تاریخِ انسانی ایسے بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے جو قوموں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہیں مگر اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ قومیں ان واقعات کے رونما ہونے کے بعد ہی جاگتی ہیں جب کہ وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔ اس تلخ حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک سوال ذہن میں ابھرتا ہے:کیا ظلم کی چکی میں پستے مظلوم مسلمانوں کے ختم ہو جانے کے بعد ہی امت مسلمہ کی آنکھیں کھلیں گی، جیسے کربلا کے بعد کھلی تھیں؟

واقعہ کربلا اسلام کی تاریخ میں ایک ایسا المیہ ہے جو قیامت تک یاد رکھا جائے گا۔ نواسہ رسول، بی بی فاطمہ کے پھول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے ظلم و جبر کے خلاف جس بے مثال صبر اور بہادری کا مظاہرہ فرمایا وہ رہتی دنیا تک کے مظلوموں کیلئے مشعلِ راہ ہے۔ مگر یہ بھی ایک دردناک حقیقت ہے کہ کربلا کے وقت اکثریت خاموش تماشائی بنی رہی، انہوں نے اپنے امام کو تنہا چھوڑ دیا اور جب وہ امام حسین اور دیگر مسلمان بھائیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تو امت کو ہوش آیا،انکھیں کھلیں اور احساسِ جرم نے قوم کو گھیر لیا۔

لیکن ایک سوال ذہن میں ابھرتا ہے:کیا ہر بار سوئی ہوئی امت مسلمہ کو جگانے کیلئے مظلوم مسلمانوں کو اپنے خون کا نذرانہ پیش کرنا پڑے گا؟کیا ہر بار کربلا جیسے بڑے خسارے سے دوچار ہونا ضروری ہے؟

ہمارا دین تو ہمیں ہر حال میں اپنے مسلمان بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے تو فرمایا: تم مومنوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت و محبت کا معاملہ کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ لطف و نرم خوئی میں ایک جسم جیسا پاؤ گے کہ جب اس کا کوئی ٹکڑا بھی تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے ایسا کہ نیند اُڑ جاتی ہے اور جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ (بخاری،4/103، حدیث: 6011)

آج ہم خود پر غور کر لیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ تمام مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند قرار دیا گیا ہے لیکن افسوس کہ آج صورت حال یہ ہے کہ جسم کے بعض حصوں کو بے دردی سے کاٹا جا رہا ہے اور باقی جسم کو جیسے کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا۔ آج فلسطین میں بچے جل رہے ہیں، گھروں کے ملبے تلے سسکیاں دم توڑ رہی ہیں اور مسجد اقصیٰ کی دیواریں فریاد کر رہی ہیں لیکن دنیا خاموش ہے۔وہی دنیا جو انسانیت کے نعرے لگاتی ہے، انسانی حقوق کی دعوے دار بنتی ہے مگر جب مظلوم مسلمان خون میں نہا رہے ہوتے ہیں تو اس کے ہونٹ سی دیے جاتے ہیں۔ یہ وہی خاموشی ہے جو کشمیریوں نے دیکھی جب کہ ان کے گھروں کو مسمار کیا گیا، جب ان کے جوانوں کو گولیوں سے چھلنی کیا گیا،جب ان کی عورتوں کی عزت پامال کی گئی تب بھی امت مسلمہ نے آنکھیں بند کر لیں اور آج بھی امت مسلمہ اپنی آنکھیں بند کر چکی ہے۔

آج دنیا میں بے شمار جگہیں ہیں جہاں مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے اور امت مسلمہ خاموش ہے۔ تھوڑا غور کریں کہ مظلوموں کی یہ سسکیاں کل ہمارے لئے امتحان نہ بن جائیں،کل بروز محشر اپنے ربِ رحیم کو اور اپنے آقا کریم ﷺ کو ان سسکیوں کا حساب نہ دینا پڑ جائے، توکیا جواب دیں گے؟ اپنی شرمندگی کہاں چھپائیں گے؟آج بھی وقت ہے کہ غفلت کی نیند سوئی ہوئی امت مسلمہ بیدار ہو جائے اور ظلم و ستم کا نشانہ بنتے اپنے مظلوم بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہو جائے ورنہ بروز محشر کی رسوائی دیکھی نہ جائے گی۔

اللہ کریم امت مسلمہ کو جسدِ واحد کی طرح بننے کی توفیق عطا فرمائے اور مسلمانوں پر ظلم و ستم کرنے والے بے دینوں کو نیست و نابود فرمائے۔ آمین یارب العالمین