قرض کی ادائیگی میں استطاعت کے باوجود تاخیر کرنا شرعا ظلم گناہ کبیرہ اور قابل مذمت فعل ہے۔احادیث کی روشنی میں مالدار مقروض کا قرض ٹالنا اس کی عزت کو حلال اور سزا کا مستحق بنا دیتا ہے یہ عمل اعتماد کو توڑتا ہے۔لہذا وعدے کے مطابق رقم کی واپسی لازم ہے۔

استطاعت کے باوجود قرض نہ لوٹانا ظلم کے مترادف ہیں۔مالدار کا ٹال مٹول کرنا اس کی عزت کو حلال اور جزا کو جائز بنا دیتا ہے۔

قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنے والے کے لئے سخت تنبیہ آئی ہے۔قرض کی ادائیگی میں تاخیر یا گریز کرنا ظلم ہے۔جیسا کہ اللہ پاک قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 2، البقرۃ: 188) ترجمہ: اور تم لوگ آپس میں دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔

آیت کے اس حصے میں اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ میں باطل طور پر کسی کا مال کھانا حرام فرماتا ہے اور مال لوٹ کر ہو یا چھین کر چوری سے یا جوئے سے یا حرام تماشوں یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یارشوت یا جھوٹی گواہی سے یہ سب ممنوع وحرام ہے۔

اور کچھ لوگ قرض میں تاخیر کرتے ہیں بغیر کسی وجہ کے اور واپس نہ کرنے کے بہانے تلاش کرتے ہیں۔اور ایسا کر کے وہ خوش بھی ہوتے ہیں کہ انہوں نے قرض دینے والے کو بیوقوف بنا دیاجب کہ قرض کی ادائیگی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن میں وراثت کا حصہ تقسیم کرنے سے پہلے فرمایا گیا ہے کہ مرنے والے کے اوپر جو قرض ہے وہ ادا کیا جائے اس کے بعد اس کی وراثت کے حصے کیے جائیں یا اس کی وصیت کو پورا کیا جائے۔

احادیث مبارکہ میں بھی اس کی وعید آئی ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: غنی آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے (قرض پر) اور جب تم میں سے کسی کو کسی مالدار سے (وصولی پر) لگایا جائے تو اسے لگ جانا چاہیے۔ (بخاری، 2/109، حدیث:2400)

ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قرض اور نیت دونوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی مسلمان قرض لیتا ہے اور الله اس کے بارے میں جانتا ہے کے وہ اس سے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اللہ اس کا قرض دنیا ہی میں اتار دیتا ہے۔ (بخاری، 2/105، حدیث: 2387)

اور جو اس کے برعکس نیت رکھتا ہے تو اس کے بارے میں فرماتا ہے جو کوئی قرض لیتا ہے اور اس کا پختہ ارادہ ہوتا ہے کہ وہ واپس نہیں کرے گا تو وہ اللہ کے سامنے چور بن کر پیش ہوگا۔(ابن ماجہ، 3/143، حدیث: 2410)

قرض کی ادائیگی کے استطاعت ہو تو اسے فورا ادا کرنا واجب ہے۔جو کوئی قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جس کے پاس قرض ادا کرنے کی گنجائش ہو اس کا تاخیر کرنا اس کی عزت ابرو اور سزا کو حلال کردیتا ہے۔ (بخاری،2/109، حدیث:2400)

میت کا قرض بروقت ادا نہ کرنا میت کے لیے عذاب کا باعث بن سکتا ہے اور اس کی روح معلق رکھتا ہے۔اسلام میں قرض کی ادائیگی فرض اور انتہائی اہم ذمہ داری ہے جس میں تاخیر کرنا (اگر استطاعت کے باوجود) ظلم ہے۔

قرضدار پر واجب ہے کہ وہ مقرر وقت پر ادائیگی کرے۔ مقروض کے قرض کے عوض اس کے تر کے سے ادائیگی کا حکم دیا ہے اور ٹال مٹول کرنا گناہ کبیرہ ہے۔

اگر مقروض کا انتقال ہو جائے تو سب سے پہلے اس کے ترکے (وراثت) سے تجہیز و تکفین کے بعد قرض ادا کیا جائے گا۔قرض ادا نہ کرنے پر قیامت کے دن مواخذہ ہوگا اور اسے گنہگار ٹھہرایا جائے گا۔اگر قرض خواہ معاف نہ کرے تو قرض باقی رہے گا چاہے کتنی ہی مدت گزر جائے۔ قرض کی ادائیگی کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے اور بد دیانتی سے بچنا چاہیے۔اگر مقروض بالکل عاجز ہو تو اسے مہلت دینا واجب ہے۔واضح رہے کہ قرض کا تعلق حقوق العباد سے ہے اور قرض کا اپنی زندگی میں ادا کرنا لازم ہے گنجائش کے باوجود ادا نہ کرنا اور ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔

ہمیں چاہیے کہ اگر ہمارے پاس رقم موجود ہے تو بغیر کسی عذر کے قرض ادا کریں کیونکہ قرض لینے کے بعد مقرر وقت پر اسے واپس کرنا لازم ہے۔اگر ادائیگی ممکن نہ ہو تو قرض خواہ سے وقت لینے کی کوشش کریں لیکن بلا وجہ تاخیر سے گریز کریں۔

لہذا قرض کی بروقت ادائیگی نہ صرف اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ دین اسلام کا بنیادی حکم بھی ہے۔