہیں چھوڑ کر آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے ہیں۔یہ واقعہ سن کر حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:یہ اس کاکینہ ہے جووہ اپنے دل میں مسلمانوں کے متعلق رکھا کرتا تھا۔جاؤ!اور اسے وہیں دفن کردو۔(موسوعۃ ابن ابی الدنیا،کتاب القبور، رقم: 128)

انسان کے برا ہونے کی علامت:

’کسی شخص کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے‘‘یعنی کوئی مسلمان کسی مسلمان کا مال بغیر اس کی اجازت نہ لے،کسی کی آبروریزی نہ کرے،کسی مسلمان کو ناحق اور ظلمًا قتل نہ کرے کہ یہ سب سخت جرم ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح، 6/ 553)

اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین ﷺ

فرمان آخری نبی ﷺ : وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللہ إِخْوَانًا وَفِي رِوَايَة: وَلَا تَنَافَسُوْا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے اور نہ تو عیب جوئی کرو نہ کسی کی باتیں خفیہ سنو اور نہ نجش کرو اور نہ ایک دوسرے سے حسد و بغض کر نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو اور اے الله کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ اور ایک روایت میں ہے اور نہ نفسانیت کرو۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5028)

یہاں ظن سے مراد مجتہدین علماء کا قیاس نہیں بلکہ بلا دلیل بلا ثبوت مسلمان بھائی کے متعلق بدگمانی کرلینا ہے کہ خواہ مخواہ کسی کو اپنا دشمن سمجھ لینا،اس کے ہر قول ہر کام کو اپنی دشمنی قرار دے دینا یہ برا ہے کہ یہ لڑائی فساد کی جڑ ہے،بعض عورتوں کو بلاوجہ شبہ ہوتا ہے کہ فلاں نے مجھ پر جادو کرایا ہے اگرگھر میں کسی کو اتفاقًا بخار آگیا یا جانور نے دودھ کم دیا تو اپنے پڑوسیوں پر جادو تعویذ گنڈے کی بدگمانی کرکے دل میں گرہ رکھ لی یہ ممنوع ہے۔ کیونکہ ایسی بدگمانیاں شیطان کی طرف سے ہوتی ہیں اور شیطان بڑا جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ بھی بڑے ہی ہوتے ہیں، قرآن کریم فرماتاہے اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وہ آیت کریمہ اس حدیث پاک کی تاکیدکرتی ہے۔

کسی کی باتیں خفیہ طور پر سننا کہ اسے خبر نہ ہو۔تجسّس جیم سے کسی کے خفیہ عیب کی تلاش میں رہناحس اورجس میں اور بھی چند طرح فرق کیا گیا ہے۔غرضکہ کسی کی ہر بات پر کان لگائے رہنا،کسی کے ہر کام کی تلاش میں رہنا کہ کوئی برائی ملے تو میں اسے بدنام کردوں دونوں حرام ہیں۔حدیث شریف میں ہے کہ مبارک ہو کہ جسے اپنے عیبوں کی تلاش دوسروں کی عیب جوئی سے باز رکھے۔ یعنی وہ اپنے عیب ڈھونڈنے میں ان سے توبہ کرنے میں ایسا مشغول ہو کہ اسے دوسروں کے عیب ڈھونڈنے کا وقت ہی نہ ملے۔

نہ تھی اپنے جو عیبوں کی ہم کو خبر ر

ہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر

پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر

تو جہاں میں کوئی برا نہ رہا

نجش کے چند معنی ہیں دوسروں پر اپنی بڑائی چاہنا،دھوکا دینا،نیلام میں قیمت بڑھا دینا خریدنے کی نیت نہ ہو یہ سب حرام ہے۔حسد کے معنی ہیں دوسرے کی نعمت کا زوال اپنے لیے اس کا حصول چاہنا کہ اس کے پاس نہ رہے میرے پاس آجائے یہ حرام ہے،شیطان کو حسد نے ہی مارا بغض دل میں کینہ رکھنا۔

یعنی بدگمانی،حسد،بغض وغیرہ وہ چیزیں ہیں جن سے محبت ٹوٹتی ہے اور اسلامی بھائی چارہ محبت چاہتا ہے لہذا یہ عیوب چھوڑو تاکہ بھائی بھائی بن جاؤ۔

تنافس کے بہت معنی ہیں رغبت کرنا،لالچ کرنا،نفسانیت سے فساد پھیلانا یہاں بمعنی نفسانیت و فساد ہے۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5028)

فرمان آخری نبی ﷺ : وَعَن سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُبْغِضُنِي فَتُفَارِقَ دِينَكَ قَلْتُ:يَا رَسُولَ اللہ كَيْفَ أُبْغِضُكَ وَبِكَ هَدَانَا اللہ ؟قَالَ: تُبْغِضُ الْعَرَبَ فَتُبْغِضُنِي رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت سلمان فارسی سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے بغض نہ رکھنا ورنہ اپنا دین چھوڑ بیٹھو گےمیں نے عرض کیا یارسول الله میں آپ سے کیسے بغض رکھ سکتاہو ں آپ کے ذریعہ تو الله نے ہم کو ہدایت دی فرمایا کہ تم عرب سے بغض رکھو تو مجھ سے ہی رکھو گے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:5998)

حضرت سلمان فارسی یعنی ایران کے رہنے والے تھے،عرب میں رہنے لگے۔بعض طبیعتوں میں صوبائی یا ملکی تعصب ہوتا ہے کہ ہمارا ملک ہمارا صوبہ اچھا دوسرا صوبہ وہاں کے لوگ برے اس کی پیش بندی فرماتےہوئے یہ ارشاد ہوا کہ یہاں فارسیت اور عربیت کا فرق نہ کرنا۔یہ کلام شریف اگلے کلام کی تمہید ہے ان تعصبوں سے الله بچائے مگر کس نفیس طریقہ سے تعلیم فرمائی سبحان الله! اپنے ذکر سے ابتداء فرمائی تاکہ ان کے قلب پر گہرا اثر ہو۔ یعنی جب انسان اپنے ماں باپ سے عدوات نہیں کرتا جن سے جان ملتی ہے تو حضور سے تو ہم کو ایمان،قرآن عرفان بلکہ رحمان ملا تو کیسے ہوسکتا ہے کہ میں حضور سے بغض رکھوں۔

یعنی عرب سے اس لیے نفرت کرنا کہ وہ عرب ہیں حضور سے بغض ہے کیونکہ حضور سرکار عربی ہیں ،قرآن عربی میں ہے لہذا مدینہ منورہ کے منافقین اور عرب کے یہودیوں،نجد کے وہابیوں سے نفرت کرنا ان سے بعض رکھنا بالکل درست ہےکہ اس میں کفر سے نفرت ہے نہ کہ ان کے عربی ہونے سے،حضور کی ہر منسوب چیز سے الفت رکھنا علامت ایمان ہے،اس نسبت سے نفرت کرنا علامت کفر ہے،دیکھو صفا مروہ پہاڑوں کو حضرت ہاجرہ سے نسبت ہے تو انہیں شعائر الله فرمایااِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنۡ شَعَآئِرِ اللهِ"اور شعائر الله کی تعظیم دلی تقویٰ ہے وَ مَنۡ یُّعَظِّمْ شَعٰٓئِرَ اللهِ فَاِنَّھَا مِنۡ تَقْوَی الْقُلُوۡبِ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:5998)

فرمان آخری نبی ﷺ : عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُحِبُّ عَلِيًّا مُنَافِقٌ وَلَا يُبْغِضُهٗ مُؤْمِنٌ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ علی سے منافق محبت نہیں کرتا اور ان سے مؤمن بغض نہیں رکھتا ۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:6100)

شرح :سبحان الله! حضرت علی ایمان کی کسوٹی ہیں۔جو اپنے ایمان کی تحقیق کرنا چاہے کہ میں مؤمن ہوں یا منافق وہ اپنے دل کی گہرائیوں میں غور کرے کہ مجھے ان سرکار سے کتنی محبت ہے۔خیال رہے کہ یہاں محبت علی کا ذکر ہے نہ کہ صرف دعویٰ محبت علی کا،محض دعویٰ محبت کرنا اور ہر طرح ان سرکار کی مخالفت کرنا در حقیقت حضرت علی سے عداوت ہے۔بعض لوگ بے نمازبھنگی چرسی اولاد علی کو،حضرات صحابہ کو جو حضرت علی کے دوست ہیں انہیں گالیاں دیتے ہیں وہ محبان علی نہیں دشمنان علی ہیں،رب فرماتاہے:اِنۡ کُنۡتُمْ تُحِبُّوۡنَ اللہ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ"اطاعت علی بڑی چیز ہے الله وہ نصیب کرے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:6100)

فرمان آخری نبی ﷺ : وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: آيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الْأَنْصَارِ

روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی ﷺ سے راوی فرمایا کہ ایمان کی نشانی انصار سے محبت ہے اور منافقت کی نشانی انصار سے بغض ہے ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:6215)

شرح : یعنی سارے انصار سے عداوت صرف دین کی ہی وجہ سے ہوسکتی ہے کسی خاص انصاری کی مخالفت دنیاوی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے اسی لیے یہاں انصار جمع ارشاد ہوا۔انصار حضور ﷺ اور مہاجرین کے ایسے انوکھے میزبان ہیں کہ ان کی مثال آسمان و زمین نے نہ دیکھی تھی۔حضور انور ﷺ نے فرمایا کہ سب کے احسانات کے بدلے ہم نے کردیئے مگر ابوبکر صدیق دوسری روایت میں ہے کہ انصار کے احسانات کا بدلہ نہیں ہوسکا،قیامت میں رب سے دلوایا جاوے گا ان احسانات کو یاد رکھو اور ان سے محبت کرو کہ وہ ہمارے نبی کے محسن ہیں تو ہم سب کے محسن ہیں رضی الله عنہم اجمعین۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:6215)

اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ایک دوسرے سے بعض کینہ کرنے سے بچائے۔ آمین 


فون نمبر 03009462341

پیارے اسلامی بھائیو !جس طرح احادیث مبارکہ میں ایک دوسرے سے حسن سلوک کی تربیت فرمائی گئی ہے اسی طرح اس کے برعکس بغض وکینہ کی مذمت احادیث مبارکہ میں بیان کی گئی ہے آپ کے سامنے چند احادیث مبارکہ پیش کرتا ہوں :

(1) حسد بغض : روایت ہے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے: تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5039 )

(2) برے حکمران : حضرت سَیِّدُنا عَوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :میں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم ﷺ کو فرماتے سنا :”تمہارے اچھےحکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہواور وہ تم سے محبت کرتے ہیں ، تم اُن کے لیےدعا کرتے ہواوروہ تمہارے لیے دعا کرتے ہیں اور تمہارے بُرے حکمران وہ ہیں جن سے تم بغض رکھتے ہو اور وہ تم سے بغض رکھتے ہیں۔تم ان پر لعنت بھیجتے ہواور وہ تم پر لعنت بھیجتے ہیں۔‘‘حضرت سَیِّدُنَا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم نے عرض کی:’’یارسولَ اللہ !کیا ہم ان سے علیحدہ نہ ہوجائیں؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا:’’نہیں!جب تک وہ تم میں نماز قائم کریں ،نہیں!جب تک وہ تم میں نماز قائم کریں۔‘‘ ( فیضان ریاض الصالحین جلد:5 ، حدیث نمبر:661 )

(3) منافقت کی نشانی : روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے وہ نبی ﷺ سے راوی فرمایا کہ ایمان کی نشانی انصار سے محبت ہے اور منافقت کی نشانی انصار سے بغض ہے۔ (مسلم، بخاری)(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:6215 )

(4) بغض رکھنے والے سے اللہ ناراض : روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله ﷺ کو فرماتے سنا کہ انصار سے محبت نہ کرے گا مگر مؤمن اور ان سے عداوت نہ کرے گا مگر منافق تو جس نے ان سے محبت کی الله اس سے محبت کرے،جس نے ان سے بغض رکھا الله اس سے ناراض ہو۔ (مسلم،بخاری)( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:6216 )

(5) کینہ والے کے سوا ساری مخلوق بخش دی جاتی ہے : روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے وہ رسول الله ﷺ سے راوی کہ آپ نے فرمایا : الله تعالٰی پندرھویں شعبان کی شب میں توجہ کرم فرماتا ہے تو کافر یا کینہ والے کے سوا اپنی سب مخلوق کو بخش دیتا ہے۔(ابن ماجہ)( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 )


اللہ تعالی نے انسانوں کو مٹی سے بنایا پھر ان میں مرد اور عورت کی دو قسمیں رکھیں پھر ان میں رشتے بنائے میاں بیوی، بھائی بہن، ماں باپ، دوست، وغیرہ اور آپس میں بغض  و کینہ سے منع فرمایا ، بغض ایسا گناہ ہے جو ان تمام رشتوں کے درمیان خلل پیدا کر دیتا ہے بھائی بہن ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں میاں بیوی کا ایک دوسرے پر اعتماد اٹھ جاتا ہے اور بات طلاق تک جا پہنچتی ہے باپ بیٹی سے نفرت کرنے لگ پڑتا ہے۔

آئیے آج ہم احادیث کی روشنی میں بغض و کینہ کہ متعلق پڑھتے ہیں:

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رضی اللہ عنہ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ:‏‏‏‏ لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ

ترجمہ: ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ مجھ سے انس مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، پیٹھ پیچھے کسی کی برائی نہ کرو، بلکہ اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ ایک بھائی کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ سلام کلام چھوڑ کر رہے۔(صحیح بخاری، کتاب: ادب کا بیان، باب: حسد اور غیبت کرنے کی ممانعت کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ اور حسد کرنے والے کی برائی سے ( پناہ مانگتا ہوں) جب کہ وہ حسد کرے، حدیث نمبر: 6065، حدیث نمبر: 6065 )

‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ ﷺ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ الْعُشْبَ

ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ حسد سے بچو، اس لیے کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا لیتا ہے، جیسے آگ ایندھن کو کھا لیتی ہے یا کہا گھاس کو کھا لیتی ہے ۔ (سنن ابوداؤد، کتاب: ادب کا بیان، باب: حسد کا بیان، حدیث نمبر: 4903،حدیث نمبر: 4903 )

مذکور احادیث میں ہم نے یہ جانا کہ مسلمان بھائی سے بغض و کینہ رکھنا نیکیوں کو ایسا کہا جاتا ہے جیسے آگ ایندھن کو ، یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ حسد نہ کرو برائی بیان نہ کرو اور دشمنی کی وجہ سے اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ کلام نہ کرنا یہ شریعت میں جائز نہیں ، ہمیں حسد کرنے سے باز آنا چاہیے ہمیں صرف اللہ کی رضا کے لیے دوستی رکھنی چاہیے اور اسی کے لیے دشمنی رکھنی چاہیے۔

اللہ تعالی ہمارے دل سے بغض و کینہ دور فرمائے اور ہمیں مسلمان بھائیوں سے محبت رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین


فون نمبر 03276358728

بغض وکینہ کی تعریف:

کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے، اس سے غیر شرعی دشمنی وبغض رکھے، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ53)

(1)آیت مبارکہ:

اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

‏اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱)

ترجمہ کنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔ (پ7، المائدۃ:91)

صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی ’’خزائن الرفان ایک وبال تو یہ ہے کہ اس سے آپس میں بُغض اور عداوتیں پیدا ہوتی ہیں اور جو ان بدیوں میں مبتلا ہو وہ ذکرِ الٰہی اور نماز کے اوقات کی پابندی سے محروم ہو جاتا ہے ۔

(2)بغض رکھنے والوں سے بچو:

اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ و ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے:’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ (ماہ)شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر (اپنی قدرت کے شایانِ شان) تجلّی فرماتاہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتاہے جبکہ کینہ رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔‘ (2) ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بغض دین کو مونڈ ڈالتا (یعنی تباہ کردیتا ) ہے۔‘](باطنی بیماریوں صفحہ 53)

