انسانی زندگی
ضروریات،آسائشات پر مشتمل ہے اور یہ سب کچھ مفت حاصل نہیں ہوتا ان کے لیے رقم خرچ
کرنی پڑ تی ہے۔ معاشرے میں عموماً چار طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں: ایک وہ جو بے
حساب کماتے اور بے حساب خرچ کرتے ہیں، دوسرے وہ بے حساب کماتے اور حساب سے خرچ
کرتے ہیں، تیسرے وہ جو حساب سے کماتے اور حساب سے خرچ کرتے ہیں اور چوتھے وہ جو
حساب سے کماتے اور بے حساب خرچ کرتے ہیں اس طرح کے لوگ عموماً تنخواہ دار ہوتے ہیں
جو مالی طور پر پریشان رہتے ہیں جس کا اثر ان کی گھریلو زندگی پر پڑتا ہے اور پھر
لڑائی جھگڑے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
محدود
آمدنی اور گھریلو بجٹ کیوں ضروری ہے؟ ”آج کل ہاتھ تنگ ہے!“، ”گزارہ نہیں ہوتا“،
”پوری نہیں پڑتی“ جیسے جملے آپ نے سنے ہوں گے۔ لیکن بعض کی بنیادی ضروریات زندگی
ہی پوری نہیں ہوتی اور بعض ایسے ہیں جنہیں کمانا تو آتا ہے خرچ کرنا نہیں آتا۔
یاد رہے! خرچ
کرنے کے بعد پریشان ہونے سے بہتر ہے کہ ہم آمدنی اور خرچ میں توازن قائم کرنے کے
لیے گھریلو بجٹ بنا لیں اور محدود آمدنی میں گزار کریں تو کئی ٹینشنوں سے بچ جائیں
گے۔
گھریلو
بجٹ بنانے کی ہدایت: بجٹ بنانے سے پہلے چند امور کو مدنظر رکھئے:1 فضول
خرچی سے پرہیز کریں اور غیر ضروری اخراجات کو گھریلو بجٹ کا حصہ نہ بنائیں۔ 2جس
کام کے لیے گھریلو بجٹ میں جتنی رقم خاص کی گئی اس سے زیادہ خرچ نہ کی جائے۔ 3
گناہوں کے کاموں میں مثلاً سینیما ھال وغیرہ کی ٹکٹوں اور فلمیں، گانے باجے وغیرہ
سننے دیکھنے کے لیے، مہنگے ساؤنڈ سسٹم اور ایل سی ڈیز وغیرہ پر خرچ نہ کریں۔ 4 رقم
ایک شخص کے پاس جمع ہو اور وہی اخراجات کا تحریری حساب بھی رکھے، جہاں جہاں بچت
ممکن ہو کر لی جائے، جتنی بچت زیادہ اتنی پریشانی کم ہو گی۔
گھریلو
بجٹ بنانے کا طریقہ: اپنے ماہانہ گھریلو بجٹ کو 10 حصوں میں تقسیم کر
لیں (ہر کوئی اپنے رہن سہن کے مطابق اس میں کمی یا زیادتی کر سکتا ہے):
1راشن:
اس
میں آٹا، چینی، چائے کی پتی، دالیں، سبزیاں، پھل، گوشت، نمک، مرچ، مسالے، دودھ،
کوگنگ آئل، گھی اور چاول وغیرہ شامل ہیں۔
2
یوٹیلیٹی بلز :مثلاً
گیس، پانی، کیبل، بجلی، انٹر نیٹ اور موبائل کارڈ لوڈ کروانا وغیرہ۔
3علاج
:بیماری
کی صورت میں ڈاکٹر کی فیس اور دوائی کی قیمت وغیرہ۔
4
صفائی ستھرائی:اس
میں گھر، بدن، لباس اور برتنوں کی صفائی کے لیے استعمال ہونے والی اشیاء مثلاً
صابن، سرف، شیمپو، فنائل، ٹوتھ پیسٹ، مسواک جیسی اشیاء شامل ہیں۔
5کرایہ
:جیسے
مکان کا کرایہ، دفتر یا کسی کے گھر جانے کے لیے بس یا ٹیکسی، رکشے کا کرایہ وغیرہ،
کمیٹی (یعنی بیسی) ڈالی ہو تو اس کی ادائیگی، قرض لیا ہو تواس کی ادائیگی، اگر
اپنی بائیک یاکار ہے تو اس کے پیٹرول اور سروس وغیرہ کا خرچہ۔
6
تعلیم :اسکول
کالج وغیرہ کی فیس، اسکول وین کی فیس، کتابوں، کاپیوں اور اسٹیشنری پر آنے والے
اخراجات اور بچوں کا جیب خرچ اور روزانہ کا اسکول لنچ۔
7گھریلو
سامان کی مرمت یا تبدیلی :جیسے فریج، واشنگ مشین، گیس کے چولہے
وغیرہ میں خرابی کی صورت میں مرمت کا خرچہ یا پرانا سامان استعمال کے قابل نہ ہونے
کی صورت میں نیا خریدنا۔
8
راہ خدا میں خرچ کرنا :کسی ضرورت مند کی مدد کرنا، بھوکے غریب کو کھانا
کھلانا یا مسجد مدرسہ میں فنڈ دینا وغیرہ۔
9غیر
متوقع اخراجات :مثلاً
اچانک مہمان آگئے یا کسی شادی وغیرہ میں شرکت کرنا پڑی یا کوئی چیز گم ہو گئی،
موبائل یا بائیک وغیرہ چھن گئی یا چوری ہو گئی۔
10طویل
المدت خرچے :مستقبل
میں کوئی شے مثلاً فریج، واشنگ مشین، فرنیچر، بائیک یا زمین وغیرہ خریدنے کا ارادہ
ہو تو اخراجات کے بعد بچ جانے والی رقم محفوظ کر لینا۔
کس
پر خرچ کرنا ہے؟ اس
کے لیے مشورہ ہے کہ سب سے پہلے یہ حساب لگائیں کہ آپ اوپر بیان ہونے والی چیزوں پر
اپنے گھر میں کتنا خرچ کرتے ہیں اور کہاں کہاں کٹوتی (یعنی کم کرنے) کی گنجائش ہے؟
اسکے مطابق
اپنے ماہانہ خرچ کا حساب کر لیں پھر اپنے گھر کا بجٹ فرضی گھریلو بجٹ کے مطابق بنا
لیں، مثلاً راشن:40 ٪ صفائی ستھرائی:5٪ یوٹیلیٹی بلز:10٪ کرایہ:12٪ علاج:5٪ تعلیم:10٪
مرمت یا تبدیلی:3٪ راہ خدا میں خرچ:5٪ غیر متوقع اخراجات:5٪ طویل المدت خرچ :5٪
وغیرہ۔
اللہ پاک کی
رحمت سے امید ہے کہ دیئے گئے گھریلو بجٹ اور محدود آمدنی کی تجاویز کے مطابق گھریلو
اخراجات کا جائزہ لینے اور بجٹ بنانے میں فضول خرچی سے بچ جائیں گے اور بلاوجہ کسی
دوسرے کے آگے سوال بھی نہیں کرنا پڑے گا۔
اللہ تعالیٰ
ہمیں آسانی اور عافیت عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین
Dawateislami