اللہ
تعالی نے انسانوں کو مٹی سے بنایا پھر ان میں مرد اور عورت کی دو قسمیں رکھیں پھر
ان میں رشتے بنائے میاں بیوی، بھائی بہن، ماں باپ، دوست، وغیرہ اور آپس میں بغض و کینہ سے منع فرمایا ، بغض ایسا گناہ ہے جو ان
تمام رشتوں کے درمیان خلل پیدا کر دیتا ہے بھائی بہن ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں
میاں بیوی کا ایک دوسرے پر اعتماد اٹھ جاتا ہے اور بات طلاق تک جا پہنچتی ہے باپ بیٹی
سے نفرت کرنے لگ پڑتا ہے۔
آئیے آج
ہم احادیث کی روشنی میں بغض و کینہ کہ متعلق پڑھتے ہیں:
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ،
أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي
أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رضی اللہ عنہ ،
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا
وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَحِلُّ
لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ
ترجمہ:
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان
کیا انہوں نے کہا کہ مجھ سے انس مالک رضی
اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا : آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ
کرو، پیٹھ پیچھے کسی کی برائی نہ کرو، بلکہ اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن
کر رہو اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ ایک بھائی کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ
سلام کلام چھوڑ کر رہے۔(صحیح بخاری، کتاب:
ادب کا بیان، باب: حسد اور غیبت کرنے کی
ممانعت کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ اور حسد کرنے والے کی برائی سے ( پناہ
مانگتا ہوں) جب کہ وہ حسد کرے، حدیث نمبر:
6065، حدیث نمبر: 6065 )
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،
أَنّ النَّبِيَّ ﷺ ،
قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ
كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ، أَوْ قَالَ: الْعُشْبَ
ترجمہ:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ حسد
سے بچو، اس لیے کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا لیتا ہے، جیسے آگ ایندھن کو کھا لیتی ہے
یا کہا گھاس کو کھا لیتی ہے ۔ (سنن
ابوداؤد، کتاب: ادب کا بیان، باب: حسد کا بیان، حدیث نمبر: 4903،حدیث نمبر: 4903 )
مذکور
احادیث میں ہم نے یہ جانا کہ مسلمان بھائی سے بغض و کینہ رکھنا نیکیوں کو ایسا کہا جاتا ہے جیسے آگ
ایندھن کو ، یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ حسد نہ کرو برائی بیان نہ کرو اور دشمنی کی وجہ سے اپنے مسلمان بھائی سے تین
دن سے زیادہ کلام نہ کرنا یہ شریعت میں جائز نہیں ، ہمیں حسد کرنے سے باز آنا چاہیے
ہمیں صرف اللہ کی رضا کے لیے دوستی رکھنی چاہیے اور اسی کے لیے دشمنی رکھنی چاہیے۔
اللہ تعالی ہمارے دل سے بغض و کینہ دور فرمائے
اور ہمیں مسلمان بھائیوں سے محبت رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
Dawateislami