(3)بغض وکینہ کا حکم:

کسی بھی مسلمان کے متعلق بلا وجہ شرعی اپنے دل میں بغض وکینہ رکھنا ناجائز وگناہ ہے۔ سیِّدُنا عبد الغنی نابلسی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’حق بات بتانے یا عدل و انصاف کرنے والے سے بغض و کینہ رکھنا حرام ہے۔‘‘ (باطنی بیماریوں کا علاج صفحہ 53)

(4)بغض وکینہ کا علاج:

’اسباب دور کیجئے۔‘‘ یقیناً بیماری جسمانی ہو یا روحانی اس کے کچھ نہ کچھ اسباب ہوتے ہیں اگر اسباب کو دور کردیا جائے تو بیماری خود بخود ختم ہوجاتی ہے، بغض وکینہ کے اسباب میں سے غصہ، بدگمانی، شراب نوشی، جوا بھی ہے ان سے بچنے کی کوشش کیجئے، ایک سبب نعمتوں کی کثرت بھی ہے کہ اس سے بھی آپس میں بغض وکینہ پیدا ہوجاتا ہے، نعمتوں کا شکر ادا کرکے اور سخاوت کی عادت کے ذریعے اس سے بچنا ممکن ہے۔

(5)عقلمندی سے کام

کینے کی بنیاد عموماً دنیاوی چیزیں ہوتی ہیں ، لیکن سوچنے کی بات ہے کہ کیا دنیا کی وجہ سے اپنی آخرت کو برباد کرلینا دانشمندی ہے۔یقیناً نہیں تو پھر اپنے دل میں کینے کو ہرگز جگہ مت دیجئے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات، صفحہ55تا57)

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


واٹسیپ نمبر: 03207820628

آپ ﷺ کی پاکیزہ اور اخلاقی تعلیمات ہے، جو دلوں کو بغض، حسد، کینہ اور عداوت جیسی مہلک بیماریوں سے پاک کرنے کا حکم دیتی ہے۔ دل کی یہ بیماریاں انسان کے ظاہر و باطن کو خراب کر دیتی ہیں اور اسے خیر و بھلائی سے محروم کر دیتی ہیں۔ خاص طور پر "بغض و کینہ" ایسی آفتیں ہیں جو نہ صرف دینی اخوت کو ختم کرتی ہیں بلکہ انسان کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیتی ہیں۔

کثیر احادیث میں بغض و کینہ کی مذمت بیان کی گئی ہے ۔ جن میں سے چند درج ذیل پڑھتے ہیں :

(1) گواہی کا رد فرمانا :

حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ:

أَنّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ رَدَّ شَهَادَةَ الْخَائِنِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْخَائِنَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَذِي الْغِمْرِ عَلَى أَخِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَدَّ شَهَادَةَ الْقَانِعِ لِأَهْلِ الْبَيْتِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَجَازَهَا لِغَيْرِهِمْ

یعنی رسول اللہ ﷺ نے خیانت کرنے والے مرد، خیانت کرنے والی عورت اور اپنے بھائی سے بغض و کینہ رکھنے والے شخص کی شہادت رد فرما دی ہے، اور خادم کی گواہی کو جو اس کے گھر والوں (مالکوں) کے حق میں ہو رد کردیا ہے اور دوسروں کے لیے جائز رکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: غمر کے معنیٰ: کینہ اور بغض کے ہیں، اور قانع سے مراد پرانا ملازم مثلاً خادم خاص ہے۔ (سنن ابوداؤد/کتاب: فیصلوں کا بیان/باب: جس شخص کی گواہی رد کردی جائے اس کا بیان/حدیث نمبر: 3600/ جلد: 3/صفحہ: 335)

(2) مغفرت کا نہ ہونا :

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا :

تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي کُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِکُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ إِلَّا عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَائُ فَيُقَالُ اتْرُکُوا أَوْ ارْکُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَفِيئَا

یعنی لوگوں کے اعمال ہر ہفتہ میں دو مرتبہ پیر اور جمعرات کے دن پیش کئے جاتے ہیں اور ہر مسلمان بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے سوائے اس بندے کے جو اپنے بھائی کے ساتھ کینہ رکھتا ہو۔ کہا جاتا ہے ’’اسے چھوڑ دو یا مہلت دو حتّٰی کہ یہ رجوع کر لیں۔ (مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب النہی عن الشحناء والتہاجر، ص1387، الحدیث: 36(2565))

(3) بد خلق آدمی کون ہے :

حضرت حارثہ رضى الله عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعَّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ

کیا میں تمہیں اہل جنت کے متعلق نہ بتاؤں؟ ہر وہ آدمی جو کمزور ہوا سے دبایا جاتا ہو لیکن اگر وہ اللہ کے نام کی قسم کھالے تو اللہ اس کی قسم کو پورا کردے کیا میں تمہیں اہل جہنم کے متعلق نہ بتاؤں؟ ہر وہ بدخلق آدمی جو کینہ پرور اور متکبر ہو۔ (مسند احمد/کتاب: حضرت حارثہ بن وہب کی حدیثیں/باب: حضرت حارثہ بن وہب کی حدیثیں/حدیث نمبر: 18730/جلد: 31/ صفحہ: 29)

(4) دین کو مونڈ دینے والی چیز :

حضرت زبیر رضى الله عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ وَلَكِنْ تَحْلِقُ الدِّينَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أَوْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِمَا يُثَبِّتُ ذَلِكَ لَكُمْ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ

یعنی تم سے پہلے جو امتیں گذر چکی ہیں ان کی بیماریاں یعنی حسد اور بغض تمہارے اندر بھی سرایت کرگئی ہیں اور بغض تو مونڈ دینے والی چیز ہے، بالوں کو نہیں بلکہ دین کو مونڈ دیتی ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک کامل مومن نہ ہوجاؤ اور تم اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں ایک ایسا طریقہ نہ بتاؤں جسے اگر تم اختیار کرلو تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو، آپس میں سلام کو رواج دو۔ ( مسند احمد/کتاب: حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات/باب: حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات/حدیث نمبر: 1412/ جلد: 3/ صفحہ: 29)

بغض و کینہ نہ صرف انسان کو روحانی تباہی کی طرف لے جاتا ہے بلکہ سماجی تعلقات بھی بگاڑ دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ دلوں کو صاف رکھیں، معافی کو شعار بنائیں، اور اسلامی اخوت کو فروغ دیں۔ یہی وہ تعلیم ہے جسے نبی کریم ﷺ نے اپنی سنتوں اور احادیث کے ذریعے اُمت کو سکھایا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دلوں سے ہر قسم کے بغض، کینہ، اور حسد کو نکالنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں سچے مسلمان بننے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ 


رابطہ نمبر : 03245345933

بغض و کینہ کے بارے میں علم حاصل کرنا فرض ہے ۔ سب سے پہلے بغض اور کینہ تعریف معلوم ہونا ضروری ہے ۔ جب معلوم ہو گا بغض وکینہ کیا ہوتا ہے پھر ہی انسان اس بچ سکے گا اور الله پاک کا قرب حاصل کر سکے گا ۔

کینہ کی تعریف : دل میں دشمنی کو روکے رکھنا اور موقع پاتے ہی اس کا اظہار کرنا ۔ (لسان العرب جلد 1 ۔ صفحہ نمبر 888 )

حضرت سیدنا محمد بن محمد غزالی رحمۃ الله تعالٰی علیہ کینہ کی تعریف کر تے ہوئے فرماتے ہیں : انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے ،اس سے دشمنی و بغض رکھے، نفرت کرے یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے باقی رہے ۔ (احیاء العلوم کتاب ذم الغضب و الحقد و الحسد جلد 3 صفحہ 223 )

مسلمان سے کینہ رکھنے کا شرعی حکم : مسلمان سے بلاوجہ شرعی بغض و کینہ رکھنا حرام ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 6 صفحہ 526 )

