مسلمانوں کا واضح اور مسلمہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ پر نبوت ورسالت کا سلسلہ بند ہوگیا آپ کے زمانہ اقدس میں نہ ہی آپکے بعد کوئی نبی آسکتا۔

حضور اکرم ﷺ کا آخری نبی ہونا قرآنی آیات اور احادیث کریمہ سے ثابت ہے اس پر تمام صحابہ وتابعین،تبع تابعین، سلف صالحین،علمائے اکرام اور تمام امت مسلمہ کا اجماع واتفاق ہے اگر کوئی آپ ﷺ کو آخری نبی نہ مانے یا آپکے نبی ہونے میں ذرا برابر بھی شک کرے یا طرح طرح کے بہانے بنا کر حضور اکرم ﷺ کے بعد کسی نبی کے آنے کا شک کرے تو وہ کافر ومرتد ہو کر دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔

قرآنی آیت کی روشنی میں ختمِ نبوت کی دلیل:

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ- (پ 22، الاحزاب: 40) ترجمہ کنز الایمان: محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔

احادیث کی روشنی میں ختم نبوت:

حضرت عرباض بن ساریہ سے روایت ہے کہ حضور پرنور ﷺ نے ارشاد فرمایا: بےشک میں اللہ کے حضور لوح محفوظ میں خاتم النّبیّٖن لکھا تھا جب حضرت آدم علیہ السلام اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے۔ (مسند امام احمد، 6/187، حدیث: 17123)

حضرت انس سے روایت ہے کہ سرکار دوعالم ﷺ نے فرمایا: بے شک رسالت اور نبوت ختم ہوگئی اب میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ کوئی نبی۔ (ترمذی، 4/121، حدیث: 2279)

حفاظت ختمِ نبوت کے سلسلے میں علمائے اہلسنّت کا کردار بہت نمایاں ہے۔ حضور اکرم ﷺ کے دوراقدس میں ہی ایسے دو بخت سامنے آگئے تھے جنہوں نے نبی ہونے کا جھوٹا دعوی کیا اور حضور اکرم ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔

اسی طرح مختلف ادوار میں جھوٹے مدعیان نبوت کا یہ سلسلہ چلتا رہا اور ان کی سرکوبی بھی کی جاتی رہی۔

اس سلسلے میں علمائے حق نے نمایاں کردار ادا کیا ہے ان اکابرینِ اسلام کی خدمات ملاحظہ فرمائیں:

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی: آپ نے قادیانی فتنے کے آغاز ہی میں اس کی سرکوبی فرمائی۔آپ نے علمائے حرمین سے فتوی حاصل کرکے اسے حسام الحرمین کی صورت میں شائع کیا اور متعدد کتب لکھ کر قادیانیوں کے کفر کو واضح کیا۔

حضرت پیر مہر علی شاہ: آپ نے مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ براہ راست مناظرے اور تحریری جنگ میں تاریخی کردار ادا کیا۔

امام بوصیری فرماتے ہیں:

منزہ عن شریک فی محاسنہ

فجوھر الحسن فیہ غیر منقسم

ترجمہ:آپ اپنی خوبیوں میں شریک سے پاک ہیں تو آپ کے جوہر و حسن وجمال قابلِ تقسیم نہیں۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح علمائے حق نے اپنی تصانیف وکلام میں حضور اکرم ﷺ کی ختمِ نبوت کی پاسداری کی ہے۔

مصطفائے ذات یکتا آپ ہیں یک نے جس کو یک بنایا آپ ہیں

علمائے اہلسنّت نے ہر دور میں تحفظ ختمِ نبوت کے لیے قلم اور زبان سے لیکر جیل کی صعوبتوں اور جان کی قربانیوں تک سفر طے کیا ہے انہی مساعی جمیلہ کے باعث آج پاکستان کا آئین اس عقیدے کا مخافظ ہے۔

اللہ سے دعا ہے ہمیں زندگی کے ہر لمحے میں تحفظ ختمِ نبوت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین