قرض کی
ادائیگی میں تاخیر مت کیجیے از بنت سرفراز نواز،فیضان عطار بھینس کالونی کراچی
ارشاد ربانی
ہے: اِنَّ اللّٰهَ
یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ- (پ 5،
النساء: 58) ترجمہ: بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل تک پہنچا
دو۔
حضرت علامہ
جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں: اس آیت میں امانت اور
قرض واپس لوٹانے کے وجوب کا ثبوت ہے۔
حضرت ابو
ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نور خدا، رازدار کبریا ﷺ کا فرمان عالی نشان ہے: قرض
کی ادائیگی میں مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (بخاری،2/109، حدیث:2400)
قرض
کی ادائیگی میں بلاوجہ تاخیر کرنا: فقہائے کرام نے بلاحاجت شرعی ادائے قرض
میں تاخیر کو بھی ظلم قرار دیا ہے تو کسی سے قرض لے کر سرے سے واپس ہی نہ کرنا تو
اس سے بھی سخت تر معاملہ ہے۔
اس بارے میں
چند حدیث مبارکہ ملاحظہ کیجیے:
سرکار عالی
وقار مدینے کے تاجدار حبیب پروردگار ﷺ نے ارشاد فرمایا: قرض کے ادائیگی میں صاحب
قرض کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (بخاری،2/109، حدیث:2400)
استطاعت والے
کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا اس کی آبرو یعنی عزت اور اس کی سزا کو حلال
قرار دیتا ہے یعنی اسے برا کہنا اس پر طعن و تشنیع کرنا جائز ہوتا ہے۔ (بخاری،2/109، حدیث:2400)
تاجدار مدینہ،
راحت قلب و سینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: شہید کا ہر گناہ معاف ہو جائے گا سوائے قرض
کے۔ (مسلم، ص 1046، حدیث: 1886)
ام المؤمنین
بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نماز میں دعا
مانگتے تھے: الٰہی! میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہ اور قرض سے۔ کسی نے عرض کیا:
حضور ﷺ قرض سے کیوں پناہ مانگتے ہیں؟ تو فرمایا کہ آدمی جب مقروض ہوتا ہے بات کرتا
ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔ (نسائی، ص 866،
حدیث: 5464)
مسلمانو! ڈر
جاؤ، حقوق العباد کا معاملہ نہایت سخت ہے۔
امام محمد بن
محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ کیمیائے سعادت میں نقل کرتے ہیں کہ جو شخص قرض لے لیتا
ہے اور نیت کرتا ہے کہ میں اچھی طرح ادا کروں گا تو اللہ اس کی حفاظت کے لیے اس پر
فرشتے مقرر فرما دیتا ہے اور وہ دعا کرتے ہیں کہ اس کا قرض ادا ہو جائے۔ اور اگر
قرض دار ادا کر سکتا ہو تو قرض خواہ کی مرضی کے بغیر اگر ایک گھڑی بھی تاخیر کرے
گا تو گنہگار ہوگا اور ظالم قرار پائے گا۔
قرض
میں تاخیر کے نقصانات: جس شخص کو قرض تاخیر سے لوٹانے کی عادت ہو جائے وہ
پھر بےجا بہانے گھڑتا ہے چاہے اس کے پاس رقم موجود کیوں نہ ہو اور اس طرح وہ
گناہوں کا عادی ہو جاتا ہے اور گناہ در گناہ کر بیٹھتا ہے۔
مزید نقصان یہ
بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی عزت بھی کھو بیٹھتا ہے اور لوگ اسے حقیر سمجھنے لگتے ہیں، اس
کے علاوہ بھی کئی مقامات پر صاحب استطاعت کا قرض کی ادائیگی میں بلاوجہ تاخیر کرنے
کی مذمت آئی ہے کیونکہ قرض کی واپسی کرنا فرض ہے اور بلاوجہ اس میں تاخیر کرنا سخت
گناہ ہے۔
ہمیں چاہیے کہ
ہم ضروری چیزوں کے بارے میں علم حاصل کریں تاکہ گناہوں سے محفوظ رہ سکیں۔ ہمیں
چاہیے کہ ہم اپنی چادر دیکھ کر ہی اپنے پاؤں پھیلائیں۔
اگر ہم معاشرے
کے فضول ٹرینڈز پر اپنا وقت اور مال برباد کرنے سے گریز کریں تو بہت سے لوگ مقروض
ہونے سے بچ سکتے ہیں۔
ہمیں لمبی
لمبی امیدیں نہیں باندھنی چاہئیں۔ اگر ہمارے پاس قرض ادا کرنے کے لیے رقم موجود ہے
تو ہمیں مقررہ وقت پر قرض واپس کرنا چاہیے۔
اللہ پاک ہمیں
اپنے سوا کسی کا محتاج نہ کرے اور تمام مقروض افراد کی مدد فرمائے۔ آمین
قرض کی
ادائیگی میں تاخیر مت کیجیے از بنت عطاء اللہ، فیضان عطار بھینس کالونی کراچی
علمائے کرام
نے بغیر کسی مجبوری کے قرض ادا کرنے میں دیر کرنے کو ظلم قرار فرمایا ہے جب قرض
میں بلا عذر شرعی تاخیر کرنا ظلم ہے تو کسی سے قرض لے کر سرے سے واپس ہی نہ کرنا
کتنا بڑا ظلم ہوگا آج کل تو قرض کے نام پر کتنے لوگوں کے لاکھوں روپے ہڑپ کر دیے
جاتے ہیں آج دنیا میں تو یہ سب آسان لگ رہا ہوگا لیکن کل قیامت کے دن بہت مہنگا پڑ
جائے گا۔ مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے قرضے کی ادائیگی میں
سستی اور جھوٹے حیل و حجت کرنے والے شخص (مثلا زید) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ
رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: زید فاسق، فاجر، ظالم، کذاب اور مستحقِ عذاب ہے اگر یہ
اس حالت میں مر گیا اور دین (قرض) لوگوں کا اس پر باقی رہا اس کی نیکیاں ان قرض
خواہوں کے مطالبے میں دے دی جائیں گی اور کیونکر دے دی جائیں گی یعنی (کس طرح دی
جائیں گی) تین پیسہ دین قرض کے بدلے 700 نمازیں باجماعت دینی پڑیں گی جب قرضہ دبا
لینے والے کے پاس نیکیاں نہ رہیں گی ان قرض خواہوں کے گناہ اس مقروض کے سر پر رکھے
جائیں گے اور انہیں آگ میں پھینک دیا جائے گا۔
اللہ پاک کے
پیارے پیارے آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:(قرض کی ادائیگی میں) صاحب استطاعت کا ٹال
مٹول کرنا ظلم ہے۔ (بخاری، 2/109، حدیث: 2400)
شہید جس کا
اتنا بلند رتبہ ہے اس کو بھی قرض کی ادائیگی میں بلاوجہ تاخیر کرنا اس پر وبال جان
ہے اس پر بھی وعید بیان کی گئی ہے۔
پیارے آقا ﷺ نے
ارشاد فرمایا: شہید (یعنی وہ شخص جس نے اللہ پاک کی راہ میں جان دے دی ہے) کا ہر
گناہ معاف ہو جائے گا سوائے قرض کے۔ (مسلم، ص 1046، حدیث: 1886)
قرض کی رقم
واپس کرنا لازم ہے، چنانچہ ارشاد ربانی ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا
الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ- (پ 5، النساء: 58) ترجمہ: بے شک اللہ
تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل تک پہنچا دو۔
حضرت علامہ
جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں اس آیت میں امانت اور
قرض واپس لوٹانے کا حکم ہے۔ حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
فرماتے ہیں: جس مقروض کے پاس ادائے قرض کے لیے پیسے ہوں پھر ٹالے تو وہ ظالم ہے
اسے قرض خواہ ذلیل بھی کر سکتا ہے اور جیل بھی بھجوا سکتا ہے یہ شخص (مقروض)
گنہگار بھی ہوگا کیونکہ ظالم بھی گنہگار ہی ہوتا ہے اور اگر قرض دار قرض ادا کر
سکتا ہو تو قرض خواہ کی مرضی کے بغیر اگر ایک گھڑی بھی تاخیر کرے گا تو گنہگار
ہوگا اور ظالم قرار پائے گا خواہ روزہ دار ہو یا سونے کی حالت میں ہو اس کے ذمے
گناہ لکھا جاتا رہے گا گویا ہر حال میں گناہ کا میٹر چلتا رہے گا اور ہر صورت میں
اللہ پاک کی لعنت پڑتی رہے گی۔ (الامان و الحفیظ)
اور یہ گناہ
تو ایسا ہے کہ نیند کی حالت میں بھی اس کے ساتھ رہتا ہے اگر اپنا قیمتی سامان بیچ
کر بھی قرض ادا کر سکتا ہے تو ایسا کرنا پڑے گا اگر قرض کے بدلے کوئی دوسری چیز
دینا چاہے جو قرض خواہ کو ناپسند ہو تب بھی دینے والا گنہگار ہوگا جب تک اسے راضی
نہ کر لے وہ اس ظلم کے جرم سے نجات نہیں پائے گا کیونکہ اس کا یہ فعل کبیرہ گناہوں
میں سے ہے مگر لوگ اسے معمولی خیال کرتے ہیں۔
دل
دکھانے کا وبال: اسی
طرح بعض لوگ جھوٹے وعدے کر کے قرض حاصل کر لیتے ہیں لیکن افسوس صد کروڑ افسوس! قرض
لے لینے کے بعد ادا کرنے کا نام نہیں لیتے بلکہ غیرت مندی کا تقاضا تو یہ ہے کہ جن
سے قرض لیا ہے انہیں بصد شکریہ کے ساتھ قرض واپس لوٹا دیا جائے مگر آج کل کا یہ
حال ہے کہ قرض ادا کرنا بھی ہے تو قرض خواہ کو خوب دھکے کھلا کر رلا رلا کر اس
بیچارے کی رقم توڑ پھوڑ (تھوڑی تھوڑی) کر کے لوٹا دی جاتی ہے اسی طرح کل پرسوں کے
وعدے کیے جاتے ہیں فلاں دن رقم دے دوں گا وغیرہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم کتنا بڑا وبال
سر پر لے رہے ہیں جب قرض کل چکانا ہی ہے تو آج چکا دینے میں ہی کیا حرج ہے یاد
رکھیے بلاوجہ قرض خواہ کو دھکے کھلانا بھی ظلم ہے
امام شرف
الدین حسین بن محمد طیبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اگر قرض واپس کرنے پر قادر ہے
تو خواہ مخواہ تاخیر کرنا حرام ہے اسی طرح امام الحرمین علامہ جوینی رحمۃ اللہ
علیہ فرماتے ہیں: قدرت کے باوجود قرض واپس کرنے میں تاخیر جائز نہیں ہے۔
عزت
کی بربادی: قرض
پر زندگی گزارنے والے کی عموماً کوئی عزت ہے نہ لوگ اس پر اعتماد کرتے ہیں اولاً
تو قرض دے دیتے ہیں مگر جب واپسی میں تاخیر اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا
لوگوں کو پتہ چل جاتا ہے کہ اس کی عادت میں قرض لینا شامل ہے تو اس سے جان چھڑانے
کی راہ تلاش کرتے ہیں، بعض اوقات قرض خواہ لوگوں کے سامنے ہی مطالبہ کر لیتے ہیں
اور ادا نہ کر سکنے کی صورت میں عزت کا جنازہ نکل جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس کی
بات کی بھی کوئی اہمیت نہیں رہتی اور دین کی خدمت سے بھی محروم ہونے لگتا ہے
کیونکہ لوگ اس کے پاس آنے سے کتراتے ہیں بسا اوقات ایسا فرد اچھے ماحول کے لیے
بدنامی کا سبب بنتا ہے حضرت سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس آدمی میں
کوئی بھلائی نہیں جو حلال کمائی سے مال جمع کرنے کا ارادہ نہ رکھے تاکہ اس سے خود
پر واجب حقوق ادا کرے اور لوگوں سے اپنی حفاظت کرے۔
دیکھیے! حقوق
العباد کا معاملہ نہایت ہی سخت ہے اگر آپ نے کسی سے قرض لیا اور ادائیگی کے لیے
رقم پاس نہیں ہے مگر گھر کے اسباب فرنیچر وغیرہ بیچ کر قرض ادا کیا جا سکتا ہے تو
یہ بھی کرنا پڑے گا قرض ادا کرنے کی ممکن صورت ہونے کے باوجود قرضدار سے مہلت لیے
بغیر آپ قرض کی ادائیگی میں جب تک تاخیر کرتے رہیں گے گنہگار ہوتے رہیں گے خواہ آپ
جاگ رہے ہوں یا سو رہے ہوں آپ کے گناہوں کا میٹر چلتا رہے گا (الامان والحفیظ) جب
قرض کی ادائیگی میں تاخیر کا یہ وبال ہے تو جو کوئی پورا قرض ہی دبا لے اس کا کیا
حال ہوگا۔
اللہ پاک ہمیں
قرض سے بچنے، قناعت اختیار کرنے اور حلال روزی کمانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
قرض کی
ادائیگی میں تاخیر مت کیجیے از بنت غلام جیلانی، فیضان رضا سرجانی ٹاؤن کراچی
دور حاضر کی
مہنگائی سے ہر طبقے خصوصا غریب لوگوں کی زندگیاں بہت متأثر ہوئی ہیں بہت سے لوگ
قرضوں کے بوجھ تلے دب گئے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے ہیں کہ ان بیچاروں کی نیت تو ہے مگر قرض
لوٹانے کے وسائل نہیں،اور بعض ایسے بھی ہیں جو باوجود قدرت قرض کی ادائیگی میں
غفلت سے کام لیتے ہیں۔ہر شخص کو چاہیے کہ جب کبھی زندگی میں ایسی صورتحال پیش آئے
کہ وہ کسی سے قرض لے تو اس قرض کو واپس دینے کی پکی نیت رکھے اور اسے لوٹانے کی
صحیح کوشش بھی کرے کیونکہ جو اس کے برعکس ہو وہ شخص گنہگار اور عذاب الہی کا حقدار
ہے۔
ادائیگی
قرض میں تاخیر کے نقصانات:
1۔ مقروض اگر
ادائیگی قرض میں تاخیر کرے تو لوگوں کی نظر میں اس کا مقام (عزت و وقار) گر جاتا
ہے۔
2۔ باہمی
تعلقات خراب ہوتے ہیں اور دلوں میں برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔
3۔ اگر دوبارہ
کبھی اس کو قرض یا کسی مدد کی ضرورت ہو تو شاید لوگ اس کے کام نہیں آئیں گے۔
4۔ باوجود
قدرت قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرنا اللہ و رسول کی ناراضگی،قرض دینے والے کی حق
تلفی، اور دل ازاری کا سبب ہے جو کہ گناہ ہے۔
5۔ قرض دار
جھوٹ کی آفت میں بہت زیادہ مبتلا ہو تا ہے کہ کل دے دوں گا یا فلاں تاریخ کو لوٹا
دوں گا وغیرہ۔
احادیث
مبارکہ: کثیر
احادیث مبارکہ میں قرض واپس نہ کرنے پر مذمت اور ادائیگی قرض میں تاخیر سے بچنے پر
ترغیبات موجود ہیں، چنانچہ
حضرت سلمہ ابن
اکوع فرماتے ہیں ہم نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر تھے کہ ایک جنازہ لایا گیا فرمایا: کیا
اس پر کچھ قرض ہے عرض کیا گیا تین اشرفیاں، فرمایا: کیا اس نے کچھ مال چھوڑا بھی
ہے عرض کیا نہیں فرمایا اپنے یار پر تم ہی نماز پڑھو۔ابوقتادہ نے عرض کیا یارسول
الله! آپ اس پر نماز پڑھیں اس کا قرضہ میرے ذمہ ہے تب آپ نے نماز پڑھی۔ (بخاری،
2/72، حدیث:2289)
شرح
حدیث: اس
حدیث پاک کی شرح میں آتا ہے کہ انصار مدینہ قرض لینے کے بہت عادی تھے،ان کے مکان
جائیدادیں،سامان یہود کے ہاں گروی تھے،معمولی باتوں پر قرض لے لیا کرتے تھے،اس بری
رسم کو مٹانے کے لیے حضور نے مقروضوں پر یہ سختی فرمائی۔
حضرت براء بن
عازب فرماتے ہیں رسول الله ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن مقروض اپنے قرض میں گرفتار
رہے گا حتی کہ اپنے رب سے تنہائی کی شکایت کرے گا۔ (مرقاۃ المفاتیح، 6/125،حدیث: 2915)
شرح:
یعنی
کسی غمخوار کو نہ پائے گا جو اس کا قرض ادا کر ے،صرف یہ ہی صورت ادائے قرض کی ہوگی
کہ رب تعالیٰ اس مقروض کی نیکیاں قرض خواہ و قرض کے عوض دے یا ان سے معاف کرائے۔
ادائیگی
قرض میں تاخیر کے اسباب اور ان کا حل:
1)مال کی محبت 2)غفلت 3) ٹال مٹول کی عادت: ان سب اسباب
کی اصل علم دین کی کمی ہے کہ ہمیں حقوق العباد کی اہمیت کا علم نہیں صحیح و غلط کی
پہچان نہیں ہے۔ہمیں علم حاصل کرنا چاہیے اور ادائیگی قرض میں تاخیر کی وعیدات اور
نقصانات کو بار بار پڑھ کر ان پر غور کرنا چاہیے کہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں
کہیں قرض لوٹائے بغیر دنیا سے رخصت ہو گئے تو کیا بنے گا۔
4)
تنگ دستی:اگر
ادائیگی قرض پر قدرت نہ ہو تو ایسے شخص کو چاہیے جس سے قرض لیا ہے اس کو ٹال مٹول
کرنے کے بجائے اسے اپنے حال سے آگاہ کرے اور ایسی مدت تک مہلت مانگے کہ جس میں
امید ہو کہ واپس کر دوں گا اور رب سے دعا کرے ان شاء اللہ الکریم اسباب بن جائیں
گے۔
ادائیگی
قرض کی دعا: اللّٰهمّ اكفني بحلالِك عن حرامِك وأغنني بِفضلِكَ عمَّن سِواك اگر
پہاڑ برابر بھی قرض ہو تو اس دعا کی برکت سے اتر جائے گا۔
حقوق العباد
کی ادائیگی میں قرض کا معاملہ بہت حساس ہے، لہذا سمجھدار وہی ہے جو اگر استطاعت ہو
تو مرنے سے پہلے قرض کی ادائیگی کر دے۔
قرض کی
ادائیگی میں تاخیر مت کیجیے از بنت شاکر،فیضان رضا سرجانی ٹاؤن کراچی
اسلام میں قرض
(قرض حسنہ) اس مال یا رقم کو کہتے ہیں جو ایک مسلمان دوسرے کو بغیر کسی نفع (سود)
کے اس نیت سے دے کہ وہ بعد میں اسی مقدار میں واپس کرے گا۔
قرض ہمارے معاشرے میں پایا جانے
والا بہت عام معاملہ ہے۔ شاید ہی کوئی شخص ہو گا جس نے زندگی میں کبھی قرض نہ لیا
ہو۔ تقریبا سب ہی ضرورت کے تحت قرض لیتے یا دیتے رہتے ہیں۔پھر یہ معاملہ جتنا عام ہے،
اتنا ہی اہم بھی ہے۔ قرض لے تو لیتے ہیں لیکن وقت پر ادا نہیں کرتے اسی وجہ سے معاشرے
میں بڑے بڑے جھگڑے بھی ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ ایک دوسرے کی عزتیں اچھالی جاتی ہیں
بعض دفعہ تو قتل تک بھی نوبت پہنچ جاتی ہے۔ اس لیے قرض کا معاملہ بہت اہم ہے، اسے
سنجیدگی سے لینا چاہیے۔اور وقت پر لوٹادینا چاہیے۔
قرآن پاک میں بھی اللہ کریم نے
فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا
تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُؕ- (پ 2،
البقرۃ: 282) ترجمہ: اے ایمان والو جب تم ایک مقررہ مدت کے لیے آپس میں قرض کا
معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔
اس آیت میں
اللہ کریم نے قرض کا معاملہ لکھنے کا حکم دیا تاکہ وقت پر قرض ادا کرسکے اور کسی
کا حق تلف نہ ہوسکے۔ تفسیر صراط الجنان میں ہے: جب ادھار کا کوئی معاملہ ہو،
خواہ قرض کا لین دین ہو اس صورت میں معاہدہ لکھ لینا چاہیے۔ یہ حکم واجب نہیں لیکن
اس پر عمل کرنا بہت سی تکالیف سے بچاتا ہے۔ ہمارے زمانے میں تو اس حکم پر عمل کرنا
انتہائی اہم ہو چکا ہے کیونکہ دوسروں کا مال دبا لینا، معاہدوں سے مکر جانا اور
کوئی ثبوت نہ ہونے کی صورت میں اصل رقم کے لازم ہونے سے انکار کرنا ہر طرف عام
ہوچکا ہے۔ لہٰذا جو اپنی عافیت چاہتا ہے وہ اس حکم پر ضرور عمل کرلے ورنہ بعد میں
صرف پچھتانا ہی نصیب ہوگا۔ اسی لئے آیت کے درمیان میں فرمایا کہ اور قرض چھوٹا ہو یا بڑا اسے اس کی مدت تک
لکھنے میں اکتاؤ نہیں۔ (2)
حدیث پاک میں
ہے: جس نے قرض لیا اور وہ اسے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ اسے ادا کرنے کے
معاملہ میں حریص ہے پھر وہ اسے ادا کیے بغیر مر گیا تو اللہ پاک اس بات پر قادر ہے
کہ اس کے قرض خواہ کو اپنے پسندیدہ انعامات کے ذریعے راضی کر دے اور مرنے والے کی
مغفرت فرما دے اور جس نے قرض لیا اور وہ اسے ادا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے پھر
وہ اسے ادا کیے بغیر مر گیا تو اس سے پوچھا جائے گا، کیا تو یہ گمان کرتا تھا کہ
ہم فلاں کو تجھ سے اس کا پورا حق لے کر نہ دیں گے؟ پھر اسکی نیکیوں میں سے کچھ
نیکیاں لے لی جائیں گی اور قرض خواہ کی نیکیوں میں قرض کے بدلے کے طور پر ڈال دی
جائیں گی اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہو ئیں تو قرض خواہ کے گناہ اس کے نامہ
اعمال میں ڈال دیئے جائیں گے۔ (3)
قرض جب بھی لیں، اس میں واپس
لوٹانے کا وقت لازمی مقرر کر لینا چاہیے۔ پھر جو تاریخ، دن واپسی کے لیے مقرر کیا
ہے، لازم ہے کہ اسی دن قرض واپس لوٹا دیں۔ اگر بالفرض کسی سبب سے انتظام نہ ہو سکے
تو چاہیے کہ قرض خواہ سے مل کر اپنا عذر بیان کریں، اور مہلت لے لیں۔ ہمارے ہاں
جیسے لوگ دھکے کھلاتے رہتے ہیں صبح لے لینا شام کو لے لینا حالانکہ قرض لوٹانے کی
طاقت ہوتی ہے رقم موجود بھی ہوتی ہے، پھر بھی خوامخواہ ٹال مٹول کرتے رہتے ہیں۔
یادرکھیے! قرض میں بلاوجہ تاخیر کرنا گناہ ہے اور اس تاخیر کا گناہ اس وقت تک لکھا
جاتا رہے گا، جب تک قرض لوٹا نہیں دیا جاتا۔ حدیث پاک میں ہے: جو قرض دار قدرت کے
باوجود اپنے قرض دینے والے کو ٹالے، تو اللہ پاک ہر دن اور رات میں اس پر گناہ
لکھتا ہے۔ (4)
قرض کا معاملہ بہت سخت ہے، قرض
بندوں کے حقوق میں سے ہے اور بندوں کے حقوق اس وقت تک معاف نہیں ہوں گے جب تک بند
و خود معاف نہ کر دے۔ قیامت کا دن تو پھر قیامت کا دن ہے، اس دن تو ماں اکلوتے کو
چھوڑ رہی ہو گی، باپ سگے بیٹے سے ہاتھ بھی رہا ہو گا، لوگ ایک ایک نیکی کو ترس رہے
ہوں گے۔ آج اگر ہم معذرت کریں تو ہو سکتا ہے کہ سامنے والا ہمارا قرض معاف کر دے،
قیامت والے دن جب قرض نیکیوں کے ذریعے ادا کیا جائے گا، اس وقت قرض کی معافی مل
جائے: بہت مشکل ہے۔ لہذا جتنا قرض ذمے آتا ہو، سب کا فوری حساب لگا کر جتنی جلدی
ہو سکے اداکر دینا چاہیے۔ موت کا کیا بھروسا کب آجائے، کوشش کرنی چاہیے کہ مرنے سے
پہلے پہلے ہمارا سب قرض ادا ہو جائے۔
اللہ پاک
توفیق نصیب فرمائے۔ آمین
حوالہ
جات:
1۔ صراط
الجنان، 1/422
2۔ شعب
الایمان، 4/405، حدیث: 5561
3۔ شعب
الایمان، 7/530، حدیث:11232
قرض کی
ادائیگی میں تاخیر مت کیجیے از بنت رحمت علی،فیضان آمنہ لانڈھی کراچی
قرض کی
ادائیگی میں استطاعت کے باوجود تاخیر کرنا شرعا ظلم گناہ کبیرہ اور قابل مذمت فعل ہے۔احادیث
کی روشنی میں مالدار مقروض کا قرض ٹالنا اس کی عزت کو حلال اور سزا کا مستحق بنا
دیتا ہے یہ عمل اعتماد کو توڑتا ہے۔لہذا وعدے کے مطابق رقم کی واپسی لازم ہے۔
استطاعت کے
باوجود قرض نہ لوٹانا ظلم کے مترادف ہیں۔مالدار کا ٹال مٹول کرنا اس کی عزت کو
حلال اور جزا کو جائز بنا دیتا ہے۔
قرض کی
ادائیگی میں ٹال مٹول کرنے والے کے لئے سخت تنبیہ آئی ہے۔قرض کی ادائیگی میں تاخیر
یا گریز کرنا ظلم ہے۔جیسا کہ اللہ پاک قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تَاْكُلُوْۤا
اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 2، البقرۃ: 188) ترجمہ: اور
تم لوگ آپس میں دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔
آیت کے اس حصے
میں اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ میں باطل طور پر کسی کا مال کھانا
حرام فرماتا ہے اور مال لوٹ کر ہو یا چھین کر چوری سے یا جوئے سے یا حرام تماشوں
یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یارشوت یا جھوٹی گواہی سے یہ سب ممنوع وحرام
ہے۔
اور کچھ لوگ
قرض میں تاخیر کرتے ہیں بغیر کسی وجہ کے اور واپس نہ کرنے کے بہانے تلاش کرتے ہیں۔اور
ایسا کر کے وہ خوش بھی ہوتے ہیں کہ انہوں نے قرض دینے والے کو بیوقوف بنا دیاجب کہ
قرض کی ادائیگی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن میں وراثت
کا حصہ تقسیم کرنے سے پہلے فرمایا گیا ہے کہ مرنے والے کے اوپر جو قرض ہے وہ ادا
کیا جائے اس کے بعد اس کی وراثت کے حصے کیے جائیں یا اس کی وصیت کو پورا کیا جائے۔
احادیث مبارکہ
میں بھی اس کی وعید آئی ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ
نے فرمایا: غنی آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے (قرض پر) اور جب تم میں سے کسی کو
کسی مالدار سے (وصولی پر) لگایا جائے تو اسے لگ جانا چاہیے۔ (بخاری، 2/109، حدیث:2400)
ایک اور حدیث
مبارکہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قرض اور نیت دونوں کا آپس میں گہرا تعلق
ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی مسلمان قرض لیتا ہے اور الله اس کے بارے میں
جانتا ہے کے وہ اس سے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اللہ اس کا قرض دنیا ہی میں
اتار دیتا ہے۔ (بخاری، 2/105، حدیث: 2387)
اور جو اس کے
برعکس نیت رکھتا ہے تو اس کے بارے میں فرماتا ہے جو کوئی قرض لیتا ہے اور اس کا
پختہ ارادہ ہوتا ہے کہ وہ واپس نہیں کرے گا تو وہ اللہ کے سامنے چور بن کر پیش
ہوگا۔(ابن ماجہ، 3/143، حدیث: 2410)
قرض کی
ادائیگی کے استطاعت ہو تو اسے فورا ادا کرنا واجب ہے۔جو کوئی قرض کی ادائیگی میں
تاخیر کرے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جس کے پاس قرض ادا کرنے کی گنجائش ہو اس کا
تاخیر کرنا اس کی عزت ابرو اور سزا کو حلال کردیتا ہے۔ (بخاری،2/109، حدیث:2400)
میت کا قرض
بروقت ادا نہ کرنا میت کے لیے عذاب کا باعث بن سکتا ہے اور اس کی روح معلق رکھتا
ہے۔اسلام میں قرض کی ادائیگی فرض اور انتہائی اہم ذمہ داری ہے جس میں تاخیر کرنا (اگر
استطاعت کے باوجود) ظلم ہے۔
قرضدار پر
واجب ہے کہ وہ مقرر وقت پر ادائیگی کرے۔ مقروض کے قرض کے عوض اس کے تر کے سے
ادائیگی کا حکم دیا ہے اور ٹال مٹول کرنا گناہ کبیرہ ہے۔
اگر مقروض کا
انتقال ہو جائے تو سب سے پہلے اس کے ترکے (وراثت) سے تجہیز و تکفین کے بعد قرض ادا
کیا جائے گا۔قرض ادا نہ کرنے پر قیامت کے دن مواخذہ ہوگا اور اسے گنہگار ٹھہرایا
جائے گا۔اگر قرض خواہ معاف نہ کرے تو قرض باقی رہے گا چاہے کتنی ہی مدت گزر جائے۔
قرض کی ادائیگی کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے اور بد دیانتی سے بچنا چاہیے۔اگر
مقروض بالکل عاجز ہو تو اسے مہلت دینا واجب ہے۔واضح رہے کہ قرض کا تعلق حقوق
العباد سے ہے اور قرض کا اپنی زندگی میں ادا کرنا لازم ہے گنجائش کے باوجود ادا نہ
کرنا اور ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔
ہمیں چاہیے کہ
اگر ہمارے پاس رقم موجود ہے تو بغیر کسی عذر کے قرض ادا کریں کیونکہ قرض لینے کے
بعد مقرر وقت پر اسے واپس کرنا لازم ہے۔اگر ادائیگی ممکن نہ ہو تو قرض خواہ سے وقت
لینے کی کوشش کریں لیکن بلا وجہ تاخیر سے گریز کریں۔
لہذا قرض کی
بروقت ادائیگی نہ صرف اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ دین اسلام کا بنیادی حکم بھی ہے۔
قرض کی
ادائیگی میں تاخیر مت کیجیے از بنت گل نواز،کلور میانوالی عیسی خیل
قرض سے مراد
وہ چیز یا رقم ہے جو ایک شخص دوسرے سے بوقت ضرورت لیتا ہے اور پھر کچھ وقت یا
مقررہ وقت کے بعد واپس کر دیتا ہے۔ قرض کئی درجوں پر لیا جاتا ہے۔ اگر ہم چھوٹے
درجے کی بات کریں تو یہ قرض کی وہ قسم ہے جس میں معاشرے کا ایک فرد متوسط طبقے سے
تعلق رکھنے والے دوسرے شخص سے ضرورت کے وقت قرض لیتا ہے، جس میں کوئی کاغذی
کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی، صرف بھروسے کی بنیاد پر رقم یا چیز حوالے کر دی
جاتی ہے۔
لیکن آج کل
ہمارے معاشرے میں ایک نیا اصول رائج ہے۔ جب کسی کو ضرورت پڑتی ہے تو ایک شخص دوسرے
کے پاس آتا ہے، بڑی آؤ بھگت کی جاتی ہے، بڑی بڑی تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں،
وعدے کیے جاتے ہیں، بات قسموں تک پہنچ جاتی ہے۔ اور جب ادھار مل جاتا ہے تو وصول
کرنے والا ایسے غائب ہوتا ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔
مقررہ وقت گزر
جاتا ہے مگر وصول کنندہ خود سے قرض کی واپسی کا خیال بھی دل میں نہیں لاتا بلکہ
اکثر کہا جاتا ہے مانگنے پر واپس کر دیں گے، ایسی کیا قیامت ہے۔ اور بعض دفعہ تو
یہ ہوتا ہے کہ قرض دینے والا وصول کنندہ کے دروازے کا طواف کرتا تھک جاتا ہے، صاحب
جی گھر بھی نہیں ہوتے۔ اگر ملاقات ہو جائے تو کل لا دوں گا، پرسوں لا دوں گا، بعض
دفعہ دو تین گھنٹے بعد اور یہ دو تین گھنٹے اکثر مہینوں میں بدل جاتے ہیں۔ اور بعض
دفعہ اگر 50 ہزار قرض دیا جائے تو اسے تین ہزار، پانچ ہزار اور دو ہزار کی قسطوں
میں واپس کیا جاتا ہے۔
نتیجہ:
لوگوں کا ایک دوسرے سے اعتبار اٹھ جاتا ہے، محبت کی جگہ نفرتیں لے لیتی ہیں۔ بعض
دفعہ بات لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے جو ایک اسلامی معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کرنے
کے لیے کافی ہے۔
قرض تو ایک
امانت ہوتی ہے اور امانت واپس کرنا سنت نبوی ہے۔ ہجرت مدینہ کی رات کفار ہمارے نبی
کی جان لینا چاہتے تھے مگر ہمارے پیارے نبی ﷺ پھر بھی ان کی امانتوں کی واپسی کا
انتظام فرما رہے تھے۔ اور کتنے شرم کا بلکہ ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ اس نبی کی امت
ہی آپس میں ایک دوسرے کا مال کھا لے۔
اللہ تعالیٰ
قرآن مجید میں فرماتا ہے: وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ
بِالْبَاطِلِ (پ
2، البقرۃ: 188) ترجمہ: اور تم لوگ آپس میں دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔
اور قرض لے کر
واپس نہ کرنا بھی ایک طرح سے دوسرے مسلمان بھائی کا مال ناجائز طریقے سے کھانا ہے۔
چنانچہ معاشرے کے فرد اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے
کہ ہم قرض کی واپسی میں تاخیر نہ کریں۔
اس سے اوپری
درجے پر آتا ہے بینک سے لیا گیا قرض، جس میں باقاعدہ کاغذی کارروائی عمل میں لائی
جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص بینک کا قرضہ واپس نہیں کرتا تو بینک اس سے مسلسل نوے دن تک
کالز اور میسجز کے ذریعے قرض کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے۔ بینک سول کورٹ میں کیس
بھی کر سکتے ہیں حتیٰ کہ بات مال و جائیداد کی نیلامی تک پہنچ جاتی ہے اور مستقبل
میں بھی جائیداد خریدنے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے، جس سے معاشرے میں ساکھ کو
نقصان پہنچتا ہے۔ کوئی شخص یا کوئی اور بینک آپ پر بھروسہ نہیں کرتا، حتیٰ کہ آپ
قسطوں پر گھر کا معمولی سامان بھی نہیں خرید سکتے۔ گھر کا ماحول خراب ہوتا ہے،
بچوں کی تربیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
قرض لینے کے
متعلق تیسرا درجہ وہ ہے جس میں ایک پسماندہ ملک کسی ترقی یافتہ ملک یا کسی عالمی
بینک سے قرضہ لیتا ہے اور ان قرضوں کی واپسی میں تاخیر سے ملک و قوم کو ناقابل
بیان اور ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس ملک پر ایک طرح سے بھکاری کا لیبل
لگ جاتا ہے۔ ہر دو تین سال بعد آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ پھیلانے پڑتے ہیں، ملک
اپنے معاشی فیصلے کرنے کا اختیار کھو دیتا ہے، آئی ایم ایف کے کہنے پر مہنگائی
کرنی پڑتی ہے، سرمایہ کار ملک سے بھاگنے لگتے ہیں، پوری دنیا میں ملک اور قوم کا
مذاق بن کے رہ جاتا ہے۔ دوسرے ممالک اس ملک کے وسائل پر قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی
کرنے لگتے ہیں، حتیٰ کہ حالات ڈیفالٹ تک پہنچ سکتے ہیں۔
ہمارے پیارے
نبی حضرت محمد ﷺ فرماتے ہیں: جس کو اپنے وعدے کا پاس نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں۔
اسی لیے وعدہ پورا کرنا ہر حال میں ضروری ہے کیونکہ قیامت کے دن وعدے کے متعلق
پوچھا جائے گا۔ چنانچہ وعدے کے مطابق قرض ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ قرض لینے
سے پہلے اس کی واپسی کی منصوبہ بندی کر لینی چاہیے کیونکہ قرض ایک امانت ہے اور
امانت میں خیانت نہیں کر سکتے۔
اس کے علاوہ
جو لوگ مالی مشکلات کے باعث اپنے قرض ادا کرنے سے قاصر ہیں تو ہمیں چاہیے ان کی
مدد کرنے کی کوشش کریں کیونکہ زکوٰۃ کے آٹھ مصارف میں سے ایک قرض دار ہے۔ لہٰذا
قرض دار کا قرض اتارنے کے لیے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔
اللہ رب العزت
سب کی مشکلات آسان فرمائے۔ آمین ثم آمین
قرض سے مراد
وہ نقدی یا اثاثے ہیں جو ایک فریق دوسرے فریق کو ایک خاص مدت کے لیے دیتا ہے، جس
کی واپسی واجب ہوتی ہے۔ یہ ایک مالی ذمہ داری ہے جو ضرورت، کاروبار یا ذاتی
استعمال کے لیے لی جاتی ہے، جسے مقررہ وقت پر اصل رقم کے ساتھ واپس کرنا ہوتا ہے۔
جس نے قرض لیا
اس پر لازم ہے کہ مقررہ مدت پر قرض واپس لوٹا دے۔ بلا وجہ قرض کی ادائیگی میں ٹال
مٹول کرتے رہنا یا قرض کی ادائیگی نہ کرنا سخت گناہ ہے اور قرض کی ادائیگی کرنا
لازم ہے۔
ارشاد ربّانی
ہے: اِنَّ اللّٰهَ
یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ- (پ 5،
النساء: 58) ترجمہ: بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل تک پہنچا
دو۔
حضرت علّامہ
جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں: اس آیت میں امانت اور
قرض واپس لوٹانے کے وجوب کا ثبوت ہے۔
اگر قرض دار
قرض ادا کرسکتا ہو تو قرض خواہ کی مرضی کے بغیر ایک گھڑی بھر بھی دیرکرےگا تو
گنہگار ہوگا اور ظالم قرار پائے گا۔ خواہ روزے کی حالت میں ہو یا سو رہا ہو اس کے
ذمّے گناہ لکھا جاتا رہے گا۔ (گویا ہر حال میں گناہ کا میڑ چلتا رہےگا) اورہر صورت
میں اس پر اللہ پاک کی لعنت پڑتی رہے گی۔ یہ گناہ تو ایسا ہے کہ نیند کی حالت میں
بھی اس کے ساتھ رہتا ہے۔ اگر اپنا سامان بیچ کر قرض ادا کرسکتا ہے تب بھی کرنا
پڑےگا اگر ایسا نہیں کرےگا تو گنہگار ہے۔ اگر قرض کے بدلے ایسی چیز دے جو قرض خواہ
کو ناپسند ہو تب بھی دینے والا گنہگار ہوگا اور جب تک اسے راضی نہیں کرےگا اس ظلم
کے جرم سے نجات نہیں پائے گا کیونکہ اس کا یہ کام بڑےگناہوں میں سے ہے مگر لوگ اسے
معمولی خیال کرتے ہیں۔ (1)
حضرت ابو
ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حبیب خداﷺ نے فرمایا: قرض کی ادائیگی میں مالدار
کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے(2)۔
اس حدیث پاک
کی شرح میں امام شرف الدین حسین بن محمد طیبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اگر قرض
واپس کرنے پر قادر ہے تو خواہ مخواہ تاخیر کرنا حرام ہے۔
استطاعت
والےکا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا، اس کی آبرو (یعنی عزّت)کوحلال کر دیتا
ہے۔ (3)یعنی اسے برا کہنا اس پر طعن و تشنیع کرنا جائز ہو جاتا ہے۔ (4)
یہ اتنا سخت
جرم ہے کہ شہید کو بھی یہ معاف نہیں ہے،چنانچہ
حضورﷺ کا
ارشاد ہے:شہید(یعنی وہ شخص جس نے اللہ پاک کی راہ میں جان دی ہے اس) کا ہر گناہ
معاف ہوجائے گا سوائے قرض کے۔(5)
جب قرض میں
بلاعذر شرعی دیر کرنا اتنا سنگین جرم ہے تو کسی سے قرض لے کر سرے سے واپس ہی نہ
کرنا کتنا بڑا گنا ہ ہوگا۔آج کل قرض کے نام پر لوگوں کے لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے
ہڑپ کرلئے جاتے ہیں۔ابھی تو یہ سب آسان لگ رہا ہوگا لیکن قیامت میں بہت مہنگا
پڑجائے گا۔
حقوق العباد
کا معاملہ نہایت ہی سخت ہے۔ اگر آپ نے کسی سے قرض لیا اور ادائیگی کے لیے رقم پاس
نہیں ہے مگر گھر کے اسباب، فرنیچروغیرہ بیچ کر قرض ادا کیا جاسکتا ہے تویہ بھی
کرنا پڑے گا۔قرض ادا کرنے کی ممکن صورت ہونے کے باوجود قرضدار سے مہلت لیے بغیر آپ
قرض کی ادائیگی میں جب تک تاخیر کرتے رہیں گےگنہگار ہوتے رہیں گے اور آپ کے گناہوں
کا یہ میٹر مسلسل چلتا رہے گا
اللہ کریم ہم
سب کو حقیقی دیانت دار بنائے۔ آمین
حوالہ
جات:
(1) کیمیائے
سعادت،1/336
(2)ابوداود،
4/290، حدیث:4681
(3)بخاری،
2/109،حدیث:2400
(4)فتاویٰ
رضویہ،25/69
(5) مسلم، ص
1046، حدیث: 1886
قرض کی
ادائیگی میں تاخیر مت کیجیے ازبنت شمس الدین،نواں پنڈ آڑائیاں سیالکوٹ
ادائیگی قرض
ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جو ہم اپنے اوپر لادتے ہیں جب ہم کسی سے قرض لیتے ہیں۔ یہ
ذمہ داری ہے کہ ہم اس قرض کو وقت پر ادا کریں اور کسی کو بھی تاخیر کا سامنا نہ
کرنا پڑے۔
حضور ﷺ نے
فرمایا: مظلوم کی بددعا سے بچو، کیونکہ اس کی دعا اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ
نہیں ہوتا۔ (بخاری، 2/128، حدیث: 2448)
ادائیگی قرض
میں تاخیر کرنا ایک مظلوم کی دعا کا سبب بن سکتا ہے، جو کہ بہت بڑا خطرہ ہے۔ اس
لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے قرض کو وقت پر ادا کریں اور کسی کو بھی تاخیر کا سامنا
نہ کرنا پڑے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا
اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُؕ- (پ 2،
البقرۃ: 282) ترجمہ: اے ایمان والو جب تم ایک مقررہ مدت کے لیے آپس میں قرض کا
معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔
اس آیت میں
اللہ تعالیٰ نے قرض کے معاملے کو لکھنے کا حکم دیا ہے، تاکہ کوئی بھی تاخیر یا
جھگڑا نہ ہو۔
ادائیگی قرض
میں تاخیر کرنے کے بہت سے نقصانات ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ یہ انسان کی شرافت
اور عزت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ جب کوئی شخص قرض ادا نہیں کرتا تو اس کی شرافت اور
عزت پر داغ لگ جاتا ہے۔
اس کے علاوہ ادائیگی
قرض میں تاخیر کرنے سے انسان کا ایمان بھی کمزور ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص قرض ادا
نہیں کرتا تو اس کا ایمان کمزور ہوتا ہے اور وہ اللہ کے سامنے شرمندہ ہوتا ہے۔
اس لیے ہمیں
چاہیے کہ ہم اپنے قرض کو وقت پر ادا کریں اور کسی کو بھی تاخیر کا سامنا نہ کرنا
پڑے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ
ہمیں وقت پر قرض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین
قرض کی
ادائیگی میں تاخیر مت کیجیے از بنت محمد طارق، مظفرپورہ سیالکوٹ
قرض لینا اور
دینا زندگی کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن اس میں احتیاط اور دیانتداری بہت ضروری ہے۔
اللہ پاک نے قرآن کریم میں فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا
تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُؕ- (پ 2،
البقرۃ: 282) ترجمہ: اے ایمان والو جب تم ایک مقررہ مدت کے لیے آپس میں قرض کا
معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔
قرض لینے والے
کو چاہیے کہ وہ وقت پر ادائیگی کرے تاکہ اس کی دیانتداری اور امانت پر کوئی حرف نہ
آئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: مظلوم کی دعا سے بچو، کیونکہ اس کی دعا اور اللہ کے درمیان
کوئی پردہ نہیں ہوتا۔ (بخاری، 2/128، حدیث: 2448)
اگر آپ کسی سے
قرض لے چکے ہیں تو وقت پر ادائیگی کریں، اور اگر آپ کسی کو قرض دے چکے ہیں تو اس
کی ادائیگی کے لیے اسے یاد دلائیں لیکن نرمی کے ساتھ۔
حضور ﷺ نے
فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کا قرض ادا کرے، اللہ اس کے قرض کو ادا کرے گا۔
قرض کی
ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے نہ صرف آپ کی دیانتداری پر حرف آتا ہے، بلکہ آپ کے
رزق میں بھی کمی آ سکتی ہے۔
اس لیے
ادائیگیِ قرض میں تاخیر مت کیجیے اور اپنی دیانتداری کو برقرار رکھیں۔ اگر آپ کسی
مشکل میں ہیں تو اپنے قرض خواہ سے بات کریں اور اسے اپنی صورتحال سے آگاہ کریں۔ ہو
سکتا ہے وہ آپ کو کچھ رعایت دے دے۔
حضور ﷺ نے
فرمایا: جو شخص کسی کو قرض دے اور وہ اسے ادا نہ کر سکے، تو اسے مہلت دینی چاہیے۔
قرض کی
ادائیگی کے لیے آپ کو کچھ طریقے اپنانے ہوں گے، جیسے کہ آپ اپنی آمدنی کا کچھ حصہ
قرض کی ادائیگی کے لیے مختص کر سکتے ہیں۔ آپ اپنے قرض خواہ سے بات کر کے قرض کی
ادائیگی کا کوئی مناسب طریقہ طے کر سکتے ہیں۔
لذا، ادائیگی
قرض میں تاخیر مت کیجیے اور اپنی دیانتداری کو برقرار رکھیں۔
قرض
کی ادائیگی میں تاخیر مت کیجیے از بنت لیاقت علی، مظفرپورہ سیالکوٹ
قرض لینا
اسلام میں ہے مگر قرض کی ادائیگی نہایت اہم فریضہ ہے قرض کی ادائیگی میں بلاوجہ تاخیر کرنا گناہ
ہے ہمارے نبی ﷺ نے قرض کےبارے میں سخت
الفاظ فرمائے ہیں، کیونکہ یہ حقوق العباد کا معاملہ ہے۔
اللہ تعالیٰ
سورۃ البقرہ میں فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ
بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُؕ- (پ 2، البقرۃ:
282) ترجمہ: اے ایمان والو جب تم ایک مقررہ مدت کے لیے آپس میں قرض کا معاملہ کرو
تو اسے لکھ لیا کرو۔اس آیت سے پتا چلا کہ قرض سنجیدہ معاملہ ہے،اسی لیے اللہ نے لکھنے
کا حکم دیا۔
وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ
الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴) (پ 15، الاسراء: 34) ترجمہ: اور وعدے
کو پورا کرو، بیشک وعدے کے بارے میں سوال ہوگا۔ قرض لیتے وقت واپسی کا وعدہ ہوتا
ہے۔اس وعدے کو توڑنا گناہ ہے۔
احادیث
مبارکہ کی روشنی میں:
1۔
تاخیر کرنا ظلم ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مالدار کا قرض ادا کرنے میں
ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (بخاری،2/109، حدیث:2400) یعنی اگر قرض واپس کرنے کی طاقت ہے پھر
بھی نہیں دے رہا تو یہ ظلم ہے۔
2۔
شہید کا قرض بھی معاف نہیں: آپ ﷺ نے فرمایا: شہید کے تمام گناہ
معاف ہو جاتے ہیں سوائے قرض کے۔ (مسلم، ص 1046، حدیث: 1886)اس حدیث سے قرض کی
سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے کہ شہادت جیسا رتبہ بھی قرض معاف نہیں کروا سکتا۔
نبی
کریم ﷺ کا عمل: رسول
اللہ ﷺ اس شخص کا جنازہ نہیں پڑھاتے تھے جس پر قرض ہو اور اس نے ادائیگی کا انتظام
نہ کیا ہو آپ ﷺ فرماتے ہیں: تم اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لو۔ (بخاری،2/72، حدیث:2289) بعد میں جب صحابہ اس کا قرض
ادا کردیتے تو آپ جنازہ پڑھاتے۔
قرض
کی وجہ سے عذاب: آپ
ﷺ نے فرمایا: مومن کی روح قرض کی وجہ سے لٹکی رہتی ہے یہاں تک کہ اس کا قرض ادا کر
دیا جائے۔ (ابن ماجہ، 3/145، حدیث: 2413)یعنی مرنے کے بعد بھی قرض ادا نہ ہوا تو
روح کو سکون نہیں ملتا۔
قرض کی
ادائیگی میں تاخیر مت کیجیے از بنت علی احمد،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
مال دولت ایک
عارضی چیز ہے اسکے ذریعے کبھی خوشحالی کا دور ہوتا ہے اور کبھی تنگ دستی انہی مشکل
لمحات میں انسان مجبور ہو کر کسی سے قرض لے لیتا ہے تاکہ اپنی ضرورت پوری کر سکے۔
قرض لینا بذات خود بری بات نہیں، انسان کو چاہیے جب کسی سے قرض لے تو اس میں بلاوجہ
تاخیر نہ کرے۔
شریعت نے ادائے
قرض میں تاخیر کو بھی ظلم قرار دیا ہے تو کسی سے قرض لے کر سرے سے واپس ہی نہ کرنا
تو اس سے بھی سخت تر معاملہ ہے۔ آئیے اس کے متعلق حدیث پاک سنتی ہیں: سرکارعالی
وقار، مدینے کے ﷺ نے ارشاد فرمایا: (قرض کی ادائیگی میں) صاحب استطاعت کا ٹال مٹول
کرنا ظلم ہے۔ (بخاری،2/109، حدیث:2400)
ایک اور جگہ
فرمایا: استطاعت والےکا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا، اس کی آبرو (عزّت) اور
اس کی سزا کو حلال کر دیتا ہے۔ (بخاری،2/109، حدیث:2400)
میرے آقا
اعلیٰ حضرت، امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرّحمٰن سے
قرضے کی ادائیگی میں سستی اورجھوٹے حیل و حجّت کرنے والے شخص زید کے بارے میں
استفسار ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا: زید فاسق وفاجر، مرتکب کبائر، ظالم، کذّاب،
مستحق عذاب ہے۔ اس سے زیادہ اور کیا القاب اپنے لئے چاہتا ہے؟اگراس حالت میں مر
گیا اوردین(قرض) لوگوں کا اس پر باقی رہا۔
حقوق العباد
کا معاملہ نہایت ہی سخت ہے۔قرض ادا کرنے کی ممکن صورت ہونے کے باوجود قرضدار سے
مہلت لیے بغیر آپ قرض کی ادائیگی میں جب تک تاخیر کرتے رہیں گےگنہگار ہوتے رہیں گے
آپ کے گناہوں کا میٹرچلتا رہے گا۔
شیخ طریقت،
امیر اہل سنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطّاؔر قادری دامت برکاتہم العالیہ نے
ایک اعلان ترتیب دیا ہے، حسب موقع نماز جنازہ کے وقت یا ایصال ثواب کی محفل میں
کیا جاسکتا ہے:
مرحوم کے عزیز
و احباب توجّہ فرمائیں! مرحوم نے اگر زندگی میں کبھی آپ کی دل آزاری یا حق تلفی کی
ہو یا آپ کے مقروض ہوں تو ان کو رضائے الٰہی کے لئے معاف کردیجئے، ان شاء اللہ
مرحوم کا بھی بھلا ہوگا اور آپ کو بھی ثواب۔
رب تعالیٰ
ہمیں قرض کی آفت سے نجات عطا فرمائے۔ آمین
قرض کی
ادائیگی میں تاخیر مت کیجیے از بنت شمس،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
قرض
کیا ہے؟ قرض
سے مراد وہ رقم یا مال ہے جو ایک شخص (قرض خواہ) دوسرے شخص (مقروض) کو اس شرط پر
ادھار دے کہ وہ واپس لوٹایا جائے گا۔ یہ ایک مالی واجب الادا ذمہ داری ہے، جس میں
رقم، اشیاء، یا اثاثے وقت کی قید کے ساتھ دیے جاتے ہیں۔
قرض
کی ادائیگی میں بلاوجہ تاخیر کرنا: فقہائے کرام نے بلاحاجت شرعی ادائے قرض
میں تاخیر کو بھی ظلم قرار دیاہے تو کسی سے قرض لے کر سرے سے واپس ہی نہ کرنا تو
اس سے بھی سخت ترمعاملہ ہے۔ اس بارے میں چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیے اور اس
سے بچنے کی کوشش کیجیے: سرکارعالی وقار، مدینے کے تاجدار، حبیب پروردگار ﷺ نے
ارشاد فرمایا: (قرض کی ادائیگی میں) صاحب استطاعت کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (بخاری،
2/109، حدیث: 2400)
قرض
میں تاخیر: میرے
آقا اعلیٰ حضرت، امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرّحمٰن سے
قرضے کی ادائیگی میں سستی اورجھوٹے حیل و حجّت کرنے والے شخص زید کے بارے میں استفسار
ہواتوآپ نے ارشاد فرمایا: زید فاسق وفاجر، مرتکب کبائر، ظالم، کذّاب، مستحق عذاب
ہے۔ اس سے زیادہ اور کیا القاب اپنے لئے چاہتا ہے؟ اگر اس حالت میں مر گیا
اوردین(قرض) لوگوں کا اس پر باقی رہا، اس کی نیکیاں ان(قرض خواہوں) کے مطالبہ میں
دی جائیں گی اورکیونکر دی جائیں گی(یعنی کس طرح دی جائیں گی۔یہ بھی سن
لیجیے)تقریباً تین پیسہ دین(قرض)کے عوض(یعنی بدلے) سات سو نمازیں باجماعت(دینی
پڑیں گی)۔ جب اس (قرضہ دبا لینے والے) کے پاس نیکیاں نہ رہیں گی ان(قرض خواہوں) کے
گناہ اس (مقروض) کے سر پر رکھے جائیں گے اور آگ میں پھینک دیا جائے گا۔
فتاویٰ رضویہ میں
ہے: جو دنیا میں کسی کے تقریباً تین پیسے دین (یعنی قرض) دبا لے گا بروز قیامت اس
کے بدلے سات سو باجماعت نمازیں دینی پڑ جائیں گی۔ (فتاویٰ رضویہ، 25 / 69ملخصاً)
اے عاشقان رسول! اوّلاً تو حتّی الامکان خود کو قرض لینے سے بچائیے اور اگر زندگی
میں کسی موقع پر قرض لینا بھی پڑ جائے تو قرض واپس کرتے وقت ایسا انداز نہ ہو جس
سے آپ کی عزت اور نیک نامی پر کوئی حرف آئے اور آپ کے دوسروں سے تعلقات خراب ہوں۔
ورنہ قرض خواہ کو اس طرح پریشان کرنے کا ایک دنیاوی نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ لوگوں
کی نظروں میں ایسے آدمی کا اعتبار نہیں رہتا۔
احادیث
مبارکہ:
فرمان مصطفےٰ ﷺ
ہے: مالدار کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (بخاری، 2/109، حدیث:
2400) اس کی شرح میں شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
مالدار کو یہ جائز نہیں کہ میعاد پوری ہونے پر قرض کی ادائیگی میں حیلہ بہانہ کرے۔
ہاں اگر کوئی تنگ دست ہے تو وہ مجبور اور معذور ہے۔ (نزھۃ القاری، 3 / 578)
قرض
دار کو مہلت دینا اور تقاضے میں نرمی برتنا: قرض دار کو
مہلت دینے اور تقاضے میں نرمی برتنے کے قرآن و حدیث میں بہت فضائل بیان ہوئے ہیں
چنانچہ پارہ 3سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 280 میں ارشاد ربّ العباد ہے: وَ اِنْ كَانَ ذُوْ
عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ
تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنز الایمان: اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو
اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لئے اور بھلاہے اگر
جانو۔
Dawateislami