سیدناعبدالغنی نابلسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حق بات بتانے یا عدل و انصاف کرنے والے سے بغض و کینہ رکھنا حرام ہے ۔(الحدیقۃ الندیۃ جلد 1 صفحہ 629 )

(1) : پچھلی امتوں کی بیماری:

صحابہ اکرام رضی اللہ تعالٰی نے حضور ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی : پچھلی امتوں کی بیماری کیا ہے ؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا : ( ان میں سے ایک ) آپس میں بُغض رکھنا ، بُخل کرنا ، یہاں تک کے وہ ظلم میں تبدیل ہو جائے اور پھر فتنہ فساد بن جائے ۔ ( المعجم الاوسط جلد 6 صفحہ 348 الحدیث 9016 )

(2) بخشش نہیں ہوتی : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں ۔ پھر بغض وکینہ رکھنے والے دو بھائیوں کے علاوہ ہر مؤمن کو بخش دیا جاتا ہے ۔ کہا جا تا ہے ۔ ان دونوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اس بغض سے واپس لوٹ آئیں ۔ (صحیح مسلم صفحہ 1388 حدیث 2565 ) ۔

مسلمانوں کا کینہ پالنے والے کے لیے رونے کا مقام ہے کہ بخشش کا پروانہ تو ہر پیر اور جمعرات کو تقسیم ہوتا ہے مگر یہ محروم رہتا ہے ۔ یہ صرف اور صرف اس کا اپنا نقصان ہے ۔

(3) ایمان برباد ہونے کا خوف :

ایک مسلمان کے پاس سب سے قیمتی چیز اس کا ایمان ہوتا ہے ۔ بغض و کینہ کی وجہ سے یہ چھن جانے کا خوف ہوتا ہے ۔حضور ﷺ نے فرمایا : تم میں پچھلی امتوں کی بیماری حسد اور بغض سرایت کر گئی ۔ یہ مونڈدینے والی ہے ۔ میں نہیں کہتا یہ بال مونڈتی ہے ۔ بلکہ یہ دین کو مونڈتی ہے ۔(سنن الترمذی جلد 4 صفحہ نمبر 228 الحدیث 2518 )

حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : اس طرح کے دین و ایمان کو جڑ سے ختم کر دیتی ہے ۔ کبھی انسان بغض و حسد میں اسلام ہی چھوڑ دیتا ہے ۔ شیطان بھی انہی دو بیماریوں کا مارا ہوا ہے ۔ (مراۃ المناجیح جلد 6 صفحہ 615 )

(4) سادات سے بغض کا نقصان : حضور ﷺ نے فرمایا : جو شخص ہم سے بغض و حسد کر ے گا ۔ اسے قیامت کے دن حوض کوثر سے آگ کے چابکوں ( کوڑوں ) کے ذریعے دور کیا جائے گا ۔( المعجم الاوسط جلد 2 صفحہ 33 حدیث 2405 )

(5) شب براءت میں بخشش نہیں ہوتی :

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شب براءت میں اللہ پاک تمام بخشش مانگنے والوں کی مغفرت فرمادیتا ہے ۔ کینہ رکھنے والے کے معاملہ کو مؤخر اور ملتوی فرمادیتاہے ۔ ( کنزالعمال جلد 7447 صفحہ 186 )

کینہ کے اسباب :

1 : غصه ۔

2 : بدگمانی ۔

3 : شراب نوشی اور جُوا ۔

4 : نعمتوں کی کثرت ۔

کینہ کے تین علاج:

1 : سلام و مصافحہ کی عادت بنائیں ۔

2 : مسلمانوں سے اللہ کی رضا کے لیے محبت کیجیئے ۔

3 : مسلمانوں کے کینہ سے بچنے کے لیے دعا کریں ۔

وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠(۱۰)

ترجمہ کنزالایمان : اور ہمارے دل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ اے رب ہمارے بےشک تو ہی نہایت مہربان رحم والا ہے۔ (پ28، الحشر: 10)

اللہ پاک ہمیں بغض و کینہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین