موضوع کا نام پڑھ کر آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ آج جو  موضوع ہے اس کی اکثر ہمیں ضرورت ہوتی ہے۔ محدود، معین، کم ، جس سے قیمتی آسائشات ہم نہ خرید سکے اس آمدنی کا بجٹ کیا ہونا چاہیے؟اب اگر میں آپکو کوئی پلان بتا دوں کہ اتنے پیسے رکھ لیجئے اتنے پیسے خرچ کر لیں اور آپ کچھ دن بعد فکر مند ہوں گے کہ کیا کریں خرچے پورے نہیں ہو رہے سارے ہی لگ رہے ہمارے پاس پیسے بچ نہیں رہے کیا کریں؟ کیونکہ آپ بہتر جانتے ہیں کہ منصوبہ (plan) کیا بنانا ہے جس سے فائدہ ہو اس لئے آپ کو خوداپنا پلان بنانا ہوگا میں آپکو چند باتیں(Tips) بتاؤں گی۔ سب سے پہلا کام جو آپ نے کرنا ہے وہ ہے اپنے منصوبے (plan) کو سر پے سوار نہیں کرنا کہ میں کیا کروں میں نے تو یہاں لگانے تھے یہ یہاں لگ گئے۔

دوسرا کام: پہچانیے کہ

1۔ آپ کی ضرورت کیا ہے؟ جیسے کپڑے کھانا گھر۔ اگر آپ ایک لڑکی ہیں اور آپکے ابو یا شوہر ہیں تو یہ چیز ان پر لازم ہے کہ وہ کیسے آپکو کھلائیں گے ضرورت کے کپڑے لے کر دیں گے آپ پر نہیں۔ اللہ پاک نے ان پر یہ ذمہ داری لگائی ہے۔ دوسروں کی ذمہ داری کا بوجھ نہ اٹھائیں۔ ان سے سوال کریں کہ یہ میری ضرورت ہے۔

2۔ آپکو آسانی کیلئے کیا چاہیے؟جیسے زیادہ کپڑے،زیادہ جوتے، زیادہ عبایا وغیرہا۔ اگر آپکے ابو یا شوہر نہیں دیتے تو یہ آپ کی اپنی ذمہ داری ہے۔یہ ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔

3۔ آپکی خواہشات (اچھی نیت والی جائز خواہشات) جیسے مہنگے کپڑے، مہنگی گاڑی، مہنگا گھر وغیرہا۔

تیسرا کام: اللہ کی راہ میں دیں اور بہت زیادہ دیں اتنا جس سے آپکا دل تنگ نہ ہو۔ جب آپ مال کو جانے دیتے ہیں تو یہ آپکے پاس آتا ہی رہتا ہے۔ جب آپ اسے روک لیں تو اس میں سے برکت ختم ہو جاتی ہے کیونکہ کسی برتن میں پڑا پانی خراب ہو جاتا ہے اگر اس پانی کو ہم خرچ نہیں کریں گے صرف رکھ دیں گے یا پھر اچھی جگہ خرچ نہیں کریں گے تو وہ زیادہ اور اہم فائدہ نہیں دے گا۔ پانی کو اگر کسی اچھے پودے کی آبیاری کیلئے استعمال کریں گے تو وہ پودا آپکو فائدہ دے گا اور اگر اس پانی کو محض برتن دھونے کیلئے استعمال کریں گے تو اتنا فائدہ نہیں دے گا۔

چوتھا کام: جب بازار جائیں تو گھر سے سامان لکھ کر لے کر جائیں کہ کیا کیا چاہیے اور جو چیز آپکو نئی لگے اسے نا خریدیں کیونکہ عین ممکن ہے کہ آپکو اس چیز کا اسی لئے نہیں معلوم کہ وہ آپکی ضرورت نہیں ہے۔ کوئی بھی چیز خریدنے سے پہلے سوچیں کہ یہ اس قابل ہے کہ اتنے گھنٹے یا دنوں کی کمائی اس پر خرچ کی جائے جیسے کوئی دن کا 3 ہزار کماتا ہے اور 3 گھنٹے کام کر کے کماتا ہے۔ تو کیا 10 ہزار والا سوٹ اس قابل ہے کہ آپ اپنے یا اپنے کفیل کے 10 گھنٹے کی کمائی سے یہ خریدیں؟ ایک چیز جو ہم میں ہے وہ ہے چیزوں کو زیادہ مقدار میں خریدنا (راشن وغیرہا کی بات الگ ہے) جیسے اب کوئی بازار گیا اور ایک چھری 50 کی تھی وہ 10 لے آیا کہ بعد میں کام آئے گی۔ اب ضرورت تو صرف 2 کی تھی مگر یہ باقی آٹھ بعد کیلئے رکھ دی یہ فائدہ مند نہیں ہے۔ 400 روپے آپ بچا سکتے تھے یا کسی اور اہم چیز میں خرچ کر سکتے تھے۔

پانچواں کام: اگر خرچے بڑھ رہے ہیں تو اپنے کمانے کے وسائل زیادہ بنائیں۔آج کے دور میں ایک کام سے گھر مشکل سے چلتے ہیں۔ مگر وہ وسائل اپنائے جن کو آپ کر سکتے ہو جن کے آپ اہل ہو۔معتدل انداز میں خرچ کریں۔

پیسوں کو ہاتھ میں روک کر نہ رکھیں۔ اگر اللہ پاک نے دیا ہے تو اس کی راہ میں خرچ کریں اچھی نیت کیساتھ اس کی نعمت کا اظہار بھی کریں اور اگر آپ کے مالی حالات ٹھیک نہیں ہیں مطلب آپ اس کے اہل نہیں تھے ابھی جب اہل ہوں گے مال بھی مل جائے گا۔ کوشش کرتے رہیےیقین کیساتھ وظائف پڑھیے دعا مانگئے۔

وظیفہ: کاغذ پر 35 مرتبہ تسمیہ(بسم اللہ) لکھ کر گھر میں لٹکا دیجئے، رزق حلال میں خوب برکت ہوگی۔ ان شاء اللہ

یا رزّاق ہمیں اپنے خزانوں میں سے عطا فرما۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ


اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو اپنے ماننے والوں کی دینی و دنیاوی ہر معاملے میں احسن انداز میں راہنمائی کرتا ہے اور جو ان تعلیمات پر عمل کرتا ہے وہ دنیاوی و اخروی زندگی میں سرخرو ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی ہماری زندگی کا ایک پہلو خانگی و عائلی معاملات میں میانہ روی اختیار کرنا بھی ہے اگر ان میں اسراف و فضولیات سے نہ بچا جائے تو ایک پرسکون زندگی محض خواب ہی لگتی ہے۔

اللہ رب العزت نے اپنے کلامِ عظیم میں ارشاد فرمایا: وَ لَا تُسْرِفُوْاؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ(۱۴۱) (پ 8، الانعام:141) ترجمہ کنز الایمان: اور بےجا نہ خرچو بےشک بے جا خرچنے والے اسے پسند نہیں۔

اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ اسراف سے متعلق مختلف اقوال ہیں: حضرت سفیان ثوری کا قول ہے کہ اللہ کی اطاعت کے سوا اور کام میں جو مال خرچ کیا جائے وہ قلیل بھی ہو تو اسراف ہے۔ امام زہری کا قول ہے کہ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ معصیت میں خرچ نہ کرو۔ امام مجاہد نے کہا کہ اللہ کے حق میں کوتاہی کرنا اسراف ہے۔ بروز محشر مال کے متعلق سوال ہوگا اگرچہ کم ہو یا زیادہ چنانچہ مدینے والے آقا ﷺ کا ارشادِ پاک ہے: قیامت کے دن انسان کے قدم نہ ہٹیں گے حتی کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا ( جن میں سے ایک) اس کے مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔ (ترمذی، 4/188، حدیث: 2424)

مندرجہ بالا باتوں سے یہ واضح ہوا کہ بلا شبہ ہمارا پیارا دین اسلام ہمیں میانہ روی ، صبر و شکر اور قناعت کا درس دیتا ہے اگر دنیاوی معاملات میں زیادہ ملوث ہوں تو اخراجات خود بخود بڑھ جاتے ہیں چاہے آمدنی لاکھوں میں ہو یا چاہے کمانے والے ایک سے زائد ہی کیوں نہ ہوں فضول خرچی کی عادت سے محدود آمدنی میں اچھا گزر بسر کرنا انتہائی مشکل معلوم ہوتا ہے لیکن اگر ہم اپنی ضروریات کے مطابق گھر کا بجٹ بنائیں اور اس پر سختی سے عمل بھی کریں تو نہ صرف ایک خوشگوار زندگی کا وجود عمل میں آ سکتا ہے بلکہ ماہانہ کچھ نہ کچھ بچت بھی ممکن ہے یہاں اس حوالے سے چند نکات پیش خدمت ہیں:

آمدنی اور اخراجات کا توازن: اسلام اسراف اور فضول خرچی سے سختی سے منع کرتا ہے۔ جیسا اوپر آیت مبارکہ ذکر کی گئی اس لیے آمدنی کے مطابق ضروری اور جائز اخراجات کو ترجیح دیں، غیر ضروری چیزیں خریدنے سے پرہیز کریں۔

بجٹ کی ترتیب: ہر مہینے کی آمدنی اور متوقع اخراجات کا باقاعدہ حساب رکھیں۔ بجٹ بناتے وقت راشن، بلز، تعلیم، علاج، صفائی، مرمت اور صدقہ کے لیے مخصوص رقم مختص کریں گھر کے افراد کی مشاورت سے اخراجات پر نظر رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔

بچت اور مستقبل کی منصوبہ بندی: اسلام منصوبہ بندی اور بچت کی ہدایت دیتا ہے تاکہ ناگہانی اخراجات یا مشکل وقت میں پریشانی نہ ہو۔ کم آمدنی میں بچت کرنا مشکل ضرور ہے، لیکن اگر ضروری اخراجات کو ترجیح دیں اور غیر ضروری اخراجات کم کرلیں تو بچت ممکن ہے۔

آمدنی میں برکت کے ذرائع: اسلامی تعلیمات کے مطابق رزق میں برکت کے لئے کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونا، گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا، سچ بولنا، بسم اللہ پڑھ کر کھانا اور باجماعت نماز پڑھنا رزق میں برکت لاتا ہے۔

راہِ خدا میں خرچ کرنا: اسلام میں صدقہ اور خیرات کو بڑا اہم مقام حاصل ہے۔ محدود آمدنی کے باوجود کچھ رقم اللہ کی راہ میں خرچ کریں، کیونکہ صدقہ برکت اور امن کا ذریعہ بنتا ہے صدقہ بلاؤں کو ٹالتا ہے بڑی موت سے بچاتا ہے۔

اصولِ کفایت شعاری: آمدنی کم ہو تو مہنگے علاقوں یا غیر ضروری چیزوں سے پرہیز کی جائے، سستے علاقے میں گھر لیا جائے، سادگی سے زندگی گزاری جائے اور اخراجات میں توازن رکھا جائے۔

الغرض اسلامی تعلیمات کے مطابق بجٹ بنا کر، اخراجات میں میانہ روی اپنا کر، راہِ خدا میں خرچ کر کے اور رزق میں برکت کے اصولوں پر عمل کر کے محدود آمدنی میں بھی سکون اور خوش حالی کے ساتھ زندگی بسر کی جا سکتی ہے